سرکاری بنگلوں کی بندر بانٹ،حقدار محروم

لاہور(نیااخبار رپورٹ)جی او آرز سمیت سرکاری ملازمین کی رہائشی کالونیوں میں سیاسی سفارشوں پرپالیسی کے خلاف 1372 افسران و ملازمین کو سرکاری گھر الاٹ ہوئے ہیں اس وقت بھی 10 ہزار 810 ملازمین کی درخواستیں سرکاری گھروں کے لئے کئی کئی برسوں سے پینڈنگ ہیں۔ موجودہ قانون کے مطابق سول سیکرٹریٹ ، پنجاب اسمبلی اور لاہور ہائیکورٹ کے ملازمین کو سرکاری رہائش گاہیں الاٹ ہو سکتی ہیں۔ اس وقت جن ملازمین نے سرکاری گھروں کی الاٹمنٹ کے لئے رجسٹریشن کروائی ہوئی ہے ان میں سے کئی ملازمین کی رجسٹریشن کو 10 سال سے زیادہ ہو گئے ہیں لیکن ان کی باری نہیں آئی جبکہ سیاسی سفارشوں پر مکان الاٹ ہوتے ہیں۔ محکمہ سروسز جنرل ایڈمنسٹریشن میں جی او آرز میں الاٹمنٹ کے لئے جو درخواستیں پینڈنگ ہیں۔ ان میں سول سیکرٹریٹ کے افسران کی 2139 ، پنجاب اسمبلی کے افسران کی 33 اور لاہور ہائیکورٹ کے افسران کی 254 درخواستیں شامل ہیں۔ 3 سے چار کمرے کی سرکاری رہائش گاہوں کے لئے سول سیکرٹریٹ کے ملازمین کی 2229 درخواستیں پینڈنگ ہیں۔ پنجاب اسمبلی کی 69 ، اور لاہور ہائیکورٹ کی 325 درخواستیں پینڈنگ ہیں۔ 2 روم سینئر کے سول سیکرٹریٹ کی 1575 ، پنجاب اسمبلی کی 115 اور لاہو ہائیکورٹ کی 81 درخواستیں پینڈنگ ہیں۔ 2 روم جونیئر کے لئے سول سیکرٹریٹ کے ملازمین کی 1715، صوبائی اسمبلی کی 150 اور لاہور ہائیکورٹ کی 190 درخواستیں پینڈنگ ہیں۔ سنگل روم کے لئے سول سیکرٹریٹ کے ملازمین کی 2014، پنجاب اسمبلی کی 152 جبکہ لاہور ہائیکورٹ کی 190 درخواستیں پینڈنگ ہیں کل 10 ہزار درخواستوں میں سے 1500 درخواستیں 10 سال سے زیادہ کی پینڈنگ ہیں۔ جی او آر ز میں جن افسران کو مکان الاٹ ہوئے ہیں ان میں سول سیکرٹریٹ کے 1504 میں سے اب تک 896 کو سیاسی سفارشوں پر الاٹمنٹ ہوئی ہے۔ پنجاب اسمبلی کے 27 افسران، جبکہ ہائیکورٹ کے 97 افسران کو گھر الاٹ ہوئے ہیں جبکہ 180 پالیسی کے خلاف الاٹمنٹ ہوئی ہیں جو صرف سیاسی سفارشوں پر ہوئی ہیں۔ اسی طرح 3 سے 4 کمرے کے گھر وں میں اس وقت تک سول سیکرٹریٹ کے 173 افسران و ملازمین کو الاٹمنٹ ہوئی ہے جس میں سے 89 سیاسی سفارشی الاٹمنٹ ہے جبکہ پنجاب اسمبلی کے 33 ، ہائیکورٹ کے 69 افسران و ملازمین کو الاٹمنٹ ہوئی ہے جبکہ پالیسی کے خلاف دیگر محکموں کے افسران و ملازمین کو 397 الاٹمنٹ ہوئی ہیں۔ 2 روم سینئر کے لئے141 سیاسی سفارشوں پر الاٹ منٹ ہوئیں ان میں پنجاب اسمبلی کے 24 ، لاہور ہائیکورٹ کے 20 ملازمین شامل ہیں۔ جبکہ پالیسی کے خلاف دیگر محکموں کے 397 ملازمین کو الاٹمنٹ کی گئیں۔ 2 روم جونیئر مکانوں کے لئے سول سیکرٹریٹ کے تقریبا 305 الاٹمنٹ سیاسی سفارشی ہیں اسی طرح پنجاب اسمبلی کے 24 ، اور لاہور ہائیکورٹ کے 22 ملازمین کو الاٹمنٹ ہوئی ہیں جبکہ پالیسی کے خلاف 255 ملازمین کو مکان الاٹ ہوئے ہیں۔ سنگل روم کے لئے سول سیکرٹریٹ کے 284 ملازمین کو الاٹمنٹ ہوئی جبکہ پنجاب اسمبلی کے2 ، لاہور ہائیکورٹ کے 5 ، اور دیگر محکموں کے 177 ملازمین کو سیاسی سفارشوں پر الاٹمنٹ ہوئی ہیں۔

تیسری سرجری

لندن (بیورو رپورٹ) سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی اہلیہ اور لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 120 سے کامیاب ہونے والی بیگم کلثوم نواز کو کل تیسری سرجری کے لیے لندن کے ہسپتال میں داخل کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق بیگم کلثوم نواز کی تیسری سرجری ان کے گلے کے کینسر سے متعلق ہے۔ اس سرجری کے دوران مریم نواز اور کیپٹن صفدر بھی ان کے پاس ہوں گے۔

بھارتی فضائیہ کی نہتے مسلمانوں پر بمباری،متعدد شہید ،درجنوں زخمی

کراچی (خصوصی رپورٹ)بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں حریت پسند کشمیریوں کے خلاف آپریشن کو تیز بنانے کے لئے کشمیر میں لگی ریگولر آرمی کی سپورٹ کے لئے بھارتی ائیرفورس کو فضائی حملے کرنے کی کلیئرنس دے دی ہے۔خصوصی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بھارتی فوج کے آپریشنل گروپ آرآر کی نفری میں مزید 3000کے اضافے کے بارے میں بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے حکم نامہ جاری کردیا ہے۔ وزیردفاع اور وزیرداخلہ کو اس حوالے سے ریاستی سرکار کی سپورٹ کرنے کے لئے بھی حکم دیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ بھارتی فوج نے آزادی پسند کشمیریوں کے خلاف ہولناک آپریشن شروع کررکھا ہے اس حوالے سے کئی گھر تباہ کردیئے گئے ہیں۔ بھارتی ایئرفورس کئی ماہ سے آزادی پسند کشمیریوں کے گھروں پر بمباری کررہے ہیں جس سے اب تک کی اطلاع کے مطابق سیکڑوں کشمیری مرد خواتین بچے شہید ہوچکے ہیں۔

جنگی جنون میں مبتلا گجرات کے قصاب مودی نے بھارتی فضائیہ کو اہم حکم نامہ جاری کردیا،خطے میں کشیدگی

کراچی (خصوصی رپورٹ)بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں حریت پسند کشمیریوں کے خلاف آپریشن کو تیز بنانے کے لئے کشمیر میں لگی ریگولر آرمی کی سپورٹ کے لئے بھارتی ائیرفورس کو فضائی حملے کرنے کی کلیئرنس دے دی ہے۔خصوصی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بھارتی فوج کے آپریشنل گروپ آرآر کی نفری میں مزید 3000کے اضافے کے بارے میں بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے حکم نامہ جاری کردیا ہے۔ وزیردفاع اور وزیرداخلہ کو اس حوالے سے ریاستی سرکار کی سپورٹ کرنے کے لئے بھی حکم دیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ بھارتی فوج نے آزادی پسند کشمیریوں کے خلاف ہولناک آپریشن شروع کررکھا ہے اس حوالے سے کئی گھر تباہ کردیئے گئے ہیں۔ بھارتی ایئرفورس کئی ماہ سے آزادی پسند کشمیریوں کے گھروں پر بمباری کررہے ہیں جس سے اب تک کی اطلاع کے مطابق سیکڑوں کشمیری مرد خواتین بچے شہید ہوچکے ہیں۔

پنجاب میں ایک اور میڈیکل کالج کا قیام،نوٹیفکیشن جاری

لاہور (خصوصی رپورٹ) پنجاب یونیورسٹی میں میڈیکل کالج کے قیام میں پیش رفت شروع ہوگئی۔ میڈیکل کالج کے قیام کے لئے اقدامات شروع کر دیئے گئے۔ ہیلتھ سنٹر کو ٹیچنگ ہسپتال میں تبدیل کرنیکا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔ وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے ایمرجنسی پاورز کا استعمال کرتے ہوئے ڈین فیکلٹی آف ہیلتھ سانسز کی سفارشات پر یونیورسٹی ہیلتھ سنٹر کو ٹیچنگ ہسپتال میں تبدیل کرنیکا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ جس کی باقاعدہ منظوری سنڈیکیٹ کے اجلاس سے لی جائے گی۔ واضح رہے کہ پنجاب یونیورسٹی میں میڈیکل کالج کے قیام ی منظوری پہلے ہی سنڈیکیٹ سے لی جا چکی ہے۔

یار اتنی بے شرمی۔۔۔عمران خان نے مریم نواز اور سپیکر ایاز صادق بارے ایسی بات کہہ دی کہ یقین نہ آئے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم کی بیٹی مریم نواز شریف کا کوئی کارنامہ نہیں ہے لیکن سب اس کے سامنے ہاتھ باندھے بیٹھے رہتے ہیں۔انہوں نے اس موقع پر سپیکر سردار ایاز صادق اور مریم نواز شریف سے متعلق ایک حیران کن بات بھی کہی جسے سن کر کاشف عباسی بھی حیران رہ گئے۔ عمران خان معروف صحافی و اینکرپرسن کاشف عباسی کو انٹرویو دے رہے تھے تو انہوں نے سوال کیا کہ کوئی چوہدری، کوئی چوہدری نثار آپ کے ساتھ رابطے میں ہے؟

چئیرمین پی سی بی نجی ٹی وی کاملازم ،ایجنڈا ذاتی بزنس ، وکلاءاور سول سوائٹی نجم سیٹھی کیخلاف پھٹ پڑے

لاہور (اپنے سٹاف رپورٹر سے) رانا احسن علی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم نے آج کا احتجاج اپنے حقوق کی پامالی پر چیئرمین کرکٹ بورڈ نجم سیٹھی جو کہ ایک نجی ٹی چینل کا ملازم بھی ہے اور اس کی جانبدانہ بند ربانٹ پر کیا ہے اور قومی کرکٹ ایوارڈ کی تقریبات صرف ایک نجی ٹی وی کو دے کر شائقین کرکٹ کی دل آزاری کی گئی ہے کیونکہ ایک مخصوص ٹی چینل کی پرموشن اور بزنس ہی چیئرمین کرکٹ بورڈ کا ایجنڈا معلوم ہوتا ہے، حسیب بن یوسف ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ نے پھر پور انداز میں چیئرمین کرکٹ بورڈ نجم سیٹھی چند عرصہ قبل ایک سیاسی جماعت سے وابستگی رکھتا ہے اور کرکٹ سے کسی بھی صورت شناسائی نہیں رکھتا اپنی ناتجربہ کاری کے باعث کرکٹ کو فروغ کی بجائے شہریوں کیلئے کھیلوں کے میدان کو خوف کی علامت بنا کر اپنے مخصوص ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے ایک نجی چینل کو قومی دولت پر ہاتھ صاف کرنے کا موقع دے کر شائقین کرکٹ کا حق چھینا جارہا ہے کیونکہ ملک کے 70 سے 80 فیصد لوگ اپنی قومی ایوارڈ کی تقریبات دیکھنے سے محروم رہے، خرم میر ایڈووکیٹ نے کہا کہ پی سی بی کے چیئرمین کی جانبداری کے باعث لوگوں کے جذبات بری طرح مجروح ہوئی ہے کیونکہ قومی کرکٹ ٹیم ملک کا سرمایہ اور ایک سرکاری ادارہ ہے اس کی ذمہ داری ہے کہ قومی اداروں کے وسائل کی تقسیم برابری کی سطح پر کرتے اور زیادہ عوام کو باخبر رکھنے کیلئے ادارہ کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے تھا مگر پی سی بی چیئرمین کے کردار کے باعث پاکستانی عوام مےں شدےد غصہ پاےا جاتا ہے۔ پی سی بی نے کرکٹ کے شوقےن افراد سے ان کا حق چھےنا ہے، کرکٹ لورز یوتھ کے صدر رانا ساجد علی کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم اپنے ہےروز کو دےکھنے سے محروم رہ گئی ہے جس کی وجہ سے ہم احتجاج کرنے پر مجبور ہوئے چےئرمےن پی سی بی جانبداری کا مظاہرہ کرنے پر پاکستانی قوم سے فوری معافی مانگےں۔ ہمارا مطالبہ ہے وزےراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کرکٹ بورڈ کے پےٹرن اےنڈچےف ہونے کے ناتے فوری الےکشن لےں اور چےئرمےن کرکٹ بورڈ کو ہداےات جاری کرےں کے مسقبل کرکٹ کے نام پر سےاست نہےں کی جائے۔ ہم مےڈےا کی توجہ اس طرف بھی مبذول کروانا چاہتے ہےں کہ آزادی کپ کی ٹکٹوں کے نام پر شہرےوں کو لوٹا گےا آخری وقت پر ٹکٹوں کے رےٹ بڑھا دئےے گئے ہےں اور سےنکڑوں پاکستانی شہری کرکٹ مےچ دےکھنے سے محروم رہ گئے ہےں۔ ہمےں معلوم ہوا ہے کہ پی سی بی انتظامےہ نے ٹکٹوں کو بلےک بھی کےا ہے۔ ہم سےکورٹی فورسز کا شکرےہ ادا کرنا چاہتے ہےں جنہوں کے تعاون سے پاکستان مےں کرکٹ دوبارہ شروع ہوئی ہے انہےں غےر ملکی ٹےموں کو فول پروف سےکورٹی فراہم کرنے پر مبارک باد دےتے ہےں۔

شہباز شریف نے جرمن وفد کو کیسے اپنی تعریف پر مجبور کردیا،دلچسپ خبر

لاہور(اپنے سٹاف رپورٹر سے)وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے جرمنی کی توانائی کی معروف کمپنی کے اعلیٰ سطح کے وفد کے اراکین کے ساتھ جرمن زبا ن میںبھی گفتگو کی – جرمن وفدنے وزیر اعلیٰ کی جرمن زبان پر دسترس کی تعریف کی اور کہا کہ ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ آپ انتہائی روانی کے ساتھ جرمن زبان بولتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے جرمن وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی ٹیکنالوجی کی دنیا میں اپنا نمایاں مقام رکھتا ہے اور ہم جرمن ٹیکنالوجی کی مہارت سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں جس پر جرمن وفد کے سربراہ نے اس ضمن میں ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ ہمیں پنجاب حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے میں خوشی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ شہبازشریف اور ان کی پوری ٹیم انتہائی لگن اور عزم سے کام کر رہی ہے۔

بلا ول ،آصفہ اور بختاور کے نام کی تبدیلی بارے ہائیکورٹ کا اہم اقدام

اسلام آباد (آئی این پی) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر آصف علی زرداری کے بچوں کے نام تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کردی ۔میڈ یا رپورٹس کے مطابق اسلا آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل اور نگزیب نے آصف علی زرداری کے بچوں کے نام تبدیل کرنے کی درخواست پر سماعت کی ۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ تینوں بہن بھائیوں کا تعلق زرداری قبیلے سے ہے مگر بھٹو خاندان کا نام استعمال کر رہے ہیں ،بھٹو خاندان کا نام صرف سیاسی مفاد حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ آصف زرداری کے بچوں کا خاندان اور برادری کا نام تبدیل کرنا پاکستانی قوم کے ساتھ مذاق ہے ،درخواست میں وزارت داخلہ ،چیئر مین نادرا،آصفہ ،بختاور اور بلاول بھٹو کو فریق بنا یا گیا تھا ۔عدالت نے درخواست کو مسترد کردیا۔

قومی اسمبلی میں نیا اپوزیشن لیڈر؟

اسلام آباد (امتیاز احمد بٹ ) پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے وزیر اعظم کے بعد اپوزیشن لیڈر کو ہٹانے کی مورچہ بندی کر لی ، ایم کیو ایم اور دیگر اپوزیشن جماعتوں و ممبران اسمبلی سے رابطے ، مقتدر اداروں کی جانب سے گرین سگنل نہ مل سکا ۔ معتبر ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے پی پی پی کی فرینڈلی اپوزیشن ، الیکشن کمیشن اور بعض دیگر اداروں کے جانبدارانہ رویہ کے بعد پیپلز پارٹی کے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کو ہٹا کر شاہ محمود قریشی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کے لیے کوششیں تیز کر دیں ۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے 32ممبران اسمبلی کے ساتھ ایم کیو ایم کے 24 ممبران ،مسلم لیگ فنکشنل کے 5، جماعت اسلامی کے 4، مسلم لیگ ق 2، فاٹا اور آزاد ممبران اسمبلی ملا کر 70ارکان کی پوائنٹ سکورنگ کی منصوبہ بندی کر لی ہے تا ہم پیپلز پارٹی کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایم کیو ایم کا ایک دھڑا حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے اور گورنر سندھ کی طرف سے اعلان کردہ کراچی کے بلدیاتی اداروں کے لیے 20ارب کے پیکج کے اجراءکے لیے بات چیت میں مصروف ہے اور عمران خان سے مل کر اپوزیشن لیڈر ہٹانے کی چہ میگوئیاں وفاق میں مرکزی حکومت اور سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو بلیک میل کرنے کی کوشش ہے ۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن لیڈر کو ہٹانے کی کوششوں کے بعد ایم کیو ایم دو واضح حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے ۔ ادھر اطلاعات ہیں کہ اپوزیشن لیڈر کو ہٹانے کے لیے مقتدر حلقوں نے اثبات میں جواب نہیں دیا ۔ واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کی پانامہ کیس میں نا اہلی کے بعد پی پی پی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری کے بااثر حلقوں کے ساتھ رابطوں کا تاثر بھی اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی میں رکاوٹ ہے ۔

ملک سے باہر جاکر اپنے گھر کو بُرا نہ کہیں، دشمنوں کو تقویت ملے گی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو پاکستان سے باہر جا کر ایسے بیان نہیں دینے چاہئیں کہ ”اپنے گھر کی صفائی کرنی چاہئے“ انہوں نے اپنے اس بیان سے امریکہ و بھارت کے پاکستان میں دہشتگردی کے حوالے سے الزامات کو مزید تقویت دی۔ حکومتی پارٹی کے بقول جج و جرنیل ان کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ حکومت کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارے وزیراعظم ملک سے باہر جا کر دشمنوں کے الزامات کو تقویت دیں۔ شاہد خاقان عباسی کو خیال رکھنا چاہئے کہ اب وہ گیس کے وزیر نہیں بلکہ وزیراعظم ہیں۔ این اے 120 کے ضمنی لیکشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہارنے والے تو دھاندلی کا الزام لگاتے ہی ہیں لیکن جیتنے والے کہہ رہے ہیں کہ آج ہماری سپریم کورٹ نے فیصلہ دیدیا۔ یہ کہنا مناسب نہیں کہ ہم جیت گئے ہیں لہٰذا عوام نے فیصلہ دیدیا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط تھا۔ عدلیہ و فوج کو چلنے دیا جائے۔ اپنے سسٹم میں موجود خامیوں کو دور کرنا چاہئے۔ دل کی بات فوج پر منطبق نہیں کرنی چاہئے۔ آرمی چیف نے خود کہا کہ ہمارا پانامہ سے کوئی تعلق نہیں، چاہتے ہیں کہ جمہوریت چلتی رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب ایک بارڈر ایریا ہے۔ سیالکوٹ سے لے کر صادق آباد تک بارڈر بیلٹ ہے۔ جہاں زیادہ تر آبادی ہے۔ اگر نون لیگ نے فوج کے خلاف ایسا ہی طرز عمل جاری رکھا تو پارٹی میں مضبوط فارورڈ بلاک بنے گا۔ شاید الیکشن سے پہلے ہی ان کے لئے حکومت چلانی مشکل ہو جائے۔ ممکن ہے شریف خاندان میں بھی اختلاف رائے پیدا ہو جائے، باتیں تو پہلے ہی کی جا رہی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ بھائی بھائی کے مقابلے میں کھڑا ہو جائے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اورنگزیب عالمگیر نے تخت نشینی کی جنگ میں کامیابی کے بعد اپنے سگے باپ کو 12 سال قلعے کے برج میں بند رکھا، وہ وہیں مر گیا۔ تخت نشینی ایسی خوفناک چیز ہوتی ہے۔ شہبازشریف، نوازشریف کی بہت عزت کرتے ہیں۔ مشرف دور میں ان کو مائنس نواز وطن آنے کی آفر ہوئی تھی لیکن اس وقت بھی وہ نہیں مانے تھے لیکن آخر کب تک ایسا ہو گا؟ حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ پنجاب کے لئے نامزد کیا گیا تھا، جب شہباز شریف وزیراعظم بن جائیں گے۔ حمزہ شہباز 4 سال سے پنجاب میں پارٹی چلا رہے ہیں۔ سارے یہاں فیصلے انہوں نے کئے، تمام ضمنی انتخابات انہوں نے کروائے لیکن این اے 120 میں وہ معلوم نہیں کہاں چلے گئے۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب کے ”کسی کے سامنے نہ جھکنے“ کے بیان پر انہوں نے کہا کہ اس کے بجائے انہیں کوشش کرنی چاہئے تھی کہ تمام سیاسی جماعتیں ان کی عزت و احترام کریں۔ ان کا بیان ثابت کرتا ہے کہ وہ خود فریق بنے ہوئے ہیں۔ تمام اپوزیشن جماعتیں متفق ہیں کہ انتخابی اصلاحات کی جائیں اور موجودہ الیکشن کمیشن کو دفع کیا جائے۔ کبھی بھی الیکشن کمیشن کے عملے کو اس طرح دھمکیاں دیتے نہیں دیکھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عائشہ گلا لئی بچوں جیسی باتیں نہ کریں۔ تحریک انصاف وہی مانی جائے گی جس کے سربراہ عمران خان ہوں گے۔ وہ کون سے صاف ستھرے لوگوں کی پی ٹی آئی بنائے گی؟ خود کتنی صاف ہیں؟ ہم نے ان کی بہن کا انٹرویو چھاپا تھا وہ کہتی ہے کہ میں لڑکوں کے ساتھ رہنا زیادہ پسند کرتی ہوں، لڑکیاں مجھے پسند نہیں۔ والد نے انہیں اپنی اس بیٹی کو تو منع نہیں کیا کہ کوچ کے ساتھ مت گھومو، اس وقت اس بات کی غیرت کہاں تھی؟ چار سال تک گندے میسجز کرنے والے کو ایک دن پہلے ملنے گئی۔ شاید امیر مقام سے ملنے اور نقد رقم وصول کرنے کے بعد ان کو یہ خیال آیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے معاملات میں چار سال سے الجھی ہوئی ہے، الزامات بھی ہیں کہ نریندر مودی سے دوستیاں ہیں۔ اب امید کی کرن نظر آئی ہے، سوشل میڈیا پر 4 دن سے کچھ لوگوں نے ”فری جونا گڑھ“ کی تحریک شروع کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب پاکستان و ہندوستان بن رہا تھا تو جونا گڑھ پر فارمولا یہ طے پایا تھا کہ ریاست کے سربراہ طے کریں گے کہ وہ پاکستان یا بھارت کس کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے ہیں؟ جس طرح بہاولپور سمیت مختلف ریاستوں نے بھی الحاق کیا تھا۔ جونا گڑھ انڈیا کے علاقے میں تھا، اس کا کوئی بارڈر پاکستان سے نہیں ملتا تھا۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ رہنے کا اظہار کیا۔ قائداعظم نے مذاکرات کئے، الحاق کی دستاویزات پر بھی دستخط کر دیئے گئے۔ پھر نڈیا نے بغاوت کی اور بھارتی فوج نے جونا ڑھ پر قبضہ کر لیا۔ بھارت کی ”فری بلوچستان“ کی تحریک پر ”فری جونا گڑھ“ کی جوابی جنگ شروع ہوئی ہے۔ جو فوج یا حکومت نے نہیں بلکہ عوام کے ایک حلقے نے شروع کی ہے۔ انڈیا نے یو این او میں فری بلوچستان کی تحریک بھی جمع کرا دی ہے۔ اب عوام میدان میں نکل آئے ہیں اور بھارتی پروپیگنڈ کے خلاف یہ تحریک شروع کی ہے۔ اگلے مرحلے میں 3 جگہوں پر سکھوں کی تحریک بھی عروج پر پہنچ جائے گی، بہر کا سکھ انڈین حکومت کے خلاف ہے۔ کشمیر میں تو باقاعدہ لڑائی ہو رہی ہے۔ پاکستان نے مشرف دور میں معاہدہ کر لیا تھا کہ ہتھیار، یونیفارم، اسلحہ اور مالی وسائل سمیت کچھ نہیں دیں گے۔ اس وقت مظفرآباد میں موجود جہادی کیمپوں کو بھی بند کر دیا گیا تھا۔ حکومت پاکستان اب چڑی بھی نہیں جانے دیتی۔ کشمیری اپنی جنگ خود لڑ رہے ہیں۔ شہید ہو رہے ہیں۔

نیب نابینا، ملک میں کوئی نظام نہیں

اسلام آباد (آن لائن ) مضاربہ اسکینڈل کے مجرم مفتی ثاقب کی سزاکے خلاف اپیل کی سماعت کے دوران جسٹس دوست محمد خان نے ریمارکس دیئے کہ نیب نابینا ہے ،ملک میں کوئی نظام موجود نہیں، نظام کی ناکامی کے باعث کالعدم جماعتوں کو بھی الیکشن لڑنے کی کھلی چھٹی ہے۔ لاہور میں کالعدم تنظیموں نے بھی الیکشن لڑا ان پر کس کی چھتری تھی ؟انڈیا میں مجسٹریٹ نے گرو کو سزا دی ہم بھی وہی کریں گے جو قانون میں لکھا ہے ۔ منگل کو مضاربہ اسکینڈ کے مجرم مفتی ثاقب کی سزا کیخلاف اپیل کی سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بنچ نے سماعت کی دوران سماعت مجرم کے وکیل
امجد قریشی نے دلائل دیتے ہوئے مو¿قف اختیار کیا کہ میرے موکل کو 26.5ملین کے مبینہ فراڈ میں ایک سال ایک لاکھ جرمانے کی سزا ہوئی ہے ،8.1ملین روپے پی بار گین کے ذریعے نیب کو دیدیے ہیں ،رقم واپس دیدی تو جرمانے کی رقم دینے کی ذمہ داری نہیں ہے ،17متاثرین نے بیان حلفی میں کہا ہے کہ ہمیں پیسے مل گئے ہیں ملزم کی سزا نہیں چاہیے ،اس پر جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے میں لکھا ہے کہ متاثرین نے کہا پیسے مل جائیں تو ملزم کی سزا سے کوئی سروکار نہیں ہے ،لیکن انوسٹی گیشن رپورٹ کے مطابق متاثرین صرف سترہ نہیں بلکہ زیادہ ہیں۔ جسٹس دوست محمد خان نے ریمارکس دیئے کہ کسی ملک میں اتنے بڑے گھپلے کی مثال نہیں ملتی ، حیران ہیں اتنی کم سزا سنائی گئی مجرم کو تو چودہ سال کی سزا ہونی چاہیے تھی ،دوران سماعت ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مجرم پراپرٹی کا کام کرتا ہے ، اس پر عدالت کا کہناتھا کہ پراپرٹی کا کام کرتا ہے تو پیسے کیسے وصول کرسکتا ہے ، پیسے وصول کرنا تو بنک کا کام ہے ، عدالت نے ملزم کے وکیل سے استفسار کی کیا آپ مجرم پر لگا داغ ختم کرانے آئے ہیں ؟ اس پر وکیل نے کہا جی میں سزا ختم کرانے آیا ہوںمیرا موکل مفتی ہے اور اس کا معاشرے میں ایک مقام ہے ، اس پر جسٹس دوست محمد خان نے ریمارکس دیئے کہ پاکستان میں کوئی نظام ہی نہیں ہے ،نظام کی ناکامی کے باعث کالعدم جماعتوں کو بھی الیکشن لڑنے کی کھلی چھوٹ ہے۔ لاہور میںکالعدم جماعتوں نے الیکشن لڑا ان پر کس کی چھتری تھی ؟انڈیا میں گرو کے ساتھ کیا ہوا ؟ایک مجسٹریٹ نے سزا دیدی ، گرو روتا رہا لیکن کسی نے اس کے رونے کی پروا نہیں کی ہم بھی قانون پر عمل کریں گے وہیں کریں گے جو قانون کہتا ہے۔ جسٹس دوست محمد نے مجرم کے وکیل سے استفسار کیا کہ اس مجرم نے کتنے طلبہ کو پڑھایا؟اس پر وکیل کا کہنا تھا کہ انہیں طلبہ کے لیے ہی یہ کلنک ختم کرانا چاہتے ہیں ،میرے موکل کیخلاف فراڈ کا الزام ثابت نہیں ہوتا ،مفتی ثاقب نے پیسے بھی واپس کیے اور سزا بھی بھگت لی،عدالت ٹرائل کورٹ کا فیصلہ ختم کرے تاکہ سزا دھل سکے دوران سماعت نیب پراسکیوٹر عدالت میں پیش ہوئے تو عدالت کو بتایا کہ مفتی ثاقب نے عام لوگوں سے پیسے لے کر انوسٹمنٹ کر کے منافع دینے کا کہا منافع نہ دینے پر پلاٹ دینے کا لارا لگایا اور کہا کہ پلاٹ نہ دے سکا تو 1کروڑ 88لاکھ دوں گا ،اس پر جسٹس دوست محمد خان نے ریمارکس دیئے کہ نیب نابینا ہے۔ ٹرائل کے دوران مفتی ثاقب کے خلاف دوسرا فراڈ سامنے آیا، نیب نے دوسرا مقدمہ نہ بنایا ،ٹرائل کورٹ نے مہربانی کر کے ایک سال سزا دی، بعد ازاں عدالت نے وکلاءکے دلائل سننے کے بعد مجرم کی درخواست خارج کر دی، واضح رہے کہ مفتی ثاقب نے مضاربت کے لیے عام لوگوں سے اڑھائی کروڑ لیے تھے اور جرم ثابت ہونے پر ٹرائل کورٹ میں نے مجرم کو ایک لاکھ جرمانہ اور ایک سال قید کی سز ا سنائی تھی۔

شاہدرہ میں 2 معصوم بچوں کا قتل ،پولیس کی نا اہلی سے معاملہ مزید اُلجھ گیا

لاہور ،شاہدرہ ( انسپکشن ٹیم) شاہدرہ کے علاقے جاوید پارک میں دو معصوم بچوں کے قتل کا معاملہ مزید الجھ گیا۔ خبریں کی انسپکشن ٹیم کی بچوں کے والدین کے گھروں میں آمد ، دونوں اطراف سے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ ، معاملے میں پولیس کی مکمل نااہلی اور غیر ذمہ داری سامنے آگئی۔ سیاسی و سماجی تنظیموں، مقامی امام مسجد اور این جی اوز کا خبریں کے چیف ایڈیٹر ضیا شاہد کو مظلوموں کے خون ناحق کی آواز بننے پر خراج تحسین۔ تفصیلات کے مطابق شاہدرہ کے علاقے جاوید پار ک میں دو معصوم نومولود بچے کی دم گھٹنے سے ہلاکت کے معاملہ کی تحقیقات کرنے خبریں کی انسپکشن ٹیم مقامی بیورو چیف کے ساتھ شاپر میں ڈال کر دم گھٹنے سے جاں بحق ہو نیوالے بچوں کی ماں عروسہ کے گھر پہنچی تو عروسہ کی والدہ نے بتایا کہ عروسہ کا سابق شوہر شہزاد احمد اسکی بیٹی سے شادی کے بعد ان سے مسلسل پیسوں کا تقاضہ کرتا رہنا تھا اور ہم نے کئی بار اس کو پیسے بھی دیئے مگر اس کے تقاضے بڑھتے گئے ایک دون ڈیڑھ لاکھ روپے کا تقاضہ کرنے لگا جب ہم اسکا مطالبہ پورا نہ کرسکے تو اس نے عروسہ کو مارپیٹ کر گھر سے نکال دیا حالانکہ وہ حاملہ تھی ،کچھ عرصہ بعد عروسہ کے ہاں دو مردہ بچوں لڑکی اورلڑکے کی پیدائش ہوئی جس کو ہم نے شاپر میں ڈال کر عروسہ کے بھائی شفیق کے حوالے کیا جو مردہ بچے شہزاد احمد کے گھر کے سامنے رکھ آیا۔ عروسہ کی ماں نے مزید بتایا کہ شہباز کی یہ دوسری شادی تھی اور ہمیں یہ بعد میں پتہ چلا کہ اس نے اپنی پہلی بیوی کو بھی پیسے نہ لانے پر طلاق دی تھی ۔ عروسہ کے سابق شوہر شہباز احمد نے بتایا کہ عروسہ سے شادی کے بعد کچھ دیر تک تو معاملات ٹھیک رہے مگر بعد میں عروسہ نے لڑائی جھگڑا کرنا شروع کردیا اور اس کی طرف سے بے جاہ تقاضے بڑھتے گئے جن کو پورا کرنا میر ے بس میں نہیں اور وہ میرے ساتھ سیالکوٹ جا کر رہنے کی ضد بھی کرنے لگی اور جب میں اس کو سیالکوٹ نہ لے کر گیا تو وہ لڑجھگڑ کر میکے چلی گئی جہاں اس کے ہاں دو بچوں کی پیدائش ہوئی جن کو اس نے شاپر میں ڈال کر اپنے بھائی کو دیا جو ہمارے دروازے پر رکھ گیا جبکہ عروسہ نے خود فون کرکے مجھے بتایا کہ تمہار ے بچے میں نے شاپر میںڈال کر تمہارے گھر بھیج دیئے ہیں جب ہم نے شاپر کھولا تو بچے دم گھٹنے سے ہلاک ہو چکے تھے۔ شہباز احمد کا کہنا تھا کہ پولیس ملزمان کیخلاف کارروائی کرنے کی بجائے ہمارے اوپر صلح کیلئے دباﺅڈال رہی ہے ۔ اس معاملے کی مزید تفتیش کیلئے جب خبریں کی انسپکشن ٹیم تھانہ شاہدرہ ٹاﺅن پہنچی تو مقامی ایس ایچ او کی لاعلمی اور غفلت کھل کر سامنے آگئی اور وہ انسپکشن ٹیم کو کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکا اور مسلسل آئیں بائیں شائیں کرتا رہا کارروائی کے حوالے سے اس نے بتایا کہ کل بچوں کی میڈیکل رپورٹس مل جائیں گی اس کے بعد میں فیصلہ کروں گا کہ کارروائی کرنا ہے یا نہیں۔ مقامی سیاسی وسماجی شخصیات ، امام مسجد اور مقامی این جی اوز کے نمائندوں نے انسپکشن ٹیم کے استفسار پر بتایا کہ بچوں کا قتل ہوا یا مردہ پیدا ہوئے یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے یا ان کے گھر والے مگر روز نامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر جناب ضیا شاہد نے جس طرح اس معاملے کو اٹھایا ہے اور ایک اندھے جرم کا مسلسل سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں اس پر ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔