All posts by saqib

بالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار دھرمیندر انتقال کر گئے

 

بھارتی فلم انڈسٹری کے عظیم اور عہد ساز اداکار **دھرمیندر** طویل علالت کے بعد آج دنیا فانی سے رخصت ہو گئے۔

89 سالہ دھرمیندر گزشتہ کئی ماہ سے مختلف بیماریوں کے باعث زیرِ علاج تھے، اور ان کی صحت میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا تھا۔

 

دھرمیندر نے اپنے کیریئر کے دوران نہ صرف بالی ووڈ کو بے شمار سپر ہٹ فلمیں دیں بلکہ اپنے دلکش انداز، جاندار اداکاری اور شائستہ شخصیت کی وجہ سے دنیا بھر میں کروڑوں دلوں پر راج کیا۔ اُن کی فلمیں آج بھی ناظرین کے ذہنوں میں تازہ ہیں اور ان کا فن آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔

 

ان کے انتقال کی خبر نے مداحوں، ساتھی اداکاروں اور فلمی دنیا کے بڑے ناموں کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے اور ہر کوئی ان کے فن اور شخصیت کو خراجِ تحسین پیش کر رہا ہے۔

 

دھرمیندر کی موت بالی ووڈ کے ایک سنہری دور کے خاتمے کے مترادف قرار دی

 

دبئی میں شاہ رخ خان کے نام پر دنیا کا پہلا کمرشل ٹاور

ریئل اسٹیٹ انڈسٹری میں پہلی بار کسی عالمی شہرت یافتہ فلمی شخصیت کے نام پر ڈینوب پراپرٹیز نے ایک نئے تجارتی منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ ’’Shahrukhz by Danube‘‘ کے نام سے یہ 55 منزلہ پریمیم کمرشل ٹاور دبئی کے مرکزی کاروباری خطے شیخ زاید روڈ پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ منصوبہ اپنے تصور اور برانڈ ویلیو کے اعتبار سے بین الاقوامی پراپرٹی مارکیٹ کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ شاندار منصوبہ ڈینوب گروپ کے بانی اور چیئرمین رضوان سجن اور بالی ووڈ کے عالمی اسٹار شاہ رخ خان کے درمیان 33 سالہ سفر کی باہمی کامیابیوں اور مسلسل جدوجہد کا علامتی اشتراک بھی ہے۔ منصوبے کا باقاعدہ اعلان ممبئی میں ایک اعلیٰ سطحی گالا ایونٹ کے دوران کیا گیا، جس میں کاروباری رہنماؤں، سرمایہ کاروں، صنعتکاروں اور معروف شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کی نوعیت اور شاندار شرکت نے اسے رواں سال بھارت کی سب سے نمایاں رئیل اسٹیٹ لانچ میں شامل کر دیا۔


دبئی کے جدید کاروباری نقشے میں نیا سنگِ بنیاد

10 لاکھ مربع فٹ پر محیط یہ جدید ٹاور، تعمیراتی معیار اور عالمی کارپوریٹ ضروریات کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے، جس کا ہدف کاروباری ادارے، اسٹارٹ اپس، سلیکن ویلی طرز کے انوویٹرز اور تیز رفتاری سے بڑھتی کاروباری برانڈز ہیں۔ منصوبے کی ابتدائی قیمت 460,000 امریکی ڈالر سے شروع ہوگی، جو اسے خطے کے ہائی ویلیو پرائم کمرشل ایسٹ میں شامل کرتی ہے۔

منصوبے میں اسکائی پول، ایگزیکٹو بزنس لاؤنجز، مستقبل کی فضائی ٹرانسپورٹ کے لیے ہیلی پیڈ اور 40 سے زائد پریمیم سہولیات شامل ہوں گی۔ ڈینوب کی معروف 1 فیصد ماہانہ ادائیگی پلان پالیسی اس منصوبے میں بھی برقرار رکھی گئی ہے، جسے جائیداد کے حصول کا ایک جدید اور قابلِ رسائی ماڈل سمجھا جانے لگا ہے۔


تقریبِ رونمائی پر شاہ رخ خان کا بیان

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہ رخ خان نے کہا:

“یہ میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔ میری والدہ اگر آج زندہ ہوتیں تو بے حد خوش ہوتیں۔ جب میرے بچے اس جگہ آئیں گے تو میں فخر سے کہوں گا کہ دیکھو یہاں تمہارے والد کا نام لکھا ہے۔ میں گزشتہ دو ماہ سے اس منصوبے کی تفصیلات کا بغور جائزہ لے رہا ہوں، یہ واقعی جدید ترین تعمیرات کی ایک شاندار مثال ہے۔”

شاہ رخ خان نے مزید کہا کہ دبئی ہمیشہ سے ان کے لیے خواب، جذبے اور امکانات کا مرکز رہا ہے، اور اس منصوبے کو وہ محنت اور یقین کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔


ڈینوب گروپ کے چیئرمین رضوان سجن کا مؤقف

رضوان سجن نے اس منصوبے کو شاہ رخ خان اور ڈینوب کے مشترکہ وژن، ثابت قدمی، خود اعتمادی اور مسلسل جدوجہد کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں نے اپنے سفر کا آغاز نہایت سادہ بنیادوں سے کیا اور آج عالمی سطح پر شناخت حاصل کی۔


بین الاقوامی اعزاز

اس منصوبے کے ساتھ شاہ رخ خان دنیا کے پہلے ایسے سلیبریٹی بن گئے ہیں جن کے نام پر کمرشل بزنس ٹاور تعمیر کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کی لوکیشن اسے دبئی کے اہم ترین مقامات — برج خلیفہ، دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور گولڈ سوک — کے بالکل قریب ایک نمایاں عالمی بزنس ایڈریس بناتی ہے۔

مسٹر بیسٹ کے تھیم پارک کا افتتاح، ریاض میں مداحوں کا جمِ غفیر

ریاض — دنیا کے سب سے بڑے یوٹیوبر مسٹر بیسٹ نے سعودی دارالحکومت ریاض میں اپنے پہلے تھیم پارک *”بیسٹ لینڈ”* کا شاندار افتتاح کر دیا، جہاں افتتاح کے موقع پر ہزاروں مداح داخلی دروازے پر جمع ہو گئے۔ نوجوانوں، خاندانوں اور سیاحوں کی بڑی تعداد مسٹر بیسٹ سے ملاقات اور ان کے مشہور چیلنجز کو حقیقی زندگی میں دیکھنے کے لیے بے تاب نظر آئی۔

تھیم پارک کو مکمل طور پر مسٹر بیسٹ کی مقبول یوٹیوب سیریز کے انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے، جس میں وہی سنسنی، وہی ایکشن اور وہی دلچسپ مقابلے شامل ہیں جنہوں نے انہیں عالمی شہرت دلائی۔ *”بیٹل برج”* جیسا انٹرایکٹو گیم، جس میں مہمان ایک دوسرے کے مقابل پل پر توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، خاص طور پر توجہ کا مرکز بنا رہا۔

پارک میں دیگر مقبول ایڈونچر فیچرز بھی شامل ہیں، جیسے:

* رکاوٹوں سے بھرپور ایڈونچر کورس
* دیوہیکل *راک کلائمبنگ وال*
* متعدد انٹرایکٹو گیم اسٹیشنز
* فیملیز اور بچوں کے لیے خصوصی تفریحی زون

افتتاحی روز نہ صرف مقامی لوگ بلکہ مختلف ممالک سے آئے مداح بھی موجود تھے جو اس منفرد تجربے سے لطف اندوز ہونے کے لیے اُمڈ آئے۔ ماہرین کے مطابق ریاض میں اس پارک کا آغاز سعودی عرب کے تیزی سے بڑھتے تفریحی شعبے میں ایک اہم اضافہ ثابت ہوگا۔

مسٹر بیسٹ کے مطابق، ان کا مقصد اپنے فالوورز کو ایسا تجربہ دینا ہے جس میں وہ ان کے مشہور چیلنجز کو حقیقت میں محسوس کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں مزید گیمز اور چیلنجز بھی شامل کیے جائیں گے تاکہ پارک ہمیشہ ایک نیا اور دلچسپ تجربہ فراہم کرتا رہے۔

بیست لینڈ اس وقت ریاض کی نئی پہچان بنتا جا رہا ہے، جہاں یوٹیوب کلچر اور جدید تفریحی سرگرمیوں کا بہترین امتزاج دیکھنے کو مل رہا ہے۔

لال بخش بھٹو کے انتقال پر سیاسی و سماجی حلقوں میں سوگ

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماء لال بخش بھٹو کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد ملک کے سیاسی حلقوں میں افسوس اور غم کی کیفیت پھیل گئی ہے۔ ان کے انتقال پر تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے جبکہ مختلف صوبائی اور مرکزی رہنماؤں نے انہیں ایک باوقار، اصول پسند اور عوام دوست شخصیت قرار دیا ہے۔

صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لال بخش بھٹو کی جمہوری خدمات، سیاسی بصیرت اور عوامی جدوجہد کو تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھٹو صاحب نے مشکل سیاسی ادوار میں اپنی پارٹی، نظریے اور عوام کے ساتھ وفاداری کو ہمیشہ مقدم رکھا۔

پارٹی ذرائع کے مطابق لال بخش بھٹو کا شمار ان رہنماؤں میں ہوتا تھا جنہوں نے نہ صرف جمہوریت کے لیے کردار ادا کیا بلکہ علاقائی سطح پر سماجی خدمات اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

پارٹی رہنماؤں کے مطابق ان کی سیاسی جدوجہد باوقار کردار، اتحاد، اور مستقل مزاجی کی مثال تھی، اور ان کی وفات کو پیپلز پارٹی اور جمہوری عمل — دونوں کے لیے ایک بڑا نقصان سمجھا جا رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ لال بخش بھٹو جیسے رہنماء پاکستان کی سیاست میں ’پریکٹیکل ورکر کلاس لیڈرشپ‘ کی علامت تھے، اور ان کی جدائی سے پارٹی کی نظریاتی اور تنظیمی فریم ورک میں ایک واضح خلا پیدا ہو سکتا ہے۔

مرحوم کی تدفین سے متعلق تفصیلات جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے جبکہ ملک بھر میں ان کے لیے دعائیہ مجالس اور تعزیتی ریفرنس منعقد کیے جانے کی توقع ہے۔

پاکستان میں آئندہ ہفتے T20 نیٹ میچ سیریز شروع ہونے کا امکان

اسلام آباد (کریکٹ سینئر رپورٹر) — تازہ اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) اور سری لنکا کے کرکٹ بورڈ کے درمیان بات چیت جاری ہے، اور امکان ہے کہ آئندہ ہفتے پاکستان میں ایک ٹی 20 نیٹ میچ سیریز کا آغاز ہو جائے۔ تاہم، یہ ابھی حتمی نہیں ہوا ہے اور دونوں اطراف کی جانب سے رسمی اعلان کا انتظار ہے۔


پسِ منظر اور موجودہ صورتحال

  • پاکستان کرکٹ ٹیم ۱۸ نومبر سے ایک Tri-Nation T20 سیریز کی میزبانی کرنے جارہی ہے، جس میں سری لنکا اور زمبابوے شامل ہیں۔

  • ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم نے اپنی صلاحیتوں کی جانچ کے لیے کراچی اور راولپنڈی میں پریکٹس سیشنز شروع کیے ہیں۔ پچھلے ہفتے PCB نے بیانات دیئے کہ وہ سلیکشن اور تیاری کو ایک “کڑا امتحان” قرار دے رہی ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بورڈ بین الاقوامی مقابلوں کی حکمت عملی پر توجہ دے رہا ہے۔


چیلنجز اور خدشات

  1. سیکیورٹی ایشوز
    پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے ساتھ سیکیورٹی ایک بنیادی چیلنج ہے۔ خاص طور پر ایسے ایونٹس جہاں تماشائی اور ٹیم اسٹاف دونوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ضروری ہو۔

  2. شیڈول اور انتظامی پیچیدگیاں
    اگرچہ بات چیت جاری ہے، مگر فائنل شیڈول ابھی محفوظ نہیں ہے۔ میچز کی جگہ، تعداد اور تاریخیں دونوں بورڈز کی مرضی اور عملی انتظامات پر منحصر ہوں گی۔

  3. کھلاڑیوں کا بوجھ اور تیاری
    کرکٹ بورڈ کو کھلاڑی لوڈ مینجمنٹ پر توجہ دینی ہوگی، خاص طور پر ٹی 20 آئی سی سی ٹورنامنٹس کی تیاری کے دوران۔ پریکٹس سیشنز کے دوران کوچنگ اسٹاف اور کھلاڑی اپنی خامیوں پر کام کر رہے ہیں۔


توقعات اور ممکنہ نتائج

  • اگر یہ ٹی 20 نیٹ میچ سیریز طے ہوتی ہے، تو یہ پاکستانی ٹیم کے لیے 2026 ٹی 20 ورلڈ کپ کی تیاری کا اہم حصہ بن سکتی ہے۔

  • نئے اور ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو یہ موقع مل سکتا ہے کہ وہ اپنی بین الاقوامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں اور تجربہ حاصل کریں۔

  • بورڈ کی جانب سے مضبوط اور منظم تیاری کی پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کا یہ ایک موقع ہوگا، جو مستقبل میں مزید بین الاقوامی سیریز کی میزبانی اور کھیل کی استحکام میں مدد فراہم کرے گی۔

چین کی تائیوان کے حوالے سے اپنے شہریوں سے جاپان کا سفر کرنے سے اجتناب برتنے کی اپیل

چین نے اپنے شہریوں کو جاپان کے سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، جس سے ایسے سفارتی تناؤ میں اضافہ ہوا ہے جو جاپان کی نئی وزیرِ اعظم کے تائیوان پر  چین کے ممکنہ حملے کے بارے میں  جاری کردہ بیانات  سے پیدا ہوا ہے۔

یہ تناو 7 نومبر کو وزیرِ اعظم سناےٰ تاکائیچی کے بیانات کے بعد  پیدا ہوا، جنہیں عام طور پر اس تاثر کے طور پر لیا گیا کہ تائیوان پر کوئی حملہ — وہ خود مختار جزیرہ جس پر چین دعویٰ کرتا ہے اور جو جاپان کے قریب ترین جزیرے سے تقریباً 100 کلومیٹر دور ہے — ٹوکیو کے عسکری ردِ عمل کا باعث بن سکتا ہے۔

بیجنگ نے جمعہ کو کہا کہ اس نے جاپان کے سفیر کو طلب کر کے احتجاجی مراسلہ دیا ہے۔

اس کے جواب میں ٹوکیو نے چین کے سفیر کو ایک ’نامناسب‘ آن لائن پوسٹ کے سلسلے میں طلب کیا، جو بعد ازاں ہٹا دی گئی۔

جاپان نے زور دے کر کہا ہے کہ تائیوان کے بارے میں اس کا موقف تبدیل نہیں ہوا۔

جمعہ کی شب ، جاپان میں چین کے سفارت خانے نے اپنی سرکاری آن لائن ہدایت میں چینی شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنے سفر ی  منصوبوں پر نظر ثانی کریں۔

سفارت خانے نے اپنے سرکاری وی چیٹ اکاؤنٹ پر کہا: “حال ہی میں جاپانی رہنماؤں نے تائیوان کے بارے میں کھلے طور پر اشتعال انگیز بیانات دیے ہیں، جنہوں نے عوامی رابطوں کا ماحول بری طرح متاثر کیا ہے۔”

پوسٹ نے خبردار کیا کہ یہ صورتِ حال جاپان میں موجود چینی شہریوں کے نجی تحفظ  اور جانوں کے لیے “اہم خطرات” پیدا کرتی ہے۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ : “وزارتِ خارجہ اور جاپان میں چینی سفارت خانہ و قونصل خانوں کی طرف سے چینی شہریوں کو سختی سے یاد دہانی کروائی جاتی ہے کہ وہ قریبی مستقبل میں جاپان کا سفر کرنے سے گریز کریں۔”

بیجنگ کا موقف ہے کہ تائیوان — جو 1945 تک جاپانی قبضے میں رہا — اس کی سرزمین کا حصہ ہے اور اس نے جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کے آپشن کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔

پاکستان میں ڈالر اور سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ

پاکستان کی معیشت اس وقت ایک اہم مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں US Dollar کے مقابلے میں Pakistani Rupee کی قدر اور Gold کی مقامی قیمتیں بار بار تبدیل ہو رہی ہیں، جس نے سرمایہ کاروں، حکومتی منصوبہ سازوں اور عام صارفین کو چوکس کر دیا ہے۔
ذیل میں اس کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے کہ یہ اتار چڑھاؤ کیوں ہو رہا ہے، اس کے اثرات کیا ہیں، اور مستقبل میں کس طرح کی حکمت عملی ضروری ہوگی۔


اتار چڑھاؤ کی وجوہات

  1. ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کی قدر

    • رواں ماہ 1 امریکی ڈالر تقریباً Rs. 280.45 کی سطح پر ہے۔

    • ڈالر جب مضبوط ہوتا ہے، تو امپورٹس مہنگے ہو جاتے ہیں، اخراجات بڑھتے ہیں، اور روپیہ دباؤ میں آجاتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر ڈالر کی طلب کم ہو یا بیرونی ذخائر مستحکم ہوں تو روپیہ بہتر نتائج دے سکتا ہے۔

  2. سونے کی قیمتوں کا رخ

    • مقامی مارکیٹ میں 24 کیرٹ سونے کی قیمت فی تولا ≈ Rs. 430,662 تک گر گئی ہے، جو گزشتہ دنوں میں ≈ Rs. 9,100 کی کمی تھی۔

    • عالمی سطح پر، ڈالر کے مقابلے میں سونے کی قیمت میں کمی نے مقامی قیمتوں پر اثر ڈالا ہے۔

    • سونا اور کرنسی کا رابطہ گہرا ہے: جب روپیہ کمزور ہے تو سونا مقامی سطح پر مہنگا ہو جاتا ہے، جب روپیہ قدر پاتا ہے یا ڈالر کی قیمت مستحکم ہے تو سونا نسبتاً سستا ہو سکتا ہے۔

  3. گلوبل اور ملکی معاشی عوامل

    • State Bank of Pakistan کی مانیٹری پالیسی، افراط زر کی شرح، اور بیرونی قرضوں کا بوجھ براہِ راست کرنسی اور سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔

    • عالمی صورتحال، مثلاً امریکی سود کی شرح، ڈالر انڈیکس، اور گلوبل سرمایہ کاری کی طلب بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔


اثرات اور چیلنجز

  • جی ڈی پی اور امپورٹ پر بوجھ: روپیہ کمزور ہونے سے امپورٹڈ سامان مہنگا ہو جاتا ہے، خاص طور پر توانائی، خام مال، اور مشینری پر جس سے پیداواری لاگت بڑھتی ہے۔

  • صارفین اور سرمایہ کاروں پر اثر: سونے کی قیمت کا تیزی سے بدلنا شادی بیاہ، زیورات خریدنے والوں، اور سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے عدم استحکام پیدا کرتا ہے۔

  • غربت اور مہنگائی کا دائرہ: افراط زر کے بڑھنے اور کرنسی کی کمزوری کے باعث عام آدمی کی قوت خرید کم ہوتی ہے، جس سے معاشی دشواریاں مزید بڑھتی ہیں۔

  • ادائیگیاں اور قرضہ جات: قرضوں کی ادائیگی خصوصاً بیرونی قرضوں کے لیے مہنگی پڑتی ہے اگر روپیہ کمزور ہو، جو ملکی کریڈٹ رینکنگ پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔


مستقبل کی حکمتِ عملی

  • حکومت اور مرکزی بینک کو چاہیے کہ وہ بیرونی ذخائر کی مضبوطی، کرنسی مارکیٹ کی نگرانی، اور افراط زر کے کنٹرول کے لیے مربوط اقدامات کریں۔

  • سرمایہ کاروں کو مشورہ ہے کہ وہ سونے میں سرمایہ کاری کرتے وقت مارکیٹ کی رد عمل، ڈالر کی قدر، اور لوکل معاشی صورتحال کو مدنظر رکھیں۔

  • صارفین کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ ریاستی بیانات، کرنسی ریٹس، اور سونے کی قیمتوں کا باقاعدہ جائزہ لیں تاکہ اچانک تبدیلیوں سے متاثر نہ ہوں۔

  • معاشی ماہرین کی تجویز ہے کہ کرنسی اور سونے دونوں میں تبدیلیاں وقتی ہو سکتی ہیں—لیکن طویل مدت میں استحکام کے لیے بنیادی معاشی اصولوں کی طرف رجوع ضروری ہے۔

آج کی بڑی خبر: پاکستان میں 27ویں آئینی ترمیم — آرمی چیف کو غیر معمولی اختیارات

 

پاکستان کی سیاست میں بھونچال: آرمی چیف کو اضافی اختیارات اور نئی آئینی عدالت کا قیام

اسلام آباد — پاکستان کی پارلیمنٹ نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے کر ملکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس ترمیم نے طاقت کے توازن، عدلیہ کی خودمختاری اور فوجی اثر و رسوخ پر بڑے سوالات اٹھا دیے ہیں۔


⚡ کیا کیا تبدیلیاں کی گئیں؟ (Super Skimmable)

  • آرمی چیف کو اضافی آئینی اختیارات

  • زندگی بھر قانونی تحفظ کے امکانات

  • نئی وفاقی آئینی عدالت کا قیام

  • سپریم کورٹ کے کچھ اختیارات محدود

  • قانون سازی پر غیر معمولی سیاسی تقسیم


عوام اور ماہرین کیوں پریشان؟

  • ملک میں طاقت کے ارتکاز پر شدید بحث

  • عدلیہ کی آزادی اور اختیار پر سوالات

  • سیاسی جماعتوں میں تحفظات اور احتجاج

  • تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تبدیلی مستقبل کی سیاست کو گہرے طور پر متاثر کرے گی


اگلے 7 دن اہم کیوں ہیں؟

  • نئی آئینی عدالت کی تشکیل

  • اپوزیشن کا ردعمل

  • ممکنہ عدالتی چیلنج

  • حکومتی پالیسیوں میں مزید تبدیلیاں

پاکستان میں جلد متوقع: Suzuki Fronx — تخمینہ شدہ قیمت اور اہم تفصیلات

پاکستانی گاڑیوں کی مارکیٹ میں ایک نئے دور کی شروعات ہونے والی ہے، کیونکہ پاکستان Suzuki Motor Company (PSMC) پہلی مرتبہ اپنی Compact SUV یعنی Suzuki Fronx کو مقامی اسمبل کرکے مارکیٹ میں لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ ماڈل 2026 کی پہلی سہ ماہی میں لانچ ہو سکتا ہے۔


متوقع قیمت اور مارکیٹ کی حکمت عملی

  • PSMC کی جانب سے Fronx کی مقامی اسمبلنگ کا پلان بننے سے امید ہے کہ یہ گاڑی قابلِ استطاعت قیمت پر پیش کی جائے گی۔

  • ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ابتدائی قیمت 6 ملین تا 7 ملین پاکستانی روپے کے درمیان متوقع ہے۔

  • یہ اقدام Suzuki کی طرف سے اس اہم سیکگمنٹ (compact SUV) میں داخلے کی واضح نشانی ہے، جہاں مارکیٹ میں Kia Stonic، Peugeot 2008 اور MG ZS جیسی گاڑیاں پہلے ہی موجود ہیں۔ Student T Card Punjab+1


خارجی ماڈل کی خصوصیات

بین الاقوامی ماڈلز کے تناظر میں، Fronx درج ذیل اہم فیچرز کے ساتھ پیش کی جاتی ہے:

  • ڈیزائن: Coupe نما چھت، بولڈ فرنٹ گریل، LED ہیڈ لائٹس اور 16 انچ الائے وہیلز۔

  • انجن: یہ گاڑی مختلف انجن آپشنز کے ساتھ دستیاب ہے، جیسے کہ 1.0 لیٹر 3-سلنڈر ٹربو انجن یا 1.2 لیٹر Dualjet پیٹرول انجن۔

  • فوئل ایفیشنسی: 1.0 لیٹر ماڈل mild-hybrid ٹیکنالوجی کے ساتھ آتا ہے، جو ایندھن کی بچت میں مدد فراہم کرتا ہے۔

  • ٹرانسمیشن: 5-گیئر مینوئل اور 6-اسپیڈ آٹومیٹک آپشنز دستیاب ہیں۔

  • سکائیڈ سیفٹی اور کمفرٹ: 360 ڈگری کیمرہ، Apple CarPlay اور Android Auto، اور دیگر جدید خصوصیات بین الاقوامی ورژنز میں موجود ہیں۔


پاکستانی مارکیٹ پر اثرات اور چیلنجز

  • Fronx کے مقامی اسیمبلی سے نہ صرف قیمتوں میں کمی کا امکان ہے بلکہ بعد از خریداری پر پرزہ جات اور سروس کی دستیابی بھی بہتر ہو سکتی ہے۔ یہ خصوصیت خاص طور پر ان صارفین کے لیے اہم ہے جو بهرِ ملک ممکنہ طور پر کم قیمت اور معیاری سروس کی تلاش میں ہیں۔

  • دوسری طرف، نئی SUV کے داخلے سے Suzuki کی گاڑیوں کی لائن اپ میں تنوع بڑھے گا اور وہ ہچ بیک یا چھوٹی کاروں سے بڑھ کر جدید SUVs کی مارکیٹ میں اپنا مقام بنا سکتی ہے۔

  • تاہم، Fronx کو چیلنج درپیش ہوگا: مقامی خریداروں کی توقعات، ٹیکس اور درآمدی ڈیوٹی، اور دیگر برانڈز کے مدمقابل ماڈلز کی مضبوط پوزیشن اسے محتاط حکمت عملی اپنانے پر مجبور کر سکتی ہے۔


نتیجہ

Suzuki Fronx کا پاکستان میں متوقع لانچ نہ صرف PSMC کے لیے ایک نیا باب ہے بلکہ ملکی آٹو سیکٹر میں SUV کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ کو بھی عکاس کرتا ہے۔ اگر پیش گوئی کردہ قیمت 6 تا 7 ملین روپے کی حد میں رہے، تو یہ Fronx پاکستانی خریداروں کے لیے ایک پرکشش اور قابلِ قدر انتخاب بن سکتی ہے، خاص طور پر ان کے لیے جو جدید، اسٹائلش اور فیچرائزڈ SUV چاہتے ہیں مگر لاگت اور بعد از خرِیداری دیکھ کر محتاط ہیں۔

برطانوی جریدے کا دعویٰ: عمران خان کے دورِ حکومت میں بشریٰ بی بی کا سرکاری فیصلوں پر اثر و رسوخ

ایک برطانوی جریدے نے اپنی حالیہ رپورٹ میں یہ انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دورِ حکومت میں اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی سرکاری معاملات اور بعض اہم فیصلوں پر نمایاں اثر ڈالتی رہی ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، دی اکانومسٹ نے اس معاملے پر ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی تیسری شادی نے نہ صرف ان کی نجی زندگی بلکہ حکومتی طرزِ فیصلے پر بھی کئی سوالات کو جنم دیا۔ رپورٹ کے مطابق، سابق وزیراعظم کے قریبی حلقے یہ تاثر دیتے ہیں کہ بشریٰ بی بی سرکاری تقرریوں سے لے کر روزمرہ انتظامی امور تک متعدد معاملات میں اپنا اثر استعمال کرتی رہی تھیں، اور یوں حکومتی فیصلوں میں ’’روحانی مشاورت‘‘ کا پہلو بتدریج نمایاں ہوتا گیا۔

رپورٹ کے مصنف، سینئر صحافی اووَن بینیٹ جونز، لکھتے ہیں کہ بشریٰ بی بی کے مبینہ روحانی اثرات عمران خان کے اصلاحاتی ایجنڈے کی راہ میں بھی رکاوٹ بنے۔ بعض مبصرین کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ حساس اداروں سے وابستہ چند افراد مخصوص معلومات براہِ راست بشریٰ بی بی تک پہنچاتے تھے، جنہیں وہ عمران خان کے سامنے گویا اپنی روحانی بصیرت کے طور پر پیش کرتی تھیں۔

جریدے کے مطابق، ان عوامل نے مجموعی حکومتی فیصلہ سازی پر اثر ڈالا اور یوں ریاستی معاملات میں غیر معمولی روحانی اثر و رسوخ سے متعلق شکایات کو مزید تقویت ملی۔

وفاقی آئینی عدالت کے لیے دارالحکومت میں جاری سرگرمیاں، تفصیلات سامنے آ گئیں

وفاقی آئینی عدالت کے لیے دارالحکومت میں سرگرمیاں جاری ہیں، اس حوالے سے تفصیلات سامنے آ گئیں۔

ذرائع کے مطابق وفاقی آئینی عدالت فعال کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کی انتظامیہ متحرک  ہو چکی ہے اور عدالت عالیہ کے تھرڈ فلور پر 4 عدالتیں تیاری کے مراحل میں ہیں۔

اس سلسلے میں ایڈووکیٹ جنرل آفس اور اٹارنی جنرل آفس بھی خالی کروا لیا گیا  ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کی 2 عدالتیں سیکنڈ فلور پر قائم ہوں گی۔

اسی طرح جسٹس محسن اختر کیانی کی کورٹ ٹو خالی کرانے کا سلسلہ  بھی جاری ہے، جس کے بعد جسٹس محسن اختر کیانی ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی عدالت منتقل ہو جائیں گے۔

ذرائع نے بتایا کہ کورٹ ون میں چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان بیٹھیں گے  جب کہ کورٹ ٹو میں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی عدالت کو منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔

اسلام آباد کچہری خودکش حملے کا ایک اور اہم سہولت کار گرفتار

ذرائع کے مطابق اسلام آباد کچہری خودکش حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ایک اور سہولت کار کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ذرائع  نے بتایا کہ گرفتار ملزم نے خودکش حملہ آور کو سہولت فراہم کی تھی۔ انٹیلیجنس اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے اُس درزی کو بھی حراست میں لے لیا ہے جس نے حملے کے لیے تیار کی جانے والی جیکٹ پر کام کیا تھا۔

خودکش جیکٹ پشاور میں تیار کی گئی اور اس کے لیے بارودی مواد بھی وہیں پہنچایا گیا تھا۔ گرفتار سہولت کار جیکٹ کو گڑ کی بوری میں چھپا کر پشاور سے لایا اور 3 دن تک اسے ایک درخت کے نیچے چھپا کر رکھا۔

بعد ازاں کچھ دن تک یہی جیکٹ ایک ٹیلر کے پاس بھی موجود رہی اور ذرائع کے مطابق ٹیلر کو معلوم تھا کہ یہ خودکش حملے میں استعمال ہونے والی جیکٹ ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ مرکزی سہولت کار کی گرفتاری کے بعد اس سے کی جانے والی تفتیش میں مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔ مرکزی سہولت کار نے فتنۃ الخوارج سے رابطوں کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔

امریکی میڈیا نے عالمی سطح پر ہندو انتہا پسندی کی تشہیر کو بے نقاب کردیا

سفاک مودی کی سرپرستی میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس ) عالمی سطح پر انتہا پسندہندوتوا نظریے کے فروغ کیلئے سرگرم ہے۔

غاصب مودی اور آر ایس ایس ریاستی طاقت کے ناجائز  استعمال سے اقلیتوں کے حقوق پامال کرنے میں مصروف عمل ہے۔

امریکی جریدہ پریزم کی تحقیقات کےمطابق آر ایس ایس  نے امریکی لا فرم کے ذریعے امریکی کانگریس پر اثر ڈالنے کیلئے  لابنگ  شروع کر دی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ آرایس ایس بیرون ممالک بالخصوص امریکہ میں لابنگ کیلئے خطیر رقم خرچ کر چکی ہے۔ آر ایس ایس امریکا میں فارن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ کے بغیر لابنگ کرا رہی ہے۔

ایک امریکی صحافی نے انکشاف کیا کہ آر ایس ایس نے خلاف ورزی کرتے ہوئے خود کو غیر ملکی ادارے کے طور پر درج کیے بغیر لابنگ  کی۔ معروف امریکی صحافی ڈاکٹر آڈری ٹرشکے کے مطابق آر ایس ایس کی لابنگ امریکہ کے لیے بری خبر ہےاور  امریکی قوانین کے تحت غیر قانونی ہے۔

ماہرین کے مطابق آر ایس ایس  کی امریکہ میں سرگرمیاں عالمی سطح پر  فاشسٹ تشخص  بدلنے کی کوشش ہیں۔ ہندو توا ایجنڈا کے تحت انتہا پسند مودی سرکار ، بھارت میں مذہبی آزادی کیلئے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔