ذکی بشیر گل احمد کے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر

  • ذکی بشیر نے 2005 میں کمپنی میں شمولیت اختیار کی

    ملک کی سب سے بڑی ٹیکسٹائل ملوں میں سے ایک گل احمد ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ (جی اے ٹی ایم) نے محمد ذکی بشیر کو اپنا چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مقرر کردیا ہے۔

    لسٹڈ کمپنی نے بدھ کو اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے اپنے نوٹس میں اس پیشرفت سے آگاہ کیا۔

    اعلامیہ کے مطابق ہم آپ کو مطلع کرتے ہیں کہ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے کمپنی کے ڈائریکٹر محمد ذکی بشیر کو یکم اپریل 2026 سے کمپنی کا چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مقرر کردیا ہے۔

    گل احمد ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ (جی اے ٹی ایم) کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق ذکی بشیر نے 2005 میں کمپنی میں شمولیت اختیار کی اور بعد ازاں 2008 میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کا حصہ بنے۔ انہوں نے ریجنٹس بزنس اسکول، برطانیہ (یو کے) سے انٹرنیشنل بزنس میں گریجویٹ ڈگری حاصل کر رکھی ہے اور وہ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف کارپوریٹ گورننس (پی آئی سی جی) سے ایک سرٹیفائیڈ ڈائریکٹر بھی ہیں۔

    ذکی بشیر آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن ہیں۔ وہ 2014 سے انٹرپرینیورز آرگنائزیشن کے بھی رکن رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کے ممبر ہیں اور اس کے بورڈ میں بطور ڈائریکٹر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ ینگ پریذیڈنٹ آرگنائزیشن پاکستان کے بھی رکن ہیں۔

میٹا کا انسٹاگرام کے لیے اہم فیچر پر کام جاری

یہ سروس مقامی طور پر تقریباً  1سے 2 ڈالر ماہانہ میں دستیاب ہوگی

ٹیکنالوجی کمپنی میٹا ایک نئی پریمیم سبسکرپشن سروس پر کام کر رہی ہے جو فوٹو شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام کے صارفین کو یہ سہولت دے گی کہ وہ دوسروں کی اسٹوریز کو گمنام طریقے سے دیکھ سکیں۔

انسٹاگرام پلس ممبرشپ کے لیے ابتدائی طور پر صرف میکسیکو، جاپان اور فلپائنز کے صارفین سائن اپ کر سکیں گے۔

یہ سروس مقامی طور پر تقریباً  1سے 2 ڈالر ماہانہ میں دستیاب ہوگی اور اس کے تحت صارفین یہ بھی دیکھ سکیں گے کہ ان کی اسٹوریز کو کتنے لوگوں نے ایک سے زیادہ بار دیکھا۔

ایران کیخلاف 800 فضائی حملوں میں 16 ہزار ہتھیار استعمال کیے، اسرائیلی فوج کا دعویٰ

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے پہلے مہینے میں اس نے 800 سے زائد فضائی حملے کیے، جن میں 2 ہزار سے زیادہ ایرانی فوجی اہلکاروں اور کمانڈرز کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق ان حملوں میں تقریباً 16 ہزار مختلف ہتھیار استعمال کیے گئے، جبکہ 4 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ایران کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے کی گئیں۔

دوسری جانب ایران کے حکام نے ان دعوؤں کے برعکس بتایا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک 1937 افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں 240 خواتین اور 212 بچے بھی شامل ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں شہری علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث جانی نقصان میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ماہرین کے مطابق دونوں جانب سے آنے والے اعداد و شمار میں واضح تضاد پایا جاتا ہے، جس کے باعث زمینی حقائق کا درست اندازہ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث انسانی بحران اور مزید نقصانات کا خدشہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔

شہرکی خبریں شہر میں بادلوں کے ڈیرے برقرار ،آج سے 4 اپریل تک بارش کی پیشگوئی

ز) صوبائی دارالحکومت لاہور میں آج مطلع ابر آلود ہے اور شہر میں بادلوں کا راج برقرار ہے، جبکہ بارش کے امکانات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔

موسمی صورتحال کے مطابق شہر کا موجودہ درجہ حرارت 23 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 31 اور کم سے کم 19 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کی توقع ہے۔ شہر میں ہوائیں 6 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں جبکہ ہوا

محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ آج سے 4 اپریل تک بارش کا امکان موجود ہے، جس کے باعث موسم خوشگوار ہونے کی توقع ہے۔

دوسری جانب فضائی آلودگی کے اعتبار سے لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں آٹھویں نمبر پر آ گیا ہے، جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 129 ریکارڈ کیا گیا ہے، جو صحت کے لیے مضر قرار دیا جاتا ہے۔

قطر کے قریب آئل ٹینکر پر حملے، ایک گولہ نہیں پھٹا، یو کے ایم ٹی او

قطر کے قریب ایک آئل ٹینکر پر حملہ کیا گیا جس میں دو گولے لگے، جن میں سے ایک سے آگ بھڑک اٹھی جو بعد ازاں بجھا دی گئی، جبکہ دوسرا گولہ جہاز کے انجن روم میں بغیر پھٹے موجود ہے۔ برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی کے مطابق یہ واقعہ بدھ کے روز پیش آیا۔

حکام کے مطابق یہ ٹینکر قطر کے صنعتی مرکز راس لفان سے تقریباً 17 ناٹیکل میل شمال میں نشانہ بنا، جس سے جہاز کو پانی کی سطح سے اوپر نقصان پہنچا۔ تاہم عملہ محفوظ رہا اور کسی ماحولیاتی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

یو کے ایم ٹی او نے بتایا کہ حملے کے ذرائع کی تصدیق نہیں ہو سکی اور اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سمندری راستوں کو خطرات لاحق ہیں۔ حالیہ دنوں میں خلیجی پانیوں میں بحری جہازوں کے خلاف متعدد سیکیورٹی واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔

اس سے ایک روز قبل کویت نے بھی بتایا تھا کہ دبئی کے قریب اس کے ایک مکمل طور پر بھرے ہوئے آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خلیج میں جہاز رانی کے لیے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے نہ صرف توانائی کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے بلکہ عالمی تجارت پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

ایک ایسی جگہ جہاں لوگ غائب ہو جاتے ہیں – حقیقت سامنے آ گئی!

ملک کے ایک دور دراز علاقے میں موجود ایک پراسرار مقام کے بارے میں طویل عرصے سے یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ وہاں جانے والے کچھ لوگ اچانک غائب ہو جاتے ہیں۔ مقامی افراد اس جگہ کو خوفناک قرار دیتے تھے اور شام کے بعد وہاں جانے سے گریز کرتے تھے۔

حالیہ دنوں میں اس مقام پر ہونے والے چند واقعات نے حکام کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا، جس کے بعد ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی۔ ٹیم نے کئی دنوں تک اس علاقے کا جائزہ لیا اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مختلف پہلوؤں پر تحقیق کی۔

تحقیقات کے بعد سامنے آنے والی حقیقت نے سب کو حیران کر دیا۔ ماہرین کے مطابق اس جگہ پر زمین کے اندر گہرے اور پوشیدہ گڑھے موجود ہیں جو باہر سے صاف نظر نہیں آتے۔ اندھیرے یا لاپروائی کی وجہ سے لوگ ان گڑھوں میں گر کر لاپتہ ہو جاتے تھے، جسے پراسرار گمشدگی سمجھ لیا جاتا تھا۔

مزید یہ کہ علاقے میں سگنلز کی کمی اور دشوار گزار راستے بھی ریسکیو کارروائیوں میں رکاوٹ بنتے رہے، جس کی وجہ سے متاثرہ افراد تک بروقت پہنچنا ممکن نہیں ہو پاتا تھا۔

حکام نے اب اس علاقے کو سیل کر دیا ہے اور عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر وہاں جانے سے گریز کریں۔ ساتھ ہی حفاظتی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔

یوں ایک طویل عرصے سے گردش کرنے والا یہ راز بالآخر حل ہو گیا، لیکن اس نے لوگوں کو یہ سبق ضرور دیا ہے کہ ہر پراسرار چیز کے پیچھے کوئی نہ کوئی حقیقت ضرور ہوتی ہے۔

شہر کے بیچوں بیچ مل گیا پرانا خزانہ – حقیقت نے سب کو حیران کر دیا!

شہر کے مصروف ترین علاقے میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا جب تعمیراتی کام کے دوران مزدوروں کو زمین کے اندر سے ایک قدیم خزانے کے آثار ملے۔ عینی شاہدین کے مطابق جب کھدائی جاری تھی تو اچانک ایک مضبوط دھاتی صندوق برآمد ہوا جسے کھولنے پر اندر سے پرانے سکے، زیورات اور کچھ نایاب اشیاء نکلیں۔

یہ خبر پھیلتے ہی علاقے میں لوگوں کا ہجوم جمع ہو گیا اور ہر کوئی اس پراسرار خزانے کو دیکھنے کے لیے بے تاب نظر آیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ خزانہ کئی سو سال پرانا معلوم ہوتا ہے، تاہم اس کی اصل تاریخ اور مالیت کا اندازہ لگانے کے لیے ماہرین کو طلب کر لیا گیا ہے۔

محکمہ آثارِ قدیمہ کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر کسی قدیم دور کی نشانی ہو سکتی ہے، اور اس کی مکمل جانچ کے بعد ہی حتمی رائے دی جائے گی۔ حکام نے خزانے کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے تاکہ اسے محفوظ رکھا جا سکے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر اس واقعے نے دھوم مچا دی ہے، جہاں لوگ مختلف قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔ کچھ افراد اسے خوش قسمتی قرار دے رہے ہیں تو کچھ اسے کسی پرانی کہانی سے جوڑ رہے ہیں۔

اب سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آخر یہ خزانہ کس دور کا ہے اور اس کے پیچھے چھپی کہانی کیا ہے۔

اچانک آسمان میں روشنی کا تیز دھماکہ – لوگ حیران رہ گئے!

گزشتہ رات شہر کے مختلف علاقوں میں لوگوں نے آسمان پر ایک عجیب و غریب منظر دیکھا جس نے ہر کسی کو حیرت میں ڈال دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق رات تقریباً 10 بجے اچانک آسمان پر ایک تیز روشنی نمودار ہوئی جو چند سیکنڈز میں زور دار چمک کے ساتھ پھیل گئی۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ روشنی کسی دھماکے جیسی تھی، جبکہ دیگر افراد نے اسے شہابِ ثاقب (میٹیور) قرار دیا۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیوز تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں جن میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ آسمان ایک لمحے کے لیے دن کی طرح روشن ہو گیا۔

ماہرین فلکیات کے مطابق ابتدائی اندازوں میں یہ ایک شہابِ ثاقب ہو سکتا ہے جو زمین کے ماحول میں داخل ہوتے ہی جل کر تیز روشنی پیدا کرتا ہے۔ تاہم، انہوں نے مزید تحقیقات کا عندیہ دیا ہے تاکہ اس واقعے کی مکمل حقیقت سامنے لائی جا سکے۔

دوسری جانب کچھ شہریوں میں خوف و ہراس بھی پایا گیا، اور کئی افراد نے اسے کسی بڑے خطرے کی علامت سمجھا۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں اور صرف مستند معلومات پر یقین کریں۔

یہ واقعہ اب بھی لوگوں کے درمیان بحث کا موضوع بنا ہوا ہے، اور ہر کوئی جاننا چاہتا ہے کہ آخر یہ پراسرار روشنی تھی کیا؟