والد کو نہ جانتی ہوں اور نہ کبھی دیکھا، صاحبہ کا حیران کُن انکشاف

ماضی کی معروف پاکستانی اداکارہ صاحبہ نے انکشاف کیا ہے کہ اُنہوں نے کبھی اپنے سگے والد کو نہیں دیکھا اور نہ ہی کبھی اُن سے ملاقات ہوئی۔

سوشل میڈیا پر اداکارہ صاحبہ کا انٹرویو وائرل ہورہا ہے جو اُنہوں نے سینیئر اداکار ساجد حسن کو دیا تھا، اس انٹرویو میں اُنہوں نے اپنے سگے اور سوتیلے والد کے حوالے سے حیران کُن انکشافات کیے تھے۔

صاحبہ نے کہا کہ “میں نے کبھی اپنے سگے والد کو نہیں دیکھا اور نہ ہی کبھی اُن سے ملاقات ہوئی کیونکہ میری پیدائش سے پہلے ہی میرے والد اور والدہ کے درمیان علیحدگی ہوگئی تھی”۔
اداکارہ نے کہا کہ “میری پیدائش کے بعد بھی والد نے کبھی مجھ سے ملنے کی کوشش نہیں کی، اسی وجہ سے میرے دل میں کبھی اُن کے لیے باپ والے جذبات نہیں آئے”۔

اُنہوں نے کہا کہ “میرا بچپن میرے نانا کے گھر گُزرا کیونکہ والدہ فلموں کی شوٹنگ میں مصروف ہوتی تھیں اور والد نے چھوڑ دیا تھا تو اسی لیے میں اپنے نانا نانی ماموں وغیرہ کے زیادہ قریب تھی”۔

صاحبہ نے کہا کہ “میں جب 10 سال کی ہوئی تو میری والدہ نے دوسری شادی کرلی تھی اور میرے سوتیلے والد نے مجھے اپنی آخری سانس تک پیار دیا، اُنہوں نے سگے باپ سے بڑھ کر مجھے محبت دی”۔

اداکارہ نے کہا کہ “میں اپنی والدہ سے زیادہ سوتیلے باپ کے قریب تھی کیونکہ وہ میرے ساتھ دوستوں کی طرح رہے، میں اپنے دل کی ہر بات اُنہیں بتاتی تھی اور اُنہوں نے کبھی مجھے محسوس ہی نہیں ہونے دیا کہ میں اُن کی سگی بیٹی نہیں ہوں”۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ “میرے سوتیلے والد پیشے سے پائلٹ اور زمیندار تھے اور 5 سال قبل ہی اُن کا انتقال ہوا ہے”۔

غزہ کے لیے پاکستان سے امدادی سامان کی پانچویں کھیپ روانہ

 اسلام آباد: اہل غزہ  کے لیے پاکستان کی جانب سے امدادی سامان کی پانچویں کھیپ روانہ کردی گئی۔

فلسطینیوں کی مدد کے لیے ضروری سامان پر مشتمل کھیپ خصوصی پرواز کے ذریعے نورخان ائربیس سے روانہ کی گئی، جس میں غزہ کی زمینی ضروریات کے مطابق موسم سرما کے لیے گرم خیمے، ترپال اور کمبل شامل ہیں۔

خصوصی پرواز امدادی سامان لے کر مصر کے شہر العریش پہنچے گی، جہاں پاکستانی سفیر امدادی سامان وصول کریں گے۔ امدادی سامان بعد میں تقسیم کے لیے غزہ روانہ کر دیا جائے گا۔امداد روانہ کرنے کے موقع پر این ڈی ایم اے، وزارت خارجہ اور مسلح افواج کے افسران نے نور خان ائربیس پر روانگی کی تقریب میں شرکت کی۔

واضح رہے کہ این ڈی ایم اے کی جانب سے6 فروری کو100 ٹن امدادی سامان کی چھٹی امدادی کھیپ کا بھی انتظام کیا گیا ہے جو کراچی سے مصر کے لیے روانہ ہوگی۔ پاکستان کی جانب سے اب تک غزہ کے مصیبت زدہ عوام کے لیے 5 پروازوں کے ذریعے مجموعی طور پر 230 ٹن امدادی سامان روانہ کیا جا چکا ہے۔ غزہ کے لیے مزید امدادی سامان کا بھی انتظام کیا جا رہا ہے جو بہت جلد پاکستانی عوام کی جانب سے بھیجا جائے گا۔

ٹرک اور پولیس بس میں تصادم، الیکشن ڈیوٹی پر جانے والے 28 پولیس اہلکار زخمی

بونیر کے علاقے باباجی کنڈاؤ میں ٹرک اور پولیس بس میں تصادم ہوا ہے، جس کے نتیجے میں 28 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

پولیس ذرائع کے مطابق بس میں سوار پولیس اہلکاروں کو الیکشن ڈیوٹی کیلئے لے جایا جا رہا تھا۔

تمام زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ڈگر منتقل کردیا گیا ہے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والوں میں بیشتر کی حالت تشویشناک ہے۔

پنجاب کے ایک اور حلقے میں انتخابی عمل منسوخ کردیا گیا

 لاہور: الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب کے ایک اور حلقے میں انتخابی عمل منسوخ کردیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 266 رحیم یار خان میں انتخابی عمل منسوخ کیا گیا ہے۔ آر او کی جانب سے صوبائی حلقے میں امیدوار کے انتقال کی وجہ سے الیکشن مؤخر کیا گیا۔ پی پی 266 میں عام انتخابات کے بعد الیکشن کا شیڈول دوبارہ جاری کیا جائے گا۔

حلقے میں الیکشن لڑنے والے امیدواروں کو کاغذات نامزدگی دوبارہ جمع کروانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

ہماری ترجیح صحت کی سہولتیں ہیں، آصفہ بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور بلاول بھٹو زرداری کی ہمشیرہ آصفہ بھٹو کا کہنا ہے کہ ہماری ترجیح صحت کی سہولتیں ہیں جو آپ کا بنیادی حق ہے۔

صادق آباد میں پیپلز پارٹی کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آصفہ بھٹو نے کہا کہ ہم نے اسپتال قائم کئے جو مفت علاج فراہم کرتے ہیں۔

آصفہ بھٹو نے اعلان کیا کہ جنوبی پنجاب کے ہر ڈسٹرکٹ میں اسپتال بناکر دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ تاریخی سیلاب کے بعد بلاول عوام کے ساتھ کھڑے رہے، سیلاب متاثرین کیلئے سندھ میں 20لاکھ گھر بن رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی آپ کیلئے لڑ رہی ہے باقی کرسی کی سیاست کررہے ہیں۔

بلاول بھٹو نے ضدبازی میں لاہور سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا: عطاء تارڑ

لاہور: (دنیا نیوز) رہنما مسلم لیگ ن عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے ضد بازی میں لاہور سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پارٹی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کا لاہور سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ غلط تھا، ووٹ حاصل کرنے کیلئے محنت کرنا پڑتی ہے، کامیابی عوام کے ساتھ مہم چلانے سے ملتی ہے، بلاول بھٹو الیکشن ہار چکے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم ہر جگہ جلسے کر رہے ہیں اور ہر جگہ موجود ہیں، لاہور میں پیپلزپارٹی کا ووٹ بینک نہیں، پیپلزپارٹی نے ضد میں لاہور سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا، پیپلزپارٹی لاہور میں انتشار پھیلانا چاہتی ہے۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ چیئرمین پیپلزپارٹی لاہور میں الیکشن لڑ کے ووٹ خریدنا چاہتے ہیں، پیپلزپارٹی کے دفتر سے نوٹ گننے والی مشین ملی ہے، انہوں نے 50 سے 60 ہزار ووٹ خریدنے کا پلان بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلاول آپ لاہور میں تیسرے نمبر کے امیدوار ہیں، پیپلز پارٹی پنجاب میں انٹری چاہتی ہے، کسی کو بدمعاشی نہیں کرنے دیں گے۔

عطاء تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ میرا مقابلہ ایک وڈیرے کے ساتھ ہے، بلاول تو چلا جائے گا ہم نے اور ووٹ فروخت کرنے والوں نے تو یہاں ہی رہنا ہے، ووٹ فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

صوبائی الیکشن کمیشن کا جہانگیر ترین سمیت متعدد امیدواروں کیخلاف ایکشن

الیکشن کمشنر پنجاب کا کہنا ہے کہ صوبہ پنجاب میں انتخابی مہم کی مانیٹرنگ کا نظام فعال ہے، ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسران نے خلاف ورزیوں کے واقعات کا نوٹس لیا ہے۔

صوبائی الیکشن کمشنر نے بتایا کہ این اے 155 لودھراں میں جہانگیر ترین کو حلقے میں ترقیاتی کام کروانے پر نوٹس جاری کیا گیا۔

پی پی 188 اوکاڑہ میں ملک غضنفر کو اسلحے کی نمائش پر نوٹس جاری کیا گیا۔

پی پی 208 خانیوال میں محمد طیب کو تشہیری مواد پر وارننگ جاری کی گئی۔

اسی طرح خانیوال کے مختلف حلقوں کے چار امیدواران کو بھی نوٹسز جاری ہوئے۔

بہاولپور کے حلقوں کے نو امیدوران کو بھی نوٹس جاری کئے گئے۔

واضح مینڈیٹ ملا تو بھی مل کر چلیں گے، ادارے مشاورت میں شامل ہیں، شہبا زشریف

مسلم لیگ(ن) نے رہنما شہباز شریف نے مسلم لیگ ن کو واضح مینڈیٹ ملا تو بھی مل کر چلیں گے، ادارے بھی مشاورت میں شامل ہیں۔

شہباز شریف نے اتوار کو لاہور میں طویل اور دھواں دار پریس کانفرنس کی جس کے آخری میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’اگر ایک کلیئر مینڈیٹ عوام دیتے ہیں 8 فروری کو جو کہ مجھ لگ رہا ہے ان جلسوں کے بعد تو یہ اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ہوگی۔ اگر کلیئر مینڈیٹ نہیں آتا تو بیٹھ کر سوچیں گے۔‘

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو ہمالیہ جیسے چیلنجز درپیش ہیں، کوئی ایک جماعت ان سے نہیں نمٹ سکتی، مسلم لیگ(ن) کو واضح مینڈیٹ ملا تو بھی مشاورت سے چلین گے، ادارے بھی مشاورت میں شامل ہیں۔

تاہم پریس کانفرنس میں انہوں نے پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی پر تنقید بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ پیسوں سے ووٹ خریدنا ووٹ کی بدترین توہین ہے، عمران خان کے دور میں پاکستان میں کرپشن بڑھی۔ انہوں نے کہاکہ نواز شریف کے دور میں 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئی اور کرپشن کو ضرب لگی۔

شہباز شریف نے کہا کہ آج کچھ سنجیدہ معاملات پر بات کرناچاہتا ہوں، الیکشن میں عوام بیلٹ باکس کے ذریعے ووٹ سے فیصلہ کریں گے، انتخابی مہم آخری لمحات میں ہے، عوام کے فیصلے کاتعلق پاکستان کے مستقبل سے ہوگا، کروڑوں بچے اور بچیاں الیکشن میں ووٹ ڈالیں گے، نوجوانوں کے مستقبل کافیصلہ آئندہ انتخابات سےہے۔

شہباز شریف نے کہاکہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل رپورٹ کاتعلق بھی مستقبل اورالیکشن سےہے، مسلم لیگ ن نے ہردور میں عوام کی خدمت کی، نوازشریف نے 1997 میں پہلی موٹروے بنائی، نوازشریف نے1997میں26ارب روپے میں موٹروےبنائی، موٹروےبنانے کی وجہ سے نوازشریف پرکرپشن کےالزامات لگے، کوئی بھی نوازشریف پرکرپشن کےالزامات ثابت نہیں کرسکا۔

شہباز شریف نے کہاکہ 2013میں پاکستان کاکرپشن انڈیکس 139 پرپہنچ چکاتھا، 2013 میں نوازشریف نےووٹ کےذریعےحکومت حاصل کی، 2013سے2018تک پاکستان میں سب سےبڑی سرمایہ کاری ہوئی، نوازشریف دورمیں پاکستان میں بجلی کےمنصوبے لگے، سی پیک کوریڈوربنے،پہلی اورنج لائن ٹرین کا آغازہوا، نوازشریف دورمیں کوئلےکی بنیادپربجلی کےمنصوبےلگے، گیس کی بنیادپربجلی کےمزیدمنصوبےبھی لگائےگئے، پاکستان کے اپنےاربوں ڈالرکےوسائل خرچ کیےگئے۔

انہوں نے کہاکہ سرمایہ کاری کےدوران کرپشن بڑھنےکاعام تاثرہوتاہے، پچھلی حکومت کاکرپشن انڈیکس 22پوائنٹس کم ہوکر117پرآیا، جب کہ نوازشریف دورمیں کرپشن کوشدید ضرب لگی۔

پچھلی حکومت بدترین دھاندلی اورجادومنترکےذریعے قائم ہوئی

شہباز شریف نے کہا کہ پچھلی حکومت بدترین دھاندلی اورجادومنترکےذریعے قائم ہوئی، دھاندلی زدہ حکومت نےہم پربدترین کرپشن کےالزامات لگائے،دنیاکےکسی معاشرےمیں کرپشن مکمل طورپرختم نہیں ہوئی، ناروےاورڈنمارک میں بھی کرپشن مکمل طورپرختم نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہاکہ ایک لیڈرکہتاتھاجہاں کرپشن ہووہاں کاحکمران ذمہ دارہوتاہے،جہازوں میں لاکرلوگوں کوحکومت میں شامل کیاگیا، بانی پی ٹی آئی کہتے تھےجہاں کرپشن بڑھتی ہےوہاں چور،ڈاکو ہوتے ہیں،4 سال میں پی ٹی آئی کےدورمیں کرپشن میں اضافہ ہوا، بانی پی ٹی آئی نےایک کروڑنوکریاں دینے کادعویٰ کیا،50لاکھ گھرکادعویٰ کرنےوالوں نےایک اینٹ بھی نہ لگائی، نوکریوں کےبجائےبیروزگاری میں اضافہ کیا گیا۔

شہباز شریف نے کہاکہ پی ٹی آئی دورمیں چینی کی مدمیں اربوں روپےجیب میں ڈالےگئے، ایک رات اچانک کمیشن بنانےکااعلان کیا گیا، آج تک اس کی کمیشن کی رپورٹ سامنے نہیں آئی، گندم ایکسپورٹ کرکےپھرامپورٹ کی گئی۔

انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی دور میں اسپتالوں میں ملنےوالی ادویات بندکردی گئیں، پی ٹی آئی دورمیں پی کےایل آئی کوبربادکردیا گیا، پورےپنجاب میں ہیپاٹائٹس کےمراکزبند کردیے گئے،شہبازشریف عام انتخابات پاکستان کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے لاہور میں ووٹ خریدنے کی کوششوں سے متعلق خبروں کے حوالے سے شہباز شریف نے کہاکہ پیسوں سے ووٹ خریدنا ووٹ کی بدترین توہین ہے، معاشرےمیں ایک زہرگھول دیا گیا ہے، اگلاالیکشن پاکستان کی قسمت کافیصلہ کرے گا۔

عمران خان کے کیسز کے حوالے سے سوال کے جواب میں شہباز شریف نے کہاکہ نوازشریف دورمیں کوئی ایک بھی سیاسی قیدی نہیں تھا، ہم نےاسی روایت کوآگےلےکرچلناہے، جھوٹےمقدمات بنانےکی روایت ختم ہونی چاہئے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ خانہ کعبہ کےماڈل کی گھڑی کوبیچاگیا، اسلام آبادکےدکاندارکی رسیدیں جھوٹی،فراڈثابت ہوئیں، دبئی کےدکاندارنے2ملین ڈالرمیں وہ گھڑی خریدی۔

بلوچستان میں جلسوں اور انتخابی اجتماعات پر پابندی عائد

 کوئٹہ: بلوچستان میں نگراں حکومت نے جلسوں اور انتخابی اجتماعات پر پابندی عائد کردی۔

نگران وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے کوئٹہ میں سیکیورٹی تھریٹ کے حوالے سے ٹوئٹر پر پیغام دیا کہ کوئٹہ میں خاتون خودکش حملہ آور کی موجودگی کا تھریٹ الرٹ موجود ہے۔

جان اچکزئی نے کہا کہ تھرٹ الرٹ کے پیش نظر عوامی جلسوں اور انتخابی اجتماعات پر پابندی عائد کردی گئی۔

جان اچکزئی نے مزید کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں پر زور دیا گیا کہ وہ اپنی میٹنگز گھر کے اندر کریں، حکومت بلوچستان انتخابی مہم کی ضرورت کو تسلیم کرتی ہے لیکن عوامی تحفظ اولین ترجیح ہے۔

دوڑپیچھے کی طرف اے گردش ایام۔۔۔

انسان کو اللہ نے حالات دیکھ کر مستقبل کا تجزیہ کرنے اور پھر اس کے مطابق فیصلہ کرنے کی صلاحیت تو ودیعت کی ہے لیکن اس نے عام انسانوں کو مستقبل دیکھنے کی صلاحیت کبھی نہیں بخشی۔اور جیسے اللہ کے ہرکام میں کوئی نہ کوئی حکمت ہے اسی طرح انسان کو اس صلاحیت سے محروم رکھنے کی بھی بہت بڑی حکمت ہے کہ مستقبل دیکھنے یا اس کو تحریر کرنے کا وصف اللہ کریم کا ہے۔میں عمران خان صاحب اور ان کی بیوی بشریٰ بیگم کے ساتھ جو کچھ بیت رہا ہے اس پرغورکرنے بیٹھوں تو سوچتا ہوں کہ اگر بشریٰ بیگم جانتی ہوتی کہ وزیراعظم کی بیوی بن کر وہ اس حال تک پہنچ جائے گی تو شاید وہ خاورمانیکا کے ساتھ باقی کی زندگی پاکپتن میں ہی گزارنا پسند کرتی۔کیا آپ بھی ایسا سوچتے ہیں؟
یاپھر وہ یہ سب کچھ جانتی تھیں کیونکہ انسا ن کے فیصلوں کی بنیادماضی کے حالات اور تجربات ہوا کرتے ہیں اور پاکستان کی تاریخ یہ پڑھاتی اور سکھاتی ہے کہ اس ملک میں جو بھی وزیراعظم بنے گا تذلیل اس کو جہیزمیں دی جائے گی۔میں اگر وزیراعظم کے عہدے کے ساتھ عزت کسی کے حصے کی تلاش کرتا ہوں تو مجھے صرف ظفراللہ جمالی ہی واحدوزیراعظم ملتے ہیں جن کے خلاف مقدمات نہیں بنے (شاید) باقی تو نوازشریف ہوں ، بے نظیر صاحبہ ہوں،شوکت عزیزہوں،یوسف رضا گیلانی ہوں،راجا پرویز اشرف ہوں۔ شہبازشریف ہوں یا عمران خان صاحب ہوں سب نے مقدمات اور جیلیں دیکھ رکھی ہیں ۔تو اگر یہ کہا جائے کہ بشریٰ بیگم ان حقائق سے بے خبر تھیں تو بات نہیں بنتی۔ ہاں حد سے زیادہ پراعتماد ہونا البتہ الگ بات ہے ۔ویسے تو جیسے خان صاحب پر ایمانداری کا چمکتا پانی چڑھایا گیا ،ان کو نیک پارسا اور ایماندار ثابت کرنے کے لیے دن رات محنت کی گئی ۔عدالتوں سے صادق اور امین کے فیصلے دلوائے گئے ۔ ان کے مقابلے میں باقی ساری سیاسی لاٹ کو کرپٹ پینٹ کیا گیا تاکہ عمران خان صاحب ان کے مقابلے میں دور سے ایماندارنظرآئیں۔لیکن وزیراعظم کے عہدے کے ساتھ پاکستان میں بے ایمانی کے القابات،تذلیل ، مقدمات، عدالتیں اور جیلیں مفت پیکج کی صورت میں ملتی ہیں۔سب سے تکلیف دہ بات یہ کہ ہم ہربار اس تذلیل پرخوشیاں مناتے ہیں۔آج عمران خان کو سزائیں ہورہی ہیں۔ان کے ساتھ ان کی اہلیہ بشریٰ بیگم کو بھی سزائیں ہورہی ہیں۔سوال یہ ہم سب کے لیے موجود کہ کیا بشریٰ بیگم کو یہ سزا اور ان کی تذلیل صرف اس وجہ سے کہ وہ عمران خان کی بیوی ہیں یا پھر ان کے ذاتی اعمال بھی اس میں شامل کہ انہوں نے اقتدار کو اپنی راحت اورطاقت کا ذریعہ بنائے رکھا؟
کسی کا کسی سے کسی بھی وقت ،کسی عمریا جگہ شادی کرنا کوئی جرم نہیں۔شادی اور نکاح نجی عائلی زندگی کے معاملات ان کو زیر بحث لانا بھی اچھی بات نہیں لیکن یہ اصول بحرحال موجود کہ جب کوئی حکمران بنایا جائے تو اس کی نجی زندگی بھی قابل احتساب ہوجاتی ہے۔عمران خان صاحب نے آخری عمر میں بشریٰ بی بی سے شادی کی۔ اس میں ظاہری طوپر کوئی برائی نہیں لیکن اگر انہوں نے یہ شادی کرنے کے لیے ریحام خان صاحبہ کو طلاق دی تو یہ کوئی کارنامہ نہیں بلکہ معاشرتی اور اخلاقی اعتبار سے بالکل اچھی مثال قائم نہیں کی ۔
بشریٰ بی بی اور عمران خان صاحب کے تعلق کی بازگشت پہلی بار دوہزار پندرہ کے اوائل میں سنائی دینے لگی ۔دھرنے کے فوری بعد انہوں نے ریحام خان صاحبہ سے شادی کی اور اس کے کچھ ہی ماہ بعد یہ باتیں ہونے لگیں کہ عمران خان صاحب پاکپتن میں کسی پنکی نامی پیرنی کے پاس حاضری کے لیے اکثر جاتے ہیں۔اور اسی عرصے میں ان کی بشریٰ بیگم (شادی کے وقت تک زیادہ لوگ ان کے اس نام سے واقف نہیںتھے بلکہ لوگ ان کو پنکی کے نام سے ہی جانتے تھے)کے ساتھ قربت گہری ہوتی چلی گئی۔جب یہ قربت بڑھ رہی تھی اور پیرمرید ایک دوسرے کے قریب آرہے تھے اس وقت خان صاحب ریحام خان کے نکاح میں تھے۔اب ایسی کیا قیامت آگئی تھی کہ خان صاحب گھر میں اہلیہ کو چھوڑ کر پاکپتن ایک خاتون مرشد سے سلوک و معرفت کی تلاش میں جایاکرتے تھے؟معلوم نہیں کہ رشتہ کا پیغام خان صاحب نے دیا یا بیگم صاحبہ نے خواہش ظاہر کی کہ وہ اپنے کامل مرید کے ساتھ مستقل جڑنا چاہتی ہیںاور پھر انہوں نے اپنے سابق خاوند کو بھی قائل کیا کہ پانچ بچوں کے بعد وہ اہلیہ کو طلاق دینے پر راضی ہوگیا۔کیا واقعی ریحام خان کو طلاق خان صاحب نے بشریٰ بیگم کے کہنے پر دی ؟ اگر ایسا ہے تو پھر میں کسی طورپر بھی بشریٰ بیگم کو کوئی ولی اللہ ماننے کو تیار نہیں ہوسکتا ۔کیونکہ ولی اللہ تو دنیا کو جوڑتے ہیں۔ وہ اپنے لیے ترک دنیا کرتے ہیں ۔وہ اللہ کے علاوہ کسی دنیا وی عشق ،محبت سے بہت آگے اور اونچے ہوجاتے ہیں۔وہ اپنے مریدین کو صرف اللہ کی مخلوق اور اپنے بچوں کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ان کے سامنے تو دنیا کی دولت ہیچ ہوجاتی ہے۔اس کودنیاوی تحائف سے کیا مطلب رہ جاتا ہے؟یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی انسان ولی ہو ، صوفی ہو ، صاحب طریقت ہو ،صاحب شریعت ہو اور وہ دنیا کے بادشاہوں کے دیے ہوئے تحائف دیکھ کر اپنا ایمان ہی گنوابیٹھے؟ وہ ان دنیاوی تحائف کو پانے کے لیے جعل سازی کرنے پر تیار ہوجائے ؟ ایک ولی اللہ یاپیر کے لیے یہ سب حرام کے زمرے میں آتا ہے اور اپنی ایک شادی کو چھوڑ کر دوسری طلاق کرواکے شادی کرناکسی صوفی اور ولی کا کام ہی نہیں ہے۔اور جو دین جانتا ہے اس کو میرے نبی ﷺ کی یہ حدیث بھی معلوم کہ ’’ابغض الحلال عنداللہ الطلاق‘‘ یعنی حلال کاموں میں اللہ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ کام طلاق ہے۔اور اس کام میں تو ایک نہیں دو دو طلاقیں شامل ہوگئیں؟
میں اگر حالات کا تجزیہ کرتا ہوں تو مجھے عمران خان صاحب کو شک کا مارجن دینے کو ضرور دل کرتا ہے کہ ممکن ہے انہیں اپنے ماضی پرشرمندگی ہوتی ہو اور ان کو یہ لگتا ہوکہ میں نے ساری زندگی مغربی طوراطوار میں گزاردی ہے ۔گناہ کیے ہیں تو سکون کے لیے انہیں بشریٰ بی بی میں کوئی روحانی روح نظر آتی ہولیکن اگر میں بشریٰ بی بی کی طرف سے حالات کاتجزیہ کروں تو کسی صورت بھی ان کی عمران خان سے شادی کو کوئی مذہبی یا روحانی رنگ نہیں دے سکتا۔بشریٰ بی بی صاحبہ کی طرف سے یہ شادی عمران خان صاحب کے مستقبل میں ملنے والے اقتدار میں سانجھ سے سوا کچھ نہیں لگتی ۔
آج بنی گالہ میں قید بطور مجرمہ چودہ سال توشہ خانہ اورسات سال غیرشرعی نکاح کی سزایافتہ بشریٰ بیگم کو جب یہ پتہ چلتا ہوگا کہ اس کی اس طرح اپنی فیملی کو چھوڑ کر آخری عمر میں عمران خان کے ساتھ شادی کی وجہ سے اس کی اپنی بیٹی کو طلاق ہوگئی ہے جیسا کہ خاور مانیکا نے عدالت میں ان کو بتایا تو بشریٰ بی بی کے اندرکی ماں کیا یہ سب سن کر زندہ بچی ہوگی؟جب بشریٰ کو یہ پتہ چلا ہوگا کہ اس کی اس حرکت کی وجہ سے اس کا ایک بیٹا ذہنی توازن کھوبیٹھا ہے اور اس وقت ایک نفسیاتی اسپتال میں زندگی کی طرف واپس لوٹنے کی جدوجہد کررہاہے تو اس کی مامتا پر کیا بیت رہی ہوگی؟ کیا وہ یہ سب محسوس کررہی ہوگی ؟جب ا سکا سابق خاوند اس کے موجودہ خاوند کو بھری عدالت میں یہ کہہ رہا ہوگا کہ تونے میراہنستابستا گھر تباہ کیا ہے تو بشریٰ بی بی کس کی طرفداری کرنا چاہتی ہوگی؟
سوچتا ہوں کہ دنیاوی جاہ وہشم اوراقتدار کی طاقت کیا ایسی ہوتی ہے کہ انسان ہنسی خوشی اپنی تذلیل کا انتخاب کرسکتا ہے؟اگر بشریٰ بیگم نے یہ سب دنیا کے لیے نہیں کیا تو پھر یہ کیا ہے ؟کیا ان کے ساتھ دانستہ کوئی زیادتی تو نہیں کی جارہی ؟یا پھر ان کوعمران خان کی بیوی ہونے کی سزابھگتنی پڑ رہی ے؟میرے اندر یہ سب سوال ہی سوال ہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ اگر وقت کی گردش چھ سال پیچھے چلی جائے تو بشریٰ بیگم شاید وہ فیصلہ نہ کریں جو انہوں نے اپنا خاندان چھوڑکرعمران خان سے شادی کرنے کا کیا اور آج لوگ ان کی ریاضت وولایت پر لطیفہ کناں ہیں ۔یاپھر بشریٰ بیگم آج سزا کے بعد بنی گالا میں بیٹھی یہ سوچ رہی ہوں کہ ۔۔۔
ہاں دکھادے اے تصور پھر وہ صبح وشام تو
دوڑپیچھے کی طرف اے گردش ایام تو

کراچی میں شدید بارش سے فلائٹ آپریشن متاثر

کراچی : (ویب ڈیسک ) کراچی میں شدید بارش کے باعث فلائٹ آپریشن متاثر ہوا ہے ، آج 20 پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد تا گلگت 4 پروازیں پی کے601، 602، 605 اور 606 منسوخ کردی گئی ہیں جبکہ کراچی تا اسلام آباد بھی 4 پروازیں پی کے 300، 301، 308 اور 369 منسوخ کر دی گئی ہیں۔

پی آئی اے کی اسلام آباد تا سکھر 2 پروازیں پی کے 631 اور 632 جبکہ دبئی سے اسلام آباد کی پروازیں پی کے 211 اور 212 بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔

پی آئی اے کی کوئٹہ سے اسلام آباد کے درمیان پرواز پی کے 325 اور 326 جبکہ لاہور سے کوئٹہ کی پرواز پی کے 322 اور 323 بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔

پی آئی اے کی جدہ سے لاہور کی پرواز پی کے 940 ملتان منتقل کر دی گئی جبکہ طیاروں کی عدم دستیابی کے باعث آج پی آئی اے کی 16 پروازیں آپریٹ نہیں ہو سکیں گی۔

علاوہ ازیں نجی ایئرکی دبئی تا اسلام آباد پروازیں پی اے 210 اور 211 اور غیر ملکی ایئر لائن کی دوحہ سے ملتان کی 2 پروازیں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔

بارش کے بعد جناح اسپتال کے آئی سی یو میں شارٹ سرکٹ سے آگ لگ گئی

  کراچی: جناح اسپتال کے آئی سی یو میں بارش کے بعد بجلی کے شارٹ سرکٹ سے آگ لگ گئی. 

ابتدائی تفصیلات کے مطابق بارش کے بعد سے جناح اسپتال کے مختلف وارڈز میں بجلی غائب ہوگئی جبکہ بارش اور اندھیرے کی وجہ سے مریضوں اور طبی عملے کو مشکلات کا سامنا ہے۔

الیکشن مینجمنٹ سسٹم ای ایم ایس بابت چلنے والی نیوز کو گمراہ کن ہیں، الیکشن کمیشن

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مختلف چینلز پر الیکشن مینجمنٹ سسٹم ای ایم ایس بابت چلنے والی نیوز کو گمراہ کن قرار دے دیا۔ 

ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق سسٹم کے کام نہ کرنے، فعال مکمل نہ کرنے کی خبر گمراہ کن ہے، ایسی کسی خبر میں کوئی صداقت نہیں یہ بے بنیاد اور پروپیگنڈہ ہے۔

ترجمان کے مطابق مختلف چینلز کی ای ایم ایس سسٹم بارے خبریں اور ٹکرز درست نہیں ہیں، ای ایم ایس سسٹم متعدد بار چیک ہوچکا،اس کی اہلیت پر کوئی شبہہ نہیں ہے۔