190 ملین پاؤنڈز اسکینڈل؛ چیئرمین پی ٹی آئی کو پیر کو عدالت پیش کرنے کا حکم

اسلام آباد: احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈز اسکینڈل میں چیئرمین پی ٹی آئی کو پیر کے روز عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

190 ملین پاؤنڈز اسکینڈل میں سابق وزیراعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کا تحریری حکم نامہ احتساب عدالت نے جاری کردیا۔ جج محمد بشیر نے 5 صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کیا۔

حکم نامے کے مطابق ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردارمظفر عباسی نے مزید10 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست دی۔ نیب نے بتایا کہ علی ظفر ایڈووکیٹ طلبی پر23 نومبر کو نیب دفتر میں پیش ہوئے اور متعلقہ ریکارڈ نیب کوفراہم کیا۔ انہوں نے24مارچ2021ء کے معاہدے کا ریکارڈ بھی نیب کو فراہم کیا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق نیب حکام نےکہا کہ قومی خزانے کو منتقل ہونے والی رقم سے متعلق تفتیش کرنی ہے، جسے مکمل کرکے کیس کو حتمی نتیجے تک پہنچانے کے لیے مزید ریمانڈ درکارہے۔وکلائے صفائی نے مزید ریمانڈ کی مخالفت کی اور 2 لیٹرز پیش کیے۔ ایک لیٹر6نومبر2019ء کا مشرق بینک سے متعلق ہے۔ وکلا نے کہاکہ چیئرمین پی ٹی آئی کا رقم منتقلی سے کوئی سروکار نہیں۔

احتساب عدالت کے حکم نامے کے مطابق وکلا نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کا240کنال اراضی منتقلی سے بھی کوئی سروکار نہیں ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے 2 کینسر اسپتال بنوائے، تیسراکراچی میں بن رہاہے۔ نیب حکام نےکہاکہ علی ظفر کی جانب سے فراہم کیے گئے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے لیے ریمانڈ ضروری ہے۔ عدالت10کی بجائے4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتی ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کو27نومبر کو دوبارہ عدالت پیش کیاجائے۔

سابق بھارتی کرکٹر پر دھوکا دہی کا مقدمہ درج

سابق فاسٹ بولر ایس سری سانتھ کے خلاف دھوکا دہی کے الزام میں مقدمہ درج کروادیا۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سابق کرکٹر ایس سری سانتھ سمیت 2 دیگر افراد پر کیرالہ کے رہائشی نے دھوکا دہی کا الزام لگایا ہے، جس میں اس نے موقف اپنایا ہے کہ اسپورٹس اکیڈمی میں شراکت کا وعدہ کرکے رقم بٹوری گئی۔

مقدمے میں کیرالہ کے رہائشی ساریگ بالاگوپالن نے بتایا کہ راجیو کمار اور وینکٹیش کنی نے 18 لاکھ روپے سے زائد کی رقم لی اور کہا کہ میرے نام پر ایک ریزورٹ میں عمارت تعمیر کریں گے جبکہ شکایت کنندہ کو اسپورٹس اکیڈمی میں شراکت دار بنانے کا وعدہ بھی کیا گیا، یہ پراجیکٹ سابق کرکٹر ایس سری سانتھ کے ذریعے شروع کیا جانا تھا۔
مزید پڑھیں: بھارت کی سی ٹیم بھی پاکستان کو ہراسکتی ہے، سابق بھارتی کرکٹر کی بڑھک

سری سانتھ اور 2 دیگر افراد نے نہ تو اسپورٹس اکیڈمی کیلئے عمارت کی تعمیر شروع کی اور نہ ہی رقم واپس کی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مقدمہ درج ہونے پر مجسٹریٹ کورٹ نے اس کیس کی سماعت کی اور الزامات کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

دوسری جانب سابق کرکٹر ایس سری سانتھ نے واقعے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرا ان سے کوئی تعلق نہیں تاہم یقین دلاتا ہوں کہ ان افراد کیخلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

چاقو زنی کی وارداتوں کے بعد آئرلینڈ میں ہنگامے پھوٹ پڑے

آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں چاقو زنی کی 2 وارداتوں کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آئرلینڈ کے دارالحکومت میں دو الگ وراداتوں چاقو زنی کی وارداتیں ہوئیں، جس میں تین بچوں سمیت ایک خاتون کو زخمی کردیا گیا۔

حملوں کے بعد مشتعل افراد کی جانب سے ہنگامہ آرائی کی گئی اور ٹرام، بس سمیت متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی جبکہ متعدد دکانیں بھی لوٹ لی گئیں۔
دوسری پولیس نے دونوں واقعات میں مبینہ طور پر ایک ہی شخص کو ملوث قرار دیا، جو زخمی حالت میں اسپتال میں داخل ہے، مبینہ طور پر ملوث ملزم گزشتہ 20 سال سے آئرلینڈ ہی میں مقیم تھا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ فسادات کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں ہے، امن امان کی صورتحال کے پیش نظر علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے جبکہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ٹرینٹی کالج کو بند کردیا گیا ہے۔

پہلی پاکستانی خاتون فائٹر پائلٹ مریم مختیار کی آج 8 ویں برسی منائی جا رہی ہے

لاہور: پاکستان کی پہلی خاتون فائٹر پائلٹ مریم مختیار کی آج 8 ویں برسی منائی جا رہی ہے، پاک وطن کی دلیر بیٹی نے جان کی قربانی دے کر جرأت و بہادری کی تاریخ رقم کی۔

مریم مختیار 18 مئی 1992ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں، انہوں نے انٹرمیڈیٹ کا امتحان آرمی پبلک سکول و کالج ملیر کینٹ سے پاس کیا، مریم نے فٹبال کی بہترین کھلاڑی ہونے کی وجہ سے نیشنل ویمن فٹبال چیمپئن شپ میں بلوچستان یونائیٹڈ کی نمائندگی بھی کی۔

2014ء میں مریم مختیار پاکستان ایئرفورس میں بطور گریجوایٹ شامل ہوئیں، ان کا تعلق پی اے ایف کے 132 ویں جی ڈی پائلٹ کورس سے تھا جس میں 6 دیگر خواتین بھی شامل تھیں، مریم مختیار کا شمار پاک فضائیہ کے جنگجو پائلٹس میں ہوتا تھا۔

24 نومبر 2015 ء کو تربیتی طیارے پر معمول کی پرواز کے دوران میانوالی کے قریب جہاز میں فنی خرابی ہوئی تو بہادر مریم نے جہاز کا رخ غیر آباد علاقے کی طرف موڑ لیا مگر زندگی نے مہلت نہ دی اور انہوں نے دوران ڈیوٹی شہید ہونے والی پاک فضائیہ کی پہلی فائٹر پائلٹ کا اعزاز حاصل کیا۔

شہید پائلٹ مریم مختیار کراچی ملیر کینٹ کے قبرستان میں سپرد خاک ہوئیں، قوم کی نڈر اور دلیر بیٹی کو تمغہ شجاعت سے نوازا گیا۔

صنعتوں کو ضرورت کا پانی مہیا کرنے کیلیے لائحہ عمل بنانے کی ہدایت

کراچی: نگران صوبائی وزیرِ صنعت و تجارت اور ریونیو محمد یونس ڈھاگا نے ہدایت کی ہے کہ صنعتوں کو ان کی ضرورت کا پانی مہیا کرنے کیلیے موثر لائحہ عمل بنایا جائے۔

نگران صوبائی وزیرِ صنعت و تجارت اور ریونیو محمد یونس ڈھاگا نے صوبے کے صنعتی علاقوں میں موجود سہولیات کے بارے میں ایک اہم جائزہ اجلاس کی صدارت سندھ سیکریٹریٹ کراچی میں کی، اجلاس میں سیکریٹری صنعت وتجارت عبدالرشید سولنگی، چیف آپریٹنگ افسر کراچی واٹر اینڈ سیوریج کمپنی اسد اللہ خان و دیگر نے شرکت کی۔

یونس ڈھاگا نے کہا کہ نگران وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایات پر صوبے میں صنعتوں سے وابستہ امور کے حل کیلیے قائم کردہ اس کوارڈینیشن کمیٹی پر مبنی فورم کا آج یہ پہلا اجلاس بلایا گیا ہے تاکہ صنعتکاروں کے مسائل کو سناجائے اور ان کی تجاویز و آرا کی روشنی میں ان مسائل کے حل کیلیے موثر اقدامات کیے جائیں۔

سیکریٹری انڈسٹریز سندھ عبدالرشید سولنگی نے سندھ حکومت کی جانب سے صنعتی زونز میں حکومت کی جانب سے کیے جانیوالے اقدامات کے بارے میں تفصیل سے بریف کیا۔

اجلاس میں بیشتر صنعتی زونز کے نمائندگان نے صنعتی علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی، انفرااسٹرکچر کی بہتری، ناجائز تجاوزات ہٹانے اور بلاتعطل بجلی اور گیس کی فراہمی کیلیے زور دیا۔

کراچی واٹر اینڈ سیوریج کمپنی کے چیف آپریٹنگ آفیسر نے کہاکہ جن کمپنیوں کے کنکشن متاثر ہوئے ہیں ان کے مسئلے کے حل کیلیے کے ڈبلیو ایس سی کا فوکل پرسن موقع پر تعینات کیا گیا ہے جس سے رابطہ کرکے مسئلہ حل کرایا جاسکتا ہے۔

یونس ڈھاگا نے کے ڈبلیو ایس سی کو ہدایت کی کہ صنعتوں کو ان کی ضرورت کا پانی مہیا کرنے کیلیے موثر لائحہ عمل بنایا جائے، انھوں نے ہدایت کی کہ کراچی کے تمام صنعتی زونز میں پانی کی فراہمی کیلیے کے ڈبلیو ایس سی ہر ایک زون کیلیے اپنا فوکل پرسن مقرر کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کرے۔

صنعتکاروں کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ کے ڈبلیو ایس سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں اسٹیک ہولڈرز کے نمائندوں کو شامل کیا جائے، صنعتکاروں کے نمائندوں نے کہا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے گیس پریشر اچانک کم ہوجانے کے سبب صنعتی عمل بری طرح متاثر ہوتا ہے۔

یونس ڈھاگا نے سوئی سدرن گیس کمپنی کے افسران کو ہدایت کی کہ تمام صنعتی زونز میں گیس پریشر کی کمی سے مناسب مانیٹرنگ سسٹم کے زریعے صنعتوں کو قبل ازوقت آگاہ کیا جائے۔

سلمان خان کی پھٹے ہوئے پُرانے جوتے پہن کر تقریب میں شرکت، مداح حیران

بالی ووڈ کے دبنگ اسٹار اور جاسوس ایجنٹ سلمان خان نے پھٹے ہوئے جوتے پہن کر تقریب میں شرکت کی جس کی تصویر سوشل میڈیا پر زیرِ گردش ہے۔

سلمان خان اپنی حال ہی میں ریلیز ہونے والی میگا تھرلر ایکشن فلم “ٹائیگر 3″ کی شاندار کامیابی پر کافی خوش ہیں کیونکہ اُن کی اس فلم نے مجموعی طور پر 400 کروڑ سے زیادہ کا بزنس کرلیا ہے۔

“ٹائیگر 3″ کی ریلیز کے بعد سلمان خان کو اُن کی بھانجی علیزے اگنی ہوتری کی ڈیبیو فلم ’فرّے‘ کے پریمیئر کی تقریب میں دیکھا گیا ہے، یہ تقریب 22 نومبر بدھ کی رات منعقد کی گئی تھی۔

اس تقریب کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں سلمان خان کو “ٹائیگر 3″ کی اپنی ساتھی اداکارہ کترینہ کیف اور ایک دوسری خاتون کے ساتھ بینچ پر بیٹھے دیکھا جاسکتا ہے۔

سلمان خان نے تقریب میں سیاہ پینٹ اور شرٹ زیب تن کی جس کے ساتھ اُنہوں نے سیاہ چمڑے کے جوتے پہن رکھے تھے، جوتوں کے آگے سے چمڑا اُکھڑیا ہوا تھا اور ایک طرف سے جوتے پھٹے ہوئے تھے۔

یہ تصویر جیسے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو سلمان خان کے پُرانے اور پھٹے ہوئے جوتے مداحوں کی توجہ کا مرکز بن گئے جبکہ دبنگ اسٹار کے یہ جوتے پہننے کی اصل وجہ سامنے نہیں آسکی۔

سلمان خان کے پُرانے اور پھٹے ہوئے جوتوں پر مداحوں کا ردعمل:

واضح رہے کہ “ٹائیگر 3″ کو رواں ماہ دیوالی کے موقع پر ریلیز کیا گیا تھا، فلم تین زبانوں ہندی، تامل اور تیلگو میں ریلیز ہوئی۔

فلم میں جہاں سلمان خان نے جاسوس ایجنٹ کا کردار ادا کیا ہے تو وہیں کترینہ کیف بھی زویا نامی جاسوس کے کردار میں نظر آئیں جبکہ عمران ہاشمی نے فلم میں وِلن کا کردار نبھایا ہے۔

اسموگ کا راج؛ باغوں کا شہر فضائی آلودگی میں ایک بار پھر پہلے نمبر پر

لاہور: باغوں کے شہر میں حکومتی اقدامات کے باوجود اسموگ کا راج قائم ہے، جس کے نتیجے میں جمعہ کے روز لاہور دنیا میں فضائی آلودگی کے اعتبار سے ایک بار پھر پہلے نمبر پر آگیا۔

صوبائی دارالحکومت میں ائرکوالٹی انڈیکس 356 ریکارڈ کیا گیا۔ فیز 8-ڈی ایچ اے میں 457 ، لاہور امریکن سکول 356،کینٹ پولو گراؤنڈ 488، ایچیسن کالج 389، شاہراہ قائداعظم 545 ،جوہر ٹاؤن 308 ریکارڈ ہوا۔

شہر میں درجہ حرارت کم ہونے کے باعث سردی بڑھ رہی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق کم سے کم 14 اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت آج 26 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ ہونے کا امکان ہے جب کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بارش کا کوئی امکان نہیں۔

دوسری جانب نگراں حکومت پنجاب نے اسموگ کے تدارک کے لیے صوبے کے 6 ڈویژنز میں جمعہ ہفتہ کو چھٹی کا باضابطہ نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا ہے۔ 6ڈویژنز میں لاہور ،فیصل آباد، گجرانوالہ،ساہیوال ،سرگودھا اور ملتان شامل ہیں ۔ اس دوران مارکیٹیں و دکانیں جمعہ ہفتہ کو 3 بجے کے بعد کھلیں گی۔

دریں اثنا لاہور ہائی کورٹ میں اسموگ پر قابو پانے کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے جوہر ٹاؤن میں کیفے رات 10 بجے بند کرنے کا حکم دے دیا ۔ جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ ویک اینڈ پر رات 11 بجے تک کیفے کھولنے کی اجازت ہے، اگر کوئی خلاف ورزی کرتا ہوا پایا گیا تو اسے سیل کردیا جائے گا۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 4 دسمبر تک ملتوی کردی ۔ عدالت نے مختلف محکموں سے ماحولیات پر کارکردگی رپورٹس طلب کر رکھیں ہیں، جس پر آج مختلف محکموں کی جانب سے کارکردگی رپورٹس عدالت میں پیش کی گئیں۔

14 ہزار فلسطینیوں کی شہادت کے بعد غزہ میں 4 روزہ جنگ بندی کا آغاز ہوگیا

دوحہ: حماس کے خلاف آپریشن کے نام پر 7 ہفتوں تک لڑائی میں 14 ہزار سے زائد فلسطینیوں کے قتلِ عام کے بعد اسرائیل نے جنگ بندی پر اتفاق کرلیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان 4 روزہ عارضی جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی جیلوں میں قید 150 فلسطینیوں کو رہا کیا جائے گا جبکہ مزاحمتی تنظیم 50 صہیونیوں کو رہا کرے گی۔

رپورٹس کے مطابق حماس اور اسرائیل کے مابین غزہ میں چار روزہ جنگ بندی کا آغاز جمعہ کی صبح 7 بجے سے شروع ہوا۔

گزشتہ روز قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے دوحہ میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ چار روزہ عارضی جنگ بندی جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق صبح 10 بجے) شروع ہوگی۔

اسی روز شام کو 4 بجے حماس کی قید سے 13 سویلین صیہونی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں جبکہ امدادی ٹرک رفح کراسنگ سے غزہ میں داخل ہوں گے۔

معاہدے کے تحت صیہونی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے اسرائیل کی جیلوں میں قید فلسطینی اسیران کو بھی رہا کیا جائے گا۔ قطری وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ دوحہ میں ایک آپریشن روم جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کی نگرانی کرے گا۔

قطری حکام اسرائیل، دوحہ میں حماس کے سیاسی دفتر اور انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے ساتھ براہ راست رابطے میں رہیں گے۔ جنگ بندی معاہدے کے ثالث کاروں میں قطر کے ساتھ مصر بھی شامل ہے۔

دوسری جانب الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی آرمی ریڈیو کا کہنا ہے کہ حماس کی قید سے 13 یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے جمعہ کو 39 فلسطینی قیدیوں کی رہائی متوقع ہے۔

ادھر حماس نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے سے نافذ العمل ہوگی جو چار دن تک جاری رہے گی۔ جنگ بندی کے دوران فریقین تمام فوجی سرگرمیاں روک دیں گے۔

حماس کے مطابق جنگ بندی کے دوران اسرائیلی طیاروں کی جنوبی غزہ میں پروازوں پر مکمل پابندی ہوگی جبکہ غزہ سٹی اور شمالی غزہ پر روزانہ چھ گھنٹے صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک اسرائیلی طیارے پرواز نہیں کریں گے۔

حماس کا کہنا ہے کہ ہر اسرائیلی قیدی کے بدلے تین فلسطینی قیدی خواتین اور بچوں کو رہا کیا جائے گا۔ حماس چار دنوں میں 50 اسرائیلی قیدی خواتین اور بچوں کو رہا کرے گی۔

حماس کے مطابق غزہ میں روزانہ 200 امدادی ٹرکوں کو جانے کی اجازت دی جائے گی جس میں “کھانا پکانے والی گیس” سمیت ایندھن کے چار ٹرک شامل ہوں گے۔

بلاول کو روکوں گا تو مسئلے ہوں گے، ہم اپنی گیم لگائیں گے، آصف زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین اور سابق صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ کہ مجھے یقین ہے الیکشن 8 فروری کو ہی ہوں گے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری انتخابی مہم شروع ہے، انتخابی مہم سیاسی جماعتوں کیلئے صحت مند ہوتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ بلاول سب کو بابے کہہ رہے ہیں، صرف مجھے نہیں کہہ رہے۔

انہوں نے کہا کہ نئی پود کی سوچ ہے، ہر گھر کی سوچ ہے کہ ”بابا آپ کو کچھ نہیں آتا“۔

آصف زرداری نے کہا کہ پارٹی کے امیدواروں کو ٹکٹ میں دیتا ہوں، ہم نے تلوار کو گندے انڈوں سے بچایا ہوا ہے، گندے انڈوں نے تلوار لینے کی کوشش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ آج کی نئی نسل کی اپنی سوچ ہے، انہیں سوچ کے اظہار کا حق ہے، میں کسی کو کیوں روکوں، روکوں گا تو اور مسئلے ہوں گے، بلاول کہے گا ’آپ سیاست کرو، میں سیاست نہیں کروں گا‘، تو میں کیا کروں گا؟

سابق صدر نے بلاول بھٹو کو زیر تربیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’بلاول ابھی مکمل ٹرین نہیں ہوا، پڑھا لکھا ہے اچھا بولتا ہے، لیکن تجربہ تجربہ ہوتا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں سیکھتے سیکھتے، سیکھتے ہیں ،مجھ سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں۔

سابق صدر نے کہا کہ میں نے کبھی انتقامی سیاست نہیں کی، میرے دور میں ایک بھی سیاسی قیدی نہیں تھا، میرے خلاف نئے الزامات لگتے تھے، میں نے کبھی جواب نہیں دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ پولیس اسٹیشن نہیں ہے کہ ”گُڈ کاپ بیڈ کاپ“ کھیلا جائے

آصف علی زرداری نے کہا کہ میاں صاحب سے سب ڈرتے ہیں ان سے بات نہیں کرتے، میرے سامنے سب بات کرتے ہیں، پارٹی کا ایک منشور ہے، گلے سے پکڑتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ عدم اعتماد واپس لے لیتے تو پاکستان کے حالات بہتر نہیں بدتر ہوتے، نہ ایکسپورٹ تھی، نہ زرمبادلہ، نہ دوست تھے جو مدد کرسکتے، ہم ہر چیز میں ڈیفالٹ کرچکے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئی پارٹی 172 کی اکثریت نہیں لے سکتی، اکثریت ن لیگ، نہ مولانا، نہ کوئی اور نہ ہم پیپلز پارٹی لےسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضروری نہیں کہ ن لیگ لیڈ کرے، دوسری جماعتیں اور شخصیات بھی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں چاہیے ہمیں موقع دیں، اب ہم اپنے لیے گیم لگائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سیاست میری مجبوری ہے، ضرورت نہیں، سیاست ضرورت اس لئے ہے کہ بی بی اور کارکنوں نے شہادتیں دیں جو ہم پرقرض ہے، جمہوریت تو کافی عرصے سے کمزور ہورہی ہے۔

آصف زرداری نے کہا کہ پارلیمنٹ کو اختیارات دینا دوست کو سمجھ نہیں آیا، انہوں نے میری چھٹی کرادی۔ ’ہم نے اداروں کو پہلے بھی مضبوط کیا ہے اور ہم اب بھی الیکشن کمiشن کو مضبوط کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے خلاف ہمیشہ اتحاد بنتے ہیں، فنکشنل لیگ نے ہمارے خلاف الائنس بنائے، ایم کیو ایم پہلے بھی ساتھ نہیں تھی اب بھی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہتر ہے اس نہج پر چلیں کہ آگے بھی چل سکیں، پیپلز پارٹی اس الیکشن میں اچھا خاصہ سرپرائز دے گی۔

’عمران خان کو نہ نکالتے تو وہ ایک فوجی کے ذریعے آر او الیکشن کروا کے 2028 تک حکومت بنا لیتے‘

آصف زرداری نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت سے پاکستان کو نقصان تھا، چیئرمین پی ٹی آئی پاکستان اور دنیا میں تنہائی کا شکار ہوگیا تھا، میرے خیال میں وہی معیشت کا دشمن ہے، اس نے خانہ خراب کیا۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ’ہم پی ٹی آئی کے خلاف نہیں بلکہ ہم تو صرف ایک شخص کے خلاف ہیں۔‘

سابق صدر کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کو نہ نکالتے تو وہ ایک فوجی کے ذریعے آر او الیکشن کروا کے 2028 تک حکومت بنالیتے، پھر ایک کلو دودھ کے لیے ٹرک بھر کر پیسے لے جانے پڑتے۔‘

پی ٹی آئی حکومت مائنس زرداری پیپلز پارٹی چاہتے تھی، آصف زرداری

انہوں نے کہا کہ عمران حکومت ”مائنس زرداری“ پیپلز پارٹی چاہتی تھی، مجھے ملک سے باہر جانے کا کہا گیا اور کہا گیا کہ باقی پیپلز پارٹی 6 وزارتوں کے بدلے پی ٹی آئی سے مل کر الیکشن لڑے۔

آصف زرداری نے کہا کہ میرے ورکرز مجھ پر بہت اعتماد کرتے ہیں، اگر میں خود بھاگ جاتا تو ورکرز کو کیا کہتا۔

فلسطین اور کشمیر ہماری شہ رگ

فلسطین اور اسرائیل کے معاملے پر پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں سابق صدر کا کہنا تھا کہ ’فلسطین کے معاملے پر میں پہلا سیاستدان تھا جس نے اس چڑھائی کی مذمت کی اور اب بھی کرتا ہوں، جیسے کشمیر ہماری شہ رگ ہے ویسے ہی فلسطین بھی ہے، فلسطین کے بغیر مُسلم دُنیا نا مکمل ہے۔‘

اُن کا مزید کہنا تھا ’جنگیں اور قبضے کبھی بھی خطے میں امن نہیں لا سکتے، فلسطینی لوگ کبھی بھی اس سب کو تسلیم نہیں کریں گے اور جو اسرائیل اس سب کے بعد معاشی استحکام چاہتا ہے وہ ایسے کبھی بھی اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے گا۔‘

توشہ خانہ اور مقدمات

توشہ خانہ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں سابق صدر کا کہنا تھا کہ ’میری جن دو بم پروف گاڑیوں سے متعلق بات ہوتی ہے، تو اُن کے بارے میں کہہ دیتا ہوں کے میں ایک گاڑی مجھے یو اے ای اور دوسری مجھے کرنا قدافی نے دی، اور ان دونوں گاڑیوں کو میں نے ڈھائی ڈھائی کروڑ کی ادائیگی کر کے لی۔‘

مقدمات کا سوال ہوا تو سابق صدر کا کہنا تھا کہ ’میرے پر ہونے والے کیسز ابھی ختم نہیں ہوئے جو کیسز ختم ہوئے وہ میرے 14 سال پرانے کیس تھے، عمران خان کی مہربانی والے کیس ختم نہیں ہوئے، مجھ پر نئے کیس نواز شریف نے نہیں عمران خان نے بنائے تھے۔‘

آصفہ اور الیکشن، کاروبار اور انتخابات کی تاریخ

آصف زرداری نے کہا کہ ’اقتدار ملا تو وزیر خزانہ پارٹی کے اندر سے آئے گا۔‘

اپنی صاحبزادی کا ذکر کرتے انہوں نے ہوئے کہا کہ ’آصفہ بھٹو جہاں سے الیکشن لڑنا چاہے لڑے، وہ بہت مضبوط اُمیدوار ہے، آصفہ اپنی ماں کی طرح غصے میں تیز ہے، اُن کے غصے سے ڈر نہیں لگتا پیار آتا ہے۔‘

سابق صدر کا کہنا تھا کہ ’زمینداری میری کمزوری ہے اور کاروبار میرا کنسٹرکشن کا ہے۔‘

سیاسی جماعتوں کے انتخابات کے حوالے سے پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں سابق صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنی پارٹی کے الیکشن پر بات کر سکتے ہیں، دوسری پارٹی کے الیکشن پر نہیں۔‘

مُلک میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ’آئندہ الیکشن کے نتیجے میں مخلوط حکومت بنے گی، مجھے یقین ہے کہ الیکشن 8 فروری کو ہوں گے، اسی لیے ہماری انتخابی مہم شروع ہے۔‘

فرحت اللہ بابر مستعفی

انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئندہ الیکشن کے نتیجے میں مخلوط حکومت بنے گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ فرحت اللہ بابر نے سیکرٹری جنرل کےعہدے سے استعفا دے دیا ہے۔

آصف زرداری نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے، عمر ہے، اس لئے استعفا دیا، لیکن فرحت اللہ بابر پارٹی میں رہیں گے اور کسی اور حیثیت سے کام کریں گے۔

عام انتخابات میں پاک فوج کی خدمات حاصل کی جائیں گی، الیکشن کمیشن

 اسلام آباد: چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیرصدارت آئندہ عام انتخابات سے متعلق اجلاس میں ضابطہ اخلاق کی منظوری دے دی  گئی، اجلاس میں بتایا گیا کہ حتمی حلقہ بندیوں کی فہرست 30 نومبر کو شائع کر دی جائے گی اور انتخابات میں پاک فوج کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ 

اجلاس میں بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن انتخابات کےلیے تیار ہے۔ابتدائی حلقہ بندیوں پرتمام عذرداریوں پرالیکشن کمیشن نے سماعت مکمل کرلی ہے جبکہ مزید حتمی انتخابی فہرستوں کی پرنٹنگ نادرا میں جاری ہے۔ان کی ترسیل الیکشن پروگرام تک یقینی بنائی جائے گی۔

الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں پاک فوج کی خدمات لی جائیں اور عوام کو حق رائے دہی کے استعمال کےلیے مکمل سیکیورٹی دی جائے۔

اجلاس میں  مزید بتایا گیا کہ ضابطہ اخلاق کا باضابطہ نوٹیفکیشن آئندہ چند روزمیں جاری کر دیا جائے گا۔ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسروں، ریٹرننگ افسروں اورپولنگ اسٹاف کی تربیت کا پلان تیار ہے اورمذکورہ بالا انتخابی آفیشلزکی بروقت ٹریننگ کویقینی بنایاجائے گا۔ بیلٹ پیپرزکی طباعت کے لیے ضروری انتظامات اورالیکشن میٹریل کی خریداری بھی مکمل کرلی گئی ہے۔

اجلاس میں انتخابات سے متعلق اب تک کے انتظامات پراطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا گیا کہ انتخابی فہرستوں کی ریٹرننگ افسروں تک ترسیل کامکمل میکنزم بنایا جائے تاکہ ریٹرننگ افسروں کوبروقت انتخابی فہرستوں کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

الیکشن کمیشن نے  کہا کہ پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے صوبائی حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی تعیناتی سے متعلق ایک ہفتہ کے اندر مکمل تفصیلات لی جائیں اورپولیس کی کمی پوری کرنے کےلیے بروقت متبادل انتظام کو یقینی بنایا جائے۔

فرحت اللہ بابر پیپلز پارٹی پارلمینٹیرینز کے سیکرٹری جنرل کےعہدے سے مستعفی

فرحت اللہ بابر پیپلزپارٹی پارلمینٹیرینز کے سیکرٹری جنرل کےعہدے سے مستعفی ہوگئے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کو بڑا دھچکا پہنچا ہے، سینئر پی پی رہنما اور پارٹی کے سیکرٹری جنرل فرحت اللہ بابر کا آصف زرداری کے انٹرویو کے بعد استعفیٰ سامنے آ گیا۔

فرحت اللہ بابر کے دستخط سے ہی پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو الیکشن کے لیے ٹکٹ جاری ہونا تھے۔

فرحت اللہ بابر پیپلزپارٹی میں صدر ہیومن رائٹس سیل کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔

فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ ہیومن رائٹس سیل پر توجہ دوں گا۔

ذاتی مقاصد کے لیے مایوسی پیدا کرنے والوں کو عوامی حمایت سے شکست دی جائے گی، پاک فوج

 راولپنڈی: چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر کی زیر صدارت فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ذاتی مقاصد کیلیے ملک میں مایوسی پھیلانے والوں کو عوامی حمایت سے شکست دی جائے گی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی زیر صدارت جی ایچ کیو میں 82ویں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں شرکا نے مسلح افواج کے افسران اور جوانوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاکستانی شہریوں سمیت شہدا کی عظیم قربانیوں کو زبردست خراج تحسین کیا۔

’پاکستان کو غیر مستحکم کرنے والے دہشت گردوں سے ریاست مکمل طاقت سے نمٹے گی‘

فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کے شرکا نے کہا کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دشمن قوتوں کے اشاروں پر کام کرنے والے تمام دہشت گردوں، سہولت کاروں اور حوصلہ افزائی کرنے والے عناصر سے ریاست مکمل طاقت کے ساتھ نمٹے گی“۔

فورم کا مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر اظہار مذمت

فورم نے بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں عوام پر جاری جبر و استبداد پر تشویش کا اظہار اور بھارتی فورسز کی طرف سے انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

فورم نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ مسئلہ کشمیر کا  دائمی حل صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دینے میں ہے۔

’فلسطینیوں کی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے‘

آئی ایس پی آر کے مطابق فارمیشن کمانڈرز نے پاکستان کی جانب سے فلسطینی عوام کی مکمل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی  حمایت کا عزم دہرایا اور مسئلہ فلسطین کے معاملے پر پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا کہ ”پاکستان فلسطین کے مسئلے پر دو ریاستی حل، جس کی بنیاد 1967 سے قبل کی سرحدوں پر ہے اورجس کا دارالحکومت القدس شریف ہے کی مکمل حمایت کرتا ہے“۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس کے شرکا نے کہا کہ ”ملک کو درپیش چیلنجز کے باوجود گزشتہ کچھ مہینوں میں پاکستان میں اضطراب اور غیر یقینی صورتحال میں کمی، جبکہ امید، اعتماد اور استحکام میں اضافہ نظر آیا ہے۔”

فورم نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ ”انشاء اللہ ذاتی مقاصد کے حصول کی خاطر مایوسی پیدا کرنے  والے مخصوص عناصر کی کوششوں کو ثابت قدمی اور جاری شدہ مثبت اقدامات کے  تسلسل کے ذریعے پاکستانی عوام کی مکمل حمایت کے ساتھ شکست دی جائے گی۔“

فارمیشن کمانڈرز نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ ”پاک فوج پائیدار استحکام اور سلامتی کے سفر میں قوم کا دفاع اور خدمت جاری رکھے گی، غیور پاکستانی عوام پرعزم اور متحد رہیں‘‘۔

برطانیہ 110 برس میں قدرتی آفات کے ہاتھوں دیوالیہ ہوجائے گا، تحقیق

لندن: ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ برطانیہ 110 برس کے اندر قدرتی آفات کے ہاتھوں دیوالیہ ہوجائے گا۔

ماحولیاتی نگرانی اور ڈیٹا منیجمنٹ  کمپنی کِسٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق ان آفات کے سبب ہونے والے مالی نقصانات کی سالانہ نمو 11.2 فی صد کے قریب ہے۔ جس کی بڑی وجہ موسمیاتی تغیر کے سبب شدت اختیار کرتا موسم ہے۔

برطانیہ کی جی ڈی پی کی موجودہ شرح نمو 4.1 فی صد ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو قدرتی آفات کے سبب ہونے والا نقصان 2134 تک حکومت کی آمدن سے بڑھ جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق اس معاملے میں برطانیہ کے لیے سیلاب سب سے مہنگی قدرتی آفت ثابت ہوگی اور صرف اس آفت کے سبب آئندہ دہائی میں 42.54 ارب ڈالرز کا نقصان ہوگا۔ جبکہ گزشتہ دہائی یعنی 2010 سے 2019 کے درمیان برطانیہ کو تقریباً 7.91 ارب ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

گروس ڈومیسٹک پروڈکشن (جی ڈی پی) تمام کمپنیوں، حکومتوں اور افراد کی سرگرمیوں کا تخمینہ ہوتا ہے جس کا استعمال ملکی معیشت کے اچھا یا برا ہونے کے متعلق جاننے کے لیے کیا جاتا ہے۔

کسٹرز سے تعلق رکھنے والے سینئر ماہر موسمیات ژوہان جیک کا کہنا تھا کہ خطرناک حد تک تیزی کے ساتھ بڑھنے والے موسمیاتی تغیر کے ساتھ اس تحقیق کے نتائج انتہائی تشویش ناک ہیں لیکن یہ مکمل طور پرغیر متوقع نہیں ہیں۔