ترسیلات زر سے زیادہ دیر تک ملکی معیشت کے معاملات نہیں چل سکتے، شوکت ترین

وزیر اعظم مشیر خزانہ شوکت ترین نے ترسیلات زر کی مد میں کہا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کی مہربانی ہے جن کی ترسیلات زر کی وجہ سے کئی معاشی مشکلات سے بچے ہوئے ہیں لیکن ایسا زیادہ تر نہیں چل سکے گا۔

کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ آج سے 25 سال پہلے جو فرق 25 فیصد تھا جب اب وقت کے ساتھ ضرب ہورہا ہے۔

علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ہم نے ملکی معیشت میں ہر 5-4 برس بعد عدم استحکام کے حقائق جاننے کے لیے ایک پینل تشکیل دیا جس نے اپنی تجاویز میں بتایا کہ ملک کا پہلا مسئلہ سیونگ ریٹس کا ہے، اتنی بچت نہیں ہوتی جس کی بنیاد پر سرمایہ کاری ہو اور ایسی صورت میں جب سرمایہ کاری ہوگی تو قرض کی بنیاد پر ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پنیل نے اپنی تجاویز میں بتایا کہ ملک کی درآمد اور برآمدات کے حجم میں بہت فرق ہے، ایکسپورٹ جی ڈی پی کی محض 8 سے 9 فیصد ہے جبکہ ایمپورٹ 22 فیصد سے زائد ہے۔

مشیر خزانہ نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ترسیلات زر کی وجہ سے ملکی معیشت کئی مسائل سے بچی ہوئی ہے لیکن یہ معاملہ دیر تک برقرار نہیں رہےگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ معاشی ترقی کا گراف پائیدار بنیادوں پر ہو، ایسا نہ ہو کہ محض چند سال بعد دوبارہ ترقی کے معیارات تنزلی کا شکار ہوں۔

ہم اب بھی موسمیاتی تباہی کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں: یو این سیکرٹری جنرل

سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے کوپ 26 معاہدے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم اب بھی موسمیاتی تباہی کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔

ماحولیات کے لیے کام کرنے والی نوجوان سماجی کارکن گریٹا تھنبرگ نے بھی کوپ 26 معاہدے کو مسترد کر دیا اور کہا کہ اصل جدوجہد ان ایوانوں سے باہرہو گی اور ہم کبھی ہمت نہیں ہاریں گے۔

دوسری جانب برطانیہ اور یورپی یونین نے کوپ 26 معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ماحولیاتی آلودگی کم کرنے کے حوالے سے اچھی پیشرفت قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ عالمی ماحولیاتی کانفرنس، کوپ 26 میں دنیا کے 200 ممالک کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے اور مندوبین نے گلوبل وارمنگ 1.5سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

نارنگ منڈی: 6 سالہ بچی قتل، نعش توڑے میں ڈال کر مسجد کے کونے میں رکھ دی

نارنگ منڈی(نامہ نگار)نارنگ منڈی کے نواحی گاﺅں جنڈیالہ کلساں میں ایک اور زینب جیسی معصوم کلی 6سالہ آرزو کو نامعلوم افراد نے مسل دیا۔سات روز قبل اغواءکر کے نامعلوم مقام پر لیجا کر زیادتی کرتے رہے ،ہلاک ہونے پر نعش ایک توڑے میں ڈال کر گاﺅں کی مسجد میں لاکر ایک کونے میں رکھ دیا۔پولیس نے کوئی کارروائی نہ کی۔معصوم لڑکی کی والدہ راشدہ بی بی کے مطابق تھانہ نارنگ منڈی، ڈی ایس پی مریدکے اور ڈی پی او شیخوپورہ کو اپنی فریاد سناتی رہی ان دفاتر کی دیواروں سے سر ٹکراتی رہی لیکن میری فریاد کسی نے نہ سنی۔اس کا مزید کہنا تھا کہ جب بچی چھ ماہ کی تھی تو اس کا خاوند بلال اسے چھوڑ گیا۔میں اپنے والدمحمد دین کے گھر رہ رہی ہوں میرے والدین نے بھی پولیس کو بڑے واسطے دیئے لیکن کوئی مقدمہ درج نہ کیا جا سکااور نہ بچی کو تلاش کرنے کیلئے کوئی مدد کی۔آخر پولیس کا کام کیا ہے جب غریبوں کی آواز نہیں سننی تو تھانے کیا امیروں کا کام کرنے کیلئے بنے ہیں۔جب ایک بزرگ جو رات کو مسجد کو تالہ لگا کرگیا یا صبح آکر کھولہ؛کو پوچھا گیا تو اس کا کہنا تھا اسے کچھ علم نہیں۔ دیہاتی سراپا احتجاج ہو گئے ،جاں بحق ہونیوالی معصوم لڑکی کے رشتہ داروں اور دیہاتیوں نے آئی پنجاب اور وزیراعلی پنجاب سے سخت نوٹ لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

جلسوں کے بعد اسلام آباد کا رخ کریں گے : پی ڈی ایم کی دھمکی شوق پورا کر لیں : شیخ رشید، فواد چوہدری کا کرارا جواب

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے دو سال قبل آج ہی کے روز 13 نومبر 2019کو حکومت کے خلاف اپنا دھرنا ناکامی کے بعد ختم کیا تھا، ان کے پلان اے، بی سی ناکام ہوگئے تھے، جو بیانات اب دے رہے ہیں، اسی قسم کے بیانات اس وقت بھی انہوں نے دیئے، ان سیاسی بے روزگاروں کے پلے کچھ نہیں رہا، یہ صرف نعرے لگا سکتے ہیں۔ ہفتہ کو اپنے مولانا فضل الرحمان کے پی ڈی ایم کے جلسہ سے خطاب پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ڈی ایم سیاسی لاوارثوں کا ٹولہ ہے۔

دوسری جانب وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ اپوزیشن وارم اپ ہوتے ہوئے مزید چھ ماہ لے گی،دھرنے کا اصل وقت وہ تھا جب فضل الرحمن پہلی بار اسلام آباد آئے تھے،شہباز شریف اور فواد حسن فواد پہلے ہی ای سی ایل پر ہیں،ٹی ایل پی سے معاہدہ طے پا گیا ہے،وزارت داخلہ کا معاہدے میں کوئی کردار نہیں، موجودہ حکومت کے لئے سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی ہے،عمران خان کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،عمران خان پانچ سال پورے کرینگے۔ ہفتہ کو ایف نائن پارک میں ٹریفک پولیس کی طرف سے شروع کئے گئے دو روزہ فیملی گالہ کے افتتاح کے بعد وزیر داخلہ شیخ رشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد پولیس،افسران اور جوانوں کو گالہ کے انعقاد پر مبارک دیتا ہوں،پولیس پر بہت ذمہ داریاں ہیں۔

دفاع اور ترقی کیلئے پاکستان کے ساتھ ہیں،خبریں میڈیا گروپ کو دئیے خصوصی انٹرویو میں چینی سفیر نونگ رونگ کا اعلان

اسلام آباد ( انٹرویو : ملک منظور احمد ،تصاویر : نکلس جان ) پاکستان میں چین کے سفیر نونگ رونگ نے کہا ہے کہ امریکہ کو سی پیک منصوبے سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے سی پیک منصوبے میں سرما یہ کاری کے لیے بھارت سمیت کسی بھی تیسرے

ملک کے دروازے کھلے ہوئے ہیں ۔ سی پیک پراجیکٹ کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں ہے ۔ چین دیگر ممالک میں عدم مداخلت کی پالیسی پر گامزن ہے لیکن اگر کسی بھی ملک کی طرف سے چین کے خلاف جارحیت کی جاتی ہے تو چین اس کا منہ تو ڑ جواب دے گا ۔سی پیک کے منصوبے کرونا وائرس کے باوجود شیڈیول کے مطابق جاری ہیں ، چین پاکستان کی ترقی اور دفاع اور اپنی ترقی اور دفاع سمجھتاہے۔پاکستان چین کا قابل فخر دوست ہے ۔دنیا میں رونما ہونے والے واقعات پاک چین دوستی کو متاثر نہیں کر سکتے ہیں ۔پاکستان میں چینی ورکرز کی سیکورٹی کے حوالے سے مطمئن ہیں ۔دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افواج پاکستان نے لازوال قربانیاں دیں ہیں۔ گوادر میں فنی تربیت کا انسٹیٹیوٹ اور ہسپتال قائم کیا جا رہا ہے ،مقامی شہریوں کو پینے کا صاف پانی اور سولر یونٹس مہیا کیے جا رہے ہیں ۔افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد ہمسایہ اور خطے کے ممالک کی ذمہ داری ہے کہ افغانستان کے امن اور استحکام کے لیے کام کریں ۔پاکستان کی میزبانی میں افغانستان کے حوالے سے منعقد ہونے والی ٹرائیکا پلس میٹنگ بہت کامیاب رہی ہے ۔چین کی طرح پاکستان میں بھی حکومت کی بہتر حکمت عملی کے باعث کرونا وائرس پر بڑی حد تک قابو پالیا گیا ہے ۔چین پاکستان کو کرونا ویکسین مہیا کرنے والا پہلا ملک تھا اور اب تک چین کی جانب سے پاکستان کو 110ملین کرونا ویکسین فراہم کی جا چکی ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے خبریں کو خصوصی انٹر ویو دیتے ہوئے کیا ۔ایک سوال کے جواب میں چین کے سفیر نے کہا کہ پاکستان کی میزبانی میں ٹرائیکا پلس میٹنگ بہت کامیاب رہی ہے ،پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس حوالے سے بہترین کام کیا ۔عالمی برادری اور ہمسایہ ممالک کی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ افغانستان کے امن اور استحکام کے لیے کام کریں ۔امریکہ اور نیٹو کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد اس حوالے سے مل کر کام کریں ۔اور افغانستان کے حوالے پاکستان اور چین کی ایک ہی پالیسی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں چین کا سفیر کا کہنا تھا کہ تجارتی تعلقات کی پاکستان اور چین کے باہمی تعلقات کا اہم حصہ ہیں ۔پاکستان اور چین کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کی صلاحیت بہت زیادہ ہے اس حوالے سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔سی پیک کے تمام منصوبے شیڈول کے مطابق چل رہے ہیں ۔اس حوالے سے کو ئی مسئلہ درپیش نہیں ہے ۔کرونا کی مہلک وبا کے باوجود سی پیک کے منصوبوں میں تعطل نہیں آیا ہے ۔یہاں پر میں یہ بات بتانا چاہوں گا کہ کرونا وائرس کے باوجود سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والے کسی بھی چینی یا پاکستانی ورکر کو نہیں نکالا گیا ہے ۔میں سی پیک منصوبوں کی رفتار سے بالکل مطمئن ہوں ۔اگر آپ گوادر کا دورہ کریں تو آپ کو کام ہوتا ہوا دیکھائی دے گا ۔گوادر شہر میں چین کے تعاون سے ایک فنی تربیت کا انسٹیٹیوٹ قائم کیا گیا ہے ،گوادر میں ہسپتال بھی زیر تعمیر ہے جوکہ جلد مکمل ہو گا ،دہشت گرد حملے کے باوجود ایسٹ بے ایکسپرس وے پر کام جاری ہے اور یہ اہم شاہراہ اسی سال مکمل ہو جائے گی ۔گوادر کا ایک اہم مسئلہ بجلی اور پانی کی کمی ہے چین اس حوالے سے مقامی افراد کی مشکلات میں کمی لانے کے لیے متحرک ہے اور دن رات کام کر رہا ہے گوادر کے مقامی شہریوں کو صاف پینے کا پانی مہیا کرنے کے لیے منصوبے پر کام ہو رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ شہر میں بجلی کے مسئلہ سے نمٹنے کے لیے گھیر یلو سطح پر استعمال ہونے والے سولر یونٹس بھی مہیا کیے جا رہے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں نونگ رونگ نے کہا کہ سی پیک کے تحت کئی منصوبوں پر کام ہو رہا ہے حال ہی میں رشکئی میں ایس ای زی یعنی کہ سپیشل اکنامک زون کا افتتاح کیا گیا ہے ،وزیر اعظم عمران خان نے خود گوادر میں نئے بزنس ایریا کا افتتاح کیا ۔جہاں تک توانا ئی اور بلخصوص جوہری توانائی کے منصوبوں کا تعلق ہے تو اس حوالے سے بھی چین پاکستان کے ساتھ تعاون میں پیش پیش ہے اور حال ہی میں کے ٹو منصوبے کا افتتاح کیا گیا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ کے 3منصوبہ بھی تکمیل کے مراحل طے کر رہا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں چین کے سفیر کا کہنا تھا کہ پاک چین باہمی تعلقات میں فوجی تعلقات ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ،دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں دونوں ملکوں کی مسلح افواج کا باہمی اشتراک مثالی ہے ۔عسکری اور دفاعی میدان میں دونوں ممالک قریبی تعاون کررہے ہیں میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون سے مطمئن ہوں ۔ایک سوال کے جواب میں چین کے سفیر نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف گراں قدر کامیابیاں حاصل کیں ہیں ۔پاکستان نے اپنے ملک اور خطے کو دہشت گردی کے ناسور سے نجات دلانے کے لیے بہت کام کیا ہے اور اس حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون موجود ہے ۔جہاں تک پاکستان میں چینی ورکرز کی سیکورٹی کا تعلق ہے تو میں اس حوالے سے یہی کہوں گا کہ چینی ورکرز اور ٹیکنیشن پاکستان میں انفرا سٹکچر اور توانائی کے شعبے میں کام کررہے ہیں اور مکمل طور پر پر امن مقاصد رکے لیے کام کررہے ہیں ،دہشت گرد گروپوں کی جانب سے ان کو نشانہ بنایا سراسر غیر انسانی فعل ہے ،چین اور پاکستان دونوں ممالک اس کی مذمت کرتے ہیں ۔دونوں ممالک کے لیے پاکستان میں کام کرنے والے چینی ورکرز کی سیکورٹی بہت اہمیت کی حامل ہے اور دنوں ملک اس حوالے سے مل کر کام کررہے ہیں ۔میں یہاں پر یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی پولیس اور فوج نے اس حوالے سے بہترین کام کیا ہے ۔میں یہاں پر حکومت پاکستان کی جانب سے پاکستان میں موجود غیر ملکیوں کی سیکورٹی کے لیے قائم کیے گئے فارن سیکورٹی سیل کا دورہ کیا ہے ۔یہ اقدام پاکستان میں موجود غیر ملکیوں بشمول چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے ایک احسن اقدام ہے اور پاکستان کی جانب سے غیر ملکیوں کی سیکورٹی یقینی بنانے کے اس کے عزم کا اظہار کرتا ہے ۔میرا یقین ہے کہ تمام سیکورٹی اداروں اور دنوں ممالک کے تعاون سے پاکستان میں چینی شہریوں کی سیکورٹی بھی یقینی بنائی جائے گی اور میں پر امید ہوں ،آئندہ آنے والوں دنوں میں مزید سرما یہ کاری پاکستا ن میں آئے گی ۔حال ہی میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور چین کے صدر کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے ،جو کہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے ۔

بھارتی اور پاکستانی کھلاڑیوں کے معاوضوں میں زمین آسمان کا فرق

انڈیا کا اے کیٹگری کا کھلاڑی اوسطا 18کروڑ روپے تنخواہ لیتا ہے جبکہ پاکستانی اے کیٹگری کا کھلاڑی 38لاکھ روپے لیتا ہے۔بی کیٹگری کا کھلاڑی انڈیا میں 15کروڑ جبکہ پاکستانی کھلاڑی یہاں27لاکھ روپے لے رہا ہے۔ سی کیٹگری میں انڈیا کا کھلاڑی 7کروڑ 50لاکھ ، پاکستانی کھلاڑی دس لاکھ لیتا ہے۔ انڈیا میں ایک کروڑ 30لاکھ سے 5کروڑ روپے ریٹینر فیس ہے جبکہ پاکستان میں یہ فیس 5لاکھ سے شروع ہوتی ہے اور زیادہ سے زیادہ 11لاکھ ہے۔ کھلاڑی کے کوئی کارنامہ کر دکھانے ، میچ یا ٹورنامنٹ جیتنے یا اچھی کارکردگی دکھانے پر انڈیا میں 25فیصد وننگ بونس دیا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں پورے ٹورنامنٹ میں کھلاڑیوں کی پرفارمنس دیکھی جاتی ہے اور اسکا 2.5سے 5فیصد بونس دیا جاتا ہے۔ انڈیا میں کپتان بونس 75لاکھ جبکہ پاکستان میں 5ہزار ڈالردیا جاتا ہے ۔ بھارتی کرکٹ مارکیٹ کا موازنہ پاکستانی مارکیٹ سے نہیں کیا جاسکتا، بھارتی مارکیٹ بہت وسیع ہے، پاکستانی ٹیم کا مقابلہ دنیا کی تھکی ہوئی ٹیموں کیساتھ کیا جاسکتا ہے۔

بلوچستان دہشتگردوں کیخلاف لڑتے ہوئے پاک فوج کے 3 جوان وطن پر قربان

بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف لڑتے ہوئے پاک فوج کے مزید تین جوان وطن پر قربان ہو گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق بلوچستان کے علاقے ہوشاب میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کی۔ تربت میں بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران پاک فوج اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، اس دوران دہشتگردوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا جبکہ دہشتگردوں کی فائرنگ سے دو جوان شہید ہو گئے۔ شہید ہونے والوں میں سپاہی رمضان اور لانس نائیک لیاقت اقبال شامل ہیں، سپاہی رمضان کا تعلق سرگودھا اور لانس نائیک لیاقت اقبال کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی سے ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان میں کلیئرنس آپریشن کے دوران دیسی ساختہ بارودی سرنگ پھٹنے سے سپاہی انعام اللہ شہید ہو گئے۔ سپاہی انعام اللہ کا تعلق لکی مروت سے ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فورسزملک دشمن عناصرکوشکست دینے کیلئے پرعزم ہے، بلوچستان میں امن واستحکام اورترقی کاعمل متاثرہونےنہیں دینگے۔

اس حکومت کو سمندر برد نہیں کیا تو ملکی سلامتی کو خطرات لاحق ہوجائیں گے، فضل الرحمان

سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ اگر اس حکومت کو سمندر برد نہیں کیا تو ملکی سلامتی کو خطرات لاحق ہوں گے، پی ٹی آئی حکومت چوری کے ووٹوں سے آئی ہے۔
کراچی میں مہنگائی اور بیروزگاری کے خلاف ریگل چوک پر احتجاجی مظاہرین سے خطاب میں مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ غربت سے تنگ عوام نے پارلیمنٹ لاجز کے سامنے بچے فروخت کے لیے رکھے ہوئےہیں، معیشت مستحکم ہونے سے ہی قومیں مضبوط ہوتی ہیں، تاریخ گواہ ہے جہاں اقتصادی بحران آیا وہاں بغاوت نے جنم لیا، جو حکومت قوم کی رسوائی کا سبب بنے اسے اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں، ہم نے پہلے دن ہی کہا تھا کہ یہ حکومت ناجائز اور نا اہل ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نا اہل حکمران بھیک مانگ کر وقت گزار رہے ہیں، دنیا بھر میں 22 کروڑ عوام کی رسوائی ہورہی ہے، قوم کی رسوائی کا سبب بننے والوں کو حکمرانی کا حق حاصل نہیں۔
سربراہ پی ڈی ایم کا کہنا تھا کہ یہ حکومت ملک کو تباہی کی طرف لے جارہی ہے، ملک میں مزدور، دکاندار اور ملازمت پیشہ لوگ حکومت سے مایوس ہوچکےہیں، پی ڈی ایم قوم کی آواز ہے، ہم ملک کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، پی ڈی ایم ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی چاہتی ہے، اس حکومت کو سمندر برد نہ کیا تو ملک کی سلامتی کا سوال پیدا ہوگا۔
احتجاجی جلسے سے خطاب میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ یہ حکومت عوام کے ووٹ سے نہیں چوری شدہ الیکشن کےنتیجے میں برسراقتدار آئی، جس ملک میں الیکشن چوری ہوں وہاں مہنگائی ہوتی ہے، 30 روپے کلو والا آٹا 80 روپے فی کلو میں فروخت ہورہا ہے، بجلی کی قیمت میں تین گنا اضافہ کردیا گیا ہے، اور کل ہی گیس کی لوڈ شیڈنگ کی خبر عوام کو سنائی گئی ہے۔ مہنگائی اور ملک کی مشکلات کا حل آئین کے مطابق ملک چلانے میں ہے۔
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کوئی پاکستان کی بات سننےکو تیار نہیں، عوام اس نظام کو قبول کرنے کو تیار نہیں، فوری اور شفاف الیکشن کے سوا اب کوئی حل نہیں ہے۔ پی ڈی ایم اقتدار کی بات نہیں کرتی، تمام جماعتیں آئین کی بالادستی کے یک نکاتی ایجنڈے پر ہیں۔
پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم نے پی ڈی ایم ڈی چوک پر نہیں بنائی، اور نہ ہی ہم نے اسے اس لیے بنایا کہ ہم فارغ تھے، ہمیں اپنی عزت پیاری تھی۔

لوگوں کی امید کھونے سے زیادہ خطرناک کوئی چیز نہیں ہو سکتی: شہباز شریف

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ لوگوں کی امید کھونے سے زیادہ خطرناک کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے لکھا کہ لوگوں کی امیدیں کھونے سے زیادہ خطرناک کوئی چیز نہیں ہو سکتی اور افسوس کی بات ہے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اس نااہل اور کرپٹ ترین حکومت کی وجہ سے لوگ مایوسی کی خطرناک حد کو چھو رہے ہیں۔
اپنے ٹویٹ پر انہوں نے مزید لکھا کہ ہفتہ وار افراط زر کی شرح 17.37 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ غریب عوام مہنگائی کی اس لہر میں اپنے گھر والوں کا پیٹ کیسے پالیں گے؟

بھارتی سپریم کورٹ کا انوکھا فیصلہ دہلی میں فضائی آلودگی کنٹرول کرنے کے لئے کرونا طرز کے لاک ڈاؤن کا حکم

بھارتی دارالحکومت نئی دلی میں فضائی آلودگی قابو سے باہرہوگئی۔
بھارتی سپریم کورٹ نے دلی میں فضائی آلودگی کا بحران شدید ہونے پرمرکزی اورصوبائی حکومتوں کی سرزنش کی۔
دلی میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کیخلاف سترہ سال کے طالب علم کی درخواست کی سماعت بھارتی سپریم کورٹ میں ہوئی۔دوران سماعت بھارتی سپریم کورٹ کے اسپشل بینچ کا کہنا تھا کہ فضائی آلودگی کے بحران کوکم کرنے کےلئے دلی میں دو روز کے لئے لاک ڈاؤن لگایا جائے۔
بھارتی چیف جسٹس این وی رامنا کا کہنا تھا کہ ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ صورتحال کتنی خراب ہے۔ہم گھروں کے اندربھی ماسک پہن رہے ہیں۔فصلوں کی باقیات جلانے پرحکومت صرف کسانوں کوالزام دے رہی ہے لیکن یہ صرف چالیس فیصد ہے۔بتایا جائے حکومت نے دلی کے عوام کوآلودگی سے محفوظ رکھنے اورگاڑیوں اورپٹاخوں سے پیدا ہونے والی آلودگی پرقابوپانے کے لئے کیا اقدامات کئے۔حکومت فضائی آلودگی کم کرنے کے لئے فوری اورسنجیدہ اقدامات کرے۔

نالائق، کرپٹ اور مافیاوں کی حکومت نے سندھ کو برباد کردیا، شہباز گِل

رجمان وزیر اعظم معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ ڈاکٹر شہباز گِل نے کہا ہے کہ نالائق، کرپٹ اور مافیاوں کی حکومت نے سندھ کو برباد کردیا ہے۔

ڈاکٹر شہباز گِل نے مرتضیٰ وہاب کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ وفاق پر تنقید کر کے پیپلز پارٹی سندھ کی ابتر حالات پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے، نالائق، کرپٹ اور مافیاوں کی حکومت نے سندھ کو برباد کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئے روز سندھ سے بچوں کا بھوک، ایڈز اور خسرہ جیسی بیماریوں سے مرنے کی اطلاعات آتی ہیں، لیکن افسوس کہ سندھ کے حکمران خوابِ غفلت کی نیند سوئے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے نام پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کے بادشاہ پر سیاست کر رہے ہیں، کراچی کے ابتر حالات کی ذمہ داران پچھلے 2 دہائیوں سے سندھ پر مسلط ہیں، زرداری مافیا نے ضلع غربی کراچی میں 15 ارب کی 310 ایکڑ سرکاری زمین ہتھیائی، کراچی میں 89 ہزار ایکڑ سرکاری زمین جبکہ 28 لاکھ فاریسٹ کی زمینوں پر قبضے ہیں۔

ترجمان وزیر اعظم معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ ڈاکٹر شہباز گِل نے مزید کہا کہ کراچی کو حقوق دینے کی ابتداء تحریک انصاف حکومت نے کی، رواں مالی سال میں وفاقی حکومت کراچی ٹرانسفرمیشن پلان کیلئے 98 ارب رکھے گئے، جامشورو میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کیلئے 22 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ ایڈمنسٹریٹرکراچی مرتضیٰ وہاب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئل ٹرمینل کی بہتری کیلئے 26 کروڑکا ٹینڈرجاری کیا، ترقیاتی کاموں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال ڈیڑھ ارب روپے سڑکوں پر خرچ کریں گے ، عزیز بھٹی  پارک کو بہترکرنے کا کام بھی جلد شروع کریں گے ، انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے 1.1 ارب کے ٹینڈرز پر کام جاری ہے، باغ کے دروازے پھر سے عوام کیلئے کھولے جا رہے ہیں۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ کراچی کی بہتری کیلئے اختیارات نہیں بہتری کا مسئلہ تھا، ہم نے فیریئر ہال کی تزئین وآرائش کا کام شروع کیا ہے ، فلائی اوورز پر پودے لگانے کا کام شروع کیا گیا ہے۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے مزید کہا تھا کہ ہم نے کراچی میں اربن فاریسٹ کو فروغ دینا شروع کیا ، شہری فیرئیر ہال میں آکر تاریخی ورثے کو دیکھ سکتے ہیں۔

سعودی عرب میں تعینات برطانوی قونصل جنرل نے اسلام قبول کرلیا

سعودی عرب میں تعینات برطانوی قونصل جنرل نے اسلام قبول کرلیا۔ برطانوی قونصل جنرل کی تصویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر برطانوی قونصل جنرل نے بتایا کہ انہوں نے اپنا نیا اسلامی نام سیف اشر رکھا ہے۔

سیف نے 10 نومبر بروز بدھ مسجد نبویﷺ میں حاضری دی اور نمازفجر بھی ادا کی۔ اس موقع پر انہوں نے نہایت خوشی کا اظہار کیا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سیف اشر سے قبل سعودی عرب میں تعینات برطانوی سفیر سائمن کولس نے بھی سال 2016 میں اسلام قبول کیا۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ وہ پہلے برطانوی سفیر تھے جنہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد سال 2016 میں حج بھی ادا کیا۔

وہ سال 2015 سے سعودی عرب میں مقیم تھے، جب کہ وہ متعدد مسلم ممالک میں بھی سفیر کی حیثیت سے فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے مسلم خاتون سے شادی کی۔

ملک میں روپے کی قدر میں مسلسل کمی، ڈالر 175 روپے سے بڑھ گیا

ملک میں ڈالر مہنگا ہورہا ہے، گذشتہ مالی سال کے اختتام پر ملک میں ڈالر کی قدر 157 روپے 54 پیسے تھی، 12 نومبر کو ڈالر 176 روپے کا بھی ہوا لیکن کاروبار کی بندش پر ایک ڈالر کا بھاؤ 175 روپے 73 پیسے رہا۔

سعودی معاونت پر ملک میں ڈالر کا بھاؤ جو گرا تھا وہ اب پھر بڑھ رہا ہے۔ سعودی عرب سے رقم نہیں ملی اور آئی ایم ایف سے مذاکرات کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔ عالمی ادارہ قرض دینے سے پہلے اس کی واپسی یقینی بنا رہا ہے۔ روپے کی قدر گرنے سے درآمدی سامان کی لاگت بڑھے گی استعمال کم ہوگا، اس کا ایک اور فائدہ ڈیوٹیز اور ٹیکسوں کے زیادہ جمع ہونے کا ہوگا لیکن اس سے مہنگائی بڑھے گی جو پہلے ہی حکومت کے لیے درد سر ہے۔

عام اندازے ہیں کہ آئی ایم ایف پروگرام میں طلب روکنے کے لیے شرح سود میں بھی اضافہ ہوگا۔ آئی ایم ایف حکومت کی اسٹیٹ بینک سے قرض گیری ختم کراچکا ہے۔ یہ کہہ کر کہ اس سے مہنگائی بڑھتی ہے لیکن مہنگائی تو اب بھی بڑھ رہی ہے۔ حکومت اسٹیٹ بینک سے قرض پر جو سود ادا کرتی تھی وہ اس کے ادارے کے منافع کے طور پر واپس آجاتا تھا،کمرشل بینکوں کو جو گیا وہ گیا۔

ملک کا سب سے بڑا خرچ قرضوں کا سود ہے۔ امریکی معیشت دان تھامس سارجنٹ کی اس پر تھیوری ہے، ’اَن پلیزنٹ مانیٹری ارتھ میٹک‘، لیکن محسوس ہوتا کہ اس پر بات نہیں ہوتی بلکہ فنڈ نے سود ادائیگی کو پرائمری خسارے کا پردہ کرادیا ہے، ہمارا مسئلہ وہ ہمیں سمجھا رہے ہیں۔

آئی ایم ایف کی ایک شرط اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کی بھِی ہے۔ تقاضہ ہے کہ انہیں فیصلے کا اختیار بھی ہو اور ان کے فیصلوں پر پوچھ گچھ بھی نہ ہو۔  عام خیال ہے کہ ڈالر کا انتظام بھی وہی کرا رہے ہیں۔  ڈالر کا ریٹ بڑھا ہے لیکن زرمبادلہ ذخائر کم نہیں ہوئے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب سعودی عرب سے ڈالر جمع کرانے کی اطلاعات ہیں تو ایسے میں کیا طلب و رسد کا ترازو ڈالر کا بھاؤصحیح تول رہا ہے؟