عمران خان کپتان، میاں داد نائب کپتان، پی سی بی کی ڈریم پیئر مہم مکمل

 

لاہور (ویب ڈیسک)کپتان اور نائب کپتان کے انتخاب کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی ڈریم پیئر مہم مکمل ہو گئی ہے اور سوشل میڈیا پر عمران خان اور جاوید میانداد کی جوڑی کے چرچے رہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کی ڈریم پیئر مہم میں مقبول ترین کپتان اور نائب کپتان کی جوڑی سامنے آئی ہے، سوشل میڈیا پر موجود کرکٹ کے مداحوں نے آل راو¿نڈر عمران خان کو کپتان اور جاوید میانداد کو نائب کپتان کے لیے ووٹ دیے۔عمران خان کے بطور کپتان 48 ٹیسٹ میچوں میں سے 14 میں پاکستان کی ٹیم نے کامیابی حاصل کی تاہم محدود طرز کی کرکٹ میں یادگار 1992 ورلڈکپ کی فتح ہمیشہ ان کے نام کے ساتھ جڑی رہے گی۔میگا ایونٹ میں کپتانی کرنے والے عمران خان نے کل 139 ایک روزہ میچوں میں پاکستان کی قیادت کی جس میں سے پاکستان نے 75 میں کامیابی حاصل کی۔ورلڈ کپ 1992 کی ٹیم میں عمران خان کے نائب کی ذمہ داریاں نبھانے والے جاوید میانداد کو سوشل میڈیا صارفین نے ایک بار پھر عمران خان کے نائب کی حیثیت سے میدان میں دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج نرسوں کا عالمی دن

لاہور (ویب ڈیسک)پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج نرسوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے، یہ دن عالمی طور پر 12 مئی کو پوری دنیا میں نرسوں کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔نرسنگ، تعنی تیمار داری ایک ایسا پیشہ ہے جس میں صحت کے حصول اور پھر اس صحت کو برقرار رکھنے کے لیے؛ افراد، خاندانوں اور آبادیوں کی مدد و معاونت کی جاتی ہے۔نرسنگ کو دونوں کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے آرٹ اور ایک سائنس؛ ایک دل اور دماغ نیز ، اس کے دل میں انسانی وقار کے لئے ایک بنیادی احترام اور مریض کی ضروریات کے لئے ایک انتشار ہے۔لہذا ، اس کی تائید دماغ کے ذریعہ ، ایک سخت بنیادی سیکھنے کی شکل میں کی جاتی ہے۔ نرسنگ پیشہ میں بہت ساری خصوصیات اور پیچیدہ مہارت کی وجہ سے ، ہر نرس کو مخصوص قوتیں ، جوش اور مہارت حاصل ہوگی۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید کا ایرانی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، سرحدی سیکیورٹی، کورونا پر تبادلہ خیال

را ولپنڈی (ویب ڈیسک)پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دونوں کمانڈرز نے سرحد کے اطراف سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان نے سرحد پر باڑ لگانے کا عمل شروع کیا ہے، بارڈر سیکیورٹی اور اسمگلنگ کی روک تھام کو یقینی بنانے کےلیے دو طرفہ تعاون کی ضرورت ہے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دونوں کمانڈرز نے کووڈ 19 کی صورت حال اور ایسے معاملات سے نمٹنے کے لیے بارڈر ٹرمینلز میں مزید بہتری کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ آرمی چیف نے باہمی احترام، عدم مداخلت اور برابری کی بنیاد پر علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی خواہش کا اعادہ بھی کیا۔ واضح رہے کہ حال ہی میں پاک ایران سرحد کے قریب پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر دہشت گرد حملے میں 6 اہل کار شہید ہو گئے تھے۔

سابق کپتان سلیم ملک کھل کرمیدان میں آ گئے،پی سی بی کو بڑی دھمکی دے ڈا لی

لاہور(ویب ڈیسک ) سابق کپتان سلیم ملک کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ انہیں انصاف نہیں دیتا تو وہ سب کچھ سامنے لے آئیں گے، بار بار رابطے کے باوجود بھی پی سی بی کی طرف سے کوئی جواب نہیں مل رہاہے۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فکسنگ ایشو اچھلنے کے بعد پی سی سی سے رابطے پر سلیم ملک نے کہا کہ باربار رابطے کے باوجود پی سی بی کی طرف سے کوئی جواب نہیں مل رہا۔ اگر پی سی بی نے انصاف نہ دیا تو میرے پاس آئی سی سی میں جانے کا راستہ کھلا ہے۔ اگر بورڈ انصاف نہیں دیتا تو میں سب کچھ سامنے لاو¿ں گا۔ میں کسی کے خلاف نہیں ہوں اور نہ ہی میں نے کبھی کسی کا نام لیا ہے۔ میں شروع سے کہتا آرہا ہوں کہ جسٹس قیوم کی رپورٹ پڑھیں۔ اب لوگوں نے یہ رپورٹ پڑھی ہے تو سمجھ آئی ہے۔

رنگ و نور،فلموں ،فیشن کاسب سے بڑا ‘کانز فلمی میلا’ کورونا کے باعث ملتوی

 

پیرس (ویب ڈیسک)عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے جہاں دنیا بھر میں متعدد عالمی کانفرنسز اور دیگر ایونٹس منسوخ کیے گئے تو وہیں وائرس نے فیشن انڈسٹری کو بھی بے حد متاثر کیا ہے۔رواں ماہ ہونے والا فیشن کا سب سے بڑا کانز فلمی میلہ بھی خطرناک کورونا وبا کے پیش نظر ملتوی کر دیا گیا ہے۔ کانز فلمی میلے کے منتظمین کے مطابق یہ میلہ جون یا جولائی کے شروع میں کرانے سمیت مختلف پہلوو¿ں پر غور کیا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ رواں سال یعنی 2020 میں کانز فلمی میلہ 12 سے 23 مئی کے درمیان ہونا تھا۔ فرانس کے جنوبی ساحلی شہر کانز میں ہونے والے سالانہ فلمی میلے میں دنیا بھر سے فلم ساز، اداکار اور مشہور شخصیات شرکت کرتی ہیں۔

دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیرسے 16500 نوکریاں ، 4500 میگاواٹ بجلی کی پیداوار ہوگی، عاصم سلیم باجوہ

 

 

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا اعلان تمام نسلوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کیلئے ایک تاریخ ساز خبر ہے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے بیان میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر ہماری معیشت کی بہتری کیلئے ایک بہت بڑا محرک ثابت ہوگی۔عاصم سلیم باجوہ نے اپنی ٹویٹ میں پاکستانیوں کو خوشخبری دیتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے سے 16500 نوکریاں جبکہ 4500 میگاواٹ بجلی کی پیداوار ہوگی۔خیال رہے کہ ا?ج وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت پانی کے بچاو¿ کی حکمت عملی کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا تھا جس میں معاون خصوصی عاصم سلیم باجوہ نے بھی شرکت کی۔

ملک بھر میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 32 ہزار 81 تک پہنچ گئی جبکہ ایک دن میں 39 افراد جاں بحق ہوگئے

 

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان میں کورونا کے متاثرین تیزی سے بڑھنے لگے، ملک بھر میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 32 ہزار 81 تک پہنچ گئی جبکہ ایک دن میں 39 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد اموات کی تعداد 706 ہوگئی۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1140 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں 11 ہزار 869، سندھ میں 12 ہزار 17، خیبر پختونخوا میں 4 ہزار 875، بلوچستان میں 2 ہزار 61، گلگت بلتستان میں 457، اسلام آباد میں 716 جبکہ آزاد کشمیر میں 86 کیسز رپورٹ ہوئے۔ملک بھر میں اب تک 3 لاکھ 5 ہزار 851 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 10 ہزار 957 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 8 ہزار 555 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ کئی مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 39 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 706 ہوگئی۔ سندھ میں 200، پنجاب میں 211، خیبر پختونخوا میں 257، گلگت بلتستان میں 4، بلوچستان میں 27 اور اسلام آباد میں 6 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اب تک 462 ہسپتالوں میں قائم قرنطینہ مراکز مریضوں کا علاج جاری ہے، ان ہسپتالوں میں 7295 بیڈز کا بندوبست کیا گیا ہے۔

چین کے سرکاری ہیکرکورونا ریسرچ لیبارٹریوں پر سائبر حملے کرنے لگے:امریکہ کا نیا الزام

(ویب ڈیسک)امریکہ چین پر کرونا وائرس سے متعلق تحقیق چوری کرنے کا الزام لگانے کی منصوبہ بندی کررہا ہے:وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ فی الحال اس الرٹ کو حتمی شکل نہیں دی گئی‘ منصوبہ تبدیل بھی ہوسکتا ہے‘ ایسا کوئی الرٹ جاری کیا گیا تو چین اور امریکہ کے درمیان ٹینشن مزید بڑھ سکتی ہے:امریکی اہلکار۔ٹرمپ اور ری پبلکنز نے کرونا وائرس پھیلانے کی ذمہ داری چین پر ڈالنے کی حکمت عملی بنالی‘ ٹرمپ پر تنقید کرنے والوں کا خیال ہے چین کو مورد الزام ٹھہرانا کرونا پر نااہلی چھپانے کی کوشش

لاک ڈاﺅن میں نرمی کا پہلا دن،SOP کی دھجیاں اڑ گئیں

لاہور، ملتان، فیصل آباد، کراچی، کوئٹہ، پشاور، اسلام آباد (نمائندگان خبریں) صوبائی درالحکومت میں اڑتالیس روز کی طویل ترین بندش کے بعد شہر کی تما م چھوٹی بڑی مارکیٹیںکھل گئیں ،حکومت کی جانب سے بتائی گئی حفاظتی تدابیرپہلے روز ہی خریداری کے لیے آنے والی خواتین کے بے پناہ رش میں گم ہوکر رہ گئیں ،ضلعی انتظامیہ پولیس اورتاجروں سمیت دیگر ادارے سماجی فیصلہ برقرار رکھنے میں ناکام نظر آئے ،باغبانپورہ ،اچھرہ ،جلوموڑ ،انارکلی ،عابد مارکیٹ ہال روڈ سمیت لاہور کی تما م اہم مارکیٹوں میں صبح سے لے کر شام تک عوام کا جم غفیر سماجی فاصلے کے بغیر خریدو فروخت میں مصروف رہا ،جبکہ مارکیٹوں کے اندر قائم غیر قانونی پارکنگ سٹینڈ ز اور موٹرسائیکل وگاڑیوں کی بازاروں کے اندر آمدورفت سے سماجی فیصلہ برقراررکھنا تودرکنار پیدل گزرنا بھی محال ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز 48یوم کے بعد حکومت کی جانب سے لاک ڈاﺅن میں نرمی کرتے ہوئے دوکانیں کھل گئیں جس کے بعد باغبانپورہ ، ا چھرہ ،انارکلی ،گلبرگ منی مارکیٹ ،لنڈار بازار سمیت دیگر بازاروں میں لاک ڈاون میں نرمی کے بعد پہلے روز ہی خریداروں کا بے پناہ رش نظر آیا۔ مگر بازارکھولنے کے لیے حکومت کی جانب سے بنائے گئے ایس او پیز عملدرآمدہوتا ہوا کہیں دکھائی نہیںدیا خاص طور پر باغبانپورہ اور اچھرہ بازار میںماسک پہننا ،سینیٹائزر اور ہینڈ واش کے انتظامات اور سماجی فیصلہ برقرار رکھنے کے اصولوں کی دھجیاں اڑا دی گئیں جبکہ بیشتر دوکانوں پر موجود عملہ بھی حفاظتی تدابیر سے اجتناب کرتا ہوا دکھائی دیا اس حوالے سے تاجر تنظیموں کے عہدیداران کا کہناہے کہ تما م دوکانداروں کو وقفے وقفے سے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کے لیے ہدایات جاری کی جارہی ہے جن پر ایک سے دودن میں مکمل طور پر عملدرآمدشروع ہوجائے گا ۔جبکہ دوسری جانب خریداروں اور دکانداروں نے کاروبار کھلنے پر سکھ کا سانس لیا۔لاہور شہر میں کورونا وائرس کی وجہ سے لگائے گئے لاک ڈاون سے اڑتالیس روز ہر قسم کی کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں۔ جس سے تاجروں، ملازمین ، مزدوروں نے کافی معاشی نقصان برداشت کیا۔ تاہم کاروبار کی اجازت ملنے پر دکانداراورتاجر خوش دکھائی دئیے۔جبکہ شہر کے تمام ماڈل بازاروں میں بھی کپڑوں، جوتوں اور کاسمیٹکس سمیت دیگردکانیں کھول دی گئیں، دکانداروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔لاک ڈاوءن میں نرمی ہونے کے بعد، شہرکے تمام ماڈل بازاروں میں کورونا خطرات کے پیش نظر بند کی گئی کاسمیٹکس، کپٹروں، جوتوں اور جیولری کی دکانیں 48 روزبعد کھول دی گئیں۔ ریڈی میڈ کپڑوں کا کاروبار کرنےوالادکانداروں کا کہنا ہے کہ کورونا کے باعث دکان بند ہونے سے معاشی طور پر بری طرح متاثر ہوا۔ماڈل بازاروں میں سماجی فاصلے، ماسک اورسینٹائزرسمیت دیگر احتیاطی تدابیر کو یقینی بناتے ہوئے تمام دکانیں کھول دی گئی ہیں۔ حکومتی اجازت کے بعد کراچی سمیت ملک کے محتلف شہروں میں کاروبار بحال ہو گیا۔ کراچی کی لائٹ ہاﺅس مارکیٹ کے دکانداروں نے بیشتر دکانیں صبح 8 بجے ہی کھول دیں۔ محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے قوائد و ضوابط جاری ہونے کے بعد کاروبار کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ کاروبار صبح 8 سے شام 4 بجے تک کھلیں گے۔ تاہم دکان پر آنے والے گاہکوں میں سماجی فاصلہ رکھنا دکاندار کی ذمہ داری ہو گی۔ چیئرمین آل سٹی تاجر اتحاد حکیم شاہ کا کہنا ہے سندھ حکومت کے مشکور ہیں کہ انہوں نے کاروبار کھولنے کی اجازت دی، بازار میں حکومتی ایس او پی کا ہر صورت خیال رکھا جائے گا، خریداروں سے گزارش کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ تعاون کرییں، بغیر ماسک کے کسی خریدار کو دکان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہو گی، کرونا سے بچاﺅ کے لئے سماجی دوری کو تاجر یقینی بنائیں گے، قومی مفاد میں لاک ڈاﺅن کے فیصلے کو تسلیم کیا۔ حکومت پنجاب کے فیصلے کے مطابق ہفتے میں 4 دن پیر سے جمعرات تک کاروبار کھلے گا جبکہ ہفتے کے باقی تین ایام جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو جزوی لاک ڈاﺅن ہوا کرے گا۔ جزوی لاک ڈاﺅن کے دوران بھی کریانہ سٹورز، دودھ دہی و گوشت کی دکانیں اور میڈیکل سٹورز کھلے رہیں گے۔ لاہور میں جزوی لاک ڈاﺅن میں نرمی کے بعد شہر کی سڑکوں پر ٹریفک میں اضافہ اور پولیس ناکوں میں کمی کر دی گئی۔وفاقی دارالحکومت اسلام میں چھوٹی مارکیٹیں کھل گئیں، 47 روز بعد تاجر نے دکانوں کے شٹر اٹھالئے، شاپنگ مالز، تعلیمی اداروں، ہوٹل، میرج ہالز، سینما، عوامی اجتماعات، کھیلوں اور پبلک ٹرانسپورٹ پر بدستور پابندی برقرار ہے۔ملک بھر میں لاک ڈاﺅن میں نرمی کے بعد کراچی میں بھی دکانداروں نے مارکیٹوں کے شٹر کھول دئیے،کراچی میں آئرن، ٹمبر مارکیٹ سمیت لائٹ ہاﺅس میں صبح 8بجے کاروبار شروع ہو گیا۔کراچی میں ٹمبر سمیت آئرن اسٹیل مارکیٹ میں مال کی لوڈنگ بھی شروع کر دی گئی۔ محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے قواعد و ضوابط جاری ہونے کے بعد کاروبار کھولنے کی اجازت دی گئی ۔ کاروبارصبح 8 سے شام 4 بجے تک کھلیں گے۔ تاہم دکان پرآنے والے گاہکوں میں سماجی فاصلہ رکھنا دکاندارکی ذمہ داری ہوگی۔چیئرمین آل سٹی تاجر اتحاد حکیم شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت کے مشکور ہیں کہ انہوں نے کاروبار کھولنے کی اجازت دی، بازار میں حکومتی ایس او پیز کا ہر صورت خیال رکھا جائے گا، خریداروں سے گذارش کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ تعاون کریں، بغیر ماسک کے کسی خریدار کو دکان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی، کورونا سے بچاﺅ کے لیے سماجی دوری کو تاجر یقینی بنائیں گے، قومی مفاد میں لاک ڈاﺅن کے فیصلے کو تسلیم کیا۔دوسری جانب جزوی لاک ڈاﺅن میں نرمی کے پہلے دن تقریبا ً لاہور سمیت پنجاب بھر کے تمام اضلاع میں کاروبار کھل گئے ، شہر میں تمام کاروبار صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہے گا تاہم بڑے پلازے اور شاپنگ مالز بدستور بند رہیں گے۔سرکاری و نجی تعلیمی ادارے، سینما گھر، پبلک ٹرانسپورٹ، تفریحی مقامات، شادی ہالز بھی مسلسل بند رہیں گے اس کے علاوہ ہر قسم کے اجتماعات، کھیلوں اور ڈبل سواری پر پابندی برقرار رہے گی، آٹو رکشہ اور موٹر سائیکل رکشہ چلیں گے۔حکومت پنجاب کے فیصلے کے مطابق ہفتے میں 4 دن پیر سے جمعرات تک کاروبار کھلے گا جب کہ ہفتے کے باقی 3 ایام جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو جزوی لاک ڈاﺅن ہوا کرے گا۔ جزوی لاک ڈاﺅن کے دوران بھی کریانہ اسٹورز، دودھ دہی و گوشت کی دکانیں اور میڈیکل اسٹورز کھلے رہیں گے۔ لاہور میں جزوی لاک ڈاﺅن میں نرمی کے بعد شہر کی سڑکوں پر ٹریفک میں اضافہ اور پولیس ناکوں میں کمی کردی گئی ،راولپنڈی میں لاک ڈاﺅن میں نرمی کے باعث مارکیٹیں کھل گئیں اور لوگوں کا خریداری کیلئے رش دیکھنے میں آیا ۔حکومت پنجاب نے کاروبار کھولنے کے لئے ایس او پیز جاری کر دیئے جس کے تحت کاروبار کے دوران سماجی فاصلہ برقرار رکھنا ضروری ہو گا، خلاف ورزی کی صورت میں 2 سے 6 ماہ قید اور 50 ہزار روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ ایس او پیز پر عمل نہ کرنے والی دکانوں اور مارکیٹوں کو بند کر دیا جائے گا۔ دکانداروں اور گاہکوں کے لئے ماسک پہننا اور ہاتھ دھونا یا سینیٹائزر استعمال کرنا لازمی ہوگا۔ دکاندار اور مارکیٹ انتظامیہ گاہکوں میں سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے ذمہ دار ہوں گے۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے افسران و اہلکار دکانوں اور مارکیٹوں کی مانیٹرنگ کریں گے۔کوئٹہ میں بھی کاروباری مراکز کھل گئے۔ جیولری، نائی، درزی سمیت جوتوں کی دکانوں پر شہریوں کی جانب سے خریداری کا سلسلہ جاری رہا ۔ جب کہ دکاندار لیاقت بازار سمیت جناح روڈ، عبدالستار روڈ و دیگر شاپنگ مالز میں ایس او پیز پر عملدر آمد کرتے دکھائی دیئے۔ حکومت سندھ نے 9 سرکاری دفاتر کو بھی کھولنے کا اعلان کیا ہے لیکن صوبے بھر میں جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو مکمل لاک ڈاو¿ن ہوگا ضابطہ اخلاق کے مطابق گاہکوں اور دکانداروں کے لیے ماسک لازمی قرار دیا گیا ہے جب کہ عمر رسیدہ اور بیمار افراد بازار نہیں جا سکیں گے۔حکومتی اعلامیے کے مطابق ایس او پیز پر عمل نہ کرنے والی دکانوں اور مارکیٹوں کو بند کر دیا جائے گا۔اعلامیے کے مطابق ہیئر ڈریسر، بیوٹی پارلر، جم، گیمنگ زون اور کیفے بند رہیں گے جب کہ ٹرانسپورٹ پر بھی پابندیاں برقرار رہیں گی۔خیبر پختونخوا میں بھی لاک ڈاو¿ن میں نرمی اور چھوٹے کاروبار کرنے والے افراد کو چار دن کاروبار کی اجازت دینے کے بعد صدر بازار میں دکانیں کھلنا شروع ہو گئیں۔دکاندار دکانوں کی صفائی کر تے ہوئے انھوں نے نہ ماسک لگائے اور نہ ہی دستانے پہنے، دکاندار ایک دوسرے سے گرمجوشی سے گلے بھی ملتے دکھائی دیے۔اسلام آباد میں پہلے مرحلے میں تعمیراتی سیکٹر کھول دیا گیا ہے، سینیٹری ورکس اور ہارڈ ویئر کی دکانیں بھی کھلی رہیں گی، جنرل اسٹور، بیکری، آٹا چکی، ڈیری شاپس کو ایس او پیز کے ساتھ پورا ہفتہ کھلی رکھنے کی اجازت ہے۔پنجاب میں صبح 8 سے شام 5 بجے تک کاروبار کھلے گا تاہم شاپنگ مال اورپلازہ بند رہیں گے، خیبر پختونخوا میں تاجروں کو دکانیں اورمارکیٹ شام چار بجے تک کھولنے کی اجازت ہے جب کہ بلوچستان میں دکانیں اور مارکیٹ شام پانچ بجے تک کھولنے کی اجازت ہے تاہم پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی برقرار ہے۔لاک ڈاﺅن میں نرمی کے حوالے سے حکومتی نوٹیفکیشن جاری ہوتے ہی گزشتہ روز ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے اہم تجارتی مراکز میں رونقیں بحال ہوگئیں۔ بازار عیدالفطر کی خریداری کے سلسلے میں آئے ہوئے شہریوں سے کھچا کھچ بھر گئے۔ دو ماہ سے شہر بھر کی ویران سڑکوں پر دیکھتے ہی دیکھتے ٹریفک کا سیلاب اُمڈ آیا۔ حسین آگاہی تا گھنٹہ گھر چوک پر کئی گھنٹے بدترین ٹریفک جام رہا۔ حسین آگاہی، چوک بازار، پاک گیٹ، حرم گیٹ، اندرون بوہڑ گیٹ، حسین آگاہی الیکٹرونکس مارکیٹ، ممتاز آباد،صرافہ بازار، موبائل پلازے، گلگشت بوسن روڈ، گردیزی مارکیٹ، ابدالی روڈ، شاپنگ مال، کینٹ کی تمام اہم مارکیٹوں میں خواتین اور بچوں کا خاصا رش رہا جہاں کرونا وائرس سے بچاﺅ کیلئے حکومتی ایس او پیز پر عملدرآمد کم ہی دکھائی دیا۔ اس طرح آٹو پلازے، سپیئرپارٹس، ڈیکوریشن پارٹس، کار موٹر شورومز بھی کھول لئے گئے۔ اچانک بازاروں، مارکیٹوں، پلازوں میں عوام اور ٹریفک کے اژدھام کی وجہ سے گرمی کی شدت بھی بڑھ گئی۔ ٹریفک کا دھواں بھی کرونا کی وبا سے متاثرہ افراد کیلئے کافی پریشانی کا باعث بنا رہا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے مارکیٹیں کھولے جانے کی اجازت پر حسین آگاہی الیکٹرونکس مارکیٹ پر دکانداروں نے الیکٹرونکس کا سامان فٹ پاتھوں اور سڑک کنارے رکھ کر تجاوزات قائم کرلیں جن سے صبح 9 سے شام 6بجے تک ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی۔ اسی طرح گلگشت گردیزی مارکیٹ میں بھی تجاوزات مافیا چھایا رہا جس کی وجہ سے خریداری کیلئے آنے والے شہریوں کو شدید پریشانی اٹھانا پڑی۔ موبائل پلازے کھلنے سے بھی پلازوں میں نوجوانوں کا خاصا رش رہا۔ کینٹ اور رحمہ موبائل پلازہ میں بھی کافی گہما گہمی دیکھنے میں آئی لیکن دوسری طرف حکومت کے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مارکیٹیں شام 5بجے بند ہونے کے بجائے رات گئے تک کھلی رہیں جبکہ پولیس اور رینجرز دکانداروں کو جاری ایس او پیز پر عملدرآمد کرنے بارے اعلانات کرتی رہیں۔ بعض مارکیٹوں میں دکانیں وقت مقررہ پر بند نہ کرنے پر تاجروں اور پولیس کے درمیان توتکار، تلخ کلامی بھی ہوئی تاہم اس دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا۔ مارکیٹیں کھلنے پر دکانداروں اور تاجر عہدیداران نے سکھ کا سانس لیا ہے اور وزیراعظم سے درخواست کی ہے کہ وہ عیدالفطر کے دوران شام 5بجے دکانیں بند کرنے کے اوقات کار میں توسیع کریں۔

شہباز شریف آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں کیوں شریک نہ ہوئے؟

لاہور(ویب ڈیسک)ڈاکٹروں کی ہدایت پر مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔شہبازشریف کے معالجین کی طبی رائے سامنے آگئی ہے جس کے مطابق ان کے معالجین پروفیسر نصرت اللہ چوہدری اور ڈاکٹر ایس عباس رضا نے شہباز شریف کو قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا کہا۔رپورٹ کے مطابق پروفیسر نصرت اللہ چوہدری کا کہنا تھا کہ اخبارات سےمعلوم ہوا کہ آپ قومی اسمبلی اجلاس میں شریک ہونے جا رہے ہیں، آپ کے جذبے سے بخوبی آگاہ ہوں کہ آپ فرض اور ذمہ داریوں کی انجام دہی سے پیچھے نہیں رہ سکتے۔پروفیسر نصرت اللہ چوہدری کاکہنا تھا کہ 1980 سے آپ کا معالج ہوں اور آپ کی طبی صورتحال سے آگاہ ہوں، آپ کینسر کےمرض کا سامنا کرچکے ہیں اس لیے آپ کا مدافعت کا نظام وبائی امراض کے مقابلے کی سکت نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت لاک ڈاو¿ن نرم کررہی ہے، آپ اور آپ جیسے افراد کے لیے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔ڈاکٹر ایس عباس رضا کا شہباز شریف سے کہنا تھا کہ میں سرطان اورٹیومر کے آپ کے معالج کےطور پر یہ تاکید کرتا ہوں کہ آپ عوامی مقامات، ہجوم اورزیادہ افراد کی موجودگی کے مقام پرنہ جائیں۔
وزیراعظم عمران خان بھی اجلاس میں غیر حاضر
کورونا کے خلاف اقدامات کے لیے قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان بھی شریک نہیں ہوئے۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وزیر اعظم کی غیرحاضری پر شدید تنقید کی۔دوسری جانب پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض چوہان نے شہباز شریف پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہباز شریف بزدل اعلیٰ ہیں۔اس کے علاوہ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری بھی قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے اور کہا کہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کرنے والے ایک ہزار افراد رسک پر ہوں گے۔خیال رہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس آج سہ پہر 3 بجے پارلیمنٹ ہاو¿س میں شروع ہوا جس میں شرکت کے لیے ارکان کا کورونا ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا تھا جب کہ پارلیمنٹ ہاو¿س کے باہر سینیٹائزر گیٹ اور ٹمپریچر معلوم کرنے کی مشین لگائی ہے۔چند روز قبل اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر میں بھی مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی تھی اور وہ اس وقت آئسولیشن میں ہیں۔

کورونا کے مرکز ووہان میں وائرس نے دوبارہ سر اٹھانا شروع کردیا

(ویب ڈیسک)عالمی وبا کورونا وائرس کے مرکز چین کے شہر ووہان میں وائرس نے دوبارہ سر اٹھانا شروع کردیا۔خیال ہے کہ دنیا میں سب سے پہلے چین کے شہر ووہان میں کورونا وائرس کے کیسز سامنے آئے تھے جس کے بعد چین نے پورے شہر کو سیل کردیا تھا تاہم بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شہر سیل ہونے سے قبل ہی تقریباً 5 لاکھ افراد ووہان سے دنیا بھر میں پھیل چکے تھے۔
76 روزہ سخت لاک ڈاو¿ن کے بعد ووہان میں سفری پابندیاں ختم
چین نے 3 ماہ سے زائد سخت لاک ڈاو¿ن کے بعد ووہان اور دیگر شہروں کو کورونا سے تقریباً پاک کردیا تھا اور 3 اپریل کے بعد ووہان میں کورونا وائرس کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا تھا جبکہ 8 اپریل کو ملک بھر میں لاک ڈاو¿ن بھی ختم کردیا گیا تھا۔تاہم اب برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ووہان میں وائرس دوبارہ سر اٹھارہا ہے اور وہاں آج 5 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔چینی حکام کا کہنا ہے کہ پانچوں مریض ایک ہی رہائشی کمپاو¿نڈ کے مکین ہیں۔ ان میں سے ایک 89 سالہ شخص میں اتوار کو کورونا کی تشخیص ہوئی تھی اور ا?ج اس کی اہلیہ میں بھی وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔
کورونا کی وبا پھیلنے کے بعد پہلی بار چین میں کوئی موت سامنے نہیں آئی
مذکورہ پانچوں افراد کو کورونا کے مشتبہ کیسز کی کیٹیگری میں رکھا گیا تھا کیوں کہ بظاہر ان میں کورونا کی کوئی علامات موجود نہیں تھیں۔ چین اپنے سرکاری اعداد و شمار میں ایسے لوگوں کو شامل نہیں کرتا جن میں کورونا کی تصدیق تو ہو لیکن علامات ظاہر نہ ہوئی ہوں۔
ایسی لوگوں کی جانب سے کورونا کے پھیلاو¿ کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے لہٰذا حکام ان افراد کی مسلسل مانیٹرنگ کرتے ہیں۔اس کے علاہ شمالی کوریا اور روس کی سرحد سے متصل صوبہ جیلن کے شہر شولان میں بھی مزید 11 کیسز سامنے آگئے ہیں اور حکومت کی جانب سے وہاں مارشل لائ نافذ کردیا گیا ہے جبکہ تمام عوامی مقامات کو سیل کردیا گیا ہے۔شولان کو انتہائی خطرناک شہر کا درجہ دے دیا گیا ہے اور فی الحال پورے چین میں کسی دوسرے شہر کو اس کیٹیگری میں نہیں رکھا گیا۔شولان میں تمام 11 کیسز مقامی طور پر منتقل ہوئے ہیں، سب سے پہلے پبلک سیکیورٹی بیورو کی لانڈری میں کام کرنے والی 45 سالہ خاتون کورونا کا شکار ہوئیں جس کے بعد ان کے شوہر تین بہنیں اور دیگر اہل خانہ بھی متاثر ہوگئے۔ یہ معلوم نہیں ہوا کہ خود وہ خاتون کیسے وائرس کا شکار ہوئیں۔پیر کو چین میں مجموعی طور پر 17 نئے کیسز سامنے آئے جو کہ 28 اپریل کے بعد سب سے زیادہ ہیں۔ ان کیسز کے بعد چین میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 82918 ہوگئی ہے جبکہ 4633 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

کھلاڑی فنکاروں کی طرح ہر اچھی پرفارمنس پر داد چاہتے ہیں: اظہر محمود

(ویب ڈیسک)پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ا?ل راو¿نڈر اور سابق بولنگ کوچ اظہر محمود کا کہنا ہے کہ تماشائیوں کے بغیر کرکٹ کا مزہ نہیں ہوگا اور کھلاڑی بور یت محسوس کریں گے لیکن فی الوقت کرکٹ کی واپسی کے لیے ایسا کرنا پڑ جائے تو کوئی حرج نہیں۔اظہر محمود نے کہا کہ اس وقت تو سب ہی کی کوشش یہ ہے کہ کرکٹ واپس ہو کیوں کہ بورڈز کو اپنی آمدنی کا سلسلہ بھی دیکھنا ہے۔ان کا کہنا تھا یہ بات درست ہے کہ کھلاڑی بغیر تماشائیوں کے بور ہو جائیں گے کیوں کہ کھلاڑی بھی فنکاروں کی طرح ہوتے ہیں، انہیں اچھا لگتا ہے جب اچھے شاٹ یا اچھی گیند پر لوگ ان کو داد دیں، یہ نہیں ہوگا تو کرکٹ کا مزہ ماند پڑ جائے گا لیکن کرکٹ کی واپسی یقینی بنانے کے لیے اگر کچھ وقت کے لیے ایسا کرنا بھی پڑتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں، جب حالات بہتر ہوجائیں گے تو تماشائی بھی میدانوں میں واپس آجائیں گے۔اظہر محمود نے اپنا ذاتی تجربہ بتاتے ہوئے کہا کہ جب وہ کینٹ کے لیے کھیلتے تھے تو چار پانچ ہزار تماشائی میدان میں ہوتے تھے پھر جب آئی پی ایل کھیلنے گئے تو وہا ں 35 ہزار تماشائیوں کے سامنے کھیلا اور پھر آئی پی ایل کھیل کر واپس آئے تو وہ ماحول مس کرنے لگے تھے، انہوں نے کہا کہ تماشائی جو ماحول بناتے ہیں اس کا کھلاڑیوں پر اثر ہوتا ہے۔ایک سوا ل پر 21 ٹیسٹ اور 143 ایک روزہ میچز کھیلنے والے اظہر محمود کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کی حفاظت کے لیے گیند کو چمکانے کے لیے تھوک یا پسینے کا استعمال روکنا مناسب عمل ہو گا لیکن ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ گیند بنانے والے ادارے کوئی ایسا مواد تیار کریں جس سے اننگز کے دوران گیند کو چمکایا جاسکے تاکہ بیٹ اور بال کا بیلنس برقرار رہے۔ایک سوال پر سابق آل راو¿نڈر کا کہنا تھا کہ لاک ڈاون کے دوران کرکٹرز کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ اپنے کھیل کا از خود تجزیہ کریں اور یہ طے کریں کہ کہاں ان میں کمی ہے اور وہ اپنی کارکردگی کیسے بہتر کر سکتے ہیں۔قومی ٹیم کے سابق بولنگ کوچ کا کہنا تھا کہ کبھی کبھار بریک ملنا کھلاڑی کے لیے اچھا ہوجاتا ہے کیوں کہ اس دوران یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ میدان سے دور ہوکر اپنے کھیل پر مکمل تجزیہ کرے اور اسکو بہتر بنانے کے لیے حکمت عملی سوچے۔ان کا کہنا تھا کہ فزیکل ٹرینگ ممکن نہیں لیکن پھر بھی کھلاڑی وڈیوز دیکھ کر اپنا ذہن بنا سکتے ہیں کہ کس بیٹسمین کو کیسے آﺅٹ کرنا ہے یا کس کی بولنگ کا کیسے سامنا کرنا ہے۔اظہر محمود نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کھلاڑیوں کے لیے آن لائن سیشنز کے انعقاد کی تعریف کی اور کہا کہ اس سے کھلاڑیوں کو کھیل کے مثبت پہلو ڈسکس کرنے کا موقع ملے گا۔انھوں نے کہا کہ اس وقت شاہین شاہ کمال کے بولر ہیں اور انہیں امید ہے کہ وہ بڑے کھلاڑی بن سکتے ہیں۔اظہر محمود کا کہنا تھا کہ موسیٰ، نسیم شاہ اور حسنین بھی ٹیلنٹیڈ ہیں لیکن ضروری ہے کہ ان کو پلان کر کے استعمال کیا جائے، یہ دیکھا جائے کہ کون سا بولر کس فارمیٹ کے لیے زیادہ مو¿ثر ہے اور مناسب پلاننگ کرکے ورک لوڈ مینج کیا جائے۔

خلیل الرحمان قمر کا ’ارطغرل غازی‘ کی طرز پر ڈراما لکھنے کا اعلان

کراچی(ویب ڈیسک) پاکستان کے مایا ناز مصنف خلیل الرحمان قمرکا کہنا ہے کہ وہ ترکش ڈرامے”ارطغرل غازی“ کی طرز پر کہانی لکھنے جارہے ہیں۔پاکستان کو ”میرے پاس تم ہو“ اور ”پیارے افضل“ سمیت متعدد کامیاب سیریلز دینے والے مصنف خلیل الرحمان قمر نے حال ہی میں ایک ٹاک شو کے دوران کہا ہے کہ وہ ڈراما سیریل ”ارطغرل غازی“ کو پاکستان میں بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس کے لیے انہوں نے اس کی کہانی بھی لکھنی شروع کردی ہے۔ترک مسلمانوں کی تیرہویں صدی میں اسلامی فتوحات پر مبنی ترکش ڈراما سیریل

”ارطغرل غازی“ نے پاکستان میں مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کردئیے ہیں۔ اس ڈرامے کو نہ صرف یوٹیوب پر لوگ بے تحاشہ پسند کررہے ہیں بلکہ یہ ٹوئٹر اوریوٹیوب پر ٹاپ ٹرینڈ کررہا ہے اورپاکستانی سوشل میڈیا تو اس ڈرامے کے کردار و مکالموں سے بھرا پڑا ہے۔”ارطغرل غازی“ کو محض دو ہفتوں میں پاکستان میں اتنی زیادہ مقبولیت ملی ہے جتنی کہ ترکی میں 5 سال میں بھی نہیں ملی تھی۔ پاکستان میں اس ڈرامے کی روزبروز بڑھتی مقبولیت کے پیش نظر نجی ٹی وی چینل کی اینکر نے اپنے ٹاک شو میں خلیل الرحمان قمر کو مدعو کیا

اور ان سے پوچھا کہ کیا ا?پ ارطغرل کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اس طرح کی کہانی پر کام کرنے کا سوچ رہے ہیں؟ جس پر خلیل الرحمان قمر نے کہا بالکل میں سوچ رہاہوں اور 3 روز قبل میں نے ہمایوں سعید سے اس موضوع پر بات بھی کی تھی جس کے بعد ہم نے ارطغرل کی طرح کے پراجیکٹ پر کام کرنے کا فیصلہ کیا۔خلیل الرحمان قمر نے مزید کہاہماری حدود بہت ہیں اور ہمیں اس طرح کا طعنہ اس لیے نہیں دیا جاسکتا کہ ہمارے پاس صرف وسائل کا پرابلم ہے ورنہ ہمارے پاس بہترین اداکاروہدایت کار اور بہترین دیکھنے والے موجود ہیں۔ خلیل الرحمان کی اس بات پر شو کی میزبان نے کہا خلیل صاحب ا?پ اس وقت یہ خبر دے کر کہ ا?پ ’ارطغرل‘ کی طرح کے پراجیکٹ پر کام کرنے کا سوچ رہے ہیں پاکستانیوں کو خوشخبری دے رہے ہیں۔ میزبان کی اس بات پر خلیل الرحمان نے کہا میں صرف سوچ نہیں رہا بلکہ میں اس پراجیکٹ کو کل سے لکھنا شروع کررہاہوں۔واضح رہے کہ ”ارطغرل غازی“ نے پاکستان میں دھوم مچادی ہے پی ٹی وی کے یوٹیوب چینل (ٹی آر ٹی ارطغرل بائے پی ٹی وی) پر اس ڈرامے کی پہلی قسط کو صرف دو ہفتوں میں 13 ملین یعنی ایک کروڑ 30 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ جب کہ ترکی میں اس ڈرامے کی پہلی قسط کو 5 برسوں میں 12 ملین ویوز یعنی ایک کروڑ 20 لاکھ بار دیکھا گیا تھا۔”ارطغرل غازی“ کی پاکستان میں غیر معمولی مقبولیت سے ترک ٹی وی چینل ترکش ریڈیو ٹی وی (ٹی ا?رٹی) میں ڈیجیٹل ترکش ریڈیو اور ٹی وی کے ڈائریکٹر ریاض منٹی بھی حیران ہیں اور انہوں نے اس چینل کو ایک ماہ میں سب سے زیادہ سبسکرائب کیے جانے والا چینل بنانے کی درخواست کی ہے۔