احسان مانی ڈومیسٹک کرکٹ کو مشکل سے نکالنے کیلئے کو شاں

لاہور(آئی این پی) پی سی بی کے چیئرمین احسان مانی نے کہا ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ کو مشکلات سے نکالنے کے لئے بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے ایک کتاب کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر پی سی بی کے ڈائریکٹر انٹرنیشنل ذاکر خان ، ڈائریکٹر ڈومیسٹک ہارون الرشید ، سابق کپتان عامر سہیل ،چیف آپریٹنگ آ فیسر سبحان احمد سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔ان کا کہنا تھا کہ آ ج کل پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ مشکل صورت حال کا شکار ہے، کوشش ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ کو دوبارہ پوری آب وتاب سے بحال کریں۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کے 90 کی دہائی میں اور96 کے ورلڈکپ سے پہلے بھارتی بورڈ کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے۔خیال رہے کہ گزشتہ دونوں احسان مانی نے کہا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی نے کہا تھا کہ ترجیحات میں خواتین کی کرکٹ بھی شامل ہے، کبھی خواتین کی کرکٹ کو نظر انداز نہیں کریں گے۔ کوشش ہوگی کہ سری لنکا سے پوری سیریز پاکستان میں ہو۔تقریب میں انھوں نے صاحب کتاب طاہر میمن کی پاکستان کرکٹ کی خدمات کا بھی تذکرہ کیا اور انھیں قابل تعریف ٹھہرایا۔

نیب کے مفرور ملزم حسین نواز برطانیہ سے سعودی عرب منتقل ہو گئے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نیب کے مفرور ملزم حسین نواز برطانیہ سے سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔ یہ انکشاف نجی ٹی وی کے پروگرام میں سینئر صحافی نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حسین نواز اس وقت لندن میں نہیں ہیں۔ وہ وہاں سے سعودی عرب منتقل ہو چکے ہیں۔

شریف خاندان میں پھوٹ پڑ چکی ہے:شیخ رشید کا دعویٰ

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے دعویٰ کیا ہے کہ شریف خاندان میں پھوٹ پڑ چکی ہے، مسلم لیگ (ن)اور پیپلزپارٹی نے ملک کو لوٹاہے، ملکی معیشت کی بحالی کے لیے موجودہ حکومت کو آئی ایم ایف سے مالی امداد حاصل کرنی چاہیے۔ ایک انٹرویو میں انہوںنے کہاکہ شریف خاندان میں پھوٹ پڑ چکی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ معلوم نہیں حمزہ شہباز کس بات کے لیڈر بنے ہوئے ہیں۔ شیخ رشید نے کہاکہ میرے گھر پولیس آتی تھی تو ساتھ جانے کیلئے بیگ پہلے سے تیار ہوتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر بھی غیر ملکی کاروبار واپس لانے اور ملکی اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ملکی معیشت کی بحالی کے لیے موجودہ حکومت کو آئی ایم ایف سے مالی امداد حاصل کرنی چاہیئے۔ ماضی کی حکومتوں کی ناقص پالیسیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومتوں نے جس بے دردی سے ملکی خزانے کو لوٹا اس کی مثال نہیں ملتی۔

16سے 20اپریل بھارتی حملے کا خطرہ

ملتان (خبر نگار) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مودی سرکار نے سیاسی مقاصد کے لئے پورے خطے کے امن کو دا ﺅپر لگا دیا، جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں ،ہمارے پاس ٹھوس ثبوت موجودہیں کہ بھارت پاکستان میں 16سے 20 اپریل کے درمیان کارروائی کرسکتا ہے، اور ایک نیا ناٹک رچایا جا سکتا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں ایک پلوامہ جیسا نیا واقعہ رونما کیا جا سکتا ہے اور اس کا مقصد پاکستان پر سفارتی دباﺅ بڑھانا اور اپنی عسکری کارروائی کو جواز فراہم کرنا ہو گا،یہ اس کی بنیاد بن سکتی ہے مقبوضہ کشمیر میںا نسانی حقوق کی خلاف ورزی تو پہلے ہی ہو رہی تھیں تاہم پلوامہ واقعہ کے بعد اس میں کئی گنا شدت آئی ہے اور واقعات بڑھ گئے ہیں، جبر اور تشدد بڑھا ہے، مظالم میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی برادری کو اس سے صرف نظر نہیں کرنا چاہیئے ۔اگر وہ صرف نظر کرتے ہیں تو اس سے پورے جنوبی ایشیاءکا امن اور استحکام متاثر ہو سکتا ہے ۔اتوار کو ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ،بھارت کی جانب سے پاکستان میں 16 سے 20 اپریل کے درمیان کارروائی کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے پاکستان کے پاس قابل بھروسہ اطلاعات ہیں کہ بھارت تیاری کر رہا ہے ، جنگ کے بادل اب بھی منڈلا رہے ہیں، مودی سرکار نے سیاسی مقاصد کے لیے پورے خطے کے امن کو داﺅ پر لگا دیا ہے، ہمارے پاس مصدقہ انٹیلی جنس ہے کہ بھارت ایک اور جارحیت کا منصوبہ بنارہا ہے ، وزیر اعظم سے مشاورت سے فیصلہ کیا کہ اس اطلاع کو عالمی برادری کے ساتھ شیئر کریں اور بھارتی عزائم کو بے نقاب کریں،سیکریٹری خارجہ نے چین، امریکا، برطانیہ و دیگرممالک سے رابطہ کیا ہے، نہیں چاہتے بھارت حملے کی حماقت کرے، ہم زندہ قوم ہیں، اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں، بھارت بہانے کے طور پر مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ جیسا واقعہ بھی کراسکتا ہے، عالمی برادری بھارت کے غیر ذمہ دارانہ رویے کا نوٹس لے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت مسلسل کشیدگی کو بڑھاتا رہا اور پاکستان مسلسل کشیدگی کو کم کرنے کے اقدامات اٹھاتا رہا۔ بھارت کی جانب سے اس قسم کے بیانات آتے رہے کہ جس سے جنگی کیفیت کو ہوا دی گئی اور پورے خطہ کے امن اور استحکام کو متاثر کیا گیا اور اس پر مجھے کل بھی تشویش تھی اور آج بھی تشویش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی مودی سرکار نے اپنے سیاسی مقاصد کے لئے اور الیکشن میں اپنی مقبولیت میں اضافہ کے لئے پورے خطہ کے امن اور استحکام کو داﺅ پر لگا دیا۔ حال ہی میں بھارت کی کابینہ کمیٹی برائے سیکیورٹی کا اجلاس منعقد ہوتا ہے اور اس اجلاس کی صدارت بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کرتے ہیں اور اس اجلاس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان شریف ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہم پاکستان پر کاروائی کے لئے تیار ہیں، ہمیں سیاسی اجازت چاہیئے۔ اس پر نریندرا مودی کہتے ہیں میں نے تو آپ کو فری ہینڈ دے رکھا ہے ، میں نے آپ کو اجازت دے رکھی ہے ۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یہ میں اب کی بات کر رہا ہوں، یہ قابل تشویش اور قابل غور بات ہے، یہ تناﺅ کو ایک نئی سطح پر لے جانے کی بات ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ٹارگٹس کا انتخاب بھی کر لیا ہے اور یہ ٹارگٹس ملٹری نوعیت کے ٹارگٹس ہیں اور ضروری نہی کہ یہ ٹارگٹس آزاد کشمیر اور جموں کشمیر تک محدود ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس خبر کی کوئی تردید جاری نہیں کی جاتی، یہ قابل غور چیز ہے۔ میری نظر میں یہ ایک بہت خطرناک کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں ذمہ داری سے بات کر رہا ہوں ، میرے پاس ایک ذمہ دار عہدہ ہے اور میرے کہے ہوئے الفاظ بین الاقوامی میڈیا کی زینت بنیں گے۔ ہمارے پاس اس وقت قابل بھروسہ انٹیلی جنس ہے کہ بھارت ایک نیا منصوبہ تیار کر رہا ہے ، اس کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے اور پاکستان پر ایک اور جارحیت کا امکان ہے اور ہماری اطلاعات کے مطابق 16سے 20اپریل تک یہ کاروائی کی جاسکتی ہے اور ایک نیا ناٹک رچایا جا سکتا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں ایک پلوامہ جیسا نیا واقعہ رونما کیا جا سکتا ہے اور اس کا مقصد پاکستان پر سفارتی دباﺅ بڑھانا اور اپنی عسکری کاروائی کو جواز فراہم کرنا ہو گا،یہ اس کی بنیاد بن سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ لا محالہ اس کے خطہ کے امن اور استحکام پر کیا اثرات ہوں گے۔ ان مصدقہ اطلاعات کو سامنے رکھتے ہوئے دفتر خارجہ نے فی الفور فیصلہ کیا کہ ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک کے اسلام آباد میں موجود سفیروں کو مدعو کریں اور آگ سے دو روز قبل سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے سلامتی کونسل کے پانچوں مسقتل رکن ممالک کے سفیروں کو دفتر خارجہ میں دعوت دی اور اپنی تشویش سے آگاہ کیا، اپنی معلومات سے انہیں آگاہ کیا اور مطلع کیا کہ یہ ہماری اطلاعات ہیں اور اس قسم کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری اس غیر ذمہ دارانہ رویہ کا نوٹس لے اور ان کو تنبیہ کرے کہ اس راستے پر وہ نہ چلیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے علم میں یہ بھی کہ پلوامہ واقعہ کے بعد بھارت 26فروری کو پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارکاب کرتا ہے اور پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتا ہے اور 1971 کے بعد پہلی مرتبہ لائن آف کنٹرول کو عبور کرتا ہے اور بھارتی طیارہ پاکستان میں آکرکاروائی کرتا ہے تو اس پر دنیا خاموش رہتی ہے ۔ہم اتنے لاعلم نہیں ہیں کہ ہمیں دنیا کی خاموشی کی وجوہات کا علم نہ ہو، خاموشی کیوں ہے یہ جیو پولیٹکس ہے جو خاموشی کی وجہ بن رہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کی عالمی برادری کو خطہ کی اور فلیش پوائنٹ کی نزاکت کو سامنے رکھتے ہوئے خاموش نہیں رہنا چاہیئے، اگر وہ اس خطہ میں امن اور استحکام دیکھنا چاہتے ہیں تو وہ خاموش تماشائی نہیں رہ سکتے انہیں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور کردار ادا کرنا چاہییے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی تو پہلے ہی ہو رہی تھیں تاہم پلوامہ واقعہ کے بعد اس میں کئی گنا شدت آئی ہے اور واقعات بڑھ گئے ہیں، جبر اور تشدد بڑھا ہے، مظالم میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی برادری کو اس سے صرف نظر نہیں کرنا چاہیئے۔اگر وہ صرف نظر کرتے ہیں تو اس سے پورے جنوبی ایشیاءکا امن اور استحکام متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں کی پر امن اور سیاسی جدوجہد کو پہلے بھی ہم نے سراہا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ان کا اخلاقی اور قانونی حق ہے ، جو وہ آواز بلند کر رہے ہیں اس کو بیدردی سے کچلا جا رہا ہے۔ وہ اگر آواز اٹھائیں گے تو پاکستان اس کی قانونی حیثیت اور اخلاقیات کو سامنے رکھتے ہوئے ان کا ساتھ دیتا رہا ہے اور یہ حکومت بھی ان کا ساتھ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم زندہ قوم ہیں اور دفاع کا حق رکھتے ہیں، اگر بھارت نے جارحیت کا مظاہرہ کیا تو ملک کا بھرپور دفاع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی پائلٹ کو لوٹانے کا مقصد امن کا پیغام اور کشیدگی کم کرنا تھا، ہم نہیں چاہتے کہ بھارت کی جانب سے ایسی حماقت دوبارہ دہرائی جائے، پاکستان کل بھی امن کا داعی تھا اور آج بھی ہے، واہگہ بارڈرکی میٹنگ بھی بھارت نے کینسل کی جبکہ ہم نے مزید 360 بھارتی مچھیروں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم پلوامہ واقعہ کے بعدلائن آف کنٹرول پر مسلسل فائرنگ کی جارہی ہے، دنیا جانتی ہے کہ پاکستان نے ذمہ دارانہ اور بھارت غیرذمہ دارانہ رویہ اپنایا۔انہوں نے کہا کہ ابھی بھارت میں انتخابات ہیں، الیکشن کے دوران بھارتی حکومت کی طرف سے ہمت اور جرات کا مظاہرہ مشکل ہے لیکن انتخابات کے بعد کشمیر، پانی، سیاچن، راہ داری یہ مسائل بیٹھ کر بات چیت سے حل کیے جاسکتے ہیں، امید ہے بھارت اس اہمیت کو سمجھے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے دعوی ٰ کیا کہ 3 دہشت گرد کیمپس تباہ کیے، بھارت نے کارروائی میں 350 کے لگ بھگ دہشت گردوں کو مارنے اور ایک ایف سولہ طیارہ بھی گرانے کا دعوی کیا، بھارت نے غیرذمہ دارانہ رویہ کا مظاہرہ کیا، مودی سرکار ایک بھی لاش نہیں دکھا سکی، پاکستان نے ایف 16 گرانے کے دعوے کی بھی تردید کی اور اب امریکا نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے پاس ایف 16طیارے پورے ہیں۔

محمد صلاح کی لیور پول کیلئے تیز ترین گولز کی نصف سنچری

لاہور (ویب ڈیسک) مصر سے تعلق رکھنے والے مشہور فٹ بالر محمد صلاح نے انگلش پریمیئر لیگ کے اہم میچ میں لیور پول کی جانب سے بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کلب کے لیے اپنے 50 گول مکمل کیے اورٹیم کو ساوتھمپٹن کے خلاف 3-1 سے فتح دلا دی۔محمد صلاح نے ٹیم کھیل کے 80 ویں منٹ میں گول کرکے ٹیم کو ایک گول سے برتری دلائی جس کے بعد 86 ویں منٹ میں جورڈن ہینڈرسن نے گول کرکے برتری کو 3-1 کردیا اور یوں ٹیم کو کامیابی ملی۔لیور پول نے اس کامیابی کے ساتھ انگلش پریمیئر لیگ میں دوبارہ سرفہرست پوزیشن حاصل کرلی اور اس وقت دفاعی چمپیئن مانچسٹر سٹی سے دو پوائنٹس برتری لیے ہوئے ہے اور اگلے ہفتے تک یہی پوزیشن پر برقرار رہے گی۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق کامیابی کے بعد لیورپول کے منیجر جورگین کلوپ کا کہنا تھا کہ ‘اس وقت ہمارے 82 پوائنٹس ہیں جو اس لیگ میں بڑی کامیابی ہے اور ہرکوئی ہمارے انتظار میں ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے بہت خوشی ہے اور یہ غیرمعمولی ہے کیونکہ ہم ٹائٹل کی ریس میں ہیں جو بہترین ہے’۔

محمد صلاح نے کہا کہ ‘پریمیئر لیگ میں لیور پول کے لیے یہ 50 واں گول تھا جو خاص تھا اور میں بہت خوش ہوں’۔

گزشتہ 9 میچوں میں مسلسل ناکام رہنے والے محمدصلاح نے اس گول پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘9 میچوں کے بعد ٹیم کی مدد کے لیے گول کرنے پر میں بہت خوش ہوں’۔

ٹوئٹر میں ’لیبل‘ کا نیا فیچر متعارف

لاہور (ویب ڈیسک ) مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر گزشتہ کچھ عرصے سے نئے فیچر متعارف کرائے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔’ٹوئٹر‘ نے جہاں رواں برس کے آغاز میں ویب سائٹ کو مکمل طور پر نئے ڈیزائن کے ساتھ متعارف کرایا تھا۔وہیں بعد ازاں ٹوئٹر نے ’اوریجنل ٹویٹر‘ کا فیچر بھی آزمایا تھا۔تاہم اب ’ٹوئٹر‘ نے ’لیبل‘ نامی نیا فیچر متعارف کرادیا اور فوری طور پر اسے محدود صارفین کے لیے پیش بھی کردیا گیا۔ٹوئٹر نے نئے فیچر کو متعارف کرائے جانے کا اعلان ایک ٹوئیٹ کے ذریعے کیا۔اس فیچر کے تحت جب بھی کوئی ٹوئٹر صارف کسی ٹوئیٹ میں دوسرے شخص کو مینشن کرے گا اور مینشن کیا گیا شخص جب بھی اسی ٹوئیٹ کے پر ریپلائی کرے گا تو اس کے ٹوئیٹ کے اوپر ’مینشن‘ کا لفط لکھا ہوا آئے گا۔

ریلوے ٹریک پر یہ لکڑی کے تختے کیوں ہوتے ہیں؟

لاہور( ویب ڈیسک ) آپ نے ریل گاڑیوں کے ٹریک تو دیکھیں ہوں گے مگر کبھی سوچا اس پر اتنے زیادہ لکڑی کے تختے کیوں موجود ہوتے ہیں؟حالانکہ ان کے بغیر پٹری زیادہ بہتر محسوس ہوگی تو آخر ان تختوں کی موجودگی کی وجہ کیا ہے؟اس کا جواب بہت دلچسپ ہے بلکہ یہ معمولی نظر آنے والے تختے درحقیقت آپ کی جان بچاتے ہیں یعنی ٹرین کو پٹری سے اترنے نہیں دیتے۔ان تختوں کو سلیپرز کہا جاتا ہے جو کہ ٹرین کے وزن کو سہارنے کے ساتھ ٹریک کو اپنی جگہ مضبوطی سے جوڑے رکھنے میں مدد دیتے ہیں اور ان کی عدم موجودگی کی صورت میں چلتی ٹرین کو روکنا اور پٹری سے اٹرنے سے روکنا ناممکن ہوسکتا ہے۔ان تختوں کے درمیان اور ارگرد بجری بچھائی جاتی ہے جو لکڑی کے تختوں کو اپنی جگہ سے ہلنے سے نہیں دیتی۔درحقیقت ماضی میں انجنیئرز کے لیے چیلنج تھا کہ میلوں تک پھیلے اسٹیل ٹریک، جسے ٹرین کے وزن، رفتار اور اس سے پیدا ہونے والے ارتعاش اور حرارت کو برداشت کرنا ہوتا ہے، اپنی جگہ سے ہلنے نہ دیں، جبکہ سخت ترین موسم کے ساتھ ساتھ وہاں جھاڑیاں یا پودے اگ نہ سکیں۔تو اس دلچسپ مسئلے کا حل لگ بھگ 200 سال پہلے ان تختوں اور بجری کی شکل میں سامنے آیا اور جب سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔اس زمانے میں انجنیئرز نے خالی میدان میں ٹریک بچھانے کے بعد اس کی بنیاد کو اتنا بلند کیا کہ پانی میں ڈوب نہ سکے، جبکہ بنیاد کے اوپر بڑی مقدار میں بجری کو بھر دیا جس کے بعد لکڑی کے تختوں کو لگایا گیا جو کہ ساڑھے فٹ لمبے، نو انچ چوڑے اور 7 انچ موٹے تھے، ہر ایک میل کے اندر 3249 تختے لگائے گئے۔ان لکڑی کے تختوں کے درمیان بجری کو بھر دیا گیا ، پتھروں کے تیز کونے تختوں کو پھسلنے سے روکتے ہیں اور وہ اپنی جگہ مضبوطی سے لگے رہتے ہیں۔

موبائل و کمپیوٹر آلات موٹاپے کا باعث

لاہور (ویب ڈیسک ) ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ موبائل و کمپیوٹر آلات چلانے سے انسان نہ صرف ذہنی تناو¿ کا شکار بنتا ہے بلکہ اس سے موٹاپا بھی ہوتا ہے۔

اس سے قبل ہونے والی تحقیقات میں بھی یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال لوگوں میں ذہنی تناو¿ پیدا کرنے سمیت انہیں مایوس کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

علاوہ ازیں یہ بات بھی سامنے اچکی ہے کہ زیادہ دیر تک بچوں اور کم عمر افراد کا ٹی وی دیکھنا، کمپیوٹر اور موبائل استعمال کرنا ان کے لیے نہ صرف موٹاپے کا باعث بنتا ہے بلکہ ان کے مزاج میں چڑچڑا پن بھی شامل ہوجاتا ہے۔

تاہم اب ہونے والی تحقیق کے مطابق نہ صر موبائل و کمپیوٹر ا?لات استعمال کرنے بلکہ اس طرح کے دیگر ڈیجیٹل میڈیا ا?لات کے استعمال سے بھی لوگ موٹے ہوسکتے ہیں۔

سائنس جرنل ’برین امیجنگ اینڈ بہیویئر‘ میں شائع تحقیق کے مطابق ماہرین نے ڈیجیٹل میڈیا کے استعمال اور اس کے جسمانی صحت پر اثرات کا جائزہ لیا۔

رپورٹ کےمطابق ماہرین نے 132 رضاکاروں کا ڈیجیٹل میڈیا ا?لات یعنی موبائل، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ و ا?ئی پیڈ جیسے ا?لات کے استعمال سے ان کی جسمانی صحت پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹی وی کے سامنے زیادہ وقت گزارنے کا یہ نقصان جانتے ہیں؟
ماہرین نے رضاکاروں کی ذہنی و جسمانی صحت کا جائزہ لینے کے لیے نہ صرف ان کے آیم آر آئی ٹیسٹ کیے بلکہ ان سے ڈیجیٹل میڈیا استعمال کرتے وقت ان کے خیالات سے متعلق بھی دریافت کیا۔ماہرین کی جانب سے رضاکاروں کے جائزے کے جاری کیے گئے نتائج کے مطابق ڈیجیٹل میڈیا آلات کا استعمال کرتے وقت انسان نہ صرف بوکھ کو غیر اہم قرار دے دیتا ہے بلکہ وہ اس کے ذہن پر بھی کئی منفی اثرات پڑتے ہیں اور وہ چڑچڑے پن کا شکار ہوجاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ڈیجیٹل میڈیا آلات کے استعمال کے دوران کئی گھنٹوں تک ایک ہی جگہ پر بیٹھے رہنے سے انسان کا وزن بڑھنے لگتا ہے۔

مہنگائی کا طوفان ، دال ماش 35 روپے ، مونگ اور دال چنا 20 روپے تک مہنگی

کراچی(این این آئی)ڈالر کی قدر بڑھتے ہی مہنگائی کا جن بے قابو ہو گیا ہے ، اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں 20 سے 60 روپے تک اضافہ ہوگیاہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوگیاہے ۔ ڈالر اور پیٹرول کیا بڑھا، اشیائے خورونوش کو پر لگ گئے، دکانوں پر دال ماش 35 روپے فی کلو، دال مونگ اور دال چنا 20 روپے فی کلو تک مہنگی ہوگئی، چاول کی قیمت میں 30 سے 60 روپے فی کلو تک اضافہ ہوگیا، تیل اور گھی کی قیمتوں میں بھی 7 روپے تک اضافہ، پیکنگ اور ڈبے والے دودھ کی قیمت میں 10 روپے تک اضافہ ہوگیا۔دوسری جانب پاکستان شماریات بیورو نے یکم اپریل کو سبزیوں، دالوں اور گوشت کے نرخوں سے متعلق رپورٹ میں بتایا کہ سالانہ کی بنیاد پر سبز مرچیں151 فیصد، ٹماٹر 315 فیصد اور سرخ مرچیں27.6 فیصد مہنگی ہوئیں جبکہ دال کی قیمتوں میں ایک سال کے دوران 22.7 اور گوشت کی قیمتیں 13.8 فیصد بڑھیں۔ماہانہ کی بنیاد پر پیاز 39.2 فیصد، کینو 22.3 فیصد، ٹماٹر کی قیمت میں ایک ماہ میں 18.8 فیصد، کیلا 15 فیصد جبکہ دال مونگ کی قیمت ایک ماہ کے دوران 12.6 فیصد اور لہسن 11 فیصد مہنگا ہوا۔پاکستان شماریات بیورو کے مطابق کتابوں کی قیمتیں 31.3 اور ٹیوشن فیس میں 27.7 فیصد اضافہ ہوا جبکہ سیمنٹ کی قیمتیں ایک سال کے دوران 13.9 فیصد بڑھ گئیں۔

پاکستان کا آئی ایم ایف قرض رکوانے کیلئے امریکا میں بھارتی لابی سرگرم

واشنگٹن (ویب ڈیسک )رواں ہفتے وزیر خزانہ اسد عمر انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(ا?ئی ایم ایف) سمیت عالمی بینک گروپ کے موسم بہار کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے امریکا پہنچیں گے جہاں وہ عالمی مالیاتی ادارے کے بیل ا?و¿ٹ پیکج پر خصوصی گفتگو کریں گے۔

اسد عمر نے جمعہ کو پریس بریفنگ کے دوران بیان میں کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ امریکا سے مذاکرات سودمند رہیں گے اور اس ماہ کے ا?خر تک پاکستان ا?ئی ایم یاف کے بیل ا?و¿ٹ پیکج پر دستخط کر دے گا۔

مزید پڑھیں: مہنگائی کا سبب خسارہ ہے جو عوام کیلئے تکلیف دہ ہے، وزیر خزانہ

اسد عمر 8اپریل کو شروع ہونے والے موسم بہار کے اجلاس کے ا?غاز کے ایک دن بعد منگل کو امریکا پہنچیں گے جہاں یہ اجلاس 8سے 14 اپریل تک منعقد ہوں گے۔

ا?ئی ایم ایف مشن ممکنہ طور پر رواں ماہ کے ا?خر میں پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ پیکج کو حتمی شکل دے سکے۔

تاہم پاکستان کو ممکنہ طور پر ا?ئی ایم ایف سے ملنے والی امداد کو روکنے کے لیے امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں بھارتی لابی نے پاکستان مخالف مہم شروع کردی ہے۔

جمعہ کو امریکی کانگریس کے تین اراکین نے ٹیڈ ایس یوہو، ایمی بیرا اور جیورج ہولڈنگ نے امریکی سیکریٹریز ا?ف اسٹیٹ اور ٹریڑری کو خط لکھ کر ان سے کہا تھا کہ وہ ا?ئی ایم ایف کو پاکستان سے معاہدہ کرنے سے روکیں۔

نیب نے حمزہ شہباز کیلئے منی لانڈرنگ کرنیوالوں کے نام اور ثبوت حاصل کر لیے

لاہور(خبر نگار) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز کس طرح سے منی لانڈرنگ کرتے رہے، نیب نے ثبوت حاصل کر لیے۔ نیب نے ترسیلات زر سے متعلق حمزہ شہباز کے خلاف ثبوت حاصل کر لیے۔ حمزہ شہباز کو نامعلوم افراد کی جانب سے لاکھوں ڈالر کی رقم بھیجی گئی۔ 26جون 2007ءکو ایک لاکھ 65 ہزار ،980 ڈالرز کی رقم سرکلر روڈ لاہور بھیجی گئی۔ محبوب علی نامی شخص نے یہ رقم سرمایہ کاری کی غرض سے بھیجی۔ محبوب علی نامی شخص کے پاس پاسپورٹ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ 25جولائی 2007ء کو ایک لاکھ 67 ہزار ،980 ڈالر کی رقم حمزہ شہباز کو بھیجی گئی۔یہ رقم لاہور میں سرکلر روڈ پر نجی بینک کی برانچ میں بھیجی گئی۔ رقم منظور احمد نامی شخص کی ہدایت پر ایچ آئی بی سی کے ذریعے کے ایس منی ٹرانسفر سے بھیجی گئی۔ منظور احمد نے یہ رقم سرمایہ کاری کی غرض سے بھیجی۔تاہم منظور احمد نے آج تک کوئی سرمایہ کاری نہیں کی۔ جبکہ ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ نیب کی زیر حراست شریف خاندان کے دو ملازموں قاسم قیوم اور فضل داد کے انکشافات کے بعد حمزہ شہباز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔ مذکورہ ملزمان نے شریف خاندان کی آمدن سے زائد اثاثے بنانے میں مدد کی۔قاسم قیوم منی چینجر کا غیر قانونی کاروبار کرتا تھا، قاسم نے غیر قانونی طور پر اکاو¿نٹ میں ڈالرز اور درہم منتقل کیے، رقم شہباز شریف، حمزہ اور سلمان شہباز کے اکاو¿نٹ میں منتقل کی گئی۔ دوسرا ملزم فضل داد عباسی شریف گروپ کا پرانا ملازم ہے، ملزم فضل داد سلمان شہباز کے پاس 2005ء سے کام کر رہا تھا۔ فضل داد مختلف لوگوں سے رقوم جمع کر کے قاسم قیوم کو پہنچاتا تھا اور قاسم مشکوک ٹرانزیکشنز سے رقوم شہباز خاندان کو منتقل کرتا تھا۔ ملزمان رقوم اپنے ملازمین کے شناختی کارڈ کے ذریعے بھجوایا کرتے تھے، ملازمین کو رقوم بھیجنے سے متعلق کاروباری شخصیت کے طور پر پیش کرتے تھے۔ حمزہ شہباز کے وارنٹ گرفتاری منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار قاسم قیوم اور فضل داد کے انکشافات کے بعد جاری کئے گئے۔ قاسم قیوم منی چینجر کا غیر قانونی کاروبار کرتا تھا، قاسم نے غیرقانونی طور پر اکاﺅنٹ میں ڈالرز اور درہم منتقل کیے، رقم شہباز شریف، حمزہ اور سلمان شہباز کے اکاﺅنٹ میں منتقل کی گئی۔ دوسرا ملزم فضل داد عباسی شریف گروپ کا پرانا ملازم ہے، ملزم فضل داد سلمان شہباز کے پاس سنہ 2005 ءسے کام کر رہا تھا۔ فضل داد مختلف لوگوں سے رقوم جمع کر کے قاسم قیوم کو پہنچاتا تھا اور قاسم مشکوک ٹرانزیکشنز سے رقوم شہباز خاندان کو منتقل کرتا تھا۔ ملزمان رقوم اپنے ملازمین کے شناختی کارڈ کے ذریعے بھجوایا کرتے تھے، ملازمین کو رقوم بھیجنے سے متعلق کاروباری شخصیت کے طور پر پیش کرتے تھے۔

دہشتگردی کیخلاف جنک میں نوجوانوں کی بہادری سے کامیابیاں ملیں : آرمی چیف

راولپنڈی (آئی این پی ‘ مانیٹرنگ ڈیسک) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ نوجوان مستقبل کی قیادت ہیں،نوجوانوں کاہرشعبے میں اہم کردارہے، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں کامیابی کاسہرابہادرجونیئر قیادت کے سرہے۔ ہفتہ کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کے مطابق آرمی چیف سے امریکی کارنل یونیورسٹی کے طلبہ نے ملاقات کی جس میں کارنل یونیورسٹی کے طلباوطالبات نے آرمی چیف کاشکریہ اداکیا ، طلبہ نے کہا کہ یہ حقیقت ساتھ لےکرجارہے ہیں کہ پاکستان پرامن اورخوبصورت ملک ہے۔ آرمی چیف نے پاکستان اوردیرپاقیام امن کے حوالے سے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان مستقبل کی قیادت ہیں،نوجوانوں کاہرشعبے میں اہم کردارہے، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں کامیابی کاسہرابہادرجونیئر قیادت کے سرہے، انہوں نے کہا جونیئرقیادت نے قوم کاحصہ ہوتے ہوئے ملکی ترقی میں اہم کرداراداکیا۔آئی ایس پی کے مطابق امریکی طلبہ نے لاہور، ہنزہ، پارلیمنٹ اور اسلام آباد کا دورہ کیا، امریکی طلبہ نے اپنی گفتگو میں کہا کہ پاکستان ایک خوبصورت اور پرامن ملک ہے ،یہاں سے حسین یادیں لیکر جارہے ہیں، امریکہ میں پاکستان کی حقیقی تصویر کی عکاسی کرینگے۔

نیازی حکومت کے خلاف مارچ کریں گے تو سب ہمارے ساتھ ہوں گے، آصف زرداری

نواب شاہ (ویب ڈیسک ) پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے کہا کہ نیازی حکومت کے خلاف مارچ کریں گے تو فضل الرحمن، اسفند یار ولی، بلوچستان کے بلوچ، کے پی کے سے کچھ افراد اور فاٹا کے اراکین اسمبلی ہمارے ساتھ ہوں گے۔زرداری ہاو¿س نواب شاہ میں اراکین اسمبلی، پارٹی عہدے داروں اور کارکنوں کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ایک سازش کے ذریعے مجھے عوام سے دور کرنا چاہتی ہے لیکن میں خوف زدہ ہونے والا نہیں ہوں، ماضی میں بھی مجھے اور بی بی شہید کو جھوٹے الزامات میں جیل میں رکھا گیا۔شریک چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ میں مقدمات سے نہیں ڈرتا میرے خلاف سب مقدمات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں، مجھے معلوم ہے کہ میرے مقدمات میں ججز پر دباو¿ میں ہیں لیکن میں جھوٹے مقدمات سے قانونی طور پر بری ہو جاو¿ں گا کارکن پریشان نہ ہوں ان کا مقابلہ میں خود کروں گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد 18 ویں ترمیم کو ختم کرنا ہے لیکن یہ ترمیم 8 ماہ کے بحث و مباحثہ کے بعد منظور کی گئی، ہم 18 ویں ترمیم کو کسی صورت ختم نہیں ہونے دیں گے۔آصف زرداری نے کہا کہ حکومت کرنا عمران کے بس کی بات نہیں ہے، عمران صرف چندہ لینا جانتا ہے حکومت کرنا نہیں جانتا، اس حکومت میں ڈالر 155 روپے کی سطح پر پہنچا جس کی وجہ سے ملکی قرضوں میں 55 فیصد اضافہ ہوا۔آصف زرداری نے کہا کہ نیازی حکومت کے خلاف جب ہم مارچ شروع کریں گے تو سب ہمارے ساتھ ہوں گے، اس وقت بھی مولانا فضل الرحمن، اسفند یار ولی، بلوچستان کے بلوچ، کے پی کے سے کچھ افراد اور فاٹا کے اراکین اسمبلی میرے ساتھ ہیں۔