نیب کا تعلق کسی سیاسی جماعت،گروہ یا فرد سے نہیں، فواد چوہدری کے بیانات کا نوٹس

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وفاقی احتساب بیورو (نیب) نے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے بیانات کا نوٹس لے لیا۔نیب کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق فواد چوہدری کے علیم خان کے مقدمے سے متعلق بیان کا نوٹس لیا گیا ہے، فواد چوہدری کے نیب سے متعلق ماضی اور حالیہ بیانات کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اعلامیے کے مطابق جائزہ لیا جائے گا کہ وزیر اطلاعات کے بیانات نیب کے معاملات میں مداخلت کی کوشش تو نہیں، وفاقی وزیر کے بیانات انکوائریز اور تحقیقات پر اثر انداز ہونے کی کوشش تو نہیں۔نیب کے مطابق وزیر اطلاعات کے بیانات مروجہ قوانین کی خلاف ورزی ہوئے تو کارروائی کر سکتے ہیں۔اعلامیے کے مطابق نیب کا تعلق کسی سیاسی جماعت،گروہ یا فرد سے نہیں ہے، نیب کی پہلی اور آخری وابستگی صرف اور صرف ریاست پاکستان سے ہے۔نیب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نیب لوٹی گئی رقوم کی واپسی کے لیے کام کرنے والا سب سے بڑا ادارہ ہے۔

ڈی جی نیب نے کہا حکومت سے سیٹلمنٹ کرلیں تو معاملہ ختم کردیں گے، حمزہ شہباز

لاہور(ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم نے کہا کہ میرے خلاف جعلی ڈگری کی قرارداد کو ختم کرائیں تو آپ کو دوبارہ نوٹس نہیں ملے گا اور حکومت سے کوئی سیٹل منٹ (تصفیہ) کریں تو ہم اس سارے معاملے کو ہی رفع دفع کر سکتے ہیں۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ نیب سیاست زدہ ہو چکا ہے یہ اعلی عدلیہ کہتی ہے، نیب اور نیازی کا گٹھ جوڑ ہے، نیب کے پیچھے نیازی چھپا ہے، میرے گھرمیں دو دن دھاوا بولا، بیمار والدہ کو کال آف نوٹس آگیا اور دو بہنوں کو طلبی کے نوٹس جاری کئے گئے، کیا مہذب معاشرے ایسے بیٹیوں کو نوٹس دیئے جاتے ہیں۔دوسری جانب نیب نے حمزہ شہباز کی طرف سے لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی جی نیب لاہور نے کبھی اپنی ڈگری کے حوالے سے حمزہ شہباز سے بات نہیں کی، حمزہ شہباز کے الزامات کھسیانی بلی کھمبا نوچنے کے مترادف ہیں۔نیب اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ شریف فیملی کو طلب کیے جانے پر حمزہ شہباز کی جانب سے بے بنیاد اور من گھڑت الزامات لگائے جا رہے ہیں، نیب ایک خود مختار ادارہ ہے، حکومتی دباﺅ کی بات میں کو ئی صداقت نہیں۔

وزیراعظم عمران خان کا 21 اپریل کو ایران کے دورے پر جانے کا امکان

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کے 21 اپریل کو ایران کے دورے پر جانے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان 21 اپریل کو دیگر وزراءکے ہمراہ ایران کے دورے پر روانہ ہوں گے جہاں وہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خمینی اور صدر حسن روحانی سے ملاقات کریں گے۔ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم کے دورہ ایران کا مقصد پاک ایران تعلقات کو فروغ دینا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعلقات مضبوط کرنا ہے جب کہ اس دوران امت مسلمہ کو یکجا کرنے پر بھی زور دیا جائے گا۔

اربوں روپے کھانے والوں کی ضمانت ہوسکتی ہے توعلیم خان کی کیوں نہیں، فواد چوہدری

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اربوں روپے کھانے والے ملزموں کو اتنی آسانی سے ضمانت مل سکتی ہے تو کاروباری شخص علیم خان کو بھی ضمانت دی جانی چاہیے۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے آمدنی سے زائد اثاثوں سے متعلق کیس میں گرفتار پی ٹی آئی رہنما علیم خان کے حق میں ٹوئٹ کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ علیم خان کا مقدمہ کم سنگین ہے، اگر اربوں روپے کھانے والے ملزموں کو اتنی آسانی سے ضمانت مل سکتی ہے تو ایک کاروباری آدمی کو جس پر سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کا کوئی الزام نہیں ضمانت دی جانی چاہیے۔فواد چوہدری نے کہا ہے کہ عام تاثر یہ ہے کہ علیم خان کو اپوزیشن کے شور کی وجہ سے ناکردہ جرم کی سزا دی جا رہی ہے۔

بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں شامل نہیں، چیف جسٹس

اسلام آباد(ویب ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں شامل نہیں اور جوڈیشل پالیسی بہتر بنانے کے لیے سفارشات اور ترامیم کو پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا گیا۔اسلام آباد میں فوری انصاف کی فراہمی سے متعلق کانفرنس سے خطاب کے دوران چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ جج بنا تو پہلے دن سے ہی مشن تھا کہ مقدمات کے جلد فیصلے کیے جائیں، ماضی میں فیصلوں میں تاخیر کم کرنے کے لئے کئی تجربات کیے گئے، کبھی قانون میں ترمیم تو کبھی ڈو مور کی تجویز دی گئی، ہمارے ججز جتنا کام کر رہے ہیں اتنا دنیا میں کوئی نہیں کرتا ،پاکستان کی عدلیہ کے 3 ہزار ججز نے گزشتہ سال 34 لاکھ مقدمات کے فیصلے کیے، ججز کو اس سے زیادہ ڈو مور کا نہیں کہہ سکتے، برطانیہ اور دیگر ملکوں میں مقدمے کے فیصلوں کے لیے وقت مقرر کیا جاتا ہے، امریکااور برطانیہ کی سپریم کورٹ سال میں 100مقدمات کے فیصلے کرتی ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں شامل نہیں، جوڈیشل پالیسی بہتر بنانے کیلیے سفارشات اور ترامیم کو پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا گیا، فوری اورسستے انصاف کی فراہمی عدلیہ کی ذمے داری ہے، ملزموں کی عدالت میں حاضری یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے ، قیدیوں کو لانے والی پولیس وینز کا باقاعدہ انتظام کیا جانا چاہیے۔ پولیس کو مقدمے کی فوری تحقیقات کر کے چالان پیش کرنا چاہیے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ مقدما ت کا التوا ختم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کررہے ہیں، جوڈیشل پالیسی کے تحت مقدموں کے لیے وقت مقرر کیا جائے گا، اس سے انصاف کاحصول آسان ہوگا، ماڈل کورٹس ایک مشن کے تحت قائم کی گئی ہیں، ماڈل کورٹس کا تجربہ آئین کے آرٹیکل 37 ڈی پر عمل درآمد کرنا ہے، ان کا مقصد مقدمات کے التوا کا باعث بننے والی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ مقدمے میں کسی وجہ سے استغاثہ کے پیش نہ ہونے پر متبادل انتظام کیا جائے گا۔

معاشرہ من حیث القوم بدعنوان ہوچکا ہے، شیخ رشید

کراچی (ویب ڈیسک)وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے کراچی میں ایوانِ صنعت و تجارت میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ناممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا معاشرہ من حیث القوم (اجتماعی طور پر) بدعنوان ہوچکا ہے ایک چور کو ہٹاﺅ تو پیچھے سے ڈاکو برآمد ہوجاتا ہے کیوں اب لوگوں کی شناخت شرافت نہیں دولت بن چکی ہے۔وزیر ریلوے نے بتایا کہ فوڈ کوچز اس لیے ختم کی گئیں کیوں کہ وہ کھانا کم اسمگلنگ کا مال زیادہ لاتی تھیں، ہم نے 24 ٹرینیں چلائی ہیں جس میں 5 طرح کے مسافر سوار ہوتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ پشاور سے آنے والی رحمٰن بابا ٹرین کی گنجائش 160 افراد کی ہے۔انہوں نے کہا کہ جناح ٹرین کا آغاز کردیا گیا ہے اور جلد سرسید اور گرین لائن ٹرین بھی شروع کرنے والے ہیں جبکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال کے 4 ماہ کے عرصے میں 4 ارب روپے زیادہ حاصل کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے عمران خان کے دور میں 8 ٹرینوں سے 14 فریٹ ٹرینیں کردی ہیں جس کی تعداد میں مزید اضافہ کر کے 20 تک پہنچایا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ خزانہ غریب آدمی نہیں لوٹتا، کسی وزارت میں اس وقت تک کرپشن نہیں ہوسکتی جب تک وزیر یا سیکریٹری ایماندار ہوں، دونوں میں سے کسی ایک کا بے ایمان ہونا ضروری ہے اور سیاستدانوں کو کاروباری افراد بدعنوانی کے راستے دکھاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کابینہ مجھے پسند نہیں کرتی لیکن میں پہلےدن سے کہہ رہا ہوں کہ ہمارے پاس آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں تاہم آئی ایم کی شرائط سخت ہیں۔وزیر ریلوے نے بتایا کہ پشاور سے کراچی تک نیا ٹریک بنایا جائے گا جس میں 5 سال لگیں گے، پچھلے 10 سالوں کے دوران خزانے کو بہت بے دردی سے لوٹا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں اگر نریندر مودی کو شکست ہوئی تو پاکستان کی سلامتی کے لیے سوال اٹھ جائیں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس روایتی ہتھیار کی گنجائش نہیں ہے اور اگر مودی نے اس ملک کی سرحدوں کی جانب دیکھا وہی ’پھول جھڑیاں‘ استعمال کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہوسکتا جو ہمارے پاس ہیں۔شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ملک کا مسئلہ یہ ہے کہ جس کا کام اسی کو سانجھے نہیں ہوتا، اس بنا پر ہم ماہرین کی صلاحیتوں سے استفادہ نہیں کرسکتے۔کراچی سرکلر ریلوے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس سلسلے میں کمرشل تجاوزات ختم کردی ہیں جس دن سندھ حکومت نے ڈیزائن اور فزیبلیٹی منظور کی، پاکستان ریلوے اسی دن ساری تجاوزات ختم کر کے اسے حوالے کردے گی۔انہوں نے کہا کہ کراچی سرکلر ریلوے سی پیک میں شامل ہے اگر آج یہ منصوبہ ہماری موجودگی میں نہیں بن سکا تو پھر کبھی بھی نہیں بن سکے گا، اس سلسلے میں چینی سرمایہ کار سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کیا یہ انصاف ہے کہ آپ ملک کو لوٹ کر معیشت تباہ و برباد کردیں اور بچے اور گھر آپ کے باہر ہوں اور علاج کروانے کے لیے باہر جائیں۔

جنوبی وزیرستان: باراتیوں کی گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی، 6 خواتین جاں بحق

جنوبی وزیرستان (ویب ڈیسک ) تحصیل توئے خلہ میں باراتیوں کی گاڑی سیلابی ریلےمیں بہہ گئی جس کے نتیجے میں 6 خواتین ڈوب کر جاں بحق ہوگئی۔ڈی سی وانا امیر نواز نے بتایا کہ باراتیوں کی گاڑی گزشتہ شام کو سیلابی ریلے میں بہہ گئی تھی، گاڑی میں 7 خواتین، 3 بچے اور ڈرائیور موجود تھا، حادثے میں ڈوبنے والی 6 خواتین کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ڈی سی کے مطابق حادثے کے بعد ریسکیو کارروائی کرکے ایک خاتون، تینوں بچوں اور ڈرائیور کو بچالیا گیا ہے۔

نواز زرداری سے کوئی لڑائی نہیں لوٹا پیسہ واپس کریں: فواد چوہدری

اسلام آباد‘ لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک‘ صباح نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ نواز شریف اور آصف زرداری سے کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے۔ ہم تو صرف پاکستان کا لوٹا ہوا پیسہ مانگ رہے ہیں۔ فواد چودھری کا کہنا تھا کہ بی آر ٹی منصوبے پر کرپشن کا الزام نہیں، اس پر نااہلیت دکھائی گئی ہے۔ اس منصوبے میں جو غلطیاں ہوئیں، اس کو سامنے آنا چاہیے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کا قانون بنا، مگر قانون لاگو کرنے کا طریقہ کار نہیں بنایا گیا۔ قانون کا ایک نظام ہے، ہم سب کو قانون کا احترام کرنا چاہیے۔ ابھی تک ہم نے کوئی مقدمہ نہیں بنایا، اب ہمارے سامنے اور مقدموں کے ثبوت آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام میں تصور یہ کہ یہ ابو بچا مہم پر نکل رہے ہیں۔ ان کے پیسے بچانے کے لئے عوام تو باہر نہیں نکلے گی۔ لوگوں کو بے وقوف نہیں سمجھنا چاہیے عوام کو پتا ہے یہ کیوں اکھٹے ہو رہے ہیں۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فواد چودھری کا کہنا تھا کہ یہ لوگ نوٹوں کی خوشبو سے جیتے ہیں، ان لوگوں کو پیسے سے عشق ہے، یہ مر جائیں گے پیسے نہیں دیں گے۔ ہماری نواز شریف اور آصف زرداری سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے، بس لوٹی ہوئی دولت واپس کر دیں۔

قرضہ لینا ہے تو ٹیکس ہدف 50 کھرب کرنا ہو گا : آئی ایم ایف کی کڑی شرائط

اسلام آباد (نیٹ نیوز) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے قرض پروگرام کیلئے کڑی شرائط رکھتے ہوئے ڈالر کی قدر سے متعلق فیصلوں کا اختیار سٹیٹ بینک کو دینے، نیپرا اور اوگرا کو خود مختار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے قرض پروگرام کے لیے پاکستان کو ٹیکس آمدن بڑھانے کے لیے سخت اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس ہدف 5ہزار ارب روپے سے زیادہ رکھا جائے۔ ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے مطالبہ سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کی چھوٹ ختم کی جائیں۔ ٹیکس چھوٹ سالانہ 12لاکھ سے کم کر کے 4لاکھ پر لائی جائے۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی جانب سے مطالبات میں کہا گیا ہے کہ بجلی اور گیس کے نقصانات کم کیے جائیں۔ نیپرا اور اوگرا کے فیصلوں میں حکومت مداخلت نہ کرے۔ بجلی اور گیس کے 140ارب کے واجبات عوام سے وصول کیے جائیں۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سٹیٹ بینک کو خود مختار بنایا جائے تاکہ وہ ڈالر کی قدر سے متعلق خود فیصلے کرے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا وفد آئندہ چند ہفتوں میں پاکستان آئے گا۔

سابق فاسٹ باﺅلر سرفراز نواز دل کی بیماری کے باعث لندن کے ہسپتال میں داخل

لندن (آن لائن) پاکستان کے مایہ ناز سابق فاسٹ بالر سرفراز نواز دل کی بیماری کے باعث لندن کے ہسپتال میں داخل ہو گئے ہیں۔70 سالہ سرفراز نواز کو ریورس سوئنگ کا موجد کہا جاتا ہے جنہوں نے اپنے دور میں بڑے بڑے بلے بازوں کی ناک میں دم کئے رکھا۔ انہوں نے 55 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 177 وکٹیں حاصل کیں جبکہ 45 ون ڈے انٹرنیشنل میں بھی قومی ٹیم کا حصہ رہے اور 63 کھلاڑیوں کو شکار کیا۔اس کے علاوہ انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں ایک ہزار 5 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔ انہوں نے 1979میں آسٹریلیا کیخلاف میلبورن میں تاریخی کارکردگی دکھاتے ہوئے ناصرف 86 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی بلکہ زبردست بالنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف 33 گیندوں پر ایک سکور دیا اور 7 وکٹیں بھی حاصل کیں جبکہ اس ٹیسٹ میچ میں انہوں نے کل 9 وکٹیں حاصل کر کے قومی ٹیم کو ناقابل یقین جیت دلائی۔

بلوچستان میں دہشتگردی ”را“ کا کیا دھرا ہوسکتی ہے:سرفراز بگٹی ، بھارت خطے کو آگ میں دھکیلنا چاہتا ہے:انوارالحق، فارما کمپنیاں اپنا رویہ بدلیں:ڈاکٹر اکرم ، حکومت کاہرمسئلہ پر جواب ہوتا ہے ، 40سال کی کرپشن ذمہ دار ہے :محمد زبیر کی چینل ۵ کے پروگرام ” نیوز ایٹ 7 “ میں گفتگو

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)چینل فائیو کے پروگرام ”نیوز ایٹ سیون“میں سابق وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کوئٹہ سبزی منڈی خودکش دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے سانحہ پر ہزارہ قبیلے کے معتربین سے اظہارتعزیت کیا۔ہمسایہ ملک میں الیکشن کے دوران میڈیا اور سوشل میڈیا پربلوچستان میں دہشتگردی تجویز کی جاتی ہے۔ ماضی میں بھی ایسے واقعات کی کڑیاں را اور این ڈی ایس سے ملتی رہی ہیں۔ سینٹر انوار الحق کاکڑ نے کوئٹہ دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی لیکن ہم ان لوگوں کو جانتے ہیں جنکا ماضی میں بھی ایسے گھناﺅنے اقدامات میں کرداررہا ہے۔ ملک و قوم نے انکے خلاف بڑی جنگ لڑی، انکی باقیات اپنی بقاءکی جنگ لڑ رہی ہیں تاہم بہت جلد اپنے انجام کو پہنچیں گی۔ ریاست ہندوستان خطے کو آگ میں دھکیلنا چاہتی ہے اور بلوچستان اوربلوچ عوام کے خلاف این ڈی ایس انکے سپلائی آفس کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ حملے میں ہزارہ کمیونٹی اور ایف سی کو ٹارگٹ کیا گیا۔ سینئر صحافی و تجزیہ کارمنصور علیخان نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ عمران خان کو ووٹ حاصل کرنے کے بعد احساس ہونا چاہیے کہ افراط زر کو کنٹرول کرنا انکی ذمہ داری ہے۔آئی ایم ایف کے پاس جانے پر پھانسی لگنے کا دعویٰ کرنے والے عمران خان اب آئی ایم ایف کے پاس جارہے ہیں مگر بہت دیر کردی۔ عوام میں اعتماد کا فقدان ہے، سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں کرنا چاہتے۔ پاکستان میں کاروبار کرنے والے ایف بی آر اور پکڑ دھکڑ سے تنگ ہیں۔ وزیراعظم کو اپنی توجہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی پر سے ہٹا کر عوام کو فوری ریلیف دینا چاہئیے۔ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے حنیف عباسی اور دیگر کی ضمانتوں پرجسارت نہیں کرسکتا کہ کہوں فیصلے کہیں اور ہو رہے ہیںیا یہ ڈیل اور ڈھیل کا نتیجہ ہے تاہم قانون اپنا راستہ اختیار کر رہا ہے۔آنیوالی گرمیوں میں بجلی کے بل ڈبل ہو جائیں گے، رمضان میں مہنگائی سے عوام کی چیخیں نکل جائیں گی۔ وزیراعظم کو صرف نواز شریف اور آصف علی زرداری کی چیخیں سننے کا شوق ہے۔ عمران خان عوام کا رونا سنیںاور دادرسی کریں اسکے بعد سیاستدانوں کیساتھ جو کرنا ہے کریں۔ مولانا فضل الرحمان حکومت کا حصہ نہ بننے پر غصہ نکال رہے ہیںسندھ اور پنجاب سے سپورٹ کے بغیرتحریک کے نام پر صرف اپنا وقت برباد کررہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کسی حکومتی تبدیلی کے حق میں نہیں۔ پنجاب میں ن لیگ کو ریلیف اور ضمانتیں ملنے کے علاوہ اسٹیبلشمنٹ کیساتھ تعلقات میں برف پگھلنے لگی ہے۔ ن لیگ بنی بنائی بازی ہاتھ سے نہیں جانے دے گی ۔مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر کا کہنا تھا کہ عوامی مسائل کا حل حکومتی ذمہ داری ہے مگر حکومت اپنی ذمہ داری لینا ہی نہیں چاہتی ، حکومت کے پاس ہر مسئلے پر جواب گذشتہ 40سال کی کرپشن ہوتا ہے۔حکومت حالات ٹھیک نہیں کرسکتی تو چھوڑ دے۔پاکستان میں کاروبار تباہ، کاروباری افراد کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ حکومت میں وزراءکے نام پر جوکر بیٹھے ہیں جوکبھی ایک بلین نوکریوں کا، کبھی دو ہفتوں میں سب ٹھیک ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔حکومت ہمیں صرف چور اور ڈاکو کہتی ہے ان سے تعمیری گفتگو کاامکان کیسے پیدا ہو۔ پمز ہسپتال کے ڈاکٹر جاوید اکرم نے ادویات کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ پر اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ فارما انڈسٹری کا تمام را میٹریل درآمد ہوتا ہے۔ حکومتی بدانتظامی کیوجہ سے فارما کمپنیا شتر بے مہار ہوئیں اور ادویہ کی قیمتوں میں از خود بے پناہ اضافہ کر لیا۔ جسکے بعد وزیراعظم نے انہیں سیل کرنے کا حکم دیا۔ یہ کمپنیاں سزا کی مستحق ہیں کیونکہ صرف ڈریپ کو اختیار ہے کہ قیمتیں ترتیب دے۔ 100سے زائدفارما کمپنیوں کے خلاف ڈریپ نے کراچی سے پشاور تک کاروائیاں کی ہیں اور مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔ امید ہے فارما کمپنیوں کو ایسا سبق ملے کہ دوبارہ کوئی ازخود قیمتیں بڑھانے کی جرات نہ کرے۔ ڈرگ ایکٹ کی 4شقوں کی خلاف ورزی کی گئی جسکی سزا قید ہے۔ 60فیصد کمپنیوں نے ادویات کی قیمتیں کم کی ہیں۔ عوام ڈریپ کی ویب سائیٹ سے ادویات کی قمیتیں دیکھ کر خریدیں۔

بھارتی انتخابات پر پاکستان میں دہشتگردی ، مودی کا الیکشن جیتنے کا حربہ : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی پاکستان اور مسلمانوں سے دشمنی ڈھکی چھپی نہیں ہے، پاکستان کے خلاف جارحیت میں خفت اٹھانے کے بعد اس کیلئے خاموش بیٹھنا ممکن نہیں تھا اس لئے بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعہ میں اس کا ملوث ہونا یقینی امر ہے۔ بھارت ہمیشہ بلوچستان میں شرپسندی اور دہشتگردی میں ملوث رہا ہے جس کا زندہ ثبوت کلبھوشن کی صورت موجود ہے۔ مودی کو انتخابات میں سحت مقابلے کا سامنا ہے اس کی پوری کوشش ہے کہ ہندوﺅں کے اکثریتی ووٹ حاصل کرے، اس لئے پہلے پاکستان کی سرحد کے اندر گھس کر جارحیت کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا جس کے بد اب دہشتگردی کرانے پر اتر آیا ہے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں اس خطرے کا ذکر کیا تھا جو آج سامنے آ گیا ہے۔ بلوچستان میں ہونے والی یہ دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے۔ یہ تونظر آ رہا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں الیکشن بہت خونیں ہوں گے اس لئے کہ بھارتی فوج اتنی بوسٹائل ہے اور وہ تلی ہوئی ہے کہ وہ کسی نہ کسی بہانے کشمیریوں کو رگڑا لگائے جبکہ دوسری طرف لوگ 5 برس سے مسلسل زیادتیاں اور ظلم دیکھ دیکھ کر تنگ آ چکے ہیں اور دونوں طرف سے صورت حال یہ ہے کہ مزید صبر کا چارہ نہیں ہے۔ ایک طرف انڈین آرمی اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے ظلم و تشدد کے حوالے سے اور دوسری طرف جو مقبوضہ کشمیر کے لوگ کشمیری عوام وہ اس بات کا فیصلہ کر چکے ہیں کہ اب نہیں تو پھر کبھی نہیں۔ اس طرح میں سمجھتا ہوں کہ پہلے جو کچھ بھی تھا نظر آ رہا تھا اور اب جو آج کا دن جس طرح سے گزرا ہے اور آنے والے دن جس طرح سے گزرے ہیں لگتا یہی ہے پوری دنیا پر یہ بات آشکارا ہو جائے گی نمبر ایک کشمیر کے عوام بھارتی تشدد کو مکمل طور پر مسترد کر چکے ہیں اور دوسرا یہ کہ وہ مزید انڈین آرمی کا ظلم و تشدد برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے۔ تیسری کہ بھارت کے عام انتخابات میں جو بھی صورت حال ہو لیکن مقبوصہ کشمیر کی حد تک کشمیری عوام جو ہیں وہ مودی حکومت کے سخت خلاف ہیں۔ انڈیا کی تمام چالیں ناکام ہو گئیں۔
ضیا شاہد نے کہا کہ سابق حکمران مالی طور پر اتنے مضبوط ہیں کہ ان کے لئے چند کروڑ ڈالر خرچ کرنا کوئی معنی نہیں رکھتے لگتا یہی ہے کہ پیسہ بے تحاشا چل رہا ہے اور دولت کی بنیاد پر جہاں سے وفاداری خریدی جا سکتی ہے وہاں سے خریدی جا رہی ہے۔ نیب پہلے بھی پرائیویٹ پراسیکیوٹر رکھتی تھی اس بات کی گنجائش موجود ہے راجہ عامر عباس بھی سپیشل پراسیکیوٹر تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایک بہت بڑا نام جو سیاسی طور پر ان لوگوں کا بڑا مخالف ہے جو آصف زرداری نے نوازشریف اور شہباز شریف اور ان کے متعلقین اور فریال تالپور اور بلاول ان سارے لوگوں کے خلاف ایک پراسیکیوشن کا کام کرنے کے لئے نعیم بخاری کا نام سامنے آیا ہے نعیم بخاری ایک جانا پہچانا نام ہے پچھلے کئی برس سے واضح نظریات کے اعتبار سے جانے جاتے ہیں اے کلاس پراسیکیوٹر کے طور پر یہ ایک اچھا قدم اٹھایا ہے مجھے یقین ہے کہ آنے والے دو ہفتوں میں اس کے نمایاں نتائج سامنے آئیں گے۔ نیب ایک سرکاری ادارہ تھا سرکار میں جس طرح سے ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں اس میں ویسے لوگ بھی ہیں جو اندرونی طور پر ان کے پروردہ ہیں یہ بھی ہو سکتا ہے جو ان کے دور میں رکھے گئے ہیں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ان کے احسان مند ہوں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے ان کے کچھ پیسے لگ گئے ہوں۔ میرا خیال ہے کہ نعیم بخاری کے دلائل بہت مضبوط ہوں گے اصل چیز نیت ہوتی ہے ان کی نیت صاف ہے وہ ایک مدت سے قابق حکمرانوں کے دو پارٹیوں کے خلاف بڑے کھل کر اظہار خیال کر رہے ہیں۔
آئی ایم ایف کی نئی شرائط کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا ہے کہ یہ بہت کڑی شرائط ہیں۔ پہلے ہی مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کا کچومر نکلتا جا رہا ہے اور خود وزیرخزانہ بھی کہتے رہتے ہیں کہ عنقریب عوام کا وہ حشر ہو گا کہ یاد کریں گے اور اب مزید یاد کریں گے میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ عمران خان کی حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر معاشی معاملات پر توجہ دے یہ ایک حقیقت ہے کہ عام آدمی مہنگائی اور وکلا کے ہاتھوں اتنا پریشان ہے کہ لوگ آہستہ آہستہ بولتے جا رہے ہیں کہ نیا پاکستان بن رہا ہے کوئی اصلاحات ہو رہی ہیں لوگ روزانہ کی بنیاد پر اپنے مسائل ہیں ان کے لئے لوگوں کے نزدیک ٹینڈے کا بھاﺅ، پیاز اور ٹماٹر کا بھاﺅ جو ہے وہ زیادہ اہم ہے نسبت اس بات کے کہ وہ بھی سوچیں اور یہ دیکھیں کہ فلاں کام اچھا ہو گا ”سال کے بد اور کہا جا رہا ہے کہ 18 ماہ بعد معیشت مشکلات سے نکل آئے گی جب نکل آئے گی تب دیکھا جائے گی فی الحال تو نہیں نکلی خراب معیشت میں ہم بری طرح سے گرفتار ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسد عمر صاحب کو اس کا جواب دینا پڑے گا اور میرا خیال ہے کہ عنقریب اسد عمر صاحب کو چاہئے کہ وہ بریفنگ میں لوگوں کے سامنے بیٹیں اور اخبارات کا اور چینلز کے لوگوں کو بٹھا کر ان سے سوال و جواب کریں۔ آئی ایم ایف کی جو شرائط سامنے آئی ہیں کہ ٹیکس ادائیگی کی انکم اس سے بھی کم کر دی جائے اور اسکے علاوہ بجلی اور گیس کی قیمتوں بارے بھی کہا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ سارے ہی شعبوں میں سبسڈی دی گئی ہے وہ ختم کر دی جائے۔ اس سے تو عوام جو خودکشی کی طرف مائل ہیں ان کا کیا حشر ہو گا۔
وزیرخزانہ اسد عمر جو کہتے تھے کہ مہنگائی سے عوام کا کچومر نکل جائے گا لگتا ہے وہ وقت آ گیا ہے، مہنگائی سے ہر شخص پریشان ہے۔ حمزہ شہباز نیب کے سوالوں کا جواب نہیں دے پائے، اسی باعث میں بندے اکٹھے کر کے انہیں گرفتاری سے بچایا جا رہا تھا حمزہ شہباز سے پوچھا گیا کہ اثاثے کس طرح اتنی تیزی سے برھے اور بیرون ملک سے کون اور کیوں انہیں پیسے بھیج رہا تھا جس کا وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔ رانا ثناءاور رانا مشہود جو وہاں بندے لے کر پہنچے ہوتے ہیں وہی ان سوالوں کے جواب دیدیں۔ شہباز شریف لندن چلے گئے، نوازشریف کی سزا معطل ہے حمزہ شہباز کو ہائیکورٹ نے ضمانت دیدی ان حالات سے تو لگتا ہے کہ شریف خاندان کا اچھا وقت آ رہا ہے کہ ریلیف پہ ریلیف مل رہا ہے۔ کوئی تو ان سے پوچھے کہ پاکستان سے باہر دھڑا دھڑ پیسے کیوں بھجوا رہے تھے۔
مذہبی مقامات کی زیارت کے لئے آئے سکھوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں دینا اچھی بات ہے، پاکستان نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ یہاں اقلیتوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہے۔ بیساکھی پر آنے والے 2 ہزار سے زائد سکھ بھی پاکستان سے بہترین یادیں ساتھ لے کر جائیں گے۔ پاکستان اور بھارت میں آخر کار مذاکرات تو ہونے ہیں کیونکہ ان کے بغیر دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان امن قائم نہیں رہ سکتا دنیا کے تمام بڑے ممالک کرہ ارض کی تباہی سے بچانے کے لئے اور دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تصادم کو روکنے کیلئے آخر کار مجبور ہو جائیں گے کہ مسئلہ کشمیر کا کوئی آبرومندانہ حل تلاش کیا جائے۔ خطے کے مستقل اور دیرپا امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے۔

مودی بھارت پر سیکولر ریاست ہونے کا تاثر ختم کرنا چاہتا ہے: صابر سعید ، امریکہ ، یورپ ، اٹلی ، جرمنی اور دیگر ملکوں میں بھی انتہاپسندی بڑھ رہی ہے: خالد چودھری ، بھارت کو اپنا وجود برقرار رکھنے کیلئے پاکستان کے وجود کو ماننا لازم :اشرف ہاشمی ، بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے رافیل کیس کے فیصلہ آنے سے لگتا ہے کچھ ہونے جا رہا ہے: منور انجم ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیوکے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”کالم نگار“میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار صابر سعید بدر نے کہا ہے کہ کوئٹہ دھماکہ افسوسناک ہے، سکیورٹی ایجنسیز کواپنا کردار مزید بہتر کرنا ہوگا۔ پاکستان کو سنجیدہ معاشی حالات میں الرٹ رہنے کی ضرورت ہے۔ حکومت میں اپوزیشن کا کردار نہ ہونے کے برابر اور نیشنل ایکشن پلان پرعمل لازم ہے۔ بھارتی ریاست میں انتہاپسند عنصر بڑھتا جارہاہے، مودی بھارت پر سے سیکولر ریاست ہونے کا تاثر ختم کرنا چاہتا ہے۔ عمران خان کا بے جی پی کے حوالے سے بیان سمجھ سے باہر ہے۔ جلیانوالہ باغ سانحے کے بعد برطانوی سامراج کا خوف ختم ہوا آج سانحہ کو سو سال مکمل ہوئے۔ 100سال بعد برطانوی وزیراعظم نے سانحہ کی مذمت کی، انہیں معافی مانگنی چاہیے۔ فارما کمپنیوں نے وزیراعظم کے حکم کے برعکس ادویات کی قیمتیں کم کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ میزبان تجزیہ کار خالد چوہدری کا کہنا تھا کہ معاشی دہشتگردی کی بنیاد ایوب خان نے رکھی۔ بھارت میں الیکشن کے دوران مقبوضہ کشمیر میں گھمبیر حالات ہیں۔ بھارت میں انتخابات میں دھاندلی آسان نہیں۔ ضیاالحق کا بویا ہوا دہشتگردی کا بیج تناوردرخت بن گیا ہے۔ امریکہ، یورپ، اٹلی، جرمنی، اور دیگر ممالک میں بھی انتہا پسندی بڑھ رہی ہے۔ غربت سمیت عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے بھارت اور پاکستان جنگ کا کھیل کھیلتے ہیں۔ دونوں ممالک کی اشرافیہ غربت نہیں غریب کو ختم کرنا چاہتی ہے مگرہر ظلم کا انجام الٹ ہوتا ہے۔ ادویات میں قیمتوں میں اضافے کی ذمہ دارحکومت ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں غریب کے لیے تمام ریلیف بند کر دئیے گئے ہیں۔ کالم نگار منور انجم نے کہا کہ کوئٹہ دھماکہ چھوٹے صوبوں کے حقوق سلب کرنے کا نتیجہ اور سکیورٹی ایجنسیز کی ناکامی ہے۔ کوئٹہ کی سکیورٹی ایجنسیز کے پاس سکیورٹی آلات خریدنے کے پیسے نہیں ہیں ایسے حالات میںعمران خان بطور وزیرداخلہ مستعفیٰ ہوں۔ حکومت صدارتی آرڈیننس کے ذریعے فیصلوں پر عمل درآمد کر کے اپنی ناکامیاں نہ چھپائے، تمام سیاسی جماعتوں کو آن بورڈ لیکر نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرے۔ پاکستان کیساتھ ایڈونچر کے بغیر مودی الیکشن جیتتانظر نہیں آرہا۔ بھارت کے حوالے سے پاکستان کے وزیراعظم اور وزیرخارجہ کا موقف ہی مختلف ہے۔ عمران خان کو گول میز کانفرنس بلا لینی چاہیے۔ بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے الیکشن کے دوران رافیل طیاروں کے کیس کا فیصلہ آنا ذومعنی ہے، کچھ خاص ہونے جارہا ہے۔ جلیانوالہ سانحہ سے پیدا ہونے والی تحریک آزادی نے برٹش ایمپائر کو توڑا۔ کالم نگار اشرف ہاشمی نے کہا کہ اشرافیہ نے قوم کو معاشی طور پر یرغمال بنایا ہوا ہے۔ کوئٹہ دھماکے میں را کا ہاتھ ہو سکتاہے، مودی سرکار کو پاکستان کی معاشی ترقی ہضم نہیں ہورہی۔ عمران خان عوام کی امنگوں کے ترجمان نہیںہیں نہ انکے پاس قومی لیڈر والا نظریہ ہے۔ پاکستان کو سوڈان اور صومالیہ سے بدتر کرپٹ ملک بنا کر دنیا کے سامنے پیش کردیا گیا ہے۔ عام آدمی کے پاس کھانے کو روٹی نہیں اور اسد عمر کہتے ہیں کہ عوام کی چیخیں ابھی اور نکلوائیں گے۔ بھارت کو اپنے وجود کو برقراررکھنے کے لیے پاکستان کے وجود کو ماننا لازم ہے۔