جعلی پیروں اورعاملوں کا ایک مافیا ہے، میڈیاانہیں سامنے لائے مبشرلقمان نے بے نقاب کیا تھا ایسے لوگوں کو کلمہ تک نہیں پڑھنا آتا:حمیرا اویس شاہد ، جن نکالنے کے بہانے 10 سالہ لڑکی جلانا جہالت کی انتہا :ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ”ہیومن رائٹس واچ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی معروف تجزیہ کار، چیف ایڈیٹر خبریں ضیا شاہد نے کہا ہے کہ بہاولنگر میں فورٹ عباس کے رہائشی افتخار احمد کی دس سال کی بیٹی آمنہ کو جن نکالنے کی غرض سے جس طرح جلتے کوئلوں سے دھونی دینے کے لئے جلایا گیا یہ جہالت کی انتہا ہے اس بچی کی ماں ضعیف العقیدہ خاتون ہے جو علاج کے لئے پیر کے پاس جا کر اپنی طرف سے بڑا دین داری کا مظاہرہ کر رہی ہے حالانکہ کسی پیر کے پاس اس کا علاج نہیں ہوتا ۔ چینل ۵ کے پروگرام ہیومین رائٹس واچ میں گفتگو کرتے ہوئے بچی کی ماں کا اصرار ہے ہمارے پیر کو کچھ نہ کہا جائے ان کاقصور نہیں جنات نے بچی کو آگ میں پھینک دیا۔پولیس نے پیر کے تین چیلے تو پکڑ لئے لیکن پیر گرفتار نہیں ہوئے۔ ویڈیومیں بچی کی ماں بار بار کہہ رہی ہے ہممارے پیر کو کچھ نہ کہا جائے یہ تو جہالت ہے جس طرح بچی کو جلایا گیا یہ قابل دست اندازی پولیس ہے یہ جہالت کی انتہا ہے کہ بچی کی ماں کہہ رہی ہے ”ساڈے پیر نوں کج نہ کہو پیر دا کوئی قصور نئیں“۔ میں سمجھتا ہو ں براہ راست نہ سہی لیکن اس گناہ میں ہم بھی شامل ہو رہے ہیں جتنے سنڈے میگزین ہیں ان میں ایسے جعلی پیروں کے اشتہارات چھپے ہوتے ہیں کیونکہ یہ پیسے دیتے ہیں۔اس کا ہر گز مطلب نہیں پیسے دے کر کوئی جو بھی چھپوا لے” یعنی جو چاہو پوچھو یا فلاں بنگالی بابا“۔میں سی پی این ای کو خط لکھوں گا کہ اپنے ممبر پبلیکیشنز کو ہدایت جاری کرے کہ اس قسم کے فراڈ اشتہارات نہ شائع کریں۔پیر پرستی کا اسلام یا دین داری سے تو کوئی تعلق نہیں کیونکہ 99.9فیصد اس قسم کے پیروں کا نماز،روزہ سے تعلق نہیں ہوتا نماز تک نہیں پڑھتے کوئی ایسا عمل نہیں کرتے جس سے لگے یہ دین پر خود پریکٹس کر رہے ہیں اس کے باوجود لوگ ان کے چنگل میں پھنے ہیں۔لاہور کے علاقے چوبرجی میں مسجد کے حجرے میں برائی ہوتی تھی ہم نے خبریں کی طرف سے چھاپہ مارا اور ایک عورت،مرد اور مولوی صاحب کو حجرے میں پکڑ لیا لیکن پورا محلہ اصرار کرتا رہا اس معاملے کو نہ اٹھایا جائے اس سے ہماری مسجد کی بےحرمتی ہوتی ہے بڑی مشکل سے ہم نے لوگوں کو قائل کیا برائی ہوئی ہے تو اسے ظاہر کرنا ضروری ہے۔میں سمجھتا ہوں ہمارے یہاں یہ عقیدہ بھی پایا جاتا ہے برائی کو سامنے نہ لاﺅ جس سے بہت سی برائیوں پر پردہ ڈالا جاتا ہے ۔لوگوں نے دکانداریاں بنائی ہوئی ہیں اور دن رات لوگوں کو ٹھگ رہے ہیں۔ایک ماس ایجوکیشن کا پروگرام شروع کرنا چاہئے اور جھوٹے پیروں کے خلاف ایک مہم چلائی چاہئے۔بہاولنگر واقعے کی ہم پوری پیروی کریں گے اسے آخر تک پہنچائیں گے۔پوری کوشش کریں گے کہ ان چیلوں چانٹوںکو قرار واقعی سزا ملے اور ان کی ضمانت پر رہائی ممکن نہ ہو۔
سابق ممبر پنجاب اسمبلی اور دی پوسٹ کی سابق ایڈیٹر حمیرا اویس شاہد نے کہا ہے کہ صرف دیہی علاقوں میں ہی نہیں بلکہ اربن ایریاز ،لاہور،ملتان اور اسلام آباد جیسے شہروں میں بھی جب کوئی چیز آپ کی زندگی میں صحیح نہیں ہوتی مثلا شادی نہ ہونا بچہ نہ ہونا،معاشی حالات کمزور ہونا یا دیگر مسائل ہوں تو لوگ اسے جادو ٹونہ وغیرہ قرار دیتے ہیں لوگوں کے عقیدے اس قدر کمزور ہو گئے ہیں کہ دوسروں پر الزام لگا دیتے ہیں ۔۔گزشتہ دس سے بیس سالوں میں اس قسم کے وہمات بڑھے ہیں۔اس سے قبل بھی خبریں کی انویسٹی گیشن ٹیم نے اس قسم کے معاملات میں تحقیقات کر کے بہت سے جعلی پیر پکڑوائے تھے جن کا یہ کاروبار ہے کہ وہ لوگوں کے مسائل حل کرنے کا یقین دلاتے ہیں یہ سیدھا سیدھا کفر ہے کہ آپ اللہ کے سوا کسی اور پر یقین کر رہے ہیں۔یہ پیر پیسوں کے پیچھے ہیں جو بندہ جاتا ہے اسے پھنسا لیتے ہیں۔اب فورٹ عباس میں جعلی پیر کے ہاتھوں آمنہ علاج کے نام پر جھلسا دی گئی کہ اس پر جنات ہیں لڑکی کی ماں کو جنات تو نظر آرہے ہیں لیکن سامنے بیٹھا مکار اور جھوٹا پیر نظر نہیں آ رہا۔ایسی جہالت کے خلاف بڑی مہم چلنی چاہئے،پالیسی بنانی چاہئے اور قانونی اقدامات ہونے چاہئیں اس میں میڈیا پر بڑا کردار ہونا چاہئے۔پیر لوگوں کی سائیکی بڑی اچھی طرح سمجھتے ہیں اور لوگوں کے ڈر سے انہیں کنٹرول کرتے ہیں جب آپ پیر وں کے پاس جا کر اپنے ڈر بتا تے ہیں تو خو اپنے ڈر د کو ان کی جھولی میں ڈال رہے ہوتے ہیں۔پرانے حلقوں میں کسی مولوی یا پیر کا اثر بہت زیادہ ہو گا۔پیر اصل میں ایک مافیا ہے جن کا کام ہی لوگوں کو خوف میں مبتلا کرنا ان کی زندگیوں اور چائیدادوں پر قابض ہونا ہے یہ اکیلے آپریٹ نہیں کرتے ان کے بدمعاش چیلے ہوتے ہیں۔جہالت کے باعث لوگ سمجھتے ہیں یہ شخص اللہ والا وہے اس کے خلاف زبان کھولی تو عذاب آئے گا دین کی تعلیم کم ہے۔ویسے یہ پیر اتنے بااثر ہوتے ہیں کہ اگر کسی کوعلاقے سے خارج کر دیں تو لوگ بے چارے مشکل میںپڑ جاتے ہیں۔ایسے پیروں کو میڈیا کے سامنے پیش کرنا چاہئے تاکہ پتہ چلے یہ کہاں اسلام کے دائرے میں رہتے ہیں۔دیہی علاقوں میں تو قانون ہے ہی نہیں اللہ بھلا کرے ڈی پی او کا جنہوں نے کارروائی کی ڈی پی ا و عمارہ اطہر نے بھی کہا عدلیہ ہمارا ساتھ دے۔پیر ایسا نقشہ کھینچتے ہیں کہ لوگ پھنس جاتے ہیں ۔میڈیا کو اکٹھا ہونا چاہئے ان پیروں،فقیروں ،کے اشتہارات،وال چاکنگ بل بورڈز بند ہونے چاہئیں تاکہ ان کی بات نہ پھیلے۔جناب ضیا شاہد پی سی این ای کے صدر رہے ہیں ۔ انہیں یہ بات ضرور اٹھانی چاہئے کہ ایسے لوگوں کی پبلسٹی نہیں ہونی چاہئے بلکہ اینٹی پیر اشتہارات چلنے چاہئیں جس میں حکومت بھی شامل ہو۔جب تک تعلیم و تربیت نہیں ہو گی یہ سلسلہ نہیں رکے گا۔رائیونڈ روڈ پر سروے کرایا جائے تو کسی پر جادو ختم کرانے یا جادو کرانے کی چار پانچ لاکھ سے آٹھ لاکھ فیس ہے۔لوگوں کو وہم میں ڈالا جاتا ہے۔ تبلیغی جماعتیں کردار ادا کر سکتی ہیں لوگوں کو شعور دلا سکتے ہیں۔مبشر لقمان نے اپنے پروگرام میں ایسے پیروں کو بلا کر ان کا پردہ فاش کیا تھا ایسے لوگوں کو تو کلمہ تک پڑھنا نہیں آتا۔

”اللہ صحت دے “ ممتاز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کمر درد کی تکلیف میں مبتلا

لاہور (این این آئی) ممتاز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کمر درد کی تکلیف میں مبتلا ہوگئے۔ گزشتہ روز رابطہ کرنے پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بتایا کہ کمر درد کی تکلیف میں مبتلا ہوں اور درد سے نجات کیلئے مختلف ادویات استعمال کر رہا ہوں۔ انہوں نے ملک کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ ماہر معاشیات ہی اس بارے میں کچھ کہہ سکتے ہیں۔

منی لانڈرنگ کرنیوالوں سے سوال پوچھو تو لال پیلے ہو جاتے ہیں : عمران خان

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کرپشن کے حق میں قانون بنانے والوں پر تنقید کرتے ہوئے لبرل فرانسیسی ماہر معاشیات کا ایک اہم اقتباس شیئر کیا۔ وزیرِ اعظم نے اپنی ٹویٹر پوسٹ میں لکھا کہ منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کے ساتھ قانون کی سطح پر جو برتاو کیا جاتا ہے، اس کی حقیقت فریڈرک باسٹائٹ کے اس قول سے واضح ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ کرنے والے افراد سے اگر سوال پوچھا جائے تو ان کا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ وہ غصے میں لال پیلے ہو جاتے ہیں۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے فرانسیسی ماہر معاشیات فریڈرک باسٹائٹ کا اقتباس شیئر کیا، جس میں باسٹائٹ کہتا ہے کہ جب کسی سماج میں ایک طبقے کے لیے لوٹ مار معمول کا کام بن جاتا ہے تو وقت کے ساتھ ساتھ وہ اپنی لوٹ مار کے لیے قانون کا سہارا بھی لے لیتے ہیں۔ باسٹائٹ نے معاشرے میں کرپشن کے پھیلاو کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ لوٹ مار کرنے والے اپنی کرپشن کے لیے بھی قانون بنا لیتے ہیں، ایک ایسا لیگل سسٹم جو ان کو لوٹ مار کی اجازت دیتا ہے، اور لوٹ مار کو قابل تعریف کام بنا دیتا ہے۔ خیال رہے کہ فواد چوہدری نے کہا ہے کہ شریف خاندان اور آصف زرداری نے پاکستان میں اپنی کرپشن کے لیے قانون کا سہارا لیا، اپنی کرپشن کو محفوظ بنانے کے لیے 92میں اکنامی ریفارم ایکٹ لایا گیا، اس ایکٹ میں تھا کہ پیسا باہر سے آ رہا ہے تو ادارے نہیں پوچھ سکتے۔

نواز ، زرداری نے کرپشن کی بنیاد رکھی : فواد چودھری

اسلام آباد (این این آئی‘ مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیراطلاعات ونشریات چوہدری فواد حسین نے شریف خاندان اور زرداری فیملی کو مہنگائی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ شریف خاندان نے ملک میں کرپشن کی بنیاد رکھی، آصف زرداری نے کرپشن کو جدت بخشی، اسحاق ڈار نے جعلی اکاﺅنٹس بنائے اور منی لانڈرنگ کو متعارف کرایا، زرداری نے سندھ میں جعلی اکاﺅنٹس کا نیٹ ورک بنایا، تحقیقات شروع ہونے کے بعد شہباز شریف کی اہلیہ بچوں سمیت اچانک باہر چلی گئیں، ٹی ٹی سے شہبازشریف نے ڈی ایچ اے اسلام آباد، ماڈل ٹاو¿ن اور ڈی ایچ اے لاہور میں اثاثے بنائے، لندن میں بھی اپنے 2 گھر ڈیکلیئر کئے،کرپشن کے خلاف جنگ پوری قوم کا فرض ہے،کسی سے سیاسی انتقام نہیں لیا جارہا ، شریف خاندان کے خلا ف تحقیقات شفاف انداز میں کی جارہی ہیں،1973ءکا آئین ایک متفقہ آئین ہے، معیشت کی طرح ریاستی اداروں کو بھی ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ اتوار کو یہاں وزیر مملکت حماد اظہر اور وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات چو ہدری فواد حسین نے کہاکہ 1947سے 2008 تک ملک کا کل قرض 37 ارب ڈالر تھا۔انہوںنے کہاکہ گزشتہ دس سال میں پاکستان کا قرض 60ارب ڈالر بڑھ گیا۔انہوںنے کہاکہ 1992میں اکنامک ریفارم ایکٹ لایا گیا،ایکٹ میں سرمائے کے ذرائع خفیہ رکھنے کی شق شامل کی گئی۔انہوںنے کہاکہ شریف خاندان نے پاکستان میں کرپشن کی بنیاد رکھی۔انہوںنے کہاکہ حدیبیہ پیپر ملز کے حوالے سے تحقیقات میں اہم انکشافات ہوئے۔انہوںنے کہاکہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ملک میں منی لانڈرنگ کو متعارف کرایا۔انہوںنے کہاکہ جعلی اکاو¿نٹس کے ذریعے پیسہ ملک سے باہر بھجوایا جاتا رہا۔انہوںنے کہاکہ اسحاق ڈار میں 2000 میں اپنے جرم کا اعتراف بھی کیا تھا۔انہوںنے کہاکہ مشرف دور میں نوازشریف کواین آر او دیا گیااور تحقیقات آگے نہ بڑھ سکیں ۔ انہوںنے کہاکہ حدیبیہ پیپر ملز کیس کے فیصلے کو کرپشن چھپانے کیلئے رول ماڈل کے طور پر لیاگیا۔انہوںنے کہاکہ اسحاق ڈار نے منی لانڈرنگ کیلئے جعلی اکاو¿نٹس بنوائے۔انہوںنے کہاکہ حدیبیہ کی طرح ہل میٹلز کو بھی منی لانڈرنگ کیلئے استعمال کیا گیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ ایکٹ کے متعارف کرانے کے بعد اتھارٹی نے مشکوک اکاو¿نٹس سے رقوم کی بڑے پیمانے پر ترسیل نوٹ کی جس کے پیچے حدیبیہ پیپرز ملز تھی۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ حدیبیہ پیپرزملز کے ذریعے 81 کروڑ روپے کی کرپشن کی گئی۔فواد چوہدری نے سوال اٹھایا کہ 9 کروڑروپےمالیت کی حدیبیہ ملزکےاکاو¿نٹ میں اچانک 81کروڑروپے کیسے آئے۔انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی رقم کی ترسیل کے نتیجے میں ایک تحقیقات کا آغاز ہوا جس کے نتائج سے معلوم ہوا کہ حدیبیہ پیپرز ملز کے مالک نوازشریف ہیں اور ان کی والدہ شمیم اختر کمپنی کی ڈائریکٹرتھی، میاں عباس شریف، مریم صفدر، صبیحہ عباس، حسین نواز، حمزہ شہباز شریف اور مریم نواز شریف کمپنی کے ڈائریکٹرز تھے۔انہوں نے الزام لگایا کہ ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ میں بھی ایسا ہی ہوا جیسا حدیبیہ پیپرز میں ہوا اور حسین نواز نے مجموعی طورپر 1 ارب 16 کروڑ 56 لاکھ روپے بذریعہ ٹی ٹی نواز شریف کو ارسال کیے۔وزیراطلاعات کے مطابق نواز شریف نے 82 کروڑ روپے مریم نواز کو دیئے جس سے انہوں نے زرعی زمین خریدی۔ انہوںنے کہاکہ زرداری نے سندھ میں جعلی اکاو¿نٹس کا نیٹ ورک بنایا،مالی ، ڈرائیورز اور گارڈزکے نام جعلی اکاو¿نٹس کیلئے استعمال کئے گئے۔انہوںنے کہاکہ ایف آئی اے نے 5ہزار میں 32 اکاو¿نٹس کی نشاندہی کی۔انہوںنے کہاکہ زرداری کے بچوں اور بلاول ہاو¿س کے اخراجات بھی جعلی اکاو¿نٹس سے پورے کئے گئے۔انہوںنے کہاکہ بلاول اور ایان علی کے ٹکٹ اور بختاور کی سالگرہ کا خرچہ بھی انہی اکاو¿نٹس سے کیا گیا۔انہوںنے کہاکہ 2018میں شہبازشریف کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات شروع ہوئیں۔انہوںنے کہاکہ تحقیقات شروع ہونے کے بعد شہباز شریف کی اہلیہ بچوں سمیت اچانک باہر چلی گئیں۔انہوںنے کہاکہ ساتھ ہی سرمائے کی منتقلی کے 200 سوئفٹ پیغامات جاری کئے گئے۔انہوںنے کہاکہ شہبازشریف کے خاندان کے نام 2کروڑ 60 لاکھ ڈالر منتقل کئے گئے،اس عرصے کے دوران شہبازشریف کی بطوروزیراعلیٰ تنخواہ کے علاوہ کوئی آمدن نہیں تھی،اسی عرصے کے دوران شہبازشریف نے اپنی اہلیہ تہمینہ درانی کیلئے 3 اپارٹمنٹ خریدے۔انہوںنے کہاکہ ٹی ٹی سے شہبازشریف نے ڈی ایچ اے اسلام آباد ، ماڈل ٹاو¿ن اور ڈی ایچ اے لاہور میں اثاثے بنائے۔انہوںنے کہاکہ پاکستان میں انکے کثیر سرمائے کا مختصر حصہ لایا گیا۔انہوںنے کہاکہ شہبازشریف نے لندن میں بھی اپنے 2 گھر ڈیکلیئر کئے۔انہوں نے کہاکہ 200سوئفٹ پیغامات میں 70لوگوں کی شناخت کی گئی ہے جنہوں نے شہباز شریف خاندان کو پیسے بھیجے۔ پنڈدادن خان کے منظور پاپڑ والے نے ایک ملین ڈالر کی ٹی ٹی لگوائی۔ محبوب علی صادق پلازہ کے سامنے ریڑھی لگاتا ہے اس کی 7 لاکھ کی ٹی ٹی لگوائی گئی۔ اس کے علاوہ رفیق نامی شخص کا شناختی کارڈ بھی استعمال ہوا جو کئی سال پہلے مر چکا ہے۔چوہدری فوادحسین نے کہاکہ شناخت کئے جانے والے لوگوں میں پاپڑ بیچنے والا بھی شامل ہے جس کے نام ایک ملین ڈالر ہے۔ انہوںنے کہاکہ پیسے بھجوانے والوں میں سے 14 ایسے لوگ ہیں جن کا وجود ہی نہیں ہے۔ انہوںنے کہاکہ ایک ارب 26 کروڑ روپے نوازشریف کو ٹی ٹی کے ذریعے بھیجے گئے۔ انہوںنے کہاکہ کرپشن کے خلاف جنگ پوری قوم کا فرض ہے۔اس موقع پر شہزاد اکبر نے کہاکہ پاکستان میں معاشی مسائل کی ساری ذمہ داری انہی کرپٹ عناصر پر عائد ہوتی ہے۔انہوںنے کہاکہ کرپشن کرنے والے عناصر سے قانونی پوچھ گچھ نیب کی ذمہ داری ہے،نیب تحقیقات کرکے اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔معاون خصوصی نے کہاکہ دبئی میں پیسہ منتقل کرنے کیلئے جعلی کمپنیاں بنائیں گئیں۔انہوںنے کہاکہ شریف فیملی کے لوگ نیب تحقیقات میں کسی ایک سوال کا جواب بھی نہیں دے پائے۔ انہوںنے کہاکہ وضاحت کردوں کہ رقوم کی منتقلی کی ٹی ٹیز 2008 تک کی گئیں۔انہوںنے کہاکہ جائز ترسیلات زر میں جیتے جاگتے جبکہ جعلی ٹی ٹیز میں گھوسٹ افراد استعمال ہوئے۔انہوںنے کہاکہ کرپشن کے خلاف جنگ کی ذمہ داری صرف عمران خان کی نہیں پوری قوم کی ہے۔انہوںنے کہاکہ مائیں بہنیں سب کیلئے قابل احترام ہوتی ہیں ، بدعنوانی کی تحقیقات بھی قومی فریضہ ہے۔ وزیر اطلاعا ت چوہدری فواد حسین نے کہاکہ وزیراعظم کی قیادت میں موجودہ حکومت نے کرپشن کے خاتمے کا واضح موقف اختیار کیا۔انہوںنے کہاکہ شریف خاندان کے خلا ف تحقیقات شفاف انداز میں کی جارہی ہیں۔فواد چوہدری نے کہاکہ کسی سے سیاسی انتقام نہیں لیا جارہا ۔ شہزاد اکبر نے کہاکہ ن لیگ کی بھی کوئی ایان علی سامنے آ جائےگی،حکومت نیب کوفنڈ فراہم کرسکتی ہے ، نیب پراسیکیوشن بہتر ہونی چاہیے۔انہوںنے کہاکہ قوم کے لوٹے ہوئے پیسے واپس لانے کیلئے پرعزم ہیں۔اس موقع پر وزیر مملکت حماد اظہر نے کہاکہ کسی بھی اقتصادی ماہر نے اسحاق ڈار کی پالیسیوں کی تائید نہیں کی۔ ایک سوال پر وزیراطلاعات نے کہاکہ 1973کا آئین ایک متفقہ آئین ہے، معیشت کی طرح ریاستی اداروں کو بھی ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔موجودہ صورتحال کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہاکہ جو ملک میں مہنگائی اور ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے تو اس کی وجہ یہی خاندان ہیں۔ فواد چوہدری نے کہا کہ 1947 ءسے 2008 ءتک پاکستان کا قرضہ 37 بلین ڈالرز تھا، 2008 ءسے 2018 ءتک یہ قرضہ 97 بلین ڈالرز تک پہنچ گیا، 10 سال میں قرضہ 60 بلین ڈالرز بڑھ گیا، اس دوران پاکستان میں دو خاندان حکمرانی کرتے رہے۔ انھوں نے کہا کہ شریف فیملی سرکاری وسائل اور سرکاری پیسے کھاتی رہی، شریف فیملی کے پاس اتنا پیسہ جمع ہو گیا کہ 92 میں اکنامی ریفارم ایکٹ لایا گیا، اس ایکٹ میں تھا کہ پیسہ باہر سے آ رہا ہے تو ادارے نہیں پوچھ سکتے، 96 سے 98 میں اداروں نے نوٹ کیا کہ بہت مشکوک ٹرانزکشنز ہوئی ہیں، حدیبیہ پیپرز مل کو اچانک 87 ارب روپے بیرون ملک سے آئے تھے، تحقیقات میں پتا چلا میاں شریف اس کے مالک ہیں، شریف فیملی کے دیگر ممبران بھی حدیبیہ پیپر مل کا حصہ تھے۔ اسحاق ڈار نے منی لانڈرنگ کے لیے جعلی اکاﺅنٹس کا نیا طریقہ لانچ کیا، پاکستان سے پیسے جعلی اکانٹس کے ذریعے باہر بھیجے گئے، شریف فیملی کے 40 لوگوں کے نام پر وہ پیسہ بذریعہ ٹی ٹی واپس لایا گیا، بعد میں شریف فیملی کو این آر او مل گیا انھوں نے معافی مانگ لی، ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ میں بھی حدیبیہ پیپر مل طرز پر کرپشن کی گئی۔ حسین نواز نے 1 ارب 16 کروڑ 56 لاکھ بذریعہ ٹی ٹی نواز شریف کو بھیجے، 82 کروڑ روپے نواز شریف نے مریم نواز کو دیے، مریم نواز نے پھر ان پیسوں سے ایگری کلچر کا کام کیا، اسی طرح باقی پیسے بھی شریف خاندان کے دیگر افراد کو بھیجے گئے۔ شریف خاندان کے طرز پر آصف زرداری نے بھی کرپشن کی، انھوں نے کرپشن کے لیے بینک ہی خرید لیا، اور گارڈز، ڈرائیورز اور دیگر کے جعلی اکانٹس بنوائے، آصف زرداری کے جعلی اکانٹس کے ذریعے پیسا آتا تھا اور یوں پورا نیٹ ورک بنایا گیا، منی لانڈرنگ کے لیے اکنامک ہٹ مین اسحاق ڈار کو لایا گیا۔ کرپشن کے اس پورے نیٹ ورک میں اومنی گروپ اور سندھ کے ٹھیکے دار بھی ملوث ہیں، سندھ کا تمام پیسا زرداری اینڈ کمپنی نے ہڑپ کیا، اکتوبر 2018 میں شہباز شریف کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی تفتیش شروع ہوئی، نومبر 2018 میں پتا چلا کہ شہباز شریف کی فیملی باہر جانا شروع ہوگئی ہے، اداروں نے نوٹ کیا 200 بار رقم ٹی ٹی کے ذریعے منتقل کی گئی۔ تفتیش میں پتا چلا ان کی تمام رقم ٹی ٹی کے ذریعے آتی ہے، شہباز فیملی پاکستان میں کوئی پیسا نہیں کماتی تھی، شہباز شریف تمام معاملے کے اصل بینفشری تھے، انھوں نے مارگلہ ہلز کے پاس تہمینہ درانی کے لیے 3 اپارٹمنٹس خریدے، اپارٹمنٹس کے لیے نصرت بی بی کے اکانٹس میں ٹی ٹی کے ذریعے پیسا آیا، ڈیفنس لاہور میں بھی تہمینہ درانی کے لیے گھر خریدا گیا اور رقم ٹی ٹی سے آئی۔ بیرون ملک سے پیسا تب آتا تھا جب شہباز فیملی کو ضرورت ہوتی تھی، اس کا مطلب ہے شہباز فیملی کا جو پیسا پاکستان آ رہا ہے وہ فیکشن آف منی ہے، پاکستان آنے والا پیسا بالکل اسی طرح ہے جیسے چونگی کے پیسے ہوں، شہباز فیملی کا پیسا بیرون ملک میں پڑا ہے، یہ صرف چونگی کا پیسا آتا ہے۔ ٹی ٹی کے ذریعے رقم بھیجنے والے 70 کے قریب لوگوں کی نشان دہی ہوئی، پاپر بیچنے والا منظور، محبوب، رفیق نامی شخص نے ٹی ٹی بھجوائی، رفیق کے شناختی کارڈ سے پتا چلتا ہے وہ ٹرانزکشن سے کئی سال پہلے مر چکا تھا، ٹی ٹی سے رقم بھیجنے والے 14 لوگ ایسے ہیں جو پیسا بھیجنے کی حیثیت نہیں رکھتے۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ کرپشن حدیبیہ سے ہل میٹل، زرداری کے اکاﺅنٹس اور پھر شہباز شریف تک پہنچی، یہ پاکستان کا پیسا تھا، مہنگائی کی وجہ بھی یہی تین خاندان ہیں، ڈالر مہنگا ہو رہا ہے، بیرون ملک پاکستان کے مسائل کی وجہ بھی یہی لوگ ہیں، ان کے خلاف کسی قسم کی انتقامی کارروائی نہیں ہو رہی، مقدمات شفاف ہیں، کرپشن کی اس داستان کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔

ناروے: شرپسندوں نے مسجد کو آگ لگادی، عمارت شدید متاثر

اوسلو (مانیٹرنگ ڈیسک) ناروے کے شہر ایجرسینڈ میں مسجد کو آگ لگادی گئی، جس کے نتیجے میں مسجد کو شدید نقصان پہنچا، پولیس حکام کے مطابق ممکنہ طور پر شر پسندوں نے آگ لگائی۔ ناروے میں شرپسندوں عناصر نے مسجد کو آگ لگادی۔ آتشزدگی کے سبب مسجد کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ پولیس نے آگ لگانے کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ تاہم ابتدائی طور پر خدشہ ظاہر کیا ہے کہ شرپسند نے ہی مسجد میں آگ لگائی ہے۔ آگ لگنے کے واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم عمارت کا بڑا حصہ آتشزدگی کی نظر ہوا، مقامی مسلمانوں نے واقعے پر شدید غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔ یاد رہے کہ نیوزی لینڈ میں مساجد پر مسلح حملے کے بعد مسلمانوں کے خلاف دوسری کارروئی ہے، گزشتہ ماہ سانحہ کرائسٹ چرچ میں 49مسلمان شہید ہوئے تھے۔

ورلڈکپ میں پاک بھارت میچ نہیں جنگ ہو گی:وریندر سہواگ

نئی دلی(صباح نیوز) بھارتی ٹیم کے سابق ٹیسٹ بلے باز وریندر سہواگ کا کہنا ہے کہ ورلڈکپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ نہیں بلکہ جنگ ہوگی۔ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کے سابق اوپننگ بلے باز وریندر سہواگ نے کہا کہ ورلڈکپ 2019میں 16جون کو مانچسٹر کے میدان میں پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ ہوگا، دراصل یہ میچ نہیں بلکہ جنگ ہے اور ہمیں ہر حال میں پاکستان کو ہرانا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ پلوامہ حملے کے بعد بھارت کے متعدد سابق کرکٹرز اور دیگر لوگوں نے بھارتی کرکٹ بورڈ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ورلڈکپ میں پاکستان کے میچ کا بائیکاٹ کردیں اور وریندر سہواگ بھی انہی میں سے ایک ہیں جو اس بات کی حمایت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان سے میچ نہ بھی ہوا تو کوئی فرق نہیں پڑتا تاہم ہمیں ملک کے بہتر مفاد میں سوچتے ہوئے فیصلہ لینا چاہیے۔کرکٹ سے سیاست میں آنے سے متعلق سوال پر وریندر سہواگ نے کہا کہ میں نے کرکٹ میں ہمیشہ کنٹریکٹ سائن کیے ہیں چاہیے وہ آئی پی ایل ہو یا رانجھی ٹرافی اور ویسے ہی کوئی بھی سیاسی جماعت مجھے اچھا کنٹریکٹ دے گی تو میں اس پارٹی میں شامل ہوجاوں گا اور وہ کنٹریکٹ 100کروڑ سے کم کا نہیں ہونا چاہیے۔

آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوا کوئی آپشن نہیں:شیخ رشید

کراچی(آئی این پی )وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں، سیاسی استحکام کے بغیر ملک میں معاشی استحکام نہیں آسکتا،معاشرہ مجموعی طور پر کرپٹ ہوچکا ہے،گرین لائن میں بچوں کاکرایہ نصف کردیاہے،ریلوے کی آمدن میں ہرماہ بتدریج اضافہ ہورہاہے،ملک میں مال بردار ٹرینوں کی تعداد میں اضافہ کررہے ہیں،مودی الیکشن جیتے تو ملکی سلامتی پر سوالات اٹھیں گے۔ہفتہ کو شیخ رشید نے ایوان صنعت وتجارت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر ملک میں معاشی استحکام نہیں آسکتا، معاشرے میں پیسے کی فراوانی سے کرپشن بڑھی ہے ، گزشتہ چندماہ میں 24 نئی ٹرینیں چلاچکے ہیں،رحمان باباایکسپریس میں بچوں کاکرایہ نصف کردیاہے،باتیں کرنا آسان اور کام کرنا مشکل ہے ، ہمارے معاشرے کی شناخت دولت ہوچکی ہے اور شرافت کو کوئی نہیں دیکھتا،ہمیں اپنے معاشرے کو بدلنا ہوگا ، گرین لائن میں بچوں کاکرایہ نصف کردیاہے، ریلوے کی آمدن میں ہرماہ بتدریج اضافہ ہورہاہے،4ماہ میں 4ارب زیادہ کمایا ہے ۔ شیخ رشید نے مزید کہا کہ ملک میں مال بردار گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ کر رہے ہیں ، سی پیک میں ریلوے کے منصوبے بھی شامل ہیں ۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ ملک کا خزانہ غریب آدمی نے نہیں امیروں نے لوٹا ہے ، ہمارے پاس آئی ایم ایف کے پاس جانے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ، بیس سال سے ملک کو دو حکومتوں نے تباہ کردیا ہے اور آج وہ اچھے بننا چاہتے ہیں ، مودی الیکشن جیتے تو ملکی سلامتی پر سوالات اٹھیں گے،سب کو پتہ ہے کہ آصف زرداری اور نوازشریف چور ہیں لیکن سسٹم بوسیدہ ہے ، عمران خان ایم ایل ون پر چین جا کر دستخط کریں گے ، گیس کی قیمتوں میں اضافہ چوروں کی وجہ سے ہوا ہے ،اسمگلنگ روڈ سے ہی نہیں ٹرین سے بھی ہوتی ہے،بزنس مین ملک چلاتا ہے لیکن خرابیاں بھی انہی سے ہوتی ہیں،متعلقہ محکمے کے وزیراورسیکرٹری کے بغیرکرپشن نہیں ہوسکتی۔

بد قسمتی سے انصاف پارلیمنٹ کی ترجیح نہیں ، انتظامیہ کیساتھ مل کر بہتری لانا ہو گی : چیف جسٹس

اسلام آباد (این این آئی)چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے عدالتوں میں زیر التواءمقدمات کو نمٹانے کی رفتار پر اطمینان کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ سال عدالتوں نے 34 لاکھ مقدمات نمٹائے ،ججز کو اس سے زیادہ ڈو مور کا نہیں کہہ سکتے،سستے اور فوری انصاف کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے ،بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں نہیں ،پارلیمنٹ اور انتظامیہ کو انصاف کے شعبے میں بہتری کی ذمہ داری لینا ہوگی،عدالتی فیصلوں میں ” تاخیر“کو ٹارگٹ کرکے ختم کرنا ہے ، دو ہفتے میں تفتیش مکمل کرکے چالان جمع کرانا لازمی ہے، انسداد دہشتگردی قانون دیکھیں تو چوری اور زناءبھی دہشتگردی ہے،مقدمات کے فوری فیصلے کرنے والے ججوں کو سیلوٹ کرتا ہوں، ملزمان کی عدم پیشی پر جیل حکام کیخلاف کارروائی ہوگی، ججز سماعت کیساتھ ہی فیصلہ لکھنا شروع کر دیں،ساتھ ساتھ فیصلہ لکھا جاتا رہے تو دلائل مکمل ہوتے ہی فیصلہ بھی تیار ہوگا، ماڈل کورٹس کے ججز کا کردار ناقابل فراموش ہے، ایک ماہ بعد ماڈل کورٹس میں ایک ایک ججز کا اضافہ کرینگے۔ ہفتہ کو وفاقی جوڈیشل اکیڈمی میں فوری فراہمی انصاف کے حوالے سے قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ جج بنا تو پہلے دن سے ہی مشن تھا کہ مقدمات کے جلد فیصلے کیے جائیں۔ انہوںنے کہاکہ بار میں وکلاءمجھے اور ساتھی ججز کو جنون گروپ کہتے تھے۔ انہوںنے کہاکہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ سستا اور فوری انصاف فراہم کرے ۔انہوںنے کہاکہ ماضی میں فیصلوں میں تاخیر کم کرنے کیلئے کئی تجربات کیے گئے۔ انہوںنے کہاکہ کبھی قانون میں ترمیم کبھی ڈو مور کی تجویز دی گئی ۔ انہوںنے کہاکہ ججز کو ڈو مور کا نہیں کہہ سکتے ،ہمارے ججز جتنا کام کر رہے ہیں اتنا دنیا میں کوئی نہیں کرتا ۔ انہوںنے کہاکہ ملک میں مجموعی طور پر تین ہزار ججز ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ گزشتہ سال عدالتوں نے 34 لاکھ مقدمات نمٹائے ،ججز کو اس سے زیادہ ڈو مور کا نہیں کہہ سکتے۔چیف جسٹس نے کہاکہ امریکی سپریم کورٹ سال میں 80 سے 90 مقدمات نمٹاتی ہے۔انہوںنے کہاکہ برطانوی سپریم کورٹ سالانہ 100 مقدمات کے فیصلے کرتی ہے ۔انہوںنے کہاکہ پاکستانی سپریم کورٹ نے گزشتہ سال 26 ہزار مقدمات نمٹائے ۔انہوںنے کہاکہ فیصلوں میں تاخیر کی وجوہات کو کم کرنا ہے۔انہوںنے کہاکہ قانون کہتا ہے فوجداری کیس کی تحقیقات دو ہفتے میں مکمل ہوں ۔انہوںنے کہاکہ دو ہفتے میں تفتیش مکمل کرکے چالان جمع کرانا لازمی ہے۔انہوںنے کہاکہ چالان جمع ہونے کے بعد عدالت کا کام ہے کیس کا شیڈیول بنائے ۔انہوںنے کہاکہ برطانیہ میں آج بھی کیس دائر کریں تو سال بعد کی تاریخ ملتی ہے ۔انہوںنے کہاکہ برطانیہ میں جب کیس لگ جائے تو پھر التواءنہیں دیا جاتا ۔انہوںنے کہاکہ ٹرائل کورٹ میں التواءکا کوئی تصور نہیں ہوتا۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے کہاکہ ماڈل کورٹس میں گواہان پیش کرنے میں پولیس کا تعاون مثالی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ملزمان کی عدم پیشی پر جیل حکام کیخلاف کارروائی ہوگی۔ انہوںنے کہاکہ فورنزک لیب ماہرین بھی عدلیہ کیساتھ بھرپور تعاون کر رہے ہیں ،سماعت سے پہلے تمام متعلقہ مواد عدالت میں موجود ہونا چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ تاخیر کو ٹارگٹ کرکے ختم کرنا ہے ،مقدمات کے فوری فیصلے کرنے والوں کو سیلوٹ کرتا ہوں۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے کوئی قانون تبدیل کیا ہے نہ ہی ضابطہ کار تبدیل کیا ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ عدالتی جائزہ سے پہلے بہتر ہوگا پارلیمنٹ ایسے قوانین کا جائزہ لیں۔ انہوںنے کہاکہ جائیداد کے تنازعات کے فیصلے پولیس رپورٹس پر ہوتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ کیا پولیس کا کام ہے کہ فریقین کے حقوق کا تعین کرے؟ ۔ انہوںنے کہاکہ سول مقدمہ میں پولیس کے کردار کا قانون سمجھ سے بالاتر ہے ۔انہوںنے کہاکہ اٹارنی جنرل کے ذریعے معاملہ حکومت کے نوٹس میں لائے ۔انہوںنے کہاکہ پارلیمنٹ خود اپنے بنائے ہوئے قوانین کا جائزہ لے ۔انہوںنے کہاکہ انسداد دہشتگردی قانون دیکھیں تو چوری اور زناءبھی دہشتگردی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ عدالت نے دہشتگردی دفعات کا جائزہ لینے کیلئے لارجر بنچ بنایا ،لارجر بنچ کا فیصلہ محفوظ ہے اس لیے اس پر بات نہیں کروں گا ۔انہوںنے کہاکہ یہ پارلیمنٹ کا کام ہے کہ انسداد دہشتگردی کے قانون کو آسان بنائے۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ ججز سماعت کیساتھ ہی فیصلہ لکھنا شروع کر دیں۔ انہوںنے کہاکہ ساتھ ساتھ فیصلہ لکھا جاتا رہے تو دلائل مکمل ہوتے ہی فیصلہ بھی تیار ہوگا ۔ انہوںنے کہاکہ اعلیٰ عدلیہ ہر سماعت کا مکمل حکمنامہ لکھواتی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ساتھ ساتھ لکھا جائے تو سماعت مکمل ہونے کے اگلے ہی دن حتمی فیصلہ آ سکتا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے کہاکہ ماڈل کورٹس کے ججز کا کردار ناقابل فراموش ہے۔انہوںنے کہاکہ ایک ماہ بعد ماڈل کورٹس میں ایک ایک ججز کا اضافہ کرینگے۔انہوںنے کہاکہ کوشش ہوگی نئی ماڈل کورٹس سول مقدمات کی ہوں۔انہوںنے کہاکہ پہلے مرحلے میں فیملی اور کرایہ داری مقدمات نمٹائے جائیں گے۔انہوںنے کہاکہ کوشش ہے کہ آہستہ آہستہ تمام ججز ماڈل کورٹس کے ججز بن جائیں۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ مقدمات کا وقت مقرر کرنے سے انصاف کا حصول آسان ہوگا، کسی وجہ سے وکیل کے پیش نہ ہونے پر جونیئر کو مقرر کیا جائے گا، مقدمے میں کسی وجہ سے استغاثہ کے پیش نہ ہونے پر متبادل انتظام کیا جائے گا، کیمیکل ایگزامینر اور فرانزک اتھارٹیز کی رپورٹس کو مقررہ مدت پرپیش کرنےکو یقینی بنانا ہوگا۔نجی ٹی و ی کے مطابق جوڈیشل پالیسی بہتر بنانے کے لیے سفارشات اور ترامیم کو پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیاگیا، بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں نہیں، پارلیمنٹ اور انتظامیہ کو بھی عدلیہ کی طرح انصاف کے شعبے میں بہتری کی ذمہ داری لینا ہوگی۔انہوںنے کہاکہ عدالتی قوانین واضح ہیں بس انہیں سمجھنے کی ضرورت ہے، انسداد دہشتگردی ایکٹ سمجھنے کے لیے قانون میں تعارف موجود ہے، قوانین میں ابہام دور کرنے کے لیے اٹارنی جنرل سے رائے مانگی جاتی ہے، ملکی قوانین میں انسانی حقوق کو مد نظر رکھاجاتا ہے۔چیف جسٹس نے ماڈل کورٹس میں عدالتی عمل تیز کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ متازع معاملات اور وراثتی مقدمات کےلئے بھی نظام کو آسان بنایا جارہا ہے،وراثتی سرٹیفکیٹ کے لیے عدالتوں کے بجائے نادرا کا نظام اپنانے کی ضرورت ہے، خاندانی اور وراثتی مسائل عدالت کے بجائے نادرا میں حل ہو سکیں گے۔

ایف اے ٹی ایف کے پاکستان سے نئے مطالبات

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے ملک بھر کے صرافہ بازاروں کو دستاویزی بنانے، سونے کی خریدوفروخت کو ریگولرائز بنانے اور ضلعی سطع پر رجسٹرڈ ویلفیئر ٹرسٹ کا ڈیٹا اکٹھا کرنے سمیت دیگر مطالبات کی فہرست پاکستانی وزارت خزانہ کو دیدی۔
ایف اے ٹی ایف کے ساتھ ایکشن پلان پر عملدرآمد کے بارے میں اگلے 3 دور ہونے ہیں۔ اس کے بعد جون اور جولائی میں ایکشن پلان پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائیگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے دی جانیوالی تجاویز میں کہا گیا ہے کہ سونے کے لین دین کیلئے بینک کارڈز یا دیگر رجسٹرڈ انسٹرومنٹس استعمال کئے جائیں اور ملک میں زیورات خریدنے والوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے تاکہ سونے اور زیورات دہشت گرد تنظمیوں تک نہ پہنچ پائیں.
علاوہ ازیں ضلعی سطح پر ٹرسٹ کے اکاونٹس کی تفصیلات اکھٹی جائیں اور ان تفصیلات پر مبنی الیکٹرانک ڈیٹا بینک قائم کیا جائے جسکی تسلسل کے ساتھ مانیٹرنگ کی جائے گی تاکہ اسکا غلط استعمال نہ ہوسکے، پاکستان کل فیٹف کو ایکشن پلان پر عملدرا?مدی رپورٹ پیش کریگا۔

جاپان میں بس کی جسامت کا ٹی وی فروخت کے لیے پیش

ٹوکیو (ویب ڈیسک ) سونی کمپنی نے دنیا کا سب سے تفصیلی تصاویر دکھانے والا ٹی وی تیار کیا ہے جس کی جسامت ایک بس کے برابر ہے اور اسے 16کے ٹی وی کا نام دیا گیا ہے کیونکہ 1080 ایچ ڈی ویڈیو سے بھی اس کا معیار آٹھ گنا زیادہ ہے۔ اسے قریب سے دیکھا جائے یا دور سے اس کے پکسل دھندلاتے نہیں اور نہ ہی تصویر کی باریکی پر کوئی فرق پڑتا ہے۔ٹی وی اسکرین کی چوڑائی 63 فٹ اور اونچائی 17 فٹ ہے اور اسے ٹوکیو کے جنوب میں واقع یوکوہاما شہر میں ایک میک اپ بنانے والی کمپنی میں نصب کیا گیا ہے اور یہ دو منزلوں کی جگہ گھیرے ہوئے ہے۔ اس کا اعلان لاس ویگاس میں نیشنل ایسوسی ایشن آف براڈکاسٹر کے ایک شو میں کیا گیا ہے۔سونی کمپنی سے وابستہ ایک افسر نے کہا کہ دنیا 8K ٹی وی کی جانب بہت سست رفتاری سے سفر کررہی ہےاور 16K ٹی وی کو عام لوگوں تک پہنچنے میں لگ بھگ دس برس لگ جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اتنا بڑا 16K ٹی وی بنانا ایک اہم کارنامہ ہے جس کے نتائج دیکھ کر ہر کوئی حیران رہ جاتا ہے۔
دیکھنے پر ہر ویڈیو اور تصویر میں ایک خاص گہرائی کا احساس ہوتا ہے اور اچھی بات یہ ہے کہ اس میں چھوٹے چھوٹے اسکرین کی بجائے ہموار انداز میں پورے اسکرین کو تیار کیا گیا ہے۔ سونی نے اس ٹیکنالوجی کو ’کرسٹل ایل ای ڈی‘ کا نام دیا ہے جس میں بہت ہی باریک ایل ای ڈی کو استعمال کیا جاتا ہے۔
اس ٹیکنالوجی میں اسکرین کے لیے بیک لائٹ کی ضرورت نہیں رہتی لیکن یہ او ایل ای ڈی سے بھی روشن ہوتی ہے تاہم اس کا نسخہ بہت مہنگا ہے اور یہ ٹیکنالوجی ابھی قیمتوں کی بلندیوں پر موجود ہے۔

وزن میں کمی کیلئے ٹھنڈا پانی زیادہ مفید ہے یا نیم گرم پانی؟

لاہور (ویب ڈیسک ) انسانی جسم کا 70 فیصد حصہ پانی سے بنا ہوا ہے پانی انسانی زندگی کے لیے لازمی چیز ہے جس کے بغیر زندگی ممکن نہیں۔ ہر انسان کو فٹ رہنے کے لیے روزانہ تقریباً 2 لیٹر پانی پینا چاہئے، پانی میں زیرو کیلوریز ہوتی ہیں اور یہ جسم میں موجود مزید کیلوریز کو بھی کم کرنے میں بے حد مدد کرتا ہے۔دنیا بھر میں یہ تاثر بہت عام ہے کہ نیم گرم پانی وزن میں کمی کے لیے بے حد مفید ہےاور وزن میں کمی کے خواہشمند افراد کو نیم گرم پانی تجویز کیا جاتا ہے لیکن کیا واقعی یہ سچ ہے کہ ٹھنڈے کے مقابلے نیم گرم پانی زیادہ بہتر ہے؟
ٹھنڈے پانی کے نقصانات

ٹھنڈا پانی خون میں موجود چربی کو ٹھوس بنا دیتا ہے اور غذائی اجزا کو جذب کرنا مشکل بنا دیتا ہے اس کے علاوہ ٹھنڈا پانی نظام انہضام کے عمل کو بھی سست بنا دیتا ہے جس کے باعث ہمارے جسم کو غذا ہضم کرنے کے دوران پانی کے درجہ حرارت کو معمول پر لانے کا اضافی کام کرنا پڑتا ہے۔
نیم گرم پانی کے فائدے

نیم گرم پانی ہاضمے کے نظام میں بے حد مفید ہے۔ کھانا کھانے سے قبل نیم گرم پانی ہاضمے کے نظام کو تیز کردیتا ہے جس سے کھانا جلدی ہضم ہوتا ہے۔ جب کہ ناشتے سے قبل ایک کپ نیم گرم پانی جسم میں موجود زہریلے مادوں کو خارج کرنے میں بھی بہت مدد کرتا ہے۔
وزن میں کمی کیلئے نیم گرم اورٹھنڈے پانی میں سے کون زیادہ مفید؟

ٹھنڈے پانی کے مقابلے نیم گرم پانی کے بہت فائدے ہیں لیکن جب بات وزن کم کرنے کی ہو تو پانی کا درجہ حرارت کوئی معنی نہیں رکھتا۔ وزن میں کمی کے خواہشمند افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ زیادہ مقدار میں پانی پئیں۔ کیونکہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ نیم گرم یا گرم پانی وزن میں کمی کے عمل کو تیز کردیتا ہے۔
جب بھی کوئی انسان وزن میں کمی کرتا ہے تو بہت سارے عوامل اس میں شامل ہوتے ہیں لہٰذا ا?پ صرف گرم پانی پینے کو وزن میں کمی سے نہیں جوڑسکتے یا وزن میں کمی کے لیے صرف گرم پانی پر انحصار نہیں کرناچاہئے۔ بلکہ وزن میں کمی کے خواہشمند افراد کو صحت بخش غذا کے ساتھ ورزش کی عادت کو بھی اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا چاہئے۔ اس کے علاوہ باہر کے تلے ہوئے کھانوں سے پرہیز کرتے ہوئے پھل اور ہری سبزیوں کا استعمال بڑھا دینا چاہئے۔

جاپانی شخص نے شادی کی انوکھے انداز میں پیشکش کرکے ورلڈ ریکارڈ بنالیا

ٹوکیو (ویب ڈیسک ) جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اپنی دوست کو شادی کی انوکھے انداز میں پیشکش کرکے ورلڈ ریکارڈ بنالیا۔کسی کو شادی کی پیشکش کرنے کے لیے پھول، چاکلیٹس اورخطوط کا زمانہ اب ہوا پرانا کیونکہ اب جاپانی شخص یاسوشی یاسان تاکاشی نے نئی اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنی دوست کو شادی کی پیشکش کرکے دنیا کو حیران کردیا۔ 2008 میں یاسوشی کو احساس ہوا کہ جس کے ساتھ وہ زندگی گزارنا چاہتے ہیں وہ لڑکی انہیں مل گئی ہے تاہم انہوں نے اس لڑکی کو شادی کی پیشکش کرنے کے لیے جی پی ایس کا استعمال کیا۔یاسوشی نے گوگل ارتھ استعمال کرتے ہوئے دنیا کی سب سے بڑی جی پی ایس آرٹ ڈرائنگ بنائی جس کے ذریعے انہوں نے اپنی دوست کو شادی کی پیشکش کی۔ یاسوشی نے یہ ڈرائنگ بنانے کے لیے جی پی ایس ڈیوائس ا?ن کرکے پہلے سے مقرر کردہ راستوں پر جاپان کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا اور وہ جاپان کی ان تمام جگہوں پر گئے جس کے بارے میں انہوں نے صرف پڑھا یا سناتھا۔ اپنے دورے کے دوران یاسوشی نے تقریباً 4 ہزار 451 میل(7000کلومیٹر)کا سفرکیا۔ سفر کے اختتام پر یاسوشی نے اپنا جی پی ایس ڈیٹا گوگل ارتھ پر اپ لوڈ کیا جس سے گوگل ارتھ پر ایک آرٹ تخلیق ہوا جس میں شادی کی پیشکش کی گئی تھی اس کے ساتھ انہوں نے دل کی تصویر بھی بنائی تھی۔یہ تاریخ کی سب سے بڑی جی پی ایس ڈرائنگ ہے جس کے بعد یاسوشی کا نام گنیز ورلڈ ریکارڈ میں شامل کرلیاگیا۔ انہیں گوگل ارتھ پر یہ تصویر بنانے میں 6 ماہ کا عرصہ لگا اپنے سفر کو مکمل کرنے کے لیے یاسوشی نے ملازمت بھی چھوڑدی۔ یاسوشی کی محنت اس وقت رنگ لے آئی جب ان کی دوست نے شادی کی پیشکش قبول کرتے ہوئے یاسوشی کو ”ہاں“ کہہ دیا۔
یاسوشی کےاس کارنامے نے گوگل کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کرالی اور گوگل نے اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاو¿نٹ پر یاسوشی کی ویڈیو شیئرکراکے انہیں داد دی۔

شہباز شریف کی اہلیہ ، بیٹیاں نیب میں طلب

لاہور (خبرنگار) نیب لاہور نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں لگ بھگ پورے شریف خاندان کو ذاتی حیثیت میں بیان دینے کیلئے طلب کر لیا ہے،حمزہ شہباز کوچنیوٹ نالہ کیس میں15 اپریل اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں16اپریل کو طلب کر لیا، اثاثہ جات کیس میں شہبازشریف کی اہلیہ کو 17اپریل، صاحبزادی (ر) کو 18اپریل اور (ج) کو19 اپریل کو بیان ریکارڈ کرانے کیلئے نیب لاہور طلب کر لیا، شہباز شریف کی اہلیہ اور صاحبزادیوں کوبزنس ٹرانزیکشن سے متعلق پوچھ گچھ کیلئے طلب کیا گیاہے۔ ہفتہ کوتفصیلات کے مطابق شریف خاندان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں بڑی پیش رفت ہوئی، نیب لاہور نے لگ بھگ پورے شریف خاندان کو ذاتی حیثیت میں بیان دینے کیلئے طلب کر لیا ہے،نیب لاہور نے شہبازشریف کی اہلیہ اور دونوں صاحبزادیوں کو بھی طلب کر لیا ،حمزہ شہباز کو15اپریل کوسرکاری خرچ پرنالہ بنانے کے الزام میں طلب کیاگیا جبکہ حمزہ شہباز کو 16 اپریل کوآمدن سے زائداثاثے بنانے کے کیس میں طلب کیاگیاہے،شہبازشریف کی اہلیہ کو 17اپریل کو طلب کیا گیا ہے ،18اپریل کو شہبازشریف کی صاحبزادی (ر) کو طلب کیا گیا جبکہ 19اپریل کو شہبازشریف کی دوسری صاحبزادی (ج) کو طلب کیاگیاہے، شہباز شریف کی اہلیہ اورصاحبزادیوں کوبزنس ٹرانزیکشن سے متعلق پوچھ گچھ کیلئے طلب کیا گیاہے۔ذرائع کے مطابق چیرمین نیب نے شہبازشریف کی اہلیہ کیخلاف انوسٹی گیشن کی منظوری دی۔ شہباز شریف نے اپنی اہلیہ کو کروڑوں روپے مالیت کے اثاثے تحفے میں دئیے، انہوں نے اپنی اہلیہ کو 5 کروڑ 57 لاکھ 72 ہزار کی رقم تحفے میں دی، شہباز شریف کی جانب سے یہ رقم 2013 ءسے 2018 ءکے درمیان مختلف ٹرانزیکشن کے ذریعے منتقل کی گئی۔ اہلیہ شہباز 12 کمپنیوں میں 69 لاکھ 56 ہزار 500 شئیرز کی مالک ہیں، 96 ایچ ماڈل ٹاﺅن اور مری کی رہائش اہلیہ شہباز کے نام ہیں اہلیہ شہباز کے نام قصور اور فیروز والا میں 810 کنال قیمتی زمین ہے۔ حمزہ شہباز اور شہبازشریف کے خلاف منی لانڈرنگ کے حوالے سے بھی تحقیقات جاری ہیں۔ نیب کی جانب سے اہلیہ شہباز کی طلبی پر ان معاملات سے متعلق سوالات کئے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق شہباز شریف کی صاحبزادیوں کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں طلب کیا گیا، 18اپریل کو (ر) جبکہ 19اپریل کو (ج) کو نیب میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا۔جبکہ حمزہ شہباز کو کو بھی 16 اپریل کو دوبارہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس جبکہ 15 اپریل کو حمزہ شہبازشریف کو چنیوٹ ملز کیس میں مزید ثبوت آنے پر طلب کیا گیا ہے۔