کرکٹ بورڈ میں جاری بحران کا کھلاڑیوں کی کارکردگی پر برا اثر پڑے گا:محمدرضوان سپورٹس اینکر

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے سپورٹس اینکر محمد رضوان نے کہا کہ ساری دنیا اس وقت ورلڈ کپ کی تیاریوں میں مصروف ہے جبکہ ہمارے یہاں نیا پنڈورا بکس کھل گیا ہے۔ چیئرمین پی سی بی ایم ڈی وسیم خان کو انگلینڈ سے لائے جبکہ پی سی بی آئین میں ایم ڈی کا عہدہ ہی نہیں ہے۔ کوئٹہ اجلاس میں 5 بورڈ ممبران نے اس لئے منظوری دینے سے انکار کر دیا اور سوال اٹھایا انہوں نے ریجن سسٹم اورڈیپارٹمنٹ سسٹم کو ختم کرنے کی بات کو بھی مسترد کر دیا جس سے بحران کھڑا ہوا وزیراعظم جو پیٹرن ان چیف ہیں اب چیئرمین پی سی بی کے ساتھ ملاقات کریں گے تا کہ سارے معاملے کا حل تلاش کیا جا سکے۔ کھلاڑیوں کی سلیکشن پر بھی سوالیہ نشان ہے، بہت سے کھلا؟ری حالیہ آسٹریلین سیریز میں نہیں کھیلے کہ آرام پر تھے، اب ان کی کارکردگی کا انگلینڈ سیریز میں پتہ چل جائے گا۔ کئی کھلاڑیوں نے فٹنس ٹیسٹ بھی پاس نہیں کیا لیکن ان کو شامل کر دیا گیا جن میں محمد حفیظ، عماد وسیم، فخرزمان شامل ہیں۔ بورڈ میں جاری بحران کا کھلاڑیوں کی کارکردگی پر بھی برا اثر پڑے گا۔

بجلی صارفین کیلئے بری خبر، 16 پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان

اسلام آباد(اے این این ) بجلی صارفین کے لئے بری خبر، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں 16 پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان ہے۔ نیپرا چوبیس اپریل کو سماعت کے بعد فیصلہ کرے گا۔سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی جانب سے مارچ کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں جمع کرائی گئی درخواست کے مطابق مارچ کے لئے بجلی کی ریفرنس پرائس 4 روپے 99 پیسے فی یونٹ مقرر کی گئی تھی جبکہ بجلی کی پیداواری لاگت 5 روپے 15 پیسے فی یونٹ رہی۔سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی(سی پی پی اے) نے سابقہ ایڈجسٹمنٹ اور سپلمنٹری چارجز کی مد میں 14 پیسے فی یونٹ صارفین پر ڈالنے جبکہ ٹرانسمیشن لاسز کی مد میں ایک پیسہ فی یونٹ صارفین پر ڈالنے کی تجویز دی گئی ہے۔سی پی پی اے کے مطابق مارچ میں کوئلے سے 14.02 فیصد گیس سے 24.05 فیصد آر ایل این جی سے 23.40 فیصد اور ایٹمی ذرائع سے 11.52 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔کوئلے سے بجلی کی پیداواری لاگت 6 روپے 97 پیسے، فرنس آئل سے 11 روپے 35 پیسے، گیس سے پیداواری لاگت 5 روپے 76 پیسے اور ایل این جی سے 9 روپ 84 پیسے فی یونٹ رہی ہے۔

ورلڈکپ ،منتخب قومی کر کٹ ٹیم آج وزیر اعظم سے ملاقات کریگی

لاہور(آئی این پی)ورلڈکپ 2019کےلئے منتخب قومی کر کٹ ٹیم (آج)جمعہ کوپی سی بی کے پیٹرن انچیف وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کرے گی۔ذرائع کے مطابق انگلینڈ جانے والے کھلاڑی آج جمعرات کی سہ پہر اسلام آباد روانہ ہوں گے جہاں جمعہ کو وزیر اعظم ہاوس میں ہونے والی اسینڈ آف تقریب کے لیے پی سی بی حکام نے تمام معاملات کو حتمی شکل دے دی ہے۔انیس سو بانوے ورلڈکپ کی فاتح ٹیم کے کپتان وزیر اعظم عمران خان قومی کرکٹرز سے خصوصی خطاب کریں گے ، اس ملاقات کا مقصد کھلاڑیوں کو ورلڈکپ کی اہمیت سے آگاہی کے ساتھ ان کے اعتماد میں اضافہ کرنا ہے۔ قومی ٹیم کی 23 اپریل کو لندن روانگی طے ہے۔

جاوید میانداد کے بھارت کیخلاف تاریخی چھکے کو 33سال مکمل

لاہور (آئی این پی) جاوید میانداد کے تاریخی چھکے کو 33 سال بیت گئے۔آسٹریلیشا کپ 1986میں پاکستان، اس وقت کی عالمی چیمپئن بھارت،سری لنکا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں شریک تھیں، دونوں روایتی حریف 18 اپریل کو کھیلے جانے والے فائنل میں پہنچے، بھارتی ٹیم نے سنیل گواسکر( 92) اور سری کانت(75) کی بدولت 7وکٹ پر 245کا مجموعہ حاصل کیا،ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے وکٹیں تیزی سے گنوائیں۔جاوید میانداد چھوٹی شراکتوں سے سکور آگے بڑھاتے رہے، آخری 10اوورز میں 90رنز درکار تھے،ثابت قدم بیٹسمین فتح کے قریب لے آئے،آخری اوور میں 11رنز کا سفر مزید مشکل ہوگیا جب وسیم اکرم اور ذوالقرنین نے چیتن شرما کی گیندوں پر وکٹیں گنوادیں،صرف ایک وکٹ باقی ہونے کے سبب پاکستان کی شکست واضح اور چیتن شرما ہیرو بنتے نظر آرہے تھے۔جاوید میانداد نے توصیف احمد کو سمجھایا، دونوں نے اچھی سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک سنگل بنالیا، سٹرائیک سینئر بیٹسمین کے پاس آئی تو پاکستان کو جیت کیلئے 4رنز درکار تھے، اس وقت دائرے کی پابندی نہ ہونے کی وجہ سے فیلڈرز بانڈری کے قریب اور چوکا مشکل نظر آرہا تھا، چیتن شرما نے یارکر کرنا چاہی لیکن جاوید میانداد نے اسے فل ٹاس بناتے ہوئے چھکا جڑ دیا۔بھارتی ٹیم اور شائقین کے دلوں کو زخم دے جانے والے اس سٹروک کو پاکستان کرکٹ کے یادگار لمحات میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے، دوسری جانب چیتن شرما کا اوورکیریئر پر ان مٹ داغ بن گیا۔

میڈیا کی آزادی پر مکمل یقین ، عمران خان کی توقعات پر پورا اتروں گی : ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان

اسلام آباد ( نامہ نگار خصوصی ) وزیر اعظم کی مشیر برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے مجھے جو ذمہ داری دی ہے میں انکی تواقعات پر پورا اترنے کی پوری کوشش کرونگی۔تحریک انصاف کی حکومت میڈیا کی آزادی پر مکمل یقین رکھتی ہے اور ہماری حکومت آزادی اظہار پر کوئی قد غن نہیں لگائے گی ۔ صحافیوں کے مسائل کو ترجیح بنیادوں پر حل کرنے کی پوری کوشش کرونگی ۔ وزیر اعظم عمران خان نے مجھے فون کر کے بتایا کہ میں آپکو اطلاعا ت ونشریات کا قلمدان دے رہا ہوں وزیر اعظم عمران خان ملک میں حقیقی تبدیلی لانا چاہتے ہیں ۔ مشیر اطلاعا ت ونشریات بنائے جانے کے بعد انہوں نے ”خبریں “سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں زرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ساتھ لے کر چلوں گی میڈیا کا انتہائی اہم کردار ہے اور میڈیا نے ہمیشہ جمہوریت اور جمہوری اداروں کے استحکام کےلئے غیر معمولی خدمات سر انجام دی ہیں ، تحریک انصاف کی حکومت ملکی تشخص کو اجاگر کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضا فے کےلئے نمایاں اقدامات کر رہی ہے ۔ ملک سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ حکومت کا ساتھ دے اور ملک کو درپیش اقتصادی بحران سے نکالنے کےلئے حکومت کے ساتھ تعاون کرے ۔

وفاقی کابینہ میں بڑی تبدیلیاں : کس کو کیا عہدہ ملا، دیکھئے خبر

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کرتے ہوئے فواد چودھری سمیت دیگر وزراءسے ان کے قلمدان واپس لے لئے۔ وزیر اعظم ہاﺅس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق فواد چودھری سے وزارت اطلاعات واپس لے کر انہیں وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کا قلمدان دے دیا گیا ہے۔ ترجمان وزیراعظم ہاﺅس کے مطابق اعجاز شاہ کو وفاقی وزیر داخلہ بنادیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ غلام سرور خان سے وزارت پٹرولیم لے کر وزارت ایوی ایشن دے دی گئی۔ شہریار آفریدی اب وزیر مملکت برائے داخلہ نہیں بلکہ وزیر مملکت برائے ریاستی سیفران ہوں گے ترجمان وزیراعظم آفس کے مطابق محمد میاں سومرو سے ایوی ایشن کی وزارت لے لی گئی ہے جبکہ وزارت نجکاری کا قلمدان ان کے پاس ہی رہے گا۔ وزیراعظم آفس کے مطابق ظفراللہ مرزا کو وزیراعظم کا مشیر برائے نیشنل ہیلتھ بنادیا گیا ہے جبکہ فردوس عاشق اعوان کو معاون خصوصی برائے اطلاعات مقرر کردیا گیا ہے۔ عبدالحفیظ شیخ کو مشیر خزانہ بنادیا گیا ہے اور فی الحال وزیر خزانہ کے نام کا اعلان نہیں کیا گیا اعظم سواتی کو وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور بنادیا گیا ہے۔ ترجمان وزیراعظم آفس کے مطابق ندیم بابر کو وزیراعظم کا معاون خصوصی برائے پٹرولیم ڈویژن تعینات کردیا گیا ہے۔ اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے باضابطہ طورپر وزارت چھوڑ نے کااعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نئے وزیر خزانہ سے کوئی ا±مید نہ رکھے کہ تین مہینے میں بہتری ہوگی، آئی ایم ایف میں جارہے ہیں، آئندہ بجٹ پر آئی ایم ایف پروگرام کا اثر پڑےگا، بجٹ مشکل ہوگا،نئے وزیر خزانہ ایک مشکل معیشت سنبھالیں گے ،بہتری کی طرف جارہے ہیں صرف تھوڑا صبر کر نے کی ضرور ت ہے ، اگر مشکل فیصلے نہ کئے گئے تو دوبارہ کھائی میں گر سکتے ہیں ، معیشت کی بنیادی چیزوں کو درست نہیں کریں گے تو معاشی ترقی نہیں ہو گی، تحریک انصاف کو خیر باد نہیں کہہ رہا،عمران خان نیا پاکستان بنائے گا، آئندہ چوبیس گھنٹوں میں وفاقی کابینہ میں مزید تبدیلیاں ہو جائیں گی،نئے پاکستان کےلئے میری خدمات کرسی پر منحصر نہیں تھی ، سازشوں جیسے معاملات میں نہیں پڑتا۔ جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ آپ سب کو میرا فیصلہ تو معلوم ہو گیاہے،وضاحت کر دوں اس لئے آیا ہوں۔ انہوںنے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان کابینہ میں رد و بدل کر رہے ہیں، گزشتہ رات بھی وزیر اعظم سے بات ہوئی اور پھر صبح بھی عمران خان سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے کہاہے کہ آپ وزارت خزانہ کی جگہ وزارت توانائی کا قلمدان لے دیں جس پر میں نے وزیر اعظم کو بتایاکہ کابینہ کا حصہ نہیں رہوں گاتاہم کابینہ سے الگ ہونے کا مقصد یہ بالکل نہیں کہ میں عمران خان کے ساتھ نہیں، میں ان کے نیا پاکستان کے وژن کو سپورٹ کرنے میں ہمیشہ ساتھ ہوں۔انہوںنے کہاکہ سات پہلے 18اپریل2012میں تحریک انصاف کا حصہ بنا اور تحریک انصاف کے ساتھ 7 سال کا سفر بہترین رہا۔انہوںنے کہاکہ عمران خان نے مجھے کہا تھا کہ آپ ملک کی بہتری کےلئے ہمارے ساتھ آئیں تاہم انہوں نے یہ واضح کیا کہ میں پی ٹی آئی نہیں چھوڑ رہے اور عمران خان کے وژن کے ساتھ کھڑے ہیں۔اپنی گفتگو کے دوران انہوں نے پاکستان تحریک انصاف اور ان کے نوجوان کارکنوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان سب کے بغیر آج عمران خان وزیر اعظم اور اسد عمر وزیر خزانہ نہیں ہوسکتے تھے۔اسد عمر نے کہا کہ خصوصاً این اے 54 کے عوام کا مشکور ہوں۔معیشت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہاکہ حکومت بننے کے وقت جہاں معیشت کھڑی کی تھی وہ پاکستان کی بدترین صورتحال تھی اور اس سے نکلنے کےلئے فیصلے کیے گئے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب معیشت بہتر ہوگئی ہے۔اسد عمر نے کہا کہ نیا وزیر خزانہ جب آئےگا تو اس کو بھی معیشت کے مشکل حالات دیکھنے کو ملیں گے لیکن امید کرتا ہوں انہیں مکمل حمایت ملے گی۔انہوں نے کہا کہ میں مشکل فیصلوں سے گھبراتا نہیں ہوں، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم بہتری کی طرف جارہے ہیں، ملک کی معیشت میں جان ہے لیکن اس کے لیے مشکل فیصلے کرنے ہوں گے اور مشکل فیصلے کرنے والے ساتھ کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔اسد عمر نے کہا کہ نئے وزیر خزانہ کو بھی مشکلات کا سامنا ہوگا اور وہ ایک مشکل معیشت سنبھالے گا، وزیراعظم کے بعد مشکل ترین عہدہ وزیر خزانہ کا ہے۔ اسد عمر نے کہاکہ آئندہ بجٹ پر آئی ایم ایف پروگرام کا اثر پڑے گا، آئندہ بجٹ مشکل ہوگا ۔ ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ مجھے اپنے کسی سازش کا معلوم نہیں،جو سازشیں کررہا ہے وہ کرے، سازشوں جیسے معاملات میں نہیں پڑتا۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ مجھے معلوم نہیں پی ٹی آئی کمزور ہو گی یا مضبوط،میں صرف کام کرنے کیلئے آیا تھا۔ ایک سوال پر اسد عمر نے کہاکہ کپیٹل مارکیٹ اور بینکوں کوچلانا صرف وزیر خزانہ کی ذمہ داری نہیں۔انہوںنے کہاکہ وزیر خزانہ نے 21 کروڑ عوام کا خیال رکھنا ہے۔ ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ تحریک انصاف کو خیر باد نہیں کہہ رہا،عمران خان نیا پاکستان بنائےگا۔ انہوںنے کہاکہ آئندہ چوبیس گھنٹوں میں وفاقی کابینہ میں مزید تبدیلیاں ہو جائیں گی ۔ انہوںنے کہاکہ نئی ٹیم کے آنے سے حکومت کی کارکردگی بہتر ہو گی۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم بہتری چاہتے ہیں اس لئے تبدیلی آ رہی ہے۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ میری کابینہ میں شرکت نہ کرنا احتجاج نہیں ہے۔ ایک اور سوال پر انہوںنے کہاکہ نیا وزیر خزانہ وزیر اعظم منتخب کریں گے۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ معیشت کی بنیادی چیزوں کو درست نہیں کریں گے تو معاشی ترقی نہیں ہو گی۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے بہت بہتر شرائط پر معاہدہ ہوا ہے۔اسد عمر نے کہا کہ میں پہلے بھی عمران خان کےلئے حاضر تھا آج بھی حاضر ہوں، جس وقت نوکری چھوڑی تھی اس وقت تحریک انصاف پارلیمنٹ میں ہی نہیں تھی۔ ایک اور سوال پر انہوںنے کہاکہ نئے پاکستان کےلئے میری خدمات کرسی پر منحصر نہیں تھی۔ قبل ازیں اسد عمر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کابینہ میں ردوبدل کے نتیجے میں چاہتے ہیں کہ میں وزارت خزانہ کی جگہ توانائی کا قلمدان سنبھال لوں لیکن میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں کابینہ میں کوئی بھی عہدہ نہیں لوں گا۔انہوں نے کہا کہ میرا موقف ہے کہ عمران خان پاکستان کی واحد امید ہیں اور انشااللہ نیا پاکستان ضرور بنے گا۔

ماضی کے حکمرانوں نے ذاتی مفاد کیلئے ملک و قوم کو قرضوں میں دھکیلا : عمران خان

اسلام آباد(آن لائن، صباح نیوز) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں ملکی سلامتی اور سکیورٹی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آرمی چیف نے جمعرات کے روز وزیراعظم سے اسلام آباد میں ملاقات کی جس میں دونوں رہنماﺅں کے درمیان ملک کی سلامتی صورتحال، سکیورٹی صورتحال اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا آرمی چیف نے بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات اور حالیہ صورتحال پر وزیراعظم کو بریف کیا۔وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت توانائی سے متعلق امور پر اعلی سطحی اجلاس ہوا، وزیر توانائی عمر ایوب خان، وزیرِ اطلاعات چوہدری فواد حسین، وزیرِ منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار، سیکرٹری توانائی عرفان علی ، چیئرمین ٹاسک فورس برائے توانائی ندیم بابر، ڈاکٹر فیض احمد چوہدری و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے، توانائی کے شعبے میں ملک کو درپیش مسائل خصوصا گردشی قرضوں کا جائزہ لیتے ہوئے وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ محض2017-18 میں گردشی قرضوں میں 450ارب روپے کا اضافہ ہوا جس کی بنیادی وجہ حکومتِ وقت کا وہ سیاسی فیصلہ تھا جس کے تحت وزارت کو یہ ہدایت کی گئی کہ سو فیصد بجلی چوری کے علاقوں میں بھی بلا تعطل بجلی کی فراہمی جاری رکھی جائے ۔ایک طرف مہنگی بجلی کی پیداوار اور دوسری جانب چوری اور بلوں کی عدم ادائیگیوں کے سبب گردشی قرضوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ اس وقت بجلی کی 41فیصد پیداوار درآمد شدہ مہنگے تیل سے کی جا رہی ہے ۔عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ نجی شعبے کی جانب سے لگائے جانے والے بجلی کے کارخانوں کی پیداوار بتدریج کم ہوجاتی ہے تاہم سابقہ حکومتوں کی جانب سے اس اہم پہلو کو یکسر نظر انداز کیا گیا جس کے نتیجے میں حکومت کو بجلی بنانے والے کارخانوں کو انکی اصل پیداوار سے بھی کئی گنا زیادہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا ماضی میں ملک میں بجلی کی پیداوار کیلئے اضافی کارخانے لگاتے وقت ان کارخانوں سے بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے پہلو کو یکسر نظر انداز کیا گیا ۔ترسیل و تقسیم کے مسائل کی وجہ سے ملک میں موجود پیداواری صلاحیت میں سے تین سے سات ہزار میگا واٹ کو برے کار نہیں لایا جاسکتا۔ اجلاس میں ملک میں توانائی کی موجودہ ضروریات اور سال 2025تک توانائی کی طلب و رسد کے اعدادوشمار کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سابق حکمرانوں نے محض اپنے سیاسی مفادات کی خاطر ملک و قوم کو قرضوں کی دلدل میں دھکیلا۔ ایک طرف بیرونی قرضوں سے مہنگی بجلی کے کارخانوں کا قیام اور دوسری جانب ترسیل و تقسیم کے شعبے کو نظر انداز کرنا مجرمانہ غفلت ہے اور ایسا کرنے والے قومی مجرم ہیں۔ وزیرِ اعظم نے وزارتِ توانائی کو ہدایت کی کہ ترسیل و تقسیم کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ ترسیل و تقسیم کے مسائل کو حل کیا جا سکے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ ماہ رمضان کے پیش نظر خصوصی انتظامات کیے جائیں تاکہ سحر ی و افطار کے وقت عوام کو بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو حد درجہ ممکن بنایا جا سکے۔

پہلے ہی سال کارکردگی کی بنیاد پر وزارتوں میں ردو بدل مشکل مگر دلیرانہ فیصلہ : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ کتنے وزراءکے قلمدان تبدیل کئے جائیں گے یہ بات اتنی اہم نہیں ہے جتنی اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے عوام نے گزشتہ ایک برس کے دوران جس طریقے سے پاکستان میں معیشت کی زبوں حالی، مہنگائی روز افزوں بڑھتی ہوئی بجلی گیس اور پانی کی قیمتوں کے بارے زندگی کے شعبے میں اس بات کو محسوس کیا گیا کہ زندگی گزارنا بہت مشکل ہو گئی ہے اس کا وبال جو تھا اس کا اثر اسد عمر پر پڑا اور اسد عمر کی ذات جو تھی وہ نشانہ بن گئی حالانکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک پورے نظام کی تبدیلی ہے ایک نظام جو چل رہا تھا اس کو پاکستان کے عوام نے مسترد کیا ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ گزشتہ دو تین میٹنگز میں ایک میٹنگ میں جس میں ایمنسٹی سکیم کے بارے میں لوگوں نے اظہار خیال کیا اور اس میں خاص طور پر نشانہ بنایا گیا مسلم لیگ ن کی ایمنسٹی سکیم کو اور کہا گیا کہ اس وقت بھی جو چور بازاری کرنے والے لوگ تھے اسکے لئے بچاﺅ کا راستہ نکالا گیا تھا کہ وہ کس طرح سے بچ نکلیں ٹیکس سے اور کچھ دے دلا کر بڑے واجبات سے گریز کرنا چاہتے تھے۔ جس طرح اندرونی امداد آئی ہے ایمنسٹی سکیم کے بارے میں جس طرح سے ایک بڑی تعداد نے بالعموم جس طریقے سے بھی ہو سکا اپنے اپنے الفاظ مختلف تھے لیکن مجموعی طور پر ان سب کا نشانہ جو تھا وہ وزارت خزانہ تھی اس پر لوگوں نے بہت ہی اظہار خیال کیا کہ جس بات کو آپ مسلم لیگ ن کے دور میں بُرا کہتے کہ ایمنسٹی سکیم لائی گئی ہے چور بازاری کرنے والوں کے لئے اب اسی کو آپ کس طریقے سے اجازت دے رہے ہیں چنانچہ اس کے ساتھ اب مختلف ٹی وی چینلز پر یہ باتیں کرنی شروع ہو گئی ہیں کہ فیصل واوڈا نے اور کس کس دوسرے وزیر نے جو اظہار خیال کیا اور بہت ہی تندوتیز تنقید پر مبنی الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے وزارت خزانہ کی کارکردگی پر تنقید کی اور کہا کہ عوام حکومت کے خلاف ہو رہے ہیں کہ صرف مہنگائی کے مسئلہ پر وزیراعظم عمران خان کی موجودگی میں میں نے ذاتی طور پر نام لے کر اسد عمر صاحب کا کہا تھا کہ جناب اپنے وزیرخزانہ کو منع کریں کہ وہ ہر دوسرے دن لوگوں کو ہر بُری خبر سناتے ہیں کہ عنقریب مہنگائی آپ کا کچومر نکال دے گی۔ میں نے یہی الفاظ استعمال کئے تھے میرے یہ الفاظ صفحہ اوّل پر چھپے اور لیڈ سٹوری کے ساتھ چھپے ہیں کہ ان کو منع کریں لوگ پہلے ہی خوفزدہ ہو رہے ہیں ان کو یہ ہر بات پر مزید ڈراتے ہیں کہ آپ تگڑے ہو جاﺅ عنقریب آپ کا کچومر نکلنے والا ہے اتنی مہنگائی ہو گی کہ آپ چیخ اٹھیں گے۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ جناب آپ خدا کا خوف کریں اور اپنے وزیرخزانہ سے کہیں کہ وہ لوگوں کو ریلیف دیں لوگوں کو آسانی اور سکھ کی خبر بھی دیں جس پر عمران خان نے کہا کہ میں آپ سے متفق ہوں کہ مڈل کلاس کی زندگی بڑی مشکل ہو رہی ہے۔ ہم نے جب اس پارٹی کا منشور بنا رہے آپ تو اس وقت موجود تھے ہم نے منشور بناتے وقت کہا تھا کہ مڈل کلاس پاکستان کی زندگی کے لئے آسانیاں تجویز کی تھیں تو میں نے کہا کہ یہ ااسانی تجویز ہو رہی ہے کہ عوام کو ہر دوسرے دن یہ دھمکی دی جاتی ہے کہ عنقریب مہنگائی سے آپ کی پسلیاں ٹوٹ جائیں گی اس طرح کا آپ وزیر جو کر رہا ہے آپ کا وزیر جو زبان استعمال کر رہا ہے۔ اگر واقعی ٹوٹ بھی جائے گی پہلے سے لوگوں کو ڈرانا اور جان نکالنا چاہتے ہیں، اس کی روداد اخبار کے پہلے صفحے پر چھاپی تھی اور میں نے اس پروگرام میں بھی کہا تھا کہ میں نے یہ بات کہی ہے۔
مکران کوسٹل ہائی وے پر 14 افراد کے قتل کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، یہ ایک متعصبانہ کارروائی ہے جس میں پنجاب کے لوگوں کو مارا گیا۔ بلوچستان میں علیحدگی پسند گنتی کے ہیں۔ تاہم طاقتور ہیں ان کے رہنما دنیا کے اہم بڑے ملکوں میں بیٹھے ہیں۔ یہ لوگ اینٹی پنجاب نعرے پہ چل رہے ہیں حالانکہ بلوچستان کی حکومت بلوچ اور پختون رہنماﺅں پر مشتمل ہے اس میں ایک بھی پنجابی نہیں ہے۔ شناختی کارڈ دیکھ کر پنجابیوں کو مار کر ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جیسے وہاں اینٹی پنجاب مہم شروع ہے۔ واقعہ کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ نوکری اور روزگار کے لئے دور دراز علاقوں میں گئے بیگناہ افراد کو قتل کر دینا تکلیف دہ عمل ہے۔ اس کے ذریعے عصبیت پھیلائی جا رہی ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں حریت کانفرنس کا الیکشن بائیکاٹ کا اعلان کامیاب رہا اور دارالخلافہ سری نگر میں بھی لوگ ووٹ ڈالنے گھروں سے نہیں نکلے اور ٹرن اوور شرمناک حد تک کم رہا ہے۔
نعیم بخاری اچھے وکیل ہیں شریف خاندان کے ناقدین میں رہے ہیں۔ نیب میں دی گئی ذمہ داری کو بخوبی پورا کریں گے۔ خواجہ برادران کا کچا چٹھہ سامنے آ رہا ہے۔ سرکاری سکیم کیلئے زمین منظور شدہ ریٹ پر خریدی گئی اور پھر 2 ہزار پلاٹ پیرا گون سوسائٹی کو دیدیئے گئے خواجہ برادران کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے ان کا بچنا مشکل نظر آتا ہے۔
قومی کرکٹ ٹیم کے اعلان کے قت پانچ ارکان کا خود کو سلیکشن سے الگ کرنا اچھا شگون نہیں ہے، ورلڈ کپ کی تیاری کیلئے سب مل کر فیصلے کرتے تو بہتر ہوتا، اب کہا جا رہا ہے کہ ایم ڈی کا عہدہ پی سی بی آئین میں ہی نہیں ہے۔ چیئرمین احسان مانی کو چاہئے کہ صرف نام کا عہدہ قبول نہ کریں بلکہ واقعی چیئرمین بن کر دکھائیں اور اگر کوئی تقرری خلاف آئین ہوئی ہے تو اس کی مخالفت کریں۔
فورٹ عباس میں بچی کو جلائے جانے کا واقعہ افسوسناک اور پھر اس کے خاندان کا جعلی پیر کیخلاف کارروائی نہ کرنے کا اعلان اس سے بھی زیادہ افسوسناک ہے، رشتہ داروں اور محلے داروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس مرحلہ پر آگے آئیں اور حق سچ کی بات کریں اگر ایسا نہیں کریں گے تو ذمہ داروں کو سزا نہیں مل سکے گی۔

اسد عمر کا استعفیٰ آنا تھا کیونکہ عمران خان کا پارٹی منشور حقیقت پر مبنی نہیں تھا: محمد زبیر، اسد عمر کو ہٹانے کا فیصلہ عمران خان کا نہیں پاکستان کی عوام کا ہے: ضیا شاہد، آئی ایم ایف سے پیکج مکمل اور وزیر خزانہ ہٹا دیئے، دیکھنا ہو گا حکومت کیا کرتی ہے: ڈاکٹر سلمان ، مکران کوسٹل ہائی وے پر دہشتگردی کے تانے بانے پاکستان کے دشمن ملکوں سے جا ملیں گے: شوکت بسرا ، شناختی کارڈ دیکھ کر مذہبی افراد کا قتل، واقعہ سے ملک دشمنی کی بو آرہی ہے،بریگیڈیر (ر) غضنفر علی چینل ۵ کے پروگرام ” نیوز ایٹ 7 “ میں گفتگو

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے پروگرام ”نیوز ایٹ سیون“ میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر نے کہا ہے کہ وزیر خزانہ کا استعفیٰ آنا ہی تھا کیونکہ وزیراعظم عمران خان کاپارٹی منشور حقیقت پر مبنی نہیں تھا۔تحریک انصاف کی حکومت نے اپنی ناکامی تسلیم کر لی، اب انکے خاتمے کا وقت ہے۔ حکومت کے 90فیصد وزراءچھوٹے سے عہدے کے بھی قابل نہیں۔سب سے لائق وزیر اسد عمر نہیں چل سکے تو باقی وزراءکیسے چلیں گے۔ مشکل وقت میں نئے وزیر خزانہ کے لیے شدید مشکلات کیساتھ ملکی معاشی مشکلات بڑھیں گی۔ نیا وزیر خزانہ آئی ایم کی مرضی سے انکا ایجنڈا چلانے کے لیے آئے گا۔ آئی ایم ایف سے اسد عمر کو تحفظات تھے ، جنہیں دورکرنے کے لیے آئی ایم ایف نے وزیراعظم پر دباﺅ ڈالا ۔پاکستان میں ایسا بحران کبھی نہیں آیا۔ تحریک انصاف نے عوام کی امیدیں ختم کردیں۔ چیف ایڈیٹر خبریں گروپ ضیا شاہد نے پروگرام میںموجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ اسد عمر کا استعفیٰ اسلیے اہم ہے کہ لوگ وزارت خزانہ کی پالیسیوں سے مطمئن نہیں تھے ۔ روزبروز مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا تھا۔ اسد عمر نوجوان اور باہمت آدمی ہیں ۔ انہوں نے ضرور کوشش کی ہوگی مگر یکے بعد دیگرے کئی افتادیں اور مسائل سامنے آئے اور منی لانڈنگ اور دیگر معاملات کیوجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ لوگوں کی آمدنی کے ذرائع سمٹنے لگے اور اخراجات بڑھنے لگے۔ ایک نہ ایک دن ایسا ہونا تھا کیونکہ یہ ظاہر ہوگیا تھا کہ اسد عمر سے وزارت خزانہ نہیں سنبھل رہی ۔ اسد عمر کوہٹانے کا فیصلہ عمران خان کا فیصلہ نہیں ملک کے عوام کا فیصلہ ہے کیونکہ انہوں نے مجموعی طور پر اپنا ووٹ اسد عمر کے خلاف دے دیا تھا۔ماہر معاشیات ڈاکٹر سلمان شاہ کا کہنا تھاکہ نئے وزیر خزانہ کو نئے سرے سے آغاز لینا پڑے گا۔ اسد عمر کو مایوس کن صورتحال میں عہدے سے ہٹایا گیا۔ آگے چل کر پتا چلے گا کہ حکومت کی رخ اختیار کرتی ہے کیونکہ آئی ایم ایف سے پیکج مکمل ہے اور وزیر خزانہ ہٹا دئیے گئے ہیں۔نئے وزیر خزانہ کی تقرری کے بعد اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ موجودہ معاشی صورتحال میں درپیش چیلنجز سے نمٹ سکے گا یا نہیں۔ پاکستان کے حالات بہتری کی طرف جاسکتے ہیں، پالیسی بہتر ہوگی تو ملک مشکلات سے نکل آئے گا۔ پاکستان کو سب سے بڑا معاشی مسئلہ 10ارب ڈالر قرضوں کی سالانہ واپسی ہے جو آئی ایم ایف کے پروگرام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ جسکے ذریعے نئے بانڈز ایشو ہو سکیں اور پرانے ریٹائرڈ کیے جاسکیں۔ اداروں میں ریفارمز بھی جلد اور مہارت سے کیے جانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کا اعتماد بحال ہوسکے۔تحریک انصاف کے رہنما شوکت بسرا نے کہا کہ مکران کوسٹل ہائی وے پر دہشتگردی کا واقعہ افسوسناک،پاکستان کیخلاف سازشوں کا حصہ ہے۔ ماضی میں بھی بسیں روک کر لوگوں کی شناخت کر کے ٹارگٹ کلنگ کرنے جیسے واقعات ہوتے رہے ہیں۔ یہ جنگل کا قانون ہے، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو تحفظ اور انصاف دیں۔ افواج پاکستان اور عوام نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں، اب ماضی جیسے حالات نہیں مگر دہشتگردوں نے دوبارہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا ہے۔ اب حکومت انکی سازشوں کو ناکام بنانے انکے پیچھے جائے گی اور حیوانوں کو کیفرکردار تک پہنچائے گی۔ انسانی جانوں کے ضیاع پر مذمت بے معنی ہے ، دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ دہشتگردوں نے نیوزی لینڈ جیسے پر امن ملک کو نہیں چھوڑا ، انکا کوئی دین مذہب نہیں ہوتا۔ مکران ہائی وے دہشتگردی کے تانے بانے پاکستان دشمن ملکوں سے ملیں گے ۔ انہیں پر امن پاکستان کی معاشی ترقی ہضم نہیں ہورہی اور بلوچستان کو مسلسل ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔ دشمن کا پلان مذہب کی بنیاد پر پاکستانیوں کو آپس میں لڑانا ہے۔ پاکستان کو ناکام ریاست بنانے کا خواب دیکھنے والوں کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے، انہیں عبرت کا نشان بنایا جائے گا۔ بریگیڈیئر(ر) غضنفر علی نے کہاکہ بلوچستان میں لشکر جھنگوی اور اس سے منسلک تنظیموں کے علاوہ بی ایل اے اور بی آر اے کے عناصر دہشتگردی کی کاروائیوں میں مصروف ہیںاورانکے پیچھے بھار ت اور را کا ہاتھ ہے۔ بھارتی الیکشن کی مد میں دہشتگردی کے واقعات متوقع ہیں ایسے میں شناختی کارڈز دیکھ کر خاص مذہبی گروپ کے افراد کے قتل میں دہشتگردی کیساتھ پاکستان دشمنی کی بو آرہی ہے۔ملک میں انٹیلی جنس آپریشن جاری ہیں مگر طے شدہ پالیسی کے تحت ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، گاڑیوں کے قافلے کا حفاظتی تحویل میں سفر ممکن بنانا ہوگا۔ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ حالات کے مطابق چیزوں کو مانیٹر کرے ۔ ایسے واقعات بلوچستان میں ہوتے رہیں گے جب تک پاکستان سی پیک کا حصہ ہے۔

بی جے پی اکثریت سے انتخابات نہیں جیتے گی،اتحادی حکومت بنے گی: خالد چوہدری ، ن لیگ اور پیپلزپارٹی والے رات کے اندھیرے میں آئی ایم ایف سے معاہدے کرتے رہے: کاشف بشیر ، اپوزیشن بھی اسد عمر کر ہٹانے کے حکومتی فیصلے سے خوش ، حالات بہتر ہوں گے: زابر سعید ، اسد عمر کو وزارت خزانہ دینے کا فیصلہ ہی غلط تھا: منور انجم ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”کالم نگار“میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار خالد چوہدری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے اندر سے اسد عمر کے لیے مخالفت تھی کہ انہیں معیثت کا کچھ نہیں پتا۔وزیراعظم، اسد عمر اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی بیجا حمایت کرتے رہے ہیں۔ جنرل ایوب کا پوتا عمرایوب وزارت خزانہ کا مضبوط امیدوار ہے۔ عوام حکومت سے لاتعلقی اختیار کر لے تو ملک کے دفاع پر خوفناک اثر پڑتا ہے۔ ملک میں انارکی خطرناک حد تک بڑھتی نظر آرہی ہے۔ بھارتی انتخابات میں مودی کو توقع کے برعکس کم سیٹیں ملیں گی۔ بی جے پی اکثریت سے انتخاب نہیں جیتے گی اور اتحادی حکومت بنے گی۔ میزبان کالم نگار کاشف بشیر نے کہا کہ وزارت خزانہ کے لیے مضبوط امیدوار عشرت حسین ہیں، امید ہے وہی وزیر خزانہ بنیں گے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی رات کے اندھیرے میں آئی ایم ایف کیساتھ معاہدے کرتے رہے۔ اپوزیشن اس قابل نہیں کہ حکومت مخالف تحریک چلا سکے۔دہشتگرد کاروائیوں سے پاکستانی عوام کو گروہوں میں بانٹنے کی سازش ہو رہی ہے۔ بلوچستان کے عوام کو طاقت اور تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ تجزیہ کار زابر سعید بدر نے کہاکہ پاکستان کا نچلا طبقہ پریشان حال ہے اور جلد از جلد ملکی حالات میں بہتری کی خواہشمند ہے۔اپوزیشن اسد عمر کو ہٹانے کے حکومتی فیصلے پر خوش ہے۔حکومتی دعووں کے برعکس پیٹرول سمیت ملک میں مہنگائی بہت بڑھنے والی ہے۔ مکران کوسٹل ہائی وے پر دہشتگردوں نے پنجابیوں کو بس سے اتارکر قتل کیا، اس خطرناک واقعے کے ڈانڈے بھارت سے ملتے ہیں۔ بلوچستان کے ناراض عناصر کو پاکستان کیخلاف استعمال کیا جارہا ہے، انکی ناراضی کو ختم کرنے کے لیے انکے مسائل کا حل نکالنا ضروری ہے۔ وزیراعظم کو خود کوئٹہ جانا چاہیے تھا۔ کشمیریوں کا بھارتی انتخابات کا مکمل بائیکاٹ مودی کی ہار ہے۔کالم نگار منور انجم کا کہنا تھا کہ عمران خان کے نذدیک ترین ہونے پر اسد عمر کو وزارت خزانہ دینا غلط فیصلہ تھا۔ اسد عمرجنرل کے بیٹے ہیں اور انکی کارکردگی ماضی میں بھی اچھی نہیں رہی۔ ریٹ بڑھنے پر مارکیٹ سے ڈالر غائب ہونا اسد عمر کی ناکامی تھی۔ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے ڈالر کی قیمتیں بڑھنے نہیں دیں، تحریک انصاف نے آتے ہی خزانہ خالی کر دیا۔ حکومت آئی ایم ایف کی ساری شرطیں مان رہی ہے۔ پیپلز پارٹی نے بلوچستان سے حق ادا نہ کرنے پر معافی مانگی۔ ضیا الحق نے ملک کی عوام کومذہبی گروہوں میں بانٹاتھا۔مودی کی بجائے راہل گاندھی انتخابات جیتتا نظر آرہاہے، اس خطے میں نوجوان نسل اقتدار میں آرہی ہے۔

روبوٹ کتوں کا بڑے ٹرک کو کھینچنے کا عملی مظاہرہ

بوسٹن(ویب ڈیسک) دلچسپ اور مفید روبوٹ بنانے والی کمپنی بوسٹن ڈائنامکس نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں دس روبوٹ کتوں ’اسپاٹ مِنی‘ کے ذریعے ایک بڑے ٹرک کو کھینچا جارہا ہے۔واضح رہے کہ یہ کمپنی کئی طرح کے انسان اور جانور نما روبوٹ بناتی ہے جو آئے دن خبروں کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ اس ضمن میں کتے کی طرح چلنے والے اسپاٹ منی روبوٹ بھی قابلِ ذکر ہیں۔ اگرچہ کمپنی نے چھلانگ لگانے اور قلابازی کھانے والے روبوٹ بھی بنائے ہیں لیکن سوشل میڈیا پران کا مذاق اڑایا جاتا رہاہے۔لوگوں نے اعتراض کیا ہے کہ اتنے مہنگے روبوٹ کا عملی استعمال کیا ہوسکتا ہے اور کرتب والے روبوٹ کسی سرکس کے لیے تو ہوسکتے ہیں لیکن ان کا عملی اطلاق ابھی بہت دور ہے۔ اسی بنا پر بوسٹن ڈائنامکس میں منگل کے روز ایک ویڈیو ریلیز کی گئی ہے جس میں چار پیروں والے روبوٹس کو ایک ٹرک کھینچتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ویڈیو میں 10 اسپاٹ مِنی روبوٹ دیکھے جاسکتے ہیں اور اس ویڈیو کا مقصد ان کی قوت اور استعمال کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرنا ہے۔ واضح رہے کہ بوسٹن ڈائنامِکس نے 2018 میں کہا تھا کہ وہ اگلے برس سے اسپاٹ مِنی روبوٹ فروخت کے لیے پیش کرے گی۔اب کمپنی نے روبوٹ کو مزید بہتر بنایا ہے جو گھر کی چوکیداری کرسکتا ہے۔ یہ سیڑھیاں چڑھنے، اونچے نیچے راستوں پر چلنے کے علاوہ اپنی پیٹھ پر 31 پونڈ تک وزن لے جاسکتا ہے۔ تاہم اب تک کمپنی نے اس کی قیمت اور دیگر تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔

چینی خاکروب جو اب تک غریب بچوں میں 38 لاکھ روپے تقسیم کرچکا ہے

بیجنگ(ویب ڈیسک) چین میں ایک خاکروب کو عزت و احترام کے ساتھ ہیرو قراردیا جارہا ہے کیونکہ وہ اب تک اپنی تنخواہ سے بچت کرکے سینکڑوں بچوں کی مدد کرچکا ہے۔58 سالہ ژیاﺅ کی تنخواہ صرف 300 ڈالر کے لگ بھگ ہے لیکن وہ مسلسل بچت سے اب تک بچوں میں 27 ہزار ڈالر تقسیم کرچکا ہے۔ وہ شمال مشرقی چینی صوبے لیاﺅنگ کے علاقے شینیانگ سے تعلق رکھتا ہے۔ جیب سے غریب لیکن دل سے امیر اس شخص نے گزشتہ 30 برس سے نئے کپڑے نہیں بنوائے اور کھانے میں صرف سادہ نوڈلز ہی کھاتا ہے۔ انتہائی خستہ مکان میں رہنے کے باوجود ژیاﺅ گزشتہ 30 برس سے بچوں کی مدد کررہے ہیں۔ ژیاﺅ کے بچپن میں ہی ان کے والد فوت ہوگئے تھے اور ان کی والدہ دماغی عارضے کی شکار تھیں۔ اس طرح پورا بچپن لوگوں نے ان کی اور ان کے گھر والوں کی مدد کی۔ ژیاﺅکہتے ہیں کہ گاﺅں کے 100 گھرانے انہیں باری باری طرح طرح کے کھانے کھلاتے تھے۔ اب ان کا مو¿قف ہے کہ یہ سب کچھ اسی ہمدردی کا بدلہ ہے جو معاشرے نے ان کے ساتھ کی تھی۔ ژیاﺅ کی بیوی کم تنخواہ کے باوجود اس کی فیاضی سے نالاں ہے اور وہ جھگڑتی ہے کہ آخر گھر کے بجائے وہ غیر بچوں کی فکر کیوں کرتا ہے؟ اس کے جواب میں ایک روز وہ اپنی بیوی کو دورافتادہ پہاڑیوں پر لے گیا اور وہاں موجود غریب بچوں سے ملاقات کروائی تو اس کے بعد بیوی نے کبھی کوئی شکایت نہیں کی۔ان کی دریا دلی اور رحم دلی کو دنیا بھر نے سراہا ہے اور پورے چین سے انہیں تعریفی اسناد ملی ہیں۔ اب تک وہ 27 ہزار ڈالر جتنی رقم بچوں میں تقسیم کرچکے ہیں جو موجودہ شرح مبادلہ کے حساب سے 38 لاکھ پاکستانی روپیوں کے مساوی ہے۔ اس کے بدلے وہ کسی سے کچھ نہیں مانگتے۔ لیکن گزشتہ دسمبرژیاﺅ آنتوں کی تکلیف کے شکار ہوئے تو کوئی اسے دیکھنے والا نہ تھا۔ اس موقع پر تمام بچے اس کی خدمت کو آئے اور اس کی بیوی کا ہاتھ بٹایا۔

عمران خان کا وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے وزیر خزانہ اسد عمر کے مستعفی ہونے کے بعد 5 وزراءکے قلمدان تبدیل کردیے جس میں فواد چوہدری کی جگہ فردوس عاشق اعوان کو لایا جائے گا جب کہ اعجاز شاہ وزیر داخلہ ہوں گے۔ذرائع کے مطابق فواد چوہدری سے وزارت اطلاعات و نشریات کا قلم دان واپس لے کر انہیں وزارت سائنس و ٹیکنالوجی بنایا جارہا ہے، فواد چوہدری کی جگہ فردوس عاشق اعوان کو معاون خصوصی برائے اطلاعات لگایا جارہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اعجاز شاہ کو وزیر داخلہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ شہریار آفریدی وزیر سیفران ہوں گے۔اسی طرح وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور اور وفاقی وزیر پیٹرولیم غلام سرور خان کے قلم دان بھی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، غلام سرور کو ایوسی ایشن کا قلمدان دیا جارہا ہے، وزیر صحت عامر کیانی کو فارغ کرکے ان کی جگہ نئے وزیر کو لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے وزیر خزانہ اسد عمر کو عہدے سے ہٹاتے ہوئے وفاقی کابینہ میں بھی تبدیلیوں کا عندیہ دیا تھا۔