ایلیٹ فورس کا کارنامہ : میاںبیوی اور 2 بچیوں کو گاڑی سمیت کھائی میں گرا دیا ، ” خبریں ہیلپ لائن “ میں انکشاف

فیصل آباد(یونس چوہدری ،قمر مرزا) ”پولیس گردی کا ایک اور واقعہ سامنے آ گیا“۔فیصل آباد میں ساہیوال جیسا سانحہ رونما ہونے کا خطرہ ٹل گیا۔ فیملی کی جانیں بچ گئیں۔ ایلیٹ فورس کے شیر جوانوں کا کار سوار فیملی کا تعاقب، اہلکاروں نے میاں بیوی اور ان کی دو بیٹیوں پر اسلحہ تان لیا۔ جس کے نتیجہ میں فیملی شدید خوف زدہ ہو گئیں اور ایلیٹ فورس کے جوانوں کی گاڑی کی ٹکر سے میاں بیوی اور ان کی دونوں بچیاں گاڑی سمیت کھائی میں گر گئیں۔ چاروں شدید زخمی ہو گئے اور انکی ہڈیاں پسلیاں ٹوٹ گئیں۔ گاڑی کو بھی شدید نقصان پہنچا جبکہ متاثرہ شہری نے واقعہ بارے ون فائیو پر اطلاع کر دی۔ مقامی لوگوں نے خون میں لت پت فیملی کو الائیڈ ہسپتال منتقل کیا۔ مگر واقعہ کو 6یوم گزرنے کے باوجود ذمہ دار پولیس شیر جوانوں کے خلاف کاروائی عمل میں نہ لائی جا سکی ہے۔ متاثرہ فیملی انصاف کی منتظر، فیصل آباد سر فراز کالونی کے رہائشی ڈاکٹر کامران نثار خان نے ”خبریں ہیلپ لائن ٹیم“ کو بتایا کہ وہ یکم فروری کی شب اپنی گاڑی میں اپنی بیوی، دس سالہ بیٹی میرب خان اور سات سالہ بیٹی عنیزہ کے ہمراہ آ رہا تھا کہ ملت ٹاﺅن کے علاقہ ایکسپریس وے ویسٹ کینال روڈ نزد واپڈا سٹی کے قریب پہنچا تو ایلیٹ فورس کی گاڑی نے ہمارا راستہ روک لیا اور تین اہلکاروں نے ہم پر بندوقیں تان لیں۔ میں میری بیوی اور میری بیٹیاں خوف زدہ ہو گئیں اور اسی اثناءمیں ایلیٹ فورس کی گاڑی نے ہماری گاڑی کو ٹکر مار کر کھائی میں گرا دیا۔ جس کے نتیجے میں میری اہلیہ، بیٹی میرب اور عنیزہ بری طرح زخمی ہو گئے اور ہماری گاڑی کھائی میں گرتے ہی ایلیٹ فورس کے جوان موقع سے فرار ہو گئے۔ لوگوں نے ہمیں گاڑی سے نکالا، ریسکیو 15پر کال کرنے پر پولیس موقع پر پہنچی۔ میں نے ان کو تمام واقعات سے آگاہ کیا اوروہ بھی چلے گئے۔ جس کے بعد لوگوں نے ہمیں ہسپتال پہنچایا۔ واقعہ کے باعث میں اور اہل خانہ شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں کہ کہیں ہمیں بھی ساہیوال کے واقعہ کی طرح غلط فہمی کا نشانہ نہ بنا دیا جاتا۔ ایک سوال کے جواب میںمتاثرہ فیملی کے سر براہ نے بتایا کہ مقامی پولیس سے انصاف کی توقع نہ ہونے پر میں نے آئی جی وایڈیشنل آئی جی پنجاب کو کاروائی کےلئے درخواست دی ہے۔ اور چھ یوم گزرنے کے بعد بھی کوئی کارروائی عمل میں نہ لائی گئی ہے۔ اس امر پر پولیس گردی کا شکار خاندان نے وزیراعظم، وزیر اعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب، آر پی او اور سی پی او فیصل آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لےکر واقعہ کی انکوائری کروا کر ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج و گرفتار کر کے سزا دلا کر انصاف و تحفظ فراہم کیا جائے۔

علیم خان کا گرفتاری کے فوراً بعد استعفیٰ ، وزیراعظم کا خیر مقدم ، اچھی روایت : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد سینئر وزیر علیم خان کا مستعفی ہونا اور وزیراعظم کا ان کے اقدام کا خیر مقدم کرنا خوش آئند ہے۔ اس سے اپوزیشن کی طرف سے جاری شکایت کو نیب صرف اپوزیشن رہنماﺅں کے خلاف کارروائی کرتا ہے ختم ہو جائے گی۔ اچھی بات دیکھنے میں یہ آئی کہ سینئر وزیر کی گرفتاری کے بعد شور مچانے کے بجائے استعفیٰ دے دیا گیا۔ علیم خان کی گرفتاری سے تحریک انصاف پر کوئی اثر نہ پڑے گا۔ اس سے قبل بابر اعوان، اعظم سواتی نے استعفیٰ دیا، جہانگیر ترین کو عدالت نے نااہل قرار دیا۔ تحریک انصاف کے چند اور لوگ بھی وقت آنے پر گرفتار ہوں گے۔ اگر کسی پر کرپشن کا الزام ہے تو وہ حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں اسے گرفتار کرنا چاہئے۔ نوازشریف اس وقت جذباتی گفتگو کر رہے ہیں اصل میں وہ چاہتے ہیں کہ علاج کیلئے بیرون ملک چلے جائیں۔ پی آئی سی میں اس لئے نہیں جانا چاہتے کہ وہ ہسپتال ہی دل کے امراض کا ہے اور بڑے قابل ڈاکٹرز وہاں موجود ہیں جو اس رپورٹ پر مہت ثبت کر سکتے ہیں کہ دل کا کوئی مرض نہیں ہے جس کے بعد بیرون ملک جا کر علاج کرانا مشکل ہو گا۔ شیخ رشید مسلسل بات کر رہے ہیں کہ ڈیل کی کوشش ہوو رہی ہے۔ پورے شریف خاندان کیلئے پیکیج ڈیل ہو رہی ہے۔ فیصل واوڈا نے بھی ایسی ہی بات کی ہے وفاقی وزراءکی باتوں کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ نوازشریف اسی لئے سروسز ہسپتال سے جیل جانا چاہتے ہیں تا کہ بیرون ملک علاج کرانے کے ایشو کو پھر سے اٹھا سکیں کہ سابق معالج سے علاج کرانا ضروری ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ ڈیل کے مراحل طے کر سکیں۔ نب نے ایل این جی کیس میں شاہد خاقان عباسی کو 8 فروری کو طلب کر لیا ہے۔ یقینی طور پر یہ قطر سے کئے معاہدے کی تفصیلات پوچھی جائیں گی، نیب تحقیقات میں اگر یہ بات سامنے آئی کہ قطر سے بھارت نے گیس ہمارے مقابلے میں سستی لی ہے تو صاف ظاہر ہو گا کہ گڑ بڑ ہوئی ہے پھر ذمہ داران کو پکڑ ابھی جا سکتا ہے۔ فی الحال شاہد خاقان کی گرفتاری ہونا ضروری نہیں ہے کہ اس کیلئے ٹھوس شواہد کی ضرور ہو گی۔
فیصل آباد میں ایک خاندان کو پولیس کی وجہ سے حادثہ پیش آیا جس کی تصاویر دیکھ کر ندامت ہو رہی ہے کہ کیا پنجاب پولیس نے عام لوگوں کو گولیاں مارنے کا ٹھیکہ لے لیا ہے۔ واقعہ میں پولیس کی وجہ سے گاڑی کھائی میں جا گری جس سے بچے بھی زخمی ہوئے۔ تحقیقات ہونی چاہئے اور اگر پولیس اہلکار ہی واقعہ کے ذمہ دار نکلتے ہیں تو انہیں سخت سزا دینی چاہئے۔ گڈز ٹرانسپورٹ پر ٹیکس وفاقی حکومت وصول کرتی ہے کہ یہ وزارت مواصلات کے تحت آتا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اعتراض اٹھایا ہےکہ یہ ٹیکس لگانے اور اکٹھا کرنے کا اختیار 18 ویں ترمیم کے تحت صوبے کو حاصل ہے۔ 18 ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو دیئے گئے اختیارات پر اعتراض اٹھائے جاتے ہیں کہ اس سے صوبے طاقتور اور وفاق کممور ہوا ہے اس لئے نظرثانی کی جائے۔ فواد چودھری سمیت کئی وفاقی وزراءبھی اس پر نظرثانی کا کہہ چکے ہیں جبکہ دوسری جانب پیپلزپارٹی کی قیادت اس ترمیم کا دفاع کرتی نظر آتی ہے۔ لا اینڈ آرڈر تو پہلے ہی صوبوں کے پاس تھا، صحت تعلیم، زراعت بھی صوبوںکے پاس چلے گئے۔ گڈز ٹیکس بھی صوبوں کو دینے کا مطالبہ ہو رہا ہے تو پھر طے کرنا ہو گا کہ وفاق کو کیسے چلانا ہے، کیا وفاق کو بالکل ہی لولا لنگڑا کر دیا جائے گا کہ جس کے پاس ٹیکس لگانے کا اختیار بھی نہ ہو۔ صوبوں کو اختیارات ضرور ملنے چاہئیں تاہم اس طرح نہیں کہ وفاق کمزور ہو جائے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے افغانستان سے فوج واپس بلانے کا ٹھیک فیصلہ کیا ہے۔ طالبان سے مذاکراتجاری ہیں جس کے نتیجہ میں بہتری آئی ہے افغان حکومت نے کچھ اعتراض اٹھائے ہیں تاہم ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ اصل فریق امریکہ اور طالبان ہیں۔ افغان حکومت کا وجود امریکہ کے رحم و کرم پر ہے آج بھی 73 فیصد علاقہ طالبان کے قبضے میں ہے۔ امریکہ ٹھیک راستے پر چل رہا ہے وہ فوجیں نکال لے اور افغان عوام کو اپنی مرضی سے حکومت سازی کا حق دے دے تو اچھا فیصلہ ہو گا۔

نواز شریف جیل جانے کا اصرار کرکے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کررہے ہیں، ارشد یاسین ،نیب کسی کے زیر اثر نہیں غیر جانبدار ہے علیم خان کی گرفتاری احتساب میں توازن کیلئے نہیں: اعجاز حفیظ، وائٹ کالر کرائم میں کیس ثابت کرنا آسان نہیں ہوتا، نیب کیلئے آگے بڑے چیلنجز ہیں: آغا باقر ، نواز شریف چاہتے ہیں انہیں رائیونڈ لے جاکر رہائش گاہ کو سب جیل قرار دیا جائے: میاں افضل ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)کالم نگار آغا باقر نے کہا ہے کہ بہت سے سیاستدان سوال اٹھا رہے ہیں کہ علیم خان کی گرفتاری احتساب کے عمل میں توازن ثابت کرنے کے لئے کی گئی ہے حالانکہ یہ سیاسی بات ہے۔وائٹ کالر کرائم میں کیس ثابت کرنا آسان نہیں ہوتا۔ کالم نگارچینل فائیو کے پروگروام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیب کے لئے آگے اور بھی چیلنجز ہیں۔کوآپریٹو اور پانامہ کیس میں نیب نے بڑی کامیابی حاصل کیں۔نواز شریف کے وکلا ان کی میڈیکل گراﺅنڈ پر ضمانت چاہتے ہیں۔فیاض الحسن چوہان چاہتے ہیں نواز شریف جیل کے بجائے ہسپتال رہیں کئی سیاسی پہلو ہیں۔انہوں نے کہا شوق کا عالم دیکھیں امریکی نے مارخور شکار کر کے ڈیڑھ کروڑ جرمانہ ادا کر دیا لیکن میں سمجھتا ہوں قوموں کو اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے۔ کالم نگار ارشد یاسین نے کہا کہ اپوزیشن حکومت کو طعنہ دیتی رہی ہے صرف اپوزیشن جماعتوں کا احتساب کر رہی ہے اور نیب غیر جانبدار نہیں۔علیم خان کی گرفتاری سے تحریک انصاف کی حکومت پر پریشر کم ہو گا اور اپوزیشن کے پاس تنقید کرنے کا ایک جواز گھٹ جائے گا۔ علیم خان کی گرفتاری سے مسلم لیگ ن کے بہت سے لوگوں کے چہرے اتر گئے ہیں۔سینئر وزیر کی گرفتاری کا کریڈٹ نیب کو جاتا ہے۔جیل جانے کا اصرار کر کے نواز شریف سیاسی پوائنٹ سکورنگ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا مارخور تو جانور ہے امریکی تو پاکستانی انسانوں کو مارتے اور جرمانے ادا کر سزا سے بچتے رہے۔ کالم نگار اعجاز حفیظ نے کہا کہ علیم خان کی گرفتاری سے تحریک انصاف کو فائدہ لیکن علیم خان کو نقصان ہوا ہے وہ کوئی چھوٹا آدمی نہیں۔علیم خان کی گرفتاری کوئی احتساب میں توازن کےلئے نہیں بلکہ نیب کسی کے زیر اثر نہیں غیر جانبدار ہے۔ قوم احتساب پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتی۔نوازشریف جیسی باتیں کر رہے ہیں ایسے لگتا ہے وہ ہر معاملے میں اپنی مرضی چاہتے ہیں قیدی اپنی مرضی کا مالک نہیں ہوتا غریب قید ی کو توڈسپرین کی گولی نہیں ملتی نواز شریف کے لئے بورڈ پر بورڈ بن رہے ہیں۔ کالم نگار میاں افضل نے کہا کہ نیب علیم خان کی گرفتاری بڑی کامیابی قرار دے رہا ہے۔نواز شریف کہتے ہیں انہیں اس جگہ رکھا گیا ہے جہاں دل کا علاج ہی نہیں۔نواز شریف چاہتے تھے انہیں رائیونڈ لے جا کر ان کی رہائش کو سب جیل قرار ذدے دیا جائے۔

تیسرے ٹی 20میں فتح، پاکستان کلین سویپ سے بچ گیا

سنچورین(مانیٹرنگ ڈیسک) ٹی ٹوئنٹی سیریز کے تیسرے میچ میں پاکستان نے جنوبی افریقا کو 27 رنز سے شکست دے دی۔سنچورین میں کھیلے گئے سیریز کے تیسرے اور آخری میچ میں پاکستان کے 169 رنز کے جواب میں میزبان ٹیم مقررہ اوورز میں 9 وکٹوں پر 141 رنز ہی بنا سکی، مڈل آڈر بیٹسمین وینڈر ڈوسن 41 اور مورس55 رنز بنا کر نمایاں رہے، ہینڈرکس 5، ملان اور کلاسن 2، 2 جب کہ کپتان ملر13، پھلکوایو 10، اوربی ہینڈرکس3 رنز بنا کر آٹ ہوئے۔پاکستان کی جانب سے محمد عامر نے 3، فہیم اشرف اور شاداب خان نے 2،2 جب کہ عماد وسیم اور شاہین آفریدی نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔قبل ازیں جنوبی افریقی کپتان ڈیوڈ ملر نے ٹاس جیتا اور پاکستان کو پہلے بیٹنگ کرنے کی دعوت دی، قومی ٹیم کے بلے بازوں نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے غیر ذمہ دارانہ شارٹس کھیلے اور تیز رفتاری سے اسکور میں اضافے کی وجہ سے وقفے وقفے سے وکٹیں گنواتے رہے۔گرین شرٹس نے مقررہ اوورز میں 9 وکٹوں پر 168 رنز بنائے، شاداب خان نے آخری اوور میں 3 شاندار چھکوں کی مدد سے 21 رنز بناکر ٹیم کو فائٹنگ ہدف تک پہنچایا، شاداب خان نے 8 گیندوں پر 22 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی، محمد رضوان 26 اور آصف علی 25 رنز بنا کر نمایاں رہے جب کہ بابر اعظم نے 23، فخرزمان نے 17، شعیب ملک نے 18،حسین طلعت 3، عماد وسیم 19،فہیم اشرف 4 اور محمد عامر بغیر کوئی رن بنائے آٹ ہوئے۔جنوبی افریقا کے سب سے کامیاب بولر ہینڈرکس رہے جنہوں نے 4 شکار کیے، مورس کے حصے میں 2، سپملا اور پھلکوایو کے حصے میں ایک ایک وکٹ آئی۔اس میچ کے لیے میزبان ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی جب کہ قومی ٹیم میں 2 تبدیلیاں کی گئی تھیں، عثمان شنواری اور حسن علی کی جگہ محمد عامر اور فہیم اشرف کو ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ جنوبی افریقا دو ٹی ٹوئنٹی میچز میں شکست دے کر سیریز اپنے نام کرچکی ہے، پہلے دونوں میچوں میں ہدف کے تعاقب کرتے ہوئے گرین کیپس بھرپور مقابلے کے باوجود فتح سے ہمکنار ہونے میں ناکام رہی۔

امریکا اپریل تک افغانستان سے نصف فوجی بلا لے گا، افغان طالبان کا دعویٰ

ماسکو(ویب ڈیسک) افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا رواں برس اپریل تک افغانستان سے اپنے نصف فوجیوں کو واپس بلا لے گا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان طالبان نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے حالیہ امن مذاکراتی دور میں اس سال اپریل تک نصف فوجیں واپس بلانے کا وعدہ کیا ہے۔افغان طالبان کے ترجمان نے ماسکو میں امن مذاکرات کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ فریقین نے ایک دوسرے کو فوجیوں کے پر ر امن انخلاءاور افغانستان کی سرزمین دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی افغانستان سے اپنے نصف فوجیوں کے انخلاءکا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ فضول کی جنگ میں امریکا کی معیشت کو نقصان پہنچا ہے، امریکا اب ساری توجہ معیشت کے فروغ پر دینا چاہتا ہے۔واضح رہے کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں ہونے والے امن مذاکرات میں 17 سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق رائے ہو گیا جس سے افغانستان میں قیام امن کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔

سی پیک اور گوادر میں ترقیاتی عمل سے بلوچستان ترقی کرے گا، وزیراعظم

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے عوام کی ترقی خصوصا نوجوانوں کو ہنر مند بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔وزیراعظم عمران خان سے بلوچستان عوامی پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی نے ملاقات کی جس میں بلوچستان کے عوام کو درپیش مسائل سے متعلقہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم سے ملاقات کرنے والوں میں وزیر برائے دفاعی پیداوار زبیدہ جلال، ایم این ایز سردار محمد، اسرار ترین، خالد حسین مگسی، احسان اللہ ریکی اور روبینہ عرفان شامل ہیں۔ اس موقع پر معاون خصوصی نعیم الحق، ترجمان ندیم افضل گوندل، ملک عامر ڈوگر اور ارشد داد بھی موجود تھے۔زبیدہ جلال نے وزیراعظم کو ایسٹ بے پر ایکسپریس وے سے منسلک پیسیج وے کے ماہی گیروں کے مسائل سے آگاہ کیا اور پیسیج وے کی کشادگی کی درخواست کی جس پر وزیراعظم نے ماہی گیروں کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کی ہدایت کی۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کیے عوام کی ترقی خصوصا نوجوانوں کو ہنر مند بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، نوجوانوں کو ہنر سکھانے کے لیے بلوچستان میں ٹیکنیکل کالجز کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے، سی پیک اورگوادر میں ترقیاتی عمل سے بلوچستان ترقی کرے گا اور گوادر میں ترقیاتی عمل سے بلوچستان کی عوام کے لیے سماجی و معاشی ترقی کے بے شمار موقع میسر آئیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان میں پینے کے پانی کی کمی کے مسئلے سے آگاہ ہیں اور اس حوالے سے وزیراعلیٰ سے رابطے میں ہیں، بلوچستان میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سولر انرجی کو برﺅے کار لانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

تیسرا ٹی ٹوئنٹی، پاکستان کا جنوبی افریقا کو 169 رنز کا ہدف

سنچورین(ویب ڈیسک) ٹی ٹوئنٹی سیریز کے آخری میچ میں پاکستان نے جنوبی افریقا کو 169 رنز کا ہدف دیا ہے۔سنچورین میں کھیلے جارہے سیریز کے تیسرے اور آخری میچ میں جنوبی افریقی کپتان ڈیوڈ ملر نے ٹاس جیتا اور پاکستان کو پہلے بیٹنگ کرنے کی دعوت دی، قومی ٹیم کے بلے بازوں نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے غیر ذمہ دارانہ شارٹس کھیلے اور تیز رفتاری سے اسکور میں اضافے کی وجہ سے وقفے وقفے سے وکٹیں گنواتے رہے۔گرین شرٹس نے مقررہ اوورز میں 9 وکٹوں پر 168 رنز بنائے، شاداب خان نے آخری اوور میں 3 شاندار چھکوں کی مدد سے 21 رنز بناکر ٹیم کو فائٹنگ ہدف تک پہنچایا، شاداب خان نے 8 گیندوں پر 22 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی، محمد رضوان 26 اور آصف علی 25 رنز بنا کر نمایاں رہے جب کہ بابر اعظم نے 23، فخرزمان نے 17، شعیب ملک نے 18،حسین طلعت 3، عماد وسیم 19،فہیم اشرف 4 اور محمد عامر بغیر کوئی رن بنائے آﺅٹ ہوئے۔جنوبی افریقا کے سب سے میاب بولر ہینڈرکس رہے جنہوں نے 4 شکار کیے، مورس کے حصے میں 2، سپملا اور پھلکوایو کے حصے میں ایک ایک وکٹ آئی۔اس میچ کے لیے میزبان ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی جب کہ قومی ٹیم میں 2 تبدیلیاں کی گئی ہیں، عثمان شنواری اور حسن علی کی جگہ محمد عامر اور فہیم اشرف کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ٹاس کے موقع پر پاکستانی کپتان شعیب ملک کا کہنا تھا کہ سیریز کے پہلے میچز میں ٹیم نے زبردست مقابلہ کیا تاہم جیت کے قریب پہنچ کر فتح نہ سمیٹ سکے اب آخری میچ جیت کر دورے کااختتام اچھے انداز میں کرنا چاہتے ہیں۔واضح رہے کہ جنوبی افریقا دو ٹی ٹوئنٹی میچز میں شکست دے کر سیریز اپنے نام کرچکی ہے، پہلے دونوں میچوں میں ہدف کے تعاقب کرتے ہوئے گرین کیپس بھرپور مقابلے کے باوجود فتح سے ہمکنار ہونے میں ناکام رہی۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جانگ ان کی ملاقات رواں ماہ کے آخری ہفتے میں ہوگی

واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی شمالی کوریا کے سربراہ کم جانگ ان سے رواں ماہ کے آخری ہفتے میں ویتنام میں ملاقات ہوگی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران کہا کہ ہم جزیرہ نما کوریا میں امن کے لیے ہم تاریخی اقدامات اٹھارہے ہیں اور اس سلسلے میں وہ 27 اور 28 فروری کو ویتنام میں کم جان انگ سے دوسری ملاقات کریں گے۔امریکی صدر نے کہا کہ ہمارے یرغمال بنائے جانے والے لوگ واپس آرہے ہیں، جوہری ہتھیاروں کے تجربات رک گئے اور گزشتہ 15 ماہ سے شمالی کوریا نے کوئی میزائل تجربہ نہیں کیا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں صدر نہ ہوتا تو اس وقت امریکا کی شمالی کوریا سے بڑی جنگ ہو رہی ہوتی، بہت کام باقی ہے لیکن میرا تعلق کم جونگ ان سے اچھا ہے۔یاد رہے کہ دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان گزشتہ سال کے وسط میں سنگاپور میں ملاقات ہوئی تھی جس کے دوران جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں ایک اور کشمیری نوجوان شہید

سری نگر(ویب ڈیسک) قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں ایک اور کشمیری نوجوان شہید ہوگیا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی فوج نے دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں سرچ آپریشن کے دوران کشمیری نوجوان عرفان احمد شیخ کو گولی مار کر شہید کردیا۔دنیا بھرمیں یوم یکجہتی کشمیر کے کامیاب انعقاد سے بوکھلائی ہوئی قابض بھارتی فوج نے نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے کئی نوجوانوں کو گرفتار بھی کیا۔دوسری جانب ضلع پلوامہ میں ہی پانچ روز قبل ناکارہ سمجھ کر گرنیڈ سے کھیلنے والے دو بچے گرنیڈ پھٹ جانے سے شدید زخمی ہوگئے تھے جن میں سے ایک بچہ جنید بلال دوران علاج آج اسپتال میں دم توڑ گیا۔ادھر گزشتہ 2 دنوں میں گرفتار کیے گئے سیکڑوں کشمیری نوجوانوں اور مقامی حریت رہنماﺅں کی رہائی کے لیے ریلی نکالی گئی۔ ریلی کی قیادت حریت رہنما یاسین ملک کررہے تھے جنہیں پولیس نے حراست میں لے لیا۔یاسن ملک کی گرفتاری پر ریلی کے شرکاءمیں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور ریلی نے مظاہرے کی شکل اختیار کرلی۔ مظاہرین نے جدوجہد آزادی کشمیر کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔

پورے افغانستان پر طاقت سے قبضہ کرنا نہیں چاہتے، طالبان

ماسکو(ویب ڈیسک) افغان طالبان کے رہنما شیر عباس ستانکزئی نے کہا ہے کہ طالبان پورے افغانستان پر طاقت سے قبضہ کرنا نہیں چاہتے اور سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ حکومت افغانستان میں امن لانا چاہتی ہے۔امریکا کے ساتھ امن مذاکرات میں طالبان ٹیم کے سربراہ شیر محمد عباس ستنکزئی نے ماسکو میں بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم پورے ملک پر طاقت سے قبضہ کرنا نہیں چاہتے، کیونکہ اس سے افغانستان میں امن نہیں آئے گا، جب ہم 1990 کی رہائی میں اقتدار میں تھے اور ہمیں مخالف افغان گروہوں کی جانب سے مسلح مخالفت کا سامنا ہوا تو اس وقت ہمیں یہ بات سمجھ میں آ گئی تھی کہ مسائل کے حل کا بہتر طریقہ بات چیت ہے۔عباس ستانکزئی نے کہا کہ جنگ سے زیادہ مشکل چیز امن ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ افغانستان میں امن لانا چاہتی ہے، امید ہے کہ افغان تنازع ختم کیا جا سکتا ہے، تاہم طالبان جنگ بندی پر اس وقت تک رضامند نہیں ہوں گے جب تک کہ تمام بیرونی افواج افغانستان سے نہیں چلی جاتیں۔عباس ستانکزئی نے ماسکو میں ہی ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالبان اقتدار پر اپنی اجارہ داری نہیں چاہتے لیکن افغانستان کا آئین مغرب سے درآمدہ ہے اور وہی امن کی راہ میں رکاوٹ ہے۔خواتین کے حقوق کے بارے میں عباس ستانکزئی نے کہا کہ طالبان کے بڑھتے اثرات سے خواتین کو خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ خواتین کو شریعت اور افغان ثقافت کے تحت سارے حقوق دینے کی کوشش کریں گے، وہ اسکول، یونیورسٹی جا سکتی ہیں اور ملازمت بھی کر سکتی ہیں۔افغان حکومت سے مذاکرات کے بارے میں عباس ستانکزئی نے کہا کہ جب امریکا اپنی افواج کے انخلا کا اعلان کرے گا تو وسیع تر افغان مذاکرات ہو سکتے ہیں، جس میں دوسرے لوگوں کے ساتھ موجودہ افغان حکومت کے نمائندے بھی مستقبل کی حکومت چننے کے لیے شامل ہوں گے۔عباس ستانکزئی نے مزید کہا کہ طالبان نے ماسکو میں افغانستان کے ان سیاسی رہنماﺅں سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے جن کے پاس زمین پر افرادی قوت ہے۔