شیخوپورہ میں ہجوم نے غریب بچے کی کیلے کی ریڑھی لوٹ لی

شیخو پورہ(ویب ڈیسک) سوشل میڈیا میں ہجوم کے ہاتھوں غریب بچے کی کیلے کی ریڑھی لوٹنے کی وڈیو وائرل ہوگئی ہے۔ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک غریب بچے کی وڈیو وائرل ہوئی ہے جو کیلے بیچ کر اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنے نکلا تھا لیکن راستے میں مظاہرین کے ہتھے چڑھ گیا۔ذرائع نے بتا یاہے کہ کیا مرد اور کیا برقع پوش خواتین، سب ہی اس بچے کی کمائی کا ذریعہ لوٹنے میں جت گئے اور جس کے ہاتھ جتنے کیلے لگے لے گیا، ابتدا میں بچے نے تھوڑی مزاحمت کرنے کی کوشش کی لیکن پھر وہاں سے نکل جانے میں ہی عافیت سمجھی اور اپنی ریڑھی لے کر بھاگ نکلا۔

غربت اور کرپشن کے خلاف چین کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، وزیراعظم

بیجنگ(ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی جس میں دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق وزیراعظم عمران خان کابینہ کے دیگر ارکان کے ہمراہ چین میں موجود ہیں جہاں ان کی چین کے صدر شی جن پنگ سے چین کے گریٹ ہال میں ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں پاک چین اقتصادی راہداری سمیت دو طرفہ تعلقات مضبوط کرنے کے امور پر بھی بات ہوئی۔وزیراعظم عمران خان گزشتہ رات چینی قیادت کی دعوت پر اپنے چین کے پہلے سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچے، ان کے ہمراہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ، وزیر خزانہ اسد عمر، وزیرریلوے شیخ رشید، وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار، وزیراعظم کے مشیرعبدالرزاق داو¿د اور وزیراعلی بلوچستان جام کمال بھی ہیں۔وزیراعظم عمران خان اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان وفود کی سطح پر بھی ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آپ کا گرمجوش استقبال کا بے حد ممنون ہوں، ہمارا ملک چین کی ترقی سے بہت متاثر ہے، چینی صدر کا ویڑن اور قیادت رول ماڈل ہے، چین جس طرح غربت اور کرپشن سے نمٹا ہے کسی اور ملک نے نہیں کیا، پاکستان غربت اور کرپشن کے خاتمے کے لیے چین کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔دوسری جانب چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ پاک چین تعلقات سے خطے کو ثمرات مل رہے ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات مظبوط ہیں اب ان میں نئی جہت آرہی ہے، دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات نہ صرف باہمی بلکہ خطے کے دیگرممالک کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔ بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے چینی صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔

آسیہ مسیح اس وقت کہا ں ہے ،وہ خبر آگئی جس کا سب کو انتظار تھا

ملتان (ویب ڈیسک) روبکار نہ آنے کے باعث آسیہ مسیح کو ملتان کی خواتین جیل سے رہا نہ کیا گیا۔ سنٹرل جیل میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔نجی روزنامہ کے مطابق توہین رسالت کے مقدمہ میں بری ہونے والی خواتین جیل ملتان میں بند آسیہ مسیح کی جیل انتظامیہ کو گزشتہ روز بھی روبکار موصول نہ ہوئی۔ پولیس و جیل انتظامیہ کی جانب سے جیل کے اندر و باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔

مریم نواز نے خادم حسین رضوی کی ایسی ویڈیو لائک کردی کہ سوشل میڈیا پر طوفان آگیا

لاہور (ویب ڈیسک) مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنما مریم نواز اپنی والدہ کے انتقال کے بعد سے منظر عام پر نہیں آئی ہیں جبکہ وہ سوشل میڈیا پر بھی غیر متحرک ہیں لیکن اب انکشاف ہوا ہے کہ چاہے ان کی جانب سے کوئی ٹویٹ نہیں کیا گیا لیکن وہ سوشل میڈیا کا جائزہ لیتی رہتی ہیں اور مختلف ویڈیوز اور تصاویر بھی لائک کرتی ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے علامہ خادم حسین رضوی کی ایک ویڈیو لائک کی ہے تاہم سوشل میڈیا پر مچنے والے ہنگامے کے بعد انہوں نے فوری طور پرویڈیو دوبارہ ان لائیک کرکے اپنی ٹائم لائن سے وہ ویڈیو ہٹادی۔ٹوئٹر پر کسی بھی اکا?نٹ پر ٹویٹس، فالونگ اور فالورز کا آپشن موجود ہوتا ہے جس سے اکا?نٹ ہولڈر کی تمام سرگرمیوں کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ اسی بار میں ایک آپشن لائکس کا بھی موجود ہوتا ہے جس سے اکا?نٹ ہولڈر کی جانب سے لائک کی گئی کسی بھی تصویر ، ویڈیو یا سٹیٹس کودیکھا جاسکتا ہے۔اگر مریم نواز کے اکا?نٹ پر لائکس کا جائزہ لیں تو اب تو وہ ویڈیو نظر نہیں آئے گی جو ہنگامے کا باعث بنی ہے تاہم سکرین شارٹس دیکھ کر اندازہ ہوجائے گا کہ یہ کیس کی ویڈیو تھی۔مریم نواز کی اس ویڈیو پر جب سوشل میڈیا پر تبصروں کا آغاز ہوا تو انہوں نے فوری طور پر خطرے کو بھانپا اور ویڈیو کو ان لائک کرکے اپنے اکا?نٹ سے ہٹادی۔مریم نواز ویڈیو ہٹانے سے پہلے شاید یہ بھول گئی تھیں کہ یہ سکرین شارٹس کا زمانہ ہے اور بڑے سیاسی لیڈرز کی کہی ہر بات کہیں نہ کہیں سکرین شارٹس کی شکل میں سوشل میڈیا پر محفوظ ہوتی رہتی ہے۔

عمران خان کی چینی صدر سے ملاقات، وفود کی سطح پر مذاکرات

بیجنگ(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات ہوئی، جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات جاری ہیں۔چین کی طرف پاکستان کو 6ارب ڈالر کا پیکج دیئے جانے کی توقع ہے جبکہ ڈیڑھ ارب ڈالرز کی گرانٹ ملنے کابھی امکان ہے۔ملاقات میں مختلف شعبوں میں معاشی ،تجارتی اور اسٹریٹجک تعاون بڑھانے کے امور زیر غور آئے،وزیراعظم عمران خان نے چینی صدر کو سی پیک میں دیگر ممالک کی سرمایہ کاری سے متعلق اعتماد میں لیا،پاک چین اقتصادی راہداری سمیت دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ،دونوں طرف کے اعلیٰ سطح وفود بھی ملاقات میں شریک ہیں۔عمران خان اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات چین کے گریٹ ہال میں ہورہی ہے،واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان سے چین کے صدر کی یہ پہلی ملاقات ہے۔

صبا قمر کی فحش اور منشیات استعمال کر تے ہو ئے تصاویر نے سو شل میڈیا پر ہنگا مہ بر پا کر دیا

کراچی (ویب ڈیسک) پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان کے بعد اب صبا قمر سوشل میڈیا پر اپنے لباس اور سگریٹ کے لیے تنقید کا نشانہ بنائی جا رہی ہیں۔کوئی انھیں ماہرہ خان کا جانشین کہہ رہا ہے تو کوئی یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کر رہا ہے کہ وہ ماہرہ کو پیچھے چھوڑنے کے لیے کچھ بھی کرنے سے باز نہیں آﺅں گی۔گذشتہ سال ماہرہ خان کی بالی وڈ اداکار رنبیر کپور کے ساتھ ایک شوٹ کی تصاویر وائرل ہو گئی تھیں جس پر انھیں بہت زیادہ ٹرول کیا گیا تھا جبکہ زیادہ تر لوگ انھیں شرم دلانے کی کوشش کر رہے تھے۔صبا قمر کی ایک ویڈیو کے سامنے ا?نے کے بعد اب صبا قمر کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جا رہا ہے۔یہاں بھی لوگوں کی رائے منقسم ہے۔ ’وائی دا ڈاکٹرز‘ نامی ٹوئٹر ہینڈل سے صبا قمر کی تصویر پوسٹ کی گئی ہے اور اس کے ساتھ ’شرمناک۔۔۔ کیا ہم مسلمان ہیں ‘ لکھا گیا ہے، جبکہ ’بائی تنویر‘ نامی ٹوئٹر ہینڈل سے لکھا گیا ہے کہ ’جنسی طور پر ایسے مایوس پاکستانی ہیں جو دن بھر صبا قمر کی گلیمر والی تصاویر تلاش کریں گے اور جب انھیں کوئی تصویر مل جائے گی تو اسے پوسٹ کرکے لکھیں گے کیا وہ مسلمان ہے۔راکیش نامی ایک شخص نے ایک ٹوئٹر ہینڈل کے جواب میں لکھا کہ ’ہمیں وہ ہندی میڈیم کے کردار میں پسند آئیں لیکن ان کی تصویر دیکھ کر میں آپ سے متفق ہوں۔آفیشل ہنزلہ‘ نامی ٹوئٹر ہینڈل نے لکھا: ’صبا قمر بھی ماہرہ خان کی راہ پر۔ کیا وہ اب بھی مسلمان ہیں بلاہ بلیہ‘ نامی ٹوئٹر ہینڈل نے شیخ صاحبہ کے نام سے لکھا: ’صبا قمر، ماہرہ خان کو شکست دینے کے چکر میں عریاں ہو کر بھی پھر لے گی۔پاکستانی اداکار عدنان صدیقی کے ٹوئٹر ہینڈل سے لکھا گیا کہ حال میں ایک فوٹو شوٹ کے دوران لی گئی اپنی ساتھی اور دوست صبا قمر کی تصویر سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ہے۔ مجھے اس عمل پر سخت افسوس ہے۔ ہم ایسے نہیں ہیں اور ہم کسی طرح اس پر فخر نہیں کر سکتے۔

چیف جسٹس پاکستان نے اعظم سواتی بارے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیدیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان نے وفاقی وزیرسینیٹر اعظم سواتی کا معافی نامہ مسترد کرتے ہوئے عہدے سے استعفیٰ دینے کا حکم دے دیا ہے. سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں آئی جی اسلام آباد جان محمد کے تبادلے پر لیے گئے از خود نوٹس کی سماعت ہوئی. دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم پارلیمنٹ کی بے حد عزت کرتے ہیں لیکن طاقت کا اس طرح استعمال نہیں ہونے دیں گے.چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آئی جی صاحب بتائیں آپ نے پرچہ درج کیوں نہیں کیا؟جس پر آئی جی نے جواب دیا کہ میں ملک سے باہر تھا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا اس معاملے میں دوسرا پرچہ درج ہوسکتا ہے؟ اگر ہوسکتا ہے تو آج ہی درج کریں، ان کے ساتھ وہ سلوک کریں جو عام شہری کے ساتھ ہوتا ہے یہی رول آف لائ ہے. اس موقع پر متاثرہ خاندان میں عدالت میں پیش ہوا جس نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ میں غریب بندہ ہوں،ظلم ہوا لیکن میں نے پاکستان کے ناطے اعظم سواتی کو معاف کردیا۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ نے معاف کردیا تو کریں،ہم تحقیقات کریں گے کسی جرگے کی صلح صفائی کو ہم نہیں مانتے، اعظم سواتی اپنے ظلم کو تسلیم کریں اور اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں. اس کے ساتھ چیف جسٹس نے مذکورہ معاملے کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس معاملے پر جے آئی ٹی تشکیل دے رہے ہیں، جے آئی ٹی میں نیب،آئی بی اور ایف آئی اے کے بہترین افسران شامل کریں گے.

سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ 73 دہشت گردوں کی رہائی روک دی

اسلام آباد(ویب ڈیسک): سپریم کورٹ نے وزارت دفاع کی درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ 73 دہشت گردوں کی رہائی روک دی ہے۔سپریم کورٹ نے دہشت گردوں کی بریت کے خلاف وزارت دفاع کی اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے 73 دہشت گردوں کی رہائی روک دی۔ وزارت دفاع نے دہشت گردوں کی رہائی کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی، جس میں موقف اپنایا گیا تھا کہ مجرمان دہشت گردی کے واقعات میں ملوث تھے اور ملٹری کورٹ نے دہشت گردی میں ملوث ہونے پر مجرمان کو سزائیں دیں تاہم پشاور ہائی کورٹ نے مجرمان کو رہا کرنے کا حکم دیا۔واضح رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے فوجی عدالتوں سے پھانسی و عمرقید کی سزا پانے والے 74 ملزمان کی سزائیں کالعدم قرار دی تھیں۔

ملک بھر میں حالات کنٹرول،مظاہرین کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں:فوا د چو دھری

اسلام آباد(ویب ڈیسک): سپریم کورٹ کی جانب سے مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے الزام سے بری کیے جانے کے خلاف مذہبی جماعتوں کے احتجاج اور ہڑتال کی کال کے بعد ‘آپریشن’ کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال کنٹرول میں ہے اور مظاہرین کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔فواد چوہدری نے اپنے ٹوئٹر اکاو¿نٹ سے جاری کیے گئے پیغام میں کہا، ‘ملک بھر میں حالات کنٹرول میں ہیں، مظاہرین کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، حکومت عوام کی زندگی اور آزادی کی ضامن ہے، مظاہرین کے خلاف آپریشن کی سوشل میڈیا پر خبریں غلط ہیں، حکومت تشدد کی راہ نہیں اپنانا چاہتی’۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری آج بھی مظاہرین کی قیادت سے مذاکرات کریں گے’۔

سپین اور فرانس نے آسیہ بی بی کوپناہ دینے کی آفر کی ،بھائی کا چونکا دینے وا لا انکشا ف

لاہور (ویب ڈیسک) :آسیہ بی بی کے بھائی جیمز مسیح کا کہنا ہے کہ آسیہ بی بی پاکستان میں محفوظ نہیں ہے۔آسیہ بی بی کے پاس ملک چھوڑنے کے علاوہ اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آسیہ بی بی کے بھائی جیمز مسیح کا کہنا ہے کہ ابھی وہ اس ملک کا نام نہیں بتا سکتا جہاں آسیہ بی بی کو لے کر جایا جائے گا تاہم اسپین اور فرانس نے آسیہ بی بی پناہ دینے کی آفر کی ہے۔جمیز مسیح نے مزید بتایا کہ آسیہ بی بی کے شوہر عاشق مسیح اکتوبر کے وسط میں اپنے بچوں کے ہمراہ برطانیہ سے واپس آئے۔اور وہ آسیہ بی بی کی رہائی کے انتظار کر رہے تھے۔تاہم مذکورہ خاندان کو سپریم کورٹ سے آنے والے فیصلے کے بعد ملک میں پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر چھپا کر رکھا ہوا ہے۔عاشق مسیح کا کہنا ہے کہ میری دو چھوٹی بیٹیوں کی عمر اس وقت دس برس سے بھی کم تھی جب آسیہ بی بی کو جیل ہوئی۔
اور ان دوںوں کو والدہ کے ساتھ گزارا ہوا وقت بھی یاد نہیں ہے۔عاشق مسیح نے کہا کہ ہم عدالت کے شک گزار ہیں کہ اس نے ہمیں انسان تصور کرتے ہوئے عقیدے اور مذہب کی تفریق کیے بغیر فیصلہ دیا۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کیس کا فیصلہ سنایا تو ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ حکومت نے مظاہرین سے مذاکرات کا آپشن استعمال کرنے کا فیصلہ تو کیا لیکن تحریک لبیک کے رہنماو¿ں کی جانب سے اپنایا گیا تضحیک آمیز رویہ اور ناقابل قبول شرائط مذاکرات کی ناکامی کا باعث بنیں۔

ملک بھر میں گھیرا ﺅ جلاﺅ،مظاہرین کیخلا ف موجودہ صورتحال بارے پولیس کی کارکردگی کا پول کھل گیا

لاہور (ویب ڈیسک) : آسیہ بی بی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پنجاب سمیت ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو اجو ابھی تک جاری ہے۔ ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے پولیس اور رینجرز کو تعینات کیاگیا لیکن بظاہر پولیس بھی اپنی ذمہ داری سرانجام دینے میں ناکام نظر آئی۔ حال ہی میں سامنے آنے والی تصویر میں دیکھا گیا کہ مظاہرین ہاتھوں میں ڈنڈے ا±ٹھائے موٹرسائیکل سواروں کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ پاس کھڑے پولیس اور سکیورٹی اہلکار ٹھائے ان کو دیکھ رہے ہیں۔
اس ایک تصویر نے موجودہ صورتحال میں پولیس کی کارکردگی کا پول کھول دیا ہے جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی اہلکاروں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ پولیس کا کام شہریوں کی جان و مال کی حفاظت ہوتا ہے لیکن اس تصویرمیں حقیقت اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پنجاب کے مختلف شہروں میں آج بروز جمعہ موبائل فون سروس معطل ہے۔جبکہ ملک کے مختلف شہروں میں آج تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی اور وزارت داخلہ کی جانب سے جاری اطلاعات کے مطابق راولپنڈی، اسلام ا?باد، لاہور، گوجرانوالہ سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں موبائل فون سروس جمعہ کی صبح ا?ٹھ بجے سے مغرب تک معطل رہے گی۔ جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں جمعہ کے روز اکثر سرکاری اور نجی اسکول اور کالج بند رہیں گے۔

آسیہ کیس کا فوج سے کوئی تعلق نہیں، ہر معاملے میں فوج کو گھسیٹنا افسوسناک ہے ،ڈی جی آئی ایس پی آ ر کی سرکاری ٹی وی سے گفتگو

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ آسیہ مسیح کا کیس 10 برسوں سے عدالتوں میں چل رہا ہے، اس کیس کا فوج سے کوئی تعلق نہیں، ہر معاملے میں فوج کو گھسیٹنا افسوسناک ہے. سرکاری ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آسیہ بی بی کیس میں قانونی کارروائی کو مکمل ہونے دیا جائے، معاملہ عدالت میں ہے اور کوئی فیصلہ آنے کے بعد مسلمان آگے کا راستہ چن سکتے.انہوں نے کہا کہ پاک فوج کی خواہش ہے کہ امن و امان کی صورتحال خراب کیے بغیر معاملات حل ہوجائیں، آئین اور قانون کی حد بندیاں دی گئی ہیں، جس کا احترام کرنا چاہیے.میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہرکیس میں فوج کو گھسیٹنے کی کوشش کی جاتی ہے، آسیہ بی بی کیس عدالتی معاملے ہے، پاک فوج کا اس سے کوئی تعلق نہیں، اس کیس کو لے کر افواج پاکستان کے خلاف بات کرنا افسوسناک ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے خلاف باتوں کو بڑے عرصے سے برداشت کر رہے ہیں، آئین اور قانون کے مطابق ایکشن ہوسکتا ہے لیکن کوشش کی جائے کہ وہ نوبت نہ آئے کہ پاک فوج کو ایکشن لینا پڑے. انہوں نے کہا کہ اسلام ہمیں امن و محبت کا درس دیتا ہے، ہمیں اسلامی تعلیمات کو نہیں چھوڑنا چاہیے، تمام مسلمانوں کا رسول? سے محبت کا رشتہ ہے، حضور ? کی محبت کے رشتے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے.

ملک بھر میں دھرنوں کے پیچھے کون ، تحریک لبیک کو کس کی حمایت ،فنڈنگ کہاں سے ہو رہی ہے ،اصل حقا ئق سا منے آ گئے

تحقیق (چو دھری شفیق)لاہور کی ایک مسجد کے 52 سالہ خطیب نے اصل شہرت نومبر 2017 میں اسلام آباد کے فیض آباد چوک میں توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کے خلاف ایک طویل دھرنا دے کر حاصل کی تھی۔ ممتاز قادری کو پھانسی دیے جانے کے بعد سے بریلوی طبقے کے قدامت پسندوں نے زیادہ متحرک سیاسی کردار اپنایا ہے۔ لیکن پاکستان میں فرقہ ورانہ تشدد میں اضافہ اور بریلوی دیوبندی اختلاف سال 2012 کے بعد سے دیکھا جا رہا ہے۔ فیض آباد دھرنے سے متعلق تاثر تھا کہ اس دوران احتجاج کرنے والوں کو کسی نہ کسی صورت پاکستان فوج کی حمایت حاصل تھی۔ اس بابت احتجاج کے اختتام پر رینجرز کی جانب سے مظاہرین میں رقوم کی تقسیم کو اسی تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔فوج اس حمایت سے انکار کرتی رہی لیکن اب آسیہ بی بی کے تنازعے میں ملک بھر میں دھرنوں کے پیچھے کون ہے اور تحریک لبیک کو کس کی حمایت حاصل ہے یہ سوال دوبارہ پوچھا جا رہا ہے۔لیکن اب آسیہ بی بی کے تنازعے میں ملک بھر میں دھرنوں کے پیچھے کون ہے اور تحریک لبیک کو کس کی حمایت حاصل ہے یہ سوال دوبارہ پوچھا جا رہا ہے۔تاہم مبصرین کے خیال میں ماضی میں انھیں کسی کی پشت پناہی حاصل ہو یا نہ ہو اس مرتبہ وہ معاشرے کے ایک خاص قدامت پسند طبقے میں اپنی مقبولیت کے بل بوتے پر سڑکوں پر نکلے ہیں۔اب وہ اور ان کی تحریک کے دیگر سینئر رہنما جس قسم کی زبان فوج اور عدلیہ کے خلاف استعمال کرتے ہیں اس سے لگتا ہے کہ انھیں اپنی طاقت پر حد سے زیادہ اعتماد ہوگیا ہے۔ویل چیئر تک محدود ہونے کا سفر کیوں اور کیسے ہوا ،یہ ہے اصل سوال۔ خادم حسین رضوی کا تعلق پنجاب کے ضلع اٹک سے ہے۔ وہ حافظ قرآن ، شیخ الحدیث بھی ہیں اور فارسی زبان پر بھی عبور رکھتے ہیں۔ ٹریفک کے ایک حادثے میں معذور ہو گئے تھے ۔وہ 22 جون 1966 کو ’نکہ توت‘ ضلع اٹک میں حاجی لعل خان کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔ جہلم و دینہ کے مدارس دینیہ سے حفظ و تجوید کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد لاہور میں جامعہ نظامیہ رضویہ سے درس نظامی کی تکمیل کی۔ ان پر مختلف نوعیت کے کئی مقدمات بھی درج ہیں۔ اعجاز اشرفی نے بتایا کہ ان مقدمات کی تعداد کتنی ہے انھیں یاد نہیں۔ لیکن تحریک کے آغاز سے اب تک انھیں گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ شاید اس کی وجہ ان کی ’سٹریٹ پاور‘ ہے۔ پنجاب حکومت نے فورتھ شیڈول میں رکھا ہوا ہے جس کا مطلب ہے کہ انھیں اپنی نقل و حرکت کے بارے میں پولیس کو آگاہ رکھنا ہوتا ہے۔ آئی ایس آئی کی ایک رپورٹ کا کہنا ہے کہ ’خادم حسین رضوی اپنے اونچے عہدے والوں کے سامنے مغرور اور ماتحتوں کے ساتھ بدتمیز ہیں‘۔خادم حسین رضوی کو اپنی سرگرمیوں کے لیے وسائل کہاں سے ملتے ہیں یہ واضح نہیں لیکن اسلام آباد دھرنے کے دوران انھوں نے اعلان کیا کہ نامعلوم افراد لاکھوں روپے ان کو دے کر جا رہے ہیں۔ اس سے بظاہر لگتا ہے کہ اندرون و بیرون ملک دونوں جانب سے انھیں فنڈز ملتے ہیں۔ آئی ایس آئی کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق خادم رضوی ’مالی بدعنوانی میں ملوث رہے ہیں، اور ان کی ساکھ غیر تسلی بخش ہے‘۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دھرنے کی منظم انداز میں مالی سپورٹ کی باتیں افواہیں ہیں اور دھرنے والوں کو عوام میں سے چند افراد نے خوب عطیات دیے جن میں مقامی علما اور گدی نشین شامل ہیں۔ خادم حسین رضوی کی گرمجوش تقاریر سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنی طاقت سے کافی مرعوب ہیں۔ ان کے پیرو کار ان کی بدزبانی اور گالیوں پر بھی آنکھیں بند کر کے واہ واہ کرتے رہتے ہیں۔وہ اپنے اجتماع میں آئے ہوئے صحافیوں اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کو بھی بڑے سخت انداز میں مخاطب کرتے رہے ہیں۔ پھر وہ ایسے دعوے بھی کرتے ہیں جنھیں عملی جامعہ پہنانا شاید ناممکن ہو۔ ایسا ہی ایک بیان انھوں نے کراچی میں دیا تھا کہ ’اگر ان کے پاس ایٹم بم ہوتا تو وہ ہالینڈ کو کارٹون بنانے کا مقابلہ منعقد کرنے سے پہلے ہی پوری طرح سے برباد کردیتے۔‘