لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ضیا شاہد نے کہا کہ یوم اقبال کی تقریب میں چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب تشریف لائے تھے اور اتفاق سے حامد میر، میں اور عارف نظامی صاحب اس تقریب میں تھے ہم نے اس میں تقریر کی اور اس کے بعد جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال صاحبہ تھیں اور سب سے آخر میں چیف جسٹس صاحب نے خطاب کیا۔ میں نے ہی اپنی تقریر میں یہ نقطہ اٹھایا تھا چیف صاحب جو کوئی کارروائی کر رہے ہیں مختلف عوامی مسائل کے لئے یہ بہت اچھی ہے تاہم ایک پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ شاید موجودہ حکومت اپنے آپ کو دوام بخشنے کے لئے کوئی الیکشن کی تاریخ سے پہلو تہی کرنا چاہتی ہے اس کے جواب میں چیف جسٹس نے اپنی صدارتی تقریر میں ہمارے ہی سامنے یہ کہا تھا کہ سوال میں پیدا نہیں ہوتا اگر ایک دن بھی الیکشن کی تاریخ بڑھائی گئی تو میں 15 ججوں کے ساتھ گھر چلا جاﺅں گا۔ ہم سب نے اس پر بڑی خوش کا اظہار کیا۔ میں عدالتوں اور ثاقب نثار صاحب کی۔ ثاقب نثار صاحب کے بارے میں تو جتنے کلر صفحات ہم نے چھاپے ہیں ہم نے ہمیشہ ان کی کاوشوں میں، پانی، گڈ گورننس کے سلسلے میں، زینب قتل کیس کے سلسلے میں ان کے سوموٹو نوٹسوں کو ہمیشہ بڑی اہمیت دی ہے لیکن شکوہ جواب شکوہ میں علامہ اقبال نے کہا ہے کہ خوگر حمد سے تھوڑا سا گلے بھی سن لیں جناب ثاقب نثار صاحب آپ بھی داد و تحسین کے کافی خوگر ہیں آپ بھی تھوڑا سا گلہ سن لیجئے۔ یہ گلہ ہے پاکستانیوں کی طرف سے اور ایسے پاکستانیو ںکی طرف سے جو ضروری سمجھتے ہیں کہ الیکشن ہوں جو جمہوری حکومت کا تسلسل ضروری سمجھتے ہیں۔ لیکن جناب بات یہ ہے کہ اس کے لئے کہاں ضروری ہے کہ اسلام آباد کورٹ نے اگر یہ کہا تھا کہ معاف کیجئے کہ ساری پارٹیوں کی سفارشات تھیں کہ جو انتخابی قواعد کے سلسلے میں تمام سیاسی جماعتیں بشمول ن لیگڈ، پی پی، جے یو آئی، ایم کیو ایم اور خود تحریک انصاف صب نے مل کر فیصلہ کیا تھا اور یہ نکات تجویز کئے تھے کہ جناب ہر انتخابی امیدوار سے جو ہے ایف بی آر، سٹیٹ بینک قرضوں کے سلسلے میں اور دیگر نیب سے کلیرنس لے لی جائے اچھا ہے تا کہ ایسے لوگ الیکشن میں نہ آ سکیں جن پر اپنا کردار 63,62 کے خلاف معاف کیجئے اب بھی کہا جاتا ہے کہ نہیں جی الیکشن لڑنے دو۔ بعد میں جن کے خلاف کوئی رٹ آئے گی تو ہم ان سے باری باری پوچھتے جائیں گے۔جناب چیف جسٹس بڑے شوق سے 25 کی بجائے 24 کو الیکشن کروا لیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن یہ جو فارم تھے اس میں سے یہ ساری باتیں نکالنے کا آپ نے کس خوشی میں حکم دیا اور میں ساری عمر اپنی پوری عمر میں ہر دور ہی میں کوشش کی جناب نوازشریف صاحب کے دور میں تحریک احتساب چلائی تو جماعت اسلامی کے ہمارے دوست قاضی حسین احمد صاحب اس وقت زندہ تھے تو ہم نے سول سوسائٹی آف پاکستان کی طرف سے ایک احتساب فورم اور احتساب فرنٹ بنایا اور اس میں ہمارے ساتھ جنرل (ر) حمید گل تھے میں اس کا سیکرٹری جنرل تھا۔ اس میں ہمارے ساتھ محمد علی درانی، اور اسحاق ساقی صاحب جو ایپکا کے چیئرمین تھے۔ اس کے علاوہ ہمارے ساتھ ریٹائرڈ جنرل تھے کچھ دانشور تھے۔ ہم نے لاہور، اسلام آباد، پشاور، کراچی، ملتان میں مظاہرے کروائے۔ ہم خود وہاں گئے اور ہم نے کہا جناب مہربانی کر کے ان لوگوںں کو الیکشن میں حصہ لینے دیا جائے جو کم از کم یہ تین باتیں تو ثابت کر دیں کہ وہ کسی بینک کے نادہندہ نہیں، کوئی ان پر اخلاقی جرم نہیں اس وقت یہ دہری شہریت کا معاملہ نہیں تھا ہمارے ملک شاید لوگوں نے ٹھیکہ لے رکھا ہے جب کوئی بات ہوتی ہے تو بھاگ عدالتوں میں جاتے ہیں اور فیصلہ لے لیتے ہیں۔ اس وقت بھی عدالتیں یہ سوچے بغیر الیکشن۔جناب محترم چیف جسٹس صاحب! بڑے ادب سے گزارش کرتا ہوں کہ الیکشن فی نفسہ کوئی مقصد نہیں ہوتا۔ یہ مقصد ہوتا ہے اچھی حکومت کے قیام کے لئے انتخاب ہوتا ہے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ نوازشریف صاحب کا 93ءمیں بھی دور تھا۔ ہم نے مہم چلائی اور یہ کہا کہ جو بینک ڈیفالٹر ہیں جن کے خلاف اخلاقی کیسز ہیں، جن کی تعلیمی قابلیت ٹھیک نہیں اس قسم کے الزامات ان کو الیکشن میں حصہ لینے سے روکا جائے۔ تو جناب اب بھی انتخابی اصلاحات تمام سیاسی پارٹیوں نے بشمول پیپلزپارٹی، ن لیگ اور تحریک انصاف یہ سفارشات کی تھیں جب ان کو شامل نہیں کیا گیا تو اسلام آباد میں رٹ کی گئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ فارم میں یہ چیزیں شامل کی جائیں ہم نے کب کہا کہ الیکشن نہ ہوں، میری سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد سے آج صبح بات ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ 10 یا 15 ہزار فارم دوبارہ چھاپنا دو گھنٹے کا کام ہے آج کل اتنی تیز رفتار پرنٹنگ مشینیں ہیں تو جناب اگر یہ فرم میں آ جاتا کہ کیا حرج تھا۔ کیا ہماری عدالتیں اس وقت بھی عدالت نے فیصلہ تھا کہ نہیں جی کوئی پابندی نہیں جو الیکشن لڑنا چاہتا ہے لڑے۔ اب بھی چیف جسٹس صاحب چاہتے ہیں کہ 25 کی بجائے 24 کو کروا دیں لیکن فارم میں یہ ساری چیزیں ختم کر کے آپ نے پھر دروازہ کھول دیا ہے کہ ہر قسم کا مجرم اخلاق سے عاری شخص 63,62 اس کے دور سے نہ گزری ہو وہ ہر الیکشن جیت کر آ جائیں پھر آپ کہیں گے کہ اچھا جی ان کے خلاف 63,63 کی ہم ساری عمر اسی چکر میں پڑے رہیں گے۔الیکشن کو بروقت کروانے کے لئے نادرہ، سٹیٹ بینک سے کمپیوٹرائزڈ دور ہے۔ ایک دن میں کسی کا نام ڈالیں تو رپورٹ نکل آتی ہے آپ نے کسی بینک سے قرصہ تو نہیں لیا ہوا۔ آپ کی دہری شہریت تو نہیں نادرا بتا سکتا ہے اس میں کیا دکت ہے کیوں یہ ہمارے محترم چیف جسٹس نے سارے بستر گول کر کے کہا کہ نہیں بھائی قسم کی بات نہ پوچھا جائے الیکشن فارم اور میں اور الیکشن وقت پر ہو جائیں۔ الیکشن وقت پر کروانے کے لئے ہمارے دوست سابق الیکشن کمشن کا فون آیا یہ بڑا ظلم ہے ہو گیا ہے۔خالد رانجھا نے کہا ہے کہ الیکشن سے پہلے ہر قسم کی سکروٹنی ہونی چاہئے چاہے اس میں جتنے دن بھی لگ جائیں۔۔ضیا شاہد نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسا نہیں ہوا کہ گرمی کے موسم میں جو جولائی کا مہینہ ہے جب حاجی نہیں آ سکیں گے جن کے شناختی کارڈ بنے ہوئے ہیں، بلوچستان اسمبلی کہہ چکی ہے یہ تاریخ ہمیں منظور نہیں، خیبر پختونخوا اسمبلی کہہ چکی ہے یہ تاریخ ہمیں منظور نہیں الیکشن آگے کئے جائیں۔ اگر ایک ڈیڑھ ماہ آگے کر دیئے جائیں تو کون سے 1973ءکے آئین کی خلاف ورزی ہو گی۔میں نے جتنے لوگوں سے بات کی وہ کہتے ہیں کہ قانون میں اس کی گنجائش موجود ہے۔ 63,62 کے تحت جو نااہلیاں ہوئی ہیں جن میں سابق وزیراعظم بھی ہیں بقول شخصے انہوں نے غلط بیانی کی۔ دیکھیں ہم 63,62 کے تحت کسی کے خلاف عدالتوں میں جا سکتے ہیں۔ میری گزارش ہے کہ 11 سو 12 سو ممبر ہوتا ہے تو اتنی بڑی تعداد میں لوگ سب برابر ہوں گے۔کنور دلشاد نے کہا ہے اصولی بات یہ ہے کہ دنیا میں جتنے بھی انتخابات ہوتے ہیں وہ مارچ میں ہوتے ہیں یا اکتوبر میں ہوتے ہیں موسم کی مناسبت سے۔ الیکشن کمیشن نے موسم کا خیال نہیں رکھا۔ ہمارے کاغدات نامزدگی کا پرفارما ہے یہ اس پر جو انتخابات ہوں گے لوگوں کے ذہنوں میں بات آ جائے گی ہماری اسمبلیوں میں جرائم پیشہ لوگ، قومی مجرم، منی لانڈرنگ سے لے کر جن کی اربوں کروڑوں کی جائیدادیں دوسرے ملکوں میں موجود ہیں وہ سارے اسمبلی میں پہنچ چکے ہیں۔ اس میں جو سپورٹ کیا ہے وہ تحریک انصاف، پیپلزپارٹی نے بھی سپورٹ کیا اور حکمران جماعت تو ویسے اس میں لگی ہوئی تھی حکمران جماعت کا خیال ہے کہ جس طرح کہ ہماری نوازشریف کو پانامہ میسرز کے لحاظ سے کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپانے کے جرم میں نااہل قرار دے دیا اس قسم کا معاملہ آئندہ پیش نہ آئے۔ آصف زرداری کو خوف تھا کہ جب بھی قومی اسمبلی کا الیکشن لڑوں گا تو میری ساری جائیداد ہے وہ مجھے لکھنی پڑے گی۔ بہتر یہی ہے۔ اپنی پارٹی کے ذریعے حکومت سے مل ملا کر انہوں نے تمام چیزیں تھیں جو 19 پوائنٹ تھے وہ خارج کر دیئے۔ یہ ملی بھگت تھی، یہ تحریک انصاف کی سادگی دیکھ لیں یا ان کو سمجھ نہیں آئی کہ وہ ان کے معاملات سمجھ نہیں سکی۔ وہ حقیقت سمجھ نہ سکے کہ یہ فارم سے یہ چیزیں کیوں نکلوانا چاہتے ہیں۔ اس ساری کوشش کے پیچھے اپنی جائیدادیں بچانے کی سازش ہے۔ صدر اور چیف جسٹس صاحب ان کے پریشر میں آ گئے۔ عجلت میں آ کر لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ مسترد کر دیا۔ضیا شاہد نے کہا اگر فیصلہ ملتوی نہ کیا جاتا اور سارے خانے فارم میں موجود رہتے توسٹیٹ بینک سے سرٹیفکیٹ، نادرا سے سرٹیفکیٹ، ایف بی آر سے پوچھنے میں کتنے دن لگتے ہیں آج کمپیوٹرائزڈ دور میں بہت سادہ سا کام ہے۔عبداللہ گل نے کہا ہے کہ لوگوں کا خیال ضرور تھا کہ آپ نے سندھ پر لکھا، پنجاب پر کیوں نہیں لکھا جس پر آپ کا جواب تھا کہ میں ان پر بھی لکھ رہا ہوں۔ ایک وقت میں اتنا ہی لکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں چھوٹا بچہ تھا اور اپنے والد کے ساتھ آیا کرتا تھا۔ چوبرجی کے مقام پر احتساب موومنٹ کا سنگ بنیاد ڈالا گیا اور نوازشریف کے آنے کے بعد احتساب کا پہلا ادارہ قائم ہوا۔ سیف الرحمن صاحب کو اس کا سربراہ بنایا گیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب جنرل صاحب کی ریٹائرمنٹ کے بعد نوازشریف نے آپ کی احتساب موومنٹ پر کہا کہ جنرل صاحب آپ نے احتساب کی بہت بات کی ہے تو آپ بھی اب اس کے سربراہ بنیں تو جنرل صاحب نے دو شرائط پر کہا کہ سب سے پہلے میاں صاحب یہ کہ جس شخص کا احتساب جو کرے گا، یعنی اگر میں چیئرمین ہوں گا تو میں اپنا احتساب عوام کے ذریعے کرواﺅں گا تا کہ عوام الناس بتائیں کہ میں اچھا ہوں یا برا۔ اگر وہ مجھے پاس کر دیں تو پھر۔ اس پر نوازشریف نے ان کی بہت تعریف کی، بڑے میاں صاحب بھی اس وقت حیات تھے، انہوں نے کہا کہ ایسے ہوتے ہیں بندے جو اپنا احتساب پہلے کرواتے ہیں اور کہا کہ دوسری شرط کیا ہے۔ جنرل صاحب نے کہا کہ پھر جو احتساب کروا رہا ہے، یعنی بطور وزیراعظم آپ احتساب کروا رہے ہیں تو میں آپ کا بھی احتساب کروں گا۔ اس پر نواز شریف نے کہا کہ ہم آپ کو بتائیں گے وہ دن اور آج کا دن، نوازشریف نے اس پر لب کشائی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں اگر ویزا لینے جائیں، ڈرائیونگ ٹیسٹ، پاسپورٹ کا حصول یا نادرا شناختی کارڈ کے لئے کوائف لکھے جاتے ہیں کہ آپ کا کیا کیا رپورٹ ہے۔ اثاثے، اپنی بات اور کرمنلز ریکارڈ لکھے جاتے ہیں۔ لیکن کمال یہ ہے کہ وزیراعظم بننے والے پہلے ایک عام ایم این اے ہی ہوتے ہیں، مگر ملک کے سب سے بڑے عہدے کے لئے جب چناﺅ کرتے ہیں تو بتائیں کیوں یہ باتیں فراموش کر دیتے ہیں۔ کروا دی جاتی ہیں یا خود کرنا نہیں چاہتے۔ کمال تو یہ ہے کہ اپوزیشن اور حزب اقتدار سب نے مل کر یہ فیصلہ کیا۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جب مراعات کی بات آئی تو اسس ایک نقطے پر اپوزیشن اور حزب اقتدار اکٹھے ہو گئے کہ ممبران کے لئے ناجائز اور جائز ہر قسم کی مراعات ہونی چاہئیں۔ یہ بہت قابل افسوس عمل ہے جس پر ہم نے سوشل میڈیا پر آواز بلند کی ہے۔ میری تحریک جوانان پاکستان و کشمیر الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے اور اس سال انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ ہم نے الیکشن کمیشن کو باقاعدہ خط لکھا اور کہا کہ ہم اعتراض کرتے ہیں، یہ نکات نامزدگی فارم میں شامل ہونے چاہئیں۔ کیونکہ یہ ایک نمائندے کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ وہ آرٹیکل 63,62 پر پورا اترے، اپنے قول و فعل پر پورا اترے۔ ہم یہ نکات نکال دیں اور سارے چور اچکے اسمبلیوں میں پہنچ جائیں تو پھر ضیا صاحب آپ جیسے درد دل رکھنے والے لوگ جو پاکستان کی محبت میں اپنی ضعیف العمری اور اپنی بیماری کے باوجود آپ پر خاندانی طور پر جتنی مشکلات گزریں، آپ نے اپنا جوان بیٹا کھویا ہے، وہ مارے بڑے بھائی تھے، اس کے باوجود آپ کی پاکستانیت پر کوئی حرف نہیں آیا۔ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔ اگر چوروں نے پاکستان کو آگے چلانا ہے تو بڑی مشکل ہو جاتی ہے۔ عوام اور افواج کا ایسا تناﺅ پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کا آئی ایس بی آر اور آپ نے ذکر فرمایا ہے۔ دشمن کے واضح اہداف ہیں وہ پاکستان کو ڈی نیوکلیئرائزڈ کرنا چاہتا ہے لیکن اس سے پہلے وہ ڈی ملٹرائزڈ کرنا چاہتا ہے اور وہ اسی صورت ممکن ہے جب عوام اور افواج کا تصادم پیدا ہو۔ ضیا شاہد نے ریحام خان کی کتاب کے حوالے سے پوچھا کہ ریحام خان کا کیا مسئلہ ہے اور بیٹھے بیٹھے، جس طرح ہم اس وقت سمجھتے تھے کہ یہ کوئی پلانٹڈ خاتون ہے، حمید گل بھی یہ سمجھتے تھے اور میں ان کی بات سے اسس وقت بھی سو فیصد اتفاق کرتا تھا اور ہمارے اخبار میں اس کے بارے میں ان کی بات بھی چھپی ہوئی ہے اور میری بات بھی چھپی ہوئی ہے۔ بیٹھے بیٹھے لندن میں جو گند اچھالا جا رہا ہے، ٹویٹ پر ساری چیزیں آ چکی ہیں، اس کے اقتباسات سوشل میڈیا پر آ رہے ہیں۔ جن کو دیکھ کر آدمی کانوں کو ہاتھ لگاتا ہے۔ یہ کیافنامنا ہے؟ اور اسی وقت آپ کے والد محترم نے جو صحیح طور پر تشخیص کیا تھا کیا آج وہ بات ثابت نہیں ہو گئی کہ حمید گل صاحب صحیح کہہ رہے تھے؟ جس پر عبداللہ گل نے کہا کہ مجھے یاد ہے آپ کی مہربانی تھی آپ نے مجھے پہلے بھی مدعو کیا اور میرے بیان پر آپ نے اخبار میں 8 کالمی خبر لگی۔ حقیقت یہ ہے کہ ریحام خان جب جنرل صاحب کے پاس دفتر میں آئیں تو جنرل صاحب نے ان کو یہ کہا کہ ریحام کیا آپ یہ نہیں سوچتیں کہ ہم ایک ہی بزنس میں ہیں تو انہوں نے کہا کہ جنرل صاحب کیا آپ بھی میڈیا کا کوئی چینل شروع کرنے لگے ہیں۔ جس پر جنرل صاحب نے کہا کہ آپ اتنی سمجھدار ہیں کہ میری بات سمجھ گئی ہیں۔ میں جاسوسی میں ماسٹر رہا ہوں اور آپ جاسوس رہی ہیں۔
Monthly Archives: June 2018
بالی وڈ حسینہ نیدھی اگروال کی کرکٹر لوکیش راہول دوستی عروج پر
ممبئی(شوبزڈیسک ) بالی ووڈ اداکارہ نیدھی اگروال کے ساتھبھارتی کرکٹر لوکیش راہول کی قربتیں بڑھ گئیں۔ان دنوں مختلف مقامات پر اکٹھے دیکھے جا رہے ہیں اور گزشتہ روز بھی وہ ممبئی میں ایک ریسٹورنٹ سے ڈنر کے بعد گاڑی میں روانہ ہوئے تو لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے۔بھارتی کرکٹر اور اداکارہ نے اپنے حوالے سے خبروں پر تبصرے سے انکار کردیاہے تاہم ذرائع کا کہناہے کہ لوکیش راہول بالی ووڈ حسینہ نیدھی اگروال کی زلفوں کے اسیر ہوچکے ہیں اور دونوں اپنے رشتے کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ نظر آتے ہیں۔
میرا ”باجی “ بن گئیں
لاہور ( شوبزڈیسک) فلمسٹار میرا ”باجی “ بن گئیں ۔ ذرائع کے مطابق ہدایتکار ثاقب ملک نے اداکارہ میرا کو اپنی فلم ”باجی “ کے لئے کاسٹ کیا ہے جس میں میرا کا کردار ”باجی “ کا ہے ۔ فلم کی شوٹنگ کا سلسلہ خاموشی سے جاری تھا کہ شادی شدہ ہونے سے متعلق عدالتی فیصلہ آنے کے بعد میرا اب فلم کی مزید شوٹنگ میں حصہ نہیں لے رہیں۔ تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ عید الفطر کے بعد دوبارہ سے فلم ”باجی “ کی شوٹنگ میں حصہ لیں گی ۔
ضیاءالحق نے کالاباغ ڈیم بارے کوشش کی تو بھارت آڑے آیا : توصیف احمد خان ، جہلم کا پانی روکنے پر انڈیا سے احتجاج کیا جائے :امجد اقبال ، ماضی میں پانی معاہدوں پر عملدرآمد نہیں ہوا : سیف الرحمن، الیکشن بار ے ابہام ختم ہوگیا: ضمیر آفاقی ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی امجد اقبال نے کہا ہے کہ انتخابی فارم کو کسی جماعت نے بھی چیلنج نہیں کیا۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ الیکشن ہر صورت میں وقت پر ہوں گے۔ چینل ۵ کے پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فارم معطلی کے فیصلے سے الیکشن میں تاخیر کا خدشہ تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے حکومت کی مدت پوری ہونے پر مبارکباد پیش کی یہ خوش آئند بات ہے۔ انہوں نے کہا ہمیں ادھر ادھر کی باتوں پر کان نہیں دھرنے چاہئیں۔ جنوبی پنجاب کے علاقوں میں آج بھی نہروں کا پانی پینے کے لئے استعمال ہوتا ہے اگر بھارت جہلم کا پانی روکتا ہے تو ہمیں اس پر احتجاج کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کے انفرادی عمل کو پورے ادارے پر نہیں لینا چاہئے۔ کالم نگار سیف الرحمن نے کہا کہ لوگوں کے دل میں ایک امید پیدا ہوئی اب سازشیں دم توڑ دیں گی۔ چیف جسٹس کی حلقہ بندیوں کے کالعدم ہونے کے حوالے سے بھی ایک حکم جاری کرنا چاہئے کہ متعلقہ ہائیکورٹ تین چار روز کی ڈیڈ لائن دے دیں۔ عدلیہ کا بروقت الیکشن تاثر دینا خوش آئند بات ہے ماضی میں پانی کی تقسیم کے معاہدے پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ میرے خیال میں کالاباغ ڈیم کے معاملے پر بھی بات ہونی چاہئے۔ شاید ریحام خان بھی اپنی کتاب میں اخبار والوں کی طرح ہر الزام پر مبینہ لکھیں۔ کالم نگار توصیف احمد خان نے کہاکہ فیصلہ کرتے وقت ملکی مفاد دیکھنا چاہئے۔ الیکشن کا بروقت انعقاد سب کے مفاد میں ہے۔ بلوچستان حکومت کا قدم تحریک انصاف کی مرضی کے بغیر نہیں ہوسکتا کے پی حکومت اپنی قیادت کے مشورے کے بغیر خط نہیں لکھ سکتی۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کا اپنا ووٹ اس طرح سے پنجاب میں نہیں انہوں نے کہا کہ پانی بھی پاکستان کا سنگین مسئلہ ہے۔ ضیاءالحق نے بھی کالاباغ ڈیم پر قرضہ لینے کی کوشش کی تھی لیکن بھارت کے دباﺅ کے باعث قرضہ منظور نہ ہوا۔ انہوں نے کہا ریحام کی کتاب ابھی آئی نہیں لیکن شور بہت ہے۔ کالم نگار ضمیر آفاقی نے کہا ہے کہ اس سے قبل پورے ملک میں ابہام تھا پتہ نہیں الیکشن وقت پر ہوں گے یا نہیں غیر یقینی صورتحال تھی میرے خیال میں الیکشن وقت پر ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اب تمام بڑے ادارے الیکشن وقت پر چاہتے ہیں اورکام بھی کررہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ ہر شخص کے کچھ ذاتی ووٹ بھی ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہم بہت سا پانی ضائع کردیتے ہیں۔
رمضان اللہ سے دعائیں مانگنے کا مہینہ ہے: علامہ ضیاءاللہ بخاری، اگر یہ قبول نہ ہوتو گمان کرنا چاہئے کہ ایسا ہی بہتر تھا : علامہ طاہر محمود بخاری ، معروف علماءکی چینل ۵ کی خصوصی ٹرانسمیشن ”مرحبا رمضان “ میں گفتگو , قوال شیر میانداد نے نعت رسول مقبول سے سماں باندھ دیا
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)چینل فائیو کے پروگرام مرحبا رمضان میں دعا، اس کی فضیلت اور اہمیت پر گفتگو کی گئی۔ علامہ ضیاءاللہ بخاری نے بتایا کہ ارض و سماءکا ستون دعا ہے۔جو اللہ سے ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہے اللہ اس پر بہت خوش ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں کہ اے میرے بندو میں تمہارے بہت قریب ہوں۔ ماہ رمضان تو اللہ سے دعائیں مانگے کا مہینہ ہے۔نبی کریم نے فرمایا کہ دعا میں اللہ نے اتنی تاثیردی ہے کہ تقدیر، قضاءکو اگر کوئی عمل روک یا ٹال سکتا ہے تو وہ دعا ہے۔نبی کریم نے فرمایا مومن کا سب سے بڑا اسلحہ دعا ہے۔حضرت علیؓ بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم نے ہمیں پیغام دیا کہ ارض و سماءکا نور دعا ہے۔دین کی عمارت دعا کے عمل کی بنیادپر کھڑی ہے۔نبی کریم نے فرمایا کہ دعا نازل شدہ تقدیر کو بھی بدل دیتی ہے۔بیمار انسان دعا سے صحت مند ہو جاتا ہے۔دعا کے عمل سے اللہ بہت سی مصیبتیں اور مشکلات ٹال دیتا ہے۔جو دعا ہم اللہ سے کرتے ہیں اگران میں سے کوئی قبول نہیں ہوتی تو اس کا اجر روز قیامت ملے گا۔اللہ پاک قرآن کریم میں فرماتے ہیں اللہ کی مدد طلب کرو نماز اور صبر کے ساتھ۔ہمیں دعا پورے اخلاص کے ساتھ مانگنی چاہئے دعا کے وقت دل غیر حاضر نہیں ہو نا چاہئے اللہ غافل دل کی دعا قبول نہیں کرتا۔درود شریف پڑھ کر دعا کریں اس کے بغیر دعا قبول نہیں ہوتی دعا سے پہلے درود شریف لازم ہے۔علامہ طاہر محمود بخاری نے بتایا کہ دعا کا لفظی معنی عبادت، سوال کر نا ،مانگنا بھی ہے۔دعا کے ذریعے ہم اللہ کے آگے اپنی محتاجی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اگردعا قبول نہ ہو تو گلہ یا شکوہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ یہ گمان کرنا چاہئے کہ اس دعا کے قبول نہ ہونے میں ہی بہتری تھی۔حضرت علی ؓکا قول ہے کوشش کئے بغیر دعا حماقت ہے اور کوشش کے بعد دعا نہ کرنا تکبر ہے۔عبادت کے وقت یہ کیفیت ہونی چاہئے کہ ہم اللہ کو دیکھ رہے ہیں یا اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے،کوشش کرنی چاہئے دعا خصوع خشوح کے ساتھ مانگیں۔اللہ ہر کسی کی ہر جگہ سنتا ہے اورہماری شہ رگ سے زیادہ قریب ہے اللہ کے سوا کوئی غنی نہیں وہ تمام کائناتوں کا رب یعنی پالنے والا ہے۔ مشہور قوال شیر میانداد نے کہا کہ ہم سب خوش نصیب ہیں کہ ماہ رمضان نصیب ہوا ہمیں چاہئے اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں خوب عبادتیں کریں اللہ کو یاد کریں اور اپنے ساتھ سب کے لئے دعا کریں۔اس موقع پر انہوں نے کلام نصیبا کھول دے میرا ،مدد کر میری اللہ، نصیبا کھول دے میرا میں بندہ عاجز تیرا سنایا۔انہوں نے بتایا اللہ نے مجھے اتنا مقام اور عزت دعاﺅں کے صدقے میں دی۔بچپن سے روزے رکھنے کا شوق تھا پہلا روزہ سکول دور میں رکھا تھا۔شیر میانداد نے نعت رسول مقبول تو کجا من کجا پڑھ کر سنائی۔ان کی خوبصورت آواز نے سماں باندھ دیا۔
محمد عباس کاﺅنٹی سیزن میں لیسسٹرشائرکی نمائندگی کےلئے تیار
لیڈز(آئی این پی)لارڈز ٹیسٹ کے ہیرومحمد عباس کی شاندار کارکردگی کو دیکھتے ہوئے لیسسٹر شائر کاﺅنٹی نے ان سے اگلے سیزن کے لئے بھی معاہدہ کر لیا ہے۔محمد عباس لیسٹر شائر کانٹی کی نمائندگی کے لیے انگلینڈ میں رکیں گے۔ اوراس سال وہ پہلی بار کانٹی چیمپئن شپ کھیلیں گے۔محمد عباس نے لارڈز ٹیسٹ میں64رنز دے کر8وکٹ حاصل کئے تھے۔عباس نے 8 ٹیسٹ میچوں میں42وکٹ لے کر سب کو حیران کردیا ہے۔محمد عباس نے ایک انٹر ویو میں کہا کہ مجھے یہ مقام مشکل سے ملاہے۔میں چمڑے کی فیکٹری میں ملازمت کرتا رہا اورایک ویلڈنگ کی دکان پر بھی کام کیا۔سیالکوٹ کے ایک وکیل کے پاس بھی چھوٹی سی ملازمت کی لیکن کرکٹ کھیلنے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔مجھے میری مسلسل محنت کا صلہ ملا لیکن میں ایک پراسس سے گذر کر پاکستانی ٹیم میں آیا ہوں اس مقام کو حاصل کرنے کے لئے انتھک محنت کی ہے۔
اسرائیل سے میچ ، فلسطینی بچے میسی سے ناراض ہو گئے
یروشلم (آئی این پی) اسرائیل کے ساتھ دوستانہ میچ کی خبروں پر فلسطینی بچے سٹار فٹبالر میسی سے ناراض ہو گئے ہیں، 70ننھے شائقین نے میسی کو خط لکھا ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ میچ کھیل کر دل نہ توڑیں۔ارجنٹائنی سٹار میسی بڑوں میں ہی نہیں بچوں میں بھی مقبول ہیں۔ فٹبال ورلڈ کپ سے قبل ارجنٹائن اور اسرائیل کے درمیان دوستانہ میچ نے فلسطینی بچوں کو اداس کر دیا۔۔ اسرائیلی مظالم سے تنگ 70 فلسطینی بچوں نے میسی کے نام خط لکھا ہے۔معصوم مداحوں نے سٹار فٹبالر سے استدعا کی ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ میچ کھیل کر ان کا دل نہ توڑیں۔ دونوں ٹیموں کے درمیان دوستانہ میچ یروشلم کے جنوب میں اس مقام پر کھیلا جائے گا جو 70 برس پہلے عرب اسرائیل جنگ میں تباہ ہو گیا تھا۔ ث
ایشین گیمزمیں گولڈمیڈل جیتناآسان نہیں،انعام
اسلام آباد(آئی این پی)کامن ویلتھ گیمز کے گولڈ میڈلسٹ پہلوان انعام بٹ نے کہا ہے کہ ایشین گیمز کو آسان نہ لیا جائے بلکہ ایونٹ کی تیاری کے سلسلہ میں کھلاڑیوں کو بیرون ملک تربیت کیلئے بھیجا جائے ۔ گولڈ میڈلسٹ پہلوان انعام بٹ نے کہا کہ ایشین گیمز کوئی معمولی ایونٹ نہیں ہے اور نہ ہی اس کو آسان لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ جن کھلاڑیوں کے خلاف ہمارے کھلاڑیوں نے میدان میں اترنا ہے وہ کئی کئی ماہ سے بیروں ممالک میں تربیت حاصل کر رہے ہیں لیکن ہمارے ہاں تربیتی کیمپ کو ختم کر دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے 2010 اور 2018 کے کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈلز حاصل کرنے کےساتھ ساتھ 2017 میں عالمی بیچ ریسلنگ چیمپئن شپ میں چیمپئن ہونے کا عزاز بھی حاصل کیا ہیں۔انعام بٹ نے کہا کہ کامن ویلتھ گیمز کی تیاری کے سلسلہ میں مارچ میں تربیت کیلئے ایران بھیجا گیا تھا لیکن کیونکہ ایران کے کھلاڑی بھی ایشین گیمز میں حصہ لے رہے ہیں اس لئے ہمیں ایران کی بجائے یوکرائن،، بلغاریہ یا روس میں تربیت کیلئے بھیجا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایران،، قازقستان، ازبکستان، منگوالیا، چین،، جاپان یہ سب ممالک کے کھلاڑی اولمپک میں بھی حصہ لیتے ہیں اس لئے ایشین گیمز کو آسان نہ لیا جائے بلکہ کھلاڑیوں کو زیادہ سے زیادہ تربیت کی ضرورت ہے۔انہوں نے پاکستان سپورٹس بورڈ سے اپیل کی ہے کہ ایشین گیمز کی تیاری کے سلسلہ میں تربیتی کیمپ کا انعقاد جلد سے جلد کیا جائے کیونکہ ایشین گیمز میں وقت بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایشین گیمز رواں سال اگست میں انڈونیشیا کھیلی جائے گی جس میں پاکستان مختلف کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لے گا۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان نسل اس کھیل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انعام بٹ نے کہا کہ مجھے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عالمی ریسلنگ چیمپئن شپ میں چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ انعام بٹ ایشین گیمز کے ریسلنگ کے ایونٹ کے 86 کلوگرام کے مقابلے میں حصہ لے گا۔
منصور احمد میموریل ہاکی لیگ میں 4میچزکافیصلہ
کراچی (اے پی پی) کراچی ہاکی ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام پہلا اولمپین منصور احمد میموریل فلٹ لائٹ انٹر ڈسٹرکٹ فائیو اے سائیڈ ہاکی لیگ اولمپین حنیف خان اور ڈاکٹر جنید علی شاہ ہاکی اسپورٹس کمپلیکس ، گلشن اقبال میں ہورہا ہے چوتھے روز دو میچوں کا فیصلہ ہوا پہلے میچ میں ڈسٹرکٹ ویسٹ وائٹ نے ڈسٹرکٹ ساﺅتھ کلرز کو (7)کے مقابلے میں 13گول سے شکست دے دی ۔ ڈسٹرکٹ ویسٹ وائٹ کے وجاہت علی نے چار (1,5,9,13) منٹ میں کئے۔اسد نے تین بلال ، ظفر شاہ اور بختیار نے 2,2گول (4,6,8,11,15,19,29) منٹ میں گول کئے۔ ساﺅتھ سینٹر کی طرف سے شہزاد قادر اوراشر قادر نے 2,2 گول (3,6,7,14) منٹ میں کئے۔ اور کاشف احمد، سعداقبال نے 1,1 گول (17,29)منٹ میں کئے۔ اس میچ کے مہمان خصوصی کراچی ہاکی ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر جنید علی شاہ سے کھلاڑیوں کا تعارف کرایا گیا اور ان کے ساتھ کراچی ہاکی ایسوسی ایشن کے سیکریٹری حیدر حسین ، چئیر مین گلفراز احمد خان ، آرگنائز سیکریٹری جاوید اقبال ، ٹورنامنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر ماجد ، محسن علی خان ، میڈیا کو آرڈینیٹر کاشف احمد فاروقی ، امتیاز الحسن ، جاوید اقبال ، اولمپین وسیم فیروز بھی موجود تھے۔ دوسرے میچ میں ڈسٹرکٹ سینٹرل کلر نے بآسانی ڈسٹرکٹ کورنگی وائٹ کو 6کے مقابلے میں 11 گول سے مات دے دی ۔ ڈسٹرکٹ سینٹرل کلر کے جنید جلیس نے 4 گول (2,8,15,29) منٹ میں کئے۔حماد ایاز نے 3 گول (6,16,17) منٹ میں کئے۔ ماجد خان اورشاہ زیب نے 2,2 گول (7,9,18,21) منٹ میں کئے۔ ڈسٹرکٹ کورنگی وائٹ کی طرف سے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے عاطف علی نے 4گول داغے اور اپنی ٹیم کو ہار سے نہیں بچا سکے ۔ راجا مرتضی اور عمار اقبال نے ایک ایک گول (22,27) منٹ میں کئے۔ میچ کے ریفری اصغر حسین ، فیصل اسماعیل اور چوندری تنویر نے سر انجام دئےے۔ میچ سپروائز محمد ندیم ، محمد عارف اور عظمت پاشا نے انجام دئےے۔
فرنچ اوپن نڈال شراپوواکی فائنل 8میں سیٹ کنفرم
پیرس(اے پی پی) عالمی نمبر ایک اور دفاعی چیمپئن رافیل نڈال فتوحات برقرار رکھتے ہوئے سال کے دوسرے گرینڈ سلام ٹینس ٹورنامنٹ فرنچ اوپن مینز سنگلز کوارٹر فائنل میں پہنچ گئے، نڈال نے پری کوارٹر فائنل میں میکسی ملین مارٹرر کو شکست دی۔ جبکہ شہرہ آفاق امریکن سٹار سرینا ولیمز انجری مسائل کے باعث فرنچ اوپن ٹینس ٹورنامنٹ ویمنز سنگلز پری کوارٹر فائنل میچ سے دستبردار ہو گئیں، ماریا شرا پووا، سیمونا ہالپ اور اینجلیق کربر فتوحات برقرار رکھتے ہوئے ویمنز سنگلز کوارٹر فائنل میں پہنچ گئیں۔ فرنچ اوپن کے سلسلے میں پیر کو کھیلے گئے ویمنز سنگلز پری کوارٹر فائنلز میں سٹار رومانوی کھلاڑی اور عالمی نمبر ایک سیمونا ہالپ نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مرٹنز کو 6-2 اور 6-1 سے ہرا کر کوارٹر فائنل کیلئے کوالیفائی کیا، جرمن سٹار اینجلیق کربر کی پری کوارٹر فائنل رکاوٹ عبور کرنے میں کامیاب رہیں، انہوں نے کیرولین گارشیا کو شکست فاش سے دوچار کیا، سرینا ولیمز انجری مسائل کے باعث پری کوارٹر فائنل سے دستبردار ہو گئیں جس کی وجہ سے ماریا شرا پووا کوارٹر فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب رہیں۔ مینز سنگلز پری کوارٹر فائنل میں ہسپانوی سٹار رافیل نڈال نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حریف جرمن کھلاڑی مارٹرر کو 6-3، 6-2 اور 7-6 (7-4) سے زیر کر کے کوارٹر فائنل میں پہنچنے کا اعزاز حاصل کیا۔
ہمیں الیکشن میں نہ گھسیٹا جائے
راولپنڈی (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باﺅنڈری پر زیادہ تر عام شہریوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ¾ پاکستان کی امن کی خواہش کو ریاست، حکومت اور فوج کی سطح پر کمزوری نہ سمجھا جائے ¾پاکستان میں حقانی نیٹ ورک سمیت کوئی منظم دہشت گرد گروپ موجود نہیں ہے ¾پاکستان سے زیادہ کسی کی خواہش نہیں کہ افغانستان میں امن قائم ہو ¾جو ہم نے دہشت گردوں کے خلاف حاصل کیا سپر پاور سمیت کسی ملک نے نہیں حاصل کیا ¾ پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی ہے ¾ صورتحال کو بہتر بنانے کےلئے سفارتی و فوجی امداد کی سطح پر بات چیت ہورہی ہے ¾سلمان بادینی کی ہلاکت کے بعد بلوچستان میں امن کی صورتحال بہتر ہونے کی امید ہے ¾فاٹا انضمام کا افغانستان کے ساتھ نہ پہلے کوئی تعلق تھا اور نہ آئندہ ہوگا ¾منظور راتوں رات محسود سے پشتین کیسے ہوا؟ ہمارے پاس بہت سے ثبوت ہیں کہ کس طریقے سے پی ٹی ایم کو استعمال کیا جا رہا ہے‘ ہمیں کچھ نہیں چاہیے، صرف چاہتے ہیں اپنے ذاتی مفاد میں ملک کے مفاد کو پیچھے نہ چھوڑیں ¾جب تک کراچی کی عوام خود کھڑی نہیں ہوگی یہاں کے امن کو کوئی خراب نہیں کر سکتا ¾اسد درانی نے کتاب لکھنے کیلئے کوئی این او سی نہیں لیا ¾ان کے انکوائری کا نتیجہ جلد سامنے آجائےگا ¾ آپ کے ساتھ شیئر کیا جائیگا ¾وردی پہننے سے فرشتہ نہیں بن جاتے، غلطی کرنے پر سزا بھگتنی پڑتی ہے، غلطی پر پاک فوج نے چاہے جرنل ہو یا سپاہی کسی کو معاف نہیں کیا ¾ ہم سے زیادہ کسی کو خوش نہیں کہ حکومت نے اپنی مدت پوری کی ¾ 2018 الیکشن کا سال ہے، سیاست میں فوج کو نہیں گھسیٹنا چاہیے ¾ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے اس سے فوج کا کوئی تعلق نہیں، فوج کو آئینی حدود میں جو کردار سونپا گیا وہ ادا کرےگی ¾سوشل میڈیا پر جھوٹے نعرے لگانے سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، عوام کی محبت فوج کےلئے پچھلے 10 سال میں زیادہ ہوئی ہے کم نہیں ہوئی ¾ ہماری طرف سے کسی بھی میڈیا ہاو¿س کو کوئی ہدایت جاری نہیں ہوتی ¾میڈیا بہت اچھا کام کر رہا ہے لیکن سوشل میڈیا پر ہمیں نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باﺅنڈری پر زیادہ تر عام شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت نے 13 برس میں 2 ہزار سے زائد بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اور صرف 2018 میں 1 ہزار 77 سیز فائر خلاف ورزیاں ہوچکی ہیں اور 48 پاکستانیوں کو شہید کیا انہوں نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے پہلی گولی آنے پر نقصان نہ ہو تو کوئی جواب نہیں دیں گے ¾بھارت کی جانب سے اگر دوسری گولی آئی تو پھر بھرپور جواب دیں گے۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت اور پاکستان دونوں ایٹمی طاقت ہیں اور ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ڈی جی ایم اوز نے جن باتوں پر اتفاق کیا ہے اس پر عمل کیا جائے اور پاکستان سیز فائر سمجھوتے کی پاسداری کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام، سیکیورٹی فورسز اور میڈیا نے سیز فائر کے معاملے پر انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جسے بھارتی میڈیا نے پاکستان کی جانب سے خلاف ورزی قرار دیا۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہم نے سیکھا ہے کہ سب سے پہلے پاکستان ہے ¾ امن لانا ہے تو فوج اور حکومت پر اعتماد رکھنا ہوگا۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ جب سے افغانستان کے ساتھ جیو فینسنگ شروع کی تو سرحد پار فائرنگ سے 7 سپاہی شہید اور 39 زخمی ہوچکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان کے وفد نے پاکستان کا دورہ کیا اور ان کے ساتھ بہت مثبت بات چیت ہوئی، آرمی چیف سے افغان وفد کی ملاقات بھی مثبت رہی، فاٹا کا خیبرپختون خوا میں انضمام تاریخی کامیابی ہے، اگرچہ 100 فیصد اتفاق رائے نہیں تھا اور کچھ عمائدین انضمام نہیں چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ باڑ کی اور فورس بنانے کی کوشش کو آہستہ نہیں کر رہے، پچھلی دو دہائیوں میں وہ کام کیا جو کسی اور ملک نے اس طرح کے چیلنجز ہوتے ہوئے نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر وہ کام کریں گے جو پاکستان کے مفاد میں ہے اور پاکستان سے زیادہ کسی کی خواہش نہیں کہ افغانستان میں امن قائم ہو۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ جب بھی کسی بیرونی خطرے پر بات کی تو پوری لیڈر شپ نے فیصلہ کیا اور آگے چلے، ہم سے زیادہ کسی کی خواہش نہیں ۔میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ امریکہ کیساتھ تعلقات تھوڑے سے دباو¿ کا شکار ہیںانہوںنے کہاکہ امریکہ کامیاب ہوکر افغانستان سے نکلے اور ایک مستحکم افغانستان چھوڑ کر جائے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب میں تمام دہشت گروپوں کا صفایا کیا، اس وقت پاکستان میں بشمول حقانی نیٹ ورک سمیت کسی بھی منظم دہشت گروپ کا اسٹرکچر موجود نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ افغان مہاجرین کی باعزت واپسی ضروری ہے کیونکہ ان کے جانے کے بعد پاکستان میں جو بھی دہشت گرد ہیں ان سے مقابلے میں آسانی ہو گی۔انہوں نے کہا کہ افغان اور امریکی بھی محسوس کر رہے ہیں کہ ضرب عضب سے جو دہشت گردوں کی تعداد تھی اسے ختم کر دیا۔ایران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ایران کے ساتھ سرحد پر حالات بہتر ہوئے ہیں اور محفوظ سرحد دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان فورسز نے دو دہائیوں میں بہت کچھ سیکھا ہے، ہم نے سیکھا ہے کہ سب سے پہلے پاکستان۔بلوچستان کی صورت حال کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جب ہزارہ کمیونٹی کی ٹارگٹ کلنگ ہو رہی تو آرمی چیف بھی کوئٹہ گئے اور متاثرین سے ملے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہزارہ کمیونٹی کے 100 سے زائد افراد کے قتل میں ملوث سلمان بادینی کو ہلاک کیا گیا، سلمان بادینی کی ہلاکت پر ہزارہ کمیونٹی کا بہت اچھا رد عمل سامنے آیا۔پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں ”خوشحال بلوچستان پروگرام“ شروع کیا ہوا ہے اور وہاں دہشتگردی کے واقعات میں کمی آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سلمان بادینی کا نیٹ ورک توڑنے سے بلوچستان میں امن کی صورتحال بہتر ہونے کی امید ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ایران کے ساتھ سرحد پر حالات بہتری کی طرف جا رہے ہیں، آرمی چیف کے دورہ ایران اور آئی جی ایف سی کے رابطوں کا بہتر نتیجہ نکل رہا ہے۔فاٹا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں فاٹا کا تاریخی انضمام ہوا جو فاٹا کو ضرورت تھی۔انہوں نے کہا کہ قبائلی عمائدین آرمی چیف سے ملے اور قومی قیادت نے مل کر فاٹا کا تاریخی فیصلہ کیا۔انہوںنے کہاکہ سمجھتے ہیں فاٹا کے معاملے پر 100 فیصد اتفاق نہیں تھا اور کچھ انضمام نہیں چاہتے تھے لیکن اب انضمام ہو گیا ہے، فاٹا یوتھ جرگے کو آرمی چیف نے کہا کہ جو انضمام کے حق میں نہیں تھے انہیں ساتھ لے کر چلنا ہے۔فاٹا کے انضمام کا افغانستان کی سرحد کے ساتھ نہ پہلے کوئی تعلق تھا، نہ اب ہے اور نہ آئندہ ہو گا۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ منظور پشتین اور محسن داوڑ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے کچھ باتیں بتائیں تھیں جو نقیب اللہ محسود کے بارے میں تھیں، لاپتہ افراد اور چیک پوسٹ کے معاملات تھے۔انہوں نے کہا کہ منظور اور محسن داوڑ کو باقی لوگوں سے الگ کیا اور انہیں مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔انہوںنے کہاکہ محسن داوڑ نے تو یقین دہانی پر شکریہ بھی ادا کیا جو ریکارڈ پر بھی موجود ہے۔انہوںنے کہاکہ تمام مسائل حل ہونے کے بعد اچانک کیسے پاکستان مخالف احتجاج شروع ہو گئے؟ افغانستان میں 100، 100 سوشل میڈیا پر اچانک کیسے اکاو¿نٹ بن گئے؟ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ منظور محسود سے منظور پشتین کیسے ہوا، سوشل میڈیا پر مہم چل گئی، کس طریقے سے ایک ٹوپی ملک کے باہر سے تیار ہو کر پاکستان آنا شروع ہوگئی، کس طریقے سے اخباروں میں آرٹیکل آنا شروع ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا میڈیا اسے نظر انداز کر رہا ہے جس پر اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ وہ لوگ جو پاکستان کے استحکام سے خوش نہیں وہ آپ کے ساتھ مل جائیں اور آپ کی تعریف شروع کر دیں تو ہمیں دیکھنا چاہیے کہ کیا ہو رہا ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ آرمی چیف کی سخت ہدایات تھیں کہ کسی بھی جگہ پر ان کے اجتماع کو فورس سے ڈیل نہیں کرنا، جب انہوں نے لاہور میں جلسہ کرنا تھا تو خبر آنا شروع ہوئی کہ لوگ پکڑے گئے، آرمی چیف نے انہیں گرفتار نہ کرنے کا کہا۔انہوںنے کہاکہ اب تک ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا لیکن اب ہمارے پاس بہت سے ثبوت ہیں کہ کس طریقے سے انہیں استعمال کیا جا رہا ہے اور یہ استعمال ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وانا میں ان کا محسود قبیلہ ہے اور انہوں نے پچھلے سالہا سال دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی، یہ آپس میں لڑے اور ا±س میں جو ہلاکتیں اور زخمی ہوئے انہیں فوج کے ہیلی کاپٹرز سے ریسکیو کیا گیا۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ فوج کی فائرنگ سے بچی ماری گئی، پاکستان نے پچھلے 20 سال میں قربانیاں دے کر امن حاصل کیا اور جو ہم نے حاصل کیا سپر پاور سمیت کسی ملک نے نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ اب اکٹھا رہنے اور ملک کو آگے لے کر چلنے کا وقت آ گیا ہے، سوشل میڈیا پر جھوٹے نعرے لگانے سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، عوام کی محبت فوج کےلئے پچھلے 10 سال میں زیادہ ہوئی ہے کم نہیں ہوئی۔انہوںنے کہاکہ ہمیں یقین ہے کہ عوام ہمارے ساتھ ہے، اس قسم کے نعروں سے یا کوئی نام دینے سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، ہم ہر چیز کا جواب نہیں دے سکتے، کسی پارٹی یا پی ٹی ایم کا جواب نہیں دے سکتے، ہمیں اپنے کام پر فوکس کرنا ہے اور کرتے رہیں گے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بہت سے الزام لگے، سب گواہ ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ تمام الزماات جھوٹے ثابت ہوئے، صفائی دینے کی ضرورت نہیں، اپنی کارکردگی دنیا میں دکھائی۔انہوںنے کہاکہ دنیا میں سپر پاورز سمیت کوئی فوج اتنی کامیاب نہیں ہوئی جتنی پاک فوج نے دہشت گردی کےخلاف کامیابی حاصل کی۔ترجمان پاک فوج نے میڈیا مالکان کو کسی طرح کی ہدایات دینے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا مالکان سے جب بھی بات ہوئی میں نے کہا پاکستان کو اکٹھے ہونے کی ضرورت ہے، میڈیا نمائندوں کو کبھی ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش نہیں کی۔انہوںنے کہاکہ ہماری طرف سے کسی بھی میڈیا ہاو¿س کوکوئی ہدایت جاری نہیں ہوتی ¾میڈیا بہت اچھا کام کر رہا ہے لیکن سوشل میڈیا پر ہمیں نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پر پاک فوج کیخلاف پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے ¾ہمیں سوشل میڈیا کے استعمال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ چیک پوسٹ پر سپاہی شہید ہوتا ہے ¾کیا چیک پوسٹ اس لیے لگائی گئی کہ سپاہی کا فائدہ ہوتا ہے؟ چیک پوسٹ پر جو سپاہی کھڑا ہے ¾اگر میڈیا پر اس کے خلاف تقریریں ہوں وہ کیسے کھڑا ہو گا؟میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ افواج پاکستان اور فورسز نے اپنی زندگی ملک کے نام لکھی ہوتی ہے، ہمیں کچھ نہیں چاہیے، صرف چاہتے ہیں اپنے ذاتی مفاد میں ملک کے مفاد کو پیچھے نہ چھوڑیں۔انہوںنے کہاکہ اگر فوج کو گالیاں دینے سے آپ کا قد بڑا ہوتا ہے تو دیں لیکن اگر ایسا کرنے سے پاکستان کا قد چھوٹا ہوتا ہے تو یہ نہ کریں۔کراچی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ کراچی میں بہت سے عرصے سے دہشت گردی کا واقعہ نہیں ہوا، کراچی کرائم انڈکس کے حوالے سے چھٹے نمبر پر تھا، رینجرز اور پولیس نے بہت کام کیا اور وہاں امن کو لے کر آئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ جب تک کراچی کی عوام خود کھڑی نہیں ہو گی یہاں کے امن کو کوئی خراب نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ کرائم کو کنٹرول کرنا پولیس کا کام ہے اور پولیس میں کتنے ریفارمز کی ضرورت ہے سب کو پتا ہے، جب تک پولیس اور سول انتظامیہ ٹھیک نہیں ہو گی تو کرائم پر اس طرح سے قابو نہیں پایا جاسکتا جس کی توقع کرتے ہیں۔آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی کی کتاب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ان کی ایک شخصیت کا سب کو علم ہے کہ ان کے خلاف اصغر خان کیس پہلے ہی چل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جیسے ہی کتاب چھپی اس کا مواد دیکھا گیا، اسد درانی نے جتنے واقعات کی بات کی ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد کے ہیں اور ان کی ریٹائرمنٹ کو 25 سال ہو چکے ہیں۔انہوںنے کہاکہ جب اسد درانی کی کتاب کی بات آئی تو ادارے نے خود نوٹس لیا اور انہیں طلب کر کے وضاحت مانگی، مطمئن نہ ہونے پر انکوائری کورٹ تشکیل دی گئی، انکوائری شروع ہوگئی ہے اور نتیجہ جلد آئے گا جسے شیئر کیا جائے گا۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ اسد درانی نے کتاب لکھنے کےلئے کوئی این او سی نہیں لیا تھا، اگر وہ این او سی لیتے تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ کے کتاب لکھنے اور ایک عام افسر کے کتاب لکھنے میں کافی فرق ہے، یونیفارم پہننے سے کوئی فرشتہ نہیں بن جاتا بلکہ غلطی سب کرتے ہیں لیکن پاک فوج نے کسی کو غلطی پر معاف نہیں کیا چاہے وہ سولجر تھا یا افسر۔انہوںنے کہاکہ سروس کے دوران باتوں پر کتاب میں تجربہ لنک کریں تو ٹھیک نہیں۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہم سے زیادہ کسی کو خوش نہیں کہ حکومت نے اپنی مدت پوری کی ¾ 2018 الیکشن کا سال ہے، سیاست میں فوج کو نہیں گھسیٹنا چاہیے۔انہوںنے کہاکہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے اس سے فوج کا کوئی تعلق نہیں، فوج کو آئینی حدود میں جو کردار سونپا گیا وہ اسے ادا کرے گی۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاک فوج چاہتی ہے کہ امریکا افغانستان سے فاتح اور کامیاب ہوکر نکلے، اس سلسلے میں پاکستان امریکا کی ہر ممکن مدد کرےگا، ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ افغانستان میں امن کی خواہش پاکستان سے زیادہ کسی کی نہیں، افغان مہاجرین کی باعزت واپسی چاہتے ہیں، افغانستان سے اپنی چوکیوں پر حملوں کو برداشت نہیں کریں گے۔میجر جنرل آصف غفور نے پاک امریکا تعلقات میں کشیدگی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے سفارتی و فوجی امداد کی سطح پر بات چیت ہورہی ہے۔
ورلڈکپ وارم اپ میں سپین،سوئٹزرلینڈکامیچ برابر
لیورپول(آئی این پی) فیفا ورلڈ کپ سے قبل دوستانہ میچزکا سلسلہ جاری ہے، 5مرتبہ کی عالمی چیمپئن برازیل نے کروشیا کو 0-2سے شکست دےدی جبکہ اسپین اورسوئٹزرلینڈ کے درمیان مقابلہ 1-1 گول سے برابررہا۔ورلڈ کپ کی تیاری کیلئے ویاریال میں کھیلے گئے وارم اپ میچ میں اسپین اورسوئٹزرلینڈ کا مقابلہ ایک ایک گول سے برابررہا۔ اسپین نے 29ویں منٹ میں الوارواڈریوزولا کے گول کی بدولت برتری حاصل کی تاہم دوسرے ہاف میں سوئٹزر لینڈ نے گیند کوجال میں پہنچا کرمقابلہ برابر کردیا ۔سوئس ٹیم کی جانب سے یہ گول ریکارڈوروڈریگازنے سکورکیا لیورپول کے این فیلڈ اسٹیڈیم پرکھیلے گئے میچ میں کروشیا کوپہلے ہاف میں برازیل کیخلاف گول کرنے کے مواقع ملے تاہم اس سے فائدہ نہ اٹھایا جاسکتا، نیمارنے69ویں منٹ میں گول کرکے برازیل کوسبقت دلادی،انجری ٹائم میں فرمینو نے دوسرا گول کرکے برازیل کی فتح یقینی بنادی۔
2 یا 3 ماہ کیلئے الیکشن ملتوی کرنیوالی بات ذہن سے نکال دیں
اسلام آباد ( خبرنگارخصوصی ) سپریم کورٹ میں انتخابی اصلاحات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک دفعہ پھر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سب یہ بات ذہن نشین کرلیںکہ عام انتخابات وقت پر ہونگے، جس میں ایک دن کی بھی تاخیر نہیں ہوگی ،دو یا تین ماہ کیلئے انتخابات ملتوی کرنے والی بات ذہن سے نکال دی جائے ،سب سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے جو ضابطہ اخلاق تیا رکیاگیا اس کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا،سپریم کورٹ انتخابی اصلاحات پر 2012 ءمیں فیصلہ دے چکی ہے،جس میں الیکشن کمیشن کے اختیارات کا بھی تعین کر دیا گیا ہے، اب کیا کیا جا سکتا ہے ،نئے کاغذات نامزدگی کی وجہ سے بہت سے امیدوار معلومات اکٹھی ہی نہیں کر سکے،اب اگر پرانے کاغذات نامزدگی بحال کیے جاتے ہیں تو امیدواروں کو بہانہ مل جائے گا کہ ہمارے پاس معلومات نہیں ہیں ، اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ انتخابات تاخیر کا شکار نہ ہوں۔ پیرکوچیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی توالیکشن کمیشن حکام نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں انتخابات کا ضابطہ اخلاق تیار کر لیا گیاہے، جس کے بعد سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو شفاف اور غیر جانب دارانہ الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا، اور عدالتی فیصلے کی روشنی میں تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد اتفاق رائے سے ضابطہ اخلاق تیار کیا گیا ہے لیکشن کمیشن کے حکام نے کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 ءکی منظوری کے بعد ضابطہ اخلاق پر نظر ثانی کی گئی اورالیکشن 2018 کے لئے نیا ضابطہ اخلاق تیار کیا گیا، سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے پیش ہوکر بتایا کہ یہ کہنا درست نہیں کیونکہ ضابطہ اخلاق 2017ءمیں ہی جاری ہوا تھا ،کاغذات نامزدگی کا معاملہ بدستور عدالت کے سامنے ہے۔ جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ انتخابات 2 یا 3 ماہ کیلئے ملتوی کرنے والی بات ذہن سے نکال دی جائے ،یہ بات باالکل واضح ہے کہ انتخابات وقت پر ہونگے،جس میں ایک دن کی بھی تاخیرنہیں ہوگی ،الیکشن کمیشن کی طر ف سے عدالت کو بتایا گیا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے ملکر ضابطہ اخلاق تیار کیا ہے ،درخواست گزار نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن خود کو با اختیار سمجھتا تو کاغذات نامزدگی کا تنازعہ ہی کھڑا نہ ہوتا لیکن وہ اپنے اختیارات کی بات نہیں کرتا ، سماعت کے دوران ڈاکٹر زبیر نے بطور ووٹر پیش ہوکر کہا کہ ووٹرز کا یہ حق ہے کہ ان کے منتخب نمائندے اثاثوں سمیت تمام چیزیں ظاہر کریں۔چیف جسٹس نے کہا کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم کاغذات نامزدگی کی پچھلی شقیں بحال کر دیں،ہم نے پارلیمنٹ کی بالادستی تسلیم کرتے ہوئے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا ہے، کیونکہ پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ ہے۔چیف جسٹس کے استفسارپرکہ آپ کا تعلق کہیں پی ٹی آئی سے تو نہیں ،اس پر درخواست گزار ڈاکٹر زبیرنے کہاکہ میں عدالت میں بطور ووٹر آیا ہوں، جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ جب پارلیمنٹ قانون بنانے کا حق رکھتی ہے، توووٹر کا حق کیسے متاثر ہوتا ہے یہ قانون سے ثابت کرنا ہوگا۔ بعدازاں عدالت نے کاغذات نامزدگی کی پرانی شقیں بحال کرنے سے متعلق کیس کل بدھ کو سماعت کیلئے مقرر کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ اس کیس کو سننے کیلئے لارجر بنچ تشکیل دیا جاسکتا ہے بعدازاں مزید سماعت ملتوی کردی گئی ۔


















