لیگی حکومت ختم ہوتے ہی سیاسی آشیر باد والے جرائم پیشہ انڈر گراﺅنڈ چلے گئے

لاہور (نادر چوہدری سے) صوبائی دارالحکومت میں لیگی حکومت کا آئینی دور ختم ہونے اور سیاسی رہنماﺅں کی ایما پر تعینات ایس ایچ اوز کے تبدیل ہوتے ہی سیاسی رہنماﺅں کے جرائم کے اڈے بھی واضح ہونے لگے، جوائ، منشیات، فحاشی کے اڈے، قتل، اقدام قتل، چوری، کیتی اور قبضہ سمیت دیگر سنگین نوعیت کے واقعات سیاسی سرپرستی میں ہوتے رہے، غیر قانونی دھندوں میں ملوث متعدد بلدیاتی نمائندوں نے اپنے مکروہ دھندے الیکشن تک بند کردیے جبکہ سیاسی آشیر آباد میں جرائم کو فروغ دینے والے جرائم پیشہ انڈر گراﺅنڈ چلے گئے، سیاسی مقاصد کیلئے سنگین نوعیت کے جرائم کرنے والے بڑے کریمینل اپنی سیاسی جماعت کی الیکشن 2018ءمیں کامیابی تک بیرون ممالک فرار، فون پر ملک میں موجود نیٹ ورک کے ساتھ رابطے میں رہیں گے، جرائم پیشہ افراد اور اڈوں کی سرپرستی کرنے والے سیاسی رہنماﺅں نے نگران سیٹ اپ میں مرضی کے خلاف تعینات ہونے والے ایس ایچ اوز کی جانب سے ممکنہ طور پر کی جانے والی کارروائیوں کا توڑ نکال لیا، اہلکاروں سے حوالدار ڈرائیور تک کو مبینہ طور پر حیثیت سے بڑھ کر رقم دے کر ایماندار ایس ایچ او یا بیٹ افسر کے کسی بھی چھاپے سے قبل اطلاع لینے کا بندوبست کر لیا، فیس بک کے ذریعے بھی شہریوں نے جرائم پیشہ افراد اور پولیس کی کالی بھیڑوں سے نفرت کا اظہار شروع کر دیا۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی حکومت کی آئینی مدت ختم ہونے کے بعد سیاسی ایماءپر تعینات ہونے ہونے والے ایس ایچ اوز کے تبادلوں کے بعد سیاسی رہنماﺅں کے زیر سایہ چلنے والے جرائم کے اڈوں سمیت ان جرائم پیشہ افراد بارے بھی انکشافات منظر عام پر آنے شروع ہوگئے ہیں جن کو یہ ذاتی اور سیاسی مفاد کیلئے استعمال کرتے رہے ہیں۔ 5سالہ جمہوری دور میں پنجاب پولیس کے افسران بالا سے اہلکاروں تک تمام ان سیاسی رہنماﺅں اور ان کے ساتھ براہ راست تعلقات رکھنے والوں کے غلام رہے اور اس عرصہ میں پنجاب پولیس بالخصوص لاہور کی سطح پر بہت سارے عملی اقدامات کرتے ہوئے جرائم کی شرح میں کمی کے دعوئے کیئے گئے لیکن کارکردگی صرف دعوﺅں کی حد تک ہی رہی۔ الیکشن 2018ءسے قبل آنیوالے نگران حکومت میں ممکنہ طور پر پکڑے جانے کے خوف سے متعدد بلدیاتی نمائندوں نے اپنے غیر قانونی دھندے الیکشن تک بند کردیے ہیں جبکہ چند ایک تاحال منشیات، جوئے اور جسم فروشی سمیت دیگر غیر قانونی دھندوں کو تھانوں میں تعینات نچلے عملے کو بطور منجر استعمال کرتے ہوئے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا طریقہ واردات یہ ہے کہ ان جرائم پیشہ بلدیاتی نمائندوں نے متعلقہ تھانہ کے بیٹ کانسٹیبلوں، محرر، نائب محرر اور سرکاری گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو اپنے ہاتھ میں کیا ہوا ہے جو ایس ایچ او سمیت کسی بھی بیٹ افسر کی جانب سے ان جرائم کے اڈوں پر چھاپہ مارنے سے قبل ہی ان کو چھاپہ پڑنے کی اطلاع دے دیتے ہیں جس پر ملزمان ہوشیار ہوجاتے ہیں اور پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی سب کچھ غائب کرکے صاف ستھرے ہو کر بیٹھ جاتے ہیں اور پولیس کو منجر خاص کی پکی اطلاع کے باوجود خالی لوٹنا پڑتا ہے اور بعض دفعہ ان چالاک ملزمان کی جانب سے غلط چھاپہ مارنے کے حوالے سے افسران بالا کو دی جانے والی درخواستوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ جمہوری حکومت کا آئینی دور ختم ہوتے ہی سیاسی آشیر آباد میں منشیات، قتل، اقدام قتل، چوری، ڈکیتی اور قبضہ سمیت دیگر سنگین نوعیت کی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث جرائم پیشہ انڈر گراﺅنڈ چلے گئے ہیں جبکہ بڑے کریمینل اپنی سیاسی جماعت کی الیکشن 2018ءمیں کامیابی تک بیرون ممالک فرار ہورہے ہیں جوکہ فون پر ملک میں موجود نیٹ ورک کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے غیر قانونی سرگرمیوں کا حصہ رہیں گے۔

سرکاری گاڑیاں واپس نہ کرنے والے ہو جائیں ہوشیار ، روزانہ ایک لاکھ جرمانہ کا حکم

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک‘ آئی این پی) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ سیاستدانوں، سرکاری افسران نے اسمگلنگ کی مارکیٹیں بنا رکھی ہیں۔ سپریم کورٹ میں سرکاری افسروں اور وزراءکی لگژری گاڑیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیئرمین ایف بی آر عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سرکاری طور پر ضبط گاڑیاں افسروں نے آپس میں بانٹ لی ہیں، ایف بی آر کے تمام افسروں سے لگژری گاڑیاں واپس لی جائیں، نیب گاڑیوں کی واپسی کے معاملات کی تحقیقات کرے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان میں لوکل گاڑیوں کی انڈسٹری اسمگلنگ کیوجہ سے بیٹھ گئی، حیات آباد سے راولپنڈی تک سب کھلے عام ہورہا ہے، بلیو ایریا سمیت ملک بھر میں گاڑیوں کی اسمگلنگ کا مال فروخت ہوتا ہے، کھلے عام پنڈی میں باڑہ مارکیٹ بنی ہوئی ہے، ایف بی آر نے کیا ایکشن لیا، میں کہیں جا کر چھاپہ ماروں تو اعتراض آ جائے گا، کئی سیاستدانوں، سرکاری افسران نے بھی اسمگلنگ کی مارکیٹیں بنا رکھی ہیں، ملک کو ایسے نہیں چلایا جاسکتا، مشکوک گاڑیوں کے استعمال سے متعلق پالیسی کس نے بنائی۔ چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 2006 میں یہ پالیسی بنائی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ہم ای سی سی کے ارکان کو بلا لیں۔ چیئرمین ایف بی ار نے کہا کہ ای سی سی کو سمری دوبارہ جائزے کے لیے بھجوا دیتے ہیں، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ بلوچستان کے وزراءسے 49 لگژری گاڑیاں ریکور کر لیں، 7 گاڑیاں وزراءسے ریکور کرنی باقی ہیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ رات 12 بجے تک گاڑیاں واپس لیں، گاڑیاں واپس نہ کرنیوالوں کو روزانہ ایک لاکھ روپے جرمانہ کریں، ایک ہفتہ بعد جرمانہ 2 لاکھ ہو جائے گاسپریم کورٹ نے بلٹ پروف گاڑی واپس نہ کرنے پر مولانا فضل الرحمان، عبدالغفور حیدری اور کامران مائیکل کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے کل طلب کر لیا۔ تاہم سماعت ملتوی ہونے سے قبل تینوں شخصیات نے گاڑیاں واپس کردیں جس پر سپریم کورٹ نے طلبی کا نوٹس واپس لے لیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان قوم کا پیسہ کیوں استعمال کر رہے ہیں، وہ اپنی سیکورٹی کا خود بندوبست کیوں نہیں کرتے۔ مولانا فضل الرحمن کے وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان پر کئی حملے ہو چکے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ موت کا دن متعین ہے، حملوں سے فرق نہیں پڑتا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں لگژری گاڑیوں کے استعمال سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ضبط کی گئی گاڑیوں سے متعلق بیان حلفی جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کسی سیاستدان کو سرکاری گاڑیوں پر انتخابی مہم نہیں چلانے دیں گے۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے وزرا اور سرکاری افسران کے لگژری گاڑیوں کے استعمال سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران حکومت نے سپریم کورٹ میں لگژ ری گاڑیوں کے استعمال سے متعلق رپورٹ پیش کی۔ چیف جسٹس نے دوران سماعت استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کو بلٹ پروف گاڑی دی گئی؟۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے آگاہ کیا کہ سابق وزیراعلیٰ کو سیکیورٹی خدشات ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہمیں بتائیں کس جگہ لکھا ہے کہ سیکیورٹی خدشات پر بلٹ پروف گاڑی دی جاتی ہے؟۔ساتھ ہی جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب کی ماڈل ٹاو¿ن رہائش گاہ کے باہر بچوں کے کھیلنے کے پارک کی جگہ مورچے لگا دیئے گئے ہیں۔ چیف سیکریٹری نے جواب دیا کہ پارک کی جگہ اب پارکنگ کے لیے استعمال کی جاتی ہے اور مورچے اور رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے شہباز شریف کے ماڈل ٹاو¿ن رہائشگاہ کے باہر کی ویڈیو بنا کر دکھائیں۔سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے آج رات تک بلوچستان کے 7 سابق وزرا کو اپنی گاڑیاں جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ گاڑیاں جمع نہ کرانے پر ایک لاکھ روپے یومیہ جرمانہ ہو گا اور ایک ہفتے کے بعد جرمانہ 2 لاکھ روپے روزانہ ہو جائے گا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ بلوچستان کی ک±ل 56 گاڑیاں ہیں جن میں سے 49 ریکور ہو چکی ہیں۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وفاق میں 105 گاڑیاں ریکور کی ہیں۔ صرف 3 گاڑیاں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، سابق ڈپٹی اسپیکر سینیٹ عبدالغفور حیدری اور سابق سینیٹر کامران مائیکل کے پاس ہیں۔مولانا فضل الرحمان اورعبدالغفورحیدری سے بلٹ پروف گاڑیاں واپس نہیں لیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کامران مائیکل سے بھی بلٹ پروف گاڑی واپس نہیں لی۔اس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ فضل الرحمان کوبلٹ پروف کےساتھ ڈبل کیبن گاڑی بھی ملی ہے،بلٹ پروف دےدی توڈبل کیبن گاڑیوں کی کیاضرورت ہے؟چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے توجانثارہی بہت ہیں،جانثاروں کی وجہ سے کوئی فضل الرحمان تک پہنچ ہی نہیں سکتا،لگژری گاڑیوں کے اخراجات قوم برداشت کرتی ہے،مولانا فضل الرحمان قوم کا پیسہ کیوں استعمال کر رہے ہیں،ان کے پاس تومدارس اور دولت بہت ہے وہ اپنی سکیورٹی کا خود انتظام نہیں کرتے۔چیف جسٹس کی جانب سے تینوں سیاستدانوں کو نوٹس جاری کیے گئے جو بعدازاں اس یقین دہانی پر واپس لے لیے گئے کہ یہ سیاستدان گاڑیاں واپس کر رہے ہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے پاس کتنی سرکاری گاڑیاں ہیں؟۔ جس پر ایڈووکیٹ فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ بلاول بھٹوزرداری اور آصف زرداری کے پاس اپنی ذاتی گاڑیاں ہیں۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے پوچھا کہ آپ ایک سال سے چیئرمین ایف بی آر ہیں اسمگلنگ روکنے کے لیے کیا کیا؟۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے اسمگلرز کو اجازت دے کر انڈسٹری کو تباہ کردیا ہے۔چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ بلیو ایریا میں اسمگل شدہ اشیا کھلے عام ملتی ہیں۔ کل میں چھاپے ماروں گا تو آپ کہیں گے کہ چیف جسٹس باڑہ مارکیٹ چلے گئے۔سماعت کے بعد جسٹس ثاقب نثار نے ضبط کی گئی گاڑیوں سے متعلق بیان حلفی جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کسی سیاستدان کو سرکاری گاڑیوں پر انتخابی مہم نہیں چلانے دیں گے۔

محبت کی ناکامی نے پاکستانی عاشق کو بارڈر پر پہنچا دیا ،پھر کیا ہوا دیکھئے خبر

قصور (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی سیکیورٹی فورسز (بی ایس ایف) کی جانب سے گرفتار کیے گئے 32 سالہ شخص کے اہل خانہ نے بھارتی میڈیا کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ محمد آصف محبت میں ناکامی پر بھارتی سرحد پر گیا تاکہ اسے گولی ماردی جائے۔ خیال رہے کہ محمد آصف کو 28 مئی کو بھارتی سیکیورٹی فورسز نے سرحدی گاں جالوکی میں بھارت کی مابوک گاں پوسٹ کے قریب سے گرفتار کیا تھا۔ یاد رہے کہ جالوکی قصور سے 50 کلومیٹر دور سرحد پر واقع ہے جبکہ محمد آصف کا گھر سرحدی باڑ سے بمشکل 5 منٹ کی دوری پر واقع ہے۔ اس معاملے پر آصف کے والد اور سابق فوجی اہلکار خلیل احمد کا کہنا تھا کہ 2 سال قبل ان کے بیٹے میں ذہنی بیماری کی علامت دیکھی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ محمد آصف نے کچھ سالوں پہلے انٹر کے امتحانات میں کامیابی حاصل کی تھی اور اس کے بعد سے وہ گاں میں ایک نجی اسکول چلا رہا تھا، تاہم 6 ماہ قبل جب ان کے بیٹے کی حالت زیادہ خراب ہوئی تو اسے لاہور جنرل ہسپتال لے جایا گیا تھا، جس کے بعد سے اس کا علاج جاری تھا۔

نشتر کا لونی میں نا معلوم افراد چھا گئے ،گھر گھس کر فائرنگ سے میاں بیوی قتل

لاہور (خصوصی ر پو رٹر ) ڈ کےتی مزاحمت ےا د ےر ےنہ د شمنی ، نشتر کالونی کے علاقہ میں نامعلوم افراد نے گھر میں گھس کر فائرنگ کرکے میاں بیوی کو قتل کردیا۔ پو لیس کا کہنا ہے کہ قتل ہونے والے میاں بیوی سابق وفاقی وزیرریلوے خواجہ سعدرفیق کی اہلیہ غزالہ سعد کے رشتہ ار ہیں ۔ پو لیس نے لا شےں مردہ خا نہ میں منتقل کر کے گھر کے مالی اور چوکیدار کو حرا ست میں لے کر تحقیقات کا آغاز کردیاہے ۔بتا ےا گےا ہے نشتر کالونی کے علاقہ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے میاں بیوی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پولیس نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ کر تحقیقات کا آغاز کردیا۔ پولیس کے مطابق نامعلوم افراد نے گھر میں گھس کر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں میاں بیوی جاں بحق ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت40سالہ سلیمان اور30سالہ نووین کے نام سے ہوئی۔ فائرنگ کے بعد ملزم موقع سے فرار ہوگیا۔ پولیس نے مقتولین کی لاشوں کو پوسٹمارٹم کے لئے مردہ خانے منتقل کردیا۔پو لیس کا کہنا ہے کہ قتل ہونے والے میاں بیوی سابق وفاقی وزیرریلوے خواجہ سعدرفیق کی اہلیہ غزالہ سعد کے ر شتہ دارہیں اور چند ما ہ قبل دو نو ں نے شاد ی کی تھی ۔ ابتدا ئی تفتےش کے مطا بق قتل کے شبہ میں مالی اور چوکیدار کو حراست میں لےاگےا ہے ،جبکہ گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی قبضے میں لے لی گئی ہے۔ ڈ کےتی مزاحمت سمےت د ےر ےنہ د شمنی کے پہلوﺅں پر بھی تفتےش جا ر ی ہے ۔

شہباز شریف کا ریحام سے ملاقات کااعتراف

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان کی کتاب کے چرچے سوشل میڈیاسمیت ہر طرف ہیں اور اس لفظی جنگ کا آغاز اس وقت ہوا جب حمزہ علی عباسی نے ریحام خان کی کتاب پڑھنے کا دعویٰ کرتے ہوئے ٹویٹ کیا تاہم اب اس حوالے سے شہبازشریف بھی میدان میں آ گئے ہیں اور کہاہے کہ وہ اپنی زندگی میں صرف ایک بار ہی ریحام خان سے ملے ہیں۔پریس کانفرنس کے دورا ن صحافی نے ریحام خان سے متعلق سوال کیا تو شہبازشریف نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میری ریحام خان سے صرف ایک ہی ملاقات ہوئی ہے اور وہ بھی شادی سے پہلے ، اس وقت دھرنہ تھا اور تب ریحام خان پاکستان ٹیلی ویڑن میں تھیں اور انہوں نے میرا انٹرو یو لیا تھا۔ شہبازشریف کا کہناتھا کہ یہ میری ان سے پہلی اور آخری ملاقات تھی۔

لا کھوں فر زند دان اسلام اعتکاف بیٹھ گئے

کراچی، اسلام، لاہور، پشاور (نمائندگان خبریں) ملک بھر کے مساجد لاکھوں فرزندان اسلام اعتکاف بیٹھ گئے، معتکفین کیلئے مساجد میں خصوصی انتظامات کے ئے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی، اسلام، لاہور پشاور سمیت ملک بھر میں لاکھوں فرزند ان توحید اعتکاف بیٹھ گئے ۔ ماہ صیام کا دوسرا عشرہ ختم ہوتے ہی مسلمان اعتکاف کے لئے مساجد میں قیام کرتے ہیں۔ معتکفین کے لئے ملک بھر کی مساجد میں خصوصی انتظامات کئے گئے۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے کو جہنم سے نجات کا عشرہ قرار دیا گیا ۔ اس عشرے میں فرزندان اسلام خالق کائنات سے لو لگانے اور جہنم کی آگ سے نجات کے لئے اعتکاف کی غرض سے مساجد میں قیام کرتے ہیں۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں لیلتہ القدر کو تلاش کرنے کے لئے معتکفین اللہ کی حمدوثنا میں مصروف رہتے ہیں۔سنت نبوی کو ادا کرنے کے لئے ملک بھر کی مساجد میں اعتکاف کے تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے ۔ مساجد میں گوشہ نشین ہونے والوں نے کہا کہ وہ دوران اعتکاف یکسو ہوکر وظائف اور نوافل کے ذریعے اپنی حاجات و مناجات بارگاہ الہی میں پیش کریں گے اور ملکی ترقی اور سلامتی کے لئے خصوصی دعائیں بھی کریں گے۔ شہر اعتکاف کے باسیوں کے باعث کے باعث مساجد کی رونق میں مزید اضافہ ہو گیا۔

آندھی ، بارش سے تباہی ، متعدد ہلاک ، بجلی کا نظام درہم برہم

لاہور‘ کوٹ رادھاکشن‘ اسلام آباد‘ راولپنڈی (کرائم رپورٹر‘ نمائندگان) صوبائی دارالحکومت میں تیز ترین گرد آلود طوفان نے تباہی مچادی، چھتیں، دیواریں اور درخت گرنے اور ٹریفک حادثات کے نتیجہ میں 3افراد جاں بحق جبکہ 15 شدید زخمی ہوگئے، رسکیو 1122کی امدادی ٹیمیں زخمیوں کو طبی امداد جبکہ ایدھی فاﺅنڈیشن کی ایمبولینسیں لاشیں مردہ خانے منتقل کرتی رہیں، سڑکوں پر درخت گرنے سے متعدد علاقوں میں ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر رہا، گرد آلود طوفان کے بعد باران رحمت برسا جس میں پھسلنے کے باعث متعدد موٹر سائیکل سوار بھی معمولی زخمی ہوگئے ، شدید طوفان اور بارش میں افطاری سے قبل ہی متعدد فیڈر بھی ٹرپ کر گئے اور رات گئے تک متعد علاقے تاریکی میں ڈوبے رہے۔ بتایا گیا ہے کہ گزشتہ روز لاہور اور گردونواح میں دن بھر شدید گرمی کے بعد شام کے وقت طوفانی آندھی اور بارش سے جہاں شدید گرمی کا زور ٹوٹ گیاوہیں شہر کے مختلف علاقوں میں اس گرد آلود طوفان نے تباہی مچاتے ہوئے متعددچھتیں ، دیواریں اور درخت گرا دیے ۔ گزشتہ روز شام کے وقت تیز آندھی اور بارش کے باعث رائیونڈ روڈ کھارا چوک میں دیوار گرنے سے 8سالہ بچہ ہلاک ہوگیا۔کینٹ کے علاقہ پھلروان پنڈ میں گھر کی عمارت گرنے سے ایک شخص ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے۔شاہدرہ کے علاقہ میں زیر تعمیر عمارت گرنے سے 58سالہ شہری اللہ دتہ ہلاک جبکہ تین افراد20سالہ عبدالستار، 22سالہ شیر علی اور 25سالہ حافظ محمد شدید زخمی ہوگئے۔گجر پورہ کے علاقہ میں گھر کی چھت گرگئی جس کے ملبے تلے دب کر دو بھائی 22سالہ علی اور 23سالہ عبداللہ شدید زخمی ہوگئے جن کو ایدھی ایمبولینس کے زریعے میو اسپتال منتقل کر دیا گیا۔النور ٹاون میں دیوار گرنے سے ایک شخص اور دو بچے زخمی ہوگئے،شاہدرہ کے علاقہ میں زیر تعمیر عمارت گرنے سے دو افراد زخمی ہوگئے،ڈیفنس میں گھر کی دیوار گرنے سے ایک شہری زخمی ہوگیا۔شالیمار کے علاقہ مدینہ کالونی میں گھر کی دیوار گرنے سے ایک شخص زخمی ہوگیا۔کینٹ کے علاقہ میں ائیر پورٹ کے قریب جبکہ گنگا رام ہسپتال کے قریب بجلی کے پول گرگئے۔منی مارکیٹ،گلبرگ،ملتان روڈ سمیت دیگر شاہراہوں پر درخت گرنے سے ٹریفک کا نظام دباو کا شکار رہا۔اس طوفان کے نتیجہ میں ہونے والی تباہی کے متاثرہ افراد کو فوری طبی امداد فراہم کر نے کیلئے ریسکیو 1122جبکہ ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو مردہ خانوں میں منتقل کرنے کیلئے ایدھی فاﺅنڈیشن کی ایمبولینسز سڑکوں پر رواں دواں دکھائی دیں ۔گرد آلود طوفان کے بعد ہونے والی بارش سے بھی متعدد موٹر سائیکل سوار پھسلنے سے معمولی زخمی ہوئے جن میں سے متعدد کو موقع پر ہی فوری طبی امداد دیکر فارغ کردیا گیا ۔شہر میں درخت گرنے سے متعدد گاڑیاں تباہ ہوگئیں جبکہ کئی واقعات میں نیچے سے گزرنے والے شہریوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں ۔افطاری سے قبل چلنے والی اس تیز آندھی اور بارش کے باعث شہر کے مختف علاقوں میں بجلی کے فیڈر ٹرپ کر گئے جس کے باعث شہریوں نے اندھیرے میں ہی افطاری کی جبکہ کئی گھنٹوں تک بجلی بحال نہ ہونے کے باعث ان علاقوں میں نماز عشاءاور تراویح بھی اندھیرے میں ہی ادا کی گئیں ۔تیز آندھی اور بجلی نہ ہونے کے باعث ریسیکیو اور ایدھی ٹیموں کو بھی امدادی کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تیز آندھی کے باعث شاہراو¿ں پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔ مختلف علاقوں میں فیڈرٹرمپ کرنے سے گھنٹوں بجلی کی سپلائی معطل رہی۔ ترجمان لیسکو کے مطابق لاہور سمیت لیسکو ریجن میں طوفانی آندھی کے باعث بجلی کی سپلائی میں تعطل کا سامنا رہا‘ لیسکو فیلڈ سٹاف کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے مگر شدید آندھی کے باعث بجلی بحالی کے کاموں میں مشکلات پیش آئیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ضلع سوات کے مختلف علاقوں مینگورہ‘ خوازہ‘ خیلہ‘ اور بری کوٹ میں ہلکے بادل چھانے کے بعد بارش نے گرمی کا زور توڑ دیا۔ تیز ہوائیں چلنے کے ساتھ مینگور سمیت ضلع بھر میں بادل چھا گئے۔ جب کہ مٹہ اور خوازہ خیلہ میں بارش کے ساتھ ژالہ باری نے موسم خوشگوار اور ٹھنڈا کر دیا۔ مانسہرہ اور اس کے گرد و نواح میں بھی شدید ترین گرمی کے بعد موسلا دھار اور مسلسل بارش سے روزہ داروں اور گرمی کے ستائے عوام کے چہرے کھل اٹھے جب کہ بعض مقامات پر ژالہ باری سے موسم ٹھنڈا ہوگیا۔ سیرو تفریح کے لیے مشہور ضلع مری کو صبح سے کالی گھٹاو¿ں نے ملکہ کو ہسار کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا اور دوپہر ہوتے ہی ملکہ کو ہسار میں تیز ہواو¿ں کے ساتھ بارش ژالہ باری شروع ہوگئی جس سے موسم خوشگوار ہوگیا۔ بالاکوٹ ایبٹ آباد اور راولا کوٹ میں بھی شدید آندھی اور بارش کے ساتھ ژالہ باری نے موسم خوشگوار بنا دیا اور گرمی کی شدت کم ہونے سے روزہ داروں کے چہروں کھل کھلا اٹھے۔ بصےرپور کا رہائشی محمد احمد اپنی بےوی و بےٹی کے ہمراہ موٹرسائےکل پر سوار ہو کر رائےونڈ سے کوٹ رادھاکشن کی طرف آرہے تھے کہ تےز رفتار آندھی کی وجہ سے نامعلوم ٹرےکٹر ٹرالے سے ٹکر ا گےے جس کی وجہ محمد احمدکی بےوی و چھ ماہ کی بچی موقع پر جان بحق ہوگے جبکہ محمداحمد شدےد زخمی ہوگےا جس کو نازک حالت کے پےش نظر لاہور رےفر کردےاگےا ہے۔

یوم شہادت حضرت علی ؑ پر فول پروف سکیورٹی ،آج مجالس ،ماتمی جلوس

لاہور(کرائم رپورٹر) یوم شہادت حضرت علی ؑکے موقع پر سکیو رٹی کے سخت ترین انتظامات ، مرکزی جلوس کے روٹ پر 12 ایس پیز، 27 ڈی ایس پیز، 82 ایس یچ اوز اور 6 ہزار سے زائد اہلکار تعینات،پورے روٹ پر کسی بھی غیر متعلقہ موٹر سائیکل،گاڑی یا فرد کے داخلے کی سختی سے پابندی عائد، ٹاپ روف سکیورٹی فراہم کر نے کیلئے زائرین کی جسمانی تلاشی کے قریب ترین اہم عمارت پر سپیشل کمانڈوزاور سنائپرز تعینات ،جلوس کے آغاز سے اختتام تک ڈولفن سکواڈ اور پولیس ریسپانس یونٹ کو روٹ کے چاروں اطراف موئثر گشت کرنے کا حکم ۔ سیف سٹی اتھارٹی کے کیمروں سمیت مزید کیمرے نصب کر کے پورے روٹ کو مانیٹرکیا جائے گا ،روزے کی حالت میں ڈیوٹیاں دینے والے اہلکاروں سے باری باری ڈیوٹیاں لینے کا حکم۔بتایا گیا ہے کہ یوم شہادت حضرت علی ؑدنیا اور ملک بھر سمیت لاہور میں بھی عقیدواحترام سے منایا جارہا ہے جبکہ اس موقع پر شہر بھر میں مجالس اور ماتمی جلوسوں کا اہتام کیا گیا ہے ۔یوم شہادت حضرت علی ؑ کے موقع پر شبیہ ضریہ کو رات کو ہی عزداروں کیلئے مبارک حویلی میں رکھادیا جاتا ہے جہاں رات بھر عزداروں کی بڑی تعداد شبیہ ضریہ کیلئے آتے رہتے ہیں جبکہ لاہور سے باہر کے اضلاع سے بھی عزداروں کی بڑی تعداد یوم علی ؑ کے موقع پر اندرون موچی دروازہ پہنچ جاتی ہے جو جلوس کے اختیام تک جوجلوس کے ساتھ ہی رہتی ہے۔ اس موقع پر عزداروں کی سحری وافطاری کا انتظام بھی کیا جاتا ہے ۔بعد ازاں یوم شہادت حضرت علی ؑ کا شبیہ ضریہ مبارک مرکزی جلوس اندرون موچی دروازہ مبارک حویلی سے صبح نو بجے برآمد ہو گا جو اپنے مقر ر کردہ راستوں چوٹا مفتی باقر ،چوک نواب صاحب ، محلہ شیعاں ،گجر گلی اندرون دہلی دروازہ پانی والے تلاب ، رنگ محل پہنچے گا جہاں جلوس کے شرکاءنماز ظہر چوک رنگ محل میں ادا کر یںگے ،اس کے بعد یہ مرکزی جلوس اپنے روائتی راستوں ٹبی سٹی اندرون تحصل بازار،بازار حکیماں سے ہو تے ہو ئے اندرون بھاٹی گیٹ اوربرون بھاٹی گیٹ پہنچ کر افطار کے وقت کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختیام پذیر ہو گا۔اس مرکزی جلوس کے علاوہ یوم شہادت حضرت علی ؑ کے موقع پر شہر کے مختلف علاقوںمیںواقع امام بارگاہوں میں بھی مجالس اور ماتمی جلوس برآمد ہوتے ہیں جن میںامام بارگاہ زیدی ہاوس شاہ جمال،امام بارگاہ بیت الحزان سمن آباد ، امام بارگاہ پانڈو سٹریٹ کرشن نگر،علی رضا آباد ٹھوکر نیاز بیگ، مغل پورہ، ساندہ ، اقبال ٹاﺅن ، وحدت روڈ غازی آباد ، ایبٹ روڈ نشاط کالونی کینٹ اورحالی مسجدوامام بارگاہ گلبرگ سمیت دیگر شامل ہیں ۔ اس موقع پر علماوذکراین نے حضرت علی ؑ کی اسلام کیلئے قربانی خدمات اور ان کی سیرت پر روشنی ڈالیں گے ۔یوم شہادت حضرت علی ؑ کے موقع پر لاہور پولیس کی جانب سے مرکزی جلوس سمیت شہر بھر کی امام بارگاہوں ان میں منعقد ہونے والے جلوس اور محافلوں کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کیلئے گزشتہ روز پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں اعلی پولیس افسران کا انتہائی اہم اجلاس منعقد کیا گیاجس میں ایس پی سکیورٹی عمارہ اطہر، ایس پی ہیڈ کوارٹرز عاطف نذیر،تمام ڈویژنل آپریشنز و انویسٹی گیشن ایس پیز،ڈی ایس پیز، ایس ایچ اوز ، انچارج انویسٹی گیشنز واہلکاروں کی بڑی تعدادنے شرکت کی ۔اس موقع پر ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا تھا کہ یومِ علی ؓ کے مرکزی جلوس کے روٹ پر 12 ایس پیز، 27 ڈی ایس پیز، 82 ایس ایچ اوز اور 6 ہزار سے زائد اہلکار ڈیوٹی سرانجام دیں گے اور ڈیوٹی پوائنٹس پر موجود نفری کو متعلقہ آفیسر بریف کرنے کا پابند ہوگاجبکہ سپروائزری آفیسر کے پاس میگا فونز ہونے چاہیئے تاکہ بوقت ضرورت فوری اہم معلومات فارورڈ کی جاسکیںاور تمام افسران و اہلکار ایک ٹیم ورک اور الرٹ ہوکر فرائض سرانجام دیں اورمرکزی جلوس کے پورے روٹ پر کوئی غیر متعلقہ موٹر سائیکل،گاڑی یا فرد نہ آسکیں۔ پوائنٹس پر موجود جوانوں سے باری باری سے ڈیوٹی لی جائے تاکہ گرمی اور روزے کی حالت میں با آسانی ڈیوٹی سرانجام دی جاسکے۔ ہر اہم عمارت پر سپیشل کمانڈوزاور سنائپرز کو تعینات کیا گیا ہے تا کہ جہاں بھی زائرین کی جسمانی تلاشی لی جائے اس کو مکمل ٹاپ روف سکیورٹی کور دیا جائے۔ یومِ علی ؓ کے مرکزی جلوس کے اختتام پذیر ہونے تک ہر آفیسر یا جوان آخری فرد کے منتشر ہونے تک ڈیوٹی پوائنٹس پر موجود رہے گا۔ ڈولفن سکواڈ اور پولیس ریسپانس یونٹ جلوس کے آغاز سے اختتام تک روٹ کے چاروں اطراف موئثر گشت کریں گے۔ سیف سٹی اتھارٹی کے کیمروںسے پورے روٹ کو مانیٹرنگ کور دیں گے۔

کاغذات نامزدگی کیلئے لاہوریئے بھی پر جوش ، قومی اسمبلی کیلئے 200 امیدوار سامنے آ گئے

لاہور(خبر نگار)عام انتخابات کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔الیکشن کمیشن کی سیاسی جماعتوں کو ہدائت کہ سیاسی جماعتیں وابستگی کا سرٹیفیکٹ سمیت خواتین اور غیر مسلم نشستوں کی ترجیحی فہرستوں کو جاری کر نے والے مجاز عہدیدار کا نام اور عہدہ اور تفصیلات فوری فراہم کریں ۔ لاہور سے قومی اسمبلی کیلیے 200 سے زائد امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی حاصل کرلیے ہیں تاہم تاحال کسی امیدوار نے کاغذاتِ نامزدگی جمع نہیں کرائے۔ کاغذاتِ نامزدگی کی وصولی اور جمع کرانے کا سلسلہ 8 جون تک جاری رہے گا۔ آج ڈاکٹر اشرف آصف جلالی نے بھی این اے 128 کے لیے کاغذاتِ نامزدگی حاصل کرلیے ہیں جبکہ چوہدری ظفر اقبال نے بھی حلقہ 128کے کاغذات حاصل کئے ۔سابق لیگی ایم این اے ملک ریاض ،زاہد اقبال ،ملک لطیف ،عشرت علی نے این اے 123کےلئے کاغذات حاصل کئے ۔این اے 123شوکت بٹ ،این اے 128کےلئے رضوان قادر نے سنی تحریک کی جانب سے فارم حاصل کئے ۔مسلم لیگ ن کے وحید عالم نے این اے 133کےلئے کاغذات نامزدگی کے فارم حاصل کر لیئے ہیں اسی طرح مسلم لیگ ن کے شیخ روحیل اصغر نے این اے 128کے لئے کاغزات نامزدگی حاصل کئے ۔قومی اسمبلی میں پنجاب سے خواتین کی مخصوص نشستوں کےلئے تین امیدوار وں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائیے ان میں تہمینہ دولتانہ، سیمامحی الدین اور فریال روباب ہاشمی شامل ہیں ۔پنجاب اسمبلی میں خواتین اور غیر مسلم کی مخصوص نشستوں پر دس امیدواروں نے کاغذات جمع کروائے۔ پنجاب اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں کےلئے روبینہ شاہین ،شہلا شائد بٹ ،نجمہ بیگم اور زرینہ جارج کاغزات جمع کرائے جبکہ پنجاب اسمبلی میں غیر مسلم نشست کےلئے مشتاق گل، بابر شہزاد ،جارج کلائمنٹ ،شنیلا رت اور عمران افیق نے کاغذات جمع کرائے ۔

ٹرول کو سنجیدگی سے نہیں لیتی: جیکولین فرنینڈس

ممبئی( آن لائن )بالی ووڈاداکارہ جیکولین فرنینڈس نے کہاہے کہ میں ٹرول کو سنجیدگی سے نہیں لیتی بلکہ مجھے لگتا ہے کہ جن لوگوں کے پاس کچھ کرنے کو نہیں ہوتا وہ یہ سب کچھ کرتے ہیں۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق جیکولین فرنینڈس ان دنوں فلم’’ ریس تھری ‘‘پر کام کر رہی ہیں جس پر انہیں سوشل میڈیا ٹرول کا سامنا ہے ،اداکارہ نے اس بارے میں کہا ہے کہ میں ٹرول کو سنجیدگی سے نہیں لیتی بلکہ مجھے لگتا ہے کہ جن لوگوں کے پاس کچھ کرنے کو نہیں ہوتا وہ یہ سب کچھ کرتے ہیں، سوشل میڈیا کے دروازے ہر ایک کے لئے کھلے ہیں اور کچھ لوگ اپنی پریشانیوں اور ناکامیوں کا بدلہ اس پلیٹ فارم کے زریعے ایسی باتیں کر کے لیتے ہیں۔واضح رہے کہ فلم ’’ریس تھری‘‘ کی کاسٹ میں سلمان خان،، بوبی دیول، انیل کپور، ثاقب سلیم اور ڈیزی شا شامل ہیں، فلم کے ہدایتکار ریمو ڈی سوزا ہیں جبکہ فلم15جون کو نمائش کے لئے پیش کی جائے گی۔

شاداب بہترین آل راﺅنڈر بن کر ابھریں گے : اسد علی ، ٹی 20 میں ٹیم مضبوط ، سکاٹ لینڈ سے میچز آسان ہونگے : ارمثل ریاض ، چینل ۵ کے پروگرام ” گگلی “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کرکٹ کمنٹیٹر اسد علی نے کہا ہے کہ شاداب اچھے کھلاڑی ہیں جو آسانی سے گیم کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں۔ چینل ۵ کے پروگرام ”گگلی“ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو اچھے آل راﺅنڈر سے ٹی ٹوئنٹی میچز جیتنے چاہئیں۔ ٹیم میں بہترین کھلاڑی موجود ہیں۔ آصف علی اور طلعت حسین کو موقع دینا گھاٹے کا سودا ہو گا۔ دوسرے کھلاڑیوں کو بھی خود کو منوانے کا موقع دینا خوش آئند ہوگا۔ مختلف کھلاڑیوں کی پرفارمنس سے دنیا کو پاکستان کے ٹیلنٹ کا پتہ چلے گا۔ سپورٹس جرنلسٹ ارمثل ریاض نے کہا ہے کہ پاکستان ٹی ٹوئنٹی کی نمبر ون ٹیم ہے۔ موجودہ کرکٹ ٹیم پہلے کی طرح ون ڈائمنشل نہیں بلکہ ملٹی ٹیلنٹڈ ہے۔ انگلینڈ میں بھی ٹیم نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ مصباح الحق اور یونس کی ریٹائرمنٹ کے سبب ٹیم دوسرے نمبر سے ساتویں نمبر پر ضرور آئی ہے لیکن جلد اپنی پوزیشن دوبارہ برقرار کرے گی۔ تمام کھلاڑیوں کو موقع دینا چاہئے تاکہ سب کا ٹیلنٹ ابھر کر سامنے آئے اور دنیا میں ایک نام بنایا جا سکے۔

ویسٹ انڈیز اور سری لنکا میں پہلا ٹیسٹ آج شروع ہو گا

پورٹ آف سپین (اے پی پی) ویسٹ انڈیز اور سری لنکا کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا میچ (آج) بدھ سے پورٹ آف سپین میں شروع ہو گا، سری لنکن ٹیم سیریز کھیلنے کیلئے پہلے ہی ویسٹ انڈیز پہنچ چکی ہے، آئی لینڈرز اور ویسٹ انڈیز پریذیڈنٹ الیون کے درمیان تین روزہ ٹور میچ ڈرا ہوا تھا، ٹور میچ میں سری لنکن کھلاڑیوں کی بیٹنگ و باﺅلنگ تسلی بخش رہی اسلئے ٹیسٹ سیریز میں دونوں ٹیموں کے درمیان کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔

دونوں ٹیموں کے درمیان دوسرا ٹیسٹ 14 سے 18 جون تک سینٹ لوشیا جبکہ تیسرا اور آخری ٹیسٹ 23 سے 27 جون تک بارباڈوس میں کھیلا جائے گا۔

اعتکاف میں دکھاوے سے بچنا چاہئیے : علامہ ضیااللہ بخاری ، چینل ۵ کی خصوصی ٹرانسمیشن ” مرحبا رمضان “ میں گفتگو ، نعت خواں شاہد نذیر نے گلہائے عقیدت پیش کر کے سماں باندھ دیا

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) اعتکاف بیٹھنے والوں کو اللہ تعالیٰ روزہ قیامت عرشیں عظیم کے سائے میں اپنا مہمان بنائے گا۔ چینل ۵ کے پروگرام مرحبا رمضان میں علامہ ضیاءاللہ شاہ بخاری نے کہا ہے کہ اعتکاف کے معنی مخصوص نیت کے ساتھ اللہ کے گھر میں دنیاوی چیزوں کو ترک کر کے اس کے ذکر میں مشغول ہو جاتا ہے۔ اعتکاف بیٹھنا سنت مبارک ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج لوگوں نے اعتکاف کو بھی فیشن بنا لیا ہے جس مدرسے میں سحر وافطار کے انتظامات اچھے اور اے سی کی ٹھنڈک موجود ہو لوگ اس کو ترجیح دیتے ہیں۔ اعتکاف کو اللہ تعالیٰ نے بہت خوبصورت عمل بنایا ہے اور محسوس آداب بنائے ہیں۔ دکھاوا تمام عمل اور نیکیوں کو ختم کر دیتا ہے۔ نبی اکرم نے دکھاوے کو سختی سے منع کیا ہے۔ صحابہ کرام ریاقاری کو شرک اصغر کہتے تھے لہٰذا اعتکاف میں زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر اور نبی اکرم پر درود پڑھنا چاہیے۔ اعتکاف میں طاق راتوں کا آنا مسلمانوں کیلئے بہت بڑی خوشخبری اور خوش قسمتی ہے۔ اعتکاف میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے۔ نبی اکرم کی سنت پر چلتے ہوئے خلوص نیت سے آداب اعتکاف کو مدنظر رکھتے ہوئے دس روز عبادت کرنی چاہیے۔ اعتکاف میں بیٹھے ہوئے انسان کا ہر لمحہ بہت عظیم ہوتا ہے۔ نعت خواں شاہد نذیر نے رسول اکرم کی شان مقبول میں مختلف نعتیں پڑھ کر مسلمانوں کا ایمان تازہ کر دیا۔ انہوں نے سرکار دوعالم کی شان میں اسلام کا نذرانہ پیش کر کے آغاز کیا۔
اے صادر مصطفی سے جا کہنا
غم کے مارے سلام کہتے ہیں
یاد کرتے ہیں آپ کو شام وسحر
دل ہمارے سلام کہتے ہیں
ایک اور نعت میں انہوں نے ہم گنہگاروں کی جانب سے نذرانہ پیش کیا۔
ہے دو جہاں تمہارے لیے
ہم آئے یہاں تمہارے لیے
اٹھے بھی وہاں تمہارے لیے