پھول نگر (نامہ نگار) نواحی گاﺅں بونگا بلوچاں میں تھانہ صدر پولیس نے رئیس زادوں کے ساتھ ملکر زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش۔ محنت کش اور اس کے بیٹے کو حوالات میں بند کردیا حالت غیر ہونے پر ایس ایچ او صدر محنت کش کو خون میں لت پت اسپتال میں چھوڑ کر فرار ہوگیا حالت تشویشناک ہونے کے پیش نظر جناح اسپتال میں ریفر کردیا گیا تفصیلات کے مطابق نواحی گاﺅں بونگا بلوچاں میں کامران اور اس کے والد محمد حسین کا اسی گاﺅں کے اشرف وغیرہ سے زمین کا تنازعہ تھا جس پر اشرف وغیرہ نے پولیس سے ساز باز کرکے محنت کش محمد حسین کے بیٹے کامران کو کلہاڑیوں کے وار کرکے بری طرح زخمی کردیا بعدزاں پولیس نے بھی اشرف سے لی جانے والی رشوت کا حق ادا کرتے ہوئے محمد حسین اور اس کے بیٹے کامران کو حوالات میں بند کرکے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور کامران کی حالت تشویشناک ہونے پر اسے سول اسپتال پھول نگر میں پھینک کر فرار ہوگئے حالت غیر ہونے پر اسے جناح اسپتال لاہور ریفر دیا گیا جہاں وہ زندگی کی آخری سانسیں لے رہا ہے جب ایس ایچ او اسلم بھٹی سے موقف لینے کےلئے رابطہ کیا گیا تو اس نے کہا کہ میں نے محمد حسین کو اس لئے حراست میں لیا تھا کہ ان دونوں فریقین کی صلح ہوجائے۔ بعدازاں نمائندہ خبریں پھولنگر کی مداخلت پر زخمی کے والد محمد حسین اور بڑے بھائی کو تھانہ صدر پھولنگر سے رہا کروا کر زخمی کو اس کے والد کے ساتھ جناح ہسپتال لاہور ایمرجنسی کیلئے الخدمت فاﺅنڈیشن کی ایمبولینس پر لاہور منتقل کیا گیا۔
Monthly Archives: June 2018
سپریم کورٹ کا لارجر بنچ ، شکریہ ، فیصلہ پوری قوم کیلئے خوش آئند ہے ، نواز شریف کی حمایت نہ مخالفت ، میری کتاب 35 سال کی تاریخ ہے یقین تھا کہ وزیراعظم کے کرسی سے اترتے ہی ایل این جی کیس کھلے گا ، معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے مقبول لائیو پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ شیخ رشید قطر سے جو ایل این جی کی خریداری کی گئی تھی اس کے نرخ کے حوالے سے عدالت میں چلے گئے تھے ایک ہی بات اس کے راستے میں رکاوٹ تھی وہ یہ تھی کہ جناب شاہد خاقان عباسی کا آئینی طور پر منتخب وزیراعظم کے عہدے پر کام کر رہے ہیں اور ان عہدوں کی وجہ کافی استثنا مل جاتا ہے اس وقت سے میں ہمیشہ انتظار کر رہا تھا اور میرے ذہن میں تھا کہ جونہی نگران حکومت آئی اور شاہد خاقان عباسی وزیراعظم کے عہدے سے الگ ہوئے کافی شکایات ان کے حوالے سے وقتاً فوقتاً جن کے بارے میں تذکرہ ہوتا رہا تھا تو مجھے اچھی طرح سے معلوم تھا اب آپ دیکھیں گے کہ جب حکومت تھی پہلے نوازشریف اور پھر شاہد خاقان عباسی کی ان شکایات کا آپ اندازہ ہی نہیں کر سکتے جو اب سامنے آنے والا ہے۔ نگران وزیراعلیٰ پنجاب اور بلوچستان کا معاملہ کہاں الجھا ہوا ہے۔ جب فیصلہ کسی ایسی اسمبلی کے لیڈر آف اپوزیشن اور قائد ایوان نے کرنا ہو جہاں ایک طرف پی ٹی آئی ہو اور دوسری طرف مسلم لیگ ن ہو۔ مرکز میں حکومت ن لیگ کی اور لیڈر آف اپوزیشن خورشید شاہ تھے۔ تو کیسے جلدی فیصلہ ہو گیا۔ اسی طرح سے کراچی میں فیصلہ ہو گیا۔ اس لئے کہ مخالفت میں جب وہاں سامنے تھی ایم کیو ایم اور ایم کیو ایم آپ جانتے ہیں خواہ ایم کیو ایم کے دوستوں کو برا کیوں نہ لگے۔ ایم کیو ایم بیک وقت حکومت میں بھی ہوتی ہے اور اپوزیشن میں ہوتی ہے۔ پنجاب میں مسئلہ بنتا تھا کیونکہ ایک جناب شہباز شریف تھے اور دوسری پی ٹی آئی کی طرف سے محمود الرشید صاحب تھے۔ چنانچہ بقول محمود الرشید ان کی طرف سے غلطیاں بھی ہوئیں لیکن اس کے بعد بھی کسی ایک میٹنگ میں یا میٹنگ کے بعد بھی اتفاق رائے سے کوئی چیز نہیں ہو سکتی تھی۔ پارلیمانی کمیٹی محض رسمی ہوتی ہے۔ جب دونوں فریق مل کر فیصلہ نہیں کر سکتے تو دونوں طرف سے 3,3 بندوں کا نام دے کر کیسے معاملات طے کر سکتے ہیں۔ کیا ان کے مقرر کئے بندے کر لیں گے۔ میں حیران ہوں کہ آج کی سب سے بڑی خبر یہ ہے کہ پاکستان میں گزشتہ 10,8 دن سے بحث شروع تھی جس میں تمام اخبارات ٹی وی چینل کے لوگ، اخبارات میں کالم لکھنے والے لوگ، خاص طور پر جو پارٹیاں تبدیلی کا نعرہ لگاتی ہیں ان کے لیڈران خاص طور پر کہہ رہے تھے کہ یہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب نے کیا فیصلہ کر دیا کہ مسترد کر دیا لاہور ہائی کورٹ کے اس تجویز کو کہ ہر امیدوار کو اس کو ان 14,13 سوالوں کا جواب دینا ہو گا۔ لیکن آج لارجر بنچ یعنی جس کی سربراہی جناب چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب بھی کر رہے تھے مجھے پورا اندازہ تھا کہ 99 فیصد یقین تھا کہ اتنا قوم کا اجتماعی مطالبہ تھا کہ آپ نے کس طررح تحقیق کئے بغیر کہ کون چور اچکا ہے۔ کون ڈیفالٹر ہے کون دوہری شخصیت کا مالک ہے۔ بچوں کے کتنے اثاثے ہیں ان کا جائزہ لئے بغیر بیک جنبش قلم جناب ایاز صادق کی تجویز کردہ ترمیم اور باقی پارٹیوں کی جو اندر کھاتے ان کے ساتھ ملی ہوئی تھی یہ کیسے مان گیا۔ چنانچہ آج جب لارجر بنچ کی سماعت ہوئی تو آپ دیکھیں گے اگرچہ بڑا خوبصورتی سے نمٹایا گیا اس کیس کو ایک طرف ایاز صادق اور دوسرے سیاستدانوں کا مطالبہ جو ہے وہ چلنے دیا گیا کہ نیا فارم نہیں بناتے۔ لیکن جناب دوسری طرف جج حضرات نے فیصلہ کیا کہ ایک حلف دواور حلف نامے کا مضمون شام تک الیکشن کمیشن بنا کر دے اور اس حلف نامے میں وہی نکات ڈالے گئے ہیں جو فارم سے نکال دیئے گئے۔ تا کہ کسی وقت بھی ان کی پکڑ دھکڑ کی جا سکے۔ جیسے 63,62 کے حوالے سے بھی کافی زیادہ چیزیں شامل ہوں گی۔ میرا خیال ہے کہ یہ پاکستان کے عوام کے اجتماعی اور سیاسی شعور کا ادراک کیا گیا ہے اور سپریم کورٹ کو سلیوٹ کرتا ہوں انہوں نے الجھے ہوئے معاملے کو خوش اسلوبی سے سلجھا دیا۔ اس کو کہتے ہیں ”سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔“ فارم میں نہیں بدلا گیا ان سیاستدانوں کے مطالبے کے پیش نظر اور ساری شقیں بھی حلف نامے ڈال دیں کہ اگر آپ یہ سارا کچھ کر کے دیں گے اگر غلط ہوئیں تو کل آپ کو ڈی سیٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔ آپ کے خلاف چارج بھی فریم کیا جا سکتا ہے۔ اب الیکشن اس لئے وقت پر ہو جائیں گے کہ پاکستان کے چیف جسٹس صاحب میں اس تقریب میں موجود تھا۔ میں عارف نظامی اور حامد میر نے تقریریں بھی کی تھیں۔ اور اس میں بھی چیف جسٹس صاحب نے بڑا واضح اعلان کیا تھا کہ اگر ایک دن بھی انتخابات ملتوی ہوئے تو میں اکیلا نہیں 15 ججوں کے ساتھ گھر چلا جاﺅں گا۔ یہ بڑی بات تھی۔ اب ناصر الملک صاحب آئے ہی نگران وزیراعظم نے بھی پہلے دن آتے ہی کہا کہ میں ایک دن بھی الیکشن ملتوی نہیں ہونے دوں گا۔ اب اس کے بعد دونوں تینوں بڑے لیڈروں کی طرف سے مطالبات ہوئے کہ وہ بھی یہی تھے کہ جناب الیکشن ملتوی نہیں ہونے چاہئیں۔ ایک تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ آخری رکاوٹ جو تتھی دو تین تھیں۔ ایک کا کل فیصلہ ہو گیا کہ یہی فارم چلیں گے لیکن حلف نامہ دینا پڑے گا جس میں ساری باتیں ڈال دی گئیں۔ دوسرا جناب یہ بہت بڑی خبر ہے کہ عدالت عالیہ نے یعنی ہائی کورٹ نے وہ تمام عذر داریاں جو لوگوں نے کی تھیں وہ مسترد کر دی گئی ہیں او ریہ تاثر دیا گیا کہ جناب اس سلسلے میں کوئی سکوپ اس بات کا نہیں ہے کہ کوئی سپریم کورٹ میں جائے اور الیکشن کا معاملہ لٹک جائے۔ میں سمجھتا ہوں دونوں فیصلوںکی روشنی میں لگتا ہے الیکشن وقت پر ہوں گے۔
میری چودھری نثار صاحب سے بہت پرانی دوستی ہے چودھری نثار صاحب ان کی مہربانی ہے بڑی محبت سے ملتے ہیں لیکن جب سے ان کا قضیہ شروع ہوا تھا۔ اسی میز پر میں بے شمار مرتبہ یہ کہہ چکا ہوں کہ ساری نورا کشتی ہے اور آخر کار سارے اک مک ہو جائیں گے۔آپ دیکھ لیں یہ کس قسم کی لڑائی تھی پنجابی میں اس کو کہتے ہیں کہ ”آٹا گھن دیاں ہل دی کیوں اے“ انہوں نے کبھی نوازشریف کو مسترد نہیں کیا وہ ہمیشہ کہتے تھے ان کی صاحبزادی سے مجھے شکایت ہے جب ان کے ابا سے شکایت نہیں تھی تو پھر ختم ہونی ہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ چھوٹے بھائی صاحب ہر تیسرے دن اعلان کرتے تھے کہ ہم ان کو کہیں نہیں جانے دیں گے اور یہ ہمارے ساتھی ہیں۔ لیکن تاریخ کے سامنے ان کو جواب دینا پڑے گا کہ وزیر داخلہ جو ڈان کیس میں پہلے کمیٹی کا سربراہ تھا۔ بعد میں جس نے شور مچایا کہ اس کا مطلب ان کی لڑائیاں پرسنل لڑائیاں تھی۔ چودھری نثار کی کوئی لڑائی اصولی لڑائی نہیں تھی۔ س قسم کی لڑائی تھی کہ میں نے اعلان کرنا تھا بطور وزیر داخلہ یہ فواد حسن فواد نے کیوں کر دیا یا جناب میں تو تیار ہی نہیں تھا انہوں نے خود اخبارات کے ایڈیٹروں کو اے پی این ایس اور سی پی این ای کے صدور کو جی میں تو تیار ہی نہیں تھا میرا اس کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں جب ہم اگلی دفعہ گئے تو میں نے ہی ان سے پوچھا پنجاب ہاﺅں کو آپ تو کہتے تھے کہ میرا اس کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں ڈان لیکس والی کمیٹی سے۔ کہتے میں نے نوازشریف صاحب سے ملنے گیا تھا انہوں نے مجھے کہا کہ آپ کریں تو میں مان گیا۔ ہر بات وہ شکایت میں کرتے تھے یہ تاریخ کے سامنے جوابدہ ہوں گے کہ یہ وہ شخص ہے اگر وہ کھل کر سامنے آتا تو اس کو شاید چند سیٹوں پر یہ بک نہ جاتا تو معاف کرنا یہی شخص تھا جس نے یہ الفاظ کہتے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ صرف تین بندوں کو دو فوجی وردی میں اور ایک سویلین ہے جن کو پتا ہے کہ اس وقت پاکستان پر کتنا بڑا غیر ملکی حملے کا تھریڈ ہے۔
ایک تو یہ کتاب لکھتے وقت دور نزدیک سے بھی میرے ذہن میں نہیں تھا کہ میں نوازشریف صاحب کے خلاف کچھ لکھ رہا ہوں۔ میں نے نوازشریف ایک عہد ہے آپ کو پسند ہو یا نہ ہو۔ یہ 35 برس ہیں پاکستان میں یہ آٹھ سال نکالیں پرویز مشرف کے دور کے تو 23 برس کی حکومتیں اور اگر وہ آٹھ سال بھی اس طرح داخل کر لیں کہ چودھری نثار کی موجودگی میں لیڈر آف اپوزیشن مسلم لیگ نواز کا تھا اسمبلی میں بھی تو پھر 35 برس کی داستان ہے۔ میں نے یہ جو کوشش کی ہے کہ یہ مجھے کیسے ملے تھے یہ اس وقت کس طرح کے تھے۔ یہ بڑے معصوم انسان تھے بہت سی خوبیاں بھی گنوائیں لیکن ان کے حوالے سے جو اب تک 3 سے چار چھپی ہیں میں بہت ہی ضروری سبق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ بدقسمتی سے نوازشریف کے صوبے میں وزیراعلیٰ بے نظیر کے دور میں مرکز میں سیاسی محاذ آرائی نہ ہوتی تو جناب اس ملک سے میرٹ کا ستیا ناس نہ ہوتا دونوں لیڈروں نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے ایم پی اے کو توڑنے، ایم این ایز کو اپنی جیب میں ڈالنے کے لئے ہر قسم کی جو مراعات تھیں وہ صرف اپنے سیاسی حامیوں میں تقسیم کیں۔ ضیا شاہد نے کہا کہ وزیراعظم وزیراعلیٰ ہاﺅسز سے سرکاری نوکریوں کے بلینک لیٹر ایشو ہوتے تھے۔ 61 سال کا بندہ نائب تحصیلدار بھرتی ہو جاتا تھا۔ اخبار میں کبھی چوتھے، پانچویں گریڈ کی نوکریوں کا اشتہار بھی نہیں دیکھا۔ نوکریوں پر ہمیشہ پابندی رہتی ہے۔ سیاستدانوں کے پاس نوکریوں کے لئے کوٹے ہوتے ہیں، ملک سے میرٹ کا خاتمہ کر دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف نہیں سیاست میں دولت کی ریل پیل آئی تھی۔ یہ پہلا شخص تھا جس نے فیصل آباد سے تصویر والے پرنٹڈ کپڑوں کے تھان کے تھان چھپوائے تھے، 4 کلر پوسٹر اور بڑے بڑے ہولڈنگ بورڈ بنوائے، ایڈورٹائزنگ ایجنسی میڈاس کو کنٹریکٹ پر لیا۔ پی پی اور نون لیگ کے درمیان سیاسی محاذ آرائی کے اثرات آج تک ہیں۔ نواز شریف ایک عہد ہے جس کو جانچا ہے اور دل سوز لہجے میں لکھا ہے کہ نواز شریف اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتایئے جتنے بھی الزامات ہیں بے شک عدالت بھی بری کر دیتی ہے۔ اگر آپ کے ضمیر کی آواز نکلتی ہے کہ میں بے قصور ہوں تو ایک ٹیلی فون ضیا شاہد کو کیجئے گا کہ آپ نے ملک کے درست نظام کے لئے میرا ساتھ دیا تھا آﺅ میرا ساتھ دو، میں نے ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ کوئی پلاٹ، زمین، نوکری میرا کوئی دعویٰ نہیں ہے۔ نوازشریف کو میرے ہاتھ سے لکھی ہوئی کوئی درخواست کوئی شخص دکھا دے تو میں مجرم ہوں۔ ہر بندے کو بکاﺅ مال تصور نہیں کرنا چاہئے۔ نوازشریف مجھے پسند تھا تو سپورٹ کیا، اختلاف ہوئے تو چھوڑ دیا۔
سلمان کی ’سنجو‘ میں رنبیر کے کردار پر ڈھکی چھپی تنقید
ممبئی (ویب ڈیسک)بالی وڈ اداکار سلمان خان نے قریبی دوست سنجے دت کی زندگی پر بننے والی فلم ’سنجو‘ میں رنبیر کے کردار پر ڈھکی چھپی تنقید کی ہے۔ سلو میاں اور رنبیر کے اختلاف کی وجہ اداکار کترینہ کیف ہیں جنہوں نے رنبیر سے دوستی کے لیے سلمان خان کی شادی کی پیش کش کو ٹھکرا دیا تھا۔سلمان خان اور رنبیر کپور کی دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ، یہی وجہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو تقریبات میں نظر انداز کرتے ہیں۔دبنگ خان کے قریبی دوست مانے جانے والے اداکار سنجے دت کی زندگی پر بننے والی فلم میں رنبیر کپور نے مرکزی کردار کیا ہے جب کہ فلم کا ٹریلر اور رنبیر کی اداکاری مداحوں کے ساتھ ساتھ کئی سپر اسٹارز کو بھی بھاگئی ہے لیکن اب سلمان خان نے فلم پر تنقید کی ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق سلمان خان اپنی نئی ا?نے والی فلم ’ریس 3‘ کی تشہیری مہم میں مصروف ہیں جس کے لیے انہوں نے ایک تقریب میں شرکت کی۔ تقریب میں سلمان خان کا فلم ’سنجو‘ سے متعلق سوال پر کہنا تھا کہ انہیں ایک بات سمجھ نہیں ا?ئی کہ فلم میں سنجے کا کردار کسی اور نے کیوں کیا؟ جیل سے باہر جانے والے منظر میں انہیں خود ہی کام کرنا چاہیئے تھا کیوں کہ کوئی بھی دوسرا اداکار ان کے کردار سے انصاف نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ میں نے فلم کا ٹریلر دیکھا ہے اور راج کمار ہیرانی سنجیدہ قسم کے ہدایت کار ہیں، اسی لیے یہ فلم بنائی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ راج کمار ہیرانی نے فلم کو اچھا ہی بنایا ہوگا لیکن سنجے کو فلم میں اپنی پچھلی 10 سالہ زندگی کو خود ہی نبھانا چاہیے تھا۔سلمان خان کی اس تنقید کو رنبیر سے جاری چپقلش کا نتیجہ قرار دیا جارہا ہے کیوں کہ خبریں بھی زیر گردش رہی ہیں کہ سلمان خان نے اس فلم میں رنبیر کی وجہ سے کام نہیں کیا۔
جمائمہ عمران خان کے دفاع میں میدان میں آ گئیں
لندن (ویب ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کی سابق اہلیہ جمائمہ گولڈ اسمتھ ریحام خان کی نئی آنے والی کتاب کے حوالے سے عمران خان کے دفاع میں میدان میں آ گئیں۔جمائمہ گولڈ اسمتھ نے سوشل میڈیا پر اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ مجھے یقین دلایا گیا ہے کہ ریحام خان کی کتاب برطانیہ میں شائع ہونے کے قابل نہیں ہے۔جمائمہ نے اپنے ٹوئٹ میں مزید لکھا کہ اگر ریحام خان کی کتاب برطانیہ سے شائع ہوئی تو ہرجانے کا دعویٰ دائر کروں گی۔ان کا کہنا تھا کہ ہتک عزت اور سیکیورٹی لیک ہونے کا دعویٰ اپنے 16 سال کے بیٹے کے توسط سے کروں گی۔خیال رہے کہ ریحام خان کی نئی آنے والی کتاب کے سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آنے والے اقتسابات کے حوالے سے تحریک انصاف کو شدید تحفظات ہیں۔تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری اس حوالے سے متعدد پریس کانفرنس بھی کر چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ریحام خان کی کتاب کی تصنیف و اشاعت کے پیچھے مسلم لیگ ن کا ہاتھ ہے۔دوسری جانب ریحام خان کہتی ہیں کہ ان کی کتاب کا الیکشن اور ن لیگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے دو ماہ تک ان کے ساتھ نکاح کی خبر کو چھپایا لہذا وہ آئین کے آرٹیکل 62 پر پورا نہیں اترتے۔ریحام خان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی کتاب میں بلیک بیری کا تذکرہ بھی موجود ہے جس کی وجہ سے تحریک انصاف خوفزدہ ہے۔
نوجوان نے سیپی کے 480کیڑے کھا کر سب کو ششدرکر دیا ،نیا ریکارڈ قائم
نیواورلینز(ویب ڈیسک) امریکہ میں صدفے (اویسٹر) میں چھپے کیڑوں کو کھانے کے عالمی مقابلے میں ایک نوجوان نے صرف 8 منٹ میں 480 کیڑے کھا کر ایک نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔ امریکہ میں ہرسال اویسٹر میلہ منعقد ہوتا ہے جس میں اویسٹر کھانے والے افراد مدعو کیے جاتے ہیں اور اس سال یہ مقابلہ تین جون کو منعقد ہوا جس میں پورے امریکا سے سات افراد شریک ہوئے اور دریائے مسی سپی کے پاس وولڈنبرگ پارک میں یہ مقابلہ منعقد کیا گیا۔اس سال کا مقابلہ ڈیرن بریڈن نے جیتا جن کا تعلق ورجنییا کے علاقے اورنج کاو¿نٹی سے تھا جبکہ دوسرے نمبر پر دفاعی چیمپیئن مشیل لیسکو رہیں اور انہوں نے اس عرصے میں 27 درجن اویسٹر کھائے۔ تیسرے نمبر پر نیواورلین کے ایڈریان مورگن تھے جنہوں نے 26 درجن صدفے اپنے پیٹ میں اتارے۔یہ مقابلہ بہت ہی دلچسپ ثابت ہوتا ہے اور اس سال اس کے لیے انتظامیہ نے 4000 صدفے رکھے تھے جن کو بڑی نفاست سے طشتریوں میں سجایا گیا تھا۔ شرکا تیزی ایک کے بعد ایک صدفے کھاتے رہے اور رضاکار ان کے آگے اویسٹر سے بھری طشتریاں سجاتے رہے جبکہ شرکا میزوں پر جھک کر انہیں تیزی سے معدے سے میں اتارتے رہے۔بریڈن نے 480 اویسٹر 8 منٹ میں چٹ کرڈالے اور یہ مقابلہ اپنے نام کرلیا جو ایک نیا ریکارڈ بھی ہے۔
دنیا کا سب سے بڑا موتی کتنی مالیت میں نیلام ہوا ،قیمت جان کر سب دنگ رہ گئے
ایمسٹر ڈیم(ویب ڈیسک) نیدرلینڈ میں تازہ پانی کا سب سے بڑا اور تین سو سالہ قدیم ایک موتی چار کروڑ روپے میں نیلام کر دیا گیا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق نیدر لینڈ میں گزشتہ روز دنیا کا سبے بڑا تازہ پانی کا ایک موتی نیلامی کے لیے پیش کیا گیا جو 3 لاکھ 20 ہزار یورو ( 4 کروڑ 31 لاکھ اور 68 ہزار پاکستانی روپوں) میں فروخت کردیا گیا۔ قیمتی موتی کو جاپان کے تجارتی ادارے نے خریدا۔ 765ئ میں بٹاویا سے لائے گئے اس موتی کی ا?خری بار نیلامی 1979ئ میں ہوئی تھی جسے ایمسٹرڈیم پرل سوسائٹی نے خریدا اس سے قبل 1865ئ میں اسے ایک جرمن تاجر نے خریدا تھا۔تین سو سال قدیم موتی کی خاصیت اس کی ساخت اور معیار تبدیل نہ ہونا ہے۔ اس کا وزن 120 گرام ہے اور 2.7 انچ طوالت ہے۔ اپنی مخصوص ساخت کی وجہ سے اسے ” خوابیدہ شیر“ بھی کہا جاتا ہے۔ تین سو سال کے درمیان یہ موتی یورپ کے شاہی خاندان بشمول عظیم کیتھرائن، معروف جیولرز اور نو ا?بادیاتی تاجروں کے پاس رہا ہے۔اس موتی کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ تین سو سال سے اسے کسی انسانی ہاتھ نے تراشا نہیں ہے کیا بلکہ اپنی پیدائش سے اب تک یہ بالکل اصل حالت میں موجود ہے۔
قومی ائیر لائن کے کھلاڑیوں پر بڑی پابندی لگ گئی
کراچی(ویب ڈیسک) پی آئی اے حاضری کیلیے دفتر آکر انگوٹھا نہ لگانے والے قومی کھلاڑیوں کو تنخواہ نہیں دے گی۔تفصیلات کے مطابق ادارے کے جی ایم آئی آر اینڈ اسپورٹس راشد ظفر کی جانب سے جاری کیے جانے والے نوٹیفکیشن میں پی آئی اے کے اسپورٹس ڈویڑن میں کام کرنے والے 98 ملازمین کو سختی کے ساتھ ہدایت جاری کی گئی ہے کہ چاہے ڈپٹی جنرل منیجر، کوچ، پالیئرز اور انتظامی عملہ ہی کیوں نہ ہو، ہر ملازم اولڈ ایم ٹی بلنگ اورہیڈ ا?فس میں دستیاب ٹی ایم ایس مشین پر روزانہ اپنا انگوٹھا لگا کر حاضری کے عمل کو یقینی بنائے، بصورت دیگر اسے غیر حاضرتصورکیا جائیگا۔ٹورنامنٹس میں شرکت کرنے والے کھلاڑیوں اور کوچز کو مخصوص مدت کیلیے ڈی جی ایم اسپورٹس سے این او سی حاصل کرنا ہوگا جس کی بنیاد پر ان کی حاضری شمار کر لی جائے گی، ذرائع کے مطابق ادارے کی جانب سے کھلاڑیوں کو حاضری سے استنثیٰ حاصل ہونے کی سہولت میسر تھی تاہم قانونی طور پر اس استثنیٰ کے حوالے سے تحریری حکم 7 مارچ کو غیر موثر ہو گیا جس میں توسیع نہ ہو سکی، اس قانونی سقم کے سبب متعلقہ شعبہ کی جانب سے ہنوز مذکورہ کھلاڑیوں کی اپریل کی تنخواہوں کا اجرا ممکن نہیں ہو سکا، معلوم ہوا ہے کہ پی ا?ئی اے کے شعبہ انتظامیہ کی جانب سے اس ضمن میں پیش رفت ہوئی ہے اور قومی امکان ہے کہ متاثرہ ملازمین کو پیر تک رکی ہوئی تنخواہوں کا اجرا ہو جائے گا۔واضح رہے کہ پی آئی اے کے شعبہ کھیل سے وابستہ سابق ٹیسٹ کپتان وسیم اکرم، سابق اولمپئین سلیم شیروانی، اولمپئین نعیم اختر اور فزیو ایرک جانسن گروپ 8 کے ملازم ہیں، گروپ 7 میں کام کرنے والے قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد، سابق ٹیسٹ کپتان معین خان، قومی جونیئر ٹیم کے کوچ اولمپئین کامران اشرف اور عرفان، ٹیسٹ کرکٹر فیصل اقبال کے علاوہ لاتعداد کھلاڑی گروپ 6 اور اس سے نچلے درجات میں کام کر رہے ہیں۔
کھلاڑیوں کے گھر کی بجلی غائب ،شکوہ در شکوہ
نئی دہلی (ویب ڈیسک) ہربھجن سنگھ اور یووراج سنگھ دنیا کے ان کرکٹرز میں سے ایک ہیں جو ”جگتیں“ لگانے میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ دونوں بہترین دوست بھی ہیں اور کئی پاکستانی کھلاڑیوں کیساتھ بھی بہترین تعلقات رکھتے جبکہ دونوں کے درمیان ٹوئٹر پر نوک جھونک بھی جاری رہتی ہے۔دوستوں کے درمیان مزے کرنا اور مذاق بنانے کا لطف ہی کچھ اور ہوتا ہے اور ایسا ہی کچھ یووراج اور ہربھجن سنگھ کے درمیان بھی ہے جو ایک دوسرے کو ’جگت‘ لگانے میں ذرا بھی دیر نہیں لگاتے۔حال ہی میںیووراج سنگھ نے بجلی کی عدم دستیابی کی شکایت کیلئے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر کا سہارا لیا تو ہربھجن سنگھ بھی میدان میں آ گئے اور ایسا زبردست جواب دیا کہ سوشل میڈیا پر ہنسی کاطوفان برپا ہو گیا۔یووراج سنگھ نے ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں لکھا ”باندرہ میں بجلی گئے ہوئے اب ایک گھنٹے سے زائد ہو گیا ہے۔۔۔ برائے مہربانی کیا یہ ہمیں واپس مل سکتی ہے۔۔۔؟“یووراج سنگھ کی اس ٹویٹر پر صارفین کے تبصروں کا سلسلہ شروع ہو گیا اور جب ہربھجن سنگھ کی نظر اس پر پڑی تو انہوں نے ایسا جواب دیدیا کہ سوشل میڈیا پر ہنسی کا طوفان برپا ہو گیا۔ انہوں نے لکھا ”بادشاہ!!! بل وقت پرادا کیا کرو۔“
تیونس کی فٹ بال ٹیم نے میچ کے دوران روزہ افطار کرنے کا ایسا طریقہ اختیار کیا کہ پوری دنیا کے مسلمان خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو گئے
تیونس (ویب ڈیسک) پوری دنیا کے مسلمان رمضان المبارک کے روزے رکھ کر اور اللہ سبحان و تعالیٰ کی عبادت کر کے اس مبارک مہینے کی برکتیں اور رحمتیں سمیٹنے میں مصروف ہیں۔گرمی میں روزہ رکھنا خاصا مشکل کام ہے اور بھوک سے زیادہ پیاس کی شدت برداشت کرنا پڑتی ہے لیکن اگر روزے کی حالت میں کوئی کھیل کھیلنا پڑے تو بھوک اور پیاس کی شدت میں اضافے کیساتھ شدید تھکاوٹ بھی ہوتی ہے۔تیونس کی فٹ بال ٹیم کے کھلاڑی بھی روزہ رکھ کر پرتگال کیخلاف میچ کھیلنے میدان میں اترے اور تھکاوٹ کا شکار ہو گئے۔ پرتگال نے تیونس کے خلاف 2-1 کی برتری بھی حاصل کر لی۔ میچ کے دوسرے ہاف کے 58 ویں منٹ میں تیونس کے گول کیپر معیز حسن زخمی ہو کر گراو¿نڈ میں لیٹ گئے اور ہر طرف پریشانی کی لہر دوڑ گئی۔ مگر یہ دیکھ کر سٹیڈیم میں بیٹھے تماشائی شدید حیرت میں مبتلا ہو گئے کہ معیز کے ساتھی کھلاڑی ان کی مدد کے بجائے میدان میں باہر بھاگ گئے ہیں۔بہرحال 6 منٹ کے بعد تمام کھلاڑی میدان میں واپس آ گئے اور میچ کھیلنا شروع کر دیا لیکن وہ پہلے سے زیادہ چست اور پھرتیلے نظر آ رہے تھے جس کا نتیجہ بھی فوراً سامنے آ گیا اور انہوں نے پرتگال کے خلاف مزید ایک گول کر کے میچ 2-2 سے برابر کر دیا۔جب اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو مسلمان یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو گئے کہ معیز حسن عین افطار کے وقت زخمی ہوئے تو ان کے ساتھی کھلاڑی ان کی مدد کرنے کی بجائے روزہ افطار کرنے میدان کے کناروں پر پہنچ گئے جہاں کوچنگ سٹاف نے انہیں کھجوریں اور پانی فراہم کیا۔اس سے بھی زیادہ لطف کی بات یہ ہے کہ اگلے روز ترکی کیخلاف کھیلے گئے میچ کے سیکنڈ ہاف میں بھی وہ 47 ویں منٹ میں زمین پر چت لیٹ گئے تو میڈیکل ٹیم انہیں طبی امداد دینے کیلئے پہنچ گئی اور ساتھی کھلاڑی گزشتہ روز ہی طرح میدان کے کنارے پر پہنچ کر روزہ افطار کرنے میں مصروف ہو گئے۔تیونس میں فٹ بال شائقین نے فوراً اس بات کو نوٹ کیا کہ معیز دونوں دن عین افطار کے وقت زخمی ہوئے اور جب انہوں نے کھلاڑیوں کو کھجوریں کھاتے اور پانی پیتے دیکھا تو ہنسی سے برا حال ہو گیا۔
پاکستان کی مشہور ماڈل و اداکارنے بیٹی کیلئے اہم پیغام دیدیا
کراچی (ویب ڈیسک)پاکستانی ماڈل اور اداکارہ صحیفہ جبار کا جلد ریلیز ہونے والا ڈرامہ خواتین کو بااختیار بنانے کے موضوع پر مبنی ہے۔ماڈل نے ’بیٹی‘ نامی ٹی وی ڈرامہ سائن کیا ہے، جس میں ان کے ہمراہ فہد مرزا کام کرتے نظر ا?ئیں گے۔ڈان سے بات کرتے ہوئے صحیفہ نے بتایا کہ اس ڈرامے کی کہانی ان کے دل سے کافی قریب ہے۔صحیفہ جبار کا کہنا تھا کہ ’یہ ڈرامہ ایسے گھرانوں کے لیے ہے جو بیٹیوں کو رحمت کے بجائے بوجھ سمجھتے ہیں‘۔اس ڈرامے کی کہانی سوفیا خرم نے تحریر کی، جبکہ اس کی ہدایات محسن مرزا دے رہے ہیں اور پروڈکشن ا?ئی ڈریمز کمپنی کے بینر تلے کی جارہی ہے۔’بیٹی‘ ڈرامے میں اپنے کردار کے حوالے سے صحیفہ نے بتایا کہ ’میں ایک پڑھے لکھے گھرانے سے تعلق رکھنے والی نوجوان لڑکی کا کردار ادا کررہی ہوں، اس کے والد کا انتقال اس وقت ہوچکا تھا جب یہ کافی چھوٹی تھی، اور اس کی پرورش اس کی ماں نے اکیلے کی جو کہ کافی مضبوط خاتون ہیں‘۔ماڈل نے مزید بتایا کہ ’یہ لڑکی ایک ایسے لڑکے سے محبت میں مبتلا ہوجاتی اور شادی کرلیتی ہے جس کی فیملی اس کی فیملی سے کافی الگ ہے، اور اس ڈرامے کی کہانی اس گھرانے میں اس لڑکے کے ایڈجسٹ کرنے کے گرد گھومتی ہے‘۔صحیفہ جبار کے مطابق جس لڑکے سے ان کی شادی ہوگی، وہاں بیٹیوں کا بوجھ سمجھا جائے گا۔اس ڈرامے میں جاوید شیخ اور اسما عباس صحیفہ جبار کے ساس سسر کا کردار ادا کرتے نظر ا?ئیں گے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ’ہم نے حال ہی میں اس ڈرامے کی شوٹنگ کا ا?غاز کیا ہے، امید ہے ا?گے بھی اس کی شوٹنگ صحیح رہے، میں نے جب سے اس پروجیکٹ کو سائن کیا ہے، مجھے تب سے ہی اس پر کام کرکے کافی مزاح ا?رہا ہے‘۔اداکارہ نے مزید بتایا کہ ’بیٹی‘ کے علاوہ وہ جلد دو اور پروجیکٹس پر کام کا ا?غاز کریں گی۔’بیٹی‘ کی لانچ کی تاریخ کا اعلان اب تک نہیں کیا گیا۔
مریم نواز نے این اے 125 اور127 سے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے
اسلام آباد (ویب ڈیسک)سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے لیے لاہور کے حلقہ این اے 125 اور این اے 127 سے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے۔خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے کی جانے والی نئی حلقہ بندیوں سے قبل این اے 125 مسلم لیگ (ن) کا گڑھ این اے 120 تھا، جہاں سے نا اہل قرار دیئے جانے سے قبل الیکشن 2013 میں نواز شریف کامیاب ہوئے تھے .نواز شریف کی نا اہلی کے بعد 2017ئ میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں کلثوم نواز 61ہزار ووٹوں کیساتھ کامیاب جب کہ ان کے مدمقابل تحریک انصاف کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد 47ہزار ووٹوں کیساتھ دوسرے نمبر پر رہی تھیں۔یاد رہے کہ کلثوم نوازان دنوں لندن کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں جہاں ان میں کینسر کی تشخص کی گئی ہے، کلثوم نواز ضمنی انتخابات سے قبل ہی علاج کے لیے لندن روانہ ہوگئی تھیں جبکہ علاج کے باعث انہوں نے حلف بھی نہیں اٹھایا تھا۔واضح رہے کہ کلثوم نواز کے بیرون ملک جانے کے باعث ان کی صاحبزادی مریم نواز نے ضمنی انتخابات کے دوران حلقے میں الیکشن مہم چلائی جس میں انہیں بھرپور پزیرائی ملی اور مسلم لیگ (ن) نے کامیابی حاصل کی۔سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف کو نا اہل قرار دیئے جانے کے فیصلے کے بعد سے مریم نواز کو بھی احتساب عدالت میں ریفرنس کا سامنا ہے۔مریم نواز نے حلقہ این اے 125 کے لیے ریٹرننگ ا?فیسر ا?صف بشیر سے کاغذات نامزدگی حاصل کیے جبکہ حلقہ این اے 127 کے لیے مریم نواز نے عظیم خان کی وساطت سے کاغذات نامزدگی ریٹرننگ آفیسر گل نواز سے حاصل کیے۔دوسری جانب مریم نواز کی جانب سے ابھی تک الیکشن میں حصہ لینے کے حوالے سے اعلان نہیں کیا گیا ہے۔44 سالہ مریم نواز شریف 28 اکتوبر 1973 میں لاہور میں پیدا ہوئیں، ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے 1999 میں فوجی ا?مر کی جانب سے ان کے والد کی حکومت ختم کیے جانے کے وقت سے سیاست میں دلچسپی لینا شروع کی جس کے باعث ان کے خاندان کو جلا وطن کردیا گیا تھا۔تاہم انہوں نے اپنے متعدد انٹرویوز میں یہ دعویٰ کیا کہ ان کی دلچسپی عالمی سیاست اور طاقت میں ہے جو اسمبلیوں کی حدود سے بہت ا?گے کی بات ہے۔
نیب نے نوازشریف اور شاہد خاقان کیخلاف انکوائری کی منظوری دیدی
اسلام آباد(ویب ڈیسک) نیب نے سابق وزرائے اعظم نوازشریف اور شاہد خاقان عباسی کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام پر انکوائری کی منظوری دے دی۔نیب کی جانب سے جاری اعلامیے کےمطابق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیر صدارت قومی احتساب بیورو (نیب) کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر کے خلاف انکوائریوں کی منظوری دی گئی۔نیب اعلامیے کے مطابق نوازشریف اور شاہد خاقان عباسی کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام ہے، دونوں شخصیات نے قواعد کے برخلاف من پسند کمپنی کو 15 سال کے لیے ایل این جی ٹرمینل کا ٹھیکہ دیا جس سے قومی خزانے کو مبینہ طور پر اربوں کا نقصان ہوا۔نیب اعلامیے میں بتایا گیا کہ ایگزیکٹو بورڈ نے سابق وزیراعلیٰ سندھ ،سابق سیکریٹری کلچر ٹورزم اینڈ اینٹیک ڈیپارٹمنٹ حکومت سندھ کے افسران و اہلکاروں اوردیگر کے خلاف بھی انکوائری کی منظوری دی ہے، ملزمان پر مبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سندھ کلچرل فیسٹیول 2014 میں قواعد کے برخلاف ٹھیکہ دینے اور بدعنوانی کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو تقریباً 127 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔نیب ایگزیکٹو بورڈ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب، متعلقہ سیکریٹریز، چنیوٹ سے سابق ایم پی اے اور رمضان شوگر ملز لمیٹڈ چنیوٹ کی انتظامیہ کے خلاف انکوائری کی منظوری دی، ملزمان پرمبینہ طور پراختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔اعلامیے کے مطابق نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے سابق چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ وائس ایڈمرل ریٹائرڈ احمد حیات، سابق جنرل مینیجر کے پی ٹی بریگیڈیئر ریٹائرڈ سید جمشید زیدی اور میسرز کراچی انٹرنیشنل کنٹینرز ٹرمینل کے خلاف بدعنوانی کاریفرنس دائر کرنے کی بھی منظوری دی۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ ان ملزمان پر مبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر کنٹریکٹ میں توسیع کرنے کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو تقریباً 21 ارب روپے کا روپے کا نقصان پہنچا۔ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے سابق صوبائی وزیر بلوچستان شیخ جعفر خان اور ڈپٹی ڈائریکٹر واٹر مینجمنٹ عبدالطیف خان کے خلاف انکوائری کی منظوری دی، ملزمان پر مبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال اور آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے۔اعلامیے کے مطابق بورڈ نے سابق صوبائی وزیر برائے جنگلات بلوچستان عبیداللہ بابت اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی، ملزمان پرمبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سرکاری فنڈز میں خردبرد اور آمدن سے زائد اثاثے بنانے کاالزام ہے جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے سابق اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور عبداللہ خان، سیکریٹری گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی سیکرٹریٹ اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی، ملزمان پر مبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیرقانونی تعیناتیوں کاالزام ہے جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔قومی احتساب بیورو کے اعلامیے کے مطابق ایگزیکٹو بورڈ کےاجلاس میں سابق ایم پی اے تحصیل کوٹ ادو جواد کامران کھر اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی ،ملزمان پر مبینہ طور پر مظفر گڑھ میں کاغذات میں ردوبدل کرکے سرکاری اراضی الاٹ کروانے کا الزام ہے۔اس کےعلاوہ ایگزیکٹو بورڈ نے پیراگون ہا?سنگ سوسائٹی کی انتطامیہ اوردیگرکے خلاف بھی انکوائری کی منظوری دی، ملزمان پر عوام سے بڑے پیمانے پر مبینہ دھوکا دہی اور مشتبہ رقوم کی منتقلی کاالزام ہے۔
ویرے دی ویڈنگ نے ہرش وردان کو پیچھے چھور دیا
ممبئی (ویب ڈیسک)بالی وڈ اداکارہ سونم کپور کی فلم ’ویرے دی ویڈنگ‘ نے ان کے بھائی ہرش وردان کی فلم ’بھویش جوشی سپر ہیرو‘ کو باکس آفس جنگ میں پیچھے چھوڑ دیا۔بالی وڈ کے اداکار انیل کپور کی صاحبزادی سونم کپور کے ساتھ ساتھ بیٹا ہرش وردان کپور بھی فلمی دنیا میں متعارف ہوچکے ہیں۔ سونم اگرچہ فلم نگری میں نام بھی کماچکی ہیں لیکن ہرش وردان کپور اپنے والد یا بہن کی طرح قدم جمانے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ہرش وردان کپور کی حال ہی میں ریلیز ہونے والی کیریئر کی دوسری فلم ’بھویش جوشی سپر ہیرو ‘ بھی باکس ا?فس پر بری طرح ناکام ہوگئی ہے لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا باکس ا?فس پر مقابلہ اپنی بہن کی فلم ’ویرے دی ویڈنگ‘ سے تھا۔بہن بھائیوں کی فلموں کی باکس ا?فس لڑائی میں سونم نے معرکہ مار لیا ہے اور ان کے بھائی ہرش وردان کی دوسری فلم کو باکس ا?فس پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔سونم کی ’ویرے دی ویڈنگ‘ اور ہرش وردان کی فلم ’بھویش جوشی سپر ہیرو ‘ یکم جون کو نمائش کے لیے پیش کی گئیں اور ’ویرے دی ویڈنگ‘ نے پہلے روز 10کروڑ 70 لاکھ بھارتی روپے جب کہ ’بھویش جوشی سپر ہیرو‘ نے پہلے روز 50 لاکھ بھارتی روپے سے زائد کی کمائی کی۔ہرش وردان کی فلم اب تک باکس ا?فس پر صرف ایک کروڑ 40 لاکھ بھارتی روپے جب کہ سونم کی ’ویرے دی ویڈنگ‘ 48 کروڑ بھارتی روپے سے زائد کی کمائی کرچکی ہے۔اپنی فلم کی ناکامی کے بعد ہرش وردان نے کہا ہے کہ سونم نے ہر طرح کی فلموں میں کام کیا ہے اور میرے خیال میں ہیروئنز کئی فلموں میں ا?سانی سے فٹ ہوجاتی ہیں، انڈسٹری میں کئی بار اداکاراو¿ں کو ہیرو کے مقابلے میں جلدی تسلیم کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سونم کپور فلم ’پیڈمین‘ میں نظر ا?ئیں لیکن انہیں پورے 100 دن فلم کے سیٹ پر نہیں رہنا پڑا تاہم ہیرو ہونے کی وجہ سے فلم کا سارا بوجھ اپنے کندھوں پر لینا پڑتا ہے لیکن ہیروئن کے معاملے میں ایسا نہیں ہوتا ہے۔یاد رہے کہ ہرش وردان کپور کے کیریئر کی پہلی فلم ’مرزیا‘ 2016 میں ریلیز ہوئی تھی اور وہ بھی باکس ا?فس پر کوئی رنگ نہیں جماسکی تھی۔


















