لاہور (اے پی پی، مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف کو ان کے وعدے اور دعوے یاد کرواتے ہوئے 26 سوالات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ سوال صرف اور صرف تحریک انصاف کو اس کے عوام سے کیے گئے دعوے اور وعدے یاد دلانے کے لئے کر رہا ہوں۔ امید ہے کہ تحریک انصاف ان سوالوں کے سنجیدہ جواب دے گی۔ محمد شہباز شریف نے کہا کہ کیا تحریک انصاف بتائے گی کہ کہاں ہیں وہ 350 ڈیم؟ جن کی خان صاحب باتیں کرتے تھے؟ کہاں ہیں وہ مساجد کے اماموں کی تنخواہیں؟ کہاں ہیں وہ مساجد میں سولر سسٹمز؟ کیا وہ 250 کالج بن گئے؟ کہاں ہیں وہ ایک ہزار اسٹیڈیم کہاں ہیں؟ پورے پاکستان کو بجلی فراہم کرنے والے منصوبوں کا کیا ہوا؟ کیا آپ بتانا پسند کریں گے کہ کے پی کے میں وزیر اعلیٰ ہا¶س میں بننے والی یونیورسٹی اور گورنر ہاﺅس میں بننے والی پبلک لائبریری کو کون سے راستے جاتے ہیں؟ کیا کے پی میں 90 دن میں کرپشن ختم ہوگئی ۔ کیا آپ بتائیں گے کہ آپ نے تو پشاور کو پیرس بنانے کا اعلان کیا تھا اور آج آپ کے پانچ سالہ دور میں پشاور دنیا کا دوسرا گندا ترین شہر بن گیا ہے۔ آپ نے اسے میٹرو کے کھنڈرات میں بدل دیا ہے۔ آپ بتانا پسند کریں گے کہ آپ کے ٹرین منصوبے کا کیا ہوا؟ کہاں ہیں وہ آپ کے خیبر پختونخوا کو 100 سال تک فائدہ دینے والے پروجیکٹس؟ کیا آپ بتائیں گے کہ غیر ممالک سے نوکریوں کے لیے آنے والے غیر ملکی کس پردے میں چھپے ہوئے ہیں؟ ذرا قوم کو بتائیں کہ خیبر پختونخوا میں احتساب کا حال کیا ہے؟ کیا آپ بتائیں گے کہ کیا خیبرپختونخوا میں اقربا پروری ختم ہوگئی؟ کیا خیبر پختونخوا میں میرٹ کی دھجیاں اُڑنا بند ہوگئیں یا بڑھ گئیں؟ کیا افغانستان سے پاکستان میں آنے والی ہیروین اور چرس سمیت تمام نشہ آور اشیاءکی اسمگلنگ خیبرپختونخوا کی مثالی پولیس نے روک لی؟ کیا تحریک انصاف کے اعلان کے مطابق تحریکِ انصاف میں کرپٹ اور الیکٹ ایبلز کی بجائے پرانے اور مخلص کارکنوں کو ایم این اے اور ایم پی اے کی ٹکٹوں کے ساتھ ساتھ پارٹی کے عہدے دیے دیئے گئے ہیں؟ کیا عمران خان نے سرکاری وی آئی پی پروٹوکول کے ساتھ ساتھ سرکاری املاک کا اپنی ذاتی استعمال سے پرہیز کیا؟ کیا عمران خان نے جھوٹ کی بجائے قوم سے سچ بولا اور یُوٹرن لینا بند کردیے؟ اگر عمران احمد خان آئین و قانون کا احترام کرتے ہیں تو پھر وہ عدالت سے ساڑھے تین سال تک مفرور اشتہاری کیوں رہے؟ عمران احمد خان نے پارلیمنٹ سے استعفیٰ دیا، غیر حاضر رہے، پارلیمنٹ کو گالیاں دیتے رہے، پھر پارلیمنٹ سے تنخواہ کیوں لیتے رہے؟ انقلابی رہنما عمران خان کا فرمان تھا کہ مر جا¶ں گا مگر قرضہ نہیں لوں گا پھر اپنے حکومتی صوبے میں 5 سالوں میں ریکارڈ قائم کرتے ہوئے 3 کھرب روپے قرضے کیوں لے لیے؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ 2013ءمیں صادق و امین عمران خان کے اثاثے ڈیڑھ کروڑ تھے جو 2017ءمیں بڑھ کر ڈیڑھ ارب کیسے ہوگئے؟ ذرا قوم کو بتائیں گے کہ آپ کا ذریعہ آمدنی کیا ہے۔ ایسے میں میرا تحریک انصاف کے دوستوں سے سوال ہے کہ تبدیلی کے جھوٹے دعوے کرنے والاعمران خان جب ایک چھوٹے صوبے میں کچھ نہیں کر سکا تو پھر پورے پاکستان میں کیا کرے گا؟ شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان سنگاپور سمٹ پاکستان اور بھارت کے درمیان کے لیے ایک قابل تقلید مثال ہے۔شہباز شریف نے امریکہ اور شمالی کوریا کے سربراہوں کے درمیان ملاقات کو خوش آمدید قرار دیتے ہوئے کہا کہ کورین جزیرے میں لڑائی کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اچھے نہیں رہے ہیں جس کی بنائ پر دونوں ایک دوسرے کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی بھی دھمکی دیتے رہے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ اگر امریکہ اور شمالی کوریا ایٹمی جنگ کے قریب سے واپس آسکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان اور بھارت کشمیر پر دوبارہ مذاکرات کا آغاز نہ کر سکیں، جہاں کے لوگوں نے ?غاصبانہ قبضے اور جارحیت کے خلاف ایک عظیم جدوجہد رقم کر دی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اب وقت کی ضرورت ہے کہ پاکستان اور بھارت خطے میں امن کے لیے جامع مذاکرات کا آغاز کریں۔صدر مسلم لیگ ن نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں مستقل امن کے عمل پر تمام توانائیاں صرف کریں۔انہوں نے کہا کہ اب وقت ہے کہ پاکستان اور بھارت بھی کشمیر پر بامعنی مذاکرات کا آغاز کریں تاکہ اتنے لمبے عرصہ سے زیر التوائ اس مسئلہ کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جا سکے۔شہباز شریف نے عید الفطر کے موقع پر افغانستان میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان فائر بندی کے معاہدے کو بھی خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ درست سمت میں قدم ہے اور مجھے امید ہے کہ اس سے افغانستان میں مستقل امن کی راہ نکلے گی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغانستان میں امن کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے، ان میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مری میں پہلے مذاکرات کے لیے کلیدی کردار بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ اگلی بار جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت آئے گی تو خطے میں پائیدار امن اور افغانستان میں امن ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہو گا کیونکہ افغانستان میں امن پاکستان میں امن کے لیے ناگزیر ہے۔
Monthly Archives: June 2018
افتخار چوہدری عمران بارے جو مرضی کہیں ، پہلے ملک ریاض کے الزامات کا جواب دیں کہ ان کا بیٹا میرے کروڑوں ڈکار گیا، معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے مقبول پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ افتخار محمد چودھری سابق چیف جسٹس ہیں وہ بڑے شوق سے سیتا وائٹ والا کیس کریں ان کو پورا حق حاصل ہے۔ میں ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایک کتاب چھپی ہے ملک ریاض صاحب نے ان پر جو الزام لگایا تھا جناب افتخار چودھری کے بیٹے ارسلان پر الزام لگایا تھا کہ حضرت کی یہ رسیدیں ہیں یہ چیک نمبر ہیں ان ان ہوٹلوں میں یہ رہے ہیں ساتھ ایک خاتون کو بھی لے کر گئے تھے ان کا جواب کیوں نہیں دیتے۔ الزام لگا تھا کہ ارسلان نے چیف جسٹس کے ایڈریس پر اپنے باپ کے سرکاری ایڈریس پر ایک کمپنی رجسٹر کروائی اور صرف ایک سال میں اس نے ایسا زبردست بزنس کیا کہ 90 کروڑ روپے ان کا پہلے سال کا منافع ہوا۔ اس کے بعد اس منافع کی خوشی میں وہ ایک خاتون کو جو ان کی بیگم نہیں تھی ان کو ساتھ لے کر غیر ملکی سیر کو نکل پڑے اور ملک ریاض نے رسیدیں، ہوٹل کے بل، سارے اخراجات جو انہوں نے شاپنگ کی تھی خاتون کو بھی شاپنگ کروائی تھی وہ کروا کر جب وہ واپس آئے تو انہوں نے الزام لگایا ملک ریاض نے کہ اتنا پیسہ ان کا بیٹا میرے کھا گیا اور کس فرم کے ذریعے لکھا گیا جو ان کے سرکاری گھر کے پتہ پر بنی ہوئی تھی۔ اس بات کا کوئی جواب یہ نہیں دے سکے۔ اور انہوں نے ایسے بنچ میں لگوایا جس نے کیس ردوبدل کر دیا۔ دبا دیا ہے۔ اب یہ فرما رہے ہیں کہ وہ عمران خان کو ڈی سیٹ کروائیں گے نااہل کروائیں گے۔ یہ نیک، شریف آدمی یہ وہ شخص ہے جو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی بلٹ پروف گاڑی مانگتا رہا اور لی۔ اس غریب قوم کا پیسہ ضائع کیا۔ اور جواب نہیں دے سکا اس کے بیٹے نے اتنی لوٹ مار کیوں کی۔ یہ نوازشریف صاحب کے اتنے چہیتے تھے کہ نوازشریف نے ان کے بیٹے ارسلان کو جناب سونے کی کانوں کا معاملہ کھلا ہے۔ بلوچستان میں اس کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا۔ جب شور مچا بلی کو چھچھڑوں کی رکھوالی پر لگا دیا۔ تو پھر ان سے استعفیٰ دلوایا گا۔ یہ ان کی شاندار خدمات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت شہباز شریف اپنے خلاف الزامات کا جواب دیں جو کوئی سیاستدان نہیں بلکہ چیف جسٹس آف پاکستان لگا رہے ہیں۔ الزام یہ ہے کہ آپ نے 50 سے زائد پانی کی کمپنیاں بنا کر بھی ایک قطرہ پانی کا نہیں دیا اور 1 لاکھ 30 ہزار روپے تنخواہ لینے والے بیورو کریٹ کو 10، 20 لاکھ روپے تنخواہ پر ان کمپنیوں کا سربراہ بنا دیا۔ گزشتہ روز ہی سپریم کورٹ نے آپ کے بنائے ہوئے کڈنی و لیور انسٹیٹیوٹ کے فرانزک آڈٹ کا حکم دے دیا ہے۔ اس پر الزام ہے کہ جہاں ایک روپے کا کام تھا وہاں ایک ہزار روپے لگائے گئے۔ عمران خان کے بارے میں جو مرضی کہیں لیکن پہلے اپنے خلاف الزامات کا جواب دیں۔ ماہر قانون خالد رانجھا نے کہا ہے کہ عدالت نے سیتا وائٹ کیس میں بچی کو عمران خان کی بیٹی قرار دیا اور انہوں نے مانا تھا۔ پھر عدالت نے اسے ماں کے سپرد کیا جس کے فوت ہونے کے بعد اب وہ بچی میرے خیال میں جمائما کی حفاظت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر الزامات کی بات کرتے ہیں تو پتھر وہ پھینکے جس نے خود کوئی جرم نہ کیا ہو۔ افتخار چودھری اس حد تک نہ جائیں کہ لوگ ان پر الزام تراشی شروع کر دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سابق چیف جسٹس پر سرکاری گھر کے ایڈریس پر فرم بنانے سمیت دیگر الزامات لگے تھے لیکن ان کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ ابھی کیس زیر التوا ہے۔ جب سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کے خلاف ریفرنس دائر ہوا تو سپریم کورٹ نے اس کو معطل کر دیا، پھر آخر میں جو فیصلہ آیا اس میں کہا گیا کہ ہمیں اس معاملے میں اثر انداز ہونے کا کوئی اختیار نہیں لہٰذا جو ریفرنس میں الزامات تھے وہ آج بھی ہیں۔ سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا ہے کہ ارسلان چودھری کے خلاف شعیب سڈل کی سربراہی میں کمیشن بنا تھا لیکن شعیب سڈل نے بھی نرم ہاتھ رکھا۔ آخر میں لکھ دیا کہ ارسلان چودھری انکم ٹیکس کے حوالے سے 5 کروڑ روپے کے نادہندہ ہیں۔ لگتا تھا کہ اس پر بھی ان کے خلاف کیس دائر ہو سکتا ہے۔ شعیب سڈل کی وہ رپورٹ آج تک منظر عام پر نہیں آئی۔ شعیب سڈل نے بڑی نیکی و دیانتداری سے اچھی رپورٹ لکھی، اس میں ملک ریاض جو مدعی تھے وہ پیچھے ہٹ گئے اگر ایسا نہ ہوتا تو انہوں نے کیس کو بہت آگے لے کر جانا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ افتخار چودھرری خود 63,62 کے زمرے میں نہیں آتے، ان کے خلاف بھی بہت مواد ہے۔ ایمر جنسی پر ان کا پاس کیا گیا آرڈر بھی متنازعہ ہے۔ جس کے تحت 130 قابل ججز کو برطرف کر دیا تھا۔ 31 جولائی 2009ءکا فیصلہ ذاتی مفادات و بدنیتی پر مبنی ہے۔ اس وقت زرداری بھی اتنے مجبور تھے کہ جو آیا دستخط کرتے رہے۔ باقی ججز صاحبان نے بھی ہمت و جرا¿ت نہیں کی اگر 130 جج اکٹھے ہو کر عدالت سے رجوع کرتے تو معاملہ وہاں حل ہو سکتا تھا لیکن وہ خوفزدہ ہوگئے، ڈر گئے اور معافی مانگ کر جان چھڑا لی۔ اب عمران خان کا فرض ہے کہ پوری طرح کیس لڑے، عدالت سے کہے کہ جس نے ہمیں درخواست بھجوائی ہے اس پارٹی کے سربراہ کا ماضی خود 63,62 میں نہیں آتا تو بہت بڑا سکینڈل سامنے آ سکتا ہے۔ عمران خان کا کیس تو کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ مروت کی وجہ سے نہیں بولتے۔ ان کو نااہل کرنے کا دور دور تک کوئی نشان نہیں۔ عمران خان کی ٹیم کو چاہئے کہ افتخار چودھری کا سارا ماضی پیش کر دیں، 130 ججوں سے لے کر سپریم کورٹ کے 7 ججوں پر مشتمل بنچ کے نام نہاد آرڈر پاس کرانے تک تو بہت سارے حقائق سامنے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عشرت العباد نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ افتخار چودھری نے اندرونِ خانہ مشرف کو یقین دہانی کرا دی تھی کہ ان کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کروں گا۔ بعد میں کوئی گڑ بڑ ہو گئی جس پر مشرف نے ایمرجنسی لگا دی۔ انہوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس نے عمران خان پر وار کر دیا ہے، کراچی سے ان کے کاغذات نامزدگی چیلنج ہو گئے ہیں۔ ریٹرننگ افسر کو کہا ہے کہ عمران خان کو سیتا وائٹ کیس میں نااہل کیا جائے، 18 جون کو سماعت ہو گی۔ افتخار چودھری لاہور، اسلام آباد سمیت جہاں جہاں سے عمران خان الیکشن لڑ رہے ہیں وہاں اعتراضات داخل کرائیں گے۔ ریٹرننگ افسران اختیار ہونے کے باوجود ایسے پیچیدہ کیسز میں کاغذات نامزدگی نہیں بلکہ شکایت کنندہ کی درخواست مسترد کر دیتے ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری نے کہا ہے کہ عمران خان کے کراچی سے کاغذات نامزدگی چیلنج ہونے پر کوئی پریشانی والی بات نہیں۔ 1996ءمیں جب عمران خان نے سیاست میں قدم رکھا، اس وقت نون لیگ نے یہ گھٹیا سیاست شروع کی تھی اس سے پہلے بے نظیر و نصرت بھٹو کے خلاف بھی ایسی سیاست کو پروان چڑھایا گیا تھا۔ نون لیگ ہمارے جلسوں میں خواتین کی شرکت سے شروع ہوئی پھر ریحام خان کی کتاب لے آئے اور تاش کے پتوں میں سے یہ جوکر نکالا ہے جس کا نام افتخار چودھری ہے۔ عمران خان پر الزام کی کوئی حیثیت نہیں اور نہ ہی انہیں ان تمام معاملات پر کوئی فکر ہے۔
جیکولین کی آنکھ کی پتلی ٹیڑھی ہو گئی
ممبئی(شوبزڈیسک) بالی ووڈ کی خوربرو اداکارہ جیکولن فرنانڈس کی آنکھ مستقل خراب ہوگئی۔انڈسٹری میں کم وقت میں اپنی جگہ بنانے والی سری لنکن نڑاد بالی ووڈ کی خوبرواداکارہ جیکولن فرنانڈس آج کل اپنی آنے والی فلم ’ریس 3‘ کی پروموشن میں مصروف ہیں۔ اداکارہ فلم میں مختلف اسٹنٹس کرتی ہوئی نظر آئیں گی۔اسی متعلق اداکارہ نے انکشاف کیا کہ مارچ کے ماہ میں وہ فلم کی شوٹنگ کررہی تھیں کہ ان کی آنکھ پرلگ گئی تھی، اب اداکارہ نے انسٹاگرام پراپنی آنکھ کی تصویرشئیر کرائی جس میں ان کی آنکھ کی پتلی صاف طور ٹیڑھی دیکھی جاسکتی ہے۔
۔اداکارہ نے کہا کہ ان کی آنکھ کی پتلی مستقل طورپرٹیڑھی ہوچکی ہے جواب کبھی صحیح نہیں ہوگی، پر وہ شکرکررہی ہیں کہ وہ اس انجری کے بعد دیکھ سکتی ہیں۔
شہنشاہ غزل مہدی حسن کو مداحوں سے بچھڑے 6برس بیت گئے
لاہور (شوبزڈیسک) غزل گائیکی کے بے تاج باد شاہ مہدی حسن کی آج چھٹی برسی منائی جائے گی۔ سنگیت کی دنیا میں کئی دہائیوں تک راج کرنے والے مہدی حسن کا تعلق موسیقی کے کلاونت گھرانے کی سولہویں نسل سے تھا۔خان صاحب نے گلوکاری کا باقاعدہ آغاز 1952ءمیں ریڈیو پاکستان کے کراچی سٹوڈیو سے کیا اور 1957میں ریڈیو پاکستان ہی سے گائی ایک ٹھمری نشر ہونے کے بعد موسیقار حلقوں کی توجہ حاصل کی۔ جلد ہی ان کی آواز فلمی حلقوں میں کسی بھی فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھی جانے لگی۔مہدی حسن نے کل 440 فلموں کے لیےگیت گائے۔ ان کے گائے ہوئے گیتوں کی تعداد 623 ہے۔ انہوں نے 366 اردو فلموں میں 541 اور 74 پنجابی فلموں میں 82 گیت گائے۔ فلمی گیتوں میں ان کے سو سے زیادہ گانے اداکار محمد علی پر فلمائے گئے۔ اس کے علاوہ مہدی حسن ایک فلم” شریک حیات“ 1968 میں پردہ سیمیں پر بھی نظر آئے۔کئی دہائیوں پر محیط اس سفر میں انہوں نے مجموعی طور پر25ہزار سے زائد فلمی وغیرفلمی گیت، نغمے اور غزلوں میں آواز کا جادو جگا کر انہیں امر کردیا اور دنیا بھر میں بے مثال شہرت اور عزت پائی۔مہدی حسن کو ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی، تمغہ امتیازاور ہلال امتیازسے نوازا گیا۔ بھارت میں انہیں سہگل ایوارڈ جبکہ حکومت نیپال نے مہدی حسن کو گورکھا دکشنا بہو کا اعزاز عطا کیا۔انکا انتقال 13 جون 2012ءکو کراچی میں ہوا وہیںآسودہ خاک ہیں۔
پیپلز پارٹی آج پنجاب سے نامزد امیدواروں کا اعلان کرےگی
لاہور (نمائندہ خصوصی) پاکستان پیپلز پارٹی آج پنجاب اور لاہور سے قومی و صوبائی اسمبلی کے لیے نامزد امیدواروں کا اعلا ن کرے گی یہ اعلان بلاول ہاﺅس کراچی سے جاری کیا جائے گا جبکہ متعدد سیٹوں کا فیصلہ مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف سے ٹکٹ نہ ملنے والوں کو دیکھ کر کیا جائے گا کیونکہ بہت سے امیدواروں نے مختلف سیاسی پارٹیوں کو الیکشن 2018لڑنے کے لیے درخواستیں دے رکھی ہیں پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق لاہور کے چودہ حلقوں میں سے آٹھ حلقوں این اے 124چوہدری ظہیر احمد،این اے 126اورنگزیب برکی،این اے130 عدیل محی الدین،این اے 131عاصم محمود بھٹی ،این اے132ثمینہ خالد گھرکی،این اے133چوہدری محمد اسلم گل،این اے 135امجد جٹ اور حلقہ این اے 136کے لیے جمیل منج کے کنفرم ٹکٹ کے لیے نام آرہے ہیں جبکہ چھ قومی اسمبلی کے حلقوں میں پاکستان پیپلز پارٹی اپنے امیدواروں کا تعین کر رہی ہے پیپلز پارٹی لاہور میں جگہ جگہ افطار پارٹیاں کر رہی ہے گزشتہ روز قومی اسمبلی حلقہ 133کے امیدوار چوہدری محمد اسلم گل کے عزاز میں گرین ٹاﺅن کے علاقہ میں زونل صدر شیخ ارفان نے پیپلز پارٹی کے ہزاروں کارکنوں کو افطار ڈنر دیا اور الیکشن آفس کا افتتاح کیا گیا اس طرح حلقہ این اے 131کے قومی اسمبلی کے امیدوار عاصم محمود بھٹی نے ڈیفنس کے علاقہ xxبلاک میں اپنے مرکزی انتخابی دفتر کا افتتاح کیا اس تقریب میں ہزاروں کارکنوں نے شرکت کی جبکہ پیپلز پارٹی کے جیالے مرحوم کارکن بابا سائی ہرا کے بیٹے نے عابد مارکیٹ مزنگ روڈ پر پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں عزیز الرحمان چن ، چوہدری اسلم گل اور حافظ محی الدین کے اعزاز میںافطاری کا اہتمام کیا پیپلز پارٹی کے کارکن اندرون شہیر این اے 124میں چوہدری ظہیر احمد کی الیکشن کمپین افطاری ٹائم سے لے کر سہری تک کرتے ہیں اور متعدد جگہوں پر چوہدری ظہیر ااحمد انکے ساتھ ہوتے ہیں اور مل کر سحری اور افطاری کی جاتی ہے پیپلز پارٹی کی طرف سئے جن جن امیدواروں اپنے کاغذات نامزدگی رٹرننگ آفیسروں کے پاس جمع کر ا رکھے ہیں انکے کاغذات کی جانچ پڑتال کا سلسلہ جاری ہے تاہم کاغذات جمع کرانے والے پارٹی رہنماﺅ ںکا ایک ہی موقف پارٹی ٹکٹ جلد آز جلد جاری کیا جائے۔
دوستی سے انکار ، نوجوان کا اپنی کزن پر تشدد ، زیادتی کی کوشش
گگومنڈی(نامہ نگار)دوستی سے انکار،اوباش نوجوان اپنی ہی کزن دوبچوں کی ماں کی جان کادشمن بن گیا۔گھربلاکرخاوندکے سامنے اس کی عزت لوٹنے کی کوشش۔مزاحمت پرمارمارکرچہرہ بگاڑدیا۔ 255۔ای بی کی مسماة ثناءبی بی ایک نجی ہسپتال میں نرس جہاں اس کاکزن محمدحسین بطورڈسپنسر کام کرتاہے۔مسماة ثناءبی بی کی خبریں سے گفتگو۔متاثرہ خاتون نے تھانہ گگومنڈی پولیس کودرخواست دے دی ہے تاحال کاروائی نہیں ہوسکی۔ثناءبی بی کی ڈی پی اووہاڑی سیف اللہ خان سے فوری نوٹس لیتے ہوئے تحفظ فراہم کرنے کی اپیل۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روزنواحی گاﺅں255۔ای بی کی رہائشی مسماة ثناءبی بی زوجہ محمدعمرنے خبریں کوبتایاکہ میں ایک نجی ہسپتال میں نرس ہوںاسی ہسپتال میں میراکزن محمدحسین بطورڈسپنسرکام کرتاہے۔6سال قبل میری محمدعمرسے شادی ہوئی جس کے بطن سے میرے دوبیٹے ہیں۔میراکزن شروع دن سے ہی مجھ سے دوستی کرناچاہتاتھااور گزشتہ دوتین ماہ سے اس نے فون پر مجھے تنگ کرنامعمول بنالیاتھا۔میری شکایت پرمحمدحسین کے والدبشیراحمدنے مجھے کہاکہ شام کوتم میرے گھرآجانامیں تمہارے سامنے محمدحسین کوسمجھادوں گا۔شام کومیں اپنے خاوندمحمدعمرکے ہمراہ ان کے گھرگئی تومیرے کزن محمدحسین نے دروازہ کھول کرمجھے اندرگھسیٹ کراندرسے کنڈی لگالی۔گھرمیں اس وقت میراکزن اوراس کابھائی ثانی تھے۔میراکزن زبردستی مجھے ایک کمرے میں لے گیاجہاں وہ زبردستی مجھ سے زیادتی کی کوشش کرتارہا۔مزاحمت پرمیرے کزن نے مجھے شدیدتشددکانشانہ بناجس سے میرے ہونٹ پھٹ گئے اورچہرہ نیلگوں ہوگیا۔اس دوان میراشوہرباہرشورواویلاکرتارہا۔آخرکاراہل محلہ کی مداخلت کرکے دروازہ کھلوایااوراوباش کزن محمدحسین سے میری جان بخشی کروائی۔متاثرہ خاتون نے پولیس کودرخواست دے دی ہے تاحال کوئی کاروائی نہیں ہوسکی ہے۔مسماة ثناءبی بی نے خبریں کی وساطت سے ڈی پی اووہاڑی سیف اللہ خان سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔
حافظ آباد میں 5 بہنوں کا اکلوتا بھائی اجتماعی زیادتی کے بعد قتل ، ” خبریں ہیلپ لائن “میں انکشاف کے بعد ڈی پی او نے ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکمنامہ جاری کر دیا
حافظ آباد (بیورورپورٹ) حافظ آباد کے نواحی گاﺅں نالہ کلاں مےں پانچ بہنوں کا اکلوتا 17سالہ بھائی مبینہ اجتماعی زیادتی کے بعد قتل، تھانہ کسوکی پولیس نے قتل کو بجلی کے کرنٹ سے ہلاکت قرار دے کرمقتول کے مظلوم ورثاءکو ٹرخا دیا، پوسٹمارٹم رپورٹ آنے پر اجتماعی زےادتی اور تشدد کی تصدےق ہوئی تو ظالمانہ قتل کو چھپانے کا بھانڈا پھوٹ گےا۔ جس پر ورثاءپولےس کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے۔ ڈی پی او، سردار غیاث گل نے ایس ایچ او میاں ذوالفقار کی سخت سرزنش کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف فوری مقدمہ درج کر کے انہےں گرفتار کرنے کا حکم دے دےا۔ موضع نالی کلاں بشمولہ کوٹ حسن خاں کے رہائشی محنت کش اصغر علی کی قےادت مےں اہل خانہ نے احتجاج کرتے ہوئے بتاےا کہ تین دن قبل8جون کواس کے 17سالہ بیٹے اور پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی (ز) کو اسی گاﺅں کے رہائشی بااثر شخص رانا لیاقت علی کے دو بیٹے آصف اور ناصر اپنے ملازمین عبدالرحمان عرف میشو، شاہد مصلی، سفیان عرف بادشاہ اور ارشد ولد یونس کے ہمراہ صبح تقریباً9 بجے گھر سے بلا کر اپنے ڈیرے پر لے گئے جہاں انہوں نے مبینہ طور پر اس کے ساتھ زبردستی اجتماعی زیادتی کا ارتکاب کےا اور بعد ازاں اسے تشدد کرکے قتل کر دیا اور نعش ٹیوب ویل کی پانی والی حوضی میں پھنسا دی اور خود موقع سے فرار ہو گئے۔ دن تقریباً2بجے گھر والوں کو اطلاع ملی کہ (ز) کی نعش مذکورہ مقام پر پڑی ہے۔ جس پر تھانہ کسوکی پولیس کو قتل کی اطلاع دی گئی جس پر ڈی ایس پی صدر سرکل میاں توصیف اور ایس ایچ او بھی موقع پر پہنچ گئے جنہوں نے ملزمان کی مبینہ ملی بھگت سے قتل کو بجلی کے کرنٹ سے ہلاکت قرار دے کر مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا تاہم تےن دن گذرنے کے بعد پوسٹمارٹم رپورٹ میں اجتماعی زیادتی اور تشدد کی تصدیق ہو نے پر مقتول کے ورثاءپولےس کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے۔ جس پر مقتول کے ورثاءنے ڈی پی او سردار غیاث گل سے ان کے دفتر میں ملاقات کرکے انہےں صورتحال سے آگاہ کیا تو ڈی پی او نے ایس ایچ او میاں ذوالفقار کی سخت سرزنش کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرکے انہےں فوری گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔
مشرف نے آئین توڑا : ضمیر آفاقی ، نواز شریف خود کو میڈیا میں زندہ رکھنے کیلئے بیانات دے رہے ہیں، علی احمد ڈھلوں، لگتا ہے نثار کے پاس نواز شریف کے راز ہیں : میاں حبیب، عدالت کا مشرف کو چانس بہترین موقع : امجد اقبال ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کالم نگار علی احمد ڈھلوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں مفاد کی سیاست ہو رہی ہے۔ نوازشریف اب اپنے خلاف مقدمات سے فرار حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ چینل ۵ کے پروگرام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ نوازشریف خود کو میڈیا میں زندہ رکھنے کے لیے بیانات دے رہے ہیں۔ ان لوگوں نے نظام نہیں بنایا اور صرف اپنے مفادات دیکھے‘ میں سمجھتا ہوں اسحاق ڈار اور مفتاح اسماعیل کو ملٹری کورٹ کے حوالے کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا مشرف ایک بزدل آدمی ہیں وہ نہیں آئیں گے۔ انہوں نے کہا قوم کو لیڈر ٹھیک کرنا ہے۔ اگر لیڈر ہی کرپٹ ہو تو کیا کیا جا سکتا ہے۔ کالم نگار ضمیر آفاقی نے کہا کہ ملٹری کورٹس اچھا شگن نہیں۔ میرے خیال میں تو جمہوری حکومتوں کو مستحکم نہیں ہونے دیا گیا جس وقت تک ملک میں استحکام نہیں ہو گا ملک میں اس طرح کے بحران رہیں گے۔ مشرف نے آئین توڑا وہ عدالتوں سے اشتہاری ہیں۔ میرے خیال میں مشرف کو بھی عدالتوں میں پیش ہونا چاہئے لیکن میرے خیال میں پرویزمشرف واپس نہیں آئیں گے ان کے خلاف بہت کیسز ہیں۔ کالم نگار میاں حبیب نے کہا کہ نوازشریف اپنے کیس کو الجھانا چاہتے ہیں التوا میں ڈال کر راستہ نکالنا چاہتے ہیں۔ نواز اپنے کیس کو سیاسی ایشو بنا کر ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ چودھری نثار کے پاس بہت زیادہ راز ہیں۔ سینئر صحافی امجد اقبال نے کہا کہ نگران حکومت کے دور میں اگر مشرف آ جاتے ہیں تو ہو سکتا ہے وہ اس طرح کیس کی پیروی نہ کر سکے جس طرح کرنی چاہئے۔ عدالت مشرف کو موقع دے رہی ہے یہ موقع ان کے لیے بہتر بھی ہو سکتا ہے۔ چودھری نثار کے معاملے پر نوازشریف نے شاید شہبازشریف کی بات نہیں مانی اور آخر کار چودھری نثار کو بولنا پڑا۔
انگلینڈ اور آسٹریلیا آج پہلے ون ڈے میں آمنے سامنے
لندن(آئی این پی)انگلینڈ اور آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان پانچ ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا میچ کل بدھ کو لندن میں کھیلا جائیگا۔ تفصیلات کے مطابق دونوں ٹیموں کے درمیان میچ دے اینڈ نائٹ ہوگا۔ شیڈول کے مطابق دونوں ٹیموں کے درمیان پانچ میچوں کی سیریز کا دوسرا میچ 16 جون کو کارڈف میں کھیلا جائیگا، سیریزکا تیسرا میچ 19 جون کو نوٹنگھم میں کھیلا جائیگا، سیریز کا چوتھا میچ 21 جون کو چیسٹرلی سٹریٹ میں کھیلا جائیگا جبکہ سیریز کا پانچواں اور آخری میچ 24 جون کو مانچسٹر میں کھیلا جائیگا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان واحد ٹی ٹونٹی کرکٹ میچ 27 جون کو برمنگھم میں کھیلا جائیگا جو ڈے اینڈ نائٹ ہوگا۔
سعودی شائقین ورلڈ کپ میچزدیکھنے سے محروم
ریاض (یو این پی )سعودی شائقین ورلڈ کپ میں اپنی قومی ٹیم کا روس کیخلاف افتتاحی میچ ٹی وی پر براہ راست دیکھنے سے محروم ہوگئے جس کی وجہ سعودی عرب اور قطر کے نشریاتی کمپنی کے درمیان معاہدے کا ختم ہو جانا ہے تاہم حکام پر امید ہیں کہ ورلڈکپ میچز دکھانے کا جلد کوئی انتظام کرلیا جائے گا۔
وقار نے سٹارفاسٹ باﺅلر عامر کو ”فائٹر“قرار دیدیا
کراچی(یو این پی) سابق قومی کپتان وقار یونس نے پاکستانی ٹیم کے بائیں ہاتھ کے پیسر محمد عامر کو فائٹر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پانچ سالہ وقفے کے بعد کھیلنا آسان نہیں ہوتا،ان سے ماضی جیسی کارکردگی کی توقع درست نہیں کیونکہ کھیل کافی تیز ہو گیا ہے جبکہ ٹی ٹونٹی میچز اب بہت زیادہ کھیلے جانے لگے ہیں۔ حالیہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے دورے پر قابل قدر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے محمد عامر کے بارے میں وقار یونس کا ایک ویب سائٹ سے گفتگو میں کہنا تھا کہ وہ انگلش ٹیم کیخلاف لارڈز ٹیسٹ کے دوران قومی ٹیم کا اہم سرمایہ ثابت ہوئے لیکن کسی بھی باو¿لر کیلئے پانچ سالہ پابندی کے بعد کھیل میں واپسی آسان نہیں ہوتی اور ایک اٹھارہ سالہ نوجوان کی حیثیت سے جس پلیئر نے پانچ سال پابندی کی نذر کردئیے ہوں اس سے واپسی پر ماضی جیسے کھیل کی توقع درست نہیں ہے۔
کیونکہ اب کھیل کافی تیز رفتار ہو گیا ہے جس میں ٹی ٹونٹی میچوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے لیکن اس کے باوجود محمد عامر ایک فائٹر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ ہی بائیں ہاتھ کے پیسر کی کھیل میں واپسی کی حمایت کرتے رہے کیونکہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ زندگی میں کسی سے بھی غلطی یا کوتاہی ہو سکتی ہے اور ہم جس دنیا میں جی رہے ہیں وہاں دوسروں کو معاف کرکے آگے بڑھ جانا چاہئے کیونکہ انہوں نے اپنی غلطی سے سبق سیکھ لیا ہوتا ہے۔انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ محمد عامر پاکستان کرکٹ کیلئے بدستورایک سرمایہ اور فتح گر باو¿لر ہے۔ سٹرائیک باو¿لر کی حیثیت سے تینوں فارمیٹس میں کھیلنے والے محمد عامر پر بہت زیادہ بوجھ ہے کیونکہ وہ دنیا بھر میں ٹی ٹونٹی لیگز بھی کھیل رہے ہیں لہٰذا انہیں چاہئے کہ خود پر پڑنے والے بوجھ کا خیال کرتے ہوئے خود میں ملک کیلئے کھیلنے کی بھوک بیدار کریں۔
سرفراز ورلڈکپ تک ٹیم کے کپتان رہیں گے،سیٹھی
لاہور(سی پی پی) پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھینے کہاہے کہ انگلینڈ کیخلاف ٹیسٹ سیریز برابر کرنا بڑی کامیابی ہے ،ہماری ٹیم نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے اور سیکھنے کے مراحل سے گزر رہی ہے ،سر فراز احمد ورلڈکپ 2019 تک پاکستان ٹیم کے کپتان برقرار رہیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک انٹر ویو کے دوران کیا۔ نجم سیٹھی نے کہاکہ آئرلینڈ کرکٹ بورڈ کی جانب سے ٹیسٹ میچ دیکھنے کی دعوت پر وہاں گئے تھے لیکن اس مرتبہ ٹیم کے ساتھ دورہ کچھ زیادہ طویل ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ کپتان سرفراز احمد کو سپورٹ کیا ہے ، سرفراز کے علاوہ ہماری ٹیم میں کوئی بھی کھلاڑی کپتانی کا اہل نظر نہیں آتا،،میرا پورا اعتماد سرفراز احمد پر ہی ہے۔ چیئرمین پی سی بی نے مزید کہا کہ کرکٹ گرانڈز کے بارے میں بھی پالیسی بنالی گئی ہے ،کرکٹ کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ سٹیڈیم کی پچز پر کتنے میچز کھیلے جاسکتے ہیں۔
، اگر پی سی بی کو گراﺅنڈ کی ضرورت ہے تو کسی کو بھی گراﺅنڈ نہیں ملے گا۔انہوں نے بتایا کہ پی ایس ایل فرنچائززکی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انتخابات اور پھر نئی حکومت آنے کے بعد نجم سیٹھی چیئرمین برقرار رہیں گے ، اس سوال پر انہوں نے بتایا کہ میں نے اپنا کام پوری ایمانداری سے کیا ہے۔
رسول اکرم اخلاق کا پیکر تھے : علامہ رشید ترابی ، قرآن کریم میںسب کیلئے رہنمائی ہے : مولانہ اصغر فاروق ، چینل ۵ کے پروگرام ” مرحبا رمضان “ میں گفتگو ، طارق طافو نے نعت رسول پیش کی
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) رمضان المبارک کا آخری عشرہ کی طاق راتیں عبادات کے لحاظ سے بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ چینل فائیو کے پروگرام مرحبا رمضان میں گفتگو کرتے ہوئے علامہ رشید ترابی نے بتایا کہ نبی کریم کی حیات طیبہ ہم سب کے لئے بہترین نمونہ اور ضابطہ حیات ہے۔اخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں نبی کریم حسن اخلاق کا پیکر تھے جس کی قرآن نے بھی گواہی دی ہے۔نبی کریم سے جب کوئی سوال کرتا تو آپ فوراً اس کی طر ف توجہ فرماتے اور بڑے انہماک کے ساتھ اس کی پوری بات سنتے تھے۔بچوں کو سلام میں پہل کرتے تھے۔غیر مسلموں کے ساتھ بھی آپ اخلاق سے پیش آتے۔نبی کریم کے دنیا میں آنے سے قبل لوگ عجیب طرح کی جہالت میں ڈوبے ہوئے تھے ذرا ذرا سی بات پر لڑائی جھگڑا اور قتل و غارت معمول تھا لیکن آپ کی آمد نے معاشرے کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا اور آپ کی تعلیمات کے نتیجے میں صحیح معنوں میں ایک فلاحی معاشرہ تشکیل پایا کمزوروں کو ان کے حقوق ملے لوگوں نے جینے کا سلیقہ سیکھا۔کفار بھی آپ کے اخلاق اور صادق و امین ہونے کے معترف تھے۔افسوس آج ہم اپنے معاملات میں بے ایمانی کرتے ہیں ملاوٹ کرتے ہیں بزور بازودوسروں کا حق غصب کرتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں۔علامہ رشید ترابی نے بتایا کہ اگر کوئی آپ سے سوال کرے تو اسے جھڑکیں مت بلکہ پیار اور اخلاق سے پیش آئیں۔ اگر آپ کے پاس کچھ ہے تو دے دیں وگرنہ اس سے اخلاق کے ساتھ معذرت کر لیں۔ اس سے یہ ہو گا کہ سائل اپنا سوال بھول کر آپ کے اخلاق کو یاد رکھے گا۔ مولانا اصغر فاروق نے بتایا کہ قرآن کریم میں سارے انسانوں کے لئے رہنمائی موجود ہے۔ یہ کسی ایک قوم قبیلے یا بستی کےلئے نہیں نازل ہوا۔ یہ پوری انسانیت کو مخاطب کرتا ہے اور سب کے لئے رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہے لیکن افسوس ہمارے گھروں میں قرآن تو موجود ہے لیکن ہم اس سے رہنمائی نہیں لیتے نہ ہی اس بات پر غور کرتے ہیں کہ اس کتاب میں اللہ تعالی ہم سے مخاطب ہے۔ ہم تک اپنا پیغام پہنچا رہا ہے۔ ہم قرآن کریم پر عمل کر کے ہی دنیا و آخرت میں کامیابی سے ہمکنار ہو سکتے ہیں۔ افسوس ایک عام انسان سے ہم کیا توقع ر کھیں علمائے کرام آپس میں اختلاف کا شکار ہیں۔ پروگرام میں معروف فنکار طارق طافو نے خصوصی طور پر شرکت کی انہوں نے کلام پاک، ”کرم مانگتا ہوں عطا مانگتا ہوں، الہی میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں “ پڑھ کر سنایا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بحیثیت مسلمان ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا چاہئے رمضان میں منافع خوری سے گریز کرنا چاہئے بلکہ کوشش کرنی چاہئے کہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں رضاکارانہ کمی کی جائے تاکہ غریب اور متوسط طبقہ کے لئے رمضان المبارک میں آسانی پیدا ہوسکے۔


















