زرداری ، بلاول ، فریال تالپور ، خورشید شاہ کو بلا مقابلہ جتوانے کی کوششیں

لاہور(احسان ناز سے)پاکستان پیپلز پارٹی سندھ میں پارٹی قیادت کے مقابلہ میں آنے والے امیدواروں کو دستبردار نہ کرا سکی مختلف امیدوار غائب بعض نے اپنے عہدوں سے استعفے دے دیے معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے صدر آصف علی زرداری نواب شاہ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری لاڑکانہ آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور اور دیگر پارٹی رہنماﺅں جن میں سید خورشید شاہ سکھرشامل ہیں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا اور اپنی سیاسی طاقت دکھانے کے لیے ضروری سمجھا تھا کہ متذکراہ لیڈران قومی اسمبلی کے اپنے اپنے حلقوں میں سے بلامقابلہ کامیاب کرائے جائیں لیکن مقابلے میں امیدوار ڈٹ گئے اس طرح ابھی تک قیادت میں سے کوئی بھی بلا مقابلہ ہونے کا لیبل اپنے سینہ پر نہیں لگا سکاذرائع نے بتایا ہے کہ قیادت کے مقابلہ میں ان حلقوں کے جس جس پارٹی کے امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرا رکھے تھے ان سب سے الگ الگ رابطہ کر کے مقابلہ سے دست بردار ہونے کا کہا گیا ہے لالچ دیا گیا اور بعض کو مختلف انداز میں زور بازو دستبردار کرانے کی کوشش کی گئی اس کوشش میں سیاسی اثرورسوغ رکھنے والے علاقائی پارٹی رہنماﺅں کی مدد سندھ انتظامیہ نے کی لیکن رزلٹ زیرو رہا ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ یہ کام ابھی تک جاری ہے اور جب تک کاغذات نامزدگی واپس لینے کی تاریخ ہے جاری رہے گا یاد رہے 1977میں ذولفقار علی بھٹو کو بھی اس وقت کے ڈی سی خالد احمد خان کھرل نے بلا مقابلہ جماعت اسلامی کے امیدوار جان محمد عباسی کو اغوا کر کے کروایا تھا اور پھر حکومت بننے کے بعد الیکشن میں دھاندلی کے خلاف اپوزیشن جماعتوں قومی اتحاد نے جن کو نو ستارے بھی کہا جاتا تھا ان میں جمعیت اعلماءپاکستان کے سربراہ مولانا شاہ احمد نورانی، جمعت علماءاسلام کے سربراہ مفتی محمود، جماعت اسلامی کے امیر مولوی محمد طفیل،پاکستان ڈیموکریٹ پارٹی نواز زادا نصراللہ خان اور دیگر اہم ستارے سامل تھے انہوں نے الیکشن میں دھاندلی کے خیلاف زبردست تحریک چلائی جس کی پاداش میں ذولفقار علی بھٹوکو ضیا الحق کی مارشل لا کا سامنا کر ناپڑا ۔

میاں صاحب نے پاکستان کو ایسی جگہ پہنچا دیا ، دنیا مذاق اڑا رہی ہے ، آصف زرداری

نواب شاہ (صباح نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ میاں صاحب نے ملک کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ دنیا پاکستان کا مذاق اڑا رہی ہے۔نوشہرو فیروز میں پیپلز پارٹی کے رہنما عبدالحق بھرٹ کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے آصف زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اصولوں پر سیاست کی ہے۔آصف زرداری نے الزام عائد کیا کہ میاں صاحب نے پاکستان کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے دنیا ہمارا مذاق اڑا رہی ہے۔شریک چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں ہمارے امیدوار کامیاب ہوں گے اور انتخابات میں مخالفین کو عبرت ناک شکست دیں گے پیپلز پارٹی حکومت بنائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومت نے جو غلط کام کیے ہیں پیپلز پارٹی حکومت میں آکر انہیں درست کرے گی ،پیپلز پارٹی اقتدار میں آکر پاکستان کو مضبوط اور خوشحال ملک بنائے گی۔پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کا کہنا تھا کہ آج سے میں نے اپنی الیکشن مہم کا باقاعدہ مہم کا آغاز کر دیا ہے، فریال تالپور نے نواب شاہ میں بہت کام کرایا ہے مگر اس کے باوجود یہاں مزید کئی ترقیاتی کاموں کی ضرورت ہے، اس لیے میں نے خود الیکشن لڑنے کا اعلان کیا، الیکشن میں کامیاب ہوکر نواب شاہ ضلع کو ماڈل ضلع بناو¿ں گا۔ لاہور والوں کو دعوت دے کر نواب شاہ بلاو¿ں گا اور انہیں دکھاو¿ں گا کہ ماڈل ضلع کیسا ہوتا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ پیپلزپارٹی انتخابات میں مخالفین کو عبرتناک شکست دے گی اور اقتدار میں آکر پاکستان کو مضبوط اور خوشحال ملک بنائے گی۔ انتخابات میں مخالفین کو عبرت ناک شکست دیں گے، کارکن الیکشن کی بھرپور تیاری کریں۔ پیپلز پارٹی اقتدار میں آکر پاکستان کو مضبوط اور خوشحال ملک بنائے گی۔پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کا کہنا تھا کہ آج سے میں نے اپنی الیکشن مہم کا باقاعدہ مہم کا آغاز کر دیا ہے، فریال تالپور نے نواب شاہ میں بہت کام کرایا ہے مگر اس کے باوجود یہاں مزید کئی ترقیاتی کاموں کی ضرورت ہے، اس لیے میں نے خود الیکشن لڑنے کا اعلان کیا، الیکشن میں کامیاب ہوکر نواب شاہ ضلع کو ماڈل ضلع بناو¿ں گا۔ لاہور والوں کو دعوت دے کر نواب شاہ بلاو¿ں گا اور انہیں دکھاو¿ں گا کہ ماڈل ضلع کیسا ہوتا ہے۔

فوجی جوان وطن کی حفاظت کیلئے گھروں سے دور رہتے ہیں : جنرل قمر جاوید باجوہ

راولپنڈی /وانا(آئی این پی)پاک فوج کے سربراہ جنر قمر جاوید باجوہ نے لائن آف کنٹرول پر فوجی جوانوں کے ساتھ عید منائی ، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف نے لائن آف کنٹرول پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید ادا کی اور پاکستان کی خوشحالی اور امن کے لیے دعا کی۔اس موقع پر آرمی چیف نے مادر وطن کی حفاظت کے لیے جوانوں کے بلند حوصلوں، عزم اور وفاداری کو سراہا۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے جوانوں سے خطاب میں کہا کہ ایک سپاہی کی حیثیت سے ہمیں اس بات پر فخر ہونا چاہیے کہ ہم اپنے وطن اور ہم وطنوں کی حفاظت کی خاطر اپنا فرض ادا کرنے گھروں سے دور رہتے ہیں اور اس طرح کے تہوار بھی اپنے پیاروں سے دور مناتے ہیں۔آرمی چیف نے اس موقع پر خاص طور پر مادر وطن کے دفاع میں جام شہادت نوش کرنے والے جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا ، اس موقع پر کور کمانڈر راولپنڈی بھی آرمی چیف کے ہمراہ تھے۔ قبل ازیں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک افواج کی طرف سے پوری قوم کو عید مبارکباد دی ، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ پرامن ماحول میں عید کا تہوار شہداء اورغازیوں کی مرہون منت ہے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ہم اپنے تمام شہداء اور غازیوں کو سلام پیش کرتے ہیں ، آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے مزید کہا کہ اللہ پاکستان پر اپنی رحمتیں برساتا رہے۔

نادرا سیاست زدہ ہو چکا اسے فوج کے حوالے کیا جائے : کنور دلشاد

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا ہے کہ نادرا سیاست زدہ ہوچکا ہے اسی ادارے کو فوج کےحوالے کردینا چاہیے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اداروں کی سیاست سے پاک ہونا چاہیے بدقسمتی سے نیب سیاست زدہ ہوچکا ہے نادرا پہلے تحریک انصاف کے الزامات کی تردید کرتا رہا اب الیکشن کمیشن نے بھی اسے خط لکھ دیا ہے۔

پیپلز پارٹی نے ن لیگ قیادت کو مفاہمت کا گرین سگنل دیدیا

لاہور(حسنین اخلاق)چوہدری نثار علی خان کو پارٹی ٹکٹ جاری نہ ہونے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے ن لیگی قیادت کو مفاہمت کا گرین سگنل دے دیاہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ مسلم لیگ ن جو کہ گزشتہ کافی عرصہ سے پی پی پی سے سیاسی مفاہمت کی کوشش کررہی تھی کو بالاخر پیغام بھجوادیا گیا ہے کہ آئندہ عام انتخابات کے بعد دونوں جماعتیں مشترکہ طور پر حکومت سازی کی طرف جاسکتی ہیں اوراگر پی پی پی اور ن لیگ کا اتحاد بن جاتا ہے تو یہ بہت ہی آسانی سے حکومت بنا سکتے ہیں اور پھرسونے پہ سہاگہ دونوں جماعتوں کی سینیٹ میں(33 23) 56 سیٹوں کے ساتھ واضح اکثریت ہو گی جس کا سیدھا سادا مطلب ہے کہ چند دیگر چھوٹی جماعتوں کے ساتھ آئین میں آسانی سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ ترامیم بھی کروا سکتے ہیں۔جب کہ تحریک انصاف کے پاس سینیٹ میں صرف 13 سیٹیں ہیں اس کیلئے ابھی بہت سی مشکلات موجود ہیں اس لحاظ سے پیپلز پارٹی بے انتہا خوش قسمت دکھائی دیتی ہے کہ اس کے بنا حکومت بنتی دکھائی نہیں دیتی اور اس کے پاس بہرحال یہ آپشن موجود ہے کہ وہ ن لیگ یا پی ٹی آئی میں سے کسی کے ساتھ بھی اتحاد کر سکتی ہے اورممکنہ ا تحاد کی مد میں اپنی خواہشات و شرائط بھی لاگو کرسکتی ہے۔ ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ن لیگ پنجاب میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے کم از کم ساٹھ حلقوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کوسیٹ ایڈجسٹمنٹ یا خاموش حمایت کے ذریعے مدد فراہم کرے گی اس میں زیادہ تر حلقوں کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے اسی طرح کے پی کے میں بھی دونوں جماعتوں کے درمیان ایسی ہی ایڈجسٹمنٹ بھی کی جائے گی۔ن لیگ کی جانب سے پی پی پی کی قیادت کو یہ پیغام بھی بھجوایا گیا ہے کہ پنجاب حکومت میں بھی پیپلز پارٹی کو چار سے پانچ وزارتیں دی جائیں گی دوسری جانب سابق صدر آصف علی زرداری کو بھی پنجاب کی قیادت کی طرف سے یہ فیڈ بیک دیا گیا ہے کہ صوبے میں پارٹی کو ازسر نو فعال کرنے کے لیے سماجی کاموں کی ڈیلیوری بہت ضروری ہے جو حکومت میں شامل ہوئے بغیر ممکن نہیں ہے۔ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ پی پی پی کی جانب سے یہ نرم رویہ پارٹی میں ان رہنماﺅں کے پی ٹی آئی میں جانے کے بعد اختیار کیا گیا جو ن لیگ کی پارٹی فورم پر شدید مخالفت کرتے تھے۔

حافظ آباد میں خوفناک واقعہ ، درندہ صفت نوجوان کی 7 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی

حافظ آباد (بیورو رپورٹ) حافظ آباد کے محلہ تاجپورہ مےں درندہ صفت نوجوان کی 7 سالہ بچی سے مبےنہ زےادتی۔ پولےس نے ملزم کو گرفتار کرلےا۔ تفصےلات کے مطابق مظہر اقبال کی سات سالہ بےٹی (م) اسد سہےل کے گھر پڑھنے کے لئے گئی جہاں اس نے مبےنہ طور پر بچی کے ساتھ زےادتی کا ارتکاب کےا۔ پولےس تھانہ سٹی نے بھاری پولےس نفری کے ہمراہ محلہ تاجپورہ مےں رےڈ کرکے ملزم اسد سہےل کو گرفتارکرلےا۔ جبکہ بچی کے مےڈےکل کے بعد پولےس نے ملزم کے خلاف قانونی کاروائی شروع کردی ہے۔

ووٹرز کا ڈیٹا غیر متعلقہ افراد کو فراہم

اسلام آباد (آئی این پی‘ مانیٹرنگ ڈیسک) عام انتخابات کی شفافیت پر ایک اور سوالیہ نشان لگ گیا، ووٹرز کا ڈیٹا لیک ہونے پر الیکشن کمیشن نے چیئرمین نادرا کو خط لکھ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ نادرا حکام نے ووٹرز کا ڈیٹا غیر متعلقہ افراد کو لیک کیا‘نادرا نے الیکشن کمیشن کےساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کی‘ ڈیٹا الیکشن کمیشن پہنچنے سے پہلے ہی غیر متعلقہ افراد کے پاس پہنچ گیا‘ووٹرز کا ڈیٹا غیر مجاز افراد کے ہاتھوں تک پہنچنے کے خدشات ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق الیکشن کمیشن نے ووٹرز کا ڈیٹا لیک ہونے پر الیکشن کمیشن نے چیئرمین نادرا کو خط لکھ دیا جس میں کہا ہے کہ نادرا حکام نے ووٹرز کا ڈیٹا غیر متعلقہ افراد کو لیک کیا، نادرا نے الیکشن کمیشن کےساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کی، ڈیٹا الیکشن کمیشن پہنچنے سے پہلے ہی غیر متعلقہ افراد کے پاس پہنچ گیا، نادرا ڈیٹا لیک کرنے والوں کےخلاف کارروائی کرے، معاہدے کے تحت نادرا ووٹرز کا ڈیٹا کسی سے شئیر نہیں کر سکتا، ووٹرز کا ڈیٹا غیر مجاز افراد کے ہاتھوں تک پہنچنے کے خدشات ہیں۔ چیئرمین نادرا عثمان مبین پر الزام سامنے آیا ہے کہ انہوں نے ن لیگ کو الیکشن جیتنے میں مدد فراہم کرنے کےلئے ووٹرز کا ڈیٹا فراہم کردیا ہے۔الیکشن کمیشن نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے چیئرمین نادرا عثمان مبین کو خط لکھ کر ووٹرز کا ڈیٹا لیک ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ خط میں کہا گیا کہ نادرا حکام نے ووٹرز کی معلومات غیر متعلقہ افراد کو فراہم کرکے الیکشن کمیشن کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کی، ووٹرز کا ڈیٹا الیکشن کمیشن پہنچنے سے پہلے ہی غیر متعلقہ افراد کے پاس پہنچ گیا۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ ووٹرز کا ڈیٹا غیر مجاز افراد کے ہاتھوں تک پہنچنے پر خدشات ہیں، معاہدے کے تحت نادرا ووٹرز کا ڈیٹا کسی سے شیئر نہیں کر سکتا، نادرا معلومات ظاہر کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔ ترجمان الیکشن کمیشن نے مزید وضاحت کی کہ نادرا کے حوالے سے پی ٹی آئی کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی، نادرا کو خط تحریک انصاف کی درخواست پر نہیں لکھا گیا، بلکہ کمیشن کی اجازت کے بغیر ووٹرلسٹوں کے بعض اعداد و شمار شائع ہونے پر نادرا سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے پاکستان مسلم لیگ ن کو الیکشن جیتنے میں مدد فراہم کرنے کے الزام میں چیئرمین نادرا کے خلاف الیکشن کمیشن جانے کا فیصلہ کرلیا۔پی ٹی آئی کے سینئر نائب صدر بابر اعوان کی جانب سے نادرا چیئرمین عثمان مبین کو ہٹانے کیلئے پٹیشن تیار کر لی گئی جس میں چیئرمین نادرا پر ن لیگ کو الیکشن جیتنے میں مدد کیلئے ڈیٹا فراہم کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔پٹیشن کے متن میں مو¿قف اختیار کیا گیا ہے کہ عثمان مبین کو چیئر مین نادرا کے عہدے سے ہٹایا جائے کیونکہ چیئرمین نادرا کو مسلم لیگ ن نے تعینات کیا تھا۔ عثمان مبین کی مودجودگی میں شفاف الیکشن نہیں ہو سکتا۔پی ٹی آئی کے سینئر رہنما بابر اعوان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن میں چیئر مین نادرا کے خلاف پیٹیشن جلد دائر کریں گے۔ترجمان نادرا نے ادارے پر دھاندلی کے الزام بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نادرا نے کسی قسم کا ڈیٹا کسی بھی سیاسی جماعت کو نہیں دیا۔ترجمان نادرا کا کہنا تھا کہ عام انتخابات کے انعقاد میں نادرا کا محدود کردار ہے، ادارہ آئین کے تحت الیکشن کمیشن کی تکنیکی مدد کر رہا ہے۔ نادرا حکام نے کہا ہے کہ کسی سیاسی پارٹی کو ڈیٹا فراہم نہیں کیا۔ الیکشن کمیشن کو آئین کے تحت مدد فراہم کرر ہے ہیں۔الیکشن میں نادرا کا کردار محدود ہے۔ ترجمان نے دھاندلی سے متعلق تمام الزامات مسترد کردئیے۔ واضح رہے کہ تحریک انصاف نے چیئر مین نادرا کے خلاف الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے چیئرمین نادرا کے خلاف الیکشن کمیشن میں پٹیشن دائر کرنے کی ہدایت کردی۔ نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی نے الیکشن کمیشن کے خط پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انگریزی اخبار میں چھپنے والے ڈیٹا سے کسی سیاسی جماعت کو فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ووٹرز ڈیٹا لیکس کے معاملے پر نادرا نے الیکشن کمیشن سے رابطہ کر کے ڈیٹا کی تفصیل اخبار میں چھپنے پر وضاحت دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ووٹرز کا ڈیٹا کسی سیاسی جماعت کو نہیں دیا، انگریزی اخبار میں چھپنے والے ڈیٹا سے کسی سیاسی جماعت کو فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔الیکشن کمیشن کی جانب سے خط میں کہا گیا تھا کہ نادرا حکام نے ووٹرز کا ڈیٹا غیر متعلقہ افراد کو لیک کیا۔ نادرا نے الیکشن کمیشن کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ نادرا ڈیٹا لیک کرنے والوں کےخلاف کارروائی کرے۔ خط میں کہا گیا تھا کہ معاہدے کے تحت نادرا ووٹرز کا ڈیٹا کسی سے شئیر نہیں کر سکتا ¾ووٹرز کا ڈیٹا غیر مجاز افراد کے ہاتھوں تک پہنچنے کے خدشات ہیں۔

نواز شریف میرا مقروض ، باپ بیٹی کا کردار سامنے لاﺅنگا

راولپنڈی (این این آئی‘ صباح نیوز) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ناراض رہنما سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے نواز شریف اور ان کی بیٹی کا جو کردار رہا ہے وہ سامنے لانا چاہتا ہوں  نوازشریف بہت زیادہ سینئر یا اہل نہیں تھے کہ پارٹی سربراہ بن سکیں 34 سال سے نواز شریف کا بوجھ اٹھایا، نواز شریف کا مجھ پر نہیں  میرا ان پر اور شریف خاندان پر قرض ہےہو سکتا ہے نواز شریف سے راہیں جدا ہو جائیں نہ بکنے والا ہوں اور نہ ضمیر فروش ہوں، سیاست صرف عزت کے لیے کروں گا، کسی کے پیچھے ہاتھ باندھ کر کھڑا نہیں ہوا اور نہ کسی کی چاپلوسی کی ووٹ کو عزت دینے کا نعرہ لگانے والے اس شخص کو نظر انداز کر رہے ہیں جو 1985 سے الیکشن جیتتا آ رہا ہے۔ پیر کو کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ جب مسلم لیگ ن بنا رہے تھے تو 15 سے 20 لوگ تھے لیکن آج ان لوگوں میں سے ایک بھی پارٹی میں موجود نہیں ہے، ان تمام افراد کو یا تو نواز شریف نے چھوڑ دیا یا انہوں نے پارٹی چھوڑ دی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف بہت زیادہ سینئر یا اہل نہیں تھے کہ پارٹی سربراہ بن سکیں لیکن ان دنوں کسی ایک کو آگے کرنا تھا تو فیصلہ کیا کہ نواز شریف کو آگے کر دیا جائے۔ انہوںنے کہا کہ 34 سال سے نواز شریف کا بوجھ اٹھایا، نواز شریف کا مجھ پر نہیں بلکہ میرا ان پر اور شریف خاندان پر قرض ہے۔سابق وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ چاہتا تھا کہ آج ن لیگ اور نوازشریف کے حوالے سے کھلی باتیں کروں، ارادہ تھا بہت سی دل کی باتیں کھل کر سامنے رکھوں لیکن میڈیا کے سامنے بہت سی باتیں نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور ان کی بیٹی کا جو کردار رہا وہ سامنے لانا چاہتا ہوں تاہم نواز شریف اور (ن) لیگ کے ساتھ چند ماہ سے جو کچھ ہو رہا ہے بتانے کایہ موقع نہیں کیونکہ بیگم کلثوم نواز کی طبیعت خراب ہے۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ میری نواز شریف سے راہیں جدا ہو جائیں، میں نے ہمیشہ سر اٹھا کر سیاست کی، کوئی کام اصولوں کے خلاف نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ نہ بکنے والا ہوں اور نہ ضمیر فروش ہوں، سیاست صرف عزت کے لیے کروں گا، کسی کے پیچھے ہاتھ باندھ کر کھڑا نہیں ہوا اور نہ کسی کی چاپلوسی کی۔ سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ ووٹ کو عزت دینے کا نعرہ لگانے والے اس شخص کو نظر انداز کر رہے ہیں جو 1985 سے الیکشن جیتتا آ رہا ہے۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ جو مجھے خاموش رہنے کا کہتے ہیں ان کو کہتا ہوں 25 جولائی کو عوام جواب دیں گے۔ تحریک انصاف کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے چوہدری نثار نے کہا کہ اس حوالے سے خبریں نہ پھیلائی جائیں، جو فیصلہ کروں گا سب کو بتاو¿ں گا۔ انہوں نے کہا کہ جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہو وہ اکیلا نہیں ہوسکتا اور مخلوق خدا جس کے ساتھ ہو اس کو کوئی ہرا نہیں سکتا۔ چوہدری نثار کے جلسے میں گو نواز گو کے نعرے بھی لگ گئے جس پر مسلم لیگ ن کے ناراض رہنما نے کہا کہ وہ تو ہو گیا اب یہ وقت نہیں ہے۔ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا مجھ پر نہیں بلکہ میرا ان پر اور ان کے خاندان پر قرض ہے جب کہ ہو سکتا ہے میری نواز شریف سے راہیں جدا ہو جائیں۔ ان کو اس وقت مسلم لیگ ن کا صدر بنایا جب کوئی جنرل کونسل کے اجلاس کیلئے جگہ دینے کیلئے تیار نہیں تھا۔تفصیلات کے مطابق چکری میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے چودھری نثار نے کہا ہے کہ عوام تیار ہو جائیں اور ٹکٹو ں والوں اور بے ٹکٹوں کو دریامیں بہا دیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام مجھے 1985سے کامیاب کرتے آرہے ہیں ۔ میرا اور عوام کا رشتہ ووٹراور امیدوار کا نہیں بلکہ ہمارا رشتہ مٹی کا رشتہ ہے ۔ میرا جلسہ سے دیکھ کر مخالفین پر خوف طاری ہو گیا ہے ۔ 25جولائی کا سورج کارکنوں کی فتح کا پیغام لیکر طلوع ہوگا ۔ مخالفین کو علم ہونا چاہئے کہ میں اکیلا نہیں ہوں۔میری ایک کال پر عوام اکٹھی ہو گئی ہے ۔ چودھری نثار نے کہا کہ میں نے آج سے انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز کردیا اور 25جولائی کو عوام میرے حق میں گھر گھر سے نکلیں گے ۔مخالفین ہمارا راستہ نہیں روک سکتے ۔کارکن مخالفین کوشکست دینے کیلئے تیار رہیں۔ 34سال میں نے نواز شریف کا بوجھ اٹھایا اور میرے علاقے سے ایک شخص بھی نواز شریف کے ساتھ نہیں ہے۔ نواز شریف میرا مقروض ہے مجھ پر اس کا کوئی قرض نہیں ہے۔ چودھری نثار نے کہا کہ پورے پاکستان کی نظریں میرے حلقے پرہوں گی اس لئے کارکن محنت کریں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی سیٹ ایڈ جسٹمنٹ نہیں کی ۔ میرے حلقے کے عوام پریشان نہ ہوں باعزت راستہ نکالوں گا۔ سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی کا کہنا ہے چوہدری نثار نے کہا کہ ان دنوں کسی ایک کو آگے کرنا تھا تو فیصلہ کیا کہ نواز شریف کو آگے کرنا چاہیے ورنہ وہ سینئر ارکان کی موجودگی میں پارٹی سربراہی کی اہل نہیں تھے اور نہ ہم سے زیادہ سیاسی سوچ کے مالک تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں اللہ تعالی، قوم اور نواز شریف سب کے سامنے جوابدہ ہوں، کسی کے پیچھے ہاتھ باندھ کرکھڑا نہیں ہوا،چاپلوسی نہیں کی، کوئی کام اپنے اصولوں کے خلاف نہیں کیا، سر اٹھا کر سیاست کی، میں نہ بکنے والا ہوں نہ ضمیر فروش ہوں،سیاست عزت کے لیے کروں گا۔

 

کلثوم نواز کی بیماری معمہ بن گئی، چہ میگوئیاں شروع

اسلام آباد (عبدالودود قریشی) بیگم کلثوم نواز کی لندن میں بیماری اور ہسپتال داخلہ چہ مگوہیوں کی زد میں ہے اور ایک معمہ بنا ہوا ہے مریم نواز کا یہ کہنا کہ والدہ کو ہارٹ \اٹیک ہوا وہ بے ہوش ہوگئیں اور انھیں وینٹیلیٹر پر رکھا ہوا ہے پھر ایک آدمی کا ان کا کمرے میں چلا جانا اس سے تفتیش اور تحقیق اور ایک نئے انکشاف کہ شاید کلثوم نواز اتنی سیئریس نہیں ہیں جتنا کہا جارہا ہے اس حوالے سے ملک میں اپوزیشن ایک پراپیگنڈہ مہم شروع کر چکی ہے اور مسلم لیگ ن کے ورکر بددل ہوتے جارہے ہیں کہ شاید روایتی طور پر اقتدار کی خاطر اس بیماری کو بھی استعمال کیا جارہا ہے کلثوم نواز کی حالت خراب ہونے کا کہہ کر میاں نواز شریف اور مریم نواز نے پاکستان آمد کو موخر کیا ہے اور اگر انھوں نے پاکستان نہ آنے کا فیصلہ کر لیاہے تو یہ مسلم لیگ ن کے لئے ایک بڑا دھچکہ ہوگا اور انتخابی معرکے میں مسلم لیگ ن کا ووٹ بینک بڑی حد تک متاثر ہوگا۔

بربریت کی انتہا ہو گئی ، پاکپتن : مخالفین نے 45 سالہ شخص کی آنکھیں نوچ ڈالیں ، ناک اور زبان بھی کاٹ دی ، ” خبریں ہیلپ لائن “ میں سنسنی خیز انکشافات

پاکپتن (نما ئندہ خبر یں) تھانہ صدر کے علا قہ میں ظلم وبر بر یت کی انتہا ہو گئی 45سالہ شخص کو اغوا کر کے دریا ئے ستلج کے علا قہ میں انتہا ئی بے در دی سے مخا لفین نے آنکھیں نکا ل دیں زبان اور ناک کاٹ دیا داڑھی اور سر کے با ل مو نڈ دیے اور جسم کے نا زک حصوں کو شد ید زخمی کر دیا زخمی کو ریسکیو 1122نے ہسپتال پہنچا دیا تفصیالت کے مطا بق چک سلا مت کے رہا ئشی محمد رفیق جو ئیہ کو غفا ر وٹو ،با غ علی آرائیں ،کمال دین وغیرہ مو ٹر سائیکل پر بٹھا کر اغوا کر کے لے گئے اور تھا نہ صدر کے علا قہ میں دریا ئے ستلج کے کنا رئے رحما نی ملکا نہ لے گئے اور وہاں محمد رفیق کی انتہا ئی بے در دی سے تیز دار آلے سے آنکھیں نکا ل دیں نا ک اوار زبان کا ٹ دی جسم کے دیگر حصوں کو بھی شد ید زخمی کر دیا داڑھی اور سر کے بال مو نڈ دیے محمد رفیق جو ئیہ کو تشو یش نا ک حا لت کے پیش نظر ہسپتا ل منتقل کر دیا اور پو لیس نے مو قع پر پہنچ کر شنگین وقوعہ کی تفتیش شرو ع کر دی ہے۔

ن لیگ کے پاﺅں اکھڑ چکے ہیں : میاں حبیب، چیئرمین نادرا نے پوزیشن کا غلط فائدہ اٹھایا : علی جاوید نقوی ، نثار کے پاس کچھ نہیں، وقت گزار رہے ہیں : ضمیر آفاقی، نواز نہ آئے تو سیاسی نقصان ہو گا : امجد اقبال ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کالم نگار میاں حبیب نے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے نادرا کی جانب سے مسلم لیگ ن کو ووٹرز کا ڈیٹا فراہم کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ چینل ۵ کے پروگرام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا پاکستان میں ہر ادارے میں سیاست ملوث ہے۔ شاید اس وجہ سے تحریک انصاف کو تحفظات ہیں۔ مسلم لیگ ن نے سیاسی بھرتیاں کی ہیں اور ہر ادارے میں ان کے لوگ موجود ہیں۔ بنیادی طور پر تحریک انصاف کو کچھ شواہد ملے ہیں میرے خیال میں تمام سیاسی جماعتوں کے خدشات دور ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا اگر نوازشریف کو سزا ہوتی ہے تو لازمی طور پر ان کے بچوں کو بھی سزا ہو گی اگر نوازشریف کو سزا ہوئی تو کرپشن ثابت ہو جائے گی۔ سیاسی میدان میں ن لیگ کے پیر اکھڑ چکے ہیں۔ چودھری نثار کو شہبازشریف نے لارا لگا کر رکھا تھا سیاست میں چودھری نثار کا کردار بہت اہم ہے۔ کالم نگار ضمیر آفاقی نے کہا اتنا بڑا ایشو نہیں جو بنایا جا رہا ہے شاید تحریک انصاف کو خدشہ ہے وہ الیکشن ہار نہ جائیں اس لیے اس قسم کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ڈیٹا فراہم کرنے سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ تحریک انصاف نے جو ٹکٹیں تقسیم کی ہیں اس کا ردعمل اب بھی ہے۔ نوازشریف واپس آ رہے تھے لیکن اچانک کلثوم نواز کی حالت خراب ہو گئی۔ نوازشریف کو سزا ہوئی تو ان کا ووٹ بنک اور بڑھ جائے گا۔ چودھری نثار کے پاس کچھ بھی نہیں وہ وقت گزار رہے ہیں۔ کالم نگار جاوید نقوی نے کہا چیئرمین نادرا نے اپنی پوزیشن کا غلط استعمال کیا۔ ڈیٹا فراہم کرنے کا مطلب ہے اس کے ذریعے ووٹر تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ ایک قسم کی تکنیکی دھاندلی ہے۔ بیوروکریسی نگران حکومت کی بات نہیں سن رہی۔ موجودہ سیاسی نظام کوئی دودھ کا دھلا نہیں اگر مریم نواز واپس نہیں آتیں تو ان کی سیاسی مہم متاثر ہوگی۔ انہوں نے کہا چودھری نثار اب بھی بڑی شخصیت ہیں۔ چودھری نثار آزاد حیثیت میں جیت جائیں گے۔ سینئر صحافی امجد اقبال نے کہا الیکشن میں ڈیڑھ ماہ باقی ہے اگر ایسے ہی ہوتا رہا تو کام کس طرح چلے گا۔ میرے خیال میں تمام سیاسی جماعتوں کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا تاکہ الیکشن کا انعقاد وقت پر ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف کے بچوں کا کیس الگ کر دیا گیا ہے اگر نوازشریف نہیں آتے تو ان کو اس کا سیاسی نقصان بھی ہوگا۔

پیر پگاڑا نے حمایت کا یقین دلایا ، جے ڈی اے سے سیٹ ایڈ جسٹمنٹ ہو سکتی ہے : شاہ محمود قریشی ، برطانیہ میں جھوٹ بولنے کی بہت بڑی سزا ہے : شمع جونیجو ، چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ سبھی لوگ کہتے ہیں آخری حکومت چل رہی ہو وہ کوشش کرتی ہے جتنی مدد مل سکے سرکاری محکموں سے‘ نگران حکومت کے دور ہی میں کہا جاتا ہے آئی جی‘ چیف سیکرٹری تبدیل ہوگئے لیکن کہا جاتا ہے کہ 35 سال سے جو مسلم لیگ ن کی حکومت رہی ہے ان کے بڑے تعلقات ہیں مختلف جگہوں پران کے لوگ ہیں الیکشن میں دو محکمے ایسے ہوتے ہیں ایک الیکشن کمیشن اور دوسرا نادرا جہاں سے ناموں کی تصدیق ہوتی ہے۔ تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہوتے ہیں ایک ڈی سی اوز ہیں‘ آر اوز ہیں اور پھرمحکمہ تعلیم کے لوگ ہوتے ہیں کیونکہ اکثر ان لوگوں کی ڈیوٹیاں لگتی ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جس حکومت کی پہنچ ہوگی اپنے ضلعی افسران تک اور جن کا تعلق واسطہ ہوا محکمہ تعلیم کے ارکان اور چھوٹے عملے سے یہی لوگ ہوتے ہیں الیکشن کمیشن کا اپنا تو عملہ ہوتا نہیں لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ مسلم لیگ (ن) کے خلاف جو الزام لگایا گیا ہے اس کا الیکشن کمیشن سنجیدگی سے نوٹس لے اور خواہش ہے کہ صرف تحریک انصاف نہیں بلکہ کسی جماعت کو شکایت نہیں ہونی چاہئے۔ مجھے ایک دوست کا حاصل پورسے فون آیا ہمارے ایک مضمون نگار ہیں خدایار چنڑ صاحب وہ پانی کے مسئلے پر ہمارے ساتھ بہت تعاون کرتے ہیں ایک زمانے میں وہ پی ٹی آئی میں ہوتے تھے پھر وہ کچھ ناراض ہوگئے ایک نوجوانوں کا گروپ بھی بنالیا اب مجھے بتا رہے تھے کہ ہمارے تحریک انصاف ‘ پیپلزپارٹی میں بھی نہیں ہوں اور میں تو مسلم لیگ (ن) میں بھی نہیں ہوں میں نے تو جناب بڑی کوشش کی ہے اپنے حلقے میں بڑی بھاگ دوڑ کی ہے لیکن میں نے تحریک لبیک کا ٹکٹ لیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ 3 بڑی پارٹیوں کے علاوہ بھی پارٹیاں ہیں جن کے ٹکٹ پر لوگ الیکشن لڑ رہے ہیں ان کو بھی اتنا ہی حق حاصل ہے اگر ان کو کوئی شکایت ہے تو اس کا ازالہ کیا جائے۔
صبح سے اس بات پر شور مچا ہوا ہے کہ عید کی چھٹیوں میں بھی خاص طور پر دوسرے دن تو اس پر بہت بحث بھی ہوتی رہی کہ یہ نادرا کون سا ریکارڈ تھا جو (ن) لیگ کی حکومت نے حاصل کرلیا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ بابر اعوان صاحب کو پی ٹی آئی کی طرف سے ہدایت کی گئی ہے کہ بطور وکیل وہ اس کیس کو تیار کریں وہ کیا ریکارڈ ہے جس پر آپ کے لیڈروں کو شکایت ہے اور یہ کس قسم کا ریکارڈ ہوتا ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں یہ شکایت آرہی تھی کہ نادرا اگر جماعت کا آلہ کار بن جائے تو اس پر تشویش ہوتی ہے اور یہ ریکارڈ جو کانفی ڈینشل ریکارڈ ہوتا ہے مگر جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ مختلف کمپنیوں کا ذکر ہوتا رہا کہ کس طرح کمپنیوں کو ہائر کرلیا گیا ہے انتخابات کو مینج کرنے کے لئے اب ہم چاہتے ہیں کہ اس کو دیکھا جائے اور شفاف الیکشن جو ہمارا آئینی حق ہے اور جو جمہوریت کے لئے ضروری ہے اس کو یقینی بنایا جائے۔ تفصیلات میرے سامنے نہیں ہیں میں تو کمپین میں ہوں اسلام آباد آﺅں تو مزید تفصیلات حاصل کرکے آپ کو پیش کردوں گا۔ضیا شاہد نے کہا خبر آئی ہے کہ آپ کی ملاقات ہوئی جناب ہارے دوست ارباب غلام رحیم صاحب سے جو ایک زمانے میں سندھ کے وزیراعلیٰ بھی رہے ہیں غالباً انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ آپ یہاں سے الیکشن لڑیں آپ اس سے پہلے بھی سندھ کی ایک نشست سے الیکشن لڑا ہے اس کے ساتھ ہی یہ خبر بھی آئی ہے کہ جی ڈی اے جس میں مسلم لیگ پگارا اور کچھ اور جماعتیں بھی شامل ہیں ان کی بھی کوئی بات چیت بھی آپ سے ہوئی ہے اورکسی قسم کی انتخابات میں کوآپریشن کی بات چل رہی ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آپ کی خبر درست ہے کہ ارباب رحیم سے میری ملاقات بھی ہوئی ہے اور کل رات عمر کوٹ کے تاریخی جلسے میں وہ موجود تھے اور میری مکمل حمایت کا اعلان کیا اور تحریک انصاف کے بلے کے امیدواروں میرے اور دوست محمد کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ جہاں تک جی ڈی اے کا تعلق ہے جی ڈی اے نے مختلف جماعتوں کا ایک الائنس ہے اوروہ ستارہ کے نشان پر الیکشن لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔پی ٹی آئی اور جی ڈی اے کے آپس میں مل بیٹھ کر ایک لائحہ عمل مرتب کررہی ہے کہ ہم سندھ میں پیپلزپاٹی کا مقابلہ کرسکیں کیونکہ ہم نے محسوس کیا ہے کہ سندھ کے عوام پیپلزپارٹی سے مایوس ہیں لیکن وہ سمجھتی ہے کہ جتنے ایلیمنٹ ہیں جنہوں نے سندھ کو برباد کردیا ہے کہ ان سے نجات حاصل کرنے کیلئے ریسورسز ‘ اپنی سیاسی رپورٹ کو اکٹھا کرنا چاہئے اس لحاظ سے ہمارا آپس میں ایڈجسٹمنٹ کا امکان موجود ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ پیرپگارو کا ایک دینی اور سیاسی وجود ہے۔ میری ان سے اور ان کی جماعت کے سربراہ سے ایک نشست ہوئی ہے اور انہوں نے بھی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ جہاں تک سروری جماعت جو مخدوم طالب المولیٰ کے خاندان ہیں وہ پیپلزپارٹی میں کھڑے ہیں لیکن انہوں نے بھی بہت بڑافیصلہ کیا کہ شاہ محمود کی مخالفت نہیں کرنی کیونکہ وہ درگاہوں کے اقدام کو سامنے رکھتے ہوئے انہوں نے تمام فیصلہ کیا ہے اور سروری جماعت جو ان کی پیپلزپارٹی کو جو ننگر ہارکر کے امیدوار ہیں قاسم سومرو کو مسترد کردیا ہے ان کے فیصلے کو انہوں نے مسترد کردیا ہے۔ اور ان کے پیپلزپارٹی کے ہی حمید کھوسو صاحب وہ ان کے سامنے کھڑے ہوگئے ہیں۔یہ ایک دلچسپ صورتحال سندھ میں پیدا ہورہی ہے اور جو لوگوں کا خیال تھاکہ سندھ میں پیپلزپارٹی بالکل سویپ کرے گی عنقریب آپ کو سندھ کا نقشہ بدلتا ہوا دکھائی دے گا۔ ضیاشاہد نے کہا کہ یہ پگارا صاحب جواب پیر صاحب ہیں ان کے والد صاحب سے ساری عمر نیاز مندی رہی اور بہت دیر ملاقات رہی بڑے شفیق انسان تھے جب بھی کبھی پور میں آتے تو جن چند لوگوں سے خاص طور پر ملاقات ہوتی تھی مجھے بھی اس میں شامل کرتے تھے۔ زندگی میں بے شمار ملاقاتیں ہوئیں۔ جب بھی میں سندھ گیا کنگری ہاﺅس جاکر ان سے لازمی ملا۔ پچھلے دنوں نوجوان پیر صاحب جو ہیں وہ لاہور آئے تو ہم نے اکٹھے کھانا بھی کھایا۔ میں نے اس وقت ان سے سوال کیا تھا کہ جناب آصف زرداری صاحب ان کے پاس خود چل کر تشریف لے گئے اور انہوں نے دعوت دی تھی کہ وہ پیپلزپارٹی سے کوئی الائنس کرلیں مجھے بھی پیر صاحب نے بتایا کہ ہم نے ابھی فیصلہ نہیں کیا اوراس وقت مجھے انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں شاید جی ڈی اے کی طرف ہمارا کچھ رجحان ہے ہمارے ساتھیوں کا ۔ اب میں سمجھتا ہوں کہ ان کی آپ کی جماعت سے کوئی بات طے ہوجاتی ہے تو مسلم لیگ فنکشنل بڑا مضبوط سمجھا جاتا ہے۔ اندرون سندھ کا اور ہمیشہ ہراسمبلی ان کے ایم پی اے حضرات‘ قومی اسمبلی میں ان کے ایم این اے اور بعض اوقات سنیٹر بھی شامل ہوتے رہے ہیں۔ آپ سمجھتے ہوں کہ پی ٹی آئی کی اگر ان سے کوئی انڈر سٹینڈنگ ہوتی ہے تو آپ لوگوں کے لئے کچھ سہولت ہوجائے گی صوبہ سندھ میں بھی کچھ سیٹوں کے حصول تک آپ کو کامیابی مل سکتی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس وقت پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے جس میں کلیدی کردار ادا کرنا ہے اور آج جتنے دانشور ہیں وہ اس بات پر قائل ہوچکے ہیں کہ پنجاب میں پیپلزپارٹی اپنا مقام کھو چکی ہے اور پنجاب میں ن اور پی ٹی آئی کا مقابلہ ہے۔ اس طرح خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کو مدمقابل جتنی خواتین ہیں وہ تحریک انصاف سے خائف ہیں اور انہیں ڈر ہے کہ پی ٹی آئی وہاں پرحکومت بنالے گی۔ سندھ میں پی ٹی آئی کا جو ٹرینڈ دیکھ رہا ہوں وہ نوجوانوں اورپسے ہوئے طبقے میں بے پناہ ہے۔ اس سے ظاہر ہورہا ہے سندھ بھی ایک سیاسی انگڑائی لے رہا ہے اور سندھ کے عوام بھی متبادل قیادت کی تلاش میں ہے جس دن انہیں اعتماد ہوگیا کہ یہاں کوئی متبادل قیادت پیدا ہوئی ہے بہاں بھی پیپلزپارٹی کے پاﺅں اکھڑنے کے امکانات موجود ہیں۔ ضیاشاہد نے کہا کہ سراج الحق صاحب کو ایک مرتبہ کھانے پر بھی اپنے گھر پر بلایا میں نے ان سے بحث بھی کی تھی کہ آپ اب ایم ایم اے کے ساتھ جارہے ہیں مولانا فضل الرحمان سے آپ کی دوبارہ پیار محبت کی شروعات ہونے والی ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ قاضی حسین احمد صاحب نے ساری عمر کرپشن کیخلاف زبردست مہم چلائی‘ پی ٹی آئی سے بھی پہلے اصل میں مختلف ادوار میں جو لڑائی لڑی ہے اور جو پہلے الیکشن تھے دوسرے الیکشن تھے تیسرے الیکشن تھے جماعت اسلامی کا ہیمشہ یہ مو¿قف ہوتا تھا خاص طورپر قاضی حسین احمد کا مو¿قف ہوتا تھا کہ الیکشن بعد میں کروائے پہلے تطہیر کریں‘ صفنائی کریں‘ لیکن میں نے سراج الحق صاحب سے بھی کہا تھا۔ سراج الحق ہمارے زمانے میں قاضی حسین احمد کے ساتھ کہیں جاتا تھا تو جناب سراج الحق اسلامی جمعیت طلباء کے سربراہ ہوتے تھے بڑے ایکٹو تھے تو میں نے پوچھا کہ آپ ایم ایم اے کے ساتھ جارہے ہیں قاضی حسین احمد صاحب کے دور میں ہی اختلافات شروع ہوگئے تھے اور اس کے بعد مولانا فضل الرحمن کے خلاف بھی اس قسم کے بہت سے الزامات لگے تھے کہ ڈیرہ اسماعیل خان جہاں سے وہ الیکٹ ہوئے خود ان کے بھائی کو جو سہولتیں حاصل ہیں اور خود ایم ایم اے کے دور میں اورجو اس کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان میں زمینوں کی الاٹمنٹ کا سکینڈل جو صحیح تھا یا غلط چیزیں سامنے آئیں گی تب پتا چلے گا لیکن بہرحال مولانا فضل الرحمان کیخلاف وہاں کافی شور شرابا تھا۔ میں نے کہا کہ اب آپ ان کے ساتھ جارہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ نہیں اب وہ چیزیں شاید ابھی ثابت نہیں ہوسکی تھیں۔ بہرحال میں سمجھتا ہوں کہ جس زور و شور سے ایم ایم اے سے دوبارہ قیام کی باتیں ہوئی تھیں وہ زور و شورسامنے آیا نہیں۔میں ان کے خلاف بات نہیں کررہا میری بڑی دوستی ہے سراج الحق ‘ لیاقت بلوچ سے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایک زمانے میں اے این پی کی خیبر پختونخوا میں حکومت بھی قائم ہوگئی تھی جب انہوں نے نام بدلا۔ اعظم ہوتی صاحب کے بیٹے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ بنے تھے۔ لیکن آج کے دور میں ان کی بھی کوئی ہائپ کریٹ ہوتی نظر نہیں آئی۔ اسفند یار ولی یقیناً کچھ سیٹیں ضرور لیں گے۔ لیکن کوئی سیاسی ابھار دکھائی نہیں دیتا۔ بلوچستان میں الیکشن ٹرینڈ کے حوالے سے ضیاشاہد نے کہا کہ معاف کیجئے گا بلوچستان بہت زیادہ میٹر نہیں کرتا۔ اس کی وجہ ہے سینٹ میں بلوچستان کی بڑی اہمیت تھی کیونکہ اگر 17 یا 20 سیٹیں ایک صوبے میں آتی ہیں توبلوچستان چاہے چھوٹا صوبہ ہو‘ چاہے آبادی کم ہو‘ سینٹ کے ممبر وہاں سے بھی اتنے ہی ہوتے ہیں لیکن قومی اسمبلی میں بلوچستان کی نمائندگی اتنی کم ہے کہ اگربلوچستان سے کوئی ساری سیٹیں بھی جیت کر آجائے تو قومی اسمبلی میں میٹر نہیں کرتا۔ سوشل میڈیا اورالیکٹرانک میڈیا پر کلثوم نواز کے حوالے سے وینٹی لیٹر پر ہونے ‘ طبیعت خراب ہونے اور عوام کی جانب سے ن لیگ کے ٹائم حاصل کرنے کے لئے یہ مو¿قف اپنانے کے حوالے سے سوال پر ضیاشاہد نے کہا کہ انسانی ہمدردی اور اعلیٰ اخلاقیات کے تقاضوں کے پیش نظر میرا خیال ہے کہ میں نے پاکستان میںان کے سخت ترین مخالفوں کو بھی یہی کہتے سنا ہے میں تو مخالف ہوں بھی نہیں‘ میں بھی ہمیشہ یہاں سے بات شروع کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کو صحت کاملہ عطا فرمائیں یہ ایک انسانی اخلاقیات اورمسلمانوں کے معاشرتی اقدار کا تقاضا ہے تو کوئی بھی بیمار ہو‘ اور وہ تو پھر پتہ نہیں کیا سمجھتے ہیں۔ میں تو کتاب بھی لکھ رہا ہوں ‘ لکھ رہا ہوں ‘ میرا دوست نوازشریف نے یہ ان کی بیگم صاحبہ بیٹھیں اگرچہ ان کے گھرانے میں ان معنوں میں زیادہ فری ماحول نہیں تھا‘ خواتین ملتی تھیں‘ بہت بار میری ملاقات ہوئی‘ شاید سلام دعا بھی ہوئی ہو لیکن اوپن ماحول نہیں تھا کہ وہاں کی عورت بینظیر بھٹو کی طرح سے ہوں‘ جب وہ سیاست میں بھی رہیں ‘ ایک شائستگی‘ احترام اور نقد میں کلثوم نوازشریف کے گرد ہمشہ رہاہے اورانہوں نے بہت نفاست سے اپنی عزت و احترام رکھتے ہوئے سیاست کی ہے۔ پروگرام میں لندن سے نمائندہ چینل فائیو وجاہت علی خان سے ٹیلی فونک گفتگو میں ضیاشاہد نے سوال کیا کہ ہم تہہ دل سے چاہتے ہیں کہ محترمہ کلثوم نواز بہت نفیس ‘ وضع دار اور پڑھی لکھی خاتون ہیں میں نے تو کتاب میں بھی لکھا ہے کہ حسن رضوی صاحب ان کے ایگزامینر تھے اور انہوں نے پی ایچ ڈی بھی کی تھی ہم سب کی دعا ہے کہ وہ صحت یاب ہوں لیکن کل پرسوں سے سوشل میڈیا پر ایک نیا ٹرینڈ شروع ہوا ہے اور ان کے کچھ مخالفین نے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ جیسے یہ ساری سیاسی بات ہے اور ان کو تکلیف ہی کوئی نہیں ہے میں نہیں سمجھتا کہ اتنا بڑاجھوٹ بولا جاسکتا ہے ہماری یہی دعا ہے کہ وہ صحت یاب ہوں مگر آج شام کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ڈاکٹر بتادیںگے مگران کی طبیعت کچھ سنبھل گئی ہو تو ان کو وینٹی لیٹر کی سہولت ختم کردی جائےگی میں نے خود ڈاکٹرز سے فون پر گفتگو میں پتا کیا وہ کہتے ہیں کہ ان کو اس سپیشل بیڈ سے ہٹا بھی دیا جائے اوران کو کہا جائے کہ وینٹی لیٹر اتار لیا گیا ہے تو بھی اس بات کی ضمانت نہیں ہوتی بلکہ بعض اوقات مریض کی حالت زیادہ خراب ہو جائے تو اسے ہٹا بھی دیتے ہیں۔ بہتر ہوتا نوازشریف کی فیملی ایک ترجمان مقرر کردیتی تاکہ کلثوم نوازکے بارے میں صحیح معلومات مل سکتیں اور ایسی صورتحال نہ ہوتی کہ جو جیسا دل چاہتا ہے کیٹ خط میٹنگ کررہا ہے۔ اس وقت کیا صورتحال ہے ڈاکٹرز نے شام کا کہا تھا‘ وہاں شام ہوچکی ہے اللہ تعالیٰ انہیں صحت دیں مگر موجودہ صورتحال کیا ہے۔ نمائندہ چینل فائیو نے بتایا کہ کلثوم نواز کے حوالے سے ابہام اورغلط فہمیوں کی ذمہ داری شریف خاندان پر عائد ہوتی ہے۔ فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پر منفی سیلاب آیا ہوا ہے کہ شاید وہ اتنی بیمار نہیں ہیں ‘ یا بیمار ہی نہیں ہیں یا انہیں بیماری کیا ہے اس کا کسی کو نہیں پتا۔ 14 تاریخ سے جب نوازشریف اور مریم نواز کو جہاز میں اطلاع دی گئی کہ کلثوم نوازکومہ میں چلی گئی ہیں تمام ابہام شریف خاندان نے خود پھیلایا ہوا ہے۔ لندن میں بڑے لوگ ہسپتال میں داخل ہو یا ان کی حالت تشویش ناک ہوتی ہے تو معالج لواحقین کے ساتھ ہسپتال کے باہر آجاتا ہے اور میڈیا سے گفتگو کرتا ہے۔ میڈیا ڈاکٹر اورلواحقین سے سوالات کرتا ہے اور ڈاکٹر جواب دیتا ہے کہ انہیں کیا مرض ہے اورکب تک ٹھیک ہوگا ابہام کی صورتحال اس لئے ہے کہ یہ ایک چھوٹا کلینک ہے مگرجدید اور مہنگنا ترین ہے۔ نوازشریف اوران کی فیملی کے لوگ آتے ہیں اوراندر چلے جاتے ہیں کلینک کے باہراور اندر سکیورٹی ہے یا تو شریف خاندان کی باتوں پر من و عن یقین کیا جائے یا میڈیا انویسٹی گیشن کرے۔ یا ڈاکٹر میڈیا سے گفتگو کرے یا شریف خاندان کلثوم نواز کی صحت بارے معلومات دینے کے لئے ترجمان مقرر کرے۔ ورنہ ابہام مزید بڑھے گا۔ کلثوم نواز نے حالت بارے معلومات وہی ہیں جو پاکستانی میڈیا بتا رہا ہے۔ ضیاشاہد نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کے لئے ضروری نہیں ہے مریم نواز خطاب کریں‘ میرا خیال ہے کہ ہمدردی کا بھی ووٹ ہوتا ہے پروگرام میں …. تجزیہ نگار شمع جونیجو سے ٹیلی فونک گفتگو میں ضیاشاہد نے پوچھا کہ آپ پہلے پیپلزپارٹی کی جیالی ہوتی تھیں پھر پچھلے ایک سال سے اچانک رخ بدلا اور نوازشریف کی مظلومیت کے بارے بہت گفتگو کی اور قاننی طور پران کی بہت حمایت بھی کرتی ہیں‘ آپ کو حق حاصل ہے اور آپ قانون ہم سے بہتر جانتی ہیں۔ یہ فرمایئے کہ زیادہ بہتر ہوتا نوازشریف کسی ایک شخص کو خاندان میں سے یا ڈاکٹر کو ترجمان مقرر کردیتے۔ سارے پاکستان کی نظریں اس بات پر ہیں ایسا کوئی بندہ نہیں دیکھا ان کے حامی ‘ مخالف سب کی دعا ہے کہ کلثوم نواز کو اللہ صحت دے۔ لیکن کوئی سچی کھری بات کا پتہ ہی نہیں چلتا کبھی آجاتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب 6 بجے بتائیں گے‘ کبھی انہیں وینٹی لیٹر سے اٹھانا ہے یا نہیںاورکبھی پتا چلتا ہے کہ ابھی فیصلہ نہیں ہوا جھگڑا کیا ہے کیوں ذمہ دار شخص کو ترجمان مقرر نہیں کرتے کہ تازہ ترین معلومات ملیں جس پر شمع جونیجو نے کہا کہ ضیا صاحب ایک بات بھول گئے تو میں نے ضرب عضب کی بھی بہت حمایت کی تھی اور آپ اپنے پروگرام میں کہتے تھے کہ میں شاید پنڈی کی طرف ٹلٹ ہوگئی ہوں جو بات صحیح ہو اس کا ہمیں عبادہ کرنا پڑتا ہے۔ کلثوم نوازکی طبیعت کے حوالے سے پاکستانی میڈیا نے حوا بنایا ہوا ہے‘ یہاں پر پرائیویسی کاحق بہت زیادہ ہونے پر یہ جرم بھی سمجھا جاتا ہے نوازشریف کی فیملی اور مریم نواز نے خود کہا کہ ان کی والدہ بے ہوش ہیں اور وہ بات نہیں کرسکتیں۔ جب آپ وینٹی لیٹر پر ہوتے ہیں تواس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ کی زندگی کے کوئی مواقع نہیں ہیں۔ عام انسان کی طرح سانس نہیں لے سکتے اس لئے وینٹی لیٹر پر ڈالتے ہیں تو ہوسکتا ہے کوئی معجزہ ہوجائے شریف خاندان کل رات سے بہت پریشان اور خاموش ہیں کل تک بتایا جارہا تھاکہ طبیعت خراب ہے معجزے کی دعا کریں پورا پاکستان دعا کررہاہے۔ ہم بھی دعا کررہے ہیں کیونکہ یہ بہت تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے گھرکی سربراہ عورت کا اس حال میں ہونا تکلیف دہ ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے گند بہت تکلیف دہ ہے۔ کل ایک صاحب وہاں اس لئے ڈاکٹر بن کر چلے گئے کہ دیکھیں کہ وہ وینٹی لیٹر پر ہیں یا نہیں یو کے میں جھوٹ بولنے کی بہت بڑی سزا ہے اور نہیں سمجھتی کہ کلثوم نواز ٹھیک ہوں اتنا بڑا جھوٹ کوئی نہیں بول سکتا تاہم نوازشریف خاندان کی اپنی مرضی ہے کہ بتائیں یا نہ بتائیں شریف خاندان کو ہسپتال جانے میں بہت مشکل ہوتی ہے میڈیا ان کے سر پر کھڑا ہوتا ہے۔ پروگرام میں چودھری نثار علی خاں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ضیاشاہد نے کہا کہ میں تو چودھری نثار کا بڑا مداح تھا مگر سچی بات ہے کہ ان کی ہچل مچل سے میں نے ان کے بارے میں بات کرنی چھوڑ دی ہے۔ چودھری نثار اس بات کو سمجھ ہی نہیں رہے کہ جس شخص نے کھل کر پہلی مرتبہ یہ کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی کو اس وقت جن آدمیوں سے خطرہ ہے وہ اس وقت وزیرداخلہ تھے اور ان میں سے دو آدمی فوجی وردی میں ہیں اور ایک آدمی سوویلین۔ آپ ہم سب برادر پاکستان کے شہری ہیں کیا ہمیں اتنا بھی حق حاصل نہیں؟ یہ شخص اس قدر ظالم آدمی‘ میں اس کو صرف کہتا ہوں‘ مجھے ملے تو میں اس سے لڑ پڑا بھائی! چھوڑیں سیاست کو‘ دفعہ کریں آپ کو ٹکٹ ملتا ہے‘ آپ کا مسئلہ ہے‘ نہیں ملتا تو مجھے کیا دلچسپی کہ آپ پلنگ کے ٹکٹ پر لڑتے ہیں یا شیر پر لڑتے ہیں یا لوٹے پر لڑتے ہیں اور نہیں لڑتے تو نہ لڑیں‘ لڑیں تو لڑیں لیکن یہ شخص ڈان لیکس پر چپ رہا۔ اتنا بڑا ایشو تھا پاکستان کا کیا واقعی کوئی گڑ بڑ ہوئی تھی‘ کیاواقعی پاکستان کی فوج کی مدعون کیا گیا تھا‘ کیا واقعی ‘ حضرت صاحب اس میں بھی شریک تھے اور انکوائری کے انچارج تھے۔ وہ سمجھتے ہیں تو وہ کوئی آسمان سے اتری ہوئی مخلوق ہیں وہ بتانا چاہتے تو بھئی کیوں نہیں بتاتے میں سیاست میں انٹرسٹڈ نہیں ہوں میں اپنے ملک کی سلامتی میں انٹرسٹڈ ہوں میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا کسی نے کوئی سازش کی تھی ‘ کس لئے جب ہیں‘ چودھری نثار‘ کس کو جواب دہ ہیں‘ کیا وہ نریندر مودی کو جوابدہ ہیں‘ کیا وہ یو این او کو جوابدہ ہیں‘کیا وہ کسی عورت کو بتائے گا جو اسرائیل میںبیٹھی ہوئی ہے اس کو بتائے گا‘ کونسا حجاب ہے‘ کوئی حجاب نہیں‘ پہلے یہ کوشش کرتے رہے‘ شہبازشریف کے پاﺅں چاٹتے رہے ‘ اچھا ہوا نوازشریف صاحب نے ان کے منہ پر چپت دی‘ نہیں دینا ٹکٹ۔ مریم نواز نے اس کی وہ بے عزتی کی ‘ پتا نہیں وہ کس امید میں ہے۔ یہ کیوں نہیں بات کرتاکہ اس ملک کی سکیورٹی کاکیا مسئلہ ہے یہ کیوں نہیں بات کرتا کہ ڈان لیکس کا اصل کیا ہے‘ کیوں نہیں بات کرتا کہ نوازشریف کے اس بیانئے میں کتنی حقیقت ہے ‘ کتنا جھوٹ ہے یہ کیوں بیان نہیں کرتا کہ کونسے تین آدمی تھے۔ پرائیویٹ مجلسوں میں یہ کہتا رہاہے کہ پاکستان پر حملے کا خطرہ ہے۔ خدا کا خوف کرو چودھری نثار‘ اسی ملک میں رہتے ہو‘ یہیں کا پانی پیتے ہو‘ یہیں کی ہوا میں سانس لیتے ہو اور اسی کیساتھ مخلص نہیں ہو۔ انہوں نے کہا کہ میں تو بھٹو صاحب کے سارے دور میں یا تو دو اخبار بند کرائے‘ 11 دفعہ جیل میں گیا‘ 7 مہینے لانگبٹ پیریڈ رہا‘ شاہی قلعے میں مار کھائی۔ میں تو کبھی ان کا پسندیدہ نہیں تھا۔ لیکن یہ وہی جھوٹ ہے جو ذوالفقار علی بھٹو نے بولا۔ کب سے اس نے یہ کہا کہ میں آپ کو تاشقند کے راز بتاﺅںگا۔ چلا گیا وہ اس دنیا سے پھانسی لگ گیا۔ ایک بات پر جب رہا کہ کونسا راز‘ اگر نہیں تھا تو جھوٹ نہیں بولا۔اور اگر تھا تو بتایا کیوں نہیں۔ یہ بات نثارعلی کررہا ہے۔ میں بتاﺅں گا! تو کس وقت بتائے گا‘ نہ بتا‘ جھوٹ بولتا ہے یہ جھوٹا آدمی۔ جب یہ بتا دے گا تو میں اس کے بارے میں حقائق بتاﺅں گا کہ یہ کیسا آدمی ہے۔ تحریک انصاف کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹ کرنے کی چودھری نثار کی امید پر ضیاشاہد نے کہا کہ اس کا خیال ہے کہ لوگ مرے جارہے ہیں۔ چودھری نثار کسی کو کیا دلچسپی ہے کہ تو ایک سیٹ پر لڑتا ہے کہ دو پر لڑتا ہے کہ کس نشان پر یہ شخص اس قدر اپنے اوپرعاشق یہ نفسیاتی مرض ہے اسے نورسیزم کہتے ہیں اردو میں اس کا ترجمہ چودھری نثار فرگیٹ تھے جو اپنے اوپر عاشق ہوتے ہیں یوں کرکے بال بنا کر بیٹھتا ہے اور سمجھتا ہے ساری دنیا کو صرف‘ روٹی میں کسی کو دلچسپی نہ پانی میں دلچسپی۔ ایک چیز میں دلچسپی کہ یار چودھری نثار کس کی پارٹی پر ٹکٹ لڑے گا‘ کس کو ٹکٹ مل جائیگا یا اس کو ٹکٹ کیا سمجھتا ہے یہ شخص کیا ہے ‘ کیا حیثیت ہے اس کی میں آپ کو بتاﺅں گا کہ اس کے علاقے کے لوگ کیا کہتے ہیں اور سب سے بڑی بات کہ حاجی نواز کھوکھر کا بھائی‘ میں جیل میں تاجی کھوکھر سے ملنے گیا۔ اس نے مجھے یوں ہاتھ جوڑے‘ اس نے کہا میں ساری عمر رہا نہیں ہوسکتا۔میں نے کہا کیوں تو کہتاہے زمینوں کے قبضے میں میری چودھری نثارعلی سے لڑائی ہے۔ میں نے کہا وہ تو بڑاشریف آدمی ہے۔ کہتا ہے اللہ معاف کرے! وہ شریف آدمی ہے؟ میں نے کہا کہ مجھے تیرے بارے میں بھی کہتا ہے تو بھی غیر شریف آدمی ہے۔ ملک ریاض کے لئے زمینوں کا قبضہ کرتا ہے۔اس نے کہا کہ میں اس وقت رہا ہوں گا جب نثار علی وزارت سے اتر جائے اور وہ رہا ہوگیا اور میرے گھر پر اس نے انوائیٹ کیا‘ کہا ضیاصاحب میں نے کہا تھا میں رہا ہوجاﺅں گا جب نثار علی وزیر نہیں رہے گا۔ اس نے مجھے جیل میں بھجوایا تھا۔ تاجی نے کہا تھا کہ آپ کسی وقت میرے ساتھ چلیں ‘ میں ان لوگوں کو آپ کے سامنے لاﺅں گا جن کی زمینوں پراس نے قبضے کروائے تھے۔

واٹس ایپ پر موصول قانونی نوٹس کو اصل نوٹس کے برابر کر دیا گیا

ممبئی( ویب ڈیسک )بھارتی شہر ممبئی کی ہائی کورٹ نے میسجنگ ایپلیکیشن واٹس ایپ پر بھیجے گئے لیگل نوٹس کو بھی قانونی طور پر کاغذی نوٹس کے برابر قرار دے دیا۔ رپورٹ کے مطابق ممبئی ہائی کورٹ کے جسٹس گوتم پٹیل نے ریمارکس دیئے کہ وہ واٹس ایپ پر بھیجے گئے لیگل نوٹس کو اس لیے قانونی تسلیم کریں گے کیونکہ بلیو ٹِک (نیلے نشان) سے پیغام پڑھنے کی نشاندہی ہوجاتی ہے۔ممبئی ہائی کورٹ نے یہ رولنگ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی جانب سے کیے گئے ایک کیس پر کارروائی کے دوران دی۔واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے اپنے ایک کلائنٹ روہت جادھو کے بارے میں شکایت کی تھی کہ وہ کریڈٹ کارڈ ڈی فالٹر ہیں اور انہیں ایک لاکھ سے زائد کی رقم ادا کرنی ہے۔ درخواست گزار نے کہا کہ روہت جادھو نے اپنی رہائش تبدیل کرلی تھی، جس کی وجہ سے نوٹس گھر پر بھیجا نہیں گیا لیکن ان کا فون نمبر آن تھا جو ریکارڈ میں موجود تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں پی ڈی ایف فائل کی شکل میں واٹس ایپ پر قانونی نوٹس بھیجا گیا، جسے انہوں نے نہ صرف دیکھا بلکہ فائل ڈاو¿ن لوڈ بھی کی۔سماعت کے دوران ممبئی ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ کسی بھی قسم کی عدالتی کارروائی میں واٹس ایپ پیغامات کی شکل میں بھیجے گئے قانونی نوٹس کو کاغذی نوٹس کی حیثیت سے ہی دیکھا جائے گا۔