وزیرآباد(تحصیل رپورٹر) نواح موضع دھونکل میں تایا نے 10سالہ بھتیجی کو جنسی درندگی کا نشانہ بنا ڈالا۔ بچی کا والد بیرون ملک مقیم ہے۔تایا بھتیجی کو اپنے ساتھ گھر لے گیاتھا۔بچی کی ماں اور ماموںنے رنگے ہاتھو پکڑ لیا۔ماں کی مدعیت میں مقدمہ درج۔ملزم گرفتار۔ تفصیلات کے مطابق برائے ملازمت بیرون ملک مقیم شخص کی فیمیلی دھونکل میںرہائش پذیر ہے جس میں ماں، 4بیٹے اور 3بیٹیاںشامل ہیں۔قریب ہی بچوںکا تایا بھی مقیم ہے۔شام کے وقت تایا محمد امین بھائی کے گھر آیا اور جماعت چہارم کی طالبہ بھتیجی کو بہانے سے اپنے ساتھ گھر لے گیا۔کافی دیرتک گھر واپس نہ آئی تو ماں اپنے بھائی کے ہمراہ بیٹی کی تلاش میں محمد امین کے گھر پہنچ گئی جہاںتایا امین کو اپنی بھتیجی کو جنسی درندگی کا نشانہ بناتے ہوئے پایا۔ محمد امین بچی کی ماں کو دیکھ کر موقع سے فرار ہو گیا۔بچی کے مطابق تایا نے اسے تیسری بار زیادتی کا نشانا بنایا ہے۔ بچی کی ماں ربیعہ زوجہ نے تھانہ صدر میں ملزم کے خلاف درخواست داخل کر دی ہے۔پولیس نے ملزم محمد امین کے خلاف مقدمہ نمبر 180/18زیر دفعہ 376ت پ درج کر کے ملزم کو گرفتار کرلیاہے۔
Monthly Archives: June 2018
کوٹ رادھا کشن ، اوباش نوجوان نے 2 بچوں سے زیادتی کے بعد ویڈیو بنا لی ، سنسنی خیز خبر
کوٹ رادھاکشن(تحصیل رپورٹر)کوٹ رادہاکشن نوجوان کی 2بچوں سے زیادتی ،ویڈیو بھی بنالی۔تفصیلات کے مطابق تھانہ کوٹ رادہاکشن کے نزدیک (م۔ الف) کے13سالہ بیٹے (د)اور 12سالہ بھتیجے (س) سے ملزم تنویر نے اسلحہ کے زور پر زبردستی زیادتی کی اور ان کی وڈیو بھی بنائی اور جب بچوں نے چیخ و پکار کی تو مقامی لوگوں کے پہنچنے پر ملزم فرار ہوگیا،پولیس نے بعد ازاں ملزم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کر لیا۔
سسرالیوں نے بہو کو تیزاب پلا دیا ، خاتون جاں بحق ، شوہرساس سسر سمیت فرار ’ ’ خبریں ہیلپ لائن “میں خوفناک انکشاف
لاہور(خصوصی ر پو رٹر ) جنوبی چھاونی کے علاقے میں سسرالیوں نے مبینہ طور پر بہو کو تیزاب پلا کر قتل کر دیا اور فرار ہو گئے ، پولیس نے لاش پورسٹمارٹم کے لیے منتقل کر کے لواحقین کی درخواست پر شوہر ، ساس اور سسر کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہ آسکی ۔ بتایا گیا ہے کہ جنوبی چھاونی چوکی نادر آباد کے علاقے سیج پال کے غلام حیدر کی بیوی یاسمین نے پرسرار طور پر تیزاب پی لیا جسے فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکی اطلاع ملنے پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو قبضے میں لے کرایدھی ایمبولینس کے ذریعے پورسٹمارٹم کے لیے منتقل کر کے یاسمین کی والدہ عذرا بی بی کی درخواست پر مقتولہ کے شوہر ، ساس اور سسر کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا تاہم ملزمان موقع سے فرار ہو گئے مقتولہ کے والدہ کے مطابق اس کی بیٹی یاسمین کو جس سے اس کی شادی 5سال قبل ہوئی تھی اور ان کا ایک بیٹا بھی ہے اس کا شوہر اور سسرالی اسے اکثر معمولی باتوں پرتشدد کا نشانہ بنایا کرتے تھے گزشتہ روز معمول کے مطابق دونوں میاں بیوی کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی جس پر اس کے شوہر نے اپنی والدہ اور والد کے ساتھ مل کر اسے زبردستی تیزاب پلا دیا جس کی وجہ سے وہ ہسپتال میں دم توڑ گئی ۔ دوسر ی جا نب خاتون کی مبینہ ہلاکت کیخلاف مقتولہ کے ورثاءنے بھٹہ چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں خواتین اور اہل علاقہ کی کثیر تعداد شامل تھی مظاہرین نے مبینہ مقتولہ یاسمین کی لاش سڑک پر رکھ کر پولیس کیخلاف شدید نعرے بازی جسے بعدزا ں اعلی پو لیس افرسان کی مدا خلت پر ختم کردےا گےا ۔
عائشہ گلالئی کے الزامات سنجیدہ نوعیت کے ہیں : سعید آسی ، کلثوم بارے مخالفین سیاست کررہے ہیں : ضمیر آفاقی ، عمران خان نے دھاندلی کےخلاف آوازبلند کی : ایثار رانا ، اصل مسائل کیجانب توجہ توجہ ضروری ہے : ڈاکٹر راشد ہ قریشی ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کالم نگار سعید آسی نے کہا ہے کہ این اے 53میں جوہورہا ہے وہ ایک قانونی مرحلہ ہے۔ اس میں اثرانداز ہونے والا کوئی معاملہ نہیں چینل ۵ کے پروگرام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے انوں نے کہا البتہ عائشہ گلالئی کے عمران خان پر اعتراضات کافی سنجیدہ نوعیت کے ہیں انہوں نے کہا عمران خان بات دل میں نہیں رکھتے جو بات ہوتی ہے وہ کہ دیتے ہیں ان کو اندازہ نہیں ہوتا اس سے ان کو نقصان ہورہا ہے یا فائدہ انہوں نے کلثوم نواز کے وینٹی لیٹر کی اگر تصویر جاری ہوجاتی تو کنفیوژن دور ہوجاتی ہوسکتا ہے کلثوم نواز اتنی زیادہ سیریس نہ ہوں اور وقت لینے کی خاطر ایسا کیا جارہا ہے۔ کالم نگار ضمیر آفاقی نے کہا ہے کہ الیکشن کے دنوں میں اس قسم کے گڑھے مردے اکھاڑے ہوئے ہیں لیکن عمران خان پر جو الزامات ہیں یا وہ تسلیم کریں یا انکار کریں اور وضاحت دیں آپ چار یا چھ حلقوں سے کھڑے ہیں ایک یا دو سے مسترد ہوجاتے ہیں باقی سے منظور ہوتے ہیں۔ یہ تضاد ہے پنجاب میں پولیس کے تبادلے سے کچھ نہیں ہوگا۔ کلثوم نواز کے حوالے سے ڈاکٹر کی رپورٹ موجود ہے لیکن مخالفین سیاست کررہے ہیں۔ کالم نگار ڈاکٹر راشدہ قریشی نے کہا پاکستان کے اصل مسائل کی جانب توجہ دینا ہوگی۔ لیکن ناجانے ہم کن ایشوز کی بات جارہے ہیں الیکشن کمیشن کو ایک ضابطہ اخلاق دینا چاہیے کہ ذاتی نوعیت کے الزامات سے گریز کیا جائے اگر آپ کو تبدیل کرتے ہیں تو انحصار اس بات پر ہوتا ہے آنے والا کیسا ہوں سوشل میڈیا پر خبر تھی کلثوم نواز کے پھیپھڑوں پر خون جم گیا ہے۔ کالم نگار ایثار رانا نے کہا کہ عمران خان نے الیکشن میں دھاندلی کے خلاف آواز اٹھائی اس میں انہوں نے آر اوز کا ذمہ دار جسٹس (ر) افتخار چودھری کو کہا تھا بیگم کلثوم نواز کی حالت تشویشناک اور ڈاکٹر فیصلہ نہیں کرسکے وینٹی لیٹر ہٹانا ہے کہ نہیں اللہ انہیں صحت دے مائیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کس منہ سے آپ کرپٹ آدمی بیرونی سرمایہ کاروں کو ملک میں سرمایہ کاری کی دعوت دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا اب شریف برادران پیشیوں پر شور کررہے ہیں۔
چاروں گورنر سیاسی ، تبدیل نہ ہونے سے شفاف الیکشن پر سوال اٹھنے لگے : ضیا شاہد ، اختیارات نہیں ، الیکشن پر اثر انداز نہیں ہو سکتے : پرویز رشید ، چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کے حلقے کہہ رہے ہیں کہ شاید شاہ محمود قریشی وزیراعظم کے امیدوار ہیں ن لیگ نے اس پر بڑا ہنگامہ کیا ہوا ہے اور بڑی سیاسی لابنگ کی ہوئی ہے کہ جو اتنا بڑا وکیل یعنی سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ میدان میں اترا ہوا ہے وہ یقینا عمران خان کو ان کے کاغذات منظور نہیں ہونے دے گا۔ بہرحال یہ بھی بڑی دلچسپ بات ہے۔ ہمیشہ ہوتا رہتا ہے کہ ایک جگہ سے ان کے کاغذات منظور ہو گئے اور ایک جگہ سے مسترد ہو گئے ہیں کوئی لگتا ہے کہ کوئی کرائٹیریا متعین اور واضح نہیں ہے کیونکہ ایک ہی جیسے افسران جو ہیں جن کو الیکشن کمیشن نے اختیار دیا ہے وہ ان سارے معلوم حقائق کی بنیاد پر ایک جگہ کاغذات مسترد دوسری جگہ منظور کر رہے ہیں۔
جو پریس کانفرنس سینئر افراد کی جانب سے کی گئی ہے اس کے باوجود جتنا پروپیگنڈا ان کے خلاف ہے میرے خیال میں یہ اعتراض وزنی ہے کہ کہا جاتا ہے کہ جو خفیہ کوڈ تھا۔ وہ صرف نادرا کے سربراہ یا ان کے 4,3 ڈپٹی ہیں ان کے پاس تھا اوراگر ایک اخبار کے رپورٹر کو یہ کوڈ نمبر مل گیا اور انہوں نے خبریں چھاپ دیں اور ان کو آشکارا بھی کر دیا یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ الیکشن کمشن آف پاکستان نے خود اس کا نوٹس لیا تھا لہٰذا میرا خیال ہے کہ کوئی وجہ مجھے نظر نہیں آئی کہ باریش سربراہ وہ صاف ہو جائیں گے۔
مریم نواز صاحبہ کوئی معمولی شخصیت نہیں وہ اپنے وقت کے مغل بادشاہ کی بیٹی ہیں۔ میں نہیں سمجھتا ان کے راستے میں کوئی چھوٹی موٹی رکاوٹیں آ سکتی ہیں۔
ضیا شاہد: پرویز رشید اب وقت تک ملک میں بحث جاری ہے سب کو یقین ہے کہ جو الزامات لگے ہیں چیئرمین نادرا پر کہ ان کے پاس کوڈ نمبر تھا یا ان کے 3 ساتھیوں کے پاس تھا اور اگر کسی اخبار کے رپورٹر کے پاس بھی یہ سارا ڈیٹا پہنچ گیا ہے تو بھی یہ ان کی ذمہ داری ہے۔ آپ کی نظر میں ان کی ذمہ داری ہے یا وہ بے قصور نظر آتے ہیں۔
پرویز رشید: یہ تو کسی انکوائری کے ذریعے ہی معلوم کیا جا سکتا ہے۔ ظاہر ہے نادرا کا ڈیٹا جو ہے اگر وہ کسی جگہ ٹرانسفر ہوا ہو گا تو آئی ٹی ایکسپرٹ جو ہیں اسے ٹریس کر سکتے ہیں کس کمپیوٹر سے کس کمپیوٹر میں گیا اس کا پاس ورڈ کس کے پاس تھا کون اس کمپیوٹر کو کنٹرول کرتا تھا بہت آسانی سے آئی ٹی ایکسپرٹ اس کو منطقی انجام دے نہیں پہنچا سکتے ہیں۔
ضیا شاہد:یہ جو کل رات سے بحث جاری ہے۔ میرے دوست رجوانہ صاحب سے، برے معقول اور پڑھے لکھے آدمی ہیں لیکن دو پارٹیوں سے اعتراض کر دیا ہے کہ گورنر صاحب ان کے بیٹے بھی ملتان سے الیکشن لڑ رہے ہیں ملتان سے اور چاروں صوبوں کے گورنر ہاﺅس میں باقاعدہ سیاسی جماعتوں کے رکن رہے ہیں۔ رجوانہ صاحب کا ن لیگ سے تعلق تھا سنیٹر تھے جو کے پی کے میں ہمارے دوست ظفر اقبال جھگڑا صاحب جو تھے وہ مسلم لیگ ن کے جنرل سیکرٹری رہے مسٹر زبیر صاحب مسلم لیگ ن کے وفاقی وزیر رہے اور بعد میں گورنر بنے۔ کوئٹہ میں محمود اچکزئی صاحب کے بھائی ہیں ان کا سارا خاندان الیکشن لڑ رہا ہے میں ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے اور ایک سنجیدہ سیاستدان کی حیثیت سے آپ سے پوچھ رہا ہوں کہ کیا یہ جو الزام ہے اس میں کوئی وزن نظر آتا ہے کہ جو سیاسی گورنر چاروں صوبوں میں گورنر ہاﺅس میں موجودگی میں جبکہ پانچ سبجیکٹ واپڈا، سوئی گیس، یونیورسٹیوں کے وہ چانسلر ہوتے ہیں زرعی ترقیاتی بینک اور ایک دو محکمے براہ راست گورنر کے ماتحت ہوتے ہیں کیا آپ کے خیال میں گورنروں کو بھی تبدیل کر کے غیر جانبدار گورنر نہیں بنانے چاہئیں۔
پرویز رشید: گورنر کے پاس ایسا کون سا اختیار ہے جس میں وہ انتخاب میں کوئی مداخلت کر سکتا ہے۔ کسی کو فائدہ یا نقصان پہنچا سکتا ہے، ہمارے آئین میں گورنر پرائم منسٹر کی ایڈوائس پر عمل کرتا ہے جن اختیارات کی آپ نے بات کی وہ بھی گورنر خود استعمال کرتا چیف منسٹر کی ایڈوائس پر ان لوگوں کے حکم نامے پر دستخط کرتا ہے خود واپڈا کسی گورنر کے ماتحت نہیں۔ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی تعیناتی صوبائی وزیراعلیٰ کرتے ہیں گورنر ان کی ایڈوائس کے مطابق اس حکم نامے پر دستخط کرتا ہے ایک رسمی سا کام ہے جو گورنر کرتا ہے اس کے پاس کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ کسی کی ٹرانسفر، کسی کی ترقی نہیں کر سکتے۔ کسی کو نوکری دے نہیں سکتے کسی کو نوکری سے نکال نہیں سکتے۔ ان کی انتخابات میں مداخلت جو ہے وہ میری سمجھ سے بالاتر ہے اور اگر ہم اس مفروضے پریقین کرنا شروع کر دیں تو پھر صدر پاکستان بھی اپنے عہدے پر قائم ہیں، صدر پاکستان کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا سکتا ہے اور دوسرے بہت سے اداروں کے سربراہ ہیں جن کی تعیناتی وزیراعظم کے صوابدید کے مطابق ہوتی ہے ہم یہ پنڈورا باکس کھولنے کی طرف جا رہے ہیں۔ جو ہماری اٹھارہویں ترمیم تھی تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر پاس کی جس میں تحریک انصاف کے اراکین بھی شامل تھے اور انتخابی اصلاحات کی کمیٹی میں تحریک انصاف نے پورا کام کیا اور تحریک انصاف نے متفقہ طور پر ان قوانین کی منظوری اور ترامیم کی منظوری دلوائی قومی اسمبلی سے پھر سینٹ سے جن کو ہم انتخابی اصلاحات کہتے ہیں اس میں کوئی اس چیز کا ذکر نہیں تھا کہ گورنرز کو تبدیل کیا جائے گا۔ اب اگر انہیں آج خیال آ رہا ہے تو انہیں چائے تھا کہ انتخابی اصلاحات میں اس چیز کو شامل کروا لیتے جیسے ہی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی تو گورنر بھی تبدیل کر دیئے جائیں گے صدر پاکستان کو اپنے گھر بھیج دیا جائے گا اور جو دوسرے عہدیدارن کی وزیراعظم نے تعیناتی کی ہو گی ان سب کو بھی ان کے گھروں میں بھیج دیا جائے گا۔ یا معطل کر کے بٹھا دیا جائے گا۔ یہ انتخابات میں ایسی کوئی وجہ نظر نہیں آئی جس کی وجہ سے ہمیں ایسے اقدامات کرنے پڑیں۔
ضیا شاہد: جب سے ہم نے ہوش سنبھالی، ہم نے حکومتوں کو آتے جاتے دیکھا، ایک زمانے میں گورنر حضرات جو ہوتے تھے عام طور پر غیر سیاسی ہوتے تھے۔ سابق بیورو کریٹ یا سابق جرنیل ہوتے تھے یہ پچھلے چند برسوں سے یہ سلسلہ شروع ہوا اور میں آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ جناب خالد مقبول صاحب کے دور میں ایک بڑی سیاسی ٹینشن شروع ہو گئی تھی کہ خالد مقبول جب دوروں پر جاتے تھے تو وہ ان شعبوں، ان محکموں میں بھی دخل دیتے تھے جو اس وقت مسلم لیگ کے وزیراعلیٰ کے پاس ہوتے تھے چنانچہ جب ان کی شکایت ہوئی صدر پرویز مشرف کے پاس مجھے ذاتی طور پر معلوم ہے کہ ان کو منع کر دیا گیا۔ میں خود 3,2 یونیورسٹیوں کے دورے میں ساتھ گیا تھا اور پھر وہ یونیورٹیوں میں جاتے تھے، نمبر2 زرعی ترقیاتی بینک کے بارے میں پوچھتے تھے نمبر3 واپڈا کے کنکشنوں کے بارے میں پوچھتے تھے نمبر4 وہ نادرا کے بارے میں پوچھتے تھے۔ پانچویں سبجیکٹ میں وہ دخل نہیں دیتے تھے۔ جو یہ بات ظاہر کرتی تھی ظاہر ہے اس وقت کے وزیراعلیٰ اس کو سمجھتے تھے کہ میرے محکموں میں گورنر غلط دخل دے رہا ہے۔ جناب لاہور کے سب سے بڑے گھر میں جس کا نام گورنر ہاﺅس ہے رفیق رجوانہ صاحب فروکش ہیں۔ بڑے پڑھے لکھے بڑے مہذب آدمی ہیں لیکن میں اصولی بنیادوں پر بات کر رہا ہوں کہ ان کے بیٹے ملتان میں الیکشن لڑ رہے ہیں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر۔ کیا آپ کے خیال میں اتنے فرشتہ ہو سکتے ہیں کہ وہ اپنے بیٹے کی کہیں کوئی مدد نہیں کریں گے۔ کوئی اچھا نہیں سوچیں گے کسی سیکرٹری سے کہیں گے بھی نہیں گورنر ہاﺅس میں سب افسروں نے آنا جانا ہوتا ہے۔ انصاف کی تو بات کریں۔
پرویز رشید: میں ایک اصول کی بات کر رہا ہوں۔ خالد مقبول صاحب کی جب آپ نے بات کی تو میں وہ ایک غیر آئینی زمانہ تھا۔ آئین سے تجاوز کر لیا گیا ہوا تھاو¿ مشرف چیف ایگزیکٹو بھی تھے ملک کے صدر بھی تھے اور ملک کے چیف آف آرمی سٹاف بھی تھے۔ ایک بے راہروی خود بھی کر رہے تھے اور ان کے گورنر صاحبان کو ایسے اختیارات دے دیئے گئے تھے مجھے بتایئے پچھلے 5 سال میں کیا خیبرپختونخوا کے بارے میں کوئی شکایت پرویز خٹک کو پیدا ہوئی جس کا انہوں نے کبھی اظہار کیا ہو کہ گورنر نے میرے کسی کام میں مداخلت کی ہے۔ گورنر ان کے کام میں مداخلت کر نہیں سکتا۔ میں نے کہا نان گورنر کے پاس اختیار نہیں ہے۔ اگر کسی کو اس کی شکل اچھی نہیں لگتی تو اس کو تبدیل کریں۔ بہرحال یہ آئین کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہو گا۔ بیٹے، بھائی، بیٹی کا انتخاب میں حصہ لینے کا تعلق ہے تو میں درجنوں ایسے حوالے دے سکتا ہوں جو انتخاب لڑ رہے ہیں جو ایسے شخص کے بھائی بھی جو خود بڑے عہدے پر موجود ہیں اور اس کے پاس اختیارات بھی ہیں جبکہ گورنر کے پاس نہیں ہیں، الیکشن کمیشن کے کچھ لوگوں کے بارے میں میں نام لیتا اچھا نہیں لگتا لیکن جو بااختیار لوگ وہ خود الیکشن کمشن کے بااختیار لوگ ہیں ان کے قریبی خون کے رشتے ہیں۔ وہ انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس طرح مثالیں دوں گا کہ بڑے بااختیار عہدوں پر آفیسر موجود ہیں ان کے خون کے رشتہ دار حصہ لے رہے ہیں۔گورنر تو بے اختیار یہاں بااختیار لوگوں کے قریبی خون کے رشتے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔
ضیا شاہد:گورنر چانسلر ہوتا ہے۔ بہت ساری مثالیں دے سکتا ہوں کہ گورنر بطور چانسلر وائس چانسلر کو تبدیل کیا، معطل کیا، یونیورسٹیوں میں تقرریوں کا نوٹس لیا و دیگر محکموں میں بھی دخل لیا۔ سارے گورنر ٹھوک بجا کر دخل دیتے ہیں آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ گورنر کچھ نہیں کر سکتا۔
پرویز رشید: جس قسم کے دخل کی آپ بات کر رہے ہیں تو گورنر نہ بھی ہوں پاکستان میں آپ جیسے باوسیلہ و بارسوخ حضرات ایسا کر لیتے ہیں۔ گورنر وزیراعلیٰ کے حکم پر عمل کرتا ہے، آئینی یا قانونی اختیار نہیں رکھتا۔ کہا جاتا ہے کہ اب غیر جانبدار وزیراعلیٰ موجود ہیں اگر وہ تمام اداروں، محکموں کو کہہ دیں کہ گورنر کی بات پر عمل نہیں کرنا تو نہیں ہو گا۔ سینٹ انتخابات میں گورنر خیبر پختونخوا اگر فاٹا میں کچھ کر سکتا تو وہاں سے ایسے سنیٹرز منتخاب نہ ہوتے جو ہمارے امیدوار کے بجائے سنجرانی صاحب جیسے لوگوں کو ووٹ دیئے۔
ضیا شاہد:نوازشریف و مریم نواز کے حوالے سے 4 پروگرام کئے، جج محمد بشیر کو خط بھی لکھا کہ انسانی و اخلاقی بنیادوں پر ان کے استثنیٰ کی درخواست مسترد نہیں کرنی چاہئے۔ اب بھی معلوم ہوا ہے کہ انہیں صرف مزید 4 دن کیلئے استثنیٰ ملا ہے۔ اب بھی کہتا ہوں کہ جب تک بیگم کلثوم نواز ٹھیک نہیں ہوئیں انہیں وہاں رہنے دیں۔ دُعا گو ہوں کہ کلثوم نواز صحت یاب ہوں۔ آپ کو وہاں ایک ترجمان مقرر کرنا چاہئے۔ حسن و حسین نواز ایک شخص کو کہہ دیتے ہیں وہ آگے نشر کر دیتا ہے۔ ایک ترجمان مقرر کر دینے میں مسئلہ کیا ہے؟
پرویز رشید: موجودہ حالات میں جو دوسروں کو سہولیات ہوتی ہیں وہ نواز کو نہیں ہیں۔ پانامہ مقدمے میں اپیل کا حق بھی نہیں دیا۔ ہم نہیں کبھی نہیں کہا کہ بیگم کلثوم نواز کی عیادت پر جانے کی اجازت دے دیں۔ نوازشریف کو یہ سہولت نہیں دی گئی کہ وہ ڈاکٹروں سے مشورہ کرتے تا کہ اس پر عمل ہو سکتا۔ بدقسمتی سے جب وہ گئے تو ان کی حالت زیادہ خراب ہو گئی تھی اور وہ بیہوش تھیں۔ بیٹی کو بھی والدہ سے گفتگو کرنے کا موقع نہیں مل سکا۔ آپ کی کاوشوں پر شکر گزار ہوں۔ آپ کی لندن میں ایک ترجمان مقرر کرنے کی تجویز ان تک پہنچا دوں گا کیونکہ یہ ان کی صوابدید ہے۔
ضیا شاہد:چودھری نثار کی گفتگو سن کر بہت دکھ ہوا۔ اگر ان کو ٹکٹ نہیں ملا تو ایسی گفتگو کہ میں راز کھول دوں گا اور جو زبان استعمال کی، عجیب بات ہے۔ ان کے پاس آپ کے لیڈر کے کیا راز ہیں؟
پرویز رشید: جن کے پاس کوئی بات نہیں ہوتی وہ اس طرح کی ہی باتیں کرتے ہیں۔
ضیا شاہد:آپ ہی ان کو ٹکٹ دے دیتے۔ اب وہ کہتے ہیں کہ میں نے نوازشریف کو صدر بنایا۔ میرے علم میں تو یہ بات نہیں؟
پرویز رشید: اگر چودھری نثار کے پاس صدر بنانے کا کوئی اختیار ہوتا تو وہ صرف خود کو صدر بناتے۔ انہیں اپنے وجود کے علاوہ کوئی دوسرا بھاتا نہیں۔ ان کے نزدیک دنیا کے سب سے عظیم مفکر، سیاستدان، دانشور صرف وہی ہیں۔
ضیا شاہد:آپ کے ساتھ ان کا کیا جھگڑا ہے؟
پرویز رشید: کسی کا بھی ان کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں، بس وہ گرم ہوا کے پرندے نہیں ہیں۔ نون لیگ کے لئے گرم ہوا چل پڑی ہے اب وہ ٹھنڈی ہوا کی طرف بھاگ رہے ہیں۔
ضیا شاہد نے کہا کہ چودھری نثار 10 بار کہہ چکے کہ میری پارٹی ہے، مشکل وقت میں ساتھ نہیں چھوڑوں گا اور کون سا مشکل وقت ہو گا۔ دوسری طرف جو وہ زبان استعمال کر رہے ہیں، میں اپنے بدترین دشمنوں کے بارے میں بھی ایسی گفتگو نہیں کر سکتا۔ سیاسی اختلافات ہوتے ہیں لیکن باہمی اخلاقیات کو بالکل نظر اندا نہیں کر دینا چاہئے۔ چودھری نثار کی باتیں سن کر دکھ ہوا وہ پتہ نہیں کس وقت کی بات کر رہے ہیں، میں تو نوازشریف کو تب سے جانتا ہوں جب وہ سیاست میں آئے تھے۔
پاکستانی ٹیم کی قسمت اچھی جو چھٹے سے 5 ویں نمبر پر آئی ، ڈومیسٹک کرکٹ میں بال ٹمپرنگ کو روکنا ہو گا : طاہر شاہ ، چینل ۵ کے پروگرام ” گگلی “ میں گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق فرسٹ کلاس کرکٹر طاہر شاہ نے کہا ہے کہ بال ٹمپرنگ ایک بہت پرانا کینسر ہے جو پھیلا ہوا ہے۔ جب پاکستانی ٹیم بال ٹمپرنگ کرتی تھی اس وقت کسی کو اس کا پتہ نہیں تھا۔ چینل ۵ کے پروگرام گگلی میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہماری ڈومیسٹک کرکٹ میں بال ٹمپرنگ کھلم کھلا ہے کیونکہ امپائر بڑے باﺅلرز سے ڈرتے ہیں۔ کچھ لوگوں نے تو یہ تک کہہ دیا کہ بال ٹمپرنگ کو قانونی قرار دیا جائے جو کہ کرکٹ کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کی قسمت ہے جو چھٹے سے پانچویں نمبر پرآ گئی ہے اگر فتح ملے تو اسے برقرار رکھنا چاہئے۔
قومی ہاکی ٹیم نے آسٹریا کیخلاف سیریز 0-2 سے جیت لی
لاہور(ویب ڈیسک) ایف آئی ایچ چیمپئنز ٹرافی کی تیاریوں میں مصروف پاکستان ہاکی ٹیم نے آسٹریا کے خلاف3 میچوں کی سیریز 0-2 سے جیت لی۔چیمپئنز ٹرافی کی تیاریوں کے لیے پاکستان ہاکی ٹیم ان دنوں ہالینڈ کے شہر بریڈا میں موجود ہے اور ہالینڈ اور وہاں کے مقامی کلب اور آسٹریا کے خلاف 5 میچوں کی سیریز بھی مکمل کرچکی ہے۔ ان میچوں کے دوران رضوان سینئر نے ٹیم کی قیادت کی۔گزشتہ روز پاکستان نے آسٹریا کو سیریز کے تیسرے اور آخری میچ میں بھی صفر کے مقابلے میں 3 گول سے زیر کرکے سیریز 2-0 سے اپنے نام کی۔ سیریز کے دوران ارسلان قادر بھر پور فارم میں دکھائی دیے، انھوں نے آخری میچ میں 2 گول کرنے کے علاوہ مجموعی طور پر5 گول کر کے سیریز کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز بھی حاصل کیا۔بریڈا میں ہونے والے اس میچ میں پاکستانی ٹیم نے آغاز میں ہی جارحانہ انداز اپنایا اور نویں منٹ میں ارسلان قادر کے ذریعے ابتدائی گول کرنے میں کامیاب ہوگئی۔دوسرے کوارٹر میں پاکستانی ٹیم نے ایک بار پھر عمدہ موو بنائی اور گیند کو حریف سائیڈ کے ڈی ایریا میں لے جانے میں کامیاب ہوگئی، اس بار مبشر علی نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ گیند کو جال کے اندر پھینک کر پاکستانی ٹیم کی برتری دگنی کر دی۔ تیسرے کوارٹر میں کوئی بھی ٹیم مزید گول کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔چوتھے کوارٹر میں پاکستانی ٹیم نے گول کی ہیٹ ٹرک مکمل کرنے کے لیے بھر پور کوشش کی، کھیل ختم ہونے سے صرف پانچ منٹ قبل ارسلان قادر نے انفرادی طور پر دوسرا اور مجموعی طور پر تیسرا گول کر کے فتح پاکستانی ٹیم کی جھولی میں ڈال دی۔میچ کے دوران ا?سٹریا کی ٹیم کو بھی گول کرنے کے متعدد مواقع میسر ا?ئے لیکن ان کے فاروڈز پاکستانی ٹیم کے دفاعی حصار میں شگاف ڈالنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔
ماہرہ کی فلم نے عید پرریلیزہونے والی تمام فلموں کو پیچھے چھوڑدیا
کراچی(ویب ڈیسک) عید الفطر کے موقع پر ریلیز ہونے والی ماہرہ خان اورشہریار منور کی فلم ’سات دن محبت ان‘ باقی تمام فلموں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کمائی میں سب سے آگے نکل گئی۔عید الفطر پر مقامی سینماو¿ں میں 4 پاکستانی فلموں کا میلہ سجا، جس میں ماہرہ خان اورشہریارمنورکی’سات دن محبت ان‘، جاوید شیخ، دانش تیمور کی ’وجود‘، معمر رانا، سونیا حسین کی ’آزادی‘ اور میکال ذوالفقار، علی کاظمی کی ’نا بینڈ ناباراتی‘ شامل تھیں تاہم شائقین کوجس فلم کا بے صبری سے انتظار تھا وہ ماہرہ خان کی فلم ’سات دن محبت ان‘ تھی۔ریلیزسے قبل فلم کی بھرپوراندازمیں تشہیرکی گئی تھی جب کہ فلم میں ماہرہ خان پہلی بارسنجیدہ کردارسے ہٹ کرمزاحیہ کردارادا کررہی تھیں یہی وجہ تھی ماہرہ خان کے مداح اس فلم کو دیکھنے کے لیے بے چین تھے۔عید کے دونوں دن ماہرہ خان کی فلم دیکھنے کے لیے شائقین نے بھرپوراندازمیں سینماو¿ں کارخ کیا جب کہ تھیٹرسے نکلنے کے بعد لوگ فلم کی تعریف کرتے نظر آئے۔ عید کے پہلے روزفلم نے 1 کروڑ 5 لاکھ کا بزنس کیا جب کہ دوسرے روز فلم پہلے روز کے مقابلے میں زیادہ بزنس کرنے میں کامیاب رہی اور2 کروڑ کی کمائی کرڈالی۔ اس طرح ریلیز کے دودنوں میں فلم مجموعی طورپر3 کروڑ5 لاکھ کا بزنس کرنے میں کامیاب ہوئی۔دوسری جانب اداکار معمر رانا اور سونیا حسین کی فلم ’آزادی‘ کوبھی لوگوں نے خوب پسند کیا ریلیز کے پہلے روز ’آزادی‘اور’سات دن محبت ان’کا بزنس ایک جیسا رہا فلم ’آزادی‘ نے پہلے روز 1 کروڑ5 لاکھ کا بز نس کیا لیکن دوسرے روزفلم کمائی کے مقابلے میں ’سات دن محبت ان‘ سے تھوڑی پیچھے ہی رہی۔ ریلیز کے دوسرے روز فلم نے 1کروڑ 45لاکھ روپے کمائے اس طرح مجموعی طور پر فلم دو دنوں کے اندر 2 کروڑ5 لاکھ کا بزنس کرسکی۔پاکستان کے لیجنڈ اداکارجاوید شیخ کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’وجود‘میں اداکار دانش تیمور، سائدہ امتیاز اور بھارتی اداکارہ آدیتی سنگھ نے مرکزی کردار اداکیاتھا، تاہم فلم شائقین کو متاثر کرنے میں ناکام رہی۔ فلم نے عید کے پہلے روز صرف50 لاکھ کا بزنس کیا جب کہ دوسرے روز70 لاکھ کا بزنس کرسکی اس طرح مجموعی طور پر فلم 1 کروڑ 2 لاکھ روپے ہی کماسکی۔عید الفطر کے موقع پرپاکستانی فلموں کے مقابلے میں بھارتی فلموں پر تو پابندی عائد تھی تاہم ہالی ووڈ فلم’جراسک ورلڈ‘نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ حیرت انگیز طورپرعید کے پہلےروز ’جراسک ورلڈ‘ماہرہ خان کی فلم’سات دن محبت ان‘ سے پیچھے رہی اور صرف 1 کروڑ4 لاکھ کابزنس کرسکی تاہم دوسرے روز فلم اچھا بزنس کرنے میں کامیاب ہوئی اور2کروڑ5لاکھ کمالیے اس طرح فلم کا بزنس مجموعی طورپر 3 کروڑ45 لاکھ رہا۔
فلم ’2.0‘ کا بجٹ 100 کروڑ اضافے کے بعد 550 کروڑ بھارتی روپے تک پہنچ گیا
ممبئی (ویب ڈیسک)بالی وڈ اداکار رجنی کانت اور اکشے کمار کی فلم ’ روبوٹ 2.0‘ کا بجٹ 100 کروڑ اضافے کے بعد 550 کروڑ بھارتی روپے تک پہنچ گیا ہے۔ فلم میں مداحوں کو میگا اسٹار رجنی کانت اور اکشے کمار کے ایک سے زائد روپ دیکھنے کو ملیں گے جب کہ اس فلم میں خطروں کے کھلاڑی ولن کا روپ دھاریں گے۔ فلم ’روبوٹ 2.0 ‘ طویل عرصے سے ریلیز رکی منتظر ہے اور کئی بار فلم کی نمائش کی تاریخوں میں ردو بدل کی جاچکی ہے جس کی ممکنہ وجہ وی ایف ایکس ایفکٹس کا تسلی بخش نہ ہونا ہے۔یہ سائنس فکشن فلم بھارت کی سب سے مہنگی فلم ہے جس پر 450 کروڑ بھارتی روپے کی لاگت ا?ئی ہے لیکن اب فلم کے ہدایت کار شنکر کو وی ایف ایکس ایفیکٹس پسند نہیں ا?ئے ہیں جس کی وجہ سے ایک بار پھر فلم پر کام جاری ہے۔فلم میں مزید کام کے باعث بجٹ میں بھی اضافہ ہوگیا ہے اور فلم کا بجٹ 100 کروڑ روہے اضافے کے بعد 550 کروڑ بھارتی روپے تک جا پہنچا ہے۔بھارتی میڈیا پر زیر گردش خبروں کے مطابق فلم کے بجٹ میں اضافے سے پروڈیوسرز کا دیوالیہ نکل گیا ہے اور ان کی کوشش ہے کہ جلد سے جلد فلم میں ایفیکٹس کا کام پورا کیا جائے۔دوسری جانب فلم میں وی ایف ایکس ایفیکٹس کے کام کے باعث رواں سال فلم کی نمائش نہیں ہوسکے گی اور اسے اگلے سال کے اوائل میں ہی ریلیز کیا جائے گا۔
عالیہ بھٹ ایک بار پھر شوٹنگ کے دوران زخمی
ممبئی (ویب ڈیسک)بالی وڈ اداکارہ عالیہ بھٹ فلم ’کلنک‘ کی شوٹنگ کے دوران پاو¿ں زخمی کرا بیٹھی ہیں۔عالیہ بھٹ دھرما پروڈکشن کے بینر تلے بننے والی فلم ’کلنک‘ میں سنجے دت، مادھوری ڈکشٹ، سوناکشی سنہا اور ورون دھون کے ساتھ فلم کی شوٹنگ میں مصروف ہیں۔فلم کی شوٹنگ ممبئی کے مقامی اسٹوڈیو میں جاری ہے جہاں عالیہ سیڑھیوں سے پھسل کر گرگئیں جس سے ان کے پاو¿ں میں موچ آئی ہے۔اداکارہ کے زخمی ہونے کے بعد شوٹنگ روک دی گئی تھی اور انہیں فوری طبی امداد دی گئی لیکن عالیہ نے بعد میں زخمی پاو¿ں کے ساتھ ہی شوٹنگ میں حصہ لیا تاہم ڈاکٹروں نے اداکارہ کو چند دن ا?رام کا مشورہ دیا ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل عالیہ بھٹ فلم ’برہمسترا‘ کی بلغاریہ میں شوٹنگ کے دوران زخمی ہوگئی تھیں جہاں ان کے بازو پر چوٹیں آئی تھیں اور ڈاکٹرز نے آرام کا مشورہ دیا تھا۔
کے پی کے میں عید الفطر کے دوران 25افراد جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے
پشاور(ویب ڈیسک)پولیس اور ہسپتال حکام کے مطابق عید الفطر کے 3 روز میں صوبہ خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں اور علاقوں میں پیش ا?نے والے حادثات میں 25 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔لکی مروت میں ٹریفک حادثے اور آتشزدگی کے واقعات میں مجموعی طورپر خاتون سمیت 7 افراد جاں بحق ہو ئے۔پولیس کے مطابق نورگن ٹاو¿ن میں رکشہ بے قابو ہو کر نہر میں جا گر جس میں سوار خاتون اور بچہ جاں بحق جبکہ 3 افراد زخمی ہوگئے۔لکی مروت میں مانجھی والا چوک کے پاس موٹر سائیکل درخت سے جا ٹکرائی جس کے نتیجے میں موٹر سائیکل سوار 2 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ملنگ اڈہ تاجوری روڈ پر بچکن احمدزئی کے مقام پر پک اپ ٹرک الٹ گیا جس میں سیر وتفریح کے لیے جانے والے افراد متعدد افراد زخمی جبکہ ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔تھری ویلرز سے ایک بچہ گر کے موقعے پر ہی چل بسا۔لکی مروت کے تاجازئی کے علاقے میں فضل کریم نامی شخص کو پرانی دشمنی کے باعث قتل کردیا گیا۔چترال کے واشیش گاو¿ں میں ایک چیپ دریا میں جاگری جس کے نتیجے میں اس میں سوار 5 میں سے 2 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہو گئے۔جاں بحق ہونے والوں کی شناخت سعید الرحمٰن اور وجہی الرحمٰن سے ہوئی۔مانسہرہ میں کوٹکے کے علاقے میں موٹرسائیکل سوار محمد اسامہ اور مراد علی ویگن کی ٹکر سے جاں بحق ہوگئے۔نوشہرہ میں خاتون نے خود کشی کی جبکہ دیگر حادثات میں 3 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ ٹریفک حادثے میں تقریباً 71 افراد زخمی ہوئے، زخمی ہونے والوں کی زیادہ تر تعداد موٹرسائیکل پر سوار تھی۔بنو میں ٹریفک حادثے اور پرتشدد واقعات میں خاتون سمیت 5 افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہو گئے۔میران پولیس اسٹیشن کی حدود میں شوہر نے اہلیہ کو کسی اور شخص سے مبینہ طور پر ناجائز تعلقات استوار کرنے کے شک پر قتل کردیا۔2 مخلتف واقعات میں ایک خاتون نے زہریلی چیز کھا کر خود کشی کرلی جبکہ ڈومیل علاقے میں ایک خانون کو اس کے گھر میں قتل کردیا گیا۔ڈومیل میں ہی کار اور رکشے کے تصادم میں 11 افراد زخمی ہوئے جبکہ کرک میں مختلف حادثات اور واقعات میں 5 افراد جاں بحق اور 4 زخمی ہو ئے۔مناخیل کے علاقے میں ٹریکٹر موٹر سائیکل پر چڑھ گیا، جس کے نتیجے میں کامران اور حسین جاں بحق ہوئے اور انڈس ہائی وے پر کار حادثے میں 4 افراد زخمی ہوگئے۔شانگلا میں روڈ حادثے میں 11 افراد زخمی ہوئے۔
دنیا کا 40 فیصد اسلحہ امریکی شہریوں کے پاس ہونے کا انکشاف
جینوا (ویب ڈیسک) اِسمَال آرم سروے کے مطابق امریکی آبادی دنیا کی مجموعی آبادی کا صرف 4 فیصد ہے لیکن دنیا کا 40 فیصد اسلحہ، امریکی عوام کے پاس ہے۔ سروے میں انکشاف کیا گیا کہ دنیا میں ایک ارب سے زائد اسلحہ موجود ہے جس میں سے 85 فیصد اسلحہ شہریوں کے ہاتھوں میں ہے۔جینوا میں گریجویٹ انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل اینڈ ڈیولپمنٹ اسٹیڈیز نامی ادارے نے 133 مملک اور خطے سے اسلحہ کی رجسٹریشن سے متعلق معلومات جمع کیں اور سروے کے نتائج 56 ممالک سے اخذ کیے گئے۔سروے کے مطابق شہریوں کے پاس 85 کروڑ 70 لاکھ چھوٹی بڑی بندوقیں ہیں جس میں سے 39 کروڑ 30 لاکھ بندوقیں امریکا میں پائی جاتی ہیں، اس اعتبار سے صرف امریکا میں مجموعی اعتبار سے 25 ممالک سے زیادہ اسلحہ موجود ہے۔رپورٹ کے مصنف ارون کرپ کے مطابق ‘گزشتہ 10 برس کے دوران امریکا میں بندوق کی ملکیت پر غیر معمولی زور دیا گیا’۔
دنیا کا چالاک ترین بھکاری سکیورٹی والوں کو چکمہ دیکر جہاز میں پہنچ گیا
کراچی(ویب ڈیسک) بھکاری سیکیورٹی کو چکما دیکر غیر ملکی پرواز میں گھس گیا اور بھیک جمع کرنی شروع کردی جبکہ سول ایوی ایشن حکام نے واقعہ پاکستان میں پیش آنے کی تردید کی ہے۔فضائی سفر کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا انوکھا واقعہ پیش آیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوگئی ہے جس میں ایک بھکاری قطر ایئرویز کی پرواز میں بھیک مانگ رہا ہے۔ دیگر مسافر بھکاری کو پیسے دے رہے ہیں جب کہ ایئرہوسٹس اور پائلٹ بھکاری کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر کہا جارہا ہے کہ یہ واقعہ کراچی ایئرپورٹ پر پیش آیا جہاں ایک بھکاری سیکورٹی کو چکما دے کر بنکاک جانے والی پرواز ٹی جے 507 میں گھس گیا۔ یہ بھکاری اپنے حلیے سے پاکستانی اور ایشیائی معلوم ہورہا ہے جس کی وجہ سے یہ خیال کیا گیا کہ اس کا تعلق پاکستان سے ہوسکتا ہے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے پاکستانی حکام کو سیکورٹی کی ناکامی پر کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔تاہم ترجمان سول ایوی ایشن نے وضاحت جاری کرتے ہوئے ہے کہ جہازمیں بھیک مانگنے کا واقعہ پاکستان کے کسی بھی ایئر پورٹ پر پیش نہیں آیا، چند روز قبل دوحہ ایئر پورٹ پر قطر ایئر ویز کی ایک پرواز پر یہ واقعہ رونما ہوا تھا جو دوہا سے ایرانی شہر شیراز جارہی تھی۔ ترجمان سول ایوی ایشن نے کہا کہ پرواز اور واقعے کا تعلق پاکستان سے جوڑا جارہا ہے جس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔


















