خاتون نے شوہر کے فون سے خود کو ہی طلاق کا پیغام بھیج دیا

دبئی(ویب ڈیسک)شوہر کے ظلم و ستم سے دلبرداشتہ ہوکر متحدہ عرب امارات کی ایک خاتون نے اپنے خاوند کے فون سے اپنے آپ کو خود ہی طلاق کا پیغام بھیج دیا۔تاہم خاتون کی اس حرکت کا بھانڈا عدالت میں پھوٹ گیا۔دبئی کے روزنامہ البیان کے مطابق خاتون کے شوہر گہری نیند سو رہے تھے کہ انہوں نے ان کی انگلیوں (فنگر ٹچ) کی مدد سے موبائل فون کو اَن لاک کیا اور اس کے ذریعے اپنے آپ کو 3 مرتبہ طلاق دینے کا پیغام بھیج دیا۔رپورٹ کے مطابق خاتون نے عدالت میں طلاق کے حق میں موبائل فون کا پیغام ثبوت کے طور پر پیش کیا، لیکن عدالت معاملے کی تہہ تک پہنچ گئی۔دبئی کے پرسنل اسٹیٹس کورٹ کے حکام نے خاتون سے پوچھا کہ کیا وہ یقین سے سب کہہ سکتی ہیں جس پر خاتون نے اپنے فعل کا اعتراف کر لیا۔رپورٹ کے مطابق خاتون کی شادی کو 3 سال ہوچکے تھے، لیکن ان کے اپنے شوہر سے تعلقات اچھے نہیں تھے۔دوسری جانب ان کے خاوند نے انہیں پریشان کرنے کے لیے طلاق دینے سے انکار کردیا تھا۔

بالآخر زینب قتل کیس کے گرفتار شخص نے خود کشی کر لی

اسلام آباد(ویب ڈیسک)زینب قتل کیس کے سلسلے میں کئی افراد کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا گیا تھا انہی میں سے ایک مقامی پیر بھی تھے جن کو ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے لے جایا گیا تھا جس کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اس نے اپنے کمرے میں پنکھے سے لٹک کر خودکشی کر لی ہے۔واقع کا علم ہونے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لاش کو ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔جب کہ پولیس اس سے متعلق تفتیش بھی کر رہی ہے۔شبیر کے اہل خانہ کاکہنا ہے کہ شبیر کو زینب قتل کیس میں پولیس نے گرفتار کیا تھا۔شبیر کے بھتیجے عمر شبیر کا کہنا تھا کہ ڈی این اے ٹیسٹ لینے کے دس دن بعد شبیر بابا عرف چھنی پیر کو رہا کیا گیا تھا۔جس کی وجہ سے وہ شدید پریشانی کا شکار تھا اور دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کر لی۔اہلخانہ کا کہنا ہے کہ جب وہ وضو کرنے کے لئے گئے تو ہم سمجھے کہ وہ اپنی معمول کی عبادت کے لئے گئے ہیں تا ہم انہوں نے خودکشی کر لی۔پولیس نے واقعے کی تفتیش کاا?غاز کردیا ہےدریں اثنا زینب کے والد حاجی امین کا بھی کہنا ہے کہ ملزم عمران چائلڈ پورنو گرافی کے عالمی مافیا کا رکن ہے لیکن حکومت اسپہلو کو جان بوجھ کر دبا رہی ہے۔ایک ویب سائٹ ”عرب نیوز“ کو ٹیلی فونک انٹرویو دیتے ہوئے زینب کے والد حاجی امین نے کہا کہ زینب کا قاتل بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے گھناو¿نے جرم کا اکیلا بھیڑیا نہیں ہے بلکہ وہ پورنو گرافی بنانے والے عالمی مافیا کا رکن ہے اور حکومت اس کے پورن مافیا سے تعلقات کے پہلو کو جان بوجھ کر نظر انداز کررہی ہے اور عمران کو تنہا مجرم ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔حاجی امین نے کہا ہے کہ ہماری محلے میں کی گئی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ملزم چائلڈ پورنو گرافی کے اس عالمی مافیا کا رکن ہے جو بچوں سے زیادتی اور انہیں قتل کرنے کی ویڈیوز بنا کر انٹرنیشنل مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں۔ دوسری جانب ترجمان پنجاب حکومت نے زینب کے والد کے الزام کو مسترد کردیا،ملک احمد خان نے کہا ہے</p><p>کہ اب تک کی ہونے والی تفتیش میں ملزم کے کسی عالمی گروہ سے رابطے کے ثبوت نہیں ملے اور تفتیش کار تاحال ملزم کے چائلڈ پورنوگرافی کے کسی بھی مافیا سے تعلقات کو ثابت نہیں کرسکے، اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔معلوماے سامنے ا?نے پرتمام تفصیلات میڈیا سے شئیر کی جائیں گی۔ اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔معلوماے سامنے آنے پرتمام تفصیلات میڈیا سے شئیر کی جائیں گی۔

راو انوار کی گرفتاری کیلئے پولیس کا چھاپہ

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) پولیس نے نقیب اللہ محسود قتل کیس میں معطل ایس ایس پی ملیر راو¿ انوار کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا ہے۔ راو¿ انوار کی گرفتاری کے لیے اسلام آباد میں موجود کراچی پولیس کے اہلکاروں نے معطل ایس ایس پی ملیر کو حراست میں لینے کے لیے چھاپہ مارا۔پولیس ذرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس نے چھاپہ مارنے میں کراچی پولیس کی معاونت کی تاہم جس گھر پر چھاپہ مارا گیا وہ راو¿ انوار کی ملکیت نہیں تھا اور نہ ہی اس گھر سے کسی کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔اسلام آباد پولیس کے ذرائع کے مطابق جس پر چھاپہ مارا گیا اس کے باہر راو¿ انوار کے اشتہاری ہونے کا پوسٹر بھی چسپاں کر دیا گیا ہے کہ جس پر تحریر موجود ہے کہ جس شخص کو بھی راو¿ انوار کے بارے میں علم ہو وہ پولیس کو آگاہ کرے۔آئی جی پولیس اے ڈی خواجہ کا سپریم کورٹ کی جانب سے راو¿ انوار کی گرفتاری کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے پر کہنا تھا کہ تاحال راو¿ انوار کی گرفتاری کے حوالے سے کسی قسم کی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے تاہم راو¿ انوار کی گرفتاری کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیںخیال رہے کہ نقیب اللہ قتل کیس میں چیف جسٹس آف پاکستان نے راو¿ انوار کی گرفتاری کے لیے آئی جی سندھ کو 3 روز کی ڈیڈ لائن دی تھی جو آج ختم ہو چکی ہے۔راو¿ انوار نے 13 جنوری کو کراچی میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں نقیب اللہ محسود نامی نوجوان کو ماورائے عدالت قتل کرنے کا الزام ہے اور اس حوالے سے بنائی گئی جے آئی ٹی نے بھی راو¿ انوار کے مقابلے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی تھی۔سابق ایس ایس پی نے نقیب اللہ محسود قتل کیس کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی جے آئی ٹی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا تھا۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے بھی نقیب اللہ قتل کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے راو¿ انوار کو پیش ہونے کا حکم دیا تاہم وہ پیش نہ ہوئے۔

کوئٹہ سے کراچی جانے والی بولان میل کو بڑا حادثہ متعدد بوگےاں پٹڑی سے ا’تر گیئں

کوئٹہ (ویب ڈیسک ) کوئٹہ سے کراچی جانیوالی بولان میل کے قریب دھماکہ4فٹ ریلوے ٹریک ا’ڑنے سے 3بوگیاں پٹڑی سے ا’تر گیئں ۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز نے علاقہ کو گھیرے میں لے کر امدادی کاموں کا آغاز کر دےا۔ نجی ٹی وی کے مطابق دھماکہ کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں

پٹرول پھر مہنگا،،ٹینکیاں فل کر والیں

اسلام آباد(ویب ڈیسک)اوگر ا نے پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کی سمری وزارت پیٹرولیم کو بھجوا دی گئی ہے جس کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 2روپے 98پیسے فی لیٹر،ڈیزل میں 10روپے25 پیسے فی لیٹر جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 12 روپے 74 پیسے فی لیٹر اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔اس کے علاوہ اوگرا نے لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں بھی 11روپے72 پیسے فی لیٹراضافے کی سفارش کی ہے۔وزارت پیٹرولیم سے منظوری کے بعد نئی قیمتوں کا اطلاق یکم فروری سے ہوگا۔

منافقت کس نے کی ؟کس نے ہاتھ دکھایا؟طاہر القادری نے احتجاجی پروگرام کیوں موخر کےا،لائیو پروگرام میں ایسی باتیں کہ دیں کہ جان کر سب حیران رہ گئے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کے دوران علامہ طاہر القادری نے کہا ہے کہ ہم نے حکمرانوں کیخلاف احتجاجی پروگرام اس وجہ سے موخر کیا لہ لاہور میں چیرنگ کراس پر ہمارے احتجاجی پروگرام میں آصف زرداری اور عمران خان ایک ہی سٹیج پر آے اور خطاب کیا ۔فضاءکشیدہ ہو گئی ۔اچانک سیاسی فضاءمیں وائرس آ گیا ۔نئے ایشو کھڑے ہو گئے ۔قصور واقعہ پھر راﺅ انوار ، والا ایشو آ گیا ۔جس کی وجہ سے ہمارا ایشو موخر ہوگیا ۔مال روڈ احتجاجی جلسے کے بعد کچھ دوست ”مصروف“ ہو گئے تھے شریف برادران کی سیاست مارچ میں دفن ہو جائےگی ۔عوام کا سمندر پھر لا سکتے ہیں رانا ثناءاور شریف برادران ملک کے خلاف سازش کر رہے ہیں ان کا سیاسی جنازہ ا’ٹھنے کے قریب ہے

راﺅ انوار سے آصف زرداری کے تعلقات وزیراعلیٰ سندھ کا چونکا دینے والا بیان

کراچی(ویب ڈیسک )وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی نقیب اللہ کیس میں نامزد معطل ایس ایس پی راو¿ انوار کے ٹھکانے سے لاعلم نکلے۔کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راو¿ انوار سے متعلق سوال پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ راو¿ انوار کے معاملے پر فوری تحقیقاتی کمیٹی قائم کی جس نے 48 گھنٹوں میں رپورٹ دی، کمیٹی نے جو سفارشات کیں ان پر عملدرآمد کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ راو¿ انوار کی گرفتاری کے لیے پولیس نے پورے ملک کے اداروں کو لکھ دیا ہے، امید ہے سب ادارے مل کر کام کریں گے۔راو¿ انوار کو زمین کھاگئی یا آسمان نگل گیا؟ صحافی کے سوال پر مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اگر میڈیا کو معلوم ہے راو¿ انور کہاں ہیں تو پولیس کو بتادے۔وزیراعلیٰ نے آصف زرداری اور راو¿ انوار کی ملاقات کی خبرکو غلط قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ میں بھی کئی پولیس افسران کو جانتا ہوں جو اچھے بھی ہوتے ہیں اور برے بھی، راو¿ انوار اس وقت ایک ملزم ہیں اور کوئی اتنا طاقت ور ہے کہ پورے ملک کے ادارے چیف جسٹس کے حکم پر بھی اسے گرفتار نہ کرسکیں تو پتا نہیں اس میں کون ملوث ہے یہ دیکھ لیں گے لیکن کوئی اتنا طاقتور نہیں۔واضح رہے کہ نقیب اللہ قتل کیس میں نامزد راو¿ انوار کی گرفتاری کے لیے سپریم کورٹ کی طرف سے ا?ئی جی سندھ کو دی گئی مہلت ختم ہوچکی ہے۔

 

راﺅ انوار کی حقیقت بارے ملک ریاض کے تہلکہ خیز انکشاف نے سب کو ششدر کر دیا

کراچی(ویب ڈیسک)چئیرمین بحریہ ٹاون ملک ریاض کا کہنا ہے کہ نقیب اللہ کے قتل کا بہت دکھ ہے وہ میرے بیٹوں کی طر ح تھا،حلفا کہتاہوں کہ میرے پاس 8سال سے 2جہازہیں میرے ان جہازوں پرراﺅانوار نے ایک بار بھی سفر نہیں کیا۔اپنے ویڈیو پیغام میں چئیرمین بحریہ ٹاﺅن ملک ریاض کا کہنا تھا کہ نقیب اللہ کے ا ہلخانہ کےساتھ کھڑاہوں اس کیس کافیصلہ قانون کے مطابق ہو گا،نہ کبھی کوئی غیر قانونی کام کیا نہ اور اس کا حصہ بنتا ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ نجی مصروفیات اورعلاج کے سلسلے میں بیرون ملک ہوں۔واضح رہے ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے یہ حکم دے رکھا ہے کہ ملک میں نجی چارٹرڈ طیارے رکھنے والے افراد عدالت میں حلفا بیان جمع کروائیں کہ انہوں نے سابق ایس ایس ایس پی ملیر راﺅانوار کو ان کے جہاز وں میں ملک سے فرار ہونے میں کوئی مدد فراہم نہیں کی۔دوسری جانب سپریم کورٹ کی جانب سے 72گھنٹوں میں را? انوار کو گرفتار کرنے کا وقت بھی ختم ہوچکا ہے لیکن ابھی تک ملزم کو گرفتار نہیں کیا جاسکا۔

ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓآگرہ کے تاج محل کی طرز پر پاکستانی شہری نے بھی مرحومہ اہلیہ کی یاد میں دبنگ اعلان کر ڈالا

عمرکوٹ(ویب ڈیسک )لفظ محبت کے لفظی معنی عشق پیار کےہیں ،عمرکوٹ کے عبدالرسول پلی نے محبت کے حوالے سے شاہجہاں کی یاد تازہ کرتے ہوئے اپنی مرحومہ اہلیہ مریم کی یاد میں گاو¿ں کے قبرستان میں تاج محل تعمیر کرادیا ،علاقے اور دور دراز علاقوں سے محبت کی اس عظیم یادگار کو دیکھنے آرہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق عمرکوٹ کے نزدیک گاو¿ں راجہ رستی کے یہاں ڈھیبو کے رہائشی عبدالرسول پلی نے اپنی اہلیہ مریم کی وفات کے بعد اپنی محبت خاطر آگرہ انڈیا میں شاہجہاں اور ممتاز بیگم کی محبت اور تاج محل کی تعمیر اور دنیا بھر میں تاج محل کی مقبولیت کے بعد عبدالرسول پلی نے اپنی محبت مرحومہ اہلیہ مریم کی یاد میں اپنے گاو¿ں کے مقامی قبرستان میں ایک شاندار تاج محل تعمیر کرادیا ہے جہاں پر بقول عبدالرسول پلی وہ اپنی محبت کو یاد کرکے دلی سکون حاصل کرتے ہیں، اس تاج محل کی تعمیر میں کم وبیش ڈیڑھ سال کے قریب وقت لگا اور اس تاج محل کی تعمیر میں تقریباً پندرہ سے بیس لاکھ روپے مالیت کی لاگت آئی۔

نواز شریف کو ایک اور دھچکا ، احتساب عدالت نے فیصلہ سنا دیا

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) احتساب عدالت نے ضمنی ریفرنس کے خلاف نواز شریف کی درخواست مسترد کر دی، عدالت نے ضمنی ریفرنس کے 5 گواہ طلب کر لئے، بیرون ملک گواہوں کا بیان ویڈیولنک کے ذریعے ریکارڈ کیا جائے گا۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شریف خاندان کے خلاف ضمنی ریفرنس کیس کی سماعت کی۔ وکیل خواجہ حارث نے ایون فیلڈ پراپرٹیز کے ضمنی ریفرنس پر اعتراض اٹھایا اور کہا ضمنی ریفرنس میں کوئی نئی بات شامل نہیں، عبوری ریفرنس جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں دائر ہوا، ضمنی ریفرنس باہمی قانونی مشاورت کے جواب کے نتیجے میں دائر ہونا تھا، نیب نے خود بھی کہا کے نئے اثاثے یا شواہد ملنے پر ضمنی ریفرنس دائر کیا جائے گا۔وکیل نواز شریف خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایک عام الزام کی بنیاد پر ایک بار پھر یہ ریفرنس دائر کیا گیا، جے آئی ٹی کی رپورٹ کو بنیاد بنا کر ایک اور ریفرنس دائر کر دیا گیا، ضمنی ریفرنس نہ تو سپریم کورٹ کی روشنی میں دائر کیا گیا اور نہ ہی کوئی نئے اثاثے سامنے آئے ہیں۔ جس پر نیب ٹیم نے کہا کہ ضمنی ریفرنس میں کوئی نیا چارج نہیں، یہ گزشتہ ریفرنسز کو سپورٹ کرتا ہے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔قبل ازیں سابق وزیراعظم نواز شریف احتساب عدالت میں پیش ہوئے، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر بھی ہمراہ تھے۔ وزیر مملکت مریم اورنگزیب اوردیگر لیگی رہنما بھی احتساب عدالت موجود رہے۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے العزیزیہ ریفرنس کی 26 ویں، فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس کی 23 ویں اور لندن فلیٹس ریفرنس کی 22 ویں سماعت کی۔ سابق وزیراعظم 15 ویں، مریم نواز 17 ویں اور کیپٹن (ر) صفدر 19 ویں بار احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔اسلام آباد: (ویب ڈیسک) احتساب عدالت نے ضمنی ریفرنس کے خلاف نواز شریف کی درخواست مسترد کر دی، عدالت نے ضمنی ریفرنس کے 5 گواہ طلب کر لئے، بیرون ملک گواہوں کا بیان ویڈیولنک کے ذریعے ریکارڈ کیا جائے گا۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شریف خاندان کے خلاف ضمنی ریفرنس کیس کی سماعت کی۔ وکیل خواجہ حارث نے ایون فیلڈ پراپرٹیز کے ضمنی ریفرنس پر اعتراض اٹھایا اور کہا ضمنی ریفرنس میں کوئی نئی بات شامل نہیں، عبوری ریفرنس جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں دائر ہوا، ضمنی ریفرنس باہمی قانونی مشاورت کے جواب کے نتیجے میں دائر ہونا تھا، نیب نے خود بھی کہا کے نئے اثاثے یا شواہد ملنے پر ضمنی ریفرنس دائر کیا جائے گا۔وکیل نواز شریف خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایک عام الزام کی بنیاد پر ایک بار پھر یہ ریفرنس دائر کیا گیا، جے آئی ٹی کی رپورٹ کو بنیاد بنا کر ایک اور ریفرنس دائر کر دیا گیا، ضمنی ریفرنس نہ تو سپریم کورٹ کی روشنی میں دائر کیا گیا اور نہ ہی کوئی نئے اثاثے سامنے آئے ہیں۔ جس پر نیب ٹیم نے کہا کہ ضمنی ریفرنس میں کوئی نیا چارج نہیں، یہ گزشتہ ریفرنسز کو سپورٹ کرتا ہے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔قبل ازیں سابق وزیراعظم نواز شریف احتساب عدالت میں پیش ہوئے، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر بھی ہمراہ تھے۔ وزیر مملکت مریم اورنگزیب اوردیگر لیگی رہنما بھی احتساب عدالت موجود رہے۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے العزیزیہ ریفرنس کی 26 ویں، فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس کی 23 ویں اور لندن فلیٹس ریفرنس کی 22 ویں سماعت کی۔ سابق وزیراعظم 15 ویں، مریم نواز 17 ویں اور کیپٹن (ر) صفدر 19 ویں بار احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔

8لا کھ لڑکیاں نا جا ئز بچوں کی مائیں ،رپورٹ نے تہلکہ مچا دیا

لاہور،کراچی (نیااخبار رپورٹ) حکومت سندھ کی جانب سے چھٹی سے آٹھویں جماعت تک کے تعلیمی نصاب میں جنسی مواد شامل کرنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔امریکہ اور برطانیہ سے امداد لینے والی این جی او” زندگی ٹرسٹ“ یہ نصاب تیار کر رہی ہے۔تعلیمی نصاب کے حوالے سے این جی اوز کا ایجنڈا مشکوک ہے۔ سندھ حکومت بیرونی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے نصاب میں تبدیلی کر رہی ہے۔ نصاب میں جنسی مواد کی شمولیت سے نہ صرف خاندانی نظام متاثر ہو گا بلکہ بچوں میں بے راہ روی بھی پھیلے گی۔ سابق چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے کہا کہ ”صرف مڈل ہی نہیں بلکہ چھوٹے بچوں کو ایسی تربیت دینی چاہئے کہ وہ اپنے قریبی رشتہ داروں کے علاوہ کسی اور کے قریب نہ جائیں۔ ہم کسی این جی اوز کو اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ ہمارا نصاب تعلیم بنائے۔ پاکستان میں این جی اوز کے ایجنڈے مشکوک ہیں۔ یہ این جی اوز بظاہر خوبصورت اور دلکش سلوگنز کے ساتھ سامنے آتی ہیں لیکن ان کے مقاصد پاکستان کی اساس کو ختم کرنا ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) خلیل الرحمن نے کہا کہ تعلیمی نصاب کے معاملے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں مادرپدر آزاد جنسی تعلیم کی ضرورت نہیں، بلکہ اسلامی اصولوں پر مبنی اسلامی تعلیم کی ضرورت ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ، جسٹس (ر) خواجہ محمد شریف نے کہا کہ دینی جماعتوں کو خاص طور پر اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ کسی این جی او کو نصاب تیار کرنے کی ذمہ داری نہیں دینی چاہیے۔ ممتاز ماہر قانون احمد اویس ایڈووکیٹ نے کہا کہ غیر ملکی امداد سے چلنے والی این جی اوز کو ملک بھر میں کالعدم کر دینا چاہیے۔ کیونکہ وہ برائی کو بھلائی بنا کر پیش کر رہی ہیں۔ یہ ہمارے تعلیمی نظام کے ذریعے ہماری معاشرت کو مغربی معاشرت کی طرح کھوکھلا کرنا چاہتی ہیں۔ طارق اسد ایڈووکیٹ نے کہا کہ وہ اس خبر کا نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 184 کے تحت پٹیشن دائر کریں گے کہ کسی طرح ایک این جی او پاکستان کے نصاب تعلیم میں مداخلت کر رہی ہے اور اس این جی او کو کسی نے یہ ایجنڈا دیا ہے کہ وہ ملک کے تعلیمی اداروں میں اپنا نفوذ کرے۔ انہوں نے کہ بچوں کو اخلاقی تعلیم کی ضرورت ہے۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر اسداللہ بھٹو کا کہنا تھا کہ ” سندھ حکومت کی جانب سے جنسی مواد کو نصاب کا حصہ بنانے پر ہمیں شدید تشویش اور تحفظات ہیں۔ بچوں سے زیادتی کے واقعات خالص سماجی مسئلہ ہے، جو حکومت کی نا اہلی کا نتیجہ ہیں مہتمم آل مدارس بورڈ آف ٹرسٹیز ہانگ کانگ کے مفتی محمد شعیب نے کہ ہانگ کانگ کے اسکولوں میں جنسی تعلیم کا سلسلہ موجود ہے لیکن یہاں کی سوسائٹی کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ یہاں بھی ریپ کیسز ہوتے ہیں۔ مفتی شعیب کا کہنا تھا کہ ” میں چند ماہ قبل آسٹریلیا گیا تھا، وہاں بھی تعلیمی اداروں میں جنسی نصاب ہونے کے باوجود ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ضرورت ایسے نصاب کی نہیں بلکہ بچوں کی تربیت کی ہے، جس تربیت کی بات قرآن کریم کرتا ہے۔ جنسی تعلیم سے خاندانی نظام مزید متاثر ہو گا“۔جامعہ الصفہ کے نائب مہتمم مفتی محمد زبیر کا کہنا تھا کہ جنسی تعلیم معاشرے کیلئے انتہائی خطرناک اور تباہ کن ثابت ہو گی۔ تعلیمی نصاب میں تبدیلی سے پہلے جامعہ الصفہ کے نائب مہتمم مفتی محمد زبیر کا کہنا تھا کہ جنسی تعلیم معاشرے کیلئے انتہائی خطرناک اور تباہ کن ثابت ہو گی۔ تعلیمی نصاب میں تبدیلی سے پہلے اس کے بھیانک اثرات کا ضرور جائزہ لینا چاہئے۔ مسلمانوں بالخصوص پاکستان کا مشرقی معاشرہ ایسی تعلیم کا ہرگز متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ 1983 میں برطانوی میں اسکولوں میں جنسی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا گیا اور صرف 7 سال میں 8 لاکھ 73 ہزار نوجوان لڑکیاں نا جائز بچوں کی مائیں بنیں جن کی عمریں 11 سے 16 سال کے درمیان تھیں۔ کیا پاکستانی معاشرہ بے راہروی پر مبنی ایسی تعلیم کو قبول کر سکتا ہے۔ کیا جن ممالک میں جنسی تعلیم کو نصاب کا حصہ بنایا گیا، وہاں بچوں سے زیادتی کے واقعات ختم ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ جون 2017ءمیں برطانوی دارالحکومت لندن میں این جی اوز کے تھنک ٹینکس کی ایک کانفرنس ہوئی، جس میں ماہرین نے کہا کہ ہمیں اپنے تعلیمی نصاب نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔جامعہ مظاہر العلوم کوٹ ادو کے مفتی عاصم فاروق کا کہنا تھا کہ نصاب میں جنسی تعلیم کی شمولیت سے زینب جیسے واقعات کی روک تھام نہیں ہو گی، بلکہ ایسے مزید واقعات رونما ہوں گے۔ مغرب و یورپ اس کا تجربہ کر چکے ہیں۔ ادارہ تعلیم القرآن والسنہ کے مہتمم مفتی شبیر احمد عثمانی کا کہنا تھا کہ جنسی تعلیم کو فروغ دینے کیلئے کارفرما عناصر کے پیچھے ایک گلوکار ہے، جس کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ نصاب میں کسی بھی مضمون کو شامل کرنے یا خارج کرنے کیلئے تعلیمی ماہرین کا چناﺅ کرے۔ جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا قطب الدین عابد نے کہا کہ تعلیم و تربیت کا ذمہ اسلام نے والدین کو ٹھہرایا ہے جنسی بے راہروی کو کنٹرول کرنے کیلئے شادیوں کو آسان بنایا جائے۔ عصری تعلیم کے ساتھ دینی علوم اور اخلاقی اقدار کو بھی فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ شبان غربا اہلحدیث کے رہنما اور اسلامی یکجہتی کونسل کے جنرل سیکرٹری علامہ عبدالخالق فریدی کا کہنا تھا کہ جنسی تعلیم اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اسلام بچوں کی دینی اخلاقی تربیت کا حکم دیتا ہے۔ واضح رہے کہ آئین آرٹیکل 31 جوکہ اسلامی طریق زندگی کے بارے میں بتاتا ہے، اس کے مطابق، نمبر پاکستان کے مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی اسلام کے بنیادی اصولوں اور اساسی تصورات کے مطابق مرتب کرنے کے قابل بنانے کیلئے اور انہیں ایسی سہولتیں مہیا کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے، جن کی مدد سے وہ قرآن پاک اور سنت کے مطابق زندگی کا مفہوم سمجھ سکیں۔ 2، پاکستان کے مسلمانوں کے بارے میں مملکت مندرجہ ذیل کے لیے کوشش کرے گی: (الف) قرآن پاک اور اسلامیات کی تعلیم کو لازمی قرار دینا، عربی زبان سیکھنے کی حوصلہ افزائی کرنا اور اس کیلئے سہولت بہتم پہنچانا اور قرآن پاک کی صحیح اور من و عن طباعت اور اشاعت کا اہتمام کرنا، (ب) اتحاد اور اسلامی اخلاقی معیاروں کی پابندی کو فروغ دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

ڈاکٹر شاہد مسعود اِن ایکشن ، رانا ثناءاللہ بارے تہلکہ خیز انکشافات

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) 2015میں تین سوبچوں کے ساتھ ویڈیو سکینڈل کے واقعات ہوئے اور اس وقت صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ یہ بیان دیتا رہا یہ تو زمینوں کے جھگڑے ہیں مجھے اس بات کا شدید افسوس ہے کہ میں اس وقت کراچی آپریشن کے حوالے سے پروگرام کرنے میں مصروف تھا۔نجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے ڈاکٹر شاہد مسعود نے تہلکہ خیز انکشاف کیا کہ ان تین سو بچیوں کے قتل کے مقدمات کو دبانے میں رانا ثنا اللہ ملوث ہے۔جو لوگ مجھے مہرہ کہہ رہے ہیں وہ زینب کیس اور اس قسم کے دیگرکیسز میں پولیس میں جا کر ایف آئی آر تبدیل کراتے رہے۔عدالت میں ایک چینل کے مالک دوسرے چینل کے مالک سے کہہ رہے تھے ایک سین تشکیل دیتے ہیں کہ عدالت میں میں ڈاکٹر شاہد مسعود کو جذباتی ہو کرروتے ہوئے دوتھپڑ مار دوں گا دوسرے چینل کے مالک نے کہا اگر جواب میں شاہد مسعود نے تھپڑ مار دیا تو اس نے کہا کہ میں ہر روز ایک گھنٹہ ورزش کرتا ہوں ڈاکٹر شاہد جواب نہیں دے پائے گا۔انہوں نے پوری کوشش کی میں معافی مانگوں کہ خبر غلط تھی، جے آئی ٹی میں مجھے سومرتبہ بلائیں میں سر کے بل جاﺅںگا۔ انہوں نے بتایا کہایف آئی اے نے ایک الگ ٹیم بنائی ہے جو صرف بچوں کے ساتھ ہونے والے واقعات کی تحقیقات کرے گی۔اس کے علاوہ پی ٹی اے نے بھی ایک الگ ونگ بنایا ہے جو بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کی نشاندہی کرے گا۔اب ادارے کھڑے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے جو جھنگ سے ایک ساٹھ جی بی ڈیٹا کے ساتھ گینگ پکڑا ہے وہ چار ملکوں کے ساتھ کام کر رہا تھا پکڑا جانے والا ایک شخص الیکٹرک انجینئر تھا کینڈا سے اس گینگ کی رپورٹ ہوئی جسے بدمعاشیہ بچا رہا تھا۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے بتایا کہ کالج کے سٹوڈنٹس نے مجھ سے پوچھا اگر عدالت نے آپ کو سزا دے دی تو میں نے کہا کہ بچوں عدالت جو بھی سزا دے گی میں سر جھکا کر قبول کر لوں گا اگر میں صحیح بھی ہوا تو بھی میں ہر سزا قبول کروں گا ۔انہوں نے بتایاکہ نادرا کے چیف نے بتایا ہے کہ ایک سافٹ ویئر اپریل تک تیار ہو جائے گا تاکہ اگلے الیکشن میں اوور سیز پاکستان بھی ووٹنگ میں حصہ لے سکیں۔میں ایک بات بتاتا چلوں افغانستان میں جلد ہی پاکستان امن قائم کرکے دکھائے گا انڈیا کے ساتھ معاملات بدمعاشیہ نے خراب کئے ہیں۔ ڈاکٹر شاہد کے دعوے پر بننے والی جے آئی ٹی رانا ثناءاللہ کو طلب کرکے پوچھے کہ ڈاکٹر کے پیچھے کون لوگ ہیں سارا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ یہ بات یہ سینئر صحافی ارشد شریف نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کی انہوں نے کہا کہ رانا ثناءاللہ نے تو سارا کیس ہی حل کردیا ہے اور کہا ہے کہ ڈاکٹر شاہد صرف ایک مہرہ ہے اس کے پیچھے دیگر قوتیں ہیں جو ملک میں انتشار چاہتی ہیں جے آئی ٹی نے بھی ڈاکٹر شاہد کے معاملے کی تہہ تک پہنچنا ہے تو صوبائی وزیر کے اس ہم انکشاف پر اسے فوری حرکت میں آنا چاہیے اور انہیں طلب کرکے پوچھنا چاہیے کہ کون سی قوتیں ڈاکٹر شاہد کو اکسا رہی ہیں سارا کیس حل ہوجائے گا۔

سکولوں میں جنسی تعلیم کا خوفناک نتیجہ ۔۔۔ 8لاکھ لڑکیاں نا جا ئزبچوں کی مائیں بن گئیں

لاہور،کراچی (نیااخبار رپورٹ) حکومت سندھ کی جانب سے چھٹی سے آٹھویں جماعت تک کے تعلیمی نصاب میں جنسی مواد شامل کرنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔امریکہ اور برطانیہ سے امداد لینے والی این جی او” زندگی ٹرسٹ“ یہ نصاب تیار کر رہی ہے۔تعلیمی نصاب کے حوالے سے این جی اوز کا ایجنڈا مشکوک ہے۔ سندھ حکومت بیرونی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے نصاب میں تبدیلی کر رہی ہے۔ نصاب میں جنسی مواد کی شمولیت سے نہ صرف خاندانی نظام متاثر ہو گا بلکہ بچوں میں بے راہ روی بھی پھیلے گی۔ سابق چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے کہا کہ ”صرف مڈل ہی نہیں بلکہ چھوٹے بچوں کو ایسی تربیت دینی چاہئے کہ وہ اپنے قریبی رشتہ داروں کے علاوہ کسی اور کے قریب نہ جائیں۔ ہم کسی این جی اوز کو اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ ہمارا نصاب تعلیم بنائے۔ پاکستان میں این جی اوز کے ایجنڈے مشکوک ہیں۔ یہ این جی اوز بظاہر خوبصورت اور دلکش سلوگنز کے ساتھ سامنے آتی ہیں لیکن ان کے مقاصد پاکستان کی اساس کو ختم کرنا ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) خلیل الرحمن نے کہا کہ تعلیمی نصاب کے معاملے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں مادرپدر آزاد جنسی تعلیم کی ضرورت نہیں، بلکہ اسلامی اصولوں پر مبنی اسلامی تعلیم کی ضرورت ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ، جسٹس (ر) خواجہ محمد شریف نے کہا کہ دینی جماعتوں کو خاص طور پر اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ کسی این جی او کو نصاب تیار کرنے کی ذمہ داری نہیں دینی چاہیے۔ ممتاز ماہر قانون احمد اویس ایڈووکیٹ نے کہا کہ غیر ملکی امداد سے چلنے والی این جی اوز کو ملک بھر میں کالعدم کر دینا چاہیے۔ کیونکہ وہ برائی کو بھلائی بنا کر پیش کر رہی ہیں۔ یہ ہمارے تعلیمی نظام کے ذریعے ہماری معاشرت کو مغربی معاشرت کی طرح کھوکھلا کرنا چاہتی ہیں۔ طارق اسد ایڈووکیٹ نے کہا کہ وہ اس خبر کا نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 184 کے تحت پٹیشن دائر کریں گے کہ کسی طرح ایک این جی او پاکستان کے نصاب تعلیم میں مداخلت کر رہی ہے اور اس این جی او کو کسی نے یہ ایجنڈا دیا ہے کہ وہ ملک کے تعلیمی اداروں میں اپنا نفوذ کرے۔ انہوں نے کہ بچوں کو اخلاقی تعلیم کی ضرورت ہے۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر اسداللہ بھٹو کا کہنا تھا کہ ” سندھ حکومت کی جانب سے جنسی مواد کو نصاب کا حصہ بنانے پر ہمیں شدید تشویش اور تحفظات ہیں۔ بچوں سے زیادتی کے واقعات خالص سماجی مسئلہ ہے، جو حکومت کی نا اہلی کا نتیجہ ہیں مہتمم آل مدارس بورڈ آف ٹرسٹیز ہانگ کانگ کے مفتی محمد شعیب نے کہ ہانگ کانگ کے اسکولوں میں جنسی تعلیم کا سلسلہ موجود ہے لیکن یہاں کی سوسائٹی کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ یہاں بھی ریپ کیسز ہوتے ہیں۔ مفتی شعیب کا کہنا تھا کہ ” میں چند ماہ قبل آسٹریلیا گیا تھا، وہاں بھی تعلیمی اداروں میں جنسی نصاب ہونے کے باوجود ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ضرورت ایسے نصاب کی نہیں بلکہ بچوں کی تربیت کی ہے، جس تربیت کی بات قرآن کریم کرتا ہے۔ جنسی تعلیم سے خاندانی نظام مزید متاثر ہو گا“۔جامعہ الصفہ کے نائب مہتمم مفتی محمد زبیر کا کہنا تھا کہ جنسی تعلیم معاشرے کیلئے انتہائی خطرناک اور تباہ کن ثابت ہو گی۔ تعلیمی نصاب میں تبدیلی سے پہلے جامعہ الصفہ کے نائب مہتمم مفتی محمد زبیر کا کہنا تھا کہ جنسی تعلیم معاشرے کیلئے انتہائی خطرناک اور تباہ کن ثابت ہو گی۔ تعلیمی نصاب میں تبدیلی سے پہلے اس کے بھیانک اثرات کا ضرور جائزہ لینا چاہئے۔ مسلمانوں بالخصوص پاکستان کا مشرقی معاشرہ ایسی تعلیم کا ہرگز متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ 1983 میں برطانوی میں اسکولوں میں جنسی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا گیا اور صرف 7 سال میں 8 لاکھ 73 ہزار نوجوان لڑکیاں نا جائز بچوں کی مائیں بنیں جن کی عمریں 11 سے 16 سال کے درمیان تھیں۔ کیا پاکستانی معاشرہ بے راہروی پر مبنی ایسی تعلیم کو قبول کر سکتا ہے۔ کیا جن ممالک میں جنسی تعلیم کو نصاب کا حصہ بنایا گیا، وہاں بچوں سے زیادتی کے واقعات ختم ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ جون 2017ءمیں برطانوی دارالحکومت لندن میں این جی اوز کے تھنک ٹینکس کی ایک کانفرنس ہوئی، جس میں ماہرین نے کہا کہ ہمیں اپنے تعلیمی نصاب نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔جامعہ مظاہر العلوم کوٹ ادو کے مفتی عاصم فاروق کا کہنا تھا کہ نصاب میں جنسی تعلیم کی شمولیت سے زینب جیسے واقعات کی روک تھام نہیں ہو گی، بلکہ ایسے مزید واقعات رونما ہوں گے۔ مغرب و یورپ اس کا تجربہ کر چکے ہیں۔ ادارہ تعلیم القرآن والسنہ کے مہتمم مفتی شبیر احمد عثمانی کا کہنا تھا کہ جنسی تعلیم کو فروغ دینے کیلئے کارفرما عناصر کے پیچھے ایک گلوکار ہے، جس کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ نصاب میں کسی بھی مضمون کو شامل کرنے یا خارج کرنے کیلئے تعلیمی ماہرین کا چناﺅ کرے۔ جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا قطب الدین عابد نے کہا کہ تعلیم و تربیت کا ذمہ اسلام نے والدین کو ٹھہرایا ہے جنسی بے راہروی کو کنٹرول کرنے کیلئے شادیوں کو آسان بنایا جائے۔ عصری تعلیم کے ساتھ دینی علوم اور اخلاقی اقدار کو بھی فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ شبان غربا اہلحدیث کے رہنما اور اسلامی یکجہتی کونسل کے جنرل سیکرٹری علامہ عبدالخالق فریدی کا کہنا تھا کہ جنسی تعلیم اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اسلام بچوں کی دینی اخلاقی تربیت کا حکم دیتا ہے۔ واضح رہے کہ آئین آرٹیکل 31 جوکہ اسلامی طریق زندگی کے بارے میں بتاتا ہے، اس کے مطابق، نمبر پاکستان کے مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی اسلام کے بنیادی اصولوں اور اساسی تصورات کے مطابق مرتب کرنے کے قابل بنانے کیلئے اور انہیں ایسی سہولتیں مہیا کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے، جن کی مدد سے وہ قرآن پاک اور سنت کے مطابق زندگی کا مفہوم سمجھ سکیں۔ 2، پاکستان کے مسلمانوں کے بارے میں مملکت مندرجہ ذیل کے لیے کوشش کرے گی: (الف) قرآن پاک اور اسلامیات کی تعلیم کو لازمی قرار دینا، عربی زبان سیکھنے کی حوصلہ افزائی کرنا اور اس کیلئے سہولت بہتم پہنچانا اور قرآن پاک کی صحیح اور من و عن طباعت اور اشاعت کا اہتمام کرنا، (ب) اتحاد اور اسلامی اخلاقی معیاروں کی پابندی کو فروغ دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔