پرستاروں کی محبت کا قرض واپس نہیں کر سکتا

کراچی (آئی این پی) پاکستان کر کٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی نے کہا ہے کہ نجم سیٹھی نے ورلڈ الیون کو پاکستان لاکر ایک کارنامہ کیا ہے، شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ مجھے میرے پرستاروں نے پاگلوں کی طرح چاہا ہے انکی اس محبت کے قرض کو کبھی واپس نہیں کر سکتا۔، میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا مشکور ہوں کہ انہوں نے مجھے اور مصباح الحق کو ورلڈ الیون کے خلاف میچ کے دوران عزت دی لیکن مجھے ایسی تقریبات اور پذیرائی کی بجائے اپنے پرستاروں کی دی ہوئی محبت سے ہمیشہ زیادہ خوشی ہوتی ہے۔

عمران خان کامیرانشاہ میں کھیلے جانے والے کرکٹ میچ کا خیر مقدم

اسلام آباد(آئی این پی) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے میرانشاہ میں کھیلے جانے والے کرکٹ میچ کا خیر مقدم کیا ہے۔سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں عمران خان کاکہنا تھا کہ میران شاہ میں کھیلنے والے ٹی ٹونٹی میچ سے بہت خوش ہوں،بہت زیاد ہ خون خرابے کے بعد شمالی وزیرستان کے لوگوں کو تفریح مہیا کی جارہی ہے۔یاد رہے کہ شمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ میں پاک فوج کے زیر اہتما م پاکستان اور یو کے میڈیا الیون کے مابین ٹی ٹونٹی میچ کا انعقاد کیا گیا جس میں انضمام الحق ، شاہد آفریدی ، یونس خان،کامران اکمل،جنید خان اور عمر امین سمیت دیگر کرکٹر ز نے حصہ لیا ۔

فریال نے شادی بچانے کےلئے عامرسے معافی مانگ لی

لندن (آئی این پی) پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان کی اہلیہ فریال نے سوشل میڈیا پر معافی مانگ لی۔ اپنے پیغام میں ان کا کہنا ہے احساس ہوگیا، لڑائی میں نقصان صرف عامر اور میرا ہوا۔لڑائی بھی سوشل میڈیا پر اور اب معافی بھی سوشل میڈیا پر۔ عامر خان کی اہلیہ فریال رشتہ بچانے میدان میں آگئیں۔ سوشل میڈیا پر عامر اور ان کے والدین سے معافی مانگ لی۔پیغام میں فریال کا کہنا تھا سب کو معلوم ہے گزشتہ3ماہ ہمارے لیے بہت مشکل رہے۔ تمام معاملات سے میں اور عامر ذہنی تناو کا شکار رہے۔فریال کا کہنا تھا کہ عامر کے والدین میرے بڑے ہیں، وہ محبت اور عزت کے حقدار ہیں۔ انہوں نے کہا ماضی میں عامر کے والدین کو کچھ ایسا کہا جو نہیں کہنا چاہیے تھے جس پر مجھے ملال ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ تحقیقات میں نام آیاتو استعفیٰ دیدونگا مگر۔۔۔۔

لاہور (وقائع نگار) عوامی تحریک کے قائد طاہر القادری نے کہا ہے کہ نواز شریف کا احتساب اور محاسبہ شروع ہوگیا اور اب ان کی نسلوں میں سے کوئی اقتدار میں آنے والا نہیں رہے گا۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ ماڈل ٹاون جیسے واقعات کی مثال کہیں نہیں ملتی، ہمارے خلاف ملک کی اشرافیہ نے ہم پر بے حد الزامات لگائے لیکن آج کا فیصلہ قتل عام کرنے والوں کے منہ پر طمانچہ ہے، ظلم و بربریت کے نظام کے خاتمے تک غریب لوگوں کو فتح نہیں مل سکتی، عدالتی فیصلہ انصاف کی طرف ایک قدم ہے لیکن ابھی انصاف کے بہت مرحلے باقی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاو¿ن میں نامزد ملزمان کا نام فوری طور پر ای سی ایل میں ڈالا جائے۔طاہر القادری نے جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ سانحہ ماڈل ٹاون کے متاثرین کو دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف نے کہا تھا کہ کمیشن نے جو بھی تجویز دی اس پر عمل درآمد ہوگا مگر یہاں تو رپورٹ ہی منظر عام پرنہیں لائی گئی، انسانیت کا قتل کیا گیا، انکوائری رپورٹ کودبا کر رکھا گیا یہ کہاں کا انصاف ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کمیشن کی رپورٹ میں آپکو ذمہ دار نہیں بنایا گیا تو آپ نے کیوں رپورٹ دبا کررکھی، رپورٹ دبانے کا مقصد کیا ہے، کیا آپ قاتلوں کوتحفظ دے رہے ہیں اور اگر رپورٹ منظر عام پر نہیں لائی گئی تو توہین عدالت کیلیے رجوع کریں گے۔ سربراہ عوامی تحریک نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں 3 سال تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی لیکن ہم ناامید نہیں ہوئے جب کہ شہدا کی تعداد 14 سے کہیں زائد تھی مگر کئی شہداءکی لاشیں غائب کردی گئیں تاہم ہم نے کبھی قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا، ہم نے کسی بھی صورتحال میں صبر اور قانون کا دامن نہیں چھوڑا۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف ملکی اداروں کو تباہ کرنے میں لگے ہیں، نوازشریف نے نااہل ہونے کے بعد عدلیہ کے خلاف بہت کچھ کہا جب کہ وزراءوہ بولیاں بول رہے ہیں جو پاکستان کے دشمن بولتے ہیں، آپ کے اندر چھپی پاکستان دشمنی آپ کی زبان پر آگئی۔ طاہر القادری نے کہا کہ شہباز شریف خود کو خادم اعلیٰ کہتے ہیں تو کیوں اپیل پر جارہے ہیں، اپیل میں جانے کا فیصلہ اس بات کا اعلان ہے کہ آپ قاتل ہیں جب کہ اب نواز شریف کا احتساب اور محاسبہ شروع ہوگا، اسحاق ڈار بھاگے ہوئے ہیں،ان کو منایا جارہاہے کہ وہ واپس نہ آئیں، نوازشریف کی نسلوں میں اقتدار میں آنے والا نہیں رہے گا۔ طاہر القادری نے کہا ہے کہ وزیراعظم پنجاب نے ماڈل ٹاو¿ن میں تاریخ کا بدترین قتل عام کروایا۔ لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے ذمہ دار قرار دینے پر مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قانون کو ہر دروازہ کھٹکھٹایا، انصاف نہ ملنے کے باوجود عدلیہ کے خلاف بدگمانی پیدا نہیں کی۔ طاہر القادری نے کہا کہ جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا فیصلہ انصاف کی طرف قدم ہے، سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں 3سال تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی، ہم ناامید نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ وزراءوہ بولیاں بول رہے ہیں جو پاکستان کے دشمن بولتے ہیں ، آپ کے اندر چھپی پاکستان دشمنی آپ کی زبان پر آگئی، پتا چل گیا ہے کہ آپ کی وفاداری پاکستان سے کیا تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ شہدا کی تعداد 14 سے کہیں زائد تھی، کئی لاشیں غائب کردی گئیں۔ طاہر القادری نے کہا کہ 126 ملازمین کے خلاف مقدمہ درج ہوا مگر کارروائی نہ ہوئی۔انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے باوجود ہم نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور کبھی قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا، کبھی کسی ادارے کو برا نہیں کہا۔سربراہ پاکستان عوامی تحریک نے کہا کہ جن کا نام ان کی ایف آئی آر میں ہے، فوری طور پر ان سب کو ای سی ایل میں ڈالا جائے، ان میں وزراء اور افسران بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی کئی افراد کو ملک سے باہر بھیجا جاچکا ہے۔ طاہر القادری نے کہا کہ ظلم و بربریت کے نظام کے خاتمے تک غریب لوگوں کو فتح نہیں مل سکتی، ہمارے خلاف ملک کی اشرافیہ نے ہم پر بےحد الزامات لگائے، آج کا فیصلہ قتل عام کرنے والوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ ’اگر کمیشن کی رپورٹ میں آپکو ذمے دار نہیں بنایا گیا تو آپ نے کیوں رپورٹ دبا کر رکھی؟ رپورٹ دبانے کا مقصد کیا ہے؟ کیا آپ قاتلوں کوتحفظ دے رہے ہیں؟ ‘انہوں نے مطالبہ کیا کہ کمیشن کی رپورٹ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے متاثرین کو دی جائے۔ طاہر القادری نے کہا کہ شہباز شریف خود کو خادم اعلیٰ کہتے ہیں تو کیوں اپیل پر جارہے ہیں؟ اپیل میں جانے کا فیصلہ اس بات کا اعلان ہے کہ آپ قاتل ہیں۔

کوئی شوہر بیوی کو کیسے قتل کرسکتا ہے

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ عدالت پرویز مشرف کو بلا کر ثبوت مانگے ¾پر ویز مشرف کو ملک میں واپس لا کر بینظیر قتل کیس میں ٹرائل کیا جائے اور ان کے ریڈ وارنٹ اپشو کئے جائیں ¾ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے ایک وڈیو بیان میںالزام عائد کیا کہ مرتضیٰ بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے قتل میں آصف علی زر داری ملوث ہیں ۔ پرویز مشرف کے بیان پر رد عمل میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے کہاکہ اب تو یقین ہوگیا کہ بے نظیر کے قتل میں پرویز مشرف ملوث ہیں ¾انہوں نے کہا کہ اگر پرویز مشرف یہ معلوم تھا کہ اصف زرداری کا بیت اللہ محسود سے تعلق رہا ہے تو پہلے کیوں نہیں بتایا۔سید خورشید شاہ نے کہا کہ ہمارا عدلیہ سے مطالبہ ہے کہ پرویز مشرف کو ملک میں واپس لا کر بینظیر قتل کیس میں ٹرائل کیا جائے اور ان کے ریڈ وارنٹ اپشو کئے جائیں ۔اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ پرویز مشرف کا ملک سے باہر رہنے کا مقصد بھی یہ ہی ہے کہ وہ بینظیر قتل کیس میں ملوث ہیں۔ سابق صدر پرویز مشرف بے نظیر بھٹو قتل سے متعلق آصف زرداری پر الزام کی بات پہلے بھی کر چکے ہیں۔خورشید شاہ نے نجی ٹی وی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ بینظیر بھٹو قتل کیس میں مشرف ملوث ہے، آج انہیں اتنے عرصے بعد یاد آیا ہے کہ انہوں نے زرداری پر الزام لگایاہے، بینظیر بھٹو زرداری کی بیوی تھی، وہ انہیں کیوں قتل کریں گے، مشرف کو ہم نے باہر نہیں بھیجا جب وہ جارہاتھا تو عہدے سے فارغ ہوکر جارہاتھا،اسے پروٹوکول دینا آئینی و قانونی تھا، بینظیر بھٹو قتل کیس پر نیا جج آیا اور اس نے جلدی جلدی یہ فیصلہ دیدیا۔ حالانکہ جج کو مقرر ہوئے ابھی ڈیڑھ مہینہ ہی ہواتھا، ہم اس فیصلے کو نہیں مانتے، اس لئے ہم نے اپیل کی ،آصف زرداری نے خود اپیل کی ہے ، انکی فیملی کا بندہ قتل ہوا تھا، الزام بھی ان پر لگایاجارہاہے، ماڈل ٹاو¿ن کیس پر باقر نجفی کی رپورٹ کو ضرور منظر عام پر آنا چاہئے، جسٹس باقر ایک ماہر جج ہیں، انکی رپور©ٹ کو روکنا کس مقصد کے تحت ہے ، یہ ایک قتل کیس ہے، اس سے ملکی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں، شہبازشریف خود کو ذمہ دار نہیں سمجھتا ہوگا ، اس لئے وہ استعفیٰ نہیں دیتا ، بات بہت بڑھ چکی ہے، اسحاق ڈار کو خود ہی استعفیٰ دیدینا چاہئے، پاکستان کے اندر بہت بڑے بڑے اور خطرناک کرائسس چل رہے ہیں، خارجہ پالیسی درست نہیں، چین کے ساتھ تعلقات دیکھ لیں، ہرکیس میں انہوں نے ہمارے خلاف بیان دیا، اصل طاقتور ملک کے عوام ہوتے ہیں، عوام لیڈر کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں تب وہ جنگ جیت سکتے ہیں، سیاستدانوں کے بیانات ملک کیلئے اہم ہوتے ہیں، ہم نے بار ہاکہا کہ پاکستان میں دہشتگردوں کی پناہ گاہیں موجود نہیں، ٹرمپ کی تقریر پر حکمرانوں نے کوئی بیان نہیں دیا ،اب کہہ رہے ہیں گھر صاف ہونا چاہئے، اگر کوئی خرابی ہے تو یہ خود ذمہ دار ہیں، چوہدری نثار علی خان خود ذمہ دارہے ، آرمی چیف ملک کا سپہ سالار ہے انہیں تمام خطرات سے آگاہی ہوئی ہے، پی پی پی دور میں آرمی چیف آئے ، انہوں نے مشورے دیئے یہ انکا فرض ہے کہ وہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں، پاکستانی قوم غیرت مند قوم ہے، بھوکے رہ لیں گے بھیک نہیں مانگیں گے، ٹرمپ ملنا نہیں چاہتا تو نہ ملے، ہوسکتا ہے عمران خان لیڈر آف اپوزیشن بننا چاہتا ہے تاکہ پارلیمنٹ کے اندر اپنے لیڈروں کو نشانہ بنا سکے ، اس وقت ملک میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی سیاست شروع ہوچکی ہے ، تحریک انصاف والے استعفیٰ دیکر باہر چلے گئے ہیں، انہیں واپس لے کر آئے، چیئرمین نیب بہت شفاف ،اچھا اور قابل لیکر آئیں گے۔

شریف خاندان کی وطن واپسی بارے نئی بحث چھڑ گئی

اسلام آباد (نیٹ نیوز) پاکستان کے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف، ان کے بچوں اورسمدھی کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے احتساب عدالت میں پیش نہ ہونے پر قانونی اور سیاسی حلقوں میں شریف خاندان کی ہاکستان واپسی سے متعلق چہ مگوئیاں نے زور پکڑ لیا ہے۔قانونی حلقوں میں یہ بحث چل نکلی ہے کہ اگر نواز شریف اور ان کے خاندان کے افراد پاکستان واپس ہی نہیں جتے یا لندن میں اپنا قیام بڑھا لیتے ہیں اور احتساب عدالت میں پیش نہیں ہوتے تو پھر ان کے خلاف دائر مقدمات کا کیا بنے گا؟گزشتہ روز بھی پاکستان کے ایک مقامی ٹی وی پر مختلف تبصرہ نگاروں نے اس مسئلے پر گفتگو کی اور ان کی اکثریت کا یہی کہنا تھا کہ شریف فیملی خاص طور پر نواز شریف پاکستان واپس آئیں گے۔ تبصرہ نگاروں کے مطابق پاکستان مسلم لیگ کو زندہ اور متحرک رکھنے کے لیے نواز شریف کا وطن واپس آنا اور اگر قید بھی کاٹنی پڑے تو ایسا کرنے سے ہی شریف خاندان کی سیاست اور ان کی پارٹی باقی رہ سکتی ہے۔مریم نواز شریف کچھ دن قبل ہی یہ کہہ چکی ہیں کہ بعض اوقات قید کاٹنا سیاسی موت نہیں بلکہ سیاسی حیات بن جاتا ہے۔تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ وہ نہیں سمجھتے کہ نواز شریف وطن واپس نہیں آئیں گے۔ ا±نھوں نے کہا کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے نواز شریف کے نام پر ووٹ دیے ہوں تو وہ کیسے ملک میں واپس نہیں آئیں گے؟امتیاز عالم کا کہنا تھا کہ ابھی تو نیب کے مقدمات شروع ہوئے ہیں اس لیے سابق وزیر اعظم کے مستقبل کے بارے کوئی حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا۔ماہر قانون اور قومی احتساب بیورو کے سابق ایڈشنل پراسیکیوٹر جنرل عامر عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ شریف خاندان کے افراد اگر عدالت میں پیش نہیں ہوتے تو اس کی سزا تین سال ہے۔ا±نھوں نے کہا کہ اگر نواز شریف اور ان کے بچے حال ہی میں جاری کردہ سمن کی تعمیل میں عدالت میں پیش نہیں ہوتے تو معاملہ داخل دفتر کر دیا جائے گا لیکن ان کی وطن واپسی پر ہی ان مقدمات کو دوبارہ کھولا جائے گا۔اس سے پہلے نیب کے قانون میں یہ شق موجود تھی کہ ملزمان کی عدم موجودگی میں نیب کارروائی کرسکتا تھا لیکن نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں نیب کے قانون سے یہ شق نکال دی گئی اور یہ شق شامل کی گئی کہ جب تک ملزمان عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے اس وقت تک ان کے خلاف مقدمات کی سماعت شروع نہیں کی جائے گی۔سابق ایڈشنل پراسیکیوٹر جنرل عامر عباسنیب کے سابق پروسیکیوٹر کے مطابق پہلے ایک زمانے تک ملزمان کی عدم موجودگی میں بھی نیب کارروائی کرسکتا تھا لیکن نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت میں نیب کے قانون سے یہ شِق نکال دی گئی۔ اور جو شِق شامل کی گئی اس کے مطابق جب تک ملزمان عدالتوں میں پیش نہیں ہوتے اس وقت تک ان کے خلاف مقدمات کی سماعت شروع نہیں ہو سکتی۔ا±نھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے خلاف احتساب عدالتوں میں دائر ریفرینسز میں سپریم کورٹ نے ایک نگراں جج بھی مقرر کر دیا ہے اس لیے نیب ان مقدمات کو التوا میں رکھنے کے لیے حیلے بہانے نہیں کرسکتی۔نیب کے سابق ایڈشنل پراسکیوٹر جنرل نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ پاکستان اور برطانیہ میں جہاں آج کل شریف فیملی موجود ہے، ملزموں کے تبادلے کا معاہدہ موجود نہیں ہے مگر اس کے باوجود احتساب عدالت میں پیش نہ ہونے پر عدالت ملزمان کو انٹرپول کے ذریعے وطن واپس لاسکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے پاکستان کی حکومت کو برطانیہ کے حکام کو خط لکھنا ہوگا۔ماہر قانون اور متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے سینیٹر فروغ نسیم کے مطابق نواز شریف اور ان کے بچے اگر بلانے پر عدالت میں پیش نہیں ہوتے تو ان کی جائیداد ضبط کرنے کے لیے قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔ا±نھوں نے کہا کہ جائیداد کی ضبطگی اسی صورت میں رک سکتی ہے اگر ملزمان وطن واپس آ کر اس کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔واضح ہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں شریف برادران کے بیرون ملک چلے جانے پر ان کے خلاف نیب مقدمات کی کارروائی ملتوی کردی گئی تھی اور وطن واپسی پر ہی ان کے مقدمات پر دوبارہ عدالتی سماعت شروع ہوئی تھی۔

سابق سپہ سالار کو شرم آنی چاہئے

کرا چی (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو شہید کی صاجزادی آصفہ بھٹو نے ٹویٹ کیا ہے کہ مظلوم پر الزام لگانے پر مشرف کو شرم آنی چائیے، نجی ٹی وی کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف نے بینظیر بھٹو کے قتل کا الزام آصف زرداری پر لگایا جس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے آصفہ بھٹو نے ٹوئیٹر پر اپنا پیغام دیا

38 ویں برسی ،ملک بھر میں خراج عقیدت پیش کیا گیا

لاہور (وقائع نگار) جماعت اسلامی کے بانی مفسر قرآن مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کا38 واں یوم وفات آج 22ستمبر بروز جمعة المبارک کو نہایت ہی عقیدت واحترام کے ساتھ منایا جائے گا اس سلسلہ میں احمد یار سمیت ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں قصبوں میں جماعت اسلامی اور ذیلی تنظیموں کے زیراہتمام تعزیتی ریفرنسز ،سیمینار ز کا انعقاد کیا جائے گا جن میں مقررین مولانا مودودی کی اسلام کے لئے خدمات پر روشنی ڈالیں گے ۔مولانا ا بوالاعلیٰ مودودی22 ستمبر1979 کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے تھے ۔

نواز خاندان کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا

جہلم، دینہ (نمائندگان خبریں) پاکستان تحرےک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ حکمرانوں نے ملک کا پےسہ چوری کرکے باہر بھےجا اورجواب دہی کے وقت نواز شرےف کا پورا خاندا ن باہر جا کر بےٹھ گےا ہے ملکی دولت کو لوٹنے والوں کا پےچھا ہر گز نہیں چھوڑےں گے نواز شرےف کے بعد اب زرداری کی باری ہے وہ گزشتہ شب ضلع جہلم کی تحصیل دےنہ مےںورکز کنونشن سے خطا ب کر رہے تھے ۔ عمران خان نے کہا کہ دھاندلی کی پےداوار حکومتوں نے ملک مےں مےرٹ کا بےڑہ غرق کر کے رکھ دےا ہے سفارش اور رشوت کلچر کی بدولت اہل افراد پےچھے جبکہ نااہل عہدوں پر بےٹھے ہیں پاکستان تحرےک انصاف ملک مےں مےرٹ کا بہترےن نظام قائم کرئے گی اور جس طرح کے پی کے مےں ہم نے اداروں کو ٹھےک کےا اس طرح پورے ملک مےں مےرٹ کا نظام ہمارا منشور ہے عمران خان ضلع جہلم کے دورہ کے دوران گزشتہ سہ پہر دےنہ پہنچے جہاں ہاکی گراونڈ مےں ان کے خطاب کےلئے سٹےج تےار کےا گےا تھا عمران خان کی آمد سے قبل پاکستان تحرےک انصاف کے ضلعی عہدےداران چوہدری ثقلےن، ضلعی صدر چوہدری زاہد اختر نے تحرےک مےں نئے شامل ہونے والے سابق ضلع ناظم فرخ الطاف کے گاوں لدھڑ جانے سے انکار کرتے ہوئے دےنہ مےں سٹےج سجالےا ،جبکہ چوہدری فرخ الطاف گروپ جس مےں تحرےک انصاف کے مرکزی رہنما چوہدری فواد حسےن بھی شامل تھے نے عمران خان کے خطاب کےلئے آبائی گاوں لدھڑ مےں انتظام کر رکھا تھا ۔ عمران خان اپنے دورہ کے دوران پہلے لدھڑ ہاوس پہنچے جہاں سابق ضلع ناظم چوہدری فرخ الطاف ، چوہدری فواد حسےن ، چوہدری فوق شےر باز اور دےگر نے ان کا پرتےپاک استقبال کےا اور پھولوں کی پتےاں نچھاور کےں، جبکہ دےگر ضلعی قےادت دےنہ مےں اپنے قائد کا انتظا ر کرتی رہی، لدھڑ ہاوس مےں عمران خان کے ہمراہ اعلی قےادت کے لئے کھانے کا انتظام کےا گےا تھا جس کے بعد عمران خان اپنے قافلے کے ساتھ دےنہ ہاکی گراونڈ پہنچے جہاں ہزاروں کی تعداد مےں کارکنوں نے کون بچائے گا پاکستان ، عمران عمران ، گو نواز گو کے نعروں سے ان کا استقبال کےا ۔ جہاں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ملک مےں چالےس سال سے قابض گروپوں کے خلاف نوجوان نسل کا ےہ اکٹھ تبدےلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ ہم نے پانامہ کےس مےں جس طرح نواز شرےف کا پےچھا کےا اور نواز شرےف کو گھر بھےجا اس سے ہمارے ووٹ بےنک مےں زبردست اضافہ ہو ا ہے اور ڈاکٹر ےاسمےن راشد نے اےن اے 120مےں جس طرح ن لےگی قےادت اور اربوں کے ترقےاتی کاموں کے باوجود مقابلے کےا وہ قابل تحسےن ہے ۔ عمران خان کے ساتھ سٹےج پر ضلعی صدر چوہدری زاہد اختر، سابق اےم پی اے چوہدری ثقلےن، چوہدری سکندر حےات پھلائیاں، راجہ شاہنواز، چوہدری فوق شےر باز، چوہدری فواد حسےن ، چوہدری فرخ الطاف ، سابق وفاقی وزےر چوہدری شہباز حسےن اور دےگر ضلعی عہدےدار بھی موجو د تھے ۔اس سے قبل سابق ضلع ناظم اور ق لےگی رہنما چوہدری فرخ الطاف نے پاکستان تحرےک انصا ف مےں شمولےت کا اعلان کےا ۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ طاقتور اپنے خلاف فیصلہ آنے پر”مجھے کیوں نکالا؟“کا نعرہ لگا دیتا ہے، خوشحالی شریفوں اور زرداریوں کیلئے نہیں ہونی چاہئے، نواز شریف ترکی کا آخری سلطان ہے، کہتا ہے پاکستان سے جو کرنا ہے، کرو مگر میرا پیسہ رہنے دو، یہ ملک کا خون چوس رہے ہیں، ان کو شکست دے کر نیا پاکستان بنائیں گے، لاہور ہائی کورٹ کے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی رپورٹ سامنے لانے کے فیصلے پر اللہ کا شکرگزار ہوں، پاکستان میں بجلی اور گیس برصغیر میں سب سے مہنگی ہے، ذوالفقار علی بھٹو بے نظیر لیڈر تھے، زرداری اور بلاول نے کیا کیا؟ وراثت کا کاغذ دکھا کر زرداری لیڈر بن گئے، لیڈر ایسے نہیں بنتا، جد و جہد کے بعد بنتا ہے۔جمعرات کو یہاں جہلم میں فواد چودھری کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے تحریک انصاف کی ٹیم بنانے کا اعلان کر دیا اور کہا کہ تحریک انصاف کے کھلاڑی ملک کیلئے کھیلیں گے، خوشحالی شریفوں اور زرداریوں کیلئے نہیں ہونی چاہئے، امیر اور غریب کا فرق بڑھ جائے تو معاشرہ پیچھے رہ جاتا ہے، چین نے سب سے پہلے امیر اور غریب میں فرق کم کیا لیکن پاکستان میں امیروں سے ٹیکس اکٹھا کرنے کی بجائے عوام پر ٹیکس لگایا جاتا ہے۔ عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان میں بجلی اور گیس برصغیر میں سب سے مہنگی ہے، ذوالفقار علی بھٹو بے نظیر لیڈر تھے، زرداری اور بلاول نے کیا کیا؟ وراثت کا کاغذ دکھا کر زرداری لیڈر بن گئے، لیڈر ایسے نہیں بنتا، جد و جہد کے بعد بنتا ہے۔ عمران خان نے استفسار کیا کہ مریم نواز اور چودھری نثار کا کیا مقابلہ؟ چودھری نثار نے بہت محنت کی، بلاول اور اعتزاز احسن کا کیا مقابلہ؟انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف اپنی وجہ سے لیڈر بنتے تو آج نہ پوچھتے کیوں نکالا؟ انہوں نے الزام لگایا کہ نواز شریف ترکی کا آخری سلطان ہے، کہتا ہے پاکستان سے جو کرنا ہے، کرو مگر میرا پیسہ رہنے دو۔ عمران خان نے یہ بھی کہا کہ یہ ملک کا خون چوس رہے ہیں، ان کو شکست دے کر نیا پاکستان بنائیں گے، لاہور ہائی کورٹ کے سانحہ ماڈل ٹان کی رپورٹ سامنے لانے کے فیصلے پر اللہ کا شکرگزار ہوں۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ نیا پاکستان وہ پاکستان ہو گا جس مقصد کےلئے پاکستان بنایا گیاتھا، نئے پاکستان میں کمزور کو اوپر آنے کا موقع ملے گا،ہم ایسا پاکستان بنائیں گے جس میں سب کو برابری کی بنیاد پر حقوق میسر ہوں گے،میرٹ لے کر آئیں گے،جنگل میں ایک شیرسارے جانوروں پر حملے کرتا ہے، سارے ہرن اتفاق سے شیر کو بھگا سکتے ہیں،یہاں ظلم کا نظام ہے ایلیٹ سسٹم بن گیا ہے،محنت کش ہمیشہ نیچے رہے گا لیکن اشرافیہ کےلئے سب کچھ ہے،پاکستان میں امیر طبقے کےلئے اعلیٰ نوکریاں جبکہ غریب کا بچہ اچھی نوکری حاصل نہیں کر سکتا، یہاں بارہ بارہ گھنٹے دو دو نوکریاں کر کے اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی نہیں کھلا سکتے، یورپ میں امیر غریب کےلئے ایک سکول ایک سسٹم ہیں لیکن پاکستان میں ایسا نہیں یہاں غریب کےلئے الگ اور غریب کےلئے الگ ، جس قوم کا پیسہ چوری ہو وہ کبھی نہیں ترقی کرتی، بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کا نظام ظلم و نا انصافی پر مبنی ہے، اڑھائی مرحلے کے گھر میں رہنے والے آج ارب پتی بن گئے ، جس کا جینا مرنا پاکستان میں نہیں عوام ایسے لیڈروں کو کبھی ووٹ مت دیں۔وہ جمعرات کو دینہ میں جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ واحد ملک اسلام کے نام پر بنا تھا، بہت بڑا عظیم مقصد تھا کہ عظیم فلاحی ریاست بنانی تھی جو ساری دنیا کےلئے مثال بنی تھی، علامہ اقبال عظیم عالم جنہوں نے مغربی فلسفے سمجھتے،مغربی سوچ سمجھی اور پاکستان کا نظریہ دیا، علامہ اقبال نے بتایا کہ اسلام کیا ہے، اقبال نے بتایا کہ پاکستان کی ریاست مدینہ کی ریاست کی طرز پر بنی تھی، یہ وہ ملک نہیں جو بننا چاہیے تھے،غریب کا بچہ اوپر نہیں آ سکتا،امیر کےلئے ایک قانون اور غریب کےلئے دوسرا قانون ہے، غریب تعلیم حاصل کر کے اوپر نہیں پہنچ سکتا، وہ غریب والدین کی خدمت نہیں کر سکتا، اپنی بہنوں کی شادیاں نہیں کروا سکتا،یورپ میں امیر غریب کےلئے ایک سکول ایک سسٹم ہیں، پاکستان نے کتنے لوگ باہر نوکریوں کےلئے گئے ہیں، چونکہ وہاں محنت کا پھل ملتا ہے، یہاں مزدور جولائی کی گرمی میں مشکل کام کرتے ہیں،بارہ بارہ گھنٹے دو دو نوکریاں کر کے اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی نہیں کھلا سکتے، یا انصاف نہیں ملتا،ملک میں سوا تین کروڑ بچے اردو میڈیم سکولوں میں پڑھتے ہیں، 22لاکھ دینی مدرسوں میں جبکہ صرف 8لاکھ بچے انگلش سکولوں میں جاتے ہیں، اس معاشرے میں محنت کرنے والوں کواوپر آنے کا موقع نہیں ملتا۔ انہوں نے کہا کہ ہر جگہ ٹیلنٹ موجود ہے،لیکن ظلم کے نظام کی وجہ سے ٹیلنٹ کو ضائع کیا جا رہا ہے،یہاں ظلم کا نظام ہے ایلیٹ سسٹم بن گیا ہے،محنت کش ہمیشہ نیچے رہے گا لیکن اشرافیہ کےلئے سب کچھ ہے۔ عمران خان نے کہا کہ نیا پاکستان وہ پاکستان ہو گا جس مقصد کےلئے پاکستان بنایا گیاتھا، نئے پاکستان میں کمزور کو اوپر آنے کا موقع ملے گا،میرٹ لے کر آئیں گے،ایسا تعلیمی نظام لائیں گے کہ سب کو اوپر آنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب خیبرپختونخوا میں حکومت سنبھالی تو سرکاری سکولوں میں صرف پچاس فیصد اساتذہ کام کر رہے تھے اور زیادہ تر اساتذہ کوکوٹے پر بھرتی کیا گیا تھا،صوبے کے تعلیمی نظام میں بہتری لے کر آئے، جس کا ثبوت یہ ہے کہ پچھلے چار سال میں خیبرپختونخوا میں پہلی دفعہ ایک لاکھ بچے پرائیویٹ سکول چھوڑ کر سرکاری سکولوں میں آ گئے،کے پی کے میں ستر گراﺅنڈ بنا چکے ہیں، اقتدار میں آنے کے بعد ہر یونین کونسل میں گراﺅنڈ بنائیں گے تا کہ ٹیلنٹ کو اوپر آنے کا موقع مل سکے، نئے پاکستان میں کرپشن ختم کریں گے۔ عمران خان نے کہا کہ یہاں پر اقتدار میں آنے کا مقصدپیسہ بنانا ہوتا ہے،اقتدار میں آ کرقوم کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے، جس کے باعث قوم کے پاس ہسپتال،سکول بنانے اور انصاف مہیا کرنے کےلئے پیسہ نہیں بچتا۔ عمران خان نے کہا کہ جنگل میں ایک شیرسارے جانوروں پر حملے کرتا ہے، سارے ہرن اتفاق سے شیر کو بھگا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جتنے وسائل پاکستان میں ہیں شاید ہی کسی دوسرے ملک میں ہوں لیکن پاکستان کو زرداری اور شریفوں نے ہائی جیک کر رکھا ہے، انسانی معاشرے میں انصاف ہوتا ہے، چھوٹا سا طبقہ عوام پر ظلم کر رہا ہے، پاکستان میں امیر طبقے کےلئے اعلیٰ نوکریاں جبکہ غریب کا بچہ اچھی نوکری حاصل نہیں کر سکتا، جس قوم کا پیسہ چوری ہو وہ کبھی نہیں ترقی کرتی، ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کا نظام ظلم و نا انصافی پر مبنی ہے، اڑھائی مرحلے کے گھر میں رہنے والے آج ارب پتی بن گئے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ہم ایسا پاکستان بنائیں گے جس میں سب کو برابری کی بنیاد پر حقوق میسر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جس کا جینا مرنا پاکستان میں نہیں عوام ایسے لیڈروں کو کبھی ووٹ مت دیں۔

وزیر اعظم نے نیویارک میں پاکستانی ایٹمی ہتھیاروں کا راز کھول دیا

نیویارک (سپیشل رپورٹر سے) وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے کہاہے کہ پاکستان کے پاس ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار نہیں ہیں۔ ہمارے پاس کم مار کرنے والے جوہری ہتھیار ہیں۔ افغان سرحد کے قریب سے شدت پسندوں کے تمام محفوظ ٹھکانوں کو ختم کر دیا ہے، دہشتگر دی کے خلا ف جنگ میں بڑ ی قر با نیا ں دیں امر یکہ الزام ترا شی نہ کر ے ۔انھوں نے یہ بات امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کو ایک انٹرویو میں کہی۔انھوں نے کہا کہ کم مار کرنے والے جوہری ہتھیار میدان جنگ میں استعمال کیے جانے والے نہیں ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا کمانڈ اور کنٹرول نظام محفوظ ہاتھوں میں ہے۔انہو ں نے کہاکہ پاکستانی فوج سے افغان سرحد کے قریب سے شدت پسندوں کے تمام محفوظ ٹھکانوں کو ختم کر دیا ہے۔انھوں نے کہا ‘ہم نے علاقے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اب وہاں کوئی محفوظ پناہ گاہیں نہیں ہیں۔ کوئی بھی نہیں۔شاہد خاقان عباسی نے واضح کیا کہ پاکستان کے پاس ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار نہیں ہیں۔ نیو یارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان کا یہ بیان امریکی انٹیلیجنس کی معلومات کے مطابق نہیں ہے۔نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ صدر اوباما کے دوسرے دورِ اقتدار میں امریکہ نے اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کے ساتھ مذاکرات کیے اور اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کو تعینات نہ کرے۔امریکی انٹیلیجنس کے مطابق پاکستان نے یہ ہتھیار انڈین فوج کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے تیار کیے ہیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کیخلاف سب سے بڑی اور خطرناک جنگ لڑی گئی، دہشت گردی کیخلاف یہ جنگ پاکستان نے اپنے وسائل سے لڑی ہے،ہم نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بے پناہ جانی اور مالی نقصان اٹھایا،پوری دنیا میں اگر کوئی ملک دہشت گردی کیخلاف جنگ لڑ رہا ہے تو وہ پاکستان ہے ،دہشت گردی کیخلاف جنگ کے حق میں ہیں، پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے تحفظ پر کوئی سوال ہی نہیں،وقت نے ثابت کیا کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کے معاملے پر انتہائی ذمہ دار ہیں، بھارت کنٹرول لائن پر جارحیت کر رہا ہے،کشمیر میں مظالم سے توجہ ہٹانے کیلئے بھارت ایل او سی پر جارحیت کرتا ہے، کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھیں گے،خطے میں بھارتی بالادستی قبول نہیں،پاک سرزمین افغانستان کیخلاف استعمال نہیں ہو رہی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو نیویارک میں کونسل آن فارن ریلیشنز میں گفتگو کے دوران مختلف سوا لوں کے جوابات دیتے ہوئے کیا۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر سیکورٹی نہ ہونے سے منشیات فروش فائدہ اٹھا رہے ہیں،پاک افغان بارڈر کو مینج کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بے پناہ جانی اور مالی نقصان اٹھایا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہم نہیں سمجھتے کہ افغانستان میں بھارت کا کوئی کردار ہے۔افغانستان میں امن کیلئے ہر طرح کی بات چیت کیلئے تیار ہیں۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے امریکی کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں، جہاں ان کیلئے محفوظ ماحول، دلکش منافع اور اس کی ان کے ملک میں منتقلی کو یقینی بنایا جائے گا۔ پاکستان امریکہ بزنس کونسل کے زیر اہتمام ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان 2025ءمیں دنیا کی 20 بڑی معاشی طاقتوں میں شامل ہوگا، اس کی 60 فیصد آبادی 30 سال عمر سے کم اور 10 کروڑ مڈل کلاس عوام پر مشتمل ہوگی۔ ظہرانے میں بڑی امریکی کمپنیوں کے سربراہان اور نمائندوں نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں ہر طرح کا پوٹینشل موجود ہے، جسے تسلیم کئے جانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے گزشتہ رات استقبالیہ کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس سے ہونے والی ملاقات بھی بہت مفید رہی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی قیادت کا پاکستان کے بارے میں رویہ بڑا مثبت ہے اور میں نے بھی انہیں یقین دلایا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اپنی سرزمین سے دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے پرعزم ہے۔

شیخ رشید کی نا اہلی بارے سپریم کورٹ سے اہم خبر

اسلام آباد (صباح نیوز) سپریم کورٹ میں شیخ رشید کی نااہلی کی درخواست پرسماعت دوہفتے کیلئے ملتوی کردی گئی ہے۔ جمعرات کوجسٹس اعجازافضل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے شیخ رشید کی نااہلی کیلئے دائر درخواست کی سماعت کی۔درخواست ن لیگ کے سا بق ایم این شکیل اعوان نے دائرکی ، شیخ رشید نے عدالت میں وکیل کی اہلیہ کی وفات کا بتایا تو عدالت نے بغیرکسی کارروائی کے سماعت دوہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔ میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے شیخ رشید نے وزیرخزانہ اسحاق ڈارسے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا اور کہاکہ آصف زرداری کے پیچھے چلنے کوکوئی تیارنہیں ، نوازشریف آئینی ترمیم کیلئے پیپلزپارٹی کے چرنوں میں بیٹھے ہیں۔ شکیل اعوان نے کہا کہ شیخ رشید نے گوشوارں میں غلط بیانی کی ، عمران خان اور شیخ رشید اخلاقی ومالی بدعنوان ہیں ، رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے آج وکالت بھول گئے۔شکیل اعوان کا کہنا تھا کہ شیخ رشید نے اپنے عالی شان بنگلے نیوائیر پورٹ کے قریب قیمتی اراضی کا گوشواروں میں ذکرتک نہیں کیا۔

بے نظیر کو فون کس نے کیاکہ, تہلکہ خیز خبر ،نئے انکشافات

دبئی (آئی این پی)آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق صدر پرویز مشرف نے بے نظیر قتل کا ذمہ دار آصف علی زرداری کو قرارد یتے ہوئے کہا ہے کہ بی بی کے قتل سے مجھے نقصان اور زرداری کو فائدہ ہوا،مرتضی بھٹو کو بھی آصف زرداری نے قتل کروایا،بھٹو خاندان کی تباہی کا ذمہ دار زرداری ہے ،بے نظیر اور مرتضی بھٹو کے قتل میں آصف زرداری کو فوری طور پر گرفتار کیاجائے،پہلے میں خاموش رہا مگر آصف زرداری نے پہلی مرتبہ میرا نام لے کر بی بی قتل کا الزام مجھ پر لگایا،آصف زرداری کی للکارا میری برداشت سے باہر ہے ، جواب ضرور دوں گا،یقین ہے کہ اگر یہ تحقیقات کی جائیں تو قاتل کا پتہ چل جائے گا اور وہ آصف علی زرداری ہے،آصف زرداری لوگوں کی توجہ اپنے اوپر سے ہٹا کر میری طرف مبذول کروانا چاہتا ہے ۔جمعرات کو بے نظیر بھٹو قتل کیس کے حوالے سابق صدرپرویز مشرف نے بھٹو خاندان اور بی بی قتل کیس سے منسلک لوگوں کےلئے اپنے اہم پیغام میں کہا کہ میں بلاول ، آصفہ ، بختاور اور بھٹو خاندان سمیت تمام سندھی بھائیوں اور بی بی قتل سے منسلک تمام پاکستانیوں سے مخاطب ہوں،مرتضی بھٹو کو آصف زرداری نے قتل کروایا،بے نظیر اور مرتضی بھٹو کے قتل میں آصف زرداری کو فوری طور پر گرفتار کیاجائے،راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بے نظیر قتل کیس کا جو فیصلہ سنایا اس پر سب پاکستانیوں کو تشویش ہے،ایس پی سعود اور خرم شہزاد جیسے اچھے افسران کو 17 ، 17 قید کی سزا سنائی گئی مگر جیل میں بند اصل دہشت گردوں کو چھوڑ دیا گیا،میں خاموش رہا مگر آصف زرداری نے پہلی مرتبہ میرا نام لے کر بی بی قتل کا الزام مجھ پر لگایا۔اپنے ویڈیو پیغام میں پرویز مشرف نے کہا کہ آصف زرداری کی للکارا میری برداشت سے باہر ہے ، جواب ضرور دوں گا،میں بلاول ، آصفہ ، بختاور اور بھٹو خاندان سمیت تمام سندھی بھائیوں اور بی بی قتل سے منسلک تمام پاکستانیوں سے مخاطب ہوں،میرا تجزیہ ثابت کرے گا کہ بے نظیر بھٹو کا قاتل کون ہے ،بے نظیر بھٹو اور مرتضی بھٹو کے قتل سمیت بھٹو خاندان کی تباہی کا ذمہ دار زرداری ہے مرتضی بھٹو اور بی بی کے قتل کی تحقیقات زرداری نے اپنے پانچ سالہ دور صدارت میں نہیں کروائی ،کسی بھی قتل کیس میں دیکھنا چاہئے کہ اس کا فائدہ یا نقصان کسے ہوا ، بی بی کے قتل سے مجھے نقصان اور زرداری کو فائدہ ہوا،یہ ثابت شدہ ہے کہ بے نظیر کو بیت اللہ محسود اور اس کے لوگوں نے قتل کیا ، دیکھنا یہ ہے کہ اس سازش کے پیچھے کون تھا،بیت اللہ نے مجھ پر حملے کروائے وہ میرا دشمن ہے میں اور حکومت پاکستان اسے ختم کرنا چاہتے تھے میرا اس کے ساتھ رابطہ نہیں ہو سکتا تھا،دوسرا یہ ہو سکتا ہے کہ افغان خفیہ ایجنسی خاد ، افغان صدر کرزئی یا طالبان کے ذریعے بیت اللہ محسود سے یہ کام کروایا گیا ہو،کرزئی سے میرے تعلقات کشیدہ تھے اور میرے پاس ایسے لوگ نہیں تھے جن کے ذریعے میں اس پر اثر انداز ہو سکتا،زرداری اور ایک اور اہم شخصیت کے صدر کرزئی کے ساتھ اچھے تعلقات تھے ،ممکن ہے کہ بی بی کے قتل میں آصف زرداری اور افغانستان میں موجود اہم لوگ شامل ہوں ،میں تحفظ کا ذمہ دار نہیں تھا مگر تحقیقات کی جائیں کہ بلٹ پروف گاڑی کی چھت کٹوا کر کھڑی کس نے بنوائی،بے نظیر نے بہترین سیکورٹی میں دو گھنٹے تک عوام سے خطاب کیا اور گاڑی میں محفوظ بیٹھیں ۔دیکھا جائے کہ انہیں کس نے فون کر کے گاڑی سے سر باہر نکالنے کا کہا ،بی بی کا یہ فون غائب کر کے دو سال بعد ثبوت ختم کر کے سامنے لایا گیا ،گاڑی کے اندر محفوظ بیٹھے صفدر عباسی ، ناہید خان ، مخدوم امین فہیم جیسے چشم دید گواہوں کو بیانات کے لئے عدالت میں کیوں نہیں بلایا گیا،آصف زرداری کے جیل کے ساتھی خالد شہنشاہ اور رحمن ملک کو کس تجربے کی بنیاد پر بی بی کی سیکورٹی کی ذمہ داریاں دی گئیں ،بی بی قتل کے بعد خالد شہنشاہ کو اور پھر خالد شہنشاہ کے قاتل کو کس نے ختم کروایا،رحمن ملک جو بی بی کی سیکورٹی کے انچارج تھے بھاگ کر اسلام آباد کیوں چلے گئے ،بی بی کی واپسی کا روٹ کیوں اور کس نے تبدیل کروایا،یقین ہے کہ اگر یہ تحقیقات کی جائیں تو قاتل کا پتہ چل جائے گا اور وہ آصف علی زرداری ہے،آصف زرداری لوگوں کی توجہ اپنے اوپر سے ہٹا کر میری طرف مبذول کروانا چاہتا ہے۔

پٹرول بحران بدستور جاری, پمپس پر لمبی قطاریں

لاہور (خصوصی رپورٹ) صوبائی دارلحکومت مےں پےٹرول کی قلت کے باعث شہری خوار ہونے لگے، سپلائی مےں کمی کی وجہ سے پےٹرول بحران شدت اختےار کر گےا ہے جن پےٹرول پمپوں پر پےٹرول دستےاب ہے وہاں شہرےوں کی طوےل قطارےں لگنے لگےں شہری سراپاءاحتجاج وزےر اعظم پاکستان سے مسئلہ کو حل کر نے کا مطالبہ تفصےلات کے مطابق صوبائی دارلحکومت مےں پےٹرول بحران شدت اختےار کر گےا ہے اس حوالے سے روزنامہ خبرےں سروے مےں اظہار خےال کر تے ہوئے شہر ےوں الےاس خان ،مدثر بٹ ،حمزہ ،اور شکےل کا کہنا تھا کہ حکومت کو مختلف مدعوں مےں بھاری ٹےکس ادا کر رہے ہےں مگر اسکے باوجود بنےادی مسائل کو حل نہےں کےا جا تا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ مسائل کو حل کر ےں پےٹرول بحران کےوجہ سے اےک ہفتے سے زائد دن گزر گئے ہےں پےٹرول پمپوں پر پےٹرول ناےاب ہو گےا ہے جسکی وجہ سے مسائل بڑھ رہے ہےں حکومت کو اس حوالے سے نوٹس لےتے ہوئے پےٹرول کی قلت پر قابو پانا چاہےے تھا مگر اےسا ممکن نہےں ہو سکتا جسکی وجہ سے کئی کئی گھنٹے لائن مےں لگنا پڑ رہا ہے حکومت مسئلے کو حل کر ئے شہری الطاف ،خرم سندھو ،اشفاق احمد اور بلال بٹ کا کہنا تھا کہ عوامی مسائل کو حکومت بڑھا رہی ہے اوگرا اور دےگر تقسےم کار کمپنےاں صورتحال پر قابو نہےں پا سکیں اُن کے خلاف حکومت وقت کو اےکشن لےنا چاہےے تاکہ جن کی وجہ سے مسائل بڑھے ہےں انکے خلاف اےکشن ہو سکے شہر ےوں کا کہنا تھا کہ پےٹرول روزمرہ کے استعمال کی اہم ضرورت ہے جسکی کمی کےوجہ سے پرےشانےوں مےں اضافہ ہو رہا ہے اےسی صورتحال پر قابو پانے کےلئے حکومت کو ہنگامی بنےادوں پر اقدامات کر نے کی ضرورت ہے تاکہ عوام پرےشانی کم ہو سکے شہر ےوں نے وزےر اعظم پاکستان سے مطالبہ کےا کہ پےڑول بحران کی وجہ بننے والوں کے خلاف کاروائی عمل مےں لاتے ہوئے مسائل کو فوری حل کےا جائے ۔ ملک بھر مےں پےٹرول بحران کےوجہ آئل مارکےٹنگ کمپنےوں کی عالمی مارکےٹ سے پےٹرول کی خرےداری کم کر نے کی وجہ سے پےدا ہوا ہے ذرائع نے کے مطابق پےٹرول بحران پےدا کر نے کا مقصد حکومت پر دباﺅ ڈالتے ہوئے صرف قےمتوں مےں اضافہ کر نے کی وجہ سے کےا جا رہا ہےاور تےل درآمد مےں تاخےر ،عالمی مارکےٹ سے تےل کی مہنگے داموں خرےداری بھی بحران کی وجہ سے اوگرا قوانےن کے مطابق آئل مارکےٹنگ کمپنےوں کے پاس کم از کم 20دن کا ذخےرہ ہو نا چاہےے لےکن قوانےن کے بر عکس اقدامات کئے جا رہے ہےں لاہور بھر مےں 351پےٹرول پمپس ہےں جہاں سپلائی کی کمی کےوجہ سے رش لگا ہوا ہے اور ڈےمانڈ زےادہ اور سپلائی کم کےوجہ سے رش ہے جسکی وجہ سے شہر ےوں کو پرےشانےوں کا سامنا ہے اور کئی علاقوں مےں پےٹرول پمپس پر جلدی پےٹرول فروخت ہونے کےوجہ سے پمپس بند ہو جاتے ہےں۔