اسلام آباد (نیٹ نیوز) پاکستان کے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف، ان کے بچوں اورسمدھی کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے احتساب عدالت میں پیش نہ ہونے پر قانونی اور سیاسی حلقوں میں شریف خاندان کی ہاکستان واپسی سے متعلق چہ مگوئیاں نے زور پکڑ لیا ہے۔قانونی حلقوں میں یہ بحث چل نکلی ہے کہ اگر نواز شریف اور ان کے خاندان کے افراد پاکستان واپس ہی نہیں جتے یا لندن میں اپنا قیام بڑھا لیتے ہیں اور احتساب عدالت میں پیش نہیں ہوتے تو پھر ان کے خلاف دائر مقدمات کا کیا بنے گا؟گزشتہ روز بھی پاکستان کے ایک مقامی ٹی وی پر مختلف تبصرہ نگاروں نے اس مسئلے پر گفتگو کی اور ان کی اکثریت کا یہی کہنا تھا کہ شریف فیملی خاص طور پر نواز شریف پاکستان واپس آئیں گے۔ تبصرہ نگاروں کے مطابق پاکستان مسلم لیگ کو زندہ اور متحرک رکھنے کے لیے نواز شریف کا وطن واپس آنا اور اگر قید بھی کاٹنی پڑے تو ایسا کرنے سے ہی شریف خاندان کی سیاست اور ان کی پارٹی باقی رہ سکتی ہے۔مریم نواز شریف کچھ دن قبل ہی یہ کہہ چکی ہیں کہ بعض اوقات قید کاٹنا سیاسی موت نہیں بلکہ سیاسی حیات بن جاتا ہے۔تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ وہ نہیں سمجھتے کہ نواز شریف وطن واپس نہیں آئیں گے۔ ا±نھوں نے کہا کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے نواز شریف کے نام پر ووٹ دیے ہوں تو وہ کیسے ملک میں واپس نہیں آئیں گے؟امتیاز عالم کا کہنا تھا کہ ابھی تو نیب کے مقدمات شروع ہوئے ہیں اس لیے سابق وزیر اعظم کے مستقبل کے بارے کوئی حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا۔ماہر قانون اور قومی احتساب بیورو کے سابق ایڈشنل پراسیکیوٹر جنرل عامر عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ شریف خاندان کے افراد اگر عدالت میں پیش نہیں ہوتے تو اس کی سزا تین سال ہے۔ا±نھوں نے کہا کہ اگر نواز شریف اور ان کے بچے حال ہی میں جاری کردہ سمن کی تعمیل میں عدالت میں پیش نہیں ہوتے تو معاملہ داخل دفتر کر دیا جائے گا لیکن ان کی وطن واپسی پر ہی ان مقدمات کو دوبارہ کھولا جائے گا۔اس سے پہلے نیب کے قانون میں یہ شق موجود تھی کہ ملزمان کی عدم موجودگی میں نیب کارروائی کرسکتا تھا لیکن نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں نیب کے قانون سے یہ شق نکال دی گئی اور یہ شق شامل کی گئی کہ جب تک ملزمان عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے اس وقت تک ان کے خلاف مقدمات کی سماعت شروع نہیں کی جائے گی۔سابق ایڈشنل پراسیکیوٹر جنرل عامر عباسنیب کے سابق پروسیکیوٹر کے مطابق پہلے ایک زمانے تک ملزمان کی عدم موجودگی میں بھی نیب کارروائی کرسکتا تھا لیکن نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت میں نیب کے قانون سے یہ شِق نکال دی گئی۔ اور جو شِق شامل کی گئی اس کے مطابق جب تک ملزمان عدالتوں میں پیش نہیں ہوتے اس وقت تک ان کے خلاف مقدمات کی سماعت شروع نہیں ہو سکتی۔ا±نھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے خلاف احتساب عدالتوں میں دائر ریفرینسز میں سپریم کورٹ نے ایک نگراں جج بھی مقرر کر دیا ہے اس لیے نیب ان مقدمات کو التوا میں رکھنے کے لیے حیلے بہانے نہیں کرسکتی۔نیب کے سابق ایڈشنل پراسکیوٹر جنرل نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ پاکستان اور برطانیہ میں جہاں آج کل شریف فیملی موجود ہے، ملزموں کے تبادلے کا معاہدہ موجود نہیں ہے مگر اس کے باوجود احتساب عدالت میں پیش نہ ہونے پر عدالت ملزمان کو انٹرپول کے ذریعے وطن واپس لاسکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے پاکستان کی حکومت کو برطانیہ کے حکام کو خط لکھنا ہوگا۔ماہر قانون اور متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے سینیٹر فروغ نسیم کے مطابق نواز شریف اور ان کے بچے اگر بلانے پر عدالت میں پیش نہیں ہوتے تو ان کی جائیداد ضبط کرنے کے لیے قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔ا±نھوں نے کہا کہ جائیداد کی ضبطگی اسی صورت میں رک سکتی ہے اگر ملزمان وطن واپس آ کر اس کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔واضح ہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں شریف برادران کے بیرون ملک چلے جانے پر ان کے خلاف نیب مقدمات کی کارروائی ملتوی کردی گئی تھی اور وطن واپسی پر ہی ان کے مقدمات پر دوبارہ عدالتی سماعت شروع ہوئی تھی۔
بریکنگ نیوز
- دنیا کا سب سے بڑا اسنیک اسٹور
- کوکین کے استعمال پر نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ بولر بڑی مشکل میں پھنس گئے
- عامر سہیل نے کراچی میں ‘پان کی پچکاری’ کے بیان پر معافی مانگ لی
- پی ایس ایل فائنل کیلئے فینز کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت مل گئی
- پی ایس ایل شائقین کیلیے خوشخبری، وزیر اعظم نے بڑا اعلان کردیا
- ٹیسٹ کرکٹر ظفر گوہر پاکستان چھوڑ کر کیوں گئے، وجہ خود بتادی
- نائیجیریا کے سابق انٹرنیشنل فٹبالر دوستانہ میچ کے دوران انتقال کرگئے
- حکومت نے پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں بڑے اضافے کے بعد ایک پیٹرولیم پروڈکٹ کی قیمت میں کمی کردی
- پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی:گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافہ کردیا
- لاہور سمیت پنجاب میں شدید گرمی ؛ درجہ حرارت 41 ڈگری تک جانے کا امکان
- پاکستانی سفارتی کامیابیوں کی پوری دنیا معترف، عالمی سطح پر وقار مزید بلند
- خیبرپختونخوا کا ای رجسٹری سسٹم نافذ کرنے کا اعلان
- لاہور: اچھرہ میں تین بچوں کے قتل کا کیس سی سی ڈی کے حوالے
- زمین کے تنازع پر دو گروپوں میں خونی تصادم، باپ بیٹے سمیت 5 افراد قتل
- میٹا کا ہزاروں افراد کو نوکریوں سے نکالنے کا منصوبہ
- چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک کا نیا ماڈل متعارف، خصوصیات کیا ہیں؟
- دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا کی مبینہ چوری پر چینی اے آئی کمپنیوں کے خلاف مہم شروع
- سام سنگ کے 40 ہزار ملازمین نے معاوضہ نہ بڑھانے پر ہڑتال کی دھمکی دے دی
- ٹک ٹاک کا نیا اے آئی فیچر، ویڈیوز کا انداز ہی بدل جائے گا
- یوٹیوبر مسٹر بیسٹ پر خاتون کے سنگین الزامات

