لاہور ہائیکورٹ کا آلودگی پھیلانے والی فیکٹریوں کو سیل کرنے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ نے آلودگی پھیلانے والی فیکٹریوں کو سیل کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت میں اسموگ کے تدارک کیلئےدائر درخواست پر جسٹس شاہد کریم نے شہری ہارون فاروق کی درخواست پرسماعت کرتے ہوئے فیکٹریوں کوسیل کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے کہا کہ جوفیکٹریاں کالا دھواں چھوڑ رہی ہیں، انہیں سیل کیا جائے، جب تک وہ بیان حلفی نہیں دیں گے تو ڈی سیل نہیں کیا جائے گا، بیان حلفی یہ دیں کہ خلاف ورزی ہوئی تو فیکٹری کومسمارکردیا جائے گا۔

سماعت کے دوران کمشنر لاہور محمد علی رندھاوا عدالت کے روبرو پیش ہوئے.

عدالت نے کہا کہ لگتا ہے اب ہم صحیح راستے پر جا رہے ہیں۔ کمشنر نے کہا کہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کےخلاف بلاتفریق کارروائی کریں گے۔

عدالت نے کہا کہ پی ڈی ایم اے تو سویا ہوا ہے، ہم ان کو جگاتے ہیں۔ کمشنر لاہور نے کہا کہ ہم نے ٹریفک پولیس کو بھی ہدایت کی ہے کہ اسموگ پھیلانے والی گاڑیوں کو بند کیا جائے۔

عدالت نے کہا کہ اگر کوئی گاڑی اسموگ کا باعث بن رہی ہے تو اس کی تصویریں بنائیں، اگلے سال سے ہمیں شروع میں ہی بڑے اقدامات اٹھانے پڑیں گے، یہ دو ماہ بہت اہم ہیں۔

کمشنر لاہور نے کہا کہ ہم نے سائیکلنگ کے رجحان کے لیے کافی اقدامات کیے ہیں، ہم نے ٹیپا سے بات کی ہے کہ سائیکلنگ کے لیے ایک ٹریک بنایا جائے، ہم کوشش کریں گے کہ سائکلنگ والے افراد کو ہوٹلوں پر چیزیں ڈسکاؤنٹ سے ملیں۔

عدالت نے کہا کہ آپ پرائیویٹ سیکٹر کو بھی اس میں شامل کریں، ہم ان پانچ، چھ ماہ میں سائکلنگ کو دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔

کمشنر لاہورنے کہا کہ ہم اب اخبار میں اشتہار دیں گے کہ درخت کاٹنا ایک جرم ہے۔ جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت 7 نومبر تک ملتوی کر دی۔

’ہمارے خاندان میں ہمیشہ ایک نسل سے ایسا شخص ہوتا ہے جو غلطیاں کرتا ہے‘

معروف مارننگ شو ہوسٹ نِدا یاسر کی جانب سے شو میں ہونے والی غلطیوں کی وجوہات کا حیران کُن انکشاف سامنے آیا ہے، انہوں نے کہا کہ ایسی غلطیاں کرنا ان کا خاندانی مسئلہ ہے۔

حال ہی میں نِدا یاسر نے اپنی بہن اسپورٹس جرنلسٹ سویرا پاشا کے ہمراہ ایک کامیڈی شو میں شرکت کی جہاں انہوں نے اپنے مارننگ شوزمیں وائرل ہونے والے کلپس پرکھل کر بات کی۔

جب میزبان کی جانب سے نِدا یاسر سے شو کے دوران سرزد ہونے والی غطیوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے وجہ کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ’غلطیاں کرنا ہمارا خاندانی ہے، ہمارے خاندان میں ہمیشہ ایک نسل سے ایسا شخص ہوتا ہے جو غلطیاں کرتا ہے‘۔

ندا یاسر نے انکشاف کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’ہمارے والدین کے دور میں ہماری پھپو ایسی تھیں، جو بغیر سوچے سمجھے کچھ بھی بول دیتی تھیں‘۔

وائرل کلپس کے بعد نِدا یاسر کو اکثر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس تنقید پر انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’شروع میں جب مجھے ٹرول کیا جاتا تھا تو میرا بہت دل دُکھتا تھا، لیکن میری فیلمی ہمیشہ مجھے ہمت دیتی تھی، اب مجھے فرق نہیں پڑتا جس کی وجہ میری فیملی ہی ہے‘۔

سوشل میڈیا ٹرولنگ کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب فیملی کی صورت میں ایک بہترین سپورٹ سسٹم ہو تو انسان مضبوط بن جاتا ہے۔

واضح رہے کہ نِدا یاسر کے شو سے آئے دن کوئی نہ کوئی کلپ وائرل ہونے کا سلسلہ جاری رہتا ہے، جس سے سوشل میڈیا پر میمز کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلسہ شروع ہوجاتا ہے۔

’فارمولہ کار‘ اور ’1992 کا ورلڈکپ‘ ان کے حالیہ وائرل کلپس تھے، جن پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مزاحیہ تنقید کی گئی تھی۔

نِدا یاسرکا شمارپاکستان کی باصلاحیت اور تجربہ کار مارننگ شو ہوسٹس میں ہوتا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے اداکاری کی دنیا میں بھی نمایاں مقام بنایا ہے۔

حساس معاملات پر گفتگو مستقبل میں میڈیا پر لیک ہوسکتی ہے، بابراعظم کو خدشہ

جسٹس عرفان سعادت نے سپریم کورٹ آف پاکستان جج کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے۔

جسٹس عرفان کی تقریب حلف برداری سپریم کورٹ بلڈنگ میں ہوٸی جس میں سپریم کورٹ کے ججز، اٹارنی جنرل آف پاکستان اور وکلاء شریک ہوئے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس عرفان سعادت سے حلف لیا، ان کے حلف اٹھانے کے بعد سپریم کورٹ ججز کی تعداد 17 ہوگئی ہے۔

سپریم کورٹ کے کل 18 ججز میں سے اس وقت بھی ایک جج کی نشست خالی ہے۔

یاد رہے کہ 20 اکتوبر کو ہونے والے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں اتفاق رائے سے قائم مقام چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس عرفان سعادت کو بطور جج سپریم کورٹ میں ترقی دینے کی سفارش کی گئی تھی۔

وزارت قانون و انصاف نے جسٹس عرفان سعادت کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس کے بعد صدر نے جسٹس عقیل احمد عباسی کو قائم قام چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ مقرر کردیا تھا۔

حساس معاملات پر گفتگو مستقبل میں میڈیا پر لیک ہوسکتی ہے، بابراعظم کو خدشہ

سینئر عہدیدار اور بابراعظم کی نجی چینل پر واٹس ایپ چیٹ لیک ہونے پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور کپتان کا ردعمل سامنے آگیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سینئر عہدیدار اور کپتان بابراعظم کے درمیان چیٹ لیک ہونے کے بعد تنازعات میں گِھر چکا ہے، معاملہ اسوقت شروع ہوا جب سابق کرکٹر راشد لطیف نے ایک مقامی چینل پر دعویٰ کیا کہ بابراعظم میجنمنٹ کمیٹی کے سربراہ ذکا اشرف، سلمان نصیر اور عثمان واہلہ سمیت پی سی بی کی اہم شخصیات سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن 2 دن تک کوئی جواب نہیں ملا۔

راشد لطفیف کے دعوؤں پر پی سی بی کے سربراہ اشرف نے بابراعظم چیف آپریٹنگ آفیسر سلمان نصیر کے درمیان اسپورٹس جرنلسٹ کے ساتھ ایک واٹس ایپ گفتگو شیئر کی، جس میں کپتان کی جانب سے کالز کی تردید کی گئی تاہم تنازعہ اس وقت بڑھ گیا جب ایک نجی نیوز چینل نے مبینہ طور پر ذکا اشرف کی اجازت سے چیٹ کا اسکرین شاٹ ٹی وی پر نشر کردیا۔

بورڈ نے یہ کہہ کر ہاتھ اٹھالیا کہ چینل کی ادارتی پالیسی پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں، یہ ایک چینل کی صوابدید اور پالیسی ہے کہ اس بات کا تعین کرنا ہے کہ کیا نشر کرنا ہے اور کیا نہیں۔

دوسری جانب سامنے آنے والے تنازعات کے نتیجے میں قومی ٹیم کے کھلاڑیوں اور پی سی بی کے سی او او کے درمیان اعتماد کا فقدان نظر آیا۔

مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق کپتان بابراعظم اس چیٹ لیک پر شدید ناراض ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ حساس معاملات پر ان کی نجی گفتگو مستقبل میں میڈیا پر لیک ہوسکتی ہے۔

قدیم چینی مارشل آرٹ دماغی بیماری کے خطرات کم کرسکتا ہے، تحقیق

اوریگن: ایک نئی تحقیق کے مطابق قدیم چینی مارشل آرٹ ٹائی چی ڈیمینشیا کے خطرات کو کم کر سکتا ہے۔

امریکا کے اوریگون ریسرچ انسٹیٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے سائنس دانوں نے 65 برس سے زیادہ عمر کے کمزور ہوتی یادداشت کے مسئلے سے دوچار 200 سے زائد افراد پر تحقیق کی۔ تحقیق میں شرکاء سے ورچوئل ٹائی چی پروگرام مکمل کرنے کے لیے کہا گیا۔

ساڑھے پانچ مہینوں کے بعد ان افراد کی یاد داشت، سمت بندی، نیند کے معیار اور ڈپریشن کی پیمائش کے لیے متعدد امتحان لیے گئے اور حاصل ہونے والے نتائج کا اس گروپ کے ساتھ موازنہ کیا گیا جن کو اسٹریچنگ کی ورزشیں کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔
وہ افراد جنہوں نے مخصوص قسم کی ٹائی چی (جس میں لچک اور توازن کو بہتر کرنے کے لیے الفاظ اور فقرے کہتے ہوئے مخصوص حالتیں قائم کرنی پڑتی ہیں) کی تھی ان کی دماغی صلاحیتوں میں اسٹریچنگ کرنے والے گروپ کی نسبت تین گنا زیادہ بہتری دیکھی گئی۔جبکہ ایک سال بعد لیے گئے فالو اپ ٹیسٹ میں یہ بہتری جاری رہی۔

بین الاقوامی جرنل میں شائع ہونے والی اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے محققین کا کہنا تھا کہ مطالعے کے نتائج بتاتے ہیں کہ ورزش کا معمول ممکنہ طور پر ڈیمیشنیا کے خطرات کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تحقیق میں دیکھے جانے والی بہتری کی شدت یہ ظاہر کرتی ہےکہ ٹائی چی کمزور ہوتی دماغی صلاحیتوں کو متعدد سالوں تک سست رفتار کرسکتی ہے یا اس کیفیت کا مقابلہ کر سکتی ہے اور دماغ کی فعلیت برقرار رکھ سکتی ہے۔

ڈاکخانوں سے شہری نادرا کی سہولت حاصل کرسکیں گے

نادرا اور پاکستان پوسٹ کے تعاون سے اب شہریوں کو ڈاکخانوں سے شناختی کارڈ میں تبدیلی کے ساتھ ترمیم اور تجدید کی سہولت ملے گی۔

شہری ترمیم اور گمشدگی کے بعد دوبارہ تجدید سمیت دیگر سہولتیں حاصل کر سکیں گے۔

پوسٹ ماسٹر جنرل مصطفی کمال کا کہنا ہے نادرا دفاتر کے باہر شہریوں کے ہجوم کے پیش نظر فیصلہ کیا گیا، ابتدا میں سات پوسٹ آفسز سے شہری نادرا کی سہولت حاصل کرسکیں گے۔

مصطفی کمال نے کہا کہ مستقبل قریب میں ان کا دائرہ کار بڑھاتے پوئے یہ سہولت دیگر شہروں میں بھی جلد شروع کی جائے گی۔

سپریم کورٹ میں عام انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت آج پھر ہوگی

سپریم کورٹ آف پاکستان میں عام انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت آج پھر ہوگی۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ سماعت کرے گا، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ بھی بینچ میں شامل ہیں۔

گزشتہ روز کی سماعت میں چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا تھا کہ عام انتخابات کے لئے دی گئی تاریخ پر عملدرآمد کرنا ہوگا، ایک دفعہ تاریخ کا اعلان پتھر پر لکیر کی طرح ہوگا اور پھر تاریخ بدلنے نہیں دیں گے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو صدر مملکت سے مشاورت کی ہدایت کی تھی، کمیشن صدر سے مشاورت کے بعدعدالت کوآگاہ کرے گا۔

الیکشن کمیشن نے عدالت کو 11 فروری کے روز انتخابات کرانے کی تاریخ دی تھی جب کہ رات گئے الیکشن کمیشن اور صدر کے درمیان عدالتی حکم پر ملاقات ہوئی تھی۔

یہ بھی یاد رہے کہ صد علوی اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ 8 فروری کو انتخابات کرانے کے لئے متفق ہوگئے ہیں۔

ذکاء اشرف کی کرسی خطرے میں پڑگئی، آفریدی کو پی سی بی میں اہم عہدہ ملنے کا امکان

چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) مینجمنٹ کمیٹی ذکاء کی کرسی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ہفتے کا آخری ورکنگ ڈے ہونے کی بنا پر ذکاء اشرف کی سربراہی میں کام کرنے والی پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی میں توسیع دینے یا توسیع نہ دینے پر آج فیصلہ آنے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق ذکا اشرف کی مینجمنٹ کمیٹی کی معیاد 5 نومبرکو ختم ہورہی ہے تاہم موجودہ چیئرمین کرکٹ بورڈ مینجمنٹ کمیٹی اس کی توسیع کے لئے کوشاں ہیں۔

سابق چیئرمین نجم سیٹھی سمیت کئی اہم شخصیات پاکسرتان کرکٹ بورڈ میں ذمہ داریاں سنبھالنے کے لئے دوڑ میں شامل ہیں۔

ذرائع نے کہا کہ بھارت میں جاری ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی غیر متوقع کارکردگی اور مفادات کے ٹکراؤ کے بعد سابق چیف سلیکٹر انضمام الحق کے استعفے سے تشویش بھی پیدا ہوگئی ہے۔

اب ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ سابق کپتان شاہد آفریدی کی نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ سے ملاقات ہوئی تھی اور انہیں پی سی بی میں اہم ذمہ داری ملنے کا بھی امکان ہے۔

اسرائیلی فوج کی بمباری سے مزید 500 سے زائد فلسطینی شہید

غزہ میں اسرائیلی فوج کی فضائی اور زمینی کارروائیاں جاری ہیں، شمالی غزہ پر بمباری سے 24 گھنٹے میں مزید 500 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے، شہدا کی تعداد 9 ہزار200 ہوگئی۔

صیہونی فوج نے جبالیہ کیمپ کو ایک بار پھر نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد فلسطینی شہید، 100سے زائد افراد لاپتہ اور 77زخمی ہوگئے۔

سات اکتوبر سے اب تک کی بمباری میں شہدا کی تعداد 9 ہزار 200 ہوگئی، جن میں37 سو سے زائد بچے شامل ہیں، جبکہ متعدد فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج پکڑ کر لے گئی۔

النصر اسٹریٹ پر بیکری کے سامنے جمع افراد پر بھی بم گرا دیا گیا، امدادی کارکنوں اور ایمبولینس کو بھی نہ چھوڑا، ہرطرف لاشوں اور ملبے کے ڈھیر لگے ہیں، تباہ شدہ مکانات کی تعداد 2 لاکھ سے زائد ہوگئی۔

ملبے سے لاشوں کی تلاش جاری ہے، ایندھن ختم ہونے سے کینسر کے واحد ترک اسپتال میں کام بند ہوگیا، 70مریضوں کی موت واقع ہونے کا خدشہ ہے۔ غزہ کے 35 اسپتالوں میں سے 16نے کام بند کردیا۔

دوسری جانب رفاح راہداری سے غیر ملکی شہریوں اور دہری شہریت کے حامل شہریوں کو غزہ سے نکلنے کے اجازت ملنے کا امکان ہے، جن میں 400 امریکی شہری ہیں۔

مغربی کنارے پر اسرائیلی فوج نے 14 سالہ لڑکے سمیت تین فلسطینیوں کو شہید کردیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی ٹینک غزہ شہر کے مرکز کی جانب بڑھنے لگے، حماس اور اسرائیلی ٹینکوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔

غزہ کی دو اہم سڑکیں اسرائیل کے کنڑول میں آگئیں، حماس بھی صہیونی فوج کا بھر پور مقابلہ کر رہی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں مشرق وسطیٰ کے اپنے دوسرے دورے پر روانہ ہوگئے۔

ائیرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو میں انٹونی بلنکن نے کہا کہ بات چیت میں غزہ کے مستقبل پر توجہ مرکوز رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں جانی نقصان کم کرنے اور مزید انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے طریقہ کار پر اسرائیل سے بات چیت ایجنڈے میں شامل ہے۔

فلسطینی شہری تنازعات کا مسلسل خمیازہ بھگت رہے ہیں، لبنان سمیت تمام محاذوں پر کشیدگی روکنے کے لیے پرعزم ہیں۔

انٹونی بلنکن نے کہا کہ حماس کی قید سے 200 سے زائد یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنائیں گے۔

غزہ میں رفع کراسنگ سے امدادی سامان پہنچ رہا ہے، فلسطینی ریڈ کریسنٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے میں 102 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوئے ہیں۔

ٹرکوں پر خوراک، پانی، امدادی سامان، ادویات اور طبی آلات موجود تھے لیکن غزہ میں ابھی تک ایندھن لانے کی اجازت نہیں ملی ہے۔

پی آئی اے کی مزید 19 پروازیں منسوخ، 17 روز میں مجموعی تعداد 754 ہوگئی

پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز (پی آئی اے) کا فلائٹ آپریشن مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکا اور آج مزید 19 پروازیں منسوخ ہوگئی ہیں۔

ٓآج 19 پروازیں منسوخ ہونے کے بعد 17 روز کے دوران قومی ائیر لائنز کی منسوخ فلائٹس کی مجموعی تعداد 754 ہوگئی ہے۔

کراچی سے اسلام آباد پی کے 368، 369 اور کراچی سے سکھر کی پروازیں 536 اور 537 منسوخ ہوئی ہیں جب کہ آج دمام سے کراچی کی پرواز پی کے 242 بھی اڑان نہیں بھر سکے گی۔

اس کے علاوہ اسلام آباد سے سکھر کی پرواز پی کے 631، 632 بھی منسوخ ہوگئی، اسلام آباد سے کوئٹہ کی پرواز پی کے 325، 326 اور اسلام آباد سے دبئی اور شارجہ کی دو پروازیں بھی منسوخ ہوگئی ہیں۔

دبئی سے ملتان کی پروا زپی کے 222، سیالکوٹ سے شارجہ کی پروازیں پی کے 209اور 210 جب کہ لاہور سے شارجہ کی پرواز پی کے 185 بھی اس فہرست میں شامل ہے۔

8فروری2024 کو عام انتخابات، صدر اور الیکشن کمیشنر میں اتفاق

 اسلام آباد: سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد صدر مملکت ، الیکشن کمیشن اور اٹارنی جنرل کے درمیان  8 فروری 2024 کو عام انتخابات کی تاریخ پر اتفاق ہوگیا۔

سپریم کورٹ کی ہدایت پر اٹارنی جنرل اور الیکشن کمیشن کے وفد نے صدر مملکت سے علیحدہ علیحدہ طویل ملاقاتیں کیں جس میں عام انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایوان صدر اعلامیہ

ایوان صدر کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان سکندر سلطان راجہ کی اٹارنی جنرل برائے پاکستان منصور عثمان اعوان اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے چار ممبران کے ہمراہ ایوان صدر میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کی۔ جس میں آئندہ عام انتخابات کے انعقاد کیلئے تاریخ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق صدر مملکت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ بندیوں اور انتخابات کے حوالے سے کی گئی پیش رفت کو سنا اور تفصیلی بحث کے بعد اجلاس نے متفقہ طور پر ملک میں عام انتخابات 8 فروری 2024 کو کرانے پر اتفاق کیا۔

الیکشن کمیشن اعلامیہ

الیکشن کمیشن کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سرابرہی میں ممبران صدر پاکستان سے ایوان صدر میں میں الیکشن کی تاریخ کے سلسلے میں ملاقات کی۔

اعلامیے کے مطابق متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ الیکشن مورخہ 8 فروری بروز جمعرات منعقد ہوں گے ۔

اس سے قبل الیکشن کمیشن نے صدر مملکت کو تحریری طور پر11 فروری کو عام انتخابات کی تاریخ تجویز کی اور چیف الیکشن کمیشن کی جانب سے صدر مملکت کو خط ارسال کر دیا تھا۔

تاریخ کے معاملے پرصدر مملکت نے بھی اپنی قانونی ٹیم سے مشاورت شروع کر دی ہے۔

11 فروری کو الیکشن کی تجویز، صدر مملکت اور چیف الیکشن کمشنر کے درمیان اتفاق نہ ہوسکا

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے درمیان انتخابات کی تاریخ پر مشاورت ہوئی تاہم اتفاق نہ ہوسکا۔ ملاقات کے بعد چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی مشاورتی اجلاس ہوا، جس کے بعد صدر مملکت کو خط لکھا گیا اور 11 فروری کی تاریخ تجویز کردی گئی۔

جمعرات (2 نومبر) کو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ سپریم کورٹ کے حکم پر صدر عارف علوی سے ملاقات کے لیے ایوان صدر پہنچے، ممبران الیکشن کمیشن اور اٹارنی جنرل منصور عثمان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

ذرائع کے مطابق صدر سے چیف الیکشن کمشنر اور اٹارنی جنرل کی ملاقات ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی جس میں عام انتخابات کے لیے صدر مملکت کے سامنے 3 تاریخیں رکھی گئیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے 28 جنوری ، 4 فروری اور 11 فروری کی تاریخوں پر رائے دی تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے 11 فروری کو انتخابات کے لیے موزوں قرار دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں انتخابات کی تاریخ کے حتمی فیصلے کے لیے آئینی اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا جبکہ انتخابی مہم کے لیے وقت کے آئینی تقاضے کو ملحوظ خاطر رکھا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر صدر سے ملاقات کے بعد ایوان صدر سے روانہ ہوکر الیکشن کمیشن پہنچ گئے۔

جہاں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں مشاورتی اجلاس ہوا، سیکرٹری الیکشن کمیشن اور ممبران اجلاس میں شریک ہوئے۔

اجلاس میں صدر عارف علوی کے ساتھ انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے مشاورت کا جائزہ لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن کے اجلاس میں سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کروانے کے لیے جواب تیار کرلیا گیا۔

بعد ازاں چیف الیکشن کمشنر نے صدر مملکت کو خط لکھتے ہوئے 11 فروری کو الیکشن کرانے کی تجویز دے دی۔

الیکشن کمیشن نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے 11 فروری کو عام انتخابات کی تاریخ تجویز کرتے ہیں۔

تاہم، ‏صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے درمیان ملاقات میں الیکشن کی تاریخ پر اتفاق نہ ہوسکا۔

ذرائع کے مطابق اٹارنی جنرل صدر مملکت کا پیغام لے کر چیف الیکشن کمشنر کے پاس پہنچے۔ اٹارنی جنرل منصور عثمان نے صدر عارف علوی کا مؤقف چیف الیکشن کمشنر کے سامنے رکھا۔

‏صدر مملکت کا مؤقف سننے کے بعد چیف الیکشن کمشنر اپنا نقطہ نظر اٹارنی جنرل کے سامنے رکھیں گے۔

اٹارنی جنرل کی صدر عارف علوی سے ملاقات

اس سے قبل اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ایوان صدر میں ملاقات کی اور سپریم کورٹ کا فیصلہ ان کے حوالے کیا۔

اٹارنی جنرل نے صدر پاکستان کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن حکام سے ملاقات کی درخواست کی۔

صدر پاکستان نے الیکشن کمیشن حکام کو ایوان صدر بلانے کی اجازت دے دی۔

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے صدر عارف علوی کو سپریم کورٹ کی حالیہ سماعت سے متعلق بریف بھی کیا۔

اٹارنی جنرل نے الیکشن کمیشن کی جانب سے عام انتخابات کے انعقاد کے لیے تجویز کردہ تاریخ سے متعلق آگاہ کیا۔

یاد رہے کہ عام انتخابات کے 90 روز کے اندر انعقاد سے متعلق کیس کی سماعت میں سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن حکام کو حکم دیا تھا کہ الیکشن کمیشن صدر مملکت سے آج ہی مشاورت کرے اور عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرکے عدالت کو رپورٹ پیش کرے۔

سپریم کورٹ میں ہونے والی آج کی سماعت کا حکمنامہ

چیف جسٹس نے آج کی سماعت کا حکمنامہ لکھوایا اور ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ صرف انتخابات چاہتی ہے کسی اور بحث میں نہیں پڑنا چاہتے، انتخابات کی تاریخ دینے کے بعد کسی درخواست کو نہیں سنا جائے گا۔

حکمنامے کے مطابق 5 دسمبر کو حلقہ بندیوں کے نتائج شائع ہوں گے، حلقہ بندی شائع ہونے کے بعد انتخابی پروگرام جاری ہوگا، انتخابی پروگرام 30 جنوری کو مکمل ہوگا۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن چاہتا ہے انتخابات اتوار کے دن ہوں، انتخابی پروگرام کے بعد پہلا اتوار 4 فروری بنتا ہے، الیکشن کمشن چاہتا ہے انتخابات 11 فروری کو ہوں۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن آج صدر سے ملاقات کرکے انتخابات کی تاریخ کا تعین کرے، صدر اور الیکشن کمشین کے درمیان جو بھی طے ہو عدالت کو تحریری طور پر آگاہ کیا جائے، اور تحریر پر صدر اور الیکشن کمیشن کے دستخط ہونا لازمی ہیں۔

عدالت نے حکم دیا کہ الیکشن کمشنر اپنے ممبران سے خود مشاورت کرے، آج کے عدالتی حکم پر ابھی دستخط کریں گے۔

سپریم کورٹ نے عدالتی حکم کی تصدیق شدہ نقول صدر، الیکشن کمیشن اور اٹارنی جنرل کو فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ اپنا پروگرام عوام میں لے کر جائیں، جسے پسند آئے گا عوام ووٹ دے دیں گے۔

حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن صدر سے ملاقات کر کے کل سپریم کورٹ کو آگاہ کرے، فیصلے کی تین سرٹیفائڈ کاپیز ابھی دیں گے، دستخط شدہ کاپیز صدر مملکت، اٹارنی جنرل اور الیکشن کمیشن کو ابھی دی جائیں گی، الیکشن کمیشن اپنی اندرونی کارروائی آج ہی مکمل کرے، الیکشن کمیشن کل کچھ اور آکر نہیں کہہ دے۔

غزہ سے1 ہزار زخمی بچوں کو علاج کیلیے متحدہ عرب امارات بلائیں گے، شیخ زاید

ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نھیان نے اعلان کیا ہے کہ غزہ سے ایک ہزار زخمی بچوں کو علاج کی غرض سے دبئی اور ابوظہبی کے بڑے اسپتالوں میں لایا جائے گا۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات کے صدر نے مزید کہا کہ ان بچوں کے ساتھ ان کے اہل خانہ کو بھی خوش آمدید کہا جائے گا اور مکمل علاج تک یہ لوگ امارات میں ہی قیام کریں گے۔

صدر شیخ محمد بن زاید آل نھیان کے حکم کی تعمیل میں اماراتی وزیرِ خارجہ نے ریڈ کراس کی صدر سے رابطہ کیا اور زخمی فلسطینی بچوں کو علاج کی غرض سے متحدہ عرب امارات لانے کے طریقہ کار کو حتمی شکل دی۔

دوسری جانب اماراتی وزیرِ خارجہ شیخ عبداللّٰہ بن زاید نے غزہ میں خوراک اور طبی امداد کی ترسیل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ زدہ علاقوں میں امدادی کارکنوں کی نقل و حرکت کو محفوظ بنایا جائے۔

واضح رہے کہ غزہ پر اسرائیلی بمباری میں 8 ہزار 700 سے زائد شہادتیں ہوچکی ہیں اور 22 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں نصف تعداد بچوں اور خواتین کی ہیں۔