فواد چوہدری پر 50 لاکھ روپے رشوت کے بعد سرکاری زمینوں پرقبضوں کا بھی الزام

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری۔ فوٹو — فائل

اینٹی کرپشن پنجاب نے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کو بھائی اور کزن سمیت سرکاری زمینوں پرقبضوں کے الزام میں طلب کرلیا ہے۔

شہری سے نوکری کے عوض 50 لاکھ روپے رشوت کے الزام میں گرفتار سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری پر اب سرکاری زمینوں پر قبضوں کا بھی انکشاف ہوا ہے، اور اینٹی کرپشن نے انہیں بھائی سمیت آج طلب کرلیا ہے۔

اینٹی کرپشن کے مطابق فواد چوہدری پر بھائیوں اورکزن کے ساتھ مل کر سرکاری زمینوں پرقبضوں کا الزام ہے، جس پر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے انہیں آج 11 بجے طلبی کا نوٹس جاری کیا تھا۔

اینٹی کرپشن راولپنڈی کی جانب سے فواد چوہدری، بھائی فرازچوہدری اور کزن فوق شیرباز کو طلبی کا نوٹس جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ فوادچوہدری پر بھائی اور کزن کے ساتھ مل کر سرکاری زمینوں پر قبضوں کا الزام ہے، جس کی انکوائری کرنی ہے۔ تینوں ملزمان 11 بجے اینٹی کرپشن راولپنڈی آفس پیش ہوں۔

واضح رہے کہ سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کو ہفتہ 4 نومبر کی صبح اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا تھا، جس کی تصدیق ان کے بھائی فیصل چوہدری اور ان کی اہلیہ حبا فواد نے کی۔

فواد چوہدری کی اہلیہ اور بھائی فیصل چوہدری نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فواد چوہدری صبح ناشتہ کررہے تھے کہ اسلام آباد پولیس کے ہمراہ سادہ کپڑوں میں کچھ لوگ آئے اور انہیں لیکر نامعلوم مقام پر لے گئے۔

گزشتہ روز اسلام آباد پولیس سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کو منہ پر کپڑا ڈال کر اسلام آباد کچہری لائی اور عدالت کے سامنے پیش کیا۔

اسلام آباد پولیس نے عدالت سے فواد چوہدری کی 5 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی اور بتایا کہ فواد چوہدری کو ظہیر نامی شخص کی جانب سے درج ایف آئی آر میں گرفتار کیا گیا۔

پولیس نے عدالت میں ایف آئی آر بھی پڑھ کر سنائی، جس میں بتایا گیا کہ فواد چوہدری نے شہری ظہیر سے 50 لاکھ روپے بطور رشوت لیے تھے اور نوکری کا وعدہ کیا تھا تاہم پیسے لے کر انہوں نے اسے نوکری نہیں دی اور جب شہری نے اپنے پیسے واپس لینے کا تقاضا کیا، تو فواد چوہدری کی جانب سے اسے جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی۔

فواد چوہدری دو روزہ جسمانی ریماڈ پر پولیس کے حوالے

فواد چوہدری نے عدالت سے استدعا کی کہ مجھے میرے وکلاء سے ملنے دیا جائے، جس پر جج عباس شاہ نے انہیں وکلا سے ملنے کی اجازت دے دی۔

فواد چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ میرے پھیھپڑوں کا مسئلہ ہے، مجھے ڈاکٹر تک رسائی دی جائے، مجھے بچوں سے ملنے کے لیے رسائی دی جائے۔

سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ ظہیر نامی شخص اتنا سست ہے کہ عدالت بھی نہیں آسکے۔

عدالت نے فواد چوہدری کو 2 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

ورلڈ کپ میں شرمناک شکست ، سری لنکا نے پورا کرکٹ بورڈ برطرف کر دیا

ورلڈ کپ میں شرمناک شکست ، سری لنکا نے پورا کرکٹ بورڈ برطرف کر دیا

سری لنکا کے وزیر کھیل روشن رانا سنگھے نے ورلڈ کپ میں بھارت کے ہاتھوں شرمناک شکست کے بعد قومی کرکٹ بورڈ کو برطرف کر دیا۔

واضح رہے کہ رانا سنگھے کے سری لنکا کرکٹ کے ساتھ کئی ماہ سے تنازعات چل رہے ہیں جو ملک کی سب سے امیر ترین کھیلوں کی تنظیم ہے۔

وزیر کھیل روشن رانا سنگھے نے سری لنکا کرکٹ کے لیے عبوری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ 1996 کا ورلڈ کپ جیتنے والے کپتان ارجنا رانا ٹنگا کو نئے عبوری بورڈ کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔

نئے سات رکنی پینل میں سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج اور بورڈ کے ایک سابق صدر بھی شامل ہیں۔

یہ اقدام بورڈ کے دوسرے سب سے بڑے افسر سکریٹری موہن ڈی سلوا کے استعفیٰ دینے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔

گزشتہ ہفتے ورلڈ کپ میں میزبان بھارت کے ہاتھوں سری لنکا کی 302 رنز کی شکست کے بعد رانا سنگھے نے کھلے عام پورے بورڈ سے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔

سری لنکا کی ٹیم جمعرات کو ممبئی میں بھارت کے 358 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے 55 رنز پر آؤٹ ہو گئی تھی جو ورلڈ کپ کی تاریخ کا چوتھا سب سے کم اسکور ہے۔

اس شکست کے بعد سری لنکن عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔ وزیر کھیل کا کہنا تھا کہ سری لنکن کرکٹ حکام کو عہدے پر رہنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔انہیں رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

سری لنکا اور بنگلہ دیش کے درمیان ورلڈ کپ کا اگلا میچ پیر کو کھیلا جائے گا اور ورلڈ کپ کے فائنل 4 میں جگہ بنانے کیلئے سری لنکن ٹیم کو کسی معجزے کی ضرورت ہوگی۔

رانا سنگھے نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے تمام ارکان کو خط لکھ کر اس کھیل میں سیاسی مداخلت کے خلاف قوانین بنائے ہیں۔

سری لنکن میڈیا کو جاری کردہ خطوط میں رانا سنگھے نے کہا کہ سری لنکن کرکٹ کھلاڑیوں کے انضباطی معاملات، انتظامی بدعنوانی، مالی بدسلوکی اور میچ فکسنگ کے الزامات کی شکایات سے گھرا ہوا ہے۔

آئی سی سی نے سیاسی مداخلت سمجھ کر گزشتہ ماہ بورڈ میں مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کے لیے مقرر کردہ تین رکنی پینل کو واپس لینے پر مجبور کیا تھا۔

رانا سنگھے کے حالیہ اقدام پر آئی سی سی کی جانب سے فوری طور پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

واضح رہے کہ ماضی میں مضبوط ترین ٹیم سمجھی جانے والی سری لنکا نے 1996 کے بعد سے ورلڈ کپ نہیں جیتا ہے اور رانا سنگھے نے معیار کی خرابی کے لئے بورڈ کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

بورڈ کے نئے عبوری چیئرمین کے بھائی اور کابینہ کے ایک اور وزیر پرسنا راناٹنگا نے اگست میں پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ 1996 کی فتح ہماری کرکٹ کے لیے سب سے بڑی لعنت تھی۔

انہوں نے کہا کہ 1996 کے بعد کرکٹ بورڈ کے پاس پیسہ آنا شروع ہوا اور اس کے ساتھ وہ لوگ بھی آئے جو چوری کرنا چاہتے تھے۔

’برا شگون‘ قطب شمالی کی روشنیاں پہلی بار سرخ ہوگئیں

اتوار کی شام بلغاریہ کے ایک وسیع وعریض علاقے میں پہلی بار ارورا بوریلس، جسے عام طور پر شمالی روشنیوں کے نام سے جانا جاتا ہے، کےآسمان پر حیرت انگیز ’سُرخ‘ ڈسپلے کی تصاویر اور ویڈیوز تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔

میٹیو بلقان کی رپورٹ کے مطابق سرخ ارورا سب سے پہلے بلغاریہ کے شمال مشرقی حصے میں نمودار ہوا اور اس کے بعد ملک کے تقریبا تمام کونوں میں پھیل گیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کچھ لوگوں نے بلغاریہ میں خون آلود آسمان کی تصاویر کو ”تباہ کن“ اور ”خوفناک“ قرار دیا۔ دوسروں نے اس مسحور کن رجحان کا تجربہ کرنے پر اپنے جوش و خروش کا اظہار کیا۔

اطلاعات کے مطابق شمالی روشنیاں رومانیہ، ہنگری، جمہوریہ چیک اور یوکرین میں بھی دیکھی گئیں۔ پولینڈ اور سلوواکیا کی تصاویر بھی ہیں۔ ہفتے کی رات برطانیہ میں بھی چمکدار سبز اور سرخ ارورا دیکھے گئے۔

رواں سال کے اوائل میں ارورا بوریلس کو پہلی بار بھارتی علاقے لداخ میں دیکھا گیا تھا،جو سائنس دانوں اور اسکائی گیزر کیلئے یکساں طور پر سنسنی کا باعث بنیں۔

ارورا بوریلس عام طور پر جغرافیائی طوفانوں کے دوران ظاہر ہوتا ہے۔ یہ آسمانی عجائبات زمین کے مقناطیسی میدان میں خلل کا نتیجہ ہیں ، جس کی وجہ سے اونچے اور نچلے طول بلد دونوں پر گھنٹوں چمکدار ارورا پیدا ہوتے ہیں۔

اگرچہ شمالی روشنیاں عام طور پر زمین کے مقناطیسی شمالی اور جنوبی قطبوں کے قریب دیکھی جاتی ہیں ، جہاں انہیں ارورا آسٹریلس کہا جاتا ہے ، لیکن وہ کبھی کبھار زیادہ معتدل علاقوں میں اپنی موجودگی ظاہرکرسکتی ہیں۔

یہ رجحان سورج سے نکلنے والے شمسی ہوا کے ذرات کے تعامل سے پیدا ہوتا ہے ، جن میں سے کچھ زمین تک پہنچنے سے پہلے لاکھوں میل کا سفر کرتے ہیں، زمین کا مقناطیسی میدان ان ذرات کو قطبی علاقوں کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔

ارورا کے انوکھے رنگ وں کا انحصار مخصوص گیس کے مالیکیولز پرہوتا ہے جن کا یہ ذرات فضا میں سامنا کرتے ہیں اورتعامل ہوتے ہیں۔ آکسیجن کے اخراج سے خاص سبز روشنی پیدا ہوتی ہے ، جبکہ نائٹروجن کے ساتھ تصادم کے نتیجے میں آسمان کو روشن کرنے والی سرخ چمک پیدا ہوتی ہے۔

عمران خان کی بیٹوں سے فون پر بات نہ کرانے پر ایس پی اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

اسلام آباد: آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے بات نہ کرانے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری کردیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شیراز رانجھا نے عمران خان کی بیٹوں سے فون پر بات نہ کرانے پر آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے بات نہیں کرائی اور ایس پی جیل نے عدالتی احکامات پرعملدرآمد نہیں کیا۔

آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کی/ فائل فوٹودرخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالتی احکامات پرعمل نہ کرنے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے اور جیل حکام کو چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے بات کرانے کے حکم پرعملدرآمد کا حکم دیاجائے۔

آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کی اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 8 نومبر تک جواب طلب کرلیا۔

سندھ میں ضمنی بلدیاتی انتخابات کے نتائج کا سلسلہ جاری، مرتضیٰ وہاب کامیاب، پیپلز پارٹی کا پلڑا بھاری

کراچی کے پانچ اضلاع میں ضمنی بلدیاتی انتخابات کا دنگل آج ہورہا ہے، شام 5 بجے پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہوا اور اب نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق کراچی میں یو سی 13 صدر ٹاؤن سے مرتضیٰ وہاب 3976 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔

ضمنی بلدیاتی انتخابات میں پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو بغیر کسی وقفے کے جاری رہی۔ تاہم میونسپل کمیٹی خیرپور کے وارڈ نو میں بدنظمی کے باعث ووٹنگ کا عمل معطل کیا گیا۔ پولیس کی جانب سے میڈیا کو کوریج کرنے سے بھی روک دیا گیا تھا۔

سندھ کے 16 اضلاع میں ضمنی بلدیاتی انتخابات کے لئے ووٹ ڈالے گئے، کل 182 پولنگ اسٹیشنز میں پولنگ کا عمل جاری رہا، کل 26 یونین کونسلز میں 116 امیدوار مدمقابل ہیں۔

کراچی کی 3 یوسی، 2 وائس چیئرمین اور چار وارڈ کی نشستوں پر انتخاب ہورہا ہے، 42 پولنگ اسٹیشن انتہائی حساس اور 72 کو حساس قرار دیا گیا ۔ ضمنی بلدیاتی انتخابات کیلئے رجسٹررڈ ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 6 ہزار686 ہے۔

صوبائی الیکشن کمشنر اعجاز انور چوہان نے آجی جی پولیس سندھ کے ہمراہ ضمنی بلدیاتی انتخابات کے دوران پولنگ اسٹیشن کا دورہ بھی کیا اور انتخابات کےعمل کو تسلی بخش قرار دیا۔

غیرحتمی غیر سرکاری نتائج، مرتضٰی وہاب کامیاب

کراچی میں یوسی 3 ماڑی پور میں پولنگ اسٹیشن نمبر11 کے 4 بوتھ کا غیرحتمی غیرسرکاری نتیجہ آگیا۔ جس کے مطابق پیپلزپارٹی کے امیدوار سیف اللہ نور220 ووٹ لے کر آگے ہیں، جبکہ ن لیگ کے امیدوار رانا شاہد اقبال 26 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق کراچی میں یو سی 13 صدر ٹاؤن سے مرتضیٰ وہاب 3976 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ جماعت اسلامی کے نور السلام نے 1566ووٹ حاصل کئے۔

سکھر ڈویژن کی چھ نشستوں پر ضمنی بلدیاتی انتخابات میں پیپلزپارٹی کے امیدواروں کو واضح اکثریت حاصل ہے۔ 5 نشستوں پر پیپلزپارٹی اور ایک پر آزاد امیدوار پہلے ہی بلا مقابلہ منتخب ہوچکے ہیں۔

غیرحتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق سکھر، میونسپل کمیٹی نثار صدیقی یوسی10 پر پیپلزپارٹی کامیاب ہوگئی۔

ٹاؤن کمیٹی پکاچانگ سے پیپلزپارٹی کامیاب ہوگئی۔ وارڈ نمبر6 سے بھی پیپلزپارٹی کے امیدوارکامیاب ہوگئے۔

سانگھڑ ، وارڈ نمبر15 ٹنڈوآدم سے پیپلزپارٹی نے میدان مارلیا۔ جبکہ نواب شاہ، دوڑ ٹاؤن کمیٹی وارڈ نمبر 8 سے پیپلزپارٹی کامیاب ہوگئی۔

شکارپورمیں بھی پیپلزپارٹی کے امیدوار کو واضح اکثریت حاصل ہے۔ سیہون، بھان سعید آباد ٹاؤن کمیٹی کے وارڈ نمبر 2 پر بھی پی پی پی کامیاب ہوگئی۔

واضح رہے کہ اب تک آنے والے تمام ہی نتائج غیر حتمی اور غیر سرکاری ہیں۔

سکھر، ٹاؤن کمیٹی نثار صدیقی یوسی 10 کے تمام پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی کے امیدوار ارشد مغل 942 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ جے یو آئی کے امیدوار امان اللہ جمالی 204 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

خیرپور، ٹھری میرواہ کی یوسی حسین بخش دستی کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پیپلزپارٹی کے امیدوار ارشاد علی لغاری 508 لے کر آگے ہیں جبکہ آزاد اميدوار موردن علی شر 401 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

خیرپور، وارڈ نمبر 9 کے غیرحتمی اور غیرسرکاری نتائج کے تحت پیپلز پارٹی کے امیدوارنعمان رضا 921 ووٹ لے کر آگے ہیں اور جی ڈی اے کے امیدوار آصف علی 77 ووٹ حاصل کرسکے۔

ٹنڈوالہ یار، میونسپل کمیٹی کے وارڈ نمبر 1 کے غیرحتمی اور غیرسرکاری نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی کے امیدوار محمد ظفر سہڑو2281 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ آزاد امیدوار امتیازعلی خاصخیلی 28 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

کشمور، یوسی مسووالا پولنگ اسٹیشن نمبر 8 کے غیر حتمی نتائج غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پی پی کے امیدوار محمد رمضان مزاری 46 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے امیدوار اللہ ڈنو 11ووٹ لے سکے۔

یوسی مسووالا پولنگ اسٹیشن نمبر 4 اور 5 میں پی پی امیدوار رمضان مزاری 387 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ سندھ یونائیٹڈ پارٹی کےامیدوار اللہ ڈنو 26 ووٹ لے سکے۔

واضح رہے کہ میئرکراچی مرتضی وہاب صدرٹاؤن کی نشست پرالیکشن لڑرہے ہیں، ڈپٹی میئرسلمان عبداللہ گڈاپ ٹاؤن کی یوسی سے الیکشن لڑرہے ہیں۔

یونین کونسل 13صدرٹاؤن سےچیئرمین کی نشست پر3 امیدوارمدمقابل ہیں، جن میں پیپلزپارٹی کے مرتضٰی وہاب یوسی چیئرمین کے امیدوار، جماعت اسلامی کے نورالسلام، ٹی ایل پی کےسکندرآگرمیدان میں ہیں۔

ضلع کیماڑی یوسی3 ماڑی پور سے چیئرمین کی نشست پر3 امیدوارمدمقابل ہیں، پی پی کے سیف اللہ، پی ٹی آئی کے محمدزاہد، ن لیگ کے شاہد میں مقابلہ ہے۔

ضلع ملیریونین کونسل 7 گڈاپ میں چیئرمین کی نشست پر4 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں پی پی کے سلمان مراد، پی ٹی آئی کےعبدالحفیظ جوکھیو شامل ہیں، جبکہ جماعت اسلامی کے ایوب خاصخیلی، ٹی ایل پی کے سالم احمد مدمقابل ہیں۔

ضلع ملیریونین کونسل7 گڈاپ سے وائس چیئرمین کی نشست پر3 امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، پی پی کے سلیم، پی ٹی آئی کے محب، ٹی ایل پی کےمقبول احمد مد مقابل ہیں۔

ضلع جنوبی یونین کونسل12صدرٹاؤن سےوائس چیئرمین کیلئے4امیدوار میدان میں ہیں، پیپلزپارٹی کے حامد حسین، پی ٹی آئی کے محمد طاہرمیں مقابلہ ہے، جبکہ ن لیگ کےگل خان، جماعت اسلامی کے سیدعبیداللہ شاہ بھی میدان میں ہیں۔

یونین کونسل8 ابراہیم حیدری سےمرتضٰی بلامقابلہ منتخب ہوچکےہیں، جبکہ سندھ میں 209 پولنگ اسٹیشنز پر بلدیاتی الیکشن کیلئے ووٹنگ ہوئی۔

سکھر

سکھر ڈویژن میں 12 خالی نشستوں میں 6 پر پولنگ ہوئی، 6 امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں، گھوٹکی میں ایک نشست پر پی پی امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوئے صرف یوسی ون کے جنرل وارڈ ایک پر پولنگ ہوئی۔

خیرپور، جیکب آباد

ضلع خیرپور میں 2 میونپسل کمیٹیوں سمیت جنرل کونسلرز کی 4 نشستوں پر مقابلہ ہورہا ہے۔ جیکب آباد میں یونین کونسل 31 پر پی پی کے علی محمد بلامقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں۔

لاڑکانہ

ضلع کاؤنسل لاڑکانہ کی یونین کونسل ایک میں آزاد امیدوار کی دست برداری پر پیپلزپارٹی کے امیدوار خادم حسین بوسن بلامقابلہ منتخب ہوگئے، میونسپل کمیٹی ٹنڈوالہ یارکے وارڈ نمبر ایک پر پیپلزپارٹی اور آزاد امیدوار مدمقابل ہیں۔

بے نظیر آباد

ضلع بے نظیر آباد کی یوسی غلام حیدر میں پیپلز پارٹی کے اعجاز بروہی ،یوسی ابولحسن کی جنرل نشست پر مومن مری بلا مقابلہ منتخب ہوگئے۔ ٹاون کمیٹی دوڑمیں جنرل نشست پرپولنگ ہوئی۔

نوشہروفیروز

ضلع نوشہروفیروز کی تمام 4 نشستوں پر پیپلزپارٹی کے امیدواربلا مقابلہ کامیاب ہوگئے۔ یوسی سومرچنڑپر شوکت علی کلہوڑو، یوسی دلی پوٹا میں غلام مصطفی سولنگی، یوسی صالح سہتو کی نششتوں پرحسین بخش سہتو اورسجاد حسین بلا مقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں۔

سندھ کے 16 اضلاع میں ضمنی بلدیاتی الیکشن: پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری

کراچی:سندھ کے 16 اضلاع میں ضمنی بلدیاتی الیکشن کیلئے پولنگ کا وقت تم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع کردی گئی۔

پولنگ کا عمل شام پانچ بجے تک بلاتعطل جاری رہا، اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔

26 یونین کونسلز کی نشستوں پر 116 امیدوار آمنے سامنے ہیں، صوبے بھر میں 182 پولنگ سٹیشنز قائم کئے گئے ہیں۔

شہر قائد میں چیئرمین، وائس چیئرمین اور جنرل ممبر کی 9 نشستوں پر پولنگ جاری ہے، 9 نشستوں پر پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی سمیت 54 امیدوار میدان میں ہیں۔

ضلع ملیر، ضلع کیماڑی، ضلع جنوبی میں چیئرمین کی نشستوں پر انتخابات ہورہے ہیں جبکہ ضلع ملیر اور ضلع جنوبی میں وائس چیئرمین کی نشستوں پر بھی پولنگ جاری ہے۔

ضلع ملیر، ضلع شرقی اور ضلع وسطی میں وارڈ ممبران کی نشستوں پر انتخابات ہورہے ہیں۔

ضمنی انتخاب والے حلقوں میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 6 ہزار 686 ہے، شہر قائد میں 121 پولنگ میں سے تمام کو حساس اور انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔

فضل الرحمان کی حماس کے رہنماؤں سے ملاقات، مسئلہ فلسطین پر تفصیلی تبادلہ خیال

جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات ہوئی ہے۔

جے یو آئی کے ترجمان اسلم غوری کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان وفد کے ہمراہ گزشتہ روز قطر پہنچے جہاں ان کی حماس رہنماؤں سے ملاقات میں مسئلہ فلسطین پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے موقع پر حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کا کہنا تھا کہ امت مسلمہ کا فرض ہے کہ وہ اسرائیلی مظالم کے خلاف متحد ہوجائے۔

حماس رہنما خالد مشعل نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین پر عرصہ دراز سے مظالم انسانی حقوق کے دعویداروں کے منہ پر طمانچہ ہے، مولانا فضل الرحمان پاکستان میں فلسطین کےسفیرکاکردار ادا کر رہے ہیں۔

اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کے دعویداروں کے ہاتھ معصوم بچوں اور خواتین کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اسرائیل کے حملے کی زد میں آنے والے فلسطینیوں کی مدد کے لیے غزہ روانہ ہو گئے۔

مولانا فضل الرحمان کسی بھی مسلم ملک کے پہلے مذہبی سیاسی رہنما ہیں جو جنگی علاقے کے سفر پر گئے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان کی نقل و حرکت کو خفیہ رکھا گیا کیونکہ وہ تباہ حال لوگوں تک خاموشی سے پہنچ کر ان کی مدد کرنا چاہتے تھے، وہ اپنے ساتھ خوراک اور ادویات لے کر جا رہے ہیں۔

اس حوالے سے جب جے یو آئی کے ترجمان اسلم غوری سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ مولانا فضل الرحمان غزہ کی طرف سفر کر رہے ہیں لیکن انہوں نے تفصیلات دینے سے گریز کیا۔

ویرات کوہلی نے سچن ٹنڈولکر کا 49 سنچریوں کا ریکارڈ برابر کردیا

کولکتہ: ویرات کوہلی نے  جنوبی افریقا  کے خلاف ورلڈ کپ کے 37 ویں میچ  میں سنچری اسکور کرکے  سابق بھارتی بیٹر اور ’ لٹل ماسٹر ‘ سچن ٹنڈولکر کا ون  ڈے میچوں میں 49 سنچریوں کا ریکارڈ برابر کردیا۔

کولکتہ کے ایڈن گارڈن میں پروٹیز  کے خلاف میچ میں  ویرات کوہلی نے 119 گیندوں پر 10 چوکوں  کی مدد سے سنچری مکمل کی۔

اسٹار بیٹر نے  289  ون ڈے میچوں میں سچن ٹنڈولکر کی 49  سنچریوں کا ریکارڈ برابر کیا ہے جبکہ ٹنڈولکر نے  463 میچ کھیل کر 49 سنچریاں بنائی تھیں۔

یہ  سنچری ویرات کوہلی کے لیے  اس لیے بھی یادگار ہے  کہ  آج ( 5  نومبر )  کو بھارتی بیٹر کی سالگرہ ہے۔ یوں  ویرات اپنی سالگرہ والے دن پر ون  ڈے سنچری بنانےو الے ساتویں کرکٹر بھی بن گئے۔

قبل ازیں اسی ورلڈ کپ میں مچل مارش نے پاکستان کیخلاف اپنی سالگرہ پر سنچری بنائی تھی۔

اجازت کے بغیر بھنویں کیوں بنوائیں؟ شوہر نے بیوی کو طلاق دیدی

ھارت میں ایک شوہر نے بیوی کو  بغیر  اجازت بھنویں بنوانے پر طلاق دے دی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق جوڑے کا تعلق  بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر کانپور سے ہے، غیر معمولی واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب خاتون نے اپنی طلاق کے حوالے سے پولیس کو آگاہ کیا۔

بتایا جارہا ہے کہ خاتون گل سائبہ کا شوہر سعودی عرب میں ملازمت کرتا ہے جس کی شادی محمد سالم سے گزشتہ سال کے آغاز میں ہوئی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق خاتون نے پولیس کو شکایت درج کرواتے ہوئے بتایا کہ اس کا شوہر رواں سال اگست میں سعودی عرب چلا گیا تھا جس کے بعد ان کے سسرال والوں نے انہیں جہیز کیلئے ہراساں کرنا شروع کردیا دوسری جانب اس کے شوہر پرانے خیالات کے ہیں اور وہ اس کے فیشن کرنے پر اکثر اعتراض کرتے  رہتے تھے۔

خاتون نے بتایا کہ کچھ روز قبل  وہ اپنے شوہر سے ویڈیو کال پر بات کررہی تھیں کہ ان کے شوہر نے بغیر اجازت بھنویں بنانے پر اعتراض کیا اور کہا کہ بغیر پوچھے کیوں بنوائی ہیں؟ اب میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں اس کے بعد شو ہر  نے  ویڈیو کال پر ہی تین بار طلاق دے دی۔

پولیس کے مطابق خاتون کی شکایت پر شوہر سمیت ساس اور مزید 5 سسرالیوں کیخلاف ایف آئی آر درج کروالی گئی ہے۔

چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی۔۔

گزری جمعرات اورجمعہ کا دن پاکستان کے لیے اس طرح اچھااور پرامیدتھا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب قاضی فائز عیسیٰ نے سیاسی بے یقینی اورعدم استحکام کے راستے میں ایک بڑا اسپیڈ بریکر بناتے ہوئے ملک میں عام انتخابات کی تاریخ طے کروادی۔میں اسی موضوع پر لکھنے کا ارادہ کرچکا تھا کہ اس اہم لیکن سادہ سے کام کوہر مسئلے کی طرح غیراہم اور مشکل بنانے والوں کے ارادے خاک میں ملانے پرقاضی صاحب کا شکریہ ادا کروں ۔دل تو یہ بھی تھا کہ قاضی صاحب سے درخواست کروں کہ بڑے بڑے اداروں میں تشریف فرمااپنی چھوٹی چھوٹی خواہشات اور سوچوں کے غلام بننے واے بڑے بڑے عہدیداروں کو بھی کسی کٹہرے میں کھڑاکریں تاکہ ہرالیکشن پر اسی طرح شک کی تہہ چڑھانے کی کوشش کرنے والے بھی عبرت بنیں۔حیران ہوں کہ آئین کی کتاب میں واضح طورپردرج الفاظ ان کو پڑھنے میں مسئلہ کیوں ہوجاتا ہے ۔ان کی نظروں پراپنی انا اور مفادات کی پٹی کیوں بندھ جاتی ہے ۔چیف صاحب نے بھی خیر حکمت سے ہی کام لیا کہ چیف الیکشن کمشنر جو خود کو اتنا بڑا سمجھ بیٹھے تھے کہ اپنے بنیادی فرض کو پوراکرنے سے ہی انکاری تھے ان کی انا کا بُت توڑتے ہوئے انہیں ایوان صدربھیج دیا اور صدر مملکت جنہوں نے عمران خان کی ایڈوائس پراسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار جو ان کے پاس تھا ہی نہیں وہ فوری استعمال کرلیا لیکن الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار جو صرف انہی کا تھا اس کواستعمال نہ کرکے ملک میں ایک نئے بحران کی بنیاد رکھ دی، اس صدر کو بھی ان کے آئینی فرائض کی یاددہانی کروادی۔چیف صاحب نے 8فروری کو الیکشن پتھرپر لکیر قراردے کر اس ملک کو ایک مسئلے سے نجات دلائی ۔ظاہر ہے پاکستان میں کوئی اچھا کام ہو اورملک دشمن قوتوں کو یہ کام اچھا لگے ایسا تو ہونہیں سکتا اس لیے عین اس وقت جب چیف جسٹس ملک میں عام انتخابات کے کیس کا حکم نامہ لکھوارہے تھے پاکستان کے امن دشمن بھی وارکی تیاریوں میں مصروف تھے۔
گزشتہ دودنوں میں دہشت گردی کے چار واقعات ہوگئے ۔مجھے لگا جیسا میں آٹھ دس سال پیچھے چلا گیا ہوں۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے وقت خبر آئی کہ ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل ٹانک میں پولیس کی گاڑی کو بم سے نشانہ بنایاگیا ہے جس میں اہلکاروں سمیت پانچ افراد شہید ہوگئے ہیں۔ابھی یہ خبر ہی گرم تھی کہ اس سے بھی بڑی اور منحوس گھڑی ہمارے تعاقب میں تھی۔بلوچستان میں گوادر کے علاقے اورماڑامیں دہشتگردوں نے پاک فوج کے ایک کانوائے پر حملہ کردیا ۔اس تباہ کن حملے میں چودہ جوان شہادت کا جام پی گئے۔یہ سن کر خون کھولا،آنکھوں اور دل سے خون کے ہی آنسونکلے۔سمجھ نہیں آرہی کہ آخرایسی کونسی غلطی ہے جس کو ہم سدھارہی نہیں پارہے اور اس وقت دہشت گردی کا دوبارہ سر اٹھانا کس وجہ سے ہے ۔ ایسے واقعات بہت کم ہوگئے تھے، مکمل ختم کبھی بھی نہیں تھے لیکن جمعہ کے دن یہ دو بڑے واقعات ہی کم نہیں تھے کہ ہفتہ کی صبح ایک ایسے واقعے کے ساتھ طلوع ہوئی کہ دماغ ماؤف ہوگیا۔پاکستان ایئرفورس کے میانوالی بیس پرحملہ ہواجس کو سکیورٹی فورسز نے ناکام بناتے ہوئے تمام حملہ آور دہشتگردوں کوہلاک کردیا ۔یہ حملے ہمیں یاددلانے کے لیے کافی ہیں کہ ہمارادشمن ابھی مکمل ناکام نہیں ہوا اور ہماری دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے۔
ہماری کوششوں یا حکمت عملی میں کچھ تو کمی رہی ہوگی کہ یہ ناسورمکمل جڑسے نہیں اکھاڑپارہے۔یہ جولائی 2016کی بات ہے جب داعش عراق اور شام کو نابود کرکے باہرپاؤں پھیلا رہی تھی۔ہم تو پہلے ہی طالبان کے عذاب میں تھے لیکن یہ خطہ چونکہ تخریب کاری کو قبول کرنے کے لیے انتہائی زرخیز واقع ہوا ہے اورہم مذہب کے نام پرنفرت کے کام کاٹھیکہ بڑی جلدی پکڑلیتے ہیں تو داعش کوکچھ ہمدردبھارت اوربنگلہ دیش میں بھی مل گئے۔یکم جولائی 2016کوڈھاکا کے ڈپلومیٹک علاقے میں واقع ایک بیکری پرحملہ ہوگیا جس میں عام طورپرغیرملکی سفارتکاروں کے اہلخانہ کھانے پینے آتے تھے۔اس کیفے پرپانچ نوجوانوں نے رات ساڑھے آٹھ بجے حملہ کیا۔داخلے کے وقت جو سامنے آیا اس کو گولی ماردی ۔اس طرح ان پانچ دہشت گردوں نے بیس کے قریب غیرملکی مارڈالے اور باقی بچ رہنے والے لوگوں کو یرغمال بنالیا۔بنگلہ دیش کی پولیس نے کوشش کی لیکن ناکام رہی۔اس کے بعد انسداد دہشت گردی فورسز نے بھی کوشش کی لیکن مزاحمت سے زیادہ یرغمالیوں کے مارے جانے کے خدشے کی وجہ سے آپریشن کامیاب نہ ہوا۔پوری رات اسی آپریشن کی تیاری اور کوشش میں گزر گئی۔بنگلہ دیش ہل کررہ گیا۔اتنے بڑے حملے کی وجہ کسی کو سمجھ نہیں آرہی تھی لیکن داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔
بنگلہ دیش کی فوج نے صبح کے وقت آپریشن کیا۔یرغمالی رہاہوئے اورتمام پانچ نوجوان دہشت گردہلاک کردیے گئے۔ہم تو یہاں ایسے حملوں کے عادی بن چکے تھے لیکن بنگلہ دیش کی تاریخ کا یہ سب سے بڑااور پہلا ایسا حملہ تھا ۔یہ پانچوں نوجوان بنگلہ دیشی تھے ۔حملے کے خلاف پورے ملک میں ایسی فضا بنی کہ ان حملہ آوروں کے اہلخانہ نے علیٰ لاعلان ان کی لاشیں وصول کرنے سے انکار کردیا۔علامتی طورپران پانچوں کو لاوارث اور اجنبی قراردے کر دفن کیا گیا۔اس کے بعد پورے ملک کے قانون نافذکرنے والے ادارے اس کیس میں لگ گئے۔ان دہشتگردوں سے رابطے اور ان کے سہولتکاروں کوتلاش کرکے آٹھ لوگوں پرفرد جرم عائد کی گئی۔ عدالت نے آٹھ میں سے سات کو پھانسی کی سزاسنائی۔پورے ملک میں کسی نے ان سے ہمدردی دکھانے کی جرات نہیں کی۔کسی نے ان کو اپنے بچے یابھٹکے ہوئے لوگ کہہ کر ان کے کام کا جواز تلاش کرنے کی ہمت نہ کی۔وہ دن گیا اورآج کا آیابنگلہ دیش میں داعش یا کسی اورعالمی دہشت گرد تنظیم کو ملازمت کے لیے کوئی جوان ملا نہ بوڑھا۔
ایک ہم ہیں کہ ریاست نے غیرقانونی طورپرمقیم افغان باشندوں سے درخواست کی کہ وہ اپنے وطن واپس چلے جائیں لیکن اس پر بھی ہمارے کچھ دانشوروں کو تکلیف ہونا شروع ہوگئی ۔یہاں لوگوں کوانسانی حقوق یاد آگئے ۔بھائی چارہ جوش مارنے لگا۔یہ لوگ جو افغانیوں کی واپسی کو انسانی المیوں سے جوڑرہے ہیں جو ان کی شان میں کالم لکھ رہے ہیں کوئی ان سے پوچھے کہ ہم نے افغانستان کے امن کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔طالبان کی حکومت کی واپسی کی راہیں ہموارکرکے ان کو دیں۔ ان کے آنے اور امریکا کے نکل جانے کو غلامی کی زنجیریں توڑنا تک کہہ دیا لیکن بدلے میں کیا مانگا؟ یہی نا کہ تحریک طالبان پاکستان کوافغانستان میں پناہ دینا بندکریں۔اپنی سرزمین کو ہمارے خلاف استعمال کرنے سے روکیں۔یہ دونوں کام تو ویسے ہی ہماری خودمختاری کے خلاف ہیں ۔
ہم دہشت گردی کے خلاف طویل ترین جنگ لڑچکے ۔ہمارے اسی ہزار سے زائد شہری اس جنگ میں اپنی جانیں دے چکے ہیں۔ہماری مسلح افواج کے افسر اور جوانوں کی بڑی تعداداپنا خون دے چکی ہے۔جنگ کی وجہ بننے والے افغانستان سے امریکا کوواپس گئے دوسال ہوگئے ہیں۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت بن چکی ہے پھر اس دہشت گردی کا جواز کیا ہے؟ہمارے قانون نافذکرنے والے اداروں اورسویلینز کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں ۔دہشت گردی کے چلتے نہ ہماری معیشت ٹریک پرآسکتی ہے نہ ہماری سیاست اور نہ ہی ہمارا معاشرہ اس ہیجان سے باہر آسکتا ہے اس لیے پاکستان کو بچانے کے لیے ہم سب کو یکسو ہوکراپنے سکیورٹی کے اداروں کے ساتھ تعاون اور شانہ بشانہ کھڑے ہوکر مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔صرف دہشتگردوں کو ہی نہیں بلکہ اپنے معاشرے میں کسی بھی وجہ سے ان دہشت گردوں کے ہمدردوں کا خاتمہ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اگر ہندوستان اورافغانستان کے عناصریہ حرکتیں کررہے ہیں تو ان کومکمل بے نقاب کرکے ان کے یہاں موجود سہولتکاروں کو عبرت کی مثالیں بنانے تک ہم اس گرداب سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔

ورلڈکپ: آسٹریلیا نے دفاعی چیمپئن انگلینڈ کو 33 رن سے شکست دے دی

آئی سی سی ون ڈے ورلڈکپ کے 36 ویں میچ میں آسٹریلیا نے دفاعی چیمپئن انگلینڈ کو 33 رن سے شکست دے دی۔

احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں انگلینڈ نے آسٹریلیا کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔

آسٹریلیا کی ٹیم 49.3 اوور میں 286 رن بنا کر آؤٹ ہوگئی اور انگلینڈ کو جیت کے لیے287 رن کا ہدف ملا۔

آسٹریلیا کی جانب سے مارنس لبوشین 71 رن بنا کر ٹاپ اسکورر  رہے، ان کے علاوہ کیمرون گرین47، اسٹیو اسمتھ 44 اور  مارکس اسٹوئنس نے35 رن بنائے،  ایڈم زیمپا 29 رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔

ڈیوڈ وارنر نے 15، ٹریوس ہیڈ نے 11، پیٹ کمنز نے 10 اور جوش انگلس نے3 رن بنائے، مچل اسٹارک 10 رن بنا کر  آؤٹ ہوگئے۔

انگلینڈ کی جانب سےکرس ووکس نے 4  وکٹیں حاصل کیں، عادل رشید اور مارک ووڈ نے دو دو وکٹیں لیں، لیئم لیونگسٹن اور  ڈیوڈ ولی نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

287 رن کے ہدف کے جواب میں انگلینڈ کی ٹیم 48.1 اوور میں 253  رن پر آؤٹ ہوگئی۔

انگلینڈ کی جانب سے بین اسٹوکس نے 64 اور ڈیوڈ ملان نے 50  رن کی اننگز کھیلی۔

ان کے علاوہ معین علی نے 42، کرس ووکس نے 32 اور ڈیوڈ ولی نے 15 رن بنائے۔

آسٹریلیا کی جانب سے ایڈم زمپا نے 3 جب کہ اسٹارک، ہیزول ووڈ اور کیومنز نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔

فخر زمان نے شاہد آفریدی کا زیادہ چھکوں کا 27 سالہ ریکارڈ برابر کر دیا

گزری جمعرات اورجمعہ کا دن پاکستان کے لیے اس طرح اچھااور پرامیدتھا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب قاضی فائز عیسیٰ نے سیاسی بے یقینی اورعدم استحکام کے راستے میں ایک بڑا اسپیڈ بریکر بناتے ہوئے ملک میں عام انتخابات کی تاریخ طے کروادی۔میں اسی موضوع پر لکھنے کا ارادہ کرچکا تھا کہ اس اہم لیکن سادہ سے کام کوہر مسئلے کی طرح غیراہم اور مشکل بنانے والوں کے ارادے خاک میں ملانے پرقاضی صاحب کا شکریہ ادا کروں ۔دل تو یہ بھی تھا کہ قاضی صاحب سے درخواست کروں کہ بڑے بڑے اداروں میں تشریف فرمااپنی چھوٹی چھوٹی خواہشات اور سوچوں کے غلام بننے واے بڑے بڑے عہدیداروں کو بھی کسی کٹہرے میں کھڑاکریں تاکہ ہرالیکشن پر اسی طرح شک کی تہہ چڑھانے کی کوشش کرنے والے بھی عبرت بنیں۔حیران ہوں کہ آئین کی کتاب میں واضح طورپردرج الفاظ ان کو پڑھنے میں مسئلہ کیوں ہوجاتا ہے ۔ان کی نظروں پراپنی انا اور مفادات کی پٹی کیوں بندھ جاتی ہے ۔چیف صاحب نے بھی خیر حکمت سے ہی کام لیا کہ چیف الیکشن کمشنر جو خود کو اتنا بڑا سمجھ بیٹھے تھے کہ اپنے بنیادی فرض کو پوراکرنے سے ہی انکاری تھے ان کی انا کا بُت توڑتے ہوئے انہیں ایوان صدربھیج دیا اور صدر مملکت جنہوں نے عمران خان کی ایڈوائس پراسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار جو ان کے پاس تھا ہی نہیں وہ فوری استعمال کرلیا لیکن الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار جو صرف انہی کا تھا اس کواستعمال نہ کرکے ملک میں ایک نئے بحران کی بنیاد رکھ دی، اس صدر کو بھی ان کے آئینی فرائض کی یاددہانی کروادی۔چیف صاحب نے 8فروری کو الیکشن پتھرپر لکیر قراردے کر اس ملک کو ایک مسئلے سے نجات دلائی ۔ظاہر ہے پاکستان میں کوئی اچھا کام ہو اورملک دشمن قوتوں کو یہ کام اچھا لگے ایسا تو ہونہیں سکتا اس لیے عین اس وقت جب چیف جسٹس ملک میں عام انتخابات کے کیس کا حکم نامہ لکھوارہے تھے پاکستان کے امن دشمن بھی وارکی تیاریوں میں مصروف تھے۔
گزشتہ دودنوں میں دہشت گردی کے چار واقعات ہوگئے ۔مجھے لگا جیسا میں آٹھ دس سال پیچھے چلا گیا ہوں۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے وقت خبر آئی کہ ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل ٹانک میں پولیس کی گاڑی کو بم سے نشانہ بنایاگیا ہے جس میں اہلکاروں سمیت پانچ افراد شہید ہوگئے ہیں۔ابھی یہ خبر ہی گرم تھی کہ اس سے بھی بڑی اور منحوس گھڑی ہمارے تعاقب میں تھی۔بلوچستان میں گوادر کے علاقے اورماڑامیں دہشتگردوں نے پاک فوج کے ایک کانوائے پر حملہ کردیا ۔اس تباہ کن حملے میں چودہ جوان شہادت کا جام پی گئے۔یہ سن کر خون کھولا،آنکھوں اور دل سے خون کے ہی آنسونکلے۔سمجھ نہیں آرہی کہ آخرایسی کونسی غلطی ہے جس کو ہم سدھارہی نہیں پارہے اور اس وقت دہشت گردی کا دوبارہ سر اٹھانا کس وجہ سے ہے ۔ ایسے واقعات بہت کم ہوگئے تھے، مکمل ختم کبھی بھی نہیں تھے لیکن جمعہ کے دن یہ دو بڑے واقعات ہی کم نہیں تھے کہ ہفتہ کی صبح ایک ایسے واقعے کے ساتھ طلوع ہوئی کہ دماغ ماؤف ہوگیا۔پاکستان ایئرفورس کے میانوالی بیس پرحملہ ہواجس کو سکیورٹی فورسز نے ناکام بناتے ہوئے تمام حملہ آور دہشتگردوں کوہلاک کردیا ۔یہ حملے ہمیں یاددلانے کے لیے کافی ہیں کہ ہمارادشمن ابھی مکمل ناکام نہیں ہوا اور ہماری دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے۔
ہماری کوششوں یا حکمت عملی میں کچھ تو کمی رہی ہوگی کہ یہ ناسورمکمل جڑسے نہیں اکھاڑپارہے۔یہ جولائی 2016کی بات ہے جب داعش عراق اور شام کو نابود کرکے باہرپاؤں پھیلا رہی تھی۔ہم تو پہلے ہی طالبان کے عذاب میں تھے لیکن یہ خطہ چونکہ تخریب کاری کو قبول کرنے کے لیے انتہائی زرخیز واقع ہوا ہے اورہم مذہب کے نام پرنفرت کے کام کاٹھیکہ بڑی جلدی پکڑلیتے ہیں تو داعش کوکچھ ہمدردبھارت اوربنگلہ دیش میں بھی مل گئے۔یکم جولائی 2016کوڈھاکا کے ڈپلومیٹک علاقے میں واقع ایک بیکری پرحملہ ہوگیا جس میں عام طورپرغیرملکی سفارتکاروں کے اہلخانہ کھانے پینے آتے تھے۔اس کیفے پرپانچ نوجوانوں نے رات ساڑھے آٹھ بجے حملہ کیا۔داخلے کے وقت جو سامنے آیا اس کو گولی ماردی ۔اس طرح ان پانچ دہشت گردوں نے بیس کے قریب غیرملکی مارڈالے اور باقی بچ رہنے والے لوگوں کو یرغمال بنالیا۔بنگلہ دیش کی پولیس نے کوشش کی لیکن ناکام رہی۔اس کے بعد انسداد دہشت گردی فورسز نے بھی کوشش کی لیکن مزاحمت سے زیادہ یرغمالیوں کے مارے جانے کے خدشے کی وجہ سے آپریشن کامیاب نہ ہوا۔پوری رات اسی آپریشن کی تیاری اور کوشش میں گزر گئی۔بنگلہ دیش ہل کررہ گیا۔اتنے بڑے حملے کی وجہ کسی کو سمجھ نہیں آرہی تھی لیکن داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔
بنگلہ دیش کی فوج نے صبح کے وقت آپریشن کیا۔یرغمالی رہاہوئے اورتمام پانچ نوجوان دہشت گردہلاک کردیے گئے۔ہم تو یہاں ایسے حملوں کے عادی بن چکے تھے لیکن بنگلہ دیش کی تاریخ کا یہ سب سے بڑااور پہلا ایسا حملہ تھا ۔یہ پانچوں نوجوان بنگلہ دیشی تھے ۔حملے کے خلاف پورے ملک میں ایسی فضا بنی کہ ان حملہ آوروں کے اہلخانہ نے علیٰ لاعلان ان کی لاشیں وصول کرنے سے انکار کردیا۔علامتی طورپران پانچوں کو لاوارث اور اجنبی قراردے کر دفن کیا گیا۔اس کے بعد پورے ملک کے قانون نافذکرنے والے ادارے اس کیس میں لگ گئے۔ان دہشتگردوں سے رابطے اور ان کے سہولتکاروں کوتلاش کرکے آٹھ لوگوں پرفرد جرم عائد کی گئی۔ عدالت نے آٹھ میں سے سات کو پھانسی کی سزاسنائی۔پورے ملک میں کسی نے ان سے ہمدردی دکھانے کی جرات نہیں کی۔کسی نے ان کو اپنے بچے یابھٹکے ہوئے لوگ کہہ کر ان کے کام کا جواز تلاش کرنے کی ہمت نہ کی۔وہ دن گیا اورآج کا آیابنگلہ دیش میں داعش یا کسی اورعالمی دہشت گرد تنظیم کو ملازمت کے لیے کوئی جوان ملا نہ بوڑھا۔
ایک ہم ہیں کہ ریاست نے غیرقانونی طورپرمقیم افغان باشندوں سے درخواست کی کہ وہ اپنے وطن واپس چلے جائیں لیکن اس پر بھی ہمارے کچھ دانشوروں کو تکلیف ہونا شروع ہوگئی ۔یہاں لوگوں کوانسانی حقوق یاد آگئے ۔بھائی چارہ جوش مارنے لگا۔یہ لوگ جو افغانیوں کی واپسی کو انسانی المیوں سے جوڑرہے ہیں جو ان کی شان میں کالم لکھ رہے ہیں کوئی ان سے پوچھے کہ ہم نے افغانستان کے امن کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔طالبان کی حکومت کی واپسی کی راہیں ہموارکرکے ان کو دیں۔ ان کے آنے اور امریکا کے نکل جانے کو غلامی کی زنجیریں توڑنا تک کہہ دیا لیکن بدلے میں کیا مانگا؟ یہی نا کہ تحریک طالبان پاکستان کوافغانستان میں پناہ دینا بندکریں۔اپنی سرزمین کو ہمارے خلاف استعمال کرنے سے روکیں۔یہ دونوں کام تو ویسے ہی ہماری خودمختاری کے خلاف ہیں ۔
ہم دہشت گردی کے خلاف طویل ترین جنگ لڑچکے ۔ہمارے اسی ہزار سے زائد شہری اس جنگ میں اپنی جانیں دے چکے ہیں۔ہماری مسلح افواج کے افسر اور جوانوں کی بڑی تعداداپنا خون دے چکی ہے۔جنگ کی وجہ بننے والے افغانستان سے امریکا کوواپس گئے دوسال ہوگئے ہیں۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت بن چکی ہے پھر اس دہشت گردی کا جواز کیا ہے؟ہمارے قانون نافذکرنے والے اداروں اورسویلینز کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں ۔دہشت گردی کے چلتے نہ ہماری معیشت ٹریک پرآسکتی ہے نہ ہماری سیاست اور نہ ہی ہمارا معاشرہ اس ہیجان سے باہر آسکتا ہے اس لیے پاکستان کو بچانے کے لیے ہم سب کو یکسو ہوکراپنے سکیورٹی کے اداروں کے ساتھ تعاون اور شانہ بشانہ کھڑے ہوکر مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔صرف دہشتگردوں کو ہی نہیں بلکہ اپنے معاشرے میں کسی بھی وجہ سے ان دہشت گردوں کے ہمدردوں کا خاتمہ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اگر ہندوستان اورافغانستان کے عناصریہ حرکتیں کررہے ہیں تو ان کومکمل بے نقاب کرکے ان کے یہاں موجود سہولتکاروں کو عبرت کی مثالیں بنانے تک ہم اس گرداب سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔

آئی ایم ایف کے مطالبات شروع، پاکستان سے آئندہ 10 ماہ کا ٹیکس پلان طلب

اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف)  نے پاکستان سے مذاکرات کے دوران آئندہ  10 ماہ کا ٹیکس پلان  مانگ لیا۔

پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کے درمیان اقتصادی جائزہ پر تکنیکی سطح کے مذاکرات کے دوسرے سیشن میں پہلی سہ ماہی کے اقتصادی اعداد و شمار کا جائزہ لیا، جس میں  اور ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

 

مذاکرات کے دوران بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی معاشی ٹیم سے آئندہ 10 ماہ کے دوران ممکنہ ٹیکس محاصل کا پلان مانگ لیا۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے معاشی ٹیم کے سامنے مطالبات رکھنا شروع کردیے ہیں۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین تکنیکی سطح کے مذاکرات میں ٹیکس دہندگان کی تعداد 49 لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑکرنے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیاگیا۔  مذاکرات کے دوران ٹیکس نیٹ میں شامل 10 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کی تفصیلات آئی ایم ایف کو فراہم کردی گئی ہیں۔

معاشی ٹیم نے آئی ایم ایف کو  بتایا گیا کہ کاروباری لین دین اور بینکوں سے مزید 10لاکھ افراد کا ڈیٹا اکٹھا کرکے نوٹس بھجوائے جارہے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں بڑے ٹیکس نادہندگان کے شناختی کارڈ بھی بلاک کیے جا سکتے ہیں۔ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ کےعلاوہ عالمی بینک سے مدد لینے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔

ایف بی آر نے آئی ایم ایف کو بغیر کسی شارٹ فال کے سالانہ ٹیکس ہدف پورا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کو موجودہ مالی سال کا 9  ہزار 415 ارب روپے کا ٹیکس ہدف پورا کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی ہے، اس سلسلے میں آئی ایم ایف کو بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے ابتدائی 4 ماہ میں 2 ہزار 748 ارب روپے ٹیکس جمع کیا جا چکا ہے جب کہ  باقی 6670 ارب روپے ٹیکس جون 2024 تک اکھٹا کرلیا جائے گا۔

ایف بی آر نے رواں مالی سال میں ٹیکس شارٹ فال کا امکان بھی مسترد کردیا ہے۔ آئی ایم ایف کے نئے مطالبات پر ایف بی آر اپنی رپورٹ آئندہ ہفتے پیش کرے گا۔