چیئرمین واپڈا نے مہمند ڈیم کا دورہ کیا جہاں انہیں بتایا گیا کہ ڈیم 2026ء میں مکمل ہوگا جس سے 800 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی، زیرِکاشت ایک لاکھ 60 ہزار ایکڑ اراضی کے لیے بھی اضافی پانی دستیاب ہوگا، پشاور کو روزانہ 300 ملین گیلن پینے کا پانی بھی فراہم ہوگا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق چیئرمین واپڈا انجینئر لیفٹیننٹ جنرل سجاد غنی (ر) نے مہمند ڈیم پراجیکٹ کا دورہ کیا، اسپل وے اور ڈائی ورشن ٹنلز سمیت پراجیکٹ کی مختلف سائٹس پر تعمیراتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔
چیئرمین واپڈا نے کنٹریکٹر کو منصوبے کے لیے دریائے سوات کی ڈائی ورشن پانی کے کم بہاؤ کے موجودہ موسم کے دوران ہی مکمل کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ ڈائی ورشن سسٹم کی بروقت تکمیل کے لیے ااضافی وسائل کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔
پراجیکٹ حکام کی جانب سے چیئرمین واپڈا کو ڈائی ورشن ٹنلز، اسپل وے، پراجیکٹ کالونی اور سڑکوں کی تعمیر سے متعلق بریفنگ دی گئی اور کہا کہ ڈائی ورشن سسٹم کی ٹائم لائنز کے مطابق تکمیل کے لیے بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں۔
چیئرمین کو بتایا گیا کہ مہمند ڈیم کی تکمیل 2026ء میں شیڈول ہے اس میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 1.2 ملین ایکڑ فٹ ہے، اس ڈیم سے 800 میگاواٹ کم لاگت اور ماحول دوست پن بجلی پیدا ہوگی، 18 ہزار 233 ایکڑ نئی اراضی سیراب ہوگی، زیرِکاشت ایک لاکھ 60 ہزار ایکڑ اراضی کے لیے بھی اضافی پانی دستیاب ہوگا، منصوبے سے پشاور شہر کو روزانہ 300 ملین گیلن پینے کا پانی بھی فراہم ہوگا۔
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ ختم ہونے کے بعد نہ تو اسرائیل غزہ کا کنٹرول سنبھالے گا اور نہ ہی حماس کو وہاں حکومت کرنے کی اجازت ہوگی۔
بدھ کو جاپان میں ”جی 7“ وزرائے خارجہ مذاکرات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بلنکن نے ”پائیدار امن اور سلامتی“ کے قیام کے لیے ضروری نکات کے بارے میں بات کی، جس میں یہ بھی ارادہ ظاہر کیا گیا کہ امریکا جنگ کے بعد کے حالات پر بات چیت شروع کرنے کا خواہش مند ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’غزہ سے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی نہیں ہونی چاہیے، نہ تو ابھی اور نی ہی جنگ کے بعد۔ غزہ کو دہشت گردی یا دیگر پرتشدد حملوں کے لیے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا۔ تنازع ختم ہونے کے بعد غزہ پر دوبارہ قبضہ نہیں کیا جائے گا‘۔
امریکی عہدیدار نے ’غزہ کی ناکہ بندی یا محاصرہ کرنے کی کوشش‘ یا ’غزہ کے علاقے میں کسی قسم کی کمی‘ کے خلاف بھی خبردار کیا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے پیر کو تجویز پیش کی کہ اسرائیل جنگ کے بعد غزہ میں سکیورٹی کا کنٹرول سنبھال لے گا۔
تاہم، اگلے دن امریکی حکام نے کہا کہ صدر جو بائیڈن ’اسرائیلی افواج کے دوبارہ قبضے‘ کی حمایت نہیں کرتے۔
بلنکن نے واشنگٹن کے اس نظریے کو بھی دہرایا کہ غزہ کو حماس کے ذریعے نہیں چلایا جا سکتا، جو کہ اس وقت انکلیو پر حکومت کرتی ہے۔
انہوں نے اسرائیل پر گروپ کے مہلک حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’یہ محض 7 اکتوبر دہرانے کی دعوت دینا ہوگا‘۔
ان کا مزید کہنا تھا، ’اب، حقیقت یہ ہے کہ تنازعے کے اختتام پر کچھ عبوری دور کی ضرورت ہو سکتی ہے … ہمیں دوبارہ قبضہ نظر نہیں آتا اور جو میں نے اسرائیلی رہنماؤں سے سنا ہے، وہ یہ ہے کہ ان کا غزہ پر دوبارہ قبضہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے‘۔
منگل کو حماس نے امریکی بیانات کے جواب میں کہا تھا کہ وہ غزہ کی پٹی میں حکمرانی کی مساوات کا حصہ نہیں بن سکتا کیونکہ انکلیو کی حکمرانی ایک ”خالص فلسطینی معاملہ“ ہے۔
حماس کے ترجمان عبداللطیف القانو نے کہا کہ غزہ یا ہماری سرزمین پر حکومت کرنا فلسطینیوں کا معاملہ ہے اور کوئی بھی طاقت حقیقت کو تبدیل یا اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکے گی۔
القانو نے کہا کہ حماس ایک قومی آزادی کی تحریک ہے اور ہر فلسطینی کے گھر میں رہتی ہے۔ حماس ہمارے عوام کا ایک لازمی حصہ ہے اور اسے تمام قوانین اور رسم و رواج کے مطابق قبضے کے خلاف مزاحمت کا حق حاصل ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زردراری نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کو کبھی لیول پلئینگ فیلڈ نہیں ملی، 2008 میں کارکنوں کی شہادتوں اور لیول پلئینگ فیلڈ نہ ہونے کے باوجود عوام کی طاقت سے الیکشن جیتا، لیول پلئینگ فیلڈ ہو یا نہ ہو، الیکشن میں جیت پیپلزپارٹی کی ہوگی، اس اتحاد کا نقصان ایم کیو ایم اور ن لیگ کو ہوگا۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر بلاول بھٹو نے کہا کہ 8 فروری کوعوام تیر پر مہر لگا کر پیپلزپارٹی کو کامیاب بنائے گی، عوام کی حمایت سے وفاق اور سندھ میں حکومت بنائیں گے، پہلی بار وزیراعظم، وزیراعلیٰ سندھ اور میئر کراچی جیالا ہوگا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے کراچی کے عوام کے لیے کھیلوں کے میدان بنائے، کراچی کے ہرضلع میں کھیلوں کے میدان بنائیں گے، ملک میں غربت اور بے روزگاری تاریخی سطح پر ہے، کراچی سمیت پورے پاکستان کی تقدیر بدل دیں گے، پیپلزپارٹی نوجوانوں کو روزگار فراہم کرے گی، نوجوان ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کو کسی الیکشن میں لیول پلئینگ فیلڈ نہیں ملی، 2008 میں بھی پیپلزپارٹی کے لیے لیول پلئینگ فیلڈ نہیں تھی، 18 اکتوبر کو پیپلزپارٹی کے کارکنوں کو شہید کیا گیا، کارکنوں کی شہادتوں اور لیول پلئینگ فیلڈ نہ ہونے کے باوجود الیکشن جیتا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا مزید کہنا تھا کہ لیول پلئینگ فیلڈ نہیں ملی پھر بھی عوام کی طاقت سے حکومت بنائی، لیول پلئینگ فیلڈ ہو یا نہ ہو، الیکشن میں جیت پیپلزپارٹی کی ہوگی، لیول پلئینگ فیلڈ کی بات کرنا ہی بند کردیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمارا رابطہ عوام سے ہے اور ان کا کسی اور سے، اس اتحاد کا نقصان ایم کیو ایم اور ن لیگ کو ہوگا، ن لیگ اور ایم کیوایم کے اتحاد پر ہمیں کوئی شکایت نہیں، امید ہے اب کوئی الیکشن سے نہیں بھاگ سکے گا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب تک ن لیگ کا بیانیہ ووٹ کو عزت دو تھا، ساتھ چل رہے تھے، جب سے ن لیگ کا بیانیہ تبدیل ہوا ہے ، ساتھ چلنا مشکل ہورہا ہے، ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ہمیں سلیکٹ کریں، ہمیں صرف فری فیئر الیکشن دے دیں، الیکشن لڑنے کا شوق صرف پیپلزپارٹی کو تھا، تحریک عدم اعتماد کو رجیم چینج نہ کہیں۔
گورنر ہاؤس پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنماؤں کا اجلاس ہوا، جس میں جنوبی پنجاب میں انتخابی حکمت عملی اور پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم سمیت اہم امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی زیر صدارت گورنر ہاؤس میں سوا 4 گھنٹے طویل اجلاس ہوا، جس میں گورنر پنجاب بلیغ الرحمان، سابق وزیراعظم شہباز شریف، پارٹی کی چیف آرگنائزر مریم نواز اور دیگر رہنماء شریک ہوئے۔
ملکی سیاسی صورتحال اور جنوبی پنجاب میں ٹکٹوں کی تقسیم سمیت پارٹی کی انتخابی حکمت عملی پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
نواز شریف نے پارٹی کو جنوبی پنجاب میں مزید منظم کرنے اور ووٹ بینک میں اضافے کے لیے اہم سیاسی شخصیات سے رابطے تیز کرنے کی ہدایت کی۔
مسلم لیگ ن کے قائد اور دیگر رہنماؤں نے گورنر پنجاب بلیغ الرحمان سے ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت اور فاتحہ بھی خوانی کی۔
نواز شریف کا 13 نومبر کو بلوچستان کے دورے کا امکان بھی ہے جہاں وہ اہم سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔
اہم سیاسی کھلاڑیوں کی پارٹی میں شمولیت اور ن لیگ کی بلوچستان عوامی پارٹی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے معاہدے کا اعلان بھی متوقع ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے صارفین کیلئے بجلی مزید مہنگی کر دی جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق صارفین کیلئے بجلی 40 پیسے فی یونٹ مزید مہنگی کی گئی ہے۔
نیپرا کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ بجلی ستمبر کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مہنگی کی گئی ، بجلی صارفین سے اضافی وصولیاں نومبر کے بلوں میں کی جائیں گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق فیصلے کا اطلاق لائف لائن اور کے الیکٹرک صارفین پر نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل آئل اینڈ گیس ریگو لیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔
اوگرا کے مطابق ماہانہ 25 سے 90 مکعب میٹر تک گیس کے پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے قیمت نہیں بڑھائی گئی البتہ پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے فکس چارجز 10 سے بڑھا کر 400 روپے کر دیے گئے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ نان پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین کے لیے گیس کی قیمت میں 172 فیصد سے زائد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ ماہانہ 25 مکعب میٹر گیس کی قیمت 200 سے بڑھا کر 300 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔
ترجمان دفترخارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا ہے کہ پاکستان جنگ زدہ خطوں میں ہتھیارفراہم نہیں کرتا اور نہ ہی یوکرین کو ہتھیار بیچنے کا ارادہ ہے۔
ترجمان دفترخارجہ ممتاز زہرا بلوچ گزشتہ روز پاکستان اور یوکرین کے وزرائے دفاع کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک بات میں ہتھیاروں کی فراہمی سے متعلق بات چیت کی تردید کردی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے یوکرین کو اسلحہ فراہم نہیں کیا، اور نہ ہی یوکرین کو ہتھیار بیچنے کا ارادہ ہے۔
ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ پاکستان جنگ زدہ خطوں میں ہتھیارفراہم نہیں کرتا، پاکستان نے یوکرین کے تنازع کے مذاکراتی حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں ضمانت اور فرد جرم عائد کرنے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا جبکہ اسپیشل پراسیکیوٹر نے شاہ محمود کی درخواست ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا سائفر کیس کا ٹرائل زیادہ سے زیادہ ایک ماہ میں مکمل کرلیا جائے گا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سائفر کیس میں سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی ضمانت اور فرد جرم عائد کرنے کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔
دوران سماعت شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری نے مقدمے کی ایف آئی آر پڑھی اور دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آفیشل سیکریٹ انفارمیشن یا سائفر کو غیر قانونی رکھنا اور اس کا استعمال کرنا جرم ہے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں، یہ سب میں نہیں بلکہ ایف آئی آر کہہ رہی ہے، میرا تو نام بس آخر میں لکھا گیا ہے، پہلے سابق وزیراعظم کی درخواست ضمانت خارج ہوئی اور پھر میرے موکل کی۔ اعظم خان اور اسد عمر کا نام چالان میں نہیں ہے جبکہ ایف آئی آرمیں سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اوراسد عمرکا ذکرہے۔
ٹرائل کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت خارج جبکہ اسد عمر کی ضمانت کنفرم کی۔
عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کہنا چاہ رہے ہیں کہ آپ سائفر کا ٹرانسکرپٹ ڈسکلوز نہیں کیا؟ سائفر آنے کے بعد وزیر خارجہ اور سیکرٹری خارجہ نے مشاورت کی کہ سائفر نے کہاں کہاں جانا ہے؟۔
علی بخاری نے جواب دیا 7 مارچ 2022 کو سائفر آیا اور 8 مارچ 2022 کو ہی کابینہ میٹنگ لایا گیا، کابینہ اجلاس کے ایجنڈے میں جو بھی شامل کیا جاتا ہے وہ پرنسپل سیکرٹری کرتے ہیں جومقدمے میں ہی نہیں ہیں، وزارت خارجہ کا کام ہرمعاملے کووزیراعظم کو بزریعہ پرنسپل سیکرٹری آگاہ کرنا ہے۔
شاہ محمود قریشی کے وکیل نے رولزآف بزنس کیبنٹ سیکرٹریٹ عدالت کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا کہ سائفر رکھنے، سنبھالنے کی ذمہ داری وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری کی تھی، وزیراعظم نے وزیرخارجہ کی فراہم کردہ معلومات کو کابینہ کے سامنے رکھنا ہوتا ہے، شاہ محمود قریشی کے خلاف کیس سزائے موت کا تو نہیں ہے، پراسیکیوشن کا پورا کیس درست مان لیا جائے تو بھی 2 سال کی سزا بنتی ہے۔
ایف آئی اے کے پراسیکیوٹرراجہ رضوان عباسی نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ 9 اکتوبر کو کاپیز کی نقول شاہ محمود قریشی کو دی گئیں تھیں، 17 اکتوبرکو شاہ محمود قریشی نے 9 اکتوبرکے آرڈرپر دستخط کیے تھے۔ 23 اکتوبر کو قانونی تقاضے پورے کرکے فرد جرم عائد ہوئی تھی، قانون میں صرف کاپیز فراہم کرنے کا ذکر ہے، ملزم کے وصول کرنے کا نہیں۔
اسپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے مزید کہا کہ مقدمہ اس عدالت کے دائرہ اختیار میں تھا مگرلاہورہائی کورٹ کا ایک سال تک حکم امتناع رہا، ایف آئی اے نے حکم امتناع خارج ہونے پرانکوائری مکمل ہونے پر کمپلینٹ پرمقدمہ درج کیا۔
اسپیشل پراسیکیوٹر نے شاہ محمود قریشی کی تقریرکا متن پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ غیرت مند قوموں اورملکی غیرت جیسے الفاظ کا استعمال کرکےاشتعال دلانے کی کوشش کی گئی۔
راجہ رضوان عباسی نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس میں معاونت کے ثبوت موجود ہیں، مزید انکوائری کی ضرورت نہیں ہے۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا شاہ محمود قریشی کے خلاف چارج معاونت کا ہی ہے؟ سائفر اپنے پاس رکھنے اور مس یوز کرنےکا تو نہیں؟
اسپیشل پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ جی بالکل شاہ محمود قریشی پر چارج معاونت کا ہی ہے۔ اگرعدالت ہمیں 15 سے 20 روز یا زیادہ سے زیادہ ایک ماہ دے تو ٹرائل مکمل کر دیں گے، یہ تو یہ ٹرائل کو آگے نہیں بڑھنے دیتے، یہ کہتے ہیں ہر سماعت پر 3،3 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کریں، سائفر کیس کا ٹرائل زیادہ سے زیادہ ایک ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ یہ جیل ٹرائل ہے، ان کیمرا ٹرائل نہیں، جیل ٹرائل کس انداز میں چل رہا ہے؟ جیل ٹرائل کا مطلب ہے کہ اوپن پبلک کورٹ پروسیڈنگ نہیں۔
اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا جیل ٹرائل میں پبلک کی رسائی منع نہیں مگر محدود ہے جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ جیل ٹرائل کے دوران تو صرف لوگ ٹرائل پروسیڈنگ دیکھ سکیں گے جنہیں جیل حکام اجازت دیں۔
وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی کی ضمانت اور فرد جرم عائد کرنے کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم پاکستان نے گزشتہ روز مل کر انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد اب پیپلزپارٹی نے بھی پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت سے ہاتھ ملانے کا فیصلہ کیا ہے۔
مسلم لیگ ن اور ایم کیوایم کے ہاتھ ملانے کے بعد اب پیپلزپارٹی کی قیادت بھی متحرک ہوگئی ہے، اور ماضی کے حلیف آئندہ عام انتخابات میں حریف بننے کو تیار ہے۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی نے آئندہ عام انتخابات میں اترنے کی حکمت عملی تیار کرلی ہے، اور قیادت نے نواز شریف مخالف سیاسی قوتوں کو اکٹھا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف مخالف سیاسی جماعتوں پر مشتمل نیا اتحاد بنانے پرغور کیا جارہا ہے، اور انتخابی مہم کے دوران پی ٹی آئی کی بجائے ن لیگ کو ہدف تنقید بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، اور انتخابی مہم کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی پر تنقید بھی نہیں کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت نے کہا ہے کہ ہمارے خلاف کھلم کھل اتحاد بنائیں گے تو ہم خاموش نہیں رہیں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ آصف زرداری کا رواں ہفتے ہی دورہ لاہور کا امکان ہے، جس میں جنوبی پنجاب میں استحکام پارٹی سے اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے بات کی جاسکتی ہے، جب کہ نواز شریف کا راستہ روکنے کیلئے آصف علی پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت سے بھی ہاتھ ملانے کو تیار ہیں۔
بنیادی حقوق اور ہموار سیاسی میدان کے حوالے سے تحریک انصاف کے خدشات پر غور کرنے کے لیے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کے نام خط ارسال کردیا۔
ذرائع کے مطابق صدر مملکت نے پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب خان کی جانب سے صدر کو خط بھی نگراں وزیر اعظم کو ارسال کیا ہے، جس میں سیاسی میدان کے حوالے سے پی ٹی آئی کے خدشات پر غور کرنے کا کہا گیا ہے۔
اپنے خط میں صدر مملکت نے لکھا کہ نگراں حکومت کا غیر جانبدار اکائی کے طور پر تمام سیاسی جماعتوں کو ہموار میدان فراہم کرنا بے حد اہم ہے، آئندہ انتخابات میں تمام رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کو مساوی حقوق اور مواقع فراہم کرنے کی نگراں حکومت کی پالیسی پر آپ کے حالیہ بیانات باعثِ اطمینان ہیں اور پختہ یقین ہے کہ جمہوریت ہی پاکستان کے عوام اور ریاست کے لیے آگے بڑھنے کا مناسب راستہ ہے۔
صدر مملکت نے خط میں لکھا کہ عوام کا سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا اور آزاد میڈیا کے ذریعے رائے کا اظہار کرنا ہی جمہوریت کی روح ہے جبکہ آزادانہ، منصفانہ اور مستند الیکشن پر پورے پاکستان میں اتفاق ہے، تمام سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو الیکشن میں حصہ لینے اور عوام کو انہیں منتخب کرنے کا حق ہے۔
ڈاکٹر عارف علوی نے لکھا کہ صدر مملکت ریاست کے سربراہ کے طور پر جمہوریہ کے اتحاد کی علامت ہیں، آئین کے آرٹیکل 41 کے تحت صدر مملکت، وزیر اعظم اور تمام اداروں سمیت شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے پابند ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستان تحریکِ انصاف کے الزامات پر مشتمل خط آپ کو ارسال کر رہا ہوں۔
انہوں نے مزید لکھا کہ سیاسی وابستگیاں رکھنے والے افراد کی جبریوں گمشدگیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر میڈیا میں بھی بحث ہوئی، لوگوں کی سیاسی وابستگیاں اور وفاداریاں بدل جانے پر ایسے واقعات تشویش کا باعث بنتے ہیں۔ خواتین سیاسی ورکرز کی طویل نظر بندی یا عدالت کی جانب سے ریلیف کے بعد بار بار دوبارہ گرفتاریاں معاملے کو مزید حساس بنا دیتی ہیں۔
خط میں صدر مملکت کی جانب سے لکھا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 4 کے تحت قانون کے مطابق سلوک کیا جانا ہر شہری کا ناقابل تنسیخ حق ہے، آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت سیاسی جماعت کی رکنیت یا تنظیم سازی کرنا ہر شہری کا حق ہے، آئین کا آرٹیکل 19 ہر شہری کو آزادی اظہارِ رائے کے ساتھ آزاد پریس کا حق دیتا ہے لہٰذا نگراں وزیر اعظم، حکومت کے سربراہ ہونے کے ناطے ان معاملات پر غور کریں۔
اسلام آباد: سابق وزیراعظم عمران خان نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے وکیل حامد خان کے ذریعے درخواست دائر کی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا 26 اکتوبر کا حکم نامہ کالعدم قرار دیا جائے، عدالت اسپیشل کورٹ کا فرد جرم عائد کرنے کا 23 اکتوبر کا حکم نامہ آئین و قانون کے خلاف قرار دے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان چند دیانت دار اور معزز سیاست دانوں میں سے ایک ہیں جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اچھی ساکھ رکھتے ہیں، درخواست گزار کو مخالفین کی جانب سے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، سیاسی انتقام کا دائرہ درخواست گزار کی سیاسی جماعت اور اتحادیوں تک پھیلا دیا گیا ہے، اسلام آباد میں مجرمانہ مشینری کے ذریعے درخواست گزار کو نشانہ بنانے سے متعلق عدالت کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ ہونے کے باوجود درخواست گزار کے خلاف لگ بھگ 200 مقدمات بنائے گئے ہیں، درخواست گزار کے خلاف دہشت گردی، بغاوت اور غداری، توشہ خانہ سمیت سنگین مقدمات قائم کیے گئے ہیں، ان مقدمات کا مقصد درخواست گزار کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا اور سیاسی طور پر تنہا کرنا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایک تکلیف دہ رجحان دیکھنے میں آیا ہے کہ ریاستی مشینری جعلی مقدمات بنانے کے لیے قابلِ اعتراض مقصد کے تحت استعمال کی جا رہی ہے، درخواست گزار کے معاملے میں ایف آئی اے میں آزادی اور انصاف پسندی کے عنصر کی نمایاں کمی نظر آتی ہے، فارن فنڈنگ کیس میں ضمانت حاصل کرنے کے بعد ایف آئی اے کا سارا فوکس سائفر کیس پر مرکوز ہو چکا ہے، درخواست گزار کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ایف آئی اے کی کوششوں سے ادارے کی ساکھ اور غیر جانب داری سے متعلق شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے میں اسپیشل کورٹ کے عبوری حکم کو چیلنج کرنے میں ناکامی پر زور دیا گیا ہے، ہائی کورٹ نے کیس نمٹا کر درخواست گزار کے ساتھ تعصب کا مظاہرہ کیا، اسپیشل کورٹ نے قانون کے مطابق دستاویزات کی فراہمی اور چارج فریم کرنے کے درمیان 7 روز کی مہلت دی۔
درخواست میں کہا گیا کہ ایک سابق وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے خلاف سائفر کا پیچیدہ کیس بنایا گیا، ایک صدی پرانے قانون کے اطلاق کے معاملے میں تمام فریقین بشمول درخواست گزار، جج اور وکلا کو انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے، ٹرائل کورٹ نے عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرد جرم عائد کرنے اور ٹرائل مکمل کرنے کی کوشش کی، کیس میں عجلت سے درخواست گزار کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا، کیس میں عجلت کی وجہ سے شفاف ٹرائل کے آئینی حق کی خلاف ورزی ہوئی، عقلمندی کا تقاضا ہے کہ الزامات کو سمجھ کر جواب جمع کرانے کا مناسب موقع ملنا چاہیے۔
وکیل نے مزید کہا ہے کہ چارج فریم کرنے کی کارروائی نے سنگین سوالات کو جنم دیا جائے، سپیشل کورٹ نے درخواست گزار اور اس کے وکلاء کی عدم موجودگی میں نامعلوم وقت پر نوٹ لکھا، درخواست گزار کے خلاف پورا ٹرائل غیر قانونی اور دائرہ اختیار سے تجاوز ہے۔