زمین مالک کو بغیر ادائیگی روڈ بنانے پر پنجاب حکومت پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے 9 مرلہ زمین پر مالک کو بغیر معاوضہ ادائیگی روڈ بنانے پر حکومت پنجاب پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں عدالت نے جرمانے کی رقم بھی زمین مالک کو ادا کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے حکومت پنجاب کو 30 دن کے اندر زمین کی موجودہ قیمت کے مطابق رقم ادائیگی کا حکم  جاری کیا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بلیغ الزماں پر فضول مقدمہ بازی کرنے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ سرکار نے کسی کی زمین پر بغیر اجازت اور معاوضہ سڑک کیسے بنائی؟۔ درخواست گزار نے سرکارکو زمین گفٹ نہیں کی اور نہ ہی سرکار نے قانون کے مطابق زمین حاصل کی۔ ایسے فضول مقدمے کی درخواست آپ نے سپریم کورٹ میں کیوں دائر کی؟۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارا کام یہ رہ گیا ہے کہ ہم ایڈوکیٹ جنرلز کو آئین پڑھاتے رہیں۔ کیوں نہ ایسی فضول مقدمہ بازی کے لیے آپ پر جرمانہ لگائیں۔  ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کی ڈیوٹی کیا ہے؟ کیسے اس طرح فضول درخواست دائرکی۔ حقیقی مقدمات سائیڈ لائین کرکے فضول اور غلط مقدمات فائل کیے جاتے ہیں، جس سے عوامی وسائل کے ساتھ عدالتی وقت کا ضیاع کیا جارہا ہے ۔

عدالت نے پنجاب حکومت کی اپیل مسترد کرتے ہوئے زمین مالک کو معاوضے کی رقم ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ واضح رہے کہ اپیلیٹ کورٹ اور ہائی کورٹ نے زمین مالک کے حق میں فیصلہ دیا تھا، جسے سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔ پنجاب حکومت نے گوجرانوالہ میں لیاقت علی نامی شہری کی زمین پر 2007 میں روڈ بنایا تھا ۔

سری لنکن کرکٹ بورڈ کو جے شاہ چلا رہے ہیں، سربراہ عبوری کمیٹی

سری لنکا کی کرکٹ جے شاہ کی وجہ سے تباہ ہوئی، سابق سری لنکن کرکٹر:فوٹو:ویب ڈیسک

کولمبو: سری لنکن کرکٹ کیمٹی کے سربراہ اور سابق کرکٹر ارجنا رانا ٹنگا بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکریٹری جے شاہ پر برس پڑے۔

سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور عبوری کرکٹ کمیٹی کے سربراہ ارجنا  راٹننگا  نے ورلڈ کپ میں سری لنکن کرکٹ ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کا ذمہ دار بی سی سی آئی کے سیکریٹری جے شاہ کو قرار دیا۔

ارجنا رانا ٹنگا نے بیان میں کہا کہ سری لنکن کرکٹ بورڈ کو جے شاہ چلا رہے ہیں۔ جے شاہ صرف اس لیے عہدے پر ہیں کیونکہ ان کے والد  امیت شاہ بھارت کے وزیر داخلہ ہیں۔ سری لنکا کی کرکٹ جے شاہ کے دباؤ کی وجہ سے تباہ ہوئی۔ بھارت کا ایک شخص سری لنکا کی کرکٹ کو چلا رہا ہے۔

رانا ٹنگا کا مزید کہنا تھا کہ جے شاہ کے سری لنکن کرکٹ کے چند حکام کے ساتھ رابطے ہیں جس کی وجہ سے وہ سری لنکا کی کرکٹ کو بھی اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتے ہیں۔

امریکی جنگی طیارہ بحیرہ روم میں گر کرتباہ، 5 فوجی ہلاک

امریکی فورسز نے تباہ ہونے والے طیارے سے متعلق تفصیلات نہیں بتائیں:فوٹو:فائل

 واشنگٹن: امریکا کا جنگی طیارہ بحیرہ روم میں گرکر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں 5 فوجی ہلاک ہوگئے۔

امریکی یورپی کمانڈ کی جانب سے جاری اعلان کے مطابق امریکی جنگی طیارہ فوجی تربیتی مشقوں میں ایندھن بھرنے کے دوران گر کر تباہ ہوا۔ طیارے میں سوار پانچوں امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔

امریکی فوج نے طیارے کی قسم یا اس مقام کی تفصیلات جاری نہیں کیں جہاں طیارہ  پرواز کر رہا تھا۔ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے امریکا نے مشرق وسطیٰ میں طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کر رکھا ہے۔

حماس کے اسرائیل پر7 اکتوبرکو حملے کے بعد واشنگٹن نے اسرائیل کوتیزی سے فوجی مدد فراہم کی ہے اور خطے میں اپنی افواج کو مضبوط کیا ہے۔ امریکا نے طیارہ بردار بحری جہاز اور دیگر جنگی جہاز خطے میں بھیجے ہیں۔

پی ایس ایل 9؛ سیروگیٹ ایڈورٹائزنگ پر دروازے مکمل بند

آئندہ برس ایونٹ کی یو اے ای منتقلی سمیت دیگر امور پر کل بات چیت ہو گی (فوٹو: ایکسپریس ویب)

برس کسی فرنچائز کو اجازت نہ ہو گی۔

پاکستان  کرکٹ میں چند برس قبل سیروگیٹ ایڈورٹائزنگ شروع ہوئی،بیرون ملک قائم جوئے کی کمپنیز نے اپنے نام میں معمولی تبدیلی کر کے انٹری کی، زیادہ تر نے نیوز کا کوور استعمال کیا، میڈیا پر نشاندہی کے باوجود حکام نے کوئی نوٹس نہ لیا۔

پی ایس ایل 8 میں سوائے پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائٹیڈ کے تمام ہی فرنچائزز کے اسپانسرز میں سروگیٹ کمپنیز شامل تھیں، جب ملتان سلطانز کے کپتان محمد رضوان نے اختتامی مراحل کے ایک میچ میں اپنی شرٹ پر اسپانسر لوگو کو چھپا دیا تو معاملہ بڑھ گیا، حال ہی میں حکومت کی جانب سے سروگیٹ ایڈورٹائزنگ پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کی پی ایس ایل کی اسپانسرڈ جوا کھیلنے والی کمپنیوں پر پابندی

اس کا نوٹیفکیشن جاری ہوا تو پی سی بی کے ترجمان نے میڈیا کے استفسار پر کہا کہ ہمیں ہدایت نہیں ملی صرف مشورہ دیا گیا ہے، معاملے پر مزید غور کریں گے، اس کے بعد زیرو ٹالیرنس کا نیا حکومتی ٹوٹیفکیشن آنے سے ابہام ختم ہو گیا۔

پی ایس ایل گورننگ کونسل کا اجلاس منگل کو لاہور میں ہو رہا ہے، اس کے ایجنڈے میں سروگیٹ ایڈورٹائزنگ بھی شامل ہے، فرنچائزز کو حکومتی ہدایات کی روشنی میں اس سے باز رہنے کی ہدایت دی جائے گی، انھیں حکومتی نوٹیفکیشن کی کاپی بھی بھیجی گئی ہے، بعض فرنچائزز نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹس پر سروگیٹ کمپنیز کے لوگو ہٹا بھی دیے ہیں۔

میٹنگ میں نویں ایڈیشن کے وینیو اور تاریخوں کو بھی حتمی شکل دی جائے گی،مجوزہ تاریخیں 8 فروری سے 24  مارچ ہیں، ملک میں 8 فروری کو ہی عام انتخابات کی وجہ سے بعض فرنچائزز اور بورڈ آفیشلز لیگ کا یو اے ای میں انعقاد چاہتے ہیں، منگل کی میٹنگ میں پلیئرز ڈرافٹ کی تاریخ اور میڈیا رائٹس کے حوالے سے بھی بات ہوگی۔

شیخ رشید نے لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں رٹ پٹیشن دائر کردی

فوٹو : اسکرین گریب

راولپنڈی: سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں رٹ پٹیشن دائر کر دی گئی۔

رٹ پٹیشن شیخ رشید کے وکیل سردار عبدالرازق ایڈوکیٹ نے دائر کی جس میں آئی جی پنجاب، راولپنڈی پولیس حکام سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ 9 مئی کے واقعات کی درج ایف آئی آرز میں کسی جگہ پر نامزد ملزمان میں میرا نام شامل نہیں ہے اور اب 7 ماہ کی تاخیر سے مجھے بے گناہ بچے کچھے بیانات کی بنیاد پر ملوث کر دیا گیا ہے۔

پٹیشن میں موقف دیا گیا کہ بتایا جائے کہ میرے خلاف کتنے مقدمات درج ہیں، کتنے مقدمات یا ضمنیوں میں پٹیشنر کو ملزم نامزد کیا گیا اسکی فہرست فراہم کی جائے۔

پٹیشن پر سماعت کچھ دیر بعد جسٹس چوہدری عبد العزیز کریں گے۔

عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں شیخ رشید احمد نے کہا کہ ایسے ایسے شہروں میں میرے خلاف کیس بنے جو دیکھے ہی نہیں، میرے خلاف جو بھی کیس ہیں وہ مجھے بتائے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ میں اور نواز شریف ایک ہی دن پاکستان آئے، مجھے نظر لگ چکی اور اب انتظار میں ہوں نواز شریف کو کب نظر لگے گی۔ گیٹ نمبر 4 میں نواز شریف کے ساتھ تھا اور ہمیشہ گیٹ نمبر چار کا ساتھ دیا۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ الیکشن سیاسی جماعتوں میں ہونا چاہیے، اداروں اور سیاسی جماعتوں میں نہیں۔ سپریم کورٹ کا الیکشن بابت نوٹس نہیں ملا مگر میں سپریم کورٹ جاؤں گا، الیکشن تو ایک دن اس ملک میں ہونے ہی ہیں۔

اسرائیل میں ہزاروں افراد کا احتجاج؛ نیتن یاہو سے استعفے کا مطالبہ

تل ابیب: اسرائیل کے دارالحکومت میں ہزاروں شہری سڑکوں پر نکل آئے اور وزیراعظم نیتن یاہو کی خلاف احتجاج کرتے ہوئے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ پر مسلسل بمباری اور اپنے یرغمالیوں کو ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود تاحال رہا نہ کروا پانے پر اسرائیلی وزیراعظم کو اپنے ہی ملک میں شدید مخالفت اور کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب کی سڑکیں اور گلیاں آج مظاہرین سے بھر گئیں۔ جنھوں نے وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرے میں مخالف جماعتوں پر کریک ڈاؤن اور غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

مظاہرے سے خطاب کرنے والے مقررین نے غزہ میں حماس کے ہاتھوں یرغمال 200 سے زائد اسرائیلی اور غیر ملکیوں کو بازیاب نہ کروا پانے پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر سخت تنقید کی اور اس ناکامی پر فوری استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین میں حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کے اہل خانہ اور ان کے دوست بھی شامل تھے جنھوں نے حکومت سے کسی بھی قیمت پر اپنے پیاروں کی محفوظ واپسی کا مطالبہ کیا۔

جسٹس (ر) ارشد حسین نے نگراں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے عہدے کا حلف اٹھا لیا

 پشاور: جسٹس (ر) ارشد حسین نے نگراں خیبر پختونخوا کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ 

گورنر خیبرپختونخواحاجی غلام علی نے صوبائی نگراں وزیراعلیٰ سے عہدے کا حلف لیا۔ تقریب حلف برداری میں میئر پشاور حاجی زبیرعلی، سابق نگران صوبائی کابینہ کے اراکین،چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری،آئی جی پولیس اخترحیات گنڈاپور، کمشنرپشاورسمیت صوبائی محکموں کے انتظامی سربراہان نے شرکت کی۔

گورنرحاجی غلام علی نے نگران وزیراعلیٰ جسٹس(ر)سید ارشد حسین شاہ کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

نگراں وزیراعلی کی تقرری سے انتہائی اہم آئینی ضرورت پوری ہوئی ہے، وزیراعظم 

اس موقع پر نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ جسٹس (ر) ارشد حسین کی بطور نگراں وزیراعلی تقرری سے انتہائی اہم آئینی ضرورت پوری ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امید ہے نئے نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا صوبے کے انتظامی امور کی بہتری اور شفاف انتخابات کے انعقاد میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی معاونت میں اپنا آئینی کردار بھرپور طریقے سے ادا کریں گے۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعلیٰ محمودخان اور اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی کے درمیان صوبے کے نئے نگران وزیراعلیٰ کے تقرر کے لیے وزیراعلی آفس میں مشاورت ہوئی تھی جس میں مختلف ناموں پر غور کیا گیا۔

محمودخان اوراکرم درانی کی ملاقات میں جسٹس(ر) ارشد حسین کے نام پر بطورنگران وزیراعلی اتفاق کیا گیا۔ اتفاق رائے کے نتیجے میں نگران وزیر اعلی کی سمری گورنر کو بھیجی گئی۔ گورنر خیبرپختونخواحاجی غلام علی نے سمری پردستخط کیے تھے۔

جسٹس(ر) ارشد حسین تحلیل شدہ کابینہ میں وزیرقانون تھے۔ نئی نگران کابینہ اعظم خان دورکے ارکان پرہی مشتمل ہوگی۔ سید ارشدحسین شاہ کی کابینہ میں پرانے وزرا کے علاوہ مشیراورمعاون خصوصی بھی وہی ہونگے۔

واضح رہے کہ ریٹائرڈ جسٹس ارشد حسین گلگت بلتستان کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔

نگراں صوبائی وزیر کا نوجوان بھائی ٹرین کی ٹکر سے جاں بحق

کراچی کے علاقے اسٹیل ٹاؤن میں ٹرین کی ٹکر سے نگراں صوبائی وزیر خدا بخش کا نوجوان بھائی جاں بحق ہوگیا، نوجوان کی شناخت محمد حسن کے نام سے ہوئی ہے۔

پولیس کے مطابق لاش کو ضابطے کی کارروائی کے لئے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ محمد حسن مری ہینڈز فری لگا کر گھوم رہا تھا، اس دوران حادثہ پیش آیا۔

عینی شاہدین کے مطابق محمد حسن مری بکریاں چرا رہا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ کے حوالے سے دیگر پہلوؤں سے بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔

نگراں وزیر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ نمازجنازہ کل صبح 10 بجےملیر میں ادا کی جائے گی۔

دوسری جانب دنیاپور کے نواحی علاقہ قطب پور کے قریب ریلوے پھاٹک بند ہونے کے باعث ریلوے پھاٹک سے تقریباً ایک کلومیٹر دور ڈراٸیور نے ٹریکٹر کو ریلوے ٹریک سے گزارنے کی کوشش کی تو ٹریکٹر ریلوے ٹریک میں پھنس گیا۔

اسی دوران سامنے سے ملت ایکسپریس آ گٸی، ڈراٸیور ٹرین کو آتا دیکھ کر چھلانگ لگا کر بھاگ گیا اور ٹرین ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرا کر گزر گٸی۔

حادثے میں کوٸی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ملت ایکسپریس دنیاپور سے خانیوال جا رپی تھی۔

عام انتخابات تک کسی بھی ادارے کی نجکاری کے امکانات معدوم، آئی ایم ایف کو آگاہ کردیا گیا

نجکاری پروگرام کی پیش رفت سے آئی ایم ایف کو آگاہ کردیا گیا ہے، ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ عام انتخابات تک کسی بھی ادارے کی نجکاری کے امکانات معدوم ہیں۔

ذرائع وزارت خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف کو نجکاری پروگرام پر تیزی سے کام جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، پی آئی اے کی نجکاری پر مثبت انداز سے کام آگے بڑھ رہا ہے، اور فروری 2024 کے آخر تک پی آئی اے کی نجکاری متوقع ہے۔

ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ اس وقت 27 ادارے نجکاری کی فعال فہرست میں شامل ہیں، فناننشل اور ریئل اسٹیٹ سے متعلق 4,4 ادارے نجکاری کے جاری پروگرام میں شامل ہیں۔ انڈسٹریل سیکٹر کے 4 ادارے بھی جاری نجکاری پروگرام کا حصہ ہیں، جب کہ توانائی شعبے کے 14 ادارے نجکاری کی فعال فہرست میں شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق نجکاری کے جاری پروگرام میں پاکستان اسٹیل ملز,اسٹیٹ لائف انشورنس، بلوکی، حویلی بہادر، گدو اور نندی پور پاور پلانٹس بھی حصہ ہیں، جب کہ تمام 10سرکاری بجلی تقسیم کار کمپنیاں فعال نجکاری فہرست میں شامل ہیں، ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن، فرسٹ ویمن بینک، پاکستان انجینئرنگ کمپنی اور سندھ انجنئیرنگ لمیٹڈ بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

کولمبیا شہریوں کی صحت کیلیے ’جنک فوڈ قانون‘ لانے والا پہلا ملک بن گیا

بگوٹا: کولمبیا نے شہریوں کے طرز زندگی اور کھانے پینے کی عادات کو درست کرنے کے لیے دنیا کا پہلا ‘جنک فوڈ قانون’ متعارف کرادیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کولمبیا میں کھانے پینے کی عادات اور جنگ فوڈ کے زیادہ استعمال کے باعث شہریوں میں خطرناک بیماریوں کا تناسب بڑھ گیا ہے جس پر حکومت نے جنک فوڈ قانون متعارف کرادیا۔

کولمبیا میں ایک شخص ایک دن میں 12 گرام نمک استعمال کرتا ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ شرح ہے۔ اسی وجہ سے دل کے دورے، فشار خون اور گردے کے امراض عام ہیں۔

ان بیماریوں کی ہولناکیوں اور شرح اموات کو دیکھتے ہوئے حکومت نے جنگ فوڈ قانون لاگو کردیا جس میں الٹرا پروسیسڈ فوڈز پر 10 فیصد اضافی ٹیکس لگایا گیا ہے جو آئندہ برس 15 اور 2025 میں مزید بڑھ کر 20 فیصد ہوجائے گا۔

جنک فوڈ میں زیادہ شکر اور نمک والے کھانے، سیر شدہ چکنائی کے ساتھ ساتھ ضرورت سے زایدہ ساسیز، سیریلز، جیلی۔ جیمز، پیوری، چٹنی، مصالحہ جات اور سیزننگ شامل ہیں۔

کولمبیا غیر صحت بخش اجزاء جیسے چینی یا سیچوریٹڈ چکنائی کے زیادہ مواد والے کھانے پر صحت کے لیے لازمی وارننگ بھی متعارف کروا رہا ہے تاکہ شہری خبردار ہوسکیں اور ان وارننگ والی پروڈکٹس پر ٹیکس بھی لاگو کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ جنک فوڈز کے استعمال سے صحت پر پڑنے والے مضر اثرات سے حکومتیں اپنے شہریوں کو آگاہی فراہم کرتی رہتی ہیں لیکن پہلی بار کسی ملک نے اپنے شہریوں کو جنک فوڈز سے باز رکھنے کے لیے قانون متعارف کرایا ہے۔

واٹس ایپ صارفین کی پرائیویسی میں اضافے کے لیے نیا فیچر

کیلیفورنیا: انسٹنٹ میسجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ صارفین کی پرائیویسی پر ایک اور جہت کا اضافہ کرنے کے لیے نیا فیچر متعارف کرانے جا رہی ہے۔ یہ فیچر دوران واٹس ایپ کال صارفین کے آئی پی ایڈریس کی حفاظت کرتے ہوئے ان کی لوکیشن کو افشا ہونے سے روکے گا۔

اس فیچر کے تحت صارفین کی تمام کالز کا براہ راست رابطہ قائم ہونے کے بجائے واٹس ایپ کے سرور سے گزر کر رابطہ قائم ہوا کرے گا۔ جس کا مطلب ہے کہ صارف کی آئی پی اس شخص پر ظاہر نہیں ہوگی جس کو کال ملائی جارہی ہوگی۔

گروپ کالز واٹس ایپ کی طے شدہ سیٹنگز کے تحت پہلے ہی  سرور سے ہو کر گزرتی ہیں اس لیے صارفین کو انفرادی کال کے دوران آئی پی چھپانے کے لیے سیٹنگ میں جاکر یہ آپشن آن کرنا پڑے گا۔

صارفین سیٹنگز میں پرائیویسی میں جا کر ایڈوانسڈ آپشن میں جاکر پروٹیکٹ آئی پی ایڈریس اِن کالز کے آپشن کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ آپشن کو آف کرنے کے لیے بھی یہی طریقہ کار استعمال کرنا ہوگا۔

دوسری جانب واٹس ایپ کی جانب سے مزید یہ بتایا گیا کہ نئے فیچر کو آن کرنے کے بعد کال کا معیار متاثر ہوگا۔ کال کے واٹس ایپ سرور سے گزرنے کی وجہ سے معیار میں کمی واقع ہوگی۔ لیکن کی جانے والی تمام کالز اینڈ ٹو اینڈ انکریپٹڈ ہوں گی لہٰذا ان کو کوئی نہیں سن سکے گا۔

سعودی عرب طائف میں 5 ارب ڈالر کی لاگت سے مریخ پر مشتمل شہر تعمیر کرے گا

سعودی عرب طائف میں 5 ارب ڈالر کی لاگت سے مریخ کی تھیم پر مشتمل شہر، گلاب اگانے والی صنعت اور فائیو فائیو اسٹار سیاحتی ریزورٹس تعمیر کرے گا۔

سعودی عرب میں کاروباری اداروں نے طائف انویسٹمنٹ فورم میں چینی اور کوریائی فرموں کے ساتھ 11 ارب ریال (2.9 ارب ڈالر) کے معاہدوں پر دستخط کرنے کا اعلان کیا۔

معاہدوں میں خلائی سائنس فکشن شہر مریخ جنگ کے پہلے مرحلے کا قیام شامل ہے جس کی مالیت 5 ارب سعودی ریال (1.3 ارب ڈالر) ہے، جو اس سیاحتی منصوبے کے آخری مرحلے میں 20 ارب سعودی ریال (5.3 ارب ڈالر) سے تجاوز کر سکتی ہے۔

سندھ،پیپلزپارٹی اورایازپلیجوکے تحفظات

حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی پاکستان پیپلزپارٹی نے الیکشن لڑنے کے لیے ن لیگ کو اپنے حریف کے طورپرپیش کرتے ہوئے اس پر چروکے لگانا شروع کردیا تھا۔نوازشریف کی واپسی پریہ سلسلہ تیز ہوگیا۔نوازشریف کی واپسی کوکبھی سمجھوتہ کہا تو کبھی واپسی کو ڈیل کا نتیجہ قراردیتے رہے۔اب کچھ دنوں نے نوازشریف کو لاڈلہ اور ابھی سے ہی سلیکٹڈ کہنے کا سلسلہ شروع کردیا تھا ۔اس کے جواب میں ن لیگ کی طرف سے ایک ہی بات کہی جاتی رہی کہ الیکشن کا موقع ہے بلاول ہوں یا پیپلزپارٹی کے دوسرے رہنما انہوں نے کچھ تو کہنا ہے اس لیے کوئی بات نہیں ۔مسلم لیگ ن نے پیپلزپارٹی کی ان شرارتوں کا جواب ایم کیوایم سے ہاتھ ملاکردے دیا ہے۔
مسلم لیگ ن بارے یہ کہا جارہا ہے کہ وہ اگلی حکومت بنانے کے لیے صرف پنجاب پر مکمل انحصار کرنے کی بجائے بلوچستان میں ’’باپ‘‘سے رشتہ جوڑنے اور کے پی میں مولانا سے تجدید تعلقات کرنے کی حکمت عملی بناچکی ہے اورآمدہ ہفتے نوازشریف کی اس صف بندی کے لیے بات چیت کسی نتیجے پر پہنچ جائے گی۔میں سندھ میں ایم کیوایم اور مسلم لیگ ن کے اتحادکے نتائج پرغورکرہی رہا تھا کہ سندھ سے جناب ایازلطیف پلیجوصاحب کا طویل پیغام موصول ہوا۔ایازلطیف پلیجو صاحب قومی عوامی تحریک کے سربراہ اورسندھی قوم پرست رہنماہیں۔ سندھ کے باسیوں کے حقوق کے لیے ایاز لطیف کی جدوجہد کی ایک طویل تاریخ ہے۔وہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی مزاحمت کرنے والے لیڈر ہیں ۔ان کا پیغام پیپلزپارٹی کی پندرہ سالہ حکمرانی کے نتیجے میں سندھ کو پہنچنے والے معاشی اورسماجی نقصان بیان کررہا ہے۔ایازصاحب لکھتے ہیں کہ اگرسندھ میں ایک بار پھر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائی گئی تو۔۔
1۔سندھ کے پڑھے لکھے لوگوں کی اکثریت کی جانب سے یہ سمجھا جائے گا کہ پیپلز پارٹی کے ہاتھوں سندھ میں پندرہ سالہ کرپشن، لوٹ مار، تباہی، غربت، افلاس، بیروزگاری اور بدترین گورننس کے سسٹم کی اس ریاست، پارلیمان، وفاق، اداروں، عدلیہ اور الیکشن کمیشن کو کوئی فکر نہیں۔ وہ یا تو مکمل لاتعلق ہیں یا بذات خود پیپلز پارٹی کے سہولتکار ہیں.
2۔سندھ کی لوگ سمجھیں گے کہ صرف پنجاب کی اندرونی سیاسی لڑائی ،پنجاب اور کے پی کے کی نشستوںکی تعداد ہی وفاق اور ریاست کی لیے معنی رکھتے ہیں۔ سندھ دراصل ملکی سیاسی ایجنڈے کا 15 سال سے حصہ ہی نہیں ہے۔
3۔سندھ کے عام لوگوں،دیگرسیاسی جماعتوں، اتحادوں، قوم پرست اور مذہبی جماعتوں سے جڑے ہوئے لوگوں کو یہ پیغام دے دیا جائیگا کہ، سندھ میں صرف دو ہی آپشنز ہیں کہ یا پیپلز پارٹی میں شامل ہوجائیں یا پاکستان کی وفاقی سیاست سے مکمل لاتعلقی کرکے کوئی اور راستہ اختیار کرلیں۔
4۔نیب، ایف آئی اے، اینٹی کرپشن، نگران حکومتوں، اداروں اور عدلیہ کے جھکائو کی وجہ سے کسی بھی کرپٹ وزیر، افسر یا رکن اسمبلی کو کوئی سزا نہ ملنے سے لوگ سمجھ چکے ہیں کہ کرپشن کے خلاف بیانات اور اعلانات صرف سراب اور دکھا وا ہیں۔ پیپلز پارٹی کی کرپشن سے کسی کو کوئی مسئلہ نہیں۔کچھ لوگ یہ بھی سوچ سکتے ہیں کہ سندھ کو معاشی طور پر مکمل تباہ و برباد کرنا ہی درحقیقت اصل ایجنڈا ہے۔
5۔یہ سمجھا جائے کہ پاکستان بحیثیت ایک ملک کے مکمل طور پر اپنے ایک اہم حصے سندھ کی ترقی، گورننس، خوشحالی، میرٹ اور شفافیت سے لاتعلق ہے؟
6۔یہ تاثر عام ہوجائے گا کہ گذشتہ پندرہ سال سے الیکشن قریب آتے ہی دکھاوے کے لیے چند ماہ سیاسی جوڑ توڑ کرنے کے بعد، آخری لمحوں میں اچھی آفر ملنے پر ڈیل اور سودا ہمیشہ پیپلز پارٹی سے ہی کرلیا جاتا ہے اس لیے سندھ سطح کی سیاسی پیش قدمی، اتحادوں، سیٹ ایڈجسٹمٹ اور وفاقی سیاست کرنے کی کوئی افادیت نہیں ہے۔
7۔بیوروکریسی، عدلیہ، وڈیروں، صنعت کاروں اور سول سوسائٹی کو یہ صاف پیغام جائے گا کہ سندھ میں اگر رہنا ہے تو جیے زرداری کہنا ہے اور پیپلز پارٹی کے سب جائز و ناجائز کام مسلسل کرتے رہناہے کیونکہ سندھ کے حقیقی مطلق العنان بادشاہ وہی ہیں۔
8۔بین الاقوامی طاقتوں، پڑوسی ممالک اور عالمی اداروں کو یہ واضح اور کلیئر پیغام جائے گا کہ باقی تینوں صوبوں میں تو کوئی نہ کوئی تبدیلی آتی رہے گی، مگر سندھ کے حکمران وہی کے وہی رہیں گے اس لیے ہر حال میں اور ہر شرط پر پیپلز پارٹی کے ساتھ جماعتی اور ذاتی سطح کے تعلقات بہتر رکھے جائیں۔
9۔نواز لیگ اور پی ٹی آئی کا ماضی کے اقتدار کے دوران سندھ سے مکمل لاتعلقی اور پیپلز پارٹی کی خوشنودی کے لیے مستقل چشم براہ ہونے سے یہ پیغام دیا جا چکا ہے کہ ان کے اقتدار میں فیصلہ سازی ، مشاورت اور ترقیاتی منصوبوں میں سندھ کے عوام کی خواہشات، خدشے اور سندھ کی ترقی اور گورننس کوئی معنی نہیں رکھتے۔ وہ صرف چند وڈیروں یا حلقوں کی سیاست میں دکھاوے کے لیے عارضی دلچسپی لے کر پھر سندھ کو پیپلز پارٹی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں۔
10۔سندھ کا بیروزگاری، اقربا پروری، مہنگائی، انتہاپسندی، دہشتگری اور غربت کا مارا ہوا برباد شدہ نوجوان یہ سمجھنے پر مجبور کر دیا جائیگا کہ سندھ میں میرٹ، روزگار، تعلیم، امن، برابری، صنعتکاری، زراعت اور گورننس کی بہتری کی اب کوئی امید باقی نہیں ہے۔
11۔سندھ کے الیکٹیبلز جن کو کبھی پیپلز پارٹی، کبھی پی ٹی آئی اور کبھی نون لیگ میں شمولیت کے اشارے دیے جاتے ہیں، وہ اس نتیجہ پر پہنچ جائیں گے کہ کرپشن کے ذریعے کھرب پتی بننے کا سب سے مفید اور آسان راستہ پیپلز پارٹی میں شامل ہونا ہے۔
12۔سندھ کی دیہی نشستیں حسب سابق پیپلز پارٹی سے جڑے ہوئے جاگیرداروں، پیروں، وڈیروں اور سرداروں کے حوالے کردی جائیں گی، سندھ کے دارالحکومت اور پاکستان کے سب سے بڑے کاروباری مرکز کراچی کے نتائج میں جس طرح 2018 کے الیکشن میں انجینئرنگ کرکے مخصوص لوگوں کو جتوایا گیا، اس دفعہ کسی اور کو جتوا دیا جائے گا مگر کراچی کے مسائل جوں کے توں رہیں گے۔
13۔سندھ کی مڈل کلاس کی وفاقی سیاست کرنے والی جماعتوں کی قیادت، مسلسل الیکشن لڑنے اور دھاندلیوں سے ہرا دیے جانے والے صاف، شفاف اورقابل امیدواروں کو یہ پیغام دے دیا جائے گا کہ آپ جیسے باصلاحیت اور ایماندارلوگوں کے لیے سندھ اسمبلی اور وفاقی پارلیمان میں کوئی جگہ نہیں۔ یہ ایوان صرف پندرہ سال کے لیے ہی نہیں بلکہ پچیس تیس سال تک صرف پیپلز پارٹی کے لیے مخصوص کردیے گئے ہیں۔
14۔خواتین، بچوں، کسانوں، مزدوروں، اقلیتوں، نچلے متوسط طبقے اور ملازمت پیشہ افراد کی گذشتہ پندرہ سال سے سندھ میں جو درگت بنائی گئی ہے، ان کے وسائل کو جس طرح لوٹا گیا ہے، سرکاری محکموں کو جس طرح کرپشن، سفارش، لوٹ مار اور اقرباپروری کے مراکز بنا دیا گیا ہے، اس سے معاشرے کے یہ کمزور طبقات ملکی حالات سے مکمل طور پر مایوس اور لاتعلق ہوجائیں گے۔
والسلام
ایاز لطیف پلیجو
سربراہ قومی عوامی تحریک،حیدرآباد
ایازصاحب کے یہ چودہ نکات ان کے خدشات ہیں جن کی پیپلزپارٹی نفی کرتی ہے ۔ اب پھر الیکشن کی آمد ہے تو باقی ملک کی طرح سندھ میں بھی نئی صف بندیوں کی امیدہے۔پہلے مرحلے میں تو مسلم لیگ ن اور ایم کیوایم نے ہاتھ ملایا ہے ۔ ن لیگ نے سندھ میں اپنا پارٹی صدر بھی تبدیل کیا ہے اور بشیر میمن صاحب کو یہ ذمہ داری سونپی ہے۔ میمن صاحب کا اپنا تعلق اندرون سندھ سے ہے اور وہ سندھ کی باقی جماعتوں سے رابطے بھی کررہے ہیں ممکن ہے سندھ میں پیپلزپارٹی کے خلاف ایک وسیع تر انتخابی اتحاد بن جائے ۔اگر ایسا ہوتا ہے تو ایازلطیف پلیجو اور باقی قوم پرست جماعتوں کو بھی اس کا حصہ بن کرپیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دینے کی کوشش کرنی چاہئے۔ممکن ہے جن خدشات کا ایاز لطیف پلیجو صاحب اظہار کررہے ہیں وہ اس الیکشن کے مختلف نتائج کی صورت میں تبدیل ہوجائیں۔