190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل کیس میں عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈز اسکینڈل کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی جبکہ عدالت نے سابق وزیراعظم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں رکھنے کا حکم سنایا۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے 190 ملین پاونڈز اسکینڈل میں چیئرمین پی ٹی آئی کے جسمانی ریمانڈ کے حوالے سے کیس کی سماعت اڈیالہ جیل راولپنڈی میں کی جبکہ دوران سماعت عمران خان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

نیب پراسیکیوٹر کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔

عدالت نے عمران خان کے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں رکھنے کا حکم سنایا۔

عدالت نے قرار دیا کہ نیب تفتیشی ٹیم اڈیالہ جیل میں ہی چیئرمین پی ٹی آئی سے تفتیش کرسکتی ہے۔

سماعت کے بعد میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ عدالت نے نیب کی چیئرمین پی ٹی آئی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کی ہے، عدالت نے کہا ہے کہ تفتیش یہاں بھی ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز نیب کی جانب سے اڈیالہ جیل میں قید چیئرمین پی ٹی آئی کی 190 ملین پاؤنڈز اسکینڈل کیس میں گرفتاری ڈالی گئی تھی۔

اس سے قبل چیئرمین نیب نے وزارت قانون سے چیئرمین پی ٹی آئی کے جیل ٹرائل کی منظوری کی درخواست کی تھی، جس پر وزارت قانون کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف نیب کے 190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس کی سماعت جیل ہی میں کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔

وزارت قانون نے جیل ٹرائل سے متعلق سرکولیشن سمری وزیراعظم کوارسال کی تھی، سماعت جیل میں کیے جانے کی منظوری سرکولیشن سمری کے ذریعے لی گئی، جس کے بعد باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

وزارت قانون کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد احتساب عدالت کے جج محمد بشیر اور نیب کی ٹیم اڈیالہ جیل پہنچ گئی، نیب کے پراسیکیوٹر سردار مظفرعباسی بھی نیب ٹیم کے ہمراہ اڈیالہ جیل پہنچے۔

اس سے قبل احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے صحافیوں کے سوال پر مکالمہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ کیس میں نیب بتا سکتی ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو کہاں پیش کیا جائے گا۔

صحافی نے سوال کیا کہ اطلاعات ہیں کہ دونوں کیسز کی جیل میں سماعت کا نوٹیفکیشن ہو رہا ہے۔ جس پر جج محمد بشیر کا کہنا تھا کہ نوٹیفکیشن ہوا تو پھر اڈیالہ جیل سماعت کیلئے جائیں گے۔

جج محمد بشیر نے صحافیوں سے سوال کیا کہ کیا آپ لوگ بھی وہیں (جیل) جائیں گے۔ جس پر صحافیوں نے جواب دیا کہ ہمیں اڈیالہ جیل کے اندر داخلے اور رپورٹنگ کی اجازت نہیں۔

جج محمد بشیر نے کہا کہ ویسے تو اجازت ہونی چاہیےاس لیے تو اوپن کورٹ ہوتی ہے۔

توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت

گزشتہ روز (13 نومبر) کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت جج محمد بشیر نے کی۔

نیب نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وارنٹ کیلئے درخواست دائر کی، تو عدالت نے استفسار کیا کہ ہائی کورٹ نے کیا کیا ہے۔

عدالت کے استفسار پر پراسیکیوٹر نے بتایا کہ مقدمہ زیرالتواء ہے نہ عدالت نے حکم معطل اور نہ کوئی اسٹینڈنگ آرڈر جاری کیا، عدالت سے درخواست ہے کہ عمران خان کے وارنٹ جاری کیے جائیں اور جیل سپریٹنڈنٹ کواقدامات کی ہدایت کی جائے۔

عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ وارنٹ لیں گے تو کیا بلانا نہیں پڑے گا۔ جس پر پراسیکیوٹر نے کہا کہ وارنٹ کے بعد گرفتارکریں گے تو جسمانی ریمانڈ کیلئے یہاں ہی لائیں گے۔

عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اور جیل سپریٹنڈنٹ کو وارنٹ تعمیل کے لیے اقدامات کا حکم دے دیا۔

نیب کی تحقیقاتی ٹیم اڈیالہ جیل پہنچ گئی

نیب راولپنڈی کی ٹیم القادر ٹرسٹ کیس میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان سے تفتیش کے لیے اڈیالہ جیل پہنچی، نیب ٹیم بغیر اسکواڈ کے صرف 2 گاڑیوں میں اڈیالہ جیل پہنچی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف اور وقارالحسن نے نیب ٹیم کی قیادت کی۔

نیب ٹیم نے چییرمین پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں تفتیشی کارروائی مکمل کرلی جبکہ نیب ٹیم نے القادر ٹرسٹ سے متعلق عمران خان سے مختلف سوالات کیے۔

نیب ٹیم چیئرمین پی ٹی آئی سے تفتیش کے بعد واپس روانہ ہوگئی، عمران خان اب اڈیالہ جیل میں نیب کورٹ کی تحویل میں ہوں گے۔

نیب ذرائع کے مطابق احکامات کی تعمیل کروالی گئی، بشریٰ بی بی کا نام ای سی ایل میں شامل کردیا گیا۔

خیال رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی پہلے ہی سائفر کیس میں اڈیالا جیل میں قید ہیں اور سکیورٹی خدشات کے باعث ان کا ٹرائل جیل میں ہی ہو رہا ہے۔

روس: صارفین کا ڈیٹا محفوظ کرنے سے انکار پر گوگل پر بھاری جرمانہ عائد

ماسکو: روسی صارفین کا ڈیٹا روسی سرورز پر محفوظ کرنے سے بار بار انکار پر دارالحکومت میں ایک عدالت نے گوگل پر 15 ملین روبلز (164,000 ڈالرز) جرمانہ عائد کردیا ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی حکومت کی آن لائن مواد، سنسرشپ، ڈیٹا اور مقامی نمائندگی کے حوالے سے غیر ملکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ بار بار تنازعے کھڑے ہوئے ہیں جو کہ فروری 2022 میں ماسکو کی جانب سے اپنی مسلح افواج کو یوکرین بھیجنے کے بعد شدت اختیار کر گئے ہیں۔

روس میں گوگل کا دفتر روس کے غیر قانونی سمجھے جانے والے آن لائن مواد کو حذف کرنے میں ناکامی اور یوٹیوب پر کچھ روسی میڈیا تک رسائی کو محدود کرنے کے لیے دباؤ کا شکار ہے۔

تاہم جبکہ کریملن نے ٹویٹر اور فیس بک سمیت کچھ پلیٹ فارمز پر پابندی لگا دی ہے، اس نے گوگل کی خدمات تک رسائی کو مسدود نہیں کیا ہے اور اس کا سرچ انجن اور یوٹیوب پلیٹ فارم، دونوں مفت، کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پابندی کے حوالے سے گوگل نے ای-میلز کا ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

واضح رہے کہ گوگل نے 2022 کے موسم گرما میں روس میں ہی دیوالیہ پن کے لیے ایک مقدمہ دائر کیا تھا جب حکام نے اس کا بینک اکاؤنٹ ضبط کر لیا، جس سے عملے اور رٹیلرز کو ادائیگی کرنا ناممکن ہو گیا۔

سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 1.25 روپے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 25 پیسے فی یونٹ تک مہنگی کرنے کی منظوری دے دی جبکہ ڈسکوز کی درخواست پر نیپرا اتھارٹی نے سماعت مکمل کر لی۔

یکساں ٹیرف کے لیے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر بھی ہوگا۔ بجلی صارفین پر 22 ارب 56 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کی درخواست ہے۔

نیپرا نے سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت ڈسکوز کی اضافے کی درخواست پر سماعت مکمل کرلی، قیمتوں میں اضافے سے متعلق حتمی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

جولائی تا ستمبر 2023 کی ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر چئیرمین نیپرا وسیم مختار کی صدارت میں سماعت ہوئی۔

نیپرا حکام کے مطابق ڈسکوز کی جانب سے سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت اضافہ مانگا گیا اور مجموعی طور پر اضافے کی مد 22 ارب 56 کروڑ سے زائد کا اضافہ مانگا گیا ہے، کن ماہ میں یہ سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ وصول ہوگا اس حساب سے امپیکٹ آئے گا اور آئندہ تین ماہ میں اگر بوجھ منظور کر لیا جائے تو 1 روپے 25 پیسے اضافہ بنے گا۔

نیپرا حکام نے کہا کہ ڈسکوز کی جانب سے جولائی، اگست اور ستمبر میں بجلی کی خریداری کم کی گئی، تین ماہ میں بجلی کی مجموعی خریداری میں 9.50 فیصد کمی آئی، ڈسکوز نے 42 ارب کی بجائے 38 ارب یونٹس کی خریداری کی۔ ریفرنس لاگت کے مطابق اعداد و شمار آتے تو ایڈجسمنٹ منفی ہو سکتی تھیں۔

کیپیسٹی چارجز کی مد میں 12 ارب 12 کروڑ 60 لاکھ روپے، یوز آف سسٹم چارجز کے تحت 10 ارب 24 کروڑ 70 لاکھ روپے، آپریشن اینڈ مینٹیننس کی مد میں 4 ارب 61 کروڑ 70 لاکھ روپے اور نقصانات کی مد میں 6 ارب 61 کروڑ 70 لاکھ روپے وصول کرنے کی درخواست ہے۔

نیپرا قیمت میں اضافے سے متعلق حتمی فیصلہ کرے گا۔

نواز شریف سے ملاقات، سابق وزیراعلیٰ جام کمال ساتھیوں سمیت ن لیگ میں شامل

کوئٹہ:  قائد مسلم لیگ (ن) نواز شریف سے ملاقات کے بعد سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے ساتھیوں سمیت مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔

قائد مسلم لیگ (ن) اور سابق وزیراعظم نواز شریف کوئٹہ کے دورے پر ہیں جہاں سابق وزیراعلیٰ جام کمال نے ان کے ساتھ ملاقات کر کے پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔

نواز شریف نے بلوچستان میں دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ بھی ملاقاتیں کیں جن میں ملکی سیاسی صورت حال اور عام انتخابات سے متعلق امور پر گفتگو ہوئی۔

ن لیگ سہارا نہ ڈھونڈے، اپنے بل بوتے پر سیاست کرے: بلاول بھٹو

مٹھی:  چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ن لیگ سہارا نہ ڈھونڈے، اپنے بل بوتے پر سیاست کرے۔

مٹھی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ہم بے نظیر بھٹو کے خواب پورا کرنا چاہتے ہیں، پیپلزپارٹی نے تھرمیں کام کر کے دکھایا، ہم شہید ذوالفقار اور بی بی شہید کے وعدے نبھا رہے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمارے حوالے سے پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے، تھر میں کام کر کے پیپلزپارٹی کے خلاف پراپیگنڈے کا جواب دے دیا ہے، تھرکول منصوبہ ہماری کارکردگی کا ثبوت ہے، غربت، بےروزگاری کے مسائل سے انکار نہیں کرسکتے، تاہم تھر میں بچوں کی شرح اموات میں کمی آئی ہے، یہ اعداد شمار میرے نہیں بلکہ عالمی اداروں کے مطابق ہیں، پیپلز پارٹی نے یہاں ماں اور بچوں کیلئے پروگرام شروع کیا ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ تھر سمیت مختلف شہروں میں مزید کام کی ضرورت ہے، روٹی، کپڑا اور مکان کا وعدہ ہم نے پورا کرنا ہے، آئندہ حکومت بنی تو ترقی کے سفر کو آگے لے کر جائیں گے، تھر سے کراچی تک ریلوےلائن بنانی ہے، ریلوےلائن سےتھرکول کو مارکیٹ تک پہنچایا جائے گا، چاہتے ہیں کہ تھرکےعوام کا سفرآرام دے ہو۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ آئندہ 5 سال بھی تھر میں ترقی کا سفرجاری رہے گا، الیکشن کے دوران تھر نہیں آؤں گا، عوام نے میرا نمائندہ بننا ہے اور تیرکو جتواناہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ ہمارا مختلف معاملات پر وفاقی حکومت سے جھگڑا رہا، سیلاب متاثرین کی بحالی سمیت دیگر معاملات پر جھگڑا رہا، ہم تھرکول کی طرح دیگر منصوبے بھی پبلک پرائیوٹ سے چلانا چاہتے ہیں، نگران حکومت کو گزشتہ حکومت کی پالیسی کو جاری رکھنا ہوگا، نگران حکومت کو منصوبوں میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پورے ملک میں تعلیم کے حوالےسےتوجہ نہیں دی گئی لیکن ہم نے تھر میں بھی این ای ڈی یونیورسٹی پرکام شروع کر دیا ہے، مختلف اضلاع میں کالجز بنائے جائیں گے، ٹیچرز کی تربیت کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں، ہم نے کورونا اور اس کے بعد 2 بار سیلاب کی صورتحال کا سامنا کیا، ہمیں فنڈز قدرتی آفات سے نمٹنے میں خرچ کرنا پڑے جس کے باعث چند منصوبے تاخیر کا شکار ہوئے۔

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کوعوام کے دکھ درد کا احساس ہے، بی بی شہید اور آصف زرداری کی کابینہ کا پہلا ایجنڈا مہنگائی ہوتا تھا، چاہتے ہیں کہ ملک میں جمہوریت کےذریعےبہتری لائیں، پی ڈی ایم حکومت کا ساتھ دینا وقت کی ضرورت تھا، سیاسی مفادات سامنے رکھتے تو فیصلہ منفرد ہوتا۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان میں عوام دوست حکومت چاہتے ہیں، گالم گلوچ اور انتقام کی سیاست میری تربیت نہیں، انتخابات کیلئے ہم کسی ادارے کی طرف نہیں دیکھ رہے، ہمارا کسی ادارے سے کوئی جھگڑانہیں، ہماری جماعت کو لیول پلیئنگ فیلڈ کبھی نہیں ملی، دہشت گردی کے دوران بےنظیربھٹو کو شہید کیا گیا، ان کی شہادت کے بعد بھی ہم الیکشن جیت گئے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ آج بھی ایک قسم کی فیلڈ سجائی جارہی ہے، پیپلز پارٹی ہر پچ پر کھیلنے کیلئے تیار ہے، امید ہے کہ ہم ہی جیتیں گے، 16 نومبر کو خیبرپختونخوا جا رہا ہوں، وہاں کچھ تعزیتیں کرنی ہیں۔

چینی کی قیمت میں اضافہ؛ ایف آئی اے نے شوگرمافیا کیخلاف تحقیقات بند کردیں

لاہور: ایف آئی اے نے چینی کی قیمت میں دگنا اضافہ کرنے پر شوگر مافیا کے خلاف جاری تحقیقات بند کردیں۔

چینی کی قیمت 90 روپے سے اچانک 180 سے لے کر 200 اور 210 روپے تک پہنچا کر شوگر کارٹیلائیزیشن نے اربوں روپے کمائے جس پر نگراں حکومت نے تحقیقات کا حکم دیا تھا مگر اب اس اسکینڈل کی تحقیقات بند کردی گئی ہیں۔

ایف آئی اے ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے چینی کی قیمتوں میں اچانک بےتحاشہ اضافہ کیے جانے پر تحقیقات شروع کی اور چینی کے بڑے بڑے بروکرز اور اسٹاک کرنے والوں کو ریکارڈ سمیت طلب بھی کیا گیا اور شوگر ملوں سے بھی ریکارڈ حاصل کیا گیا تھا۔

ایف آئی اے نے پہلے بھی شوگر کمیشن کے تحت تحقیقات کی تھیں اور بہت سی معلومات پہلے بھی ایف آئی اے کے پاس موجود تھیں۔ اسی روشنی میں ایف آئی اے نے شوگر مافیا کے خلاف تحقیقات شروع کی تھی مگر اچانک تمام تر تحقیقات بند کر دی گئیں۔

ایف آئی اے ذرائع کے مطابق چینی کی قیمتوں میں اضافہ کر کے شوگر مافیا نے 550ارب روپے سے زائد رقم کمائی جبکہ دوسری جانب مہنگائی کے ہاتھوں مجبور عوام پہلے 90 روپے فی کلو ملنے والی چینی اب بھی 150 روپے سے لے کر 170 روپے فی کلو تک خرید رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مسابقتی کمیشن میں 127 کیس التوا کا شکار ہیں اور جو شوگر ملوں کو 44 ارب روپے کا جرمانہ کیا گیا تھا وہ بھی ابھی تک وصول نہیں کیا گیا ۔

دوسری جانب جب اس سلسلے میں ایف آئی اے کے ترجمان سے رابطہ کرنے پر ہر بار یہ کہا گیا کہ اعلی حکام نے ابھی تک اس بارے میں جواب نہیں دیا جیسے ہی جواب ملتا ہے آپ کو بتا دیں گے۔

ہیرے کیسے وجود میں آئے؟

ہیرے 3 ارب سال پہلے زمین کی پرت کے اندر شدید گرمی اور دباؤ کے حالات میں وجود میں آئے جس کے نتیجے میں کاربن ایٹمز  بِلور (crystals)کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔

ہیرے زمین کی سطح سے تقریباً 150-200 کلومیٹر نیچے کی گہرائی میں پائے جاتے ہیں۔ یہاں درجہ حرارت اوسطاً 900 سے 1300 ڈگری سیلسیس اور دباؤ 45 سے 60 کلوبار ہوتا ہے (جو زمین کی سطح پر ماحولیاتی دباؤ سے 50,000 گنا زیادہ ہے)۔

ان حالات میں، پگھلا ہوا لیمپروائٹ اور کمبرلائٹ (جسے عام طور پر میگما کہا جاتا ہے) بھی زمین کی اوپری سطح mantel کے اندر بنتے ہیں اور تیزی سے پھیلتے ہیں۔ یہ پھیلاؤ میگما کے پھٹنے کا سبب بنتا ہے اور اسے زمین کی سطح پر دھکیلتا ہےمگر ساتھ ساتھ یہ میگما اپنے ساتھ وہ پتھر بھی اوپر لے آتا ہے جس میں ہیرے تشکیل پاچکے ہوتے ہیں۔ یہ میگما ناقابل یقین رفتار سے اوپر آتا ہے اور لاوا کی صورت میں باہر نکلتا ہے۔ میگما کم سے کم مزاحمت والا راستہ اختیار کرتا ہے اور  سطح تک آتے آتے  اپنے پیچھے ایک ‘پائپ’ جیسا راستہ بنالیتاہےجسے کمبرلائٹ پائپ کہا جاتا ہے۔
یہ کمبرلائٹ پائپ ہیروں کی کھوج  کا سب سے اہم ذریعہ ہیں، تاہم  پھر بھی یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ہر 200 میں سے صرف 1 کمبرلائٹ پائپ میں جواہرات کے معیار کے ہیرے ہوتے ہیں۔ ‘کمبرلائٹ’ کا نام جنوبی افریقہ کے قصبے کمبرلے سے لیا گیا جہاں اس قسم کی زمینی پرت میں سب سے پہلے ہیرے دریافت ہوئے تھے۔

کراچی پورٹ : ٹرکوں پر جعلی نمبر پلیٹ لگا کر گندم چوری کیےجانے کا انکشاف

کراچی پورٹ پر امپورٹ کی گئی گندم چوری کرنے کی انوکھی واردات ہوئی، ٹرکوں پر جعلی نمبر پلیٹ لگا کر گندم چوری کی گئی تاہم ٹرک کو پورٹ سے باہر نکلنے کے بعد پکڑ لیا گیا۔

کراچی پورٹ سے ٹرک کے آگے ایک نمبر اور پیچھے دوسرا نمبر لگا کر گندم چوری کی کوشش کی گئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ چور گندم سے بھرا ٹرک پورٹ سے باہر لے آئے تاہم ڈرائیور کے پاس بلٹی نمبر اور وزن کی پرچی موجود نہیں تھی۔

اس حوالے سے حکام نے مزید بتایا کہ ٹرک کو پورٹ سے باہر نکلتے ہی شک کی بنیاد پر روکا گیا، امپورٹر نے گندم کا ٹرک پکڑ کر پورٹ حکام کے حوالےکردیا۔ واقعہ 21 اکتوبر کو پیش آیا تھا، واقعہ کا مقدمہ درج کیا گیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے خصوصی عدالتوں کو چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم دے دیا

اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کی اوپن کورٹ سماعت اور جج تعیناتی کیخلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت ہوئی ہے۔ جسٹس میاں گل حسن اورجسٹس ثمن رفعت امتیازسماعت کر رہے ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ اور ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی عدالت میں پیش ہوئے۔

اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کیا اور عدالت کو ٹرائل کی کارروائی سے متعلق آگاہ کیا۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے سائفر کیس کے جیل ٹرائل کی منظوری دی، وفاقی کابینہ کی منظوری کا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کردیں گے۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیئے کہ نوٹیفکیشن دیکھیں گے کہ کیا لکھا ہوا ہے۔ تمام ٹرائلز اوپن کورٹ میں ہوں گے اس طرح تو یہ ٹرائل غیر معمولی ٹرائل ہوگا۔

جسٹس میاں گل حسن نے کہا کہ بہت سے سوالات ہیں جن کے جوابات دینے کی ضرورت ہے، وفاقی کابینہ نے دو دن پہلے جیل ٹرائل کی منظوری دی، کیا وجوہات تھیں کہ وفاقی کابینہ نے جیل ٹرائل کی منظوری دی، سب سے اہم سوال یہ ہے کہ منظوری سے پہلے ہونے والی عدالتی کارروائی کا سٹیٹس کیا ہوگا، کب کن حالات میں کسی بنیاد پر یہ فیصلہ ہوا کہ جیل ٹرائل ہوگا۔

جسٹس میاں گل حسن نے ریمارکس دیئے کہ خاندان کے چند افراد کے سماعت میں جانے کا مطلب اوپن کورٹ نہیں، جس طرح سائفر کیس میں فرد جرم عائد کی گئی اسے اوپن کورٹ کارروائی نہیں کہہ سکتے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجا نے عدالت کو بتایا کہ پانچ گواہ اس وقت بھی جیل میں بیانات ریکارڈ کرانے کے موجود ہیں۔

جسٹس میاں گل حسن نے ریمارکس دیئے کہ بادی النظر میں تینوں نوٹیفکیشنز ہائیکورٹ کے متعلقہ رولزکے مطابق نہیں۔

عدالت نے خصوصی عدالتوں کو سائفرکیس کی سماعت 16 نومبر تک روکنے کا حکم دیتے ہوئے حکم امتناعی جاری کردیا۔

دہشت گردی کے 3 مقدمات: عمران خان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

انسداد دہشت گردی عدالت نے پی ٹی آئی چیئرمین کے خلاف درج دہشت گردی کے 3 مقدمات کی عبوری ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

انسداد دہشت گردی عدالت میں پی ٹی آئی چیئرمین کے خلاف درج دہشت گردی کے 3 مقدمات کی عبوری ضمانت پر سماعت ہوئی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے سماعت کی۔

پی ٹی آئی چیرمین کے وکلاء کی جانب سے سلمان صفدر اور بیرسٹر عمیر نیازی پیش ہوئے۔

وکلاء کی جانب سے دلائل مکمل ہونے پر جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

پی ٹی آئی چیئرمین کے خلاف تھانہ بہارہ کہو اور تھانہ کھنہ میں 3 مقدمات 14 مارچ کو درج ہوئے تھے، جس پر پی ٹی آئی چیرمین کی ضمانت پر درخواستیں ہائی کورٹ اسلام آباد سے 21 ستمبر کو بحال کی تھی۔

الیکشن کے باعث پی ایس ایل سیزن 9 کے چند میچز دبئی میں ہونے کا امکان

عام انتخابات 2024 کے باعث پاکستان سپُر لیگ (پی ایس ایل) سیزن 9 کے چند میچز دبئی میں ہونے کا امکان ہے۔

ذرائیع کے مطابق چیئرمین پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی ذکاء اشرف کی زیر صدارت پی ایس ایل گورننگ کونسل کا اجلاس آج نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں پی ایس ایل کے ابتدائی میچز دبئی میں کرانے پر مشاورت ہوگی، ملک میں الیکشن کی وجہ سے چند میچز دبئی کرانے کی تجویز زیر غور ہے۔

پی سی بی نے عبوری سلیکشن کمیٹی تحلیل کردی، بابر اعظم کل طلب

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سابق ٹیسٹ کرکٹر توصیف احمد کی سربراہی میں قائم عبوری سلیکشن کمیٹی تحلیل کردی جبکہ ورلڈ کپ میں ناقص پرفارمنس پر ذکاء اشرف نے قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم کو کل طلب کرلیا۔

ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی کی وجوہات جاننے کے لیے چیئرمین پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی ذکاء اشرف نے ملاقاتیں شروع کردیں۔

ذکاء اشرف نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کو کل طلب کرلیا جبکہ ڈائریکٹر کرکٹ مکی آرتھر بھی کل لاہور پہنچیں گے۔

مکی آرتھر اور مینجر ریحان الحق ذکاء اشرف سے ملاقات میں اپنی رپورٹس پیش کریں گے۔

بابر اعظم، مکی آرتھر اور سابق کرکٹرز کی رپورٹس کی روشنی میں قومی ٹیم سے متعلق فیصلے کیے جائیں گے۔

دوسری جانب پی سی بی نے سابق ٹیسٹ کرکٹر توصیف احمد کی سربراہی میں بننے والی عبوری سلیکشن کمیٹی تحلیل کردی۔

نگراں وزیراعلیٰ کے پی کی تقرری پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج

پشاور: خیبر پختون خوا کے نئے نگراں وزیراعلیٰ سید ارشد حسین شاہ کی تقرری کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے جس میں مذکورہ نو تعینات وزیراعلیٰ کو کام سے روکنے اور تقرری کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

رٹ پٹیشن تجم حسین شاہ ایڈوکیٹ کی جانب سے ولی خان آفریدی اور شاہ فیصل الیاس ایڈوکیٹ نے دائر کی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ 11 نومبر کو نگراں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اعظم خان کی وفات کے بعد دوسرے روز ہی صوبائی کابینہ کے ایک رکن سید ارشد حسین شاہ کو نگراں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا مقرر کر دیا گیا حالانکہ اس کی تقرری کے لیے جو طریقہ کار آئین کے آرٹیکل 224 اور 224 اے میں موجود ہے اس کے برعکس ہے۔

رٹ پٹیشن کے مطابق اس وقت اسمبلی ہے اور نہ ہی کوئی وزیراعلیٰ اور نہ اپوزیشن لیڈر موجود ہے مگر اس کے باوجود گورنر خیبر پختونخوا نے سابق وزیرعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر کو گورنر ہاوس طلب کرکے باہمی مشاورت کے بعد مذکورہ وزیراعلیٰ کی تقرری کا علامیہ جاری کیا۔
رٹ پٹیشن کے مطابق نگراں حکومت کا کام روز مرہ کے امور کو نمٹانا اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہے مگر ابھی تک نہ تو انہوں نے شفاف الیکشن کے لیے کوئی اقدام اٹھایا ہے اور نہ ہی کوئی آئینی زمہ داری پوری کی ہے بلکہ وہ آئین کے تحت اپنے متعین کردہ حدود اور آئینی زمہ داریوں سے بھی تجاوز کرگئے ہیں۔

موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایسے اقدامات سے شفاف انتخابات پر اثر انداز ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ موجودہ نگراں حکومت سیاسی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے لہٰذا نگراں وزیراعلیٰ کی تقرری کا جو اعلامیہ سابق وزیراعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے ہوا ہے وہ کالعدم قرار دیا جائے اور آئین کی رو سے اس مشاورت کی کوئی اہمیت نہیں۔

رٹ پٹیشن میں نگراں وزیراعلیٰ کابینہ، سیکریٹری قانون، وفاقی حکومت، اٹارنی جنرل ایڈوکیٹ جنرل اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے اور استدعا کی گئی ہے کہ وزیراعلیٰ کے ساتھ ساتھ مذکورہ کابینہ کو بھی برقرار رکھا نہیں جا سکتا کیونکہ یہ بھی غیر آئینی طریقے سے قائم ہوئی ہے۔

درخواست گزار کے مطابق مذکورہ نگراں حکومت اپنی آئینی حیثیت کھو چکی ہے لہٰذا انہیں کام سے روکا جائے اور مذکورہ اعلامیہ کو کالعدم قرار دیا جائے۔ سماعت آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔