’زندگی میں دوستی اور دشمنی بھرپور نبھائی‘، عمران خان کا ساتھ دینے کے سوال پر شیخ رشید کا جواب

اسلام آباد: سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا ساتھ دینے سے متعلق سوال پر کہا کہ انہوں نے دوستی اور دشمنی بھرپور نبھائی ہے۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کی سپریم کورٹ آمد پر صحافیوں نے ان سے سوالات کیے۔

ایک صحافی نے سوال کیا کہ شیخ صاحب چِلہ پورا ہوگیا؟ اس پر شیخ رشید نے کہا کہ چِلہ تو پوار ہوگیا مگر اس کے اثرات ابھی تک ہیں۔

صحافی نے پوچھا کہ شیخ صاحب چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں یا ہتھیار ڈال دیے؟ اس پر سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ اللہ کے فضل سے زندگی میں دوستی اور دشمنی دونوں ہی بھرپور نبھائی ہے۔

رشمیکا مندانا جعلی ویڈیو کیس؛ پولیس نے ملزم کا پتا لگالیا

نئی دہلی: تامل فلموں کی خوبرو اداکارہ رشمیکا مندانا نامناسب ڈیپ فیک (جعلی) ویڈیو کیس میں دہلی پولیس نے ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والے ملزم کا سُراغ لگا لیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی پولیس نے رشمیکا مندانا ڈیپ فیک ویڈیو کیس میں ریاست بہار کے 19 سالہ نوجوان سے پوچھ گچھ کی ہے جو گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پولیس کو شبہ ہے کہ نوجوان نے سب سے پہلے رشمیکا مندانا کی ڈیپ فیک ویڈیو کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کیا اور پھر بعد میں اس ویڈیو کو سوشل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارمز پر بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا۔

نوجوان نے پوچھ گچھ کے دوران دہلی پولیس کو بتایا کہ اُس نے رشمیکا مندانا کی ڈیپ فیک ویڈیو انسٹاگرام کے ایک اکاوْنٹ سے ڈاوْن لوڈ کی تھی۔

اس سلسلے میں پولیس آفیسر نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ بہار کے رہنے والے نوجوان کو IFSO (انٹیلی جنس فیوژن اور اسٹریٹجک آپریشنز) یونٹ کے سامنے پیش ہونے اور وہ موبائل فون ساتھ لانے کو کہا گیا ہے جس کو ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں بھارتی اداکارہ رشمیکا مندانا کی لفٹ میں نازیبا لباس پہنے داخل ہوتے ہوئے ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں انہیں نامناسب انداز میں کپڑے تبدیل کرتے ہو ئے دکھایا گیا تھا، جو ویڈیو زارا نامی خاتون کی تھی، رشمیکا مندانا نے جعلی ویڈیو کو ’ انتہائی خوف زدہ ‘ کرنے والا عمل قرار دیا تھا۔

رشمیکا مندانا کی ویڈیو وائرل ہونے کے دو روز بعد ہی بالی ووڈ کوئین کترینہ کیف کی بھی آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) سے تیار کردہ نامناسب جعلی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔

جعلی تصاویر اور ویڈیوز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ابھی بھارتی حکومت حرکت میں آئی ہی تھی کہ سارہ ٹنڈولکر اور بھارتی کرکٹر شبمن گِل کی بھی جعلی تصویر منظرِ عام پر آگئی تھی۔

پیپلزپارٹی کا کراچی میں بلدیاتی کاموں کے ذریعے انتخابات جیتنے کا منصوبہ

کراچی کوعام انتخابات میں فتح کرنے کے لئے پیپلزپارٹی نے حکمت عملی مرتب کرلی.

شہرمیں منتخب بلدیاتی نمائندوں کو ٹاسک دیا گیا ہے تیزی کے ساتھ ترقیاتی کام کرائیں جائیں۔ عوامی رابطہ مہم کو تیز کیا جا ئے ان تمام امور کو حلقہ بندیوں میں مبینہ طورپراہم کردار ادا کرنے والے سینئر رہنما سعید غنی دیکھ رہے ہیں۔

اس سلسلے میں انہوں نے بلدیاتی چیئرمینز سے ملاقات کا سلسلہ بھی شروع کردیا ہے. پیپلزپارٹی شہرمیں قومی اسمبلی کی دس سے زائد نشستیں جیتنے کے لئے پرامید ہے پارٹی کی اعلی قیادت نے بھر تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے.

پیپلزپارٹی ضلع وسطی ، کورنگی ، شرقی ، جنوبی اور غربی میں بھرپور قوت کے ساتھ میدان میں اترے گی جبکہ انیس نومبر کو ضلع وسطی بڑا پاور شو بھی کیاجا ئیں گا.

کراچی میں الیکشن کی ساری مینجمنٹ کی ذمہ داری اعلی قیادت نے سابق صوبائی وزیرسعید غنی کودی ہے سعید غنی ساری حکمت عملی بنا ر ہے ہیں.

اس سلسلے میں سعید غنی نے کراچی چاروہ اضلاع جہاں ماضی میں پیپلزپارٹی کا کامیابی نہیں ملی ان کو ہدف بنایا گیا جس میں ضلع شرقی، وسطی ، کورنگی اورجنوبی شامل ہے.

کیماڑی غربی اورملیر میں پیپلزپارٹی کا ووٹ بنک ما ضی بھی تھا جبکہ جنوبی میں لیاری کی نشست بھی پیپلزپارٹی شکست کھا گئی تھی جس پرچیئرمین بلاول بھٹو الیکشن لڑرہے تھے.

اس بار پیپلزپارٹی نے ضلع جنوبی کی نشستوں پربھرپور انداز سے تیاری شروع کی ہے . پیپلزپارٹی کے ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ اس بار ضلع جنوبی کی تمام نشستوں پر کامیابی حاصل کریں گے اسی طرح پیپلزپارٹی نے کورنگی کی قومی اسمبلی کی نشست کو بھی فتح کر نے کا دعوی کیا گیا۔

اسی طرح ضلع وسطی کی میں ایک قومی اسمبلی کی نشست کے لئے بھی کوشش کی جا رہی ہے اور اورنگی ٹاؤن کی قومی اسمبلی کی نشست پر بھی کام کیاجا رہا ہے۔

کراچی میں بائیس قومی اسمبلی کی نشستوں میں سے پیپلزپارٹی دس سے پندرہ نشستوں کو کامیابی کےلئے کوشاں ہے۔

سعید غنی نے کر اچی میں منتخب پیپلزپارٹی کے تیرہ ٹاؤن چیئرمینز کو ٹاسک دیا ہے کہ اپنے اپنے ٹاونز میں تیزی کے ساتھ ترقیاتی کام کرائیں اور عوامی رابطہ مہم کو تیز کریں۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمینز پیپلزپارٹی کے علاقائی عہدیدارن کے ساتھ برداریوں ، تاجروں سے مللاقاتیں کرے اور ان کے مسائل کر ے ۔ حالیہ دنوں میں پیپلزپارٹی میں ضلع وسطی سے اہم کاروبائی شخصیات نے شمولیت اختیار کی تھی جن کو قومی صوبائی اسمبلی کے ٹکٹ بھی جا ری کئے جا ئیں گے

ضلع شرقی کی دو قومی اسمبلی نشستوں پر پیپلزپارٹی کے حلقوں کی جانب سے فتح کر نے کا دعوی کیا ہے

پیپلزپارٹی کراچی میں ان نشستوں کو حاصل کرنے کی کوششش میں مصروف ہے جو ماضی میں ایم کیوایم کی تصور کی جاتی تھیں تاہم دوہزار اٹھارہ میں تحریک انصاف نے وہ نشستیں جیتیں۔

شہر میں حلقہ بندیوں میں مبینہ طور پر اہم کردار ادا کر نے والے سعید غنی کو اسی لئے ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ کر اچی کے تمام حلقوں کی معلومات رکھتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ کیماڑی ، ملیر، بلدیہ ، لیاری ، کلفٹن کی نشستیں آسانی کے ساتھ فتح کر لیں گے جبکہ دیگر نشستوں کے لئے حکمت عملی بنالی گئی ہے ۔ کراچی میں پچیس سے زائد صوبائی اسمبلیوں پر بھی فتح حاصل کرلیں گے

بلاول بھٹو صاحب ہمیں نہ ہی چھیڑیں تو بہتر ہے، خواجہ سعد رفیق

لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے بیان کا جواب دے دیا۔

رہنما (ن) لیگ خواجہ سعد رفیق نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابق ٹوئٹر) پر بیان میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں نہ ہی چھیڑیں تو بہتر ہے۔ آپ نے سوال اٹھایا ہے تو جواب بھی سن لیں۔

سعد رفیق کا کہنا تھا کہ میرے خاندان یا میں نے کبھی منہ نہیں چھپایا اور نہ ہی انگریز، ایوب خان اور یحیٰی خان کی کاسہ لیسی کی۔ ہم نے گزشتہ 80 برس میں خضر حیات ٹوانہ سے لے کر قمر جاوید باجوہ تک سب کی جیلیں بھگتی ہیں۔
(ن) لیگ کے رہنما نے مزید کہا کہ میرے والد نے بھٹو مرحوم کی سول آمریت میں جان دی۔ ضیآ آمریت میں مجھے 3 بار جیل جانا پڑا۔ مشرف آمریت سے لڑے، جیلیں کاٹیں اور جسمانی تشدد سہا۔ عمران خان، قمر باجوہ اور ثاقب نثار کا نقاب پوش مارشل لأ بھی بھگتایا۔ بطور وزیر اپنے کام پر ضمیر مطمئن ہے۔

کھاد سبسڈی اور بینظیر انکم سپورٹ کیلئے مزید رقم دینے سے وفاق کا انکار

وفاقی حکومت نے کھاد سبسڈی اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لئے رقم دینے سے انکار کردیا۔

وزارت خزانہ ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ، جو مختلف امور پر خصوصی سرمایہ کاری کونسل (ایس آئی ایف سی) کی چھتری تلے صوبوں کے ساتھ فعال طور پر مصروف عمل ہے جب کہ وزارت یوریا سبسڈی اور بی آئی ایس پی فنڈ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے تیار ہے۔

ذرائع نے کہا کہ پالیسی معاملات کو نگراں حکومت الیکشن کمیشن آف پاکستان کی منظوری سے مشروط کر سکتی ہے۔

سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے صوبائی سیکرٹری خزانہ کے ساتھ حالیہ ملاقات میں میں کہا کہ چونکہ یہ دونوں معاملات صوبوں کو تفویض کیے گئے ہیں لہٰذا اب یہ ان ہی کی ذمہ داری ہے۔

یوریا سبسڈی کے بارے میں وفاقی سیکرٹری صنعت و پیداوار نے شرکاء کو بتایا کہ ملک میں یوریا کی کم از کم سالانہ ضرورت دو لاکھ میٹرک ٹن ہے جس پر تقریباً 82 ملین امریکی ڈالر لاگت آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت یوریا پر سبسڈی دینے کی پوزیشن میں نہیں، چونکہ زراعت صوبائی معاملہ ہے، لہٰذا سبسڈی کا بل صوبوں کی جانب سے 100 فیصد برداشت کیا جانا چاہیے۔

سیکرٹری صنعت و پیداوار کا کہنا تھا کہ آئندہ سیزن یوریا کی درآمد کے لئے آرڈر دینے کی اشد ضرورت ہے، صوبوں کو یوریا کی اپنی ضرورت کو پورا کرنے اور سبسڈی ادا کرنے کی ضرورت ہے، یہ معاملہ پہلے بھی کئی بار صوبوں کے ساتھ اٹھایا گیا تھا لیکن وہ فیصلہ نہیں کر سکے۔

سیکریٹری خزانہ سندھ کاظم حسین جتوئی نے بتایا کہ محکمہ زراعت کی جانب سے سی ایف وائی کے دوران یوریا پر 100 فیصد اور گزشتہ مالی سال کے لیے 50 فیصد سبسڈی دینے کی تجویز کی سمری وزیر اعلیٰ سندھ کو پیش کردی گئی تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ گزشتہ سال کے دوران وفاق نے یوریا کی درآمدی ضروریات کے حوالے سے سندھ سے مشاورت نہیں کی۔

اسپیشل سیکرٹری خزانہ خیبر پختونخوا محمد آصف رشید نے تجویز پیش کی کہ یوریا کی درآمد کی ضرورت کے حوالے سے صوبائی حکومت سے مشاورت کی جائے۔

سیکرٹری صنعت و پیداوار نے واضح کیا کہ متعدد وفاقی حکومت صوبوں کی کم از کم ضرورت کے مطابق یوریا درآمد کرے گی، حکومت گھریلو یوریا پر سبسڈی دینے کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ گیس کی کمی کی وجہ سے مقامی یوریا کی پیداوار بھی آر ایل این جی پر منتقل کی جارہی ہے۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے حوالے سے وفاقی سیکریٹری خزانہ کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر خزانہ کی صوبائی وزرائے خزانہ سے ملاقات کے دوران اس بات پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا کہ سماجی تحفظ صوبائی موضوع ہے، لہٰذا صوبے بی آئی ایس پی پر ہونے والے اخراجات میں حصہ لے سکتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ بی آئی ایس پی کے تحت دو طرح کی اسکیمیں ہیں، یعنی مشروط نقد منتقلی اور غیر مشروط نقد منتقلی۔ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مشروط نقد رقم کی منتقلی کی گئی جو صوبائی موضوعات تھے۔

اسپیشل سیکریٹری خزانہ خیبر پختونخوا نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کو مالی چیلنجز کی وجہ سے بی آئی ایس پی سے وابستہ اخراجات کو پورا کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ٹریکٹرز کی فروخت میں سالانہ اضافہ، کاروں میں کمی

اسلام آباد: ملک میں ٹریکٹرز کی فروخت میں رواں مالی سال کے پہلے4 ماہ کے دوران سالانہ بنیادوں پراضافہ ریکارڈ کیاگیا ہے۔

آل پاکستان آٹومینو فیکچررز ایسوسی ایشن کے اعدادو شمار کے مطابق جولائی سے اکتوبر تک کی مدت میں ملک میں اے جی ٹی ایل کے 7ہزار105یونٹس اور ایم ٹی ایل کے 10 ہزار 191یونٹس ٹریکٹرز کی فروخت ریکارڈ کی گئی ہے جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں بالترتیب 56 فیصد اور 117 فیصد زیادہ ہے۔

گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں ملک میں اے جی ٹی ایل کے 4ہزار561یونٹس اور ایم ٹی ایل کے 4 ہزار 697 یونٹس ٹریکٹرز کی فروخت ریکارڈ کی گئی تھی، اکتوبر میں اے جی ٹی ایل کے 2ہزار202یونٹس اورایم ٹی ایل کے 3 ہزار4یونٹس کی فروخت دیکھنے میں آئی جو ستمبر کے مقابلے میں بالترتیب 5فیصد اور 4فیصد کم ہے۔

پاکستانی نظام غذائی ضروریات پوری کرنے میں ناکام، ایف اے او

اسلام آباد: اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت پاکستان (ایف اے او) کا کہنا ہے پاکستان میں موجود زراعت و خوراک کے نظام میں تبدیلی لانا ہوگی کیونکہ موجودہ نظام پاکستانی عوام کی غذائی ضروریات کو پورا نہیں کرپا رہا۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت نے رپورٹ جاری کردی، جس میں موجودہ زرعی خوراک کے نظام میں پوشیدہ اخراجات پر روشنی ڈالی گئی ہے، جو سالانہ 10 ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچ جاتے ہیں، یہ پوشیدہ اخراجات دنیا کے کل جی ڈی پی کا تقریباً 10فیصد بنتے ہیں۔

رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ موسمیاتی بحران، غربت، عدم مساوات، اور خوراک کی حفاظت سے نمٹنے کے لیے تبدیلی کی ضرورت ہے، یہ شفاف اور مستقل طور پر حقیقی لاگت کے اکاؤنٹنگ کے اطلاق کے پیمانے کے لیے جدید تحقیق، ڈیٹا کی سرمایہ کاری، اور استعداد سازی کا مطالبہ کرتی ہے۔

رپورٹ میں سٹیک ہولڈرز پر زور دیا گیا ہے کہ وہ زرعی خوراک کے نظام کو پائیداری کی طرف لے جانے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں۔

اسلام قبول کرنے پر غور! ہربھجن نے انضمام کو آڑے ہاتھوں لے لیا

قومی ٹیم کے سابق چیف سلیکٹر اور کپتان انضمام الحق کو سابق بھارتی کرکٹر ہربھجن سنگھ نے آڑے ہاتھوں لے لیا۔

سابق کرکٹر انضمام الحق کی ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں وہ بتائے ہوئے نظر آرہے ہیں کہ ہربھجن مولانا طارق جمیل کے سحر میں مبتلا تھے اور انہوں نے اسلام قبول کرنے کا بھی سوچا۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ہربھجن سمیت کئی کرکٹرز مولانا طارق جمیل کی زیر قیادت دعائیہ نشستوں میں شریک تھے۔ انضمام نے بتایا کہ سیشن دیکھنے کے بعد ہربھجن نے مولانا طارق جمیل کی تعریف کرتے ہوئے ان کی تعلیمات پر عمل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

ہمارے پاس ایک کمرہ تھا جہاں نماز ادا کی جاتی تھی، مولانا طارق جمیل شام کو ہمارے پاس تشریف لاتے اور نماز پڑھاتے تھے۔ کچھ دنوں کے بعد عرفان پٹھان، محمد کیف اور ظہیر خان بھی آنے لگے جبکہ انکے علاوہ 4 دیگر ہندوستانی کرکٹرز بیٹھ کر ہمیں دیکھتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہربھجن کو طارق جمیل کے مولانا ہونے کا علم نہیں تھا، اس نے کہا کہ میں اس شخص سے متاثر ہوں اور ان کی باتوں پر عمل کرنا چاہتا ہوں۔

سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر (ایکس) پر سابق بھارتی اسپنر ہربھجن سنگھ نے سابق کپتان انضمام الحق کی ایک ویڈیو شیئر کی جس پر انہوں نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ میرے اسلام قبول کرنے کے غور کا دعویٰ جھوٹا ہے، مجھے سکھ ہونے پر فخر ہے۔

بینکوں، کمپنیوں کے ونڈفال منافع پر40 فیصد ٹیکس کا امکان

اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے بینکوں، کمپنیوں اورعام لوگوں کوڈالر، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل اور دیگرخارجی عوامل کے سبب ملنے والے غیر معمولی ونڈ فال منافع پر 40فیصد ٹیکس عائدکئے جانے کا امکان ہے۔

وفاقی کابینہ آج ریونیو ڈویژن کی طرف سے بھجوائی جانے والی سمری کا جائزہ لے گی۔ فنانس ایکٹ کے تحت ایف بی آر کو ونڈ فال پرافٹ پر پچاس فیصد تک ٹیکس لاگو کرنے کے اختیارات دیئے گئے ہیں ۔تاہم اب بینکوں کے ونڈ فال پرافٹ پر کس شرح سے ٹیکس لاگو کرنا ہے اس کا فیصلہ بھی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ قبل بینکوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر ونڈ فال پرافٹ کمانے کا انکشاف ہوا تھا جس پر اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے دور میں انکوائری کی گئی تھی اوروفاقی حکومت نے فنانس ایکٹ کے ذریعے مالی سال 2023-24 ء کے وفاقی بجٹ میں پچھلے پانچ سال کے دوران ڈالر کی قیمت میں اضافے سے بھاری ونڈ فال پرافٹ بنانے و الے بینکوں، لوگوں اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ردوبدل سے آئل ریفائنریوں و دیگر کاروباری یونٹس و لوگوں اور اداروں کی طرف سے حاصل ہونے والی ونڈفال آمدنی پر پچاس فیصد تک اضافی ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

فنانس بل کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کی سیکشن 99 ڈی میں اہم ترامیم کی گئی تھیں جن میں کہا گیا ہے کہ پچھلے پانچ ٹیکس سالوں کے دوران جن اداروں کمپنیوں اور لوگوں نے غیر متوقع آمدنی یا بھاری ونڈ فال پرافٹ کمایا ہے۔

ٹیکس وصولی میں کمی، 250 ارب اضافی اکٹھے کرنیکا فیصلہ

اسلام آباد: ایف بی آر نے ٹیکس وصولی میں کمی کو پورا کرنے کیلیے 250 ارب اضافی اکٹھے کرنیکا فیصلہ کرلیا۔

ایف بی آر نے درآمدی سطح پر ٹیکس وصولی میں کمی کو پورا کرنے کیلیے رواں مالی سال کے باقی ماندہ آٹھ ماہ کے دوران انسداد اسمگلنگ، انتظامی اور انفورسمنٹ اقدامات کے ذریعے 250 ارب روپے سے زائد کا اضافی ریونیو اکٹھا کرنے اور انکم ٹیکس ریٹرن فائلرز کی تعداد بڑھا کر 70 لاکھ تک لے جانے کیلیے بھی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلیے ریونیو جنریشن اسٹریٹجی اور انحانسمنٹ آف ٹیکس نیٹ پلان تیار کرکے فیلڈ فارمشن کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے تیار کردہ ریونیو جنریشن سٹریٹجی کے تحت ٹیکس واجبات کی بھی ریکوری کی جائے گی اس کے علاوہ قابل ٹیکس آمدنی رکھنے کے باوجود ٹیکس نیٹ سے باہر نئے لوگوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا، مختلف قانونی فورمز پر زیر التواء مقدمات میں پھنسے ہوئے اربوں روپے کے ریونیو کی ریکوری کیلئے ان کیسوں کی پیروی تیز کرکے کیسز جلد سے جلد نمٹانے کی کوشش کی جائے گی اور نان فائلرز کلے خلاف مہم بھی تیز کی جائے گی اس کے علاوہ ٹیکس چوری روکنے کیلئے ٹیئر ون میں شامل بڑی تاجروں کے بعد دوسرے شعبوں کے قابل ٹیکس آمدنی رکھنے والے لوگوں و ٹیکس دہندگان کوبھی پوائنٹ آف سیل سسٹم نصب کرکے الیکٹرانک سیلز ٹیکس انوائسنگ سسٹم نصب کرنے کیلئے نوٹیفائی کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے مرتب کردہ ریونیو جنریشن سٹریٹجی کے تحت کئے جانے والے ان اقدامات سے اضافی ریونیو حاصل کرنے کا بنیادی مقصد درآمدات میں کمی سے درآمدی سطع پر کسٹمز ڈیوٹی ،سیلز ٹیکس و دیگر ود ہولڈنگ ٹیکسوں کی مد میں متوقع کمی کو پورا کرنا ہے۔

بابراعظم کیساتھ افیئر، ہانیہ عامر بول پڑیں

پاکستان کی معروف اور خوبرو اداکارہ ہانیہ عامر نے قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کے ساتھ افیئر کی خبروں پر خاموشی توڑ دی۔

سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جو کہ اداکارہ ہانیہ عامر اور بابر اعظم کے دو مختلف انٹرویوز کی کلپ کو ایڈیٹ کرکے بنائی گئی ہے۔

انٹرویو میں ہانیہ عامر اور بابر اعظم کو ایک دوسرے کی تعریف کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے جبکہ ایک ایک کلپ میں دونوں اسٹارز کو گاڑی میں ایک ساتھ سفر کرتے ہوئے بھی دِکھایا گیا ہے۔

وائرل ویڈیو میں ہانیہ عامر اور بابر اعظم کی دیگر ویڈیو کلپس کو شامل کرتے ہوئے بیک گراوْنڈ میوزک میں گلوکار اُسامہ علی کا مقبول ترین گانا “چال چل تو اپنی، میں تجھے پہچان لوں گا” چل رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد صارفین نے ہانیہ عامر کا نام بابر اعظم کے ساتھ جوڑنا شروع کردیا اور اداکارہ کو ’بھابھی‘ کہہ کر پکارنے لگے۔

صارفین نے ہانیہ عامر کی پوسٹ پر کمنٹس کرتے ہوئے کہا کہ “ہانیہ صرف بابر کی ہے”، کچھ صارفین نے یہ نعرہ بھی لگایا کہ “ہماری بھابھی کیس ہو، ہانیہ جیسی، ہانیہ جیسی”۔

کچھ صارفین نے تو ہانیہ عامر سے یہ بھی کہا کہ “بابر بھائی سے شادی کرلیں”۔

ہانیہ عامر کی انسٹاگرام پوسٹ پر صارفین کے کپتان بابر اعظم سے متعلق کمنٹس:

دوسری جانب ہانیہ عامر نے سوشل میڈیا صارفین کے تبصروں سے تنگ آکر بالآخر اپنے اور بابر اعظم کے تعلقات کی خبروں پر خاموشی توڑ دی ہے۔

ہانیہ عامر نے سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ “بابر بھائی ہیں، برو”۔

اداکارہ کے ردعمل نے اُن تمام مداحوں کے دل توڑ دیے جو ہانیہ عامر اور بابر اعظم کو ایک ساتھ دیکھنے کے خواہشمند تھے۔

عمران خان کے وکیل کی استدعا پر نااہلی کیلیے دائر درخواست پر سماعت ملتوی

پشاور: چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل کی استدعا پر عمران خان کی نااہلی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ملتوی کردی گئی۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کی چیئرمین پی ٹی آئی کی نااہلی کے لیے دائر درخواست پر سماعت پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس عبدالشکور اور جسٹس سید ارشد علی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی۔

دوران سماعت پی ٹی آئی چیئرمین کے وکیل قاضی انور نے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دے دی، جس پر عدالت نے مزید سماعت ملتوی کردی ۔
چیئرمین پی ٹی آئی کی نااہلی کے لیے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان نے کاغذات نامزدگی فارم میں اثاثے چھپائے ہیں، ان کو نااہل قرار دیا جائے۔ عمران خان نے توشہ خانہ تحائف غیرقانونی طور پر فروخت کیے۔

درخواست کے مطابق عمران خان نے اپنی اہلیہ کی 70 لاکھ کی جیولری کو کاغذات نامزدگی فارم میں بھی ظاہر نہیں کیا۔ عمران خان نے ضمنی الیکشن کاغذات نامزدگی فارم میں اثاثے چھپائے جو الیکشن ایکٹ 2017ء کی خلاف ورزی ہے۔

بعد ازاں عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل کی استدعا پر کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی۔

غزہ جنگ؛ کی وجہ سے 70 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری میں تاخیر کا امکان

اسلام آباد: اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (SIFC ) نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ غزہ جنگ کی وجہ سے 70 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری تاخیر کا شکار ہوسکتی ہے۔

گزشتہ روز پہلی بار ایس آئی ایف سی کے معاملات پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن اور سیکریٹریSIFC اپیکس کمیٹی جہانزیب خان نے بتایا کہ ریکوڈک میں تانبے اور سونے کی کانوں کی قیمتوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، اور اس منصوبے میں سرمایہ کاری کا طریقہ کار طے کرنے کیلیے جلد سعودی عرب سے بات چیت کی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ مملکت نے سوورن فنڈ کے ذریعے 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا وعدہ کیا ہے، لیکن اس میں تاخیر ہوسکتی ہے، انھوں نے بتایا کہ 70 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری میں سے زیادہ تر حصہ نجی سرمایہ داروں کا ہوگا، اور غیر ملکی حکومتیں سوورن ویلتھ فنڈز کے ذریعے سرمایہ کاری کریں گی۔

انھوں نے کہا کہ سرمایہ کار صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور صورتحال بہتر ہونے پر سرمایہ کاری کا آغاز ہوگا، یہ ایک غیر معمولی صورتحال ہے، اور معاشی چیلنجز بہت سنجیدہ ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ غزہ کی جنگ نے سرمایہ کاری پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں، لیکن اس کا سرمایہ کاری پر کتنا اثر پڑا ہے، اس حوالے سے ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کو ریکوڈک منصوبے میں سعودی عرب کی جانب سے 6 سے 7 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کے جانے کی امید ہے، لیکن ابھی تک کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

جہانزیب خان نے اس حوالے سے بتایا کہ ہماری خواہش ہے کہ سعودی عرب ریکوڈک تانبے اور سونے کے ملحقہ بلاک میں بھی سرمایہ کاری کرے، لیکن مملکت ابھی صرف موجودہ بلاک میں ہی سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے، انھوں نے کہا کہ موجودہ بلاک کی مالیت کا اندازہ کرلیا گیا ہے اور جلد ہی سرمایہ کاری کے معاملات کو حتمی شکل سے دی جائے گی۔

انھوں نے بتایا کہ ریکوڈک مائنز کی ویلیو جاننے کیلیے تیسری پارٹی کو ذمہ داری دی گئی ہے اور امید ہے کہ ایوویلیو ایشن کا عمل مقرر کردہ ڈیڈ لائن 25 دسمبر سے پہلے ہی مکمل کرلیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ مالیاتی مشیروں نے حصص کی ایک خاص مقدار سعودی عرب کو دینے کی سفارش بھی کی ہے، ہم نے بیرک گولڈ اسمتھ کمپنی کو اپنے حصص سعودی عرب کو فروخت کرنے کیلیے کہا ہے، ہم اپنے حصص کی فروخت کے عمل کو شفاف رکھنا چاہتے ہیں اور کسی صورت بھی مارکیٹ ویلیو سے کم پر فروخت نہیں کریں گے، قومی مفاد کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔

معاشی فیصلوں میں آرمی کے اثر ورسوخ پر سوالات کا جواب دیتے ہوئے سیکریٹری SIFC نے کہا کہ ہم زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں آرمی کی صلاحیتوں کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، منرل سیکٹر میں سرمایہ کاروں کو تحفظ درکار ہے، جو آرمی کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب ابھی گرین فیلڈ انویسٹمنٹ پالیسی کا جائزہ لے رہا ہے، مملکت کے اطمینان کے بعد آئل ریفائنری کیلیے سرمایہ کاری لانا آسان ہوجائے گا۔

انھوں نے کہا کہ سولر پاور پلانٹس میں سرمایہ کاری کا معاملہ نیپرا کی جانب سے سولر کے ٹیرف سے منسلک ہے، ہماری کوشش ہے کہ جلد از جلد 70 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو عملی جامہ پہنایا جاسکے، لیکن منصوبوں کو میچیور ہونے میں وقت تو لگتا ہے۔

واضح رہے کہ SIFC اپنے قیام سے ابھی تک پانچ ماہ کے دوران کوئی سرمایہ کاری لانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔