دوران عدت نکاح کے خلاف دائر درخواست واپس، کیس خارج کردیا گیا

 اسلام آباد: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے درمیان دوران عدت نکاح کے خلاف دائر درخواست واپس لیے جانے پر جج نے کیس خارج کردیا۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے درمیان مبینہ طور پر غیر شرعی نکاح کیس کی سماعت ہوئی جو کہ جج قدرت اللہ کے روبرو ہوئی۔ درخواست گزار محمد حنیف اپنے وکیل فواد حیدر کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔

درخواست گزار نے تکنیکی بنیاد پر کیس واپس لینے کی درخواست دائر کردی جس میں کہا کہ کیس کی سماعت 25 نومبر کو مقررہے، تکنیکی بنیاد پر کیس واپس لینا چاہتا ہوں۔ اس پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے کیس خارج کردیا۔

واضح رہے کہ درخواست گزار نے عمران خان اور بشریٰ بی بی پر دوران عدت نکاح کرنے کا الزام عائد کر رکھا تھا۔

“جذبہ جنون” باتھ روم میں ریکارڈ ہوا تھا؛علی عظمت کا انکشاف

پاکستان میوزک انڈسٹری کے معروف گلوکار علی عظمت نے اپنے مشہور زمانہ گیت “جذبہ جنون” سے متعلق تہلکہ خیز انکشاف کرکے مداحوں کو حیران کردیا۔

حال ہی میں گلوکار علی عظمت نے پاکستن کے  لیجنڈ کرکٹر شعیب اختر کے ٹاک شو میں شرکت کی جہاں اُنہوں نے اپنے گیت “جذبہ جنون” سمیت مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔

اس پروگرام کا ایک مختصر ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے جس میں علی عظمت نے پاکستان کی میوزک انڈسٹری کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ “ہماری میوزک انڈسٹری کو کسی کی سپورٹ حاصل نہیں ہے، یہ اب بھی ایک کاٹیج انڈسٹری ہے”۔

علی عظمت نے کہا کہ “پاکستانی گلوکار و موسیقار تو وہ ہیں جو اپنے گھروں میں بیٹھ کر میوزک ریکارڈ کرتے ہیں کیونکہ کسی کی کوئی سپورٹ ہی نہیں ہے”۔

پروگرام میں اپنے مقبول ترین گانوں سے متعلق حیران  کُن انکشاف کرتے ہوئے علی عظمت نے کہا ک “ہم نے کراچی کے طارق روڈ پر ایک معمولی سے اسٹوڈیو کے باتھ روم میں گانا “سیونی” اور “جذبہ جنون” ریکارڈ کیا تھا”۔

علی عظمت نے مزید کہا کہ “اُس چھوٹے سے باتھ روم کو گتوں کی مدد سے ڈھکا ہوا تھا، بدبو کی وجہ سے سانس روک ریکارڈنگ کرنی پڑی، ہم نے بڑی مشکل سے ان مشہور گانوں کی آواز ریکادڑ کی”۔

واضح رہے کہ جنون بینڈ کا 1996ء میں ورلڈ کپ کے موقع پر گایا ہوا گیت ’جذبہ جنون‘ اُس دور کا مقبول ترین گیت سمجھا جاتا تھا جوکہ آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔

جنون بینڈ نے اپنے کیریئر میں سیونی، جذبہ جنون، یار بنا دل میرا نہیں لگدا، گھوم تانا  اور گرج برس جیسے کئی مشہور گیت گائے تاہم 2008ء میں یہ بینڈ متحد نہ رہ سکا اور ٹوٹ گیا۔

چین میں کورونا کے بعد ایک اور وبا نے سر اُٹھالیا

بیجنگ: چین میں کورونا کی طرح کے ایک اور مہلک وائرس کی زد میں آکر متعدد شہری بیمار پڑ گئے جنھیں سانس لینے میں تکلیف کا سامنا ہے اور علامات کورونا جیسی ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین میں کورونا اور انفلوئنزا جیسی علامات والی بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے جس پر حکومت نے ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے اسکولوں اور اسپتالوں سے اعداد و شمار طلب کرلیے۔

یہ مرض اتنی تیزی سے پھیل رہا ہے کہ عالمی ادارۂ صحت نے بھی چینی حکومت سے ریکارڈ مانگ لیا جب کہ اقوام متحدہ نے بھی بیماری کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔

یاد رہے کہ چین میں کورونا پابندیوں کے مکمل خاتمے کے بعد سے یہ پہلا موم سرما ہے۔ موسم سرما میں عمومی طور پر انفلوئنزا جیسے امراض پھوٹ پڑتے ہیں تاہم اس بیماری کے بارے میں تاحال کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔

 

 

البتہ ڈبلیو ایچ او نے چینی بچوں میں غیر تشخیص شدہ نمونیا کے کیسز میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈیٹا مانگا ہے جب کہ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ تاحال کوئی نئی بیماری سامنے نہیں آئی لیکن اسے جانچنے کی ضرورت ہے۔

 

 

ادھر چین نے ڈبلیو ایچ او کو جواب دیا ہے کہ یہ کیسز رواں برس مئی سے کووڈ کی روک تھام کے ساتھ ساتھ مائکوپلاسما نمونیا جیسے معروف پیتھوجینز کی وجہ سے پھیل رہی ہے جو کہ ایک عام بیکٹیریل انفیکشن ہے اور زیادہ تر بچوں کو متاثر کرتا ہے۔

چین کی حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس بیماری کے پھیلاؤ سے آگاہ ہیں اور عوام کو ہجوم والے مقامات اور اسپتالوں میں طویل انتظار کے وقت احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا کہا ہے تاہم یہ کووڈ جیسی پابندیاں نہیں۔

دوسری جانب میلبورن اسکول آف ہیلتھ سائنسز کے سربراہ بروس تھامسن نے کہا کہ ابتدائی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ کووڈ کی نئی شکل نہیں تاہم اس کی نگرانی کی سخت ضرورت ہے۔

ڈاکٹر فوزیہ کی امریکی جیل میں عافیہ صدیقی سے ایک بار پھر ملاقات طے

اسلام آباد: عافیہ موومنٹ کی سربراہ ڈاکٹر فوزیہ کی امریکی جیل میں اپنی بہن عافیہ صدیقی سے ایک بار پھر ملاقات طے ہو گئی۔

ڈاکٹر فوزیہ 2 اور 3 دسمبر کو عافیہ صدیقی سے امریکا میں ملاقات کریں گی، جس میں سینیٹر مشتاق اور سینیٹر طلحہ بھی ان کے ساتھ ہوں گے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کی، جس کے بعد ڈاکٹر فوزیہ کے وکیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں بہنوں کی ایک مرتبہ پھر ملاقات2 اور 3 دسمبر کو ہوگی۔

وکیل نے بتایا کہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے امریکا روانگی سے قبل کچھ سکیورٹی خدشات ہیں، انہیں دور کرنا حکومت پاکستان کی ذمے داری ہے ۔ عافیہ صدیقی امریکا کی بدنام ترین جیل میں قید ہیں، جہاں ان پر بدترین تشدد ہو رہا ہے۔ اولین ترجیح یہ ہوسکتی ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی فوری طور جیل تبدیل کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان سے بھی ہم نے عدالت کے ذریعے ریکارڈ حاصل کیا ہے۔ تمام ریکارڈر کی موجودگی میں اپنے کیس کو مضبوط بنارہے ہیں۔ عافیہ کے امریکی وکیل نے اپنے افغانستان وزٹ کے حوالے سے بھی عدالت کو آگاہ کیا ہے۔ وہ افغانستان میں عافیہ صدیقی کو قید کے دوران مظالم کے حوالے سے ثبوت اکٹھے کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے بھی عدالت کو ابھی سرسری طور پر آگاہ کیا ہے۔

وکیل کے مطابق پاکستانی ایمبیسڈرز جو عافیہ صدیقی سے ملاقات کے لیے جاتے رہے، اس کا بھی ریکارڈ لیا ہے۔ فارن افیئرز منسٹری وہ ریکارڈ دینے کو تیار نہ تھی تاہم عدالتی حکم پر ریکارڈ مل گیا ہے۔

نگراں وزیراعظم سے امام کعبہ شیخ صالح کی ملاقات

 اسلام آباد: نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ سے امام کعبہ پروفیسر ڈاکٹر شیخ صالح بن عبداللہ بن حُمَید نے آج ملاقات کی جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، وزیراعظم نے کہا کہ ہرمشکل وقت میں مدد کرنے پر سعودیہ کے شکر گزار ہیں۔

۔ ملاقات میں نگران وزراء انیق احمد، مدد علی سندھی، وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی مولانا طاہر اشرفی، متعلقہ اعلی حکام اور سعودیہ عرب کے پاکستان میں سفیر نواف بن سید المالکی بھی موجود تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور سعودیہ کے مابین تاریخی اور دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں جو مشترکہ عقیدے، اقدار اور ثقافت کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں، سعودیہ عرب نے پاکستان کی ہر مشکل وقت میں مدد کی ہے۔ وزیر اعظم نے پاکستان میں تعلیم اور صحت کے شعبے میں ترقی کیلئے سعودی تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ سے امام کعبہ پروفیسر ڈاکٹر شیخ صالح بن عبداللہ بن حُمَید کی ملاقات.

ملاقات میں وزیراعظم نے غزہ میں جاری نہتے فلسطینیوں پر ظلم اور بچوں کے قتلِ عام کی بھرپور الفاظ میں مذمت کی۔ وزیر اعظم نے فلسطینیوں کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی اور غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ وزیر اعظم نے غزہ میں امدادی سامان پہنچانے کیلئے فوری طور پر راہداری کے قیام پر بھی زور دیا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ اسلامی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم سے خبر ایجنسی کا قیام خوش آئند ہے، اسلام و فوبیا کے سد باب کیلئے اسلامی تاریخ اور ثقافت پر ڈاکیومینٹریز سے نوجوان نسل کو ہمارے تابناک ماضی کے بارے تعلیم دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وزیرِ اعظم نے اس امر پر زور دیا کہ اسلامی تعلیمات، تاریخ اور تقافت پر ڈاکیومینٹریز کو مختلف زبانوں میں نشر کیا جائے تاکہ دنیا کے ہر کونے میں لوگوں تک اسلام کا صحیح سیاق و سباق پہنچانے میں مدد مل سکے۔

امامِ کعبہ نے پاکستانی افرادی قوت کے سعودیہ عرب کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار کی تعریف کی۔ امام کعبہ نے پاکستان اور سعودیہ عرب کے مابین دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مثالی قرار دیا۔ امام کعبہ نے نسل نو کی اسلامی اقدار کے مطابق تربیت پر زور دیا۔

امام کعبہ نے ان کے دورہ کے دوران پاکستان کی جانب سے شاندار مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔

بھارت؛ عدم تعاون پر افغان سفارت خانے کے عملے نے دفتر کو تالا لگا دیا

نئی دہلی: بھارتی دارالحکومت میں واقع افغانستان کے سفارت خانے کو عملے نے مودی سرکار اور طالبان حکومت کی جانب سے عدم تعاون پر ہمیشہ کے لیے بند کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے بیان میں شکوہ کیا کہ بار بار کی یاد دہانیوں کے باوجود سفارت کاروں کے ویزوں میں توسیع نہیں کی گئی۔

افغان سفارت خانے کی سوشل میڈیا پر پوسٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت اور میزبان ملک بھارت کی جانب سے مسلسل نظر انداز کیے جانے اور عدم تعاون کے باعث سفارتی فرائض ادا نہیں کر پا رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حالات میں دفتر کو کھولے رکھنا ناممکن ہوگیا ہے اس لیے سفارت خانے کو تالا لگانے پر مجبور ہوگئے نیز چابیاں میزبان ملک بھارت کے حوالے کرکے افغان سفارت کار سیاسی پناہ کے لیے امریکا اور یورپ چلے گئے۔

بھارت اور طالبان حکومت کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے نئی دہلی میں افغان سفارت خانہ بند ہونے پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

یاد رہے کہ افغانستان میں اگست 2021 میں طالبان نے اقتدار سنبھال لیا تھا اور اب تک کسی ملک نے اس حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے تاہم کئی ممالک نے سفارتی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

طالبان وزارت خارجہ کے عدم تعاون اور فنڈز کی کمی کے باعث کئی ممالک میں موجود افغان سفارت خانوں کو عملہ بند کرنے پر مجبور ہوگیا ہے اور ان سفارت کاروں نے سیاسی پناہ کے لیے مغربی ممالک کا رخ کیا ہے۔

بھارتی فاسٹ بولر نودیپ سینی نے معروف فیشن بلاگر سے شادی کرلی

بھارتی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر نودیپ سینی نے سوشل میڈیا پر مقبول فیشن بلاگر سواتی سے شادی کرلی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق 2019 میں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں ڈیبیو کرنے والے فاسٹ بولر نودیپ سینی نے اپنی دیرینہ گرل فرینڈ سواتی آستھانہ سے شادی کرلی جس کی تصاویر اُنہوں نے اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاوْنٹ پر پوسٹ کیں۔

نودیپ سینی نے اپنی شادی کے دن سفید رنگ کی شیروانی پہنی جبکہ اُن کی دلہن نے بھی سیفد رنگ کا خوبصورت عروسی لباس زیب تن کیا۔

بھارتی فاسٹ بولر اور فیشن بلاگر سواتی نے مشترکہ پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے لکھا کہ “آپ کے ساتھ، ہر دن محبت کا دن ہے، سب کی دُعاوْں کے ساتھ ہم اپنی زندگی کے نئے سفر کا آغاز کررہے ہیں”۔

نودیپ سینی اور سواتی کی پوسٹ پر بھارتی کرکٹرز اور مداحوں کی جانب سے شادی کی مبارکباد دی گئی اور ساتھ ہی اس جوڑے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا گیا۔

واضح رہے کہ سواتی فیشن، ٹریول (سفر) اور لائف اسٹائل کے شعبوں میں ایک ماہر بلاگر ہیں، اُن کے انسٹاگرام پر 85 ہزار سے زائد فالوورز ہیں جبکہ یوٹیوب پر بھی اُن کا اپنا چینل ہے۔

دبئی کریک ٹاور دنیا کی اگلی بلند ترین عمارت

دبئی کریک ٹاور دبئی، متحدہ عرب امارات میں زیر تعمیر ایک انتہائی لمبا ٹاور ہے جسے معمار سینٹیاگو کالاتراوا نے ڈیزائن کیا ہے۔ دبئی کریک کے قریب واقع، یہ للی کے پھول اور ایک مینار سے متاثر ہوتا ہے، جس میں مرکزی مضبوط کنکریٹ کور کی خاصیت اسٹیل کیبل کے ساتھ ایک الگ بصری اثر پیدا کرتی ہے۔

ڈویلپر ایمار پراپرٹیز نے سرکاری طور پر دبئی کریک ٹاور کی درست اونچائی کا انکشاف نہیں کیا ہے، لیکن اس کی کم از کم 1,300 میٹر (4,300 فٹ) اونچائی متوقع ہے۔ یہ برج خلیفہ کی اونچائی سے زیادہ ہو جائے گا، جو 828 میٹر (2,717 فٹ) پر کھڑا ہے۔

یہ ٹاور 6 مربع کلومیٹر پر محیط دبئی کریک ہاربر ڈسٹرکٹ کا فوکل پوائنٹ ہوگا۔ اگرچہ صحیح اونچائی نامعلوم ہے، اس کے 1,300 میٹر سے زیادہ ہونے کا قیاس ہے، ممکنہ طور پر 1,400 میٹر تک پہنچ سکتا ہے۔

تعمیر اکتوبر 2016 میں شروع ہوئی تھی، جو اصل میں 2021 میں مکمل ہونے والی تھی، لیکن ٹائم لائن COVID-19 وبائی مرض سے متاثر ہوئی ہے۔ 2023 تک، اگلے سال کے اندر تعمیر کا دوبارہ آغاز متوقع ہے۔

مقبوضہ کشمیر اور ہریانہ میں بھارتی فوجیوں نے خودکشی کرلی

سری نگر: مقبوضہ کشمیر کے ضلع کشتور اور ریاست ہریانہ میں الگ الگ واقعات میں بھارتی فوج کے اہلکاروں نے ڈیوٹی کے دوران ہی پھندا لگا کر اپنی زندگیوں کا خاتمہ کرلیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق خودکشی کا پہلا واقعہ مقبوضہ کشمیر میں پیش آیا جہاں نیم فوجی دستے سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے کانسٹیبل منیش رانجن داس کی لاش فوجی اڈے میں ان کے کمرے میں پنکھے سے لٹکی ہوئی ملی۔

ابتدائی تفتیش میں یہ خودکشی کا واقعہ کا لگتا ہے تاہم جائے وقوعہ سے خودکشی نوٹ نہیں ملا۔ تفتیشی عمل جاری ہے۔ لاش کو ضروری کارروائی کے بعد آبائی علاقے منتقل کردیا گیا۔
اسی طرح ریاست ہریانہ میں ایک اور نیم فوجی دستے تبت بارڈر فورس کے ایک اہلکار نے آرمی بیس میں اپنے کمرے میں چھت سے لٹک کر خودکشی کرلی۔ اہلکار کی شناخت کَرَن کمار کے نام سے ہوئی ہے۔

بھارتی فوج کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خودکشی کے دونوں واقعات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اگر کوئی ذمہ دار پایا گیا تو سخت کارروائی کریں گے۔

یاد رہے کہ بھارتی فوج میں پست ہمتی اور ذہنی دباؤ کے باعث خودکشی کرنے کے واقعات عام ہیں۔ افسران کے ناروا سلوک اور جنسی ہراسانی کی وجہ سے متعدد خواتین اہلکار بھی اپنے ہاتھوں اپنی جان لے چکی ہیں لیکن کسی بھی تحقیقات میں کسی افسر کو سزا نہیں دی گئی۔

سینیٹرعرفان صدیقی کا فوجداری ایکٹ میں ترمیم کے گمشدہ بل پر وزیراعظم سے رابطہ

اسلام آباد: سینیٹر عرفان صدیقی نے ضابطہ فوجداری ایکٹ میں ترمیم کے گم شدہ بل پر وزیراعظم سے مدد مانگ لی۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر عرفان صدیقی نے اپنے گمشدہ بل کے سراغ کے لیے نگران وزیر اعظم سے رابطہ کرتے ہوئے کہا ہےکہ بل کی گمشدگی پارلیمنٹ کے وقار اور بالا دستی کا معاملہ ہے۔ وزیر اعظم ہاوٴس میں گم ہو جانے والے بل کا سراغ لگانے میں ان کی مدد کی جائے۔

نگراں وزیراعظم انوار الحق کے نام خط میں سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ انہوں نے جنوری 2022 ء میں ضابطہ فوجداری ایکٹ میں ترمیم کے لیے ایک بل پیش کیا تھا۔ متعلقہ قائمہ کمیٹی کی طرف سے متفقہ سفارش کے بعد یہ بل 23 مئی 2022 ء کو سینیٹ میں اتفاق رائے سے منظور کر لیا، جس کے بعد یہ بل قومی اسمبلی میں گیا جس نے اسے 8 جون 2022 ء کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا۔
خط کے مطابق قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے بل 20 جون 2022ء کومزید کارروائی کے لیے وزارت پارلیمانی امورکو بھیج دیا۔ پارلیمانی امور کی وزارت نے یہ بل 21 جون کو وزیر اعظم آفس بھیج دیا تا کہ اسے صدارتی منظوری کے لیے ایوان صدر بھیج دیا جائے۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے نگران وزیر اعظم سے کہا کہ 21 جون 2022 ء کو تقریباً 17 ماہ گزر گئے ہیں لیکن اس بل کا کوئی سراغ نہیں مل رہا، جب کہ ایوان صدر وضاحت کر چکا ہے کہ مذکورہ بل صدر کے پاس نہیں پہنچا۔

سینیٹر عرفان صدیقی نے وزیر اعظم کے نام خط میں مزید بتایا کہ وزارت پارلیمانی امور اور سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے امور داخلہ کے رابطوں کے باوجو د وزیر اعظم آفس سے اس بل کے بارے میں کوئی جواب موصول نہیں ہو رہا۔ اس لیے آپ سے گزارش ہے کہ آپ اس بل کی تلاش میں میری مدد کریں کیونکہ یہ میرے بل کا نہیں پارلیمنٹ کے وقار اور بالا دستی کا معاملہ ہے۔

واضح رہے کہ سینیٹر عرفان صدیقی نے پرائیویٹ رکن کے طور پر ضابطہ فوجداری ( ترمیمی بل ) 2022 ء سینیٹ میں پیش کیا تھا جس میں اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے عدالتی اختیارات ختم کرنے کے لیے قانون سازی کی گئی تھی، لیکن پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد یہ بل وزیر اعظم ہاوٴس میں گم ہو گیا تھا، جس کا تاحال سراغ نہیں لگایا جا سکا۔

وزیراعلیٰ کا سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو 4 روز میں کراچی صاف کرنے کا حکم

نگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر نے سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو چار روز میں کراچی صاف کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

کراچی میں جسٹس (ر) مقبول باقر کی زیر صدارت تمام سوک ایجنسیز کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعلیٰ نے شہر میں صفائی کے ناقص انتظامات پر برہمی کا اظہار کیا۔

اس موقع پر نگراں وزیراعلیٰ نے کہا کہ تمام اداروں کو ہدایات کے باوجود کراچی کی حالت بہترنہیں ہوئی، شہرکی صفائی نہیں، گٹرابل رہے ہیں، پہلے شہر کے مسائل تو حل کریں۔

مقبول بار نے سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے کام پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے 4 روز میں شہر صاف کرکے رپورٹ دینے کا حکم دیا۔

کراچی میں ہر طرف گندگی ہے، اب کسی کو معاف نہیں کروں گا، مقبول باقر

نگراں وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صفائی کا کام کرنے والی کمپنیوں کو عوام کا پیسہ دیتے ہیں، کمپنیوں سے کام لینا سولڈ ویسٹ اور ٹاؤنز کا کام ہے، کراچی میں ہر طرف گندگی ہے، لہٰذا اب کسی صورت معاف نہیں کروں گا۔

اجلاس میں واٹر بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفسر اسد اللہ نے وزیراعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اسکیم 33 اور اورنگی کے علائقوں میں نکاسی کا نظام نہیں، چھوٹے پلاٹوں پر بنے رہائشی ٹاورز کے گٹر ابلتے ہیں، صفائی ستھرائی و نکاسی کے مسائل حل کرنا سولڈ ویسٹ اور کینٹونمنٹ بورڈ کا کام ہے۔

نگراں وزیراعلیٰ نے کہا کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) اور کینٹونمنٹ اگلے ہفتے اپنے اختیارات سے متعلق مسائل حل کریں۔

شہر میں 3 لاکھ گٹر ہیں، انکے ڈھکن فائبر کے بنانا شروع کیے ہیں، میئر کراچی

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے اجلاس کے شرکاء کو آگاہ کیا کہ شہر میں 3 لاکھ گٹر اور مین ہولز ہیں، گٹرز کے ڈھکنے اب فائبر کے بنانا شروع کے ہیں جو چوری نہیں ہوں گے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ نیا ناظم آباد – بنارس سڑک کی استرکاری کا فیصلہ کیا ہے، سڑک پر نکاسی کی لائنیں بھی بچھائی گئی ہیں، وزیراعلیٰ نے میئر کراچی کو سڑک جلد ٹھیک کروانے کی ہدایت کردی۔

ڈیم فنڈ میں 17 ارب 86 کروڑ روپے سے زائد رقم موجود ہے، نگراں وزیر خزانہ

اسلام آباد: نگراں وزیر خزانہ شمشاد اختر نے کہا ہے کہ ڈیم فنڈ میں 17 ارب 86 کروڑ روپے سے زیادہ رقم موجود ہے۔

سینیٹ کے اجلاس میں ڈیم فنڈ سے متعلق تفصیلات کا تحریری جواب نگراں وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے جمع کروا دیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ ڈیم فنڈ میں 17 ارب 86 کروڑ 28 لاکھ 76 ہزار 620 روپے موجود ہیں۔

نگراں وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے ایوان میں چیف جسٹس۔ پرائم منسٹر ڈیم فنڈ کے تحت جمع کی گئی رقم اور اس کے استعمال کی تفصیلات سے متعلق تحریری جواب جمع کروا دیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ 26 جولائی 2023ء تک 11 ارب 46 کروڑ 69 لاکھ 37 ہزار 658 روپے موصول ہوئے۔
نگراں وزیر خزانہ کے جمع کرائے گئے جواب کے مطابق سرکاری سرمایہ کاری پر منافع کی صورت میں 6 ارب 29 کروڑ 59 لاکھ 38 ہزار 962 روپے حاصل ہوئے۔ جس سے فنڈ کی رقوم کی مالیت 17 ارب 86 کروڑ 28 لاکھ 76 ہزار 620 روپے ہوچکی ہے۔ تاوقتیکہ اسٹیٹ بینک میں کھولے جانے والے اکاؤنٹ سے کوئی رقوم نہیں نکالی گئیں۔

اسلام دشمن پارٹی کی فتح پر نیدر لینڈ میں مسلمان خوف کا شکار

ہالینڈ کے مشہور پاپولسٹ سیاست دان گیرٹ ولڈر پارلیمانی الیکشن میں کامیابی کو اپنی سیاسی زندگی کا سب سے خوبصورت دن قرار دے ہے۔

برطانوی اخبار کے مطابق گیرٹ ولڈر کی الیکشن میں کامیابی نے نیدرلینڈ میں مقیم مسلمانوں خوف میں مبتلا کردیا ہے۔ اس حوالے محسن کوکتاس نے کہا کہ یہ انتخابی نتائج ڈچ مسلمانوں کے لیے چونکا دینے والے ہیں۔

پارٹی فار فریڈم (پی وی وی) کی سربراہی میں گیرٹ ولڈرنے طویل عرصے سے اسلام کو نشانہ بنایا ہے اور اُسے ایک پسماندہ مذہب کے طور پر بیان کررہے ہیں۔

گیرٹ ولڈر نے انتخابات سے قبل اپنی اسلام مخالف بیان بازی کو نرم کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے قانون اور آئین کے اندر رہتے ہوئے پالیسیوں کو آگے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

ان کی پارٹی کے منشور میں مساجد، قرآن اور سرکاری عمارتوں میں اسلامی حجاب پر پابندی شامل ہے۔

مسلمانوں اور حکومت کے درمیان رابطہ کرنے والی ایک باڈی رکن محسن کوکتاس نے کہا کہ ہمیں ہالینڈ میں اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل کے بارے میں بہت زیادہ تشویش ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہالینڈ بھر کے لوگ قانون کی حکمرانی کے دفاع اور تحفظ کے لیے اکٹھے ہوں گے، یہ نہ صرف مسلمانوں کے مستقبل کے لیے بلکہ پرامن ڈچ معاشرے کے مستقبل کے لیے بھی ضروری ہے۔

ڈچ مراکش کی نمائندہ ایک ڈچ تنظیم کی قیادت کرنے والے حبیب الکدوری نے کہا کہ گیرٹ ولڈر مسلمانوں اور مراکش کے بارے میں اپنے خیالات کے لیے مشہور ہیں، ہمیں ڈر ہے کہ وہ ہمیں دوسرے درجے کے شہری کے طور پر پیش کریں گے۔

اقلیتی حقوق کی پارٹی ڈینک کے رہنما اسٹیفن وین بارلے نے گیرٹ ولڈرکو انتخابی کامیابی پر مبارکباد دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ پارٹی فار فریڈم (پی وی وی ) سب سے بڑی پارٹی ہے ایک ملین ڈچ مسلمانوں کے لیے خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ گیرٹ ان کے حقوق چھیننا چاہتے ہیں، انتخابی نتائج ہماری قانونی ریاست کے لیے خطرہ ہیں، یہ کسی بھی مبارکباد کے مستحق نہیں ہیں۔

گیرٹ ولڈر نے کہا کہ وہ اپنے ووٹروں کی امیدوں پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے اور اس عزم کا اظہار کیا کہ نیدرلینڈز کو ڈچوں کو واپس کر دیا جائے گا، پناہ لینے والوں کو روک دیا جائے گا۔