پاک امریکا تجارتی و ٹیکنالوجی شعبہ کے تعلقات میں اضافہ ہو رہا ہے، مسعود خان

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) امریکا میں پاکستان کے سفیر مسعود خان نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان بزنس ٹو بزنس خاص طور پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعلقات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
میریڈیئن انٹرنیشنل سینٹر کے دورہ کے موقع پر چیف ایگزیکٹو افسر اور سابق امریکی سفیر سٹورٹ ہالیڈے سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا پاکستان کے لیے سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے اور آنے والے سالوں میں دوطرفہ تجارت مزید بڑھے گی، پاک امریکا تعلقات کا موجودہ مرحلہ اقتصادی تعاون بڑھانے پر مرکوز ہے۔
مسعود خان نے مزید کہا کہ حالیہ اعلیٰ سطح کے دوروں میں ہم نے تجارت، زراعت، کاروبار، ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی، سبز توانائی، آفات سے نمٹنے کی تیاری، ماحولیات، صحت اور عوام کے عوام سے درمیان روابط کے شعبوں کو ترجیح دی ہے۔
میریڈیئن انٹرنیشنل سینٹر کے سربراہ نے یقین دلایا کہ ہمارا سنٹر پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلیم، قیادت کے تربیتی پروگرام، موسمیاتی تبدیلی، ثقافت اور کاروبار کے شعبوں میں قریبی تعلقات کو فروغ دینے میں معاونت کرے گا، میریڈیئن انٹرنیشنل سینٹر ایک غیر جانبدار ادارہ ہے جو موثر قیادت اور سفارت کاری کے ذریعے عالمی سلامتی اور خوشحالی کے عمل کو آگے بڑھانا چاہتا ہے

امید تھی جنرل (ر) باجوہ کے بعد فوج نیوٹرل ہوگی بدقسمتی سے ایسا نہیں: عمران خان

لاہور: (ویب ڈیسک) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ ہم امید کر رہے تھے کہ جنرل (ر) باجوہ کے بعد فوج نیوٹرل ہو گی لیکن بدقسمتی سے ابھی نیوٹرل نہیں، مسٹر ایکس، مسٹر وائے نے ہمارے ایم پی ایز کو دھمکیاں دیں۔
ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارے ایم پی ایز کو کہا گیا عمران پر کانٹا ڈال دیا گیا ہے، نواب اکبر بگٹی پر کانٹا لگایا تھا اور آج تک بلوچستان کے حالات ٹھیک نہیں ہوئے، سیاسی لیڈروں کو کانٹے لگا کر ختم نہیں کیا جا سکتا، ایسے واقعات سے سیاسی لیڈر ختم نہیں ملک کو نقصان ہوتا ہے، نئے آرمی چیف سے میری کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا اسٹیبلشمنٹ ایک حقیقت ہے جو سب سے زیادہ منظم ہے، کورونا، پولیو، سیلاب، ٹڈی دل کے دوران فوج نے بہت زیادہ مدد کی، جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینا میری سب سے بڑی غلطی تھی، ایکسٹینشن کے بعد جنرل (ر) باجوہ نے ان کو این آر او دیا تھا، این آر او دے کر ظلم کیا گیا، ہمیں پتا ہی نہیں تھا کہ حسین حقانی کو فارن آفس نے ہائر کیا، اس نے امریکا میں میرے خلاف لابی اور باجوہ کو سپورٹ کرنا شروع کر دیا تھا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا یہ لوگ الیکشن نہیں آکشن کے ذریعے آتے ہیں، ان کے ساتھ سابق آرمی چیف ملا ہوا تھا، جنرل (ر) باجوہ کہتے تھے اکانومی پر توجہ دیں احتساب کو بھول جائیں، وہ ایکسٹینشن سے پہلے لوگوں کو ان کی چوری کا بتاتے تھے، انہوں نے کہا یہ لوگ کرپٹ ہیں، جنرل (ر) باجوہ نے یوٹرن لیا پہلے انہیں چور پھر انہی کو اوپر بٹھا دیا، نواز شریف کی رپورٹ دیکھ کر ہم سب گھبرا گئے تھے۔
عمران خان نے کہا آہستہ آہستہ ہمیں پتا چلا نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس غلط بنی، انہوں نے شہباز گل کی رپورٹ کو بھی تبدیل کیا، کبھی اتنے برے حالات نہیں تھے جتنے آج ہیں، آج پارلیمنٹ فنکشنل نہیں ہے، جب ہم نے پارلیمنٹ جانے کا اعلان کیا تو یہ ڈر گئے، اپنی چوریاں بچانے کیلئے نیب، ایف آئی اے کو ختم کر دیا، ملک میں اگر صاف اور شفاف الیکشن کا راستہ نہیں اپنائیں گے تو حالات اس طرف جائیں گے پھر سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ جو کچھ پی ڈی ایم نے 8 ماہ میں کر دیا کوئی دشمن بھی نہیں کر سکتا تھا، آج معاشی حالات دن بدن خراب ہو رہے ہیں، آٹھ لاکھ پڑھے لکھے نوجوان ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں، اس تباہی کو روکنے کیلئے شفاف الیکشن کرایا جائے، میرا خوف ہے کہیں عمران خان اقتدار میں نہ آجائے، میرے خوف کی وجہ سے الیکشن نہیں کرا رہے، مجھے ڈر ہے سری لنکا والے حالات نہ شروع ہو جائیں۔
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ آج ملک میں بہت زیادہ مایوسی ہے، کراچی پورٹ پر کینٹینرز کھڑے ہیں پاکستان ڈوب رہا ہے، ملک میں شفاف الیکشن سےہی استحکام آسکتا ہے، نئے مینڈیٹ والی حکومت وہ ریفارمز کرے جو پہلے کبھی نہیں ہوئیں، اقتدار میں آئے توسب سے پہلے رول آف لاء قائم کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا انشاء اللہ ٹھیک ہو کر سندھ کے اندر جانا ہے، سب سے زیادہ سندھ کو لوٹا جا رہا ہے، پیپلز پارٹی والے سندھ کو بے شرمی سے لوٹ رہے ہیں، سندھ کی عوام سب سے زیادہ مظلوم ہے، کراچی کے لوگ سب سے زیادہ شعور والے ہیں، ان کی کرپشن نے کراچی کو کھنڈر بنا دیا ہے، کراچی کے لوگ پیپلز پارٹی سے نفرت کرتے ہیں، وہ بے شرمی سے کرپشن، چوری کرتے ہیں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ کراچی میں تین کروڑ روپے ایک بلڈنگ کی منظوری کیلئے لیا جاتا ہے، کراچی والے کیسے پیپلز پارٹی کو ووٹ دے سکتے ہیں، کراچی میں الیکشن نہیں مذاق ہوا ہے، یہ الیکشن ختم کر دینا چاہیے، بلدیاتی الیکشن میں دھاندلی کی گئی اور الیکشن کمیشن سو رہا ہے، پولیس، انتظامیہ، الیکشن کمیشن سب دھاندلی میں ملوث ہیں، کراچی اور سندھ میں تنظیم کو بہتر کریں گے۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ڈسکہ میں 25 پولنگ سٹیشن پر مسئلہ ہوا تو الیکشن کمیشن نے پورا الیکشن کرا دیا تھا، تمام جماعتوں نے کہا بلدیاتی الیکشن میں دھاندلی ہوئی، الیکشن کمیشن کنٹرولڈ ہے، اگر اس طرح کے الیکشن کرانے ہیں تو بہتر ہے نہ کرائے جائیں، الیکشن کمیشن نےصرف تحریک انصاف کے خلاف فیصلے دیئے، توشہ خانہ کیس میں عدالت نے جب تمام تفصیلات مانگی تو کہا گیا یہ سیکرٹ ہے۔
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ میں نے اپنی گھڑی بیچی، حکومت، ہنڈلرز نے اتنا شور مچا دیا، گھڑی کیس میں کھودا پہاڑ نکلا چوہا، تحریک انصاف نے چالیس ہزار ڈونرز کا ڈیٹا دیا، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) کی فنڈنگ کیس کو سنا ہی نہیں جا رہا، لانگ مارچ میں مجھے ان کی سازش کا پہلے ہی پتا تھا، تین لوگوں نے مل کر پلان کیا تھا، میرے خلاف توہین مذہب کے حوالے اشتہار چلائے گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے پتا چل گیا تھا انہوں نے سلمان تاثیر والا قتل کرانا ہے، ان کے پریشر ڈالنے سے اب یقین ہو گیا یہی لوگ ملوث تھے، جے آئی ٹی کے ممبران نے اپنے بیانات تبدیل کر لیے، اگر مجھے انصاف نہیں مل سکتا تو مطلب ملک میں جنگل کا قانون ہے، ملک میں انصاف کے نظام کو ٹھیک کرنے تک معیشت ٹھیک نہیں ہو سکتی۔

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے پیداوار میں اضافہ، غربت کم کرنے میں مدد ملی، آئی ایم ایف

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے ایشیاء و بحرالکاہل کے خطہ کی پیداوار میں اضافہ اور غربت کی شرح کم کرنے میں مدد ملی ہے۔
آئی ایم ایف نے اپنے ایک بلاگ میں کہا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے پبلک پرائیویٹ سیکٹرز کی استعداد کار کو فروغ دیا جا سکتا ہے، اسی طرح ٹیکنالوجی کے استعمال مالیات اور تعلیم تک آسان رسائی کے علاوہ نئی منڈیوں کے قیام میں بھی مدد ملتی ہے ۔
ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے استعمال سے کمپنیاں اپنے دور دراز کے کسٹمرز کی بہتر انداز میں خدمت کر سکتی ہیں۔

ہیلری کلنٹن کیخلاف غیرسنجیدہ مقدمہ کرنے پر ٹرمپ پر لاکھوں ڈالر جرمانہ

فلوریڈا: (ویب ڈیسک) امریکی عدالت نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی وکیل پر سابق امریکی وزیر خارجہ و خاتون اول ہیلری کلنٹن کے خلاف غیر سنجیدہ مقدمہ کرنے پر 10 لاکھ ڈالرکا جرمانہ کر دیا۔
فلوریڈا کی ایک عدالت نے ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی وکیل پر مشترکا طور پر 10 لاکھ ڈالر سے زائدکا جرمانہ کیا۔
فلوریڈا کے ڈسٹرکٹ جج ڈونلڈ ایم بروکس نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اپنے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے عدالتوں کا ناجائز استعمال کرنے پر سابق صدر ڈونلڈٹرمپ پر جرمانہ کیا گیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ہیلری کلنٹن کے خلاف 2016 کے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کا دعویٰ کرنے پرگزشتہ سال مارچ میں مقدمہ کیا تھا۔
ہیلری کلنٹن کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ کا مقدمہ وفاقی عدالت نےگزشتہ سال ستمبر میں خارج کر دیا تھا۔

نیٹ فِلکس پرائیوٹ جہاز کے لیے میزبان کی ملازمت، تنخواہ 9 کروڑ روپے سالانہ

کیلیفورنیا: (ویب ڈیسک) مشہورآن لائن فلمساز کمپنی نیٹ فِلکس نے اپنے اعلیٰ عہدیدار کے پرائیوٹ جیٹ جہاز کے لیے ایئرہوسٹ یا ہوسٹیس کی ملازمت کا اشتہار دیا ہے۔ اشتہار کے مطابق اس کی کم سے کم تنخواہ 60 ہزار اور زیادہ سے زیادہ 385,000 ڈالر ہوسکتی ہے۔ اس طرح پاکستانی کرنسی میں یہ رقم 8 کروڑ 80 لاکھ روپے بنتی ہے۔
تاہم اشتہار سے لگتا ہے کہ مختصر اور طویل ترین سفر کے بہت سے پرائیوٹ جیٹ کے لیے مختلف فضائی میزبان درکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تنخواہ میں اتنا فرق جبکہ اکثر طیاروں کی قسم جی 550 جیٹ جہاز پرمشتمل ہے۔
اشتہار میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ تنخواہ ’رائج مارکیٹ کے تحت ہی ہوگی،‘ ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ فلائٹ اٹینڈنٹ کو سان ہوزے بین الاقوامی ایئرپورٹ سے پرواز کرنا ہوگی۔ اسی لیے فضائی میزبان کی اس ملازم رہائش شمالی کیلیفورنیا میں ہی ہو تو بہتر ہوگا۔ اس کے علاوہ کہا گیا ہے کہ وہ ’نیٹ فلِکس کا آزادی اور ذمے داری پر مشتمل کلچر کو بھی قبول‘ کرنے والی یا والا ہو۔
اشتہار میں کہا گیا ہے کہ ایئرہوسٹ یا ہوسٹیس کو ایف اے اے سرٹیفائڈ ہونا چاہیے جو طیارے سے اچھی طرح واقف ہو۔ وہ 30 پاؤنڈ وزن اٹھانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔

ملکی وے کہکشاں کے گلیکٹک پلین کی تازہ ترین تصویر جاری

ورجینیا: (ویب ڈیسک) محققین کی جانب سےملکی وے کہکشاں کے گلیکٹک پلین کے تازہ ترین سروے کے بعد اس کی تفصیلی تصویر جاری کر دی گئی۔ اس تصویر میں 3.32 ارب اجرامِ فلکیات دیکھی جاسکتی ہیں۔
گلیکٹک پلین ایک ایسی فرضی خط ہوتی ہے جو کہکشاں کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔
اپنی نوعیت کے انتہائی بڑے، ممکنہ طور پر سب سے بڑے، خلائی کیٹلاگ کو چلی میں نصب سیرو ٹولولو انٹر-امیریکن آبزرویٹری کے ڈارک انرجی کیمرا سے حاصل کیے گئے ڈیٹا سے ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ مشاہدہ گاہ امریکا کی نیشنل سائنس فاؤنڈیشن (این ایس ایف) کے تحت کام کرتی ہے۔
این ایس ایف کی ڈویژن ڈائریکٹر آف آسٹرونومیکل سائنسز ڈیبرا فشر نے ایک بیان میں کہا کہ فرض کریں تین ارب سے زائد افراد کی ایک گروپ فوٹو ہو اور ہر فرد کو واضح دیکھا جاسکتا ہو۔ ماہرینِ فلکیات آنے والی دہائیوں میں تین ارب سے زائد ستاروں پر مشتمل اس پورٹریٹ کا بغور مطالعہ کریں گے۔
ہماری ملکی وے کہکشاں میں کھربوں ستارے، بڑی تعداد میں ستارہ ساز خطے اور گیس اور غبار کے بڑے بڑے بادل موجود ہیں۔ ان اجرامِ فلکیات کی فہرست ترتیب دینا بہت بڑا کام ہے جو ماہرین کی ٹیم نے انجام دیا ہے۔
محققین نے بصری اور نیئر انفرا ریڈ طول امواج پر ملکی وے کی گلیکٹک خط کا مشاہدہ کرنے کے لیے ڈارک انرجی کیمرا کا استعمال کیا اور اس خطے کی ایسی تفصیلات حاصل کیں جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
اس کیٹلاگ کو مکمل ہونے میں دو سال کا عرصہ لگا جس کے لیے ڈارک انرجی کیمرا نے 10 ٹیرا بائیٹس سے زیادہ کا ڈیٹا فراہم کیا جس کے لیے جنوبی آسمان کی 21 ہزار 400 انفرادی طور پر عکاسی(ایکسپوژر) کی گئی۔

واٹس ایپ صارفین اب چیٹ میں ‘اوریجنل کوالٹی’ کی تصاویر بھیج سکیں گے

مینلو پارک: (ویب ڈیسک) واٹس ایپ انتظامیہ نے سال 2023ء کے اہم ترین فیچر پر کام شروع کردیا جس سے واٹس ایپ صارفین چیٹ میں ‘اوریجنل کوالٹی’ کی تصاویر بھیج سکیں گے۔
صارفین کی ضرورت اور مطالبے کو مدنظر رکھتے ہوئے واٹس ایپ کی جانب سے یہ اپ ڈیٹ رواں سال کی سب سے بڑی اپ ڈیٹس میں سے ایک ہوگی کیونکہ اعلیٰ معیار کی تصاویر وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہیں۔
اس حوالے سے واٹس ایپ بیٹا نے ایک سکرین شاٹ بھی جاری کیا ہے جس میں تصویر کے معیار کا آئیکن ڈرائنگ اور دیگر ٹولز کے ساتھ موجود ہے، اس آئیکن کی مدد سے واٹس ایپ صارفین تصاویر بھیجنے سے پہلے اس کی کوالٹی کا انتخاب کر سکیں گے کہ تصویر لو کوالٹی میں بھیجنی ہے یا اوریجنل کوالٹی میں۔
جہاں اس نئے فیچر کا فائدہ ہے وہاں ایک نقصان بھی ہے، اوریجنل کوالٹی میں تصویر بھیجنے سے صارفین کا بہت زیادہ ڈیٹا استعمال ہوگا، اور موبائل سٹوریج پر بھی اضافی بوجھ پڑے گا، انتظامیہ نے یہ فیچر جلد صارفین کے لئے پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مستحقین کی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شمولیت کیلئے جلد بھرپور سروے کیا جائیگا، فیصل کریم کنڈی

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے تخفیف غربت و سماجی تخفظ فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندانوں کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل کرنے کیلئے جلد ایک بھرپور سروے کیا جائے گا۔
ریڈیو پاکستان کے پروگرام ہاٹ لائن میں فون کرنے والوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے فیصل کنڈی نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے تقریباً 800,000 افراد کوبی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والوں کی فہرست سے نکال دیا تھا اور اب ہم مستحق افراد کو دوبارہ شامل کرنے کے فیصلے کا جائزہ لے رہے ہیں۔
انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ سروے میں حصہ لیں تاکہ کوئی بھی حقیقی مستحق خاتون پیچھے نہ رہ جائے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے 87 لاکھ مستحقین کے لیے 55 ارب روپے جاری کیے ہیں، اس کے علاوہ بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والوں کے بچوں کو تعلیمی وظائف کی دو قسطیں جاری کی گئی ہیں، پرائمری کلاس کے طلبا بشمول لڑکے اور لڑکیوں کو بالترتیب 1500 روپے اور 2000 روپے تعلیمی وظیفہ دیا جا رہا ہے۔
ایک فون کرنے والے کو جواب دیتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا کہ بیرون ملک جانے والے مستحقین کے کارڈز بلاک کر دیے گئے تھے لیکن اب ہم اس معاملے پر غور کر رہے ہیں، ہم فائدہ اٹھانے والے کے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے ادائیگی کا ایک نیا طریقہ متعارف کرانے کے لیے کام کر رہے ہیں، انہوں نے متعلقہ حکام کو مستحقین کی شکایات کے ازالے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایات بھی جاری کیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ بی آئی ایس پی کے 28 لاکھ مستحقین میں 70 ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں، سیلاب سے متاثرہ بی آئی ایس پی کے 2.8 ملین مستحقین کے ہر خاندان کو 25 ہزار روپے کی نقد امداد فراہم کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی کے بینر تلے راشن، ادویات اور خوراک سمیت مختلف قسم کی امداد بھی فراہم کی گئی ہے، انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ ملک کے مختلف حصوں میں سیلاب کی وجہ سے غربت میں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان بھر سے لوگوں نے بی آئی ایس پی سے متعلق اپنے مسائل پر تبادلہ خیال اور ان کے حل کے لیے ریڈیو پروگرام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، انہوں نے پروگرام کو سراہا اور ان کے سوالات کے جوابات دینے کے لیے فیصل کریم کنڈی کا شکریہ ادا کیا۔

پنجاب، خیبرپختونخوا کے عام اور قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات کیلئے تخمینہ تیار

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیوں کے انتخابات، قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن نے 15 ارب روپے سے زائد کا تخمینہ تیار کر لیا۔
ذرائع کے مطابق آئندہ دو روز میں وفاقی حکومت کو فنڈز کیلئے خط لکھا جائے گا، الیکشن کمیشن کو وفاقی حکومت سے عام انتخابات کی مد 5 ارب روپے کی رقم مل چکی ہے، مزید 10 ارب روپے فنڈز کی فراہمی کا مطالبہ کیا جائے گا۔
خیبرپختونخوا میں نگران حکومت تشکیل دی جا چکی ہے، صوبے میں محمد اعظم خان نے بطور نگران وزیر اعلیٰ کا حلف اٹھا کر ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں، انہوں نے صوبے میں صاف اور شفاف انتخابات کروانے کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا ہے۔
پنجاب میں نگران وزیر اعلیٰ کی تقرری پر سیاسی جماعتوں میں ڈیڈ لاک برقرار ہونے کی وجہ سے معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا گیا ہے اس حوالے سے چیف الیکشن کمشنر نے کل اجلاس طلب کیا ہے، جس میں حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے دیئے گئے دو، دو ناموں پر غور ہو گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا 1973ء کے دستور کی گولڈن جوبلی تقریبات منانے کا اعلان

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی نے 1973ء کے دستور کی گولڈن جوبلی تقریبات منانے کا اعلان کر دیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے رضا ربانی کو تقریبات کے حوالے سے کمیٹی کا کنوینئر مقرر کر دیا، پیپلز پارٹی چیئرمین کے سیکرٹری برائے سیاسی امور جمیل سومرو کی جانب سے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ 20 دسمبر1971 ء کو پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے بعد دستور سازی کے لئے قومی اسمبلی نے 17 اپریل 1972 کو تمام پارلیمانی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل 25 رکنی دستور ساز کمیٹی تشکیل دی۔
دستور ساز کمیٹی کے سربراہ ممتاز ماہر قانون، وزیر قانون و پارلیمانی امور محمود علی قصوری تھے، جنہوں نے بعد ازاں استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد عبدالحفیظ پیرزادہ کمیٹی کے سربراہ اور وزیر قانون بنے، دستور ساز کمیٹی نے 20 دسمبر 1972ء تک اپنا کام مکمل کیا اور 2 فروری 1973 ء کو مسودہ بحث اور منظوری کے لئے قومی اسمبلی میں پیش کیا۔
10اپریل 1973ء کو قومی اسمبلی نے اس دستور کی منظوری دے دی جس پر 12 اپریل کو صدرمملکت نے بھی دستخط کر دیئے۔ بعد ازاں سینٹ کی تشکیل کے بعد 14اگست 1973ء کو یہ دستور نافذ ہوگیا۔
1973ء کا دستور مکمل طور پر تحریری دستور ہے جو 280 دفعات پر مشتمل ہے، جس کی چھ شیڈولز اوربارہ حصوں میں درجہ بندی کی گئی ہے، یہ دستور پاکستان کے سابق تمام دساتیر سے مفصّل ہے۔
سابق دساتیر کی طرح اس دستور میں بھی قرارداد مقاصد کو دستور کے افتتاحیہ میں شامل کیا گیا جسے بعد ازاں صدارتی حکم کے مطابق مکمل طور پر دستور کا حصہ بنا دیا گیا۔

الیکشن میں جیتنے، ہارنے والوں کی لسٹ بننا ملک کا بڑا مسئلہ ہے: شاہد خاقان

کوئٹہ: (ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک کا بڑا مسئلہ الیکشن میں جیتنے اور ہارنے والوں کی لسٹ بننا ہے ایسا ہوتا رہے گا تو پھر مسائل حل نہیں ہوں گے۔
کوئٹہ میں سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہمارا مقصد کوئی ووٹ حاصل کرنا یا کسی کو نیچا دکھانا نہیں ہے، جب قومی اسمبلی، سینیٹ میں ایک دوسرے کو گالیاں دی جائیں تو عوامی مسائل ایک طرف رہ جاتے ہیں، ملک کی بدقسمتی ہے معیشت کی بدحالی انتہا کو پہنچ چکی ہے، اگر قومی اسمبلی، سینیٹ، صوبائی اسمبلیوں میں مسائل پر بات ہو رہی ہوتی تو اس سیمینارکی ضرورت نہیں تھی۔
سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ معیشت میں جب مشکل آتی ہے تو پھر مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں، مشکل فیصلے کر کے معاملات کو درست سمت میں ڈالنا ہو گا، اپنے مفاد سے بڑھ کر پاکستان کے مفاد کو سامنے رکھنا ہو گا، معاشی حالات پر قابو پانے کیلئے ایک لمبا عرصہ درکار ہو گا، سب کچھ آزما لیا اب ایک دفعہ آئین پر چلنا ہو گا، ملکی معیشت ہو گی تو سیاست ہو گی۔
انہوں نے کہا مسائل اس حد تک بڑھ چکے ہیں کوئی تنہا جماعت حل نہیں کر سکتی، سیاسی مفادات سے ہٹ کر دیکھنا ہو گا، صرف سیاست دان ذمہ دار نہیں عدلیہ کی حالت سب کے سامنے ہے، نیب، عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ کا خوف ہو گا تو پھر سب ذمہ دار ہیں، پاکستان آج اپنے مسائل کی انتہا پر موجود ہے، ملک سیاسی انتشار کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا، سیاست دان اور ماہرین میں احساس نظر نہیں آ رہا۔
مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما نے کہا کہ ہم ایٹمی طاقت بن گئے لیکن سکول، ہسپتالوں کا معیار بہتر نہ کر سکے، یہ بہت بڑی ناکامی ہے، آج ایک دوسرے پر الزام لگانے نہیں یکجا ہو کر چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہو گا، آج پاکستان کو بنیادوں کی طرف واپس آنا پڑے گا،عوام کی رائے، قانون کا احترام نہیں کریں گے تو پھر پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اکیسویں صدی میں مسنگ پرسن کا معاملہ شرمندگی کا باعث ہے، یہ انصاف کے نظام اور آئین کی ناکامی ہے، انسانی حقوق آئین کی بنیاد ہوتے ہیں، معاملات اس وقت حل ہوں گے جب الیکشن میں لسٹیں بنانا چھوڑ دیں گے، معاملات اس وقت حل ہوں گے جب راتوں رات جماعتیں بنانا ختم ہو جائیں گی، سینیٹ میں پیسے چلنا ہم سب کیلئے شرمندگی کا باعث ہے۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں انصاف کا نظام بھی مفلوج ہو چکا ہے، جب انصاف وقت پر نہیں ملتا تو پھر لوگ دوسرا راستہ اختیار کرتے ہیں، ہم سب نے حکومتیں کی ہیں لیکن مسائل حل نہیں کر سکے ہم سب کیلئے شرمندگی کا باعث بھی ہے، سبق حاصل کرنا ہو گا، ملک میں تعلیم، صحت کے معاملات کو بہتر کرنا ہوگا، حکومت کو سروس کی ڈیلیوری کرنی پڑے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اتنے تشویشناک حالات ہونے کے باوجود سیاسی نظام میں حالات کا مقابلہ کرنے کی کیپسٹی نظر نہیں آتی، غیر معمولی حالات کا مقابلہ بھی غیر معمولی عمل سے کرنا پڑے گا، آج کوئی ایسا فورم نہیں ہے جہاں پر معاملات کا حل تلاش کیا جائے۔

اقتدار کے باوجود 4 سال میں ایک الزام ثابت نہیں کر سکے، مریم اورنگزیب

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان تمام طاقت کے باوجود 4 سال میں ایک بھی الزام ثابت نہیں کر سکے۔
عمران خان کے بیان پہ اپنے ردِ عمل میں مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ مافیا اور بڑے بڑے ڈاکوؤں سے ملک کو پاک کیا ہے، 4 سال میں الزامات کیوں ثابت نہیں کئے؟ چور کیوں ثابت نہ کرسکے؟ اب صرف چور کہنے سے بات نہیں بنے گی۔
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ نیب چیئرمین کو بلیک میل کر کے سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈالا لیکن عدالت میں الزامات جھوٹ ثابت ہوئے، ایک ثبوت پیش نہ کرسکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تمام عدالتوں نے آپ کے الزامات کو ردی کی ٹوکری میں پھینکا، انگلینڈ کی نیشنل کرائم ایجنسی اور برطانوی عدالت نے آپ کے الزامات مسترد کئے، ہم نے 40 سال کا حساب دیا، ایک الزام ثابت نہ ہوا۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ بنی گالہ میں عدالت لگائیں اور خود جج بن جائیں اور وکیل بھی، پھر بھی جھوٹے الزامات ثابت نہیں ہوں گے، آپ اِس ملک کی مہنگائی، قرضے، معاشی تباہی اور قوم کی بے روزگاری کے مجرم ہیں۔

عمران خان کی حکومت گرانے کی انکوائری کے لیے اپیلیں سماعت کیلیے مقرر

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے عمران خان کی حکومت کو عالمی سازش کے ذریعے ہٹانے کی انکوائری کے لیے دائر چیمبر اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کردیں کردیں۔
چیمبر اپیلوں کی سماعت جسٹس سردار طارق مسعود 24 جنوری کو کریں گے۔ درخواستوں گزاروں نے اپنی درخواستوں میں سپریم کورٹ سے بین الاقوامی سازش کے ذریعے عمران خان کی حکومت کو ہٹانے کی تحقیقات کے لیے درخواست دائر کیں تھی۔
رجسڑار سپریم کورٹ نے درخواستوں پر مختلف اعتراضات عائد کرتے ہوے انہیں واپس کر دیا تھا جس پر درخواست گزاروں نے رجسٹرار سپریم کورٹ کے اعتراضات کے خلاف چیمبر اپیلیں دائر کردی تھیں جنہیں اب سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا۔