لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی ہمشیرہ اور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری کی آج 32 ویں سالگرہ ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بلاول بھٹو زرداری نے اپنی ہمشیرہ کو سالگرہ کی مبارکباد دی۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اس وقت کی خاتون وزیر اعظم کے ہاں پیدا ہونے والی پہلی بچی اور میرے پیارے بھانجوں کی ماما کو سالگرہ کی ڈھیروں خوشیاں مبارک ہوں۔
وزیر خارجہ نے اپنی ہمشیرہ کو دعا دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو دنیا کی تمام خوشیاں عطا فرمائے، اس حوالے سے انہوں نے ٹوئٹر پر یادگار تصویریں بھی شیئر کیں۔
Monthly Archives: January 2023
شاہ محمود قریشی کی پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو فی الفور زمان پارک پہنچنے کی ہدایت
لاہور: (ویب ڈیسک) رہنما تحریک انصاف شاہ محمود قریشی نے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو زمان پارک لاہور پہنچنے کی ہدایت دے دی۔
اپنی ٹوئٹ میں شاہ محمود قریشی نے لکھا کہ ’میں بحیثیت وائس چیئرمین پی ٹی آئی، تمام سینیٹرز، سابق ممبران قومی اسمبلی، سابق ممبران صوبائی اسمبلی، پارٹی ورکرز اور سپورٹرز کو ہدایت کرتا ہوں کہ فی الفور زمان پارک پہنچیں۔
شاہ محمود نے مزید لکھا کہ ’ان بزدلوں کو چیئرمین عمران خان تک پہنچنے کیلئے ہم سب سے گزر کر جانا ہوگا۔‘
شاہ محمود قریشی نے ٹوئٹ میں یہ واضح نہیں کیا کہ انہوں نے ہنگامی طور پر یہ کال کیوں دی ہے۔
الیکشن کمیشن حکام کو دھمکیوں کا کیس، فواد چودھری کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
اسلام آباد: (ویب ڈیسک) اسلام آباد کی عدالت میں تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری کیخلاف الیکشن کمیشن حکام کو دھمکیاں دینے کے کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے دلائل سننے کے بعد پی ٹی آئی رہنما کے 2 روزہ جسمانی ریمانڈ کی منظوری دے دی۔
اسلام آباد میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے سے قبل کمرہ عدالت چھوٹا ہونے کی وجہ سے سماعت کی جگہ تبدیل کی گئی، اس دوران پی ٹی آئی کارکنان نے حکومت مخالف نعرے بازی کی اور ان کی پولیس اہلکاروں کے ساتھ دھکم پیل بھی ہوئی، پولیس افسر کی جانب سے احاطہ عدالت کو چیک کرنے کے بعد فواد چودھری کو منہ پر سفید چادر سے ڈھانپ کے کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا۔
سماعت کے دوران فواد چودھری کے بھائی فیصل چودھری نے وہاں موجود تحریک انصاف کے کارکنوں سے کمرہ عدالت سے باہر نکلنے کی اپیل بھی کی اور کہا کہ آپ کی فواد چودھری سے ملاقات بھی کروائیں گے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نوید خان کی عدالت میں سیکرٹری الیکشن کمیشن کی درخواست پر سماعت کا آغاز ہوا تو پی ٹی آئی کے وکلاء نے فواد چودھری کی ہتھکڑی کھوکنے کی استدعا کی، فواد چودھری نے عدالت سے کہا اسلام آباد پولیس کو کہیں کہ اس طرح نہ کریں، باہر 1500 پولیس والے ہیں، مجھے ہتھکڑی لگائی ہوئی، میں سپریم کورٹ کا وکیل ہوں، پانچ منٹ فیملی سے بات کرنی ہے اور پانچ منٹ اپنے وکلاء سے۔
جس کے بعد الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن نے ایف آئی آر کا متن پڑھ کر سنایا، اپنے دلائل میں انکا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے، الیکشن کمیشن کے پاس انتخابات کروانے کے تمام اختیارات ہیں، سوچے سمجھے منصوبے کے تحت الیکشن کمیشن کو ٹارگٹ کیا جا رہا، ملزم نے شہریوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی، یہ عوام کیلئے رول ماڈل ہیں، ان کی تقریر کا مقصد گروپس کو اشتعال دلانا تھا۔
وکیل سعد حسن نے عدالت کو بتایا کہ فواد چودھری کی تقریر کرنے کا مقصد سب کو اکسانا تھا، فواد چودھری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے گھروں تک پہنچیں گے، ان کا مقصد الیکشن کمیشن کے خلاف نفرت کو فروغ دینا تھا، ایف آئی آر میں بغاوت کی دفعات بھی شامل ہیں، الیکشن کمیشن کے ممبران کو دھمکایا جا رہا ہے، پہلے ریمانڈ کیلئے ملزم کو پیش گیا ہے، مزید تفتیش کرنی ہے۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ عدالت کے سامنے مواد رکھ سکتا ہوں کہ الیکشن کمیشن کو پرائیویٹ لوگوں کی جانب سے دھمکی آمیز خط لکھے جا رہے ہیں، میں وہ مواد عدالت کو چیمبر میں دکھا سکتا ہوں، پبلک میں نہیں، فواد چودھری کے خلاف کافی الیکٹرانک مواد موجود ہے، میں الزامات پڑھ رہا تھا تو فواد چودھری انشاللہ ماشاءاللہ کہہ رہےتھے۔
وکیل سعد حسن نے مزید کہا کہ فواد چودھری نے جو تقریر میں کہا وہ انہوں نے مانا بھی ہے، کیا فواد چودھری کے حوالے سے فیصلہ کرنا درست نہیں، ان کی تقریر کے پیچھے لوگوں کا معلوم کرنا ہے، ان کی تقریر کے پیچھے ایک مہم چل رہی ہے، فواد چودھری کے بیان پر پولیس کو ابھی تفتیش کرنی ہے۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ فواد چودھری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی حالت اس وقت منشی کی ہے، جس پر پی ٹی آئی رہنما نے جواب دیتے ہوئے کہا تو الیکشن کمیشن کی حالت منشی کی ہوئی ہوئی ہے، جس پر عدالت نے فواد چودھری کو کہا کہ آپ ایک جانب آ جائیں، دوسرے فریقین کو دوسری طرف آنے دیں۔
فواد چودھری نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میرے خلاف مقدمے میں بغاوت کی دفعات شامل کی ہیں، مجھے نیلسن منڈیلا، ابو الکلام آزاد جیسے بڑے رہنماؤں کی صف میں شامل کر دیا ہے، اس ایف آئی آر کو خارج کرنا چاہئے، یہ بنتی نہیں ہے، بغاوت کی دفعہ بھی مقدمہ میں لگا دی گئی ہے، آزادی کیلئے جدوجہد کرنے والوں کے خلاف بھی ایسی ہی باتیں ہوتی تھیں۔
پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ میرے خلاف تو مقدمہ بنتا ہی نہیں ہے، ایسے تو جمہوریت ختم ہو جائے گی، کوئی تنقید نہیں کر پائے گا، میں تحریک انصاف کا ترجمان ہوں، جو میں بات کروں وہ میری پارٹی کی پالیسی ہوتی ہے، ضروری نہیں کہ جو میں بات کروں وہ میرا ذاتی خیال ہو، الیکشن کمیشن نہ ملک کی اسٹیٹ ہے نہ حکومت ہے۔
انہوں نے کہا اس ایف آئی آر کو قانونی ڈاکیومنٹ مان لیا گیا تو یہ عوام کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی، ان کے دلائل کو مان لیں تو اس کا مطلب ہے کہ اگر کسی پالیسی یا ادارے پر تنقید ہو تو بغاوت کا مقدمہ درج کر دیا جائے گا، میں کسی اجتماع سے خطاب نہیں کر رہا تھا، میڈیا ٹاک کر رہا تھا، میں دھمکی نہیں دے رہا تھا ، سمجھا رہا تھا، مجھے اسلام آباد پولیس نے گرفتار نہیں کیا، لاہور پولیس نے گرفتار کیا۔
فواد چودھری نے مزید کہا کہ لاہور پولیس نے مجھے اسلام آباد پولیس کے حوالے کیا، میری باتیں غلط کوٹ کی گئی ہیں، میں سینئر وکیل ہوں، پارلیمنٹیرین ہوں، تحریک انصاف کا ترجمان ہوں، سابق وفاقی وزیر ہوں، میں دہشتگرد نہیں کہ مجھے سی ٹی ڈی میں رکھا گیا، تفتیشی افسر نے مجھ سے کوئی تفتیش نہیں کی، میری گرفتاری غیر قانونی ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ افسوس ہے کہ ملکی سیاست میں اپنے مخالفین پر کیس بنائے جا رہے ہیں، ہم سیاست میں کبھی اوپر تو کبھی نیچے ہوتے ہیں، سماعت کے دوران فواد چودھری نے عدالت سے کیس ڈسچارج کرنے کی استدعا کردی۔
فواد چودھری کی طرف ایڈووکیٹ سید علی بخاری نے بھی وکالت نامہ جمع کراتے ہوئے کہا کہ میرے موکل کو لاہور سے گرفتار کیا گیا، مقدمہ اسلام آباد میں درج کیا گیا، درخواست گزار بھی اسلام آباد میں تھا، فواد چودھری کو لاہور سے گرفتار کرنے کا تسلیم کیا گیا، اگر مدعی مقدمہ کی بات مان لی جائے تو مقدمہ تو لاہور میں ہونا چاہیے تھا، قانون کے مطابق مقدمہ وہاں ہوتا ہے جہاں جرم کیا جاتا ہے، ایسا نہیں کہ قتل لاہور میں تو مقدمہ کراچی میں کیا جا رہا ہو۔
وکیل علی بخاری نے مزید کہا پولیس نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں تفتیش کی کیا ہے؟ دہشتگردی کا کیس ہے نہیں، پراسیکیوشن نے آخر کرنا کیا ہے، عدالت ضرور دیکھے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں تفتیش ہوئی کیا ہے، کیا اسلام آباد پولیس نے اسلام آباد انتظامیہ سے اجازت لی؟ بس بندہ اٹھا کر لے آئے۔
فواد چودھری کے تیسرے وکیل قیصر امام نے اپنے دلائل میں کہا کہ بطور صدر اسلام آباد بار نہیں بلکہ ان کے وکیل کی حیثیت سے پیش ہو رہا ہوں، پراسیکیوشن نے استدعا کی ہے ملزم کے گھروں کی تلاشی لینا ہے، پراسیکیوشن نے یہ بھی استدعا کی کہ ملزم کا وائس میچنگ ٹیسٹ بھی کرانا ہے، الیکشن کمیشن کے کسی ممبر نے یہ بیان نہیں دیا کہ انہوں نے خود محسوس کیا ہو، سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بغیر کسی بیان کی موجودگی کے تفتیشی ایجنسی کو تفصیل فراہم کر دی۔
وکیل قیصر امام نے مزید کہا کہ فواد چودھری کا ایک گھر لاہور اور دوسرا اسلام آباد میں ہے، حیران ہوں کہ الیکشن کمیشن کے کسی ممبر نے خوف محسوس کرنے کا بیان دیا ہو، معلوم نہیں کہ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کیسے الیکشن کمیشن کے ملازمین کا دماغ پڑھ لیا، عدالت نے دیکھنا ہے کہ کون سی دفعات مقدمہ میں لگتی ہیں اور کون سی نہیں، اندراج مقدمہ کے حوالے سے سب سے پہلا اعتراض اٹھاتا ہوں۔
وکیل قیصرامام نے کہا کیا کسی کے کہنے پر مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے؟ فواد چودھری نے جو بیان دیا وہ تھانہ کوہسار کی حدود میں تھا ہی نہیں، جاوید لطیف کے خلاف پشاور، لاہور مقدمات پر ہائی کورٹ نے ایک رائے دی ہے، جاوید لطیف کے کیسز میں بالکل اسی کیس کی طرح کی صورت حال تھی، عدالت نے آبزرو کیا کہ ایک بندہ اسلام آباد بیٹھ کر کوئی تقریر کرتا ہے تو اس کیخلاف کسی اور شہر میں مقدمہ کیسے درج ہو سکتا ہے۔
قیصر امام نے اپنے دلائل میں مزید کہا فواد چودھری کے خلاف مقدمے میں 4 دفعات لگائی گئی ہیں، آئین کے اندر الیکشن کمیشن کا سٹرکچر موجود ہے صرف سیکرٹری الیکشن کمیشن نہیں ہوتا، الیکشن کمیشن کو کوئی تکلیف ہوئی تھی تو اسے الیکشن ایکٹ ڈیل کرتا ہے، کیا یہ مذاق ہے کہ ہمارے اداروں میں بیٹھے لوگ اتنے کمزور ہیں۔
فواد چودھری کے وکیل نے مزید کہا 5 سو کلو میٹر دور بیٹھا ایک شخص کوئی بات کرتا ہے تو یہ کیسے ہراساں ہو جاتے ہیں، کیا میرے موکل نے اپنی تقریر سے انکار کیا ہے؟ جواب ہے نہیں، جب وہ اپنی تقریر سے انکار ہی نہیں کر رہے تو وائس میچنگ ٹیسٹ کیوں کرانا ہے۔
شہباز شریف سے نگران وزیر اعلیٰ پنجاب سید محسن رضا نقوی کی ملاقات
اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وزیراعظم محمد شہباز شریف سے نگران وزیر اعلیٰ پنجاب سید محسن رضا نقوی نے ملاقات کی۔
وزیراعظم نے سید محسن رضا نقوی کو نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ امید ہے آپ اپنی ذمہ داری آئین کےمطابق احسن طریقہ سے سر انجام دیں گے اور الیکشن کے عمل کو غیر جانبدارانہ اور شفاف بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف سے سعودی معاون وزیر دفاع کی وفد کے ساتھ ملاقات
راولپنڈی: (ویب ڈیسک) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف سے سعودی معاون وزیر دفاع انجینئر طلعت عبداللہ علطیبی نے وفد کے ساتھ ملاقات کی، ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب اکیسویں صدی کے لیے ایک جامع دفاعی تعلقات کی طرف بڑھ رہے ہیں، وفاقی وزیر نے خادم حرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صحت اور خوشحالی کے لیے نیک تمناؤں اور دعاؤں کا اظہار کیا۔
سعودی عرب کے معاون وزیر دفاع نے کہا کہ سعودی عرب دفاعی پیداوار اور دفاع سے متعلق تعاون کے شعبے میں پاکستان کی حمایت چاہتا ہے۔
وزیر دفاع نے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے ہمہ جہت سٹریٹجک تعاون کے معاہدے کی تجویز پیش کی، ملاقات میں سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمود الزماں خان بھی موجود تھے۔
ہمارے خلاف بوگس ایف آئی آر درج کروائی گئی: وجاہت حسین، موسیٰ الہٰی
لاہور: (ویب ڈیسک) چودھری وجاہت حسین اور موسیٰ الہٰی نے اپنے خلاف درج کرائی گئی ایف آئی آر کو بوگس قرار دے دیا۔
مسلم لیگ (ق) کے ذرائع کے مطابق چودھری وجاہت حسین اور موسیٰ الہٰی نے کہا ہے کہ حکومت کے کہنے پر ہمارے خلاف درج کروائی گئی ایف آئی آر بوگس اور بے بنیاد ہے۔
چودھری وجاہت حسین اور موسی الہٰی نے کہا ہے کہ ایف آئی آر کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، عدالت عالیہ میں یہ معاملہ بھرپور طریقے سے اٹھائیں گے۔
ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے، میرا خیال ہے مزید گرفتاریاں ہوں گی، اعجاز شاہ
اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سابق وزیر داخلہ بریگڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ میرے خیال سے مزید گرفتاریاں ہوں گی، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔
سابق وزیر داخلہ کا ملکی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ سب ہونا ہی تھا، میں نے مشورہ دیا تھا کہ اسمبلیاں تحلیل نہ کی جائیں، اب ہمیں لڑنا ہوگا۔
اعجاز شاہ نے کہا کہ لڑائی جھگڑا کرنا اپوزیشن کا کام ہے نہ کہ گورنمنٹ کا، گورنمنٹ تو چاہتی ہے امن قائم ہو۔
ایران نے جوہری ہتھیاروں کے لئے کافی مواد تیار کرلیا ہے: اقوام متحدہ
نیویارک: (ویب ڈیسک) اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ایران نے ‘کئی جوہری ہتھیاروں’ کے لیے کافی مواد تیار کر لیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی جوہری ہتھیاروں کی نگرانی کے ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ وہ 2015 کے معاہدے کو بحال کرنے کی امید میں اگلے ماہ ایران کا دورہ کریں گے جس کا مقصد تہران کی جوہری سرگرمیوں کو روکنا ہے۔
برسلز میں یورپی پارلیمنٹ کی سکیورٹی اور دفاعی ذیلی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے 70 کلو گرام یورینیم کو 60 فیصد خالصتاً افزودہ کیا ہے، جس میں مزید 1,000 کلو گرام افزودہ کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف سے سابق صدر آصف علی زرداری کی ملاقات
اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سابق صدر آصف علی زرداری نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔
وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بات چیت کی گئی، اس کے علاوہ آئندہ کی سیاسی حکمت عملی اور سندھ کی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں ایم کیو ایم پاکستان کے تحفظات پر بھی بات ہوئی، اس موقع پر وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، سردار ایاز صادق، خواجہ سعد رفیق اور سینیٹر سلیم مانڈوی والا بھی موجود تھے۔
مصری لڑکے کی ممی میں سونے کا ’دوسرا دل‘ دریافت
قاہرہ: (ویب ڈیسک) قدیم مصری تہذیب سے اگرچہ کئی عجیب و غریب ممی دریافت ہوئی ہیں لیکن اب ایک ممی کو کھولے بغیر معلوم ہوا ہے کہ اسے 49 قیمتی تعویز گنڈوں سے سجایا گیا تھا جن میں ایک بھنورے کی شکل دوسرا دل بھی شامل ہے جو مکمل طور پر سونے کا بنا ہوا ہے۔
نوعمر لڑکے کو 2300 سال قبل ممی میں ڈھالا گیا تھا جسے ایکسرے اور دیگر آلات سے دیکھا گیا ہے۔ چونکہ مصری، بلیوں کی طرح بھنوروں کو بھی مقدس تصور کرتے تھے اور اسی وجہ سے ایک سونے کا بھنورا بنا کر اسے دل کے قریب لگایا گیا ہے۔ اسے غالباً دوسرے دل کے طور پر نصب کیا گیا ہے۔
1916 میں دریافت ہونے والی یہ ممی قاہرہ کے عجائب گھر میں کھلے بغیر رکھی تھی اور 300 قبل مسیح میں بطلیموسی عہد میں بنائی گئی تھی۔ اب جامعہ قاہرہ کی سحرسلیم اور ان کے ساتھیوں نے اسے ڈجیٹل انداز میں پرت در پرت کھولا ہے۔ اس میں ایکسرے، سی ٹی (کمپیوٹرٹوموگرافی) کے ساتھ ساتھ ہائی ریزولوشن کے سینکڑوں ایکس رے لئے گئے تو معلوم ہوا کہ 21 اقسام کے 49 قیمتی تعویز اور گنڈے بھی جسم میں لگائے گئے ہیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ لڑکے کے سینے کے جوف میں تین سینٹی میٹر سونے کا دل لگایا گیا تھا۔ الٹی ران میں ایک چیرا لگا کر دو انگلیوں کی شکل کا ایک اور تعویز بھی رکھا گیا ہے۔ جبکہ جسم کے دیگر مقامات پر سونے، قیمتی پتھر اور نیم قیمتی معدنیات وغیرہ کی بنی اشیا بھی موجود ہیں۔
قیاس ہے کہ دل اور دیگر اشیا کو دوسری دنیا کے سفر اور تحفظ کے لیے پہنائے گئے ہیں۔ پروفیسر سحر کے مطابق اس لڑکے کے اہلِ خانہ نے لڑکے کے تحفظ کے لیے بہت خرچ کیا ہوگا اسے قیمتی سینڈل بھی پہنائے گئے ہیں تاکہ یہ تابوت سے باہرآکر بحفاظت سفر کرسکے۔
امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی مشقیں، ہدف ایران کی جوہری تنصیبات
واشنگٹن: (ویب ڈیسک) ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیل اور امریکا نے مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز کردیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور امریکا کے طیاروں نے فلسطین کے صحرائے النقب میں مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز کردیا جس میں 140 سے زائد لڑاکا طیارے، ایک درجن بحری جہاز اور میزائل لانچرز حصہ لیں گے۔
اسرائیلی اخبار کی کی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مشترکہ فوجی مشقوں کے دوران امریکی لڑاکا طیارے صحرائے النقب میں اہداف کو 100 ٹن دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنائیں گے۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ اہداف ایران کے جوہری تنصیبات کے ماڈل کی طرز پر بنائے گئے ہیں اور ان مشقوں کا مقصد ایران کے جوہری تنصیبات پر بمباری کی مشق کرنا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے اسرائیلی فوج کے ساتھ مشترکہ مشقیں شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان مشقوں کا مقصد دونوں ممالک کی علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی اپنی افواج کی جنگی تیاریوں کو بہتر کرنا ہے۔
فواد چوہدری کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد: (ویب ڈیسک) اسلام آباد کی مقامی عدالت نے فواد چوہدری کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کرلیا، ڈیوٹی مجسٹریٹ نوید خان نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔
قبل ازیں اسلام آباد کی ایف ایٹ کچہری میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کی پیشی کیلئے کمرہ عدالت تبدیل کردیا گیا۔
رش ہونے اورجگہ تنگ ہونے کے باعث کمرہ عدالت تبدیل کیا گیا۔ مجسٹریٹ نوید خان کا کہنا تھاکہ کورٹ روم دوسرے فلورپر ہے، مشکلات ہوں گی، شبیر بھٹی کی عدالت گراؤنڈ فلور پر ہے آسانی ہو گی۔
بعدازاں ڈیوٹی مجسٹریٹ نئے کمرہ عدالت پہنچے اور کہا کہ کسی طرح فواد چوہدری کو کمرہ عدالت میں آنے دیں۔
وکیل فیصل چوہدری نےغیرمتعلقہ افرادکوکمرہ عدالت سےباہرجانےکی درخواست کی اور کہا کہ فواد چوہدری کدھرہیں؟ گاڑی کدھر ہے؟ ہم انہیں لے آتے ہیں۔
مجسٹریٹ نے ریمارکس دیے کہ کمرہ عدالت میں جگہ بنےگی تو فواد کو لے آئیں گے،کم لوگ ہوں گےکورٹ میں تو انہیں لےآئیں گے۔
ڈیوٹی مجسٹریٹ عدالت سے اٹھ کر اپنے چیمبر میں واپس چلے گئے۔ بعدازں سماعت شروع ہونے پر فواد چوہدری کو کمرہ عدالت میں ہتھکڑی لگاکر پیش کیا گیا جس پر پی ٹی آئی کے وکلاء نے ان کی ہتھکڑی کھولنے کی استدعا کی۔
دوران سماعت تفتیشی افسر نے فواد چوہدری کے 8 دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔
الیکشن کمیشن کے وکیل سعدحسن نے دلائل کا آغاز کیا اور کہا کہ فواد نےکہا الیکشن کمیشن کی حالت اس وقت منشی کی ہے۔
اس پر فواد چوہدری نے لقمہ دیا کہ تو الیکشن کمیشن کی حالت منشی کی ہوئی ہے۔
عدالت نے فواد چوہدری کو لقمہ دینے سے ٹوک دیا۔
وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے، الیکشن کمیشن کے پاس انتخابات کرانےکےتمام اختیارات ہیں، سوچےسمجھے منصوبےکےتحت الیکشن کمیشن کوٹارگٹ کیاجارہاہے، فواد چوہدری کی تقریر کا مقصد سب کواکساناتھا، انہوں نے کہا الیکشن کمیشن والوں کےگھروں تک پہنچیں گے، تقریر کا مقصد الیکشن کمیشن کے خلاف نفرت کو فروغ دینا تھا۔
وکیل الیکشن کمیشن کے مطابق فواد چوہدری کے خلاف کافی الیکٹرانک مواد موجود ہے، میں الزامات پڑھ رہا تھاتو وہ ان شاءاللہ، ماشاءاللہ کہہ رہےتھے، انہوں نے جو تقریرمیں کہاوہ انہوں نےمانابھی ہے، کیا فواد چوہدری سے متعلق فیصلہ کرنا درست نہیں؟ ان کی تقریر کے پیچھے لوگوں کا پتا کرنا ہے، ان کی تقریر کے پیچھے مہم چل رہی ہے، فواد سے ان کے بیان پر پولیس کو ابھی تفتیش کرنی ہے۔
فواد چوہدری نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ مقدمے میں بغاوت کی دفعہ بھی لگادی گئی ہے، میرے خلاف تو مقدمہ بنتاہی نہیں ہے، ایسے تو جمہوریت ختم ہو جائے گی، کوئی تنقید نہیں کر پائے گا، اگر الیکشن کمیشن پرتنقیدنہیں کرسکتے تو مطلب کسی پر تنقید نہیں کرسکتے، مدعی وکیل کا مطلب ہےکہ تنقید کرنا بغاوت ہے، میں تقریر کر ہی نہیں رہاتھا، میں میڈیا ٹاک کررہا تھا، میری باتیں غلط کوٹ کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں تحریک انصاف کا ترجمان ہوں، جو میں بات کروں وہ میری پارٹی کی پالیسی ہوتی ہے، ضروری نہیں کہ جو میں بات کروں وہ میرا ذاتی خیال ہو، الیکشن کمیشن نہ ملک کی اسٹیٹ ہے نہ حکومت ہے، میں نے کہاتھا نفرتیں نہ پھیلائیں کہ لوگ ذاتی سطح پر آجائیں، مجھے لاہور پولیس نے گرفتار کیا، میرا موبائل قبضے میں لیا پھر لاہورپولیس نے مجھے اسلام آباد پولیس کے حوالے کیا۔
ان کا کہنا تھاکہ میں سینیر وکیل، پارلیمنٹیرین اور سابق وفاقی وزیر ہوں، میں دہشت گرد نہیں کہ مجھے سی ٹی ڈی میں رکھاگیا، تفتیشی افسر نے مجھ سے کوئی تفتیش نہیں کی، میری گرفتاری غیرقانونی ہے۔
انہوں نے کہا کہ افسوس ہے ملکی سیاست میں مخالفین پر کیس بنائے جارہےہیں، ہم سیاست میں کبھی اوپر تو کبھی نیچے ہوتے ہیں۔
فواد چوہدری نے عدالت سےکیس برخاست کرنے کی استدعا کی۔
ایک اور بھارتی فوجی افسر نے موت کو گلے لگا لیا
نئی دہلی: (ویب ڈیسک) بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ٹریننگ سینٹر میں کرنل نشیتھ کھنہ کی چھت سے لٹکی ہوئی لاش ملی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مدھیہ پردیش کے علاقے جبل پور میں بھارتی فوج کے ٹریننگ سینٹر میں کمانڈنگ آفیسر نے صبح کئی بار کھٹکھٹانے پر بھی دروازہ نہیں کھولا تھا۔
ساتھی افسران دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے تو کرنل نشیتھ کھنہ کی لاش پنکھے پر جھول رہی تھی اور قریب ہی ایک خط پڑا تھا جس میں صرف Sorry لکھا ہوا تھا۔
43 سالہ کرنل نشیتھ کھنہ کی لاش کو قریبی ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹر نے بتایا کہ موت گلے پر رسی کے دباؤ کے باعث دم گھٹنے کی وجہ سے ہوئی۔
خودکشی کی وجہ کا تاحال تعین نہیں کیا جا سکا ہے۔ کرنل کھنہ اکتوبر 2022 کو مدھیہ پردیش میں تعینات ہوئے تھے اور تب سے وہ بیوی اور بچوں سے مل نہیں سکے تھے۔
واضح رہے کہ گزشتے ہفتے بھی مدھیہ پردیش کے ایک اور فوجی ٹریننگ سینٹر میں 29 سالہ کیپٹن نے چھت سے لٹک کر خودکشی کرلی تھی۔


















