شہباز شریف ٹی ٹی کیس کے مرکزی ملزم علی احمد کو نیب نے گرفتار کرلیا

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اورقومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ٹی ٹی کیس کے مرکزی ملزم علی احمد ملک کو نیب نے گرفتار کر لیا۔
نیب ذرائع کے مطابق قومی احتساب بیورو نے ٹی ٹی سکینڈل میں مرکزی ملزم علی احمد کو اسلام آباد سے گرفتار کیا، علی احمد شہباز شریف ٹی ٹی سیکنڈل کیس میں اہم ملزم ہے، ملزم نیب کودو سال سے مطلوب تھا ، علی احمد شہباز شریف دور میں سی ایم ہاوس میں تعینات تھا۔
ذرائع کے مطابق گرفتاری نیب لاہور نے نجی ہوٹل کے سامنے سے عمل میں لائی، گرفتار ملزم کو راہداری ریمارنڈ کیلئے کل احتساب عدالت پیش کیا جائیگا، راہدری ریمارنڈ کے بعد ملزم کوتفتیش کیلئے نیب لاہور منتقل کیا جائیگا۔

چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی؛ دنیا کوبتائیں گےکہ ہم کتنےعظیم میزبان ہیں، رمیز راجہ

چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی ملنے پر بہت خوش ہوں اور ایونٹ سے دنیا کوبتائیں گےکہ ہم کتنےعظیم میزبان ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 کی میزبانی ملنے پر بہت خوش ہوں، ایونٹ کے ذریعے دنیا کو بتائیں گے کہ ہم کتنے عظیم میزبان ہیں جب کہ فروری 2025 میں پاکستان میں کھیلے جانے والے ٹورنامنٹ کا میزبان پاکستان اس ایونٹ میں اپنے ٹائٹل کا دفاع بھی کرے گا۔
رمیز راجہ نے کہا کہ ٹورنامنٹ میں 8 ٹیموں کے مابین کُل 15 میچز کھیلے جائیں گے، یہ میچز تین مختلف مقامات پر کھیلے جائیں گے جب کہ اس ایونٹ کے کامیاب انعقاد سے دنیا کو بتائیں گے کہ ہم کرکٹ سے کتنی محبت کرتے ہیں، اس کے علاوہ یہ ایونٹ پاکستان میں رہنے والے شائقین کرکٹ کے لیےکسی اعزاز سے کم نہیں، اب ہمیں آئی سی سی کی توقعات اور مقررہ معیار کے مطابق ایک ایونٹ کے کامیاب انعقاد کی منصوبہ بندی کرنی ہے۔

ورلڈ بینک نے تسلیم کیا ہے کہ ہماری حکومت میں غربت کم ہوئی، عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ورلڈ بینک نے تسلیم کیا ہے کہ ہماری حکومت میں غربت کم ہوئی ہے۔

عمران خان نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ آج ٹیکنالوجی کی وجہ سے  جھوٹ نہیں بولا جاسکتاْ، پوری دنیا میں الیکٹرانک ووٹنگ کا استعمال ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی  اپوزیشن کو ٹیکنالوجی سے کیا مسئلہ ہے، حیران ہوں کہ اپوزیشن  ووٹنگ کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال کیوں نہیں کرنا چاہتی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صرف اگلے الیکشن کا سوچنے سے ملک آگے نہیں بڑھتے، ملک تب آگے بڑھتے ہیں جب وہ آنے والی نسلوں کا سوچتے ہیں۔

  عمران خان  نے کہا کہ چین کی ترقی کا راز ان کی لیڈرشپ کی دور اندیشی ہے، جب تک ہمارے اندر یہ سوچ نہیں آجاتی قوم آگے نہیں بڑھ سکتی۔

وزیراعظم  نے کہا کہ ہم نے کورونا وبا کا بہترین طریقے سے مقابلہ کیا، کورونا کی وجہ سے دنیا میں 100سال بعد اتنا بڑا بحران آیا ہوا ہے، کورونا کے دوران ہم نے اپنے لوگوں، معیشت اور روزگار کو بچایا۔

عمران خان   کا کہنا تھا کہ جو چیزیں باہر سے مہنگی آتی ہیں ان کی قیمت میں مزید اضافہ متوقع ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان سمیت  پوری دنیا میں مہنگائی ہوئی ہے لیکن ورلڈ بینک کے مطابق ہمارے دور حکومت میں پاکستان میں غربت کم ہوئی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  وزیراعظم  نے کہا کہ وہ ملک ترقی نہیں کرسکتا جس کے حکمران  اور وزیر کرپشن کرتے ہوں، جس ملک میں  قانون کی بالادستی ہو  وہاں کبھی غربت نہیں آتی جبکہ غربت وہاں ہوتی ہے جہاں حکمران ملک کا پیسہ چوری کریں۔

عمران خان   کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے باوجود ن لیگ کے دور سے زیادہ سستی سڑکیں بنا رہے ہیں، ن لیگ کے تین سالوں میں 645کلومیٹر سڑکیں بنیں جبکہ تحریک انصاف کے دور میں 1750کلومیٹر سڑکیں بنیں۔

وزیراعظم عمران خان  کا مزید کہنا تھا کہ 22 کروڑ عوام کی اناج کی ضروریات پوری کرنے کیلئے پانی کی ضرورت ہے، 50سال بعد ملک میں پہلی بارڈیمز بن رہے ہیں۔ آج تک کسی نے درخت اگانے کا نہیں سوچا جبکہ  ہم اب تک ڈھائی ارب درخت لگا چکے ہیں، 10ارب کا ٹارگٹ ہے۔

آنجہانی اداکار سشانت سنگھ کے خاندان کے 5افراد ہلاک

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سشانت سنگھ راجپوت کے خاندان کے 5افراد آج صبح ایک سڑک حادثے میں اس وقت جان کی بازی ہار گئے جب وہ جس گاڑی میں سفر کر رہے تھے وہ بہار کے لکھی سرائے ضلع میں قومی شاہراہ نمبر 333 پر ایک ٹرک سے ٹکرا گئی۔

میڈیا رپورٹس میں مزید بتایا گیا کہ خاندان کے افراد پٹنہ سے واپس آ رہے تھے جہاں وہ ہریانہ کے سینئر پولیس افسر او پی سنگھ کی بہن گیتا دیوی کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ او پی سنگھ سشانت سنگھ راجپوت کے بہنوئی ہیں جن کی موت 14 جون 2020 کو مشتبہ حالات میں ہوئی تھی۔

بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کا سابق مسلمان وزیر سلمان خورشید کے گھر پر حملہ

ہندوتوا کا داعش اور بوکو حرام سے موازنہ کرنے پر بھارتی انتہا پسندوں نے کانگریسی رہنما سلمان خورشید کے گھر کو آگ لگا دی۔ سلمان خورشید کی رہائش گاہ پر مشتعل ہجوم نے دھاوا بول دیا۔ گھر میں توڑ پھوڑ کی اور اہلخانہ کو دھمکیاں دیں۔ سابق بھارتی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پر تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا مذہبی انتہا پسند گھر کے جلتے ہوئے دروازے دیکھ لیں۔ کانگریسی رہنما نے ‘ہندوتوا’ کا موازنہ بوکو حرام اور داعش سے کرتے ہوئے مودی کے دور میں ہندو انتہا پسندی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

آئی سی سی نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2022 کے وینیو کا اعلان کردیا

آئی سی سی نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2022 کے وینیو کا اعلان کردیا۔ ورلڈ کپ 2021 کی فاتح ٹیم آسٹریلیا میزبانی کرے گی۔ آئی سی سی کے مطابق آسٹریلیا کے 7 شہر ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2022 کی میزبانی کریں گے۔ میگا ایونٹ کے میچز ایڈلیڈ، برسبن، سڈنی ،جیلونگ، ہوبارٹ، میلبرن اور پرتھ میں کھیلے جائیں گے۔ ایونٹ 16 اکتوبر سے13 نومبر کےدرمیان کھیلا جائے گا۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ٹوٹل 45میچز شیڈول کیے گئے ہیں۔ ورلڈ کپ کا فائنل 13 نومبر کو میلبرن کرکٹ گراونڈ میں ہوگا۔ سیمی فائنلز 9اور 10 نومبر کو سڈی اور ایڈلیڈ میں منعقد ہوں گے۔ اس سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا سپر 12 مرحلہ کھیلنے والی 12 ٹیموں میں سے 8 ٹیمیں آئندہ سال ہونے والے ورلڈکپ کے سپر 12 مرحلے کے لیے کوالیفائی کرچکی ہیں اور انہیں اس مرحلے میں داخلے کے لیے کوالیفائنگ راؤنڈ نہیں کھیلنا پڑے گا۔ ان ٹیموں میں میزبان آسٹریلیا، انگلینڈ ، بھارت، پاکستان ، نیوزی لینڈ ، جنوبی افریقا، افغانستان اور بنگلادیش شامل ہیں۔ آئندہ سال ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں ویسٹ انڈیز اور سری لنکا کو 2021 کا سپر 12 مرحلہ کھیلنے والی دیگر 2 ٹیموں اسکاٹ لینڈ اور نمیبیا کے ساتھ راؤنڈ ون مرحلہ کھیلنا ہوگا جس میں کامیابی کے بعد ہی وہ سپر 12 مرحلے کے لیے کوالیفائی کرسکیں گی۔ کوالیفائنگ راونڈ کے لیے باقی چار ٹیموں کا انتخاب کوالیفائنگ پاتھ وے کے ذریعے کیا جائے گا۔ جس کا فیصلہ عمان اور زمبابوے میں ہونے والی ٹورنامنٹس کے بعد ہو گا یاد رہے کہ دنیا بھر میں پھیلی کورونا وبا کے باعث گزشتہ سال ملتوی ہونے والا ٹی 20 ورلڈ کپ اب 2022 میں آسٹریلیا میں ہو گا۔

امریکہ کی روسی سیٹلائٹ شکن میزائل ٹیسٹ پر شدید تنقید، یہ اقدام غیر ذمہ دارانہ تھا، امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کا بیان

امریکہ نے روس پر ایک ‘خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ‘ میزائل ٹیسٹ کرنے کے حوالے سے تنقید کی ہے اور امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس ٹیسٹ سے انٹرنیشنل سپیس سٹیشن (آئی ایس ایس) پر موجود عملہ خطرے میں تھا۔

اس ٹیسٹ میں روس نے اپنے ہی ایک سیٹلائٹ کو تباہ کیا تاہم اس کے تباہ شدہ ٹکڑوں کی وجہ سے آئی ایس ایس کے عملے کو کیپسولز میں پناہ لینی پڑی۔

آئی ایس ایس کے عملے میں اس وقت سات اراکین ہیں جن میں چار امریکی، دو جرمن، اور دو روسی خلا باز ہیں۔

آئی ایس ایس زمین سے تقریباً 420 کلومیٹر کی اونچائی پر کرہِ ارض کے مدار میں ہے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک بریفنگ میں کہا کہ ‘آج روسی فیڈریشن نے لاپرواہی کے ساتھ ایک براہِ راست اینٹی سیٹلائٹ میزائل کا ٹیسٹ کیا اور اپنے ہی ایک سیٹلائٹ کو تباہ کا۔ اس ٹیسٹ سے اب تک 1500 ٹکرے مدار میں آ چکے ہیں جو کہ تمام ممالک کے مفادات کے لیے خطرہ ہیں۔‘

ناسا کے منتظم بل نیلسن کا کہنا تھا کہ وہ اس واقعے پر شدید غصے میں ہیں۔

ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ‘روس کی انسانوں کی خلائی پروازوں کی طویل تاریخ کے پس منظر میں یہ انتہائی حیران کن ہے کہ روس نہ صرف امریکی بلکہ اپنے خلا بازوں کو بھی خطرے میں ڈالے گا یا چین کے خلائی شٹیشن میں موجود عملے کو خطرے میں ڈالے گا۔

ادھر روسی خلائی ایجنسی نے اس واقعے کو اتنی اہمیت نہیں دی۔ ایجنسی نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ‘جس چیز کے مدار کی وجہ سے طریقہ کار کے مطابق عملے کو پناہ لینی پڑی، اس کا مدار آیس ایس ایس کے مدار سے دور ہو چکا ہے۔ آئی ایس ایس اب گرین زون میں ہے۔‘

یہ ٹکڑا آئی ایس ایس کے قریب سے تو گزر گیا تاہم اب اس بات پر غور ہے کہ یہ کہاں سے آیا تھا۔

بظاہر یہ تباہ شدہ روسی سیٹلائٹ کوسموس 1408 کا ٹکڑا جو کہ ایک جاسوس سیٹلائٹ تھا، جسے 1982 میں لانچ کیا گیا تھا اور کئی برسوں سے کام نہیں کر رہی تھی۔

بیان حلفی: سابق جج سمیت تمام فریقوں کو شوکاز نوٹس، نقصان تو ہوچکا ہے، ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق جج رانا شمیم کے الزامات کے کیس میں میرشکیل الرحمان، انصارعباسی، عامرغوری اور سابق چیف جج گلگت بلتستان کو شوکار نوٹس جاری کر دیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سات روز میں تمام فریقوں سے تحریری طور پر جواب طلب کر لیا ہے۔ کیس کی سماعت 26 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔ دس دن بعد تمام فریقوں کو ذاتی حثییت میں دوبارہ عدالت کے روبرو پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ سابق جج گلگت بلتستان رانا شمیم عدالت میں پیش نہیں ہوسکے۔ رانا شمیم کے بیٹے نے کہ ان کے والد رات اسلام آباد پہنچے، ان کی طبعیت ٹھیک نہیں۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا اگر مجھے اپنے ججز پر اعتماد نہ ہوتا تو یہ توہین عدالت کی کارروائی نہ کرتا، اس عدالت نے کہا کہ ججز کا احتساب ہونا چاہیے اور ان پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے۔ اگر لوگوں کا اعتماد عدالت پر ختم ہو جائے تو افراتفری پھیلتی ہے، آپ نے یہ کیا کیاہے؟ چیف جسٹس اطہر من اللہ کامیرشکیل سے مکالمے میں کہنا تھا کہ آپ ایک لیڈنگ میڈیا آرگنائزیشن کے مالک ہیں۔ اگر کوئی اپنا بیان حلفی نوٹرائز کراتا ہے تو آپ اسکو اخبار کی لیڈ بنا دیں گے؟ کیا عدالت میں کوئی شخص میرے ججز پر الزام عائد کر سکتا ہے کہ وہ کسی سے ہدایات لیتے ہیں۔ کیا آپ نے پوچھا کہ یہ بیان حلفی برطانیہ میں نوٹرائز ہوا؟ انصار عباسی سے مکالمے میں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ انویسٹی گیٹو صحافی ہیں اور میں آپکا احترام کرتا ہوں۔ احتساب عدالت نے 6 جولائی کو نواز شریف اور مریم نواز کو سزا سنائی تھی۔ 16جولائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی۔ چیف جسٹس نے کہا میں اور جسٹس عامر فاروق اس وقت چھٹیوں پر ملک سے باہر تھے۔ جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اپیلوں پر سماعت کی تھی۔ دونوں ججز ملک بھر کے لیے قابل احترام ہیں۔ آپ ہائیکورٹ سے پوچھ لیتے کہ کونسا بینچ اس وقت کیس کی سماعت کر رہا تھا۔ آپ نے خواجہ حارث سے پوچھا کہ کیا کیس الیکشن سے پہلے سماعت کیلئے مقرر کرنے کی درخواست کی تھی، خواجہ حارث پیشہ ور وکیل ہیں انہیں معلوم تھا کہ یہ طریقہ کار نہیں ہوتا۔ کسی وکیل سے پوچھ لیں، ایک دن اپیل دائر ہو اور سزا معطل ہو جائے یہ نہیں ہوتا۔ ایک سال کیلئے ڈویژن بینچ تھے جنہوں نے اس ہائیکورٹ کو چلایا۔ چیف جسٹس نے کہا جج کے نام کی جگہ خالی چھوڑ کر آپ نے ساری ہائیکورٹ پر الزام عائد کر دیا۔ اس ہائیکورٹ سے لوگوں کا اعتماد اٹھانے کیلئے سازشیں شروع ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس ایک چیف جسٹس کے سامنے ایسی بات کرے اور وہ 3سال خاموش رہے۔ اچانک سے ایک پراسرار حلف نامہ آ جائے اور ایک بڑے اخبار میں شائع ہو جائے۔ انصار عباسی نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے استدعا کی کہ کیا میں کچھ کہہ سکتا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا آپ اب کیا کہیں گے، جو نقصان کرنا تھا وہ آپ کر چکے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ رانا شمیم عدالت میں پیش ہوئے ہیں؟ وکیل نے بتایا کہ رانا شمیم کے بھائی کا انتقال ہوا ہے، انہیں پیش ہونے کیلئے وقت دیا جائے۔ وکیل رانا شمیم نے بتایا کہ ان کے موکل امریکہ میں ایک کانفرنس میں شریک ہونے کیلئے گئے تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اہم ترین عہدہ رکھنے والا شخص 3 سال بعد ایسا بیان حلفی کیسے دے سکتا ہے؟ افواہیں ہیں کہ وہ بیان حلفی جعلی ہے۔ اگر وہ جعلی ہوتا ہے تو پھر شائع کرنے والے کے خلاف کیا کارروائی ہو گی؟ اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ رانا شمیم کے بھائی کا 6 نومبر کو انتقال ہوا۔ یہ پورے جوڈیشل سسٹم اور بالخصوص ہائیکورٹ پر الزام عائد کیا گیا۔ یہ کوئی عام معاملہ نہیں اسکے بہت سنجیدہ نتائج ہوں گے۔ چیف جسٹس نے انصار عباسی سے سوال کیا کہ جس بینچ نے سماعت کی وہ کس نے بنوایا تھا؟ میں آپکو لکھواتا ہوں کہ اس کیس کی سماعتیں کتنی ہوئیں۔ عدالت نے ان اپیلوں پر روزانہ کی بنیاد پر بھی سماعت کی، اسکی بھی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ہائیکورٹ کا کوئی جج کسی کو اپنے گھر یا چیمبر میں آنے کی اجازت دے تو میں ذمہ دار ہوں گا۔ نقصان تو ہوچکا ہے۔ جس بیان حلفی پر ابہام ہے جو کہیں کسی جوڈیشل فارم پر پیش ہوا تحقیقات کیے بنا اسٹوری کردی۔ انصار عباسی کا کہنا تھا کہ میں نے کسی جج کا نام نہیں لیا۔ میرے خلاف آپ کارروائی عمل میں لائیں مگر الزمات کی انکوائری کروائیں۔ عدالت نے میر شکیل اور عامرغوری سے سوال کیا کہ آپ کی بھی ذ مہ داری تھی ایسی اسٹوری کیسے چھپی؟مجھے بتائیں کہ آپ کی کوئی ایڈیٹوریل پالیسی نہیں ہے؟

عمران کی حکومت پانچ سال پورے نہیں کرے گی: آصف زرداری

سابق صد آصف زرداری نے کہا ہےکہ عمران خان کو لانے والے اپنی غلطی کا اعتراف کررہے ہیں اور ان کی حکومت پانچ سال پورے نہیں کرے گی۔
احتساب عدالت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر نے رانا شمیم سے متعلق سوال پر کہا کہ ہم پہلےہی یہ راستہ دیکھ چکے ہیں، جسٹس قیوم کےساتھ سیف الرحمان اور کچھ دوستوں کی ٹیپ تھی۔
آصف زرداری نے کہا کہ عمران خان کی حکومت مدت پوری نہیں کرےگی، ان کو لانے والے اب اعتراف کررہے ہیں کہ ان سے غلطی ہوگئی، اب وہ اس غلطی کو کیسے ٹھیک کریں یہ اللہ کو بہتر معلوم ہے۔
سابق صدر کا کہنا تھا کہ مریم نوازمیری بیٹیوں جیسی ہیں، ان کی درخواست سے متعلق بات نہیں کروں گا۔

جنوبی افریقا کا گھانا کیخلاف فٹبال ورلڈکپ کوالیفائر میچ دوبارہ کروانے کا مطالبہ

جنوبی افریقا نےگھانا کے خلاف 2022 کے فٹبال ورلڈ کپ کوالیفائر میچ کو دوبارہ کرانے کا مطالبہ کردیا۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ( اے ایف پی ) کے مطابق پیر کے روز جنوبی افریقا نے گھانا کے خلاف متنازعہ پینلٹی کے باعث شکست کی وجہ سے ورلڈکپ کوالیفائر میچ دوبارہ کروانے کا مطالبہ کیا ۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق اتوار کے روز 2022 کے فٹبال ورلڈ کپ کوالیفائر میچ میں گھانا نے جنوبی افریقا کو ایک صفر سے ہرایا۔
میچ کے پہلے ہاف میں گھانا کے ڈیفینڈر ڈینیئل امرتی کورنر سے ملنے والے پاس پر مخالف ٹیم کے گول پر اسٹروک مارنے لگے تو بظاہر جنوبی افریقی کھلاڑی کے ہاتھ لگنے کی وجہ سے وہ نیچے گرے جس پر فیلڈ پر موجود ریفری نے گھانا کو ایک فری پینلٹی کک دے دی ۔فری پینلٹی کک پر گھانا نے گول کیا جو میچ کا نتیجہ خیز گول ثابت ہوا۔
گھانا سے ایک صفر کی ہار کے بعدجنوبی افریقا 2022 کے ورلڈ کپ میں جگہ بنانے سے محروم ہو گیا ہے جس کے بعد جنوبی افریقا نے اس پینلٹی کے خلاف بولنا شروع کردیا۔
جنوبی افریقی فٹ بال ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹیو نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انصاف کا تقاضہ ہے کہ میچ دوبارہ کروایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ میچ حکام نے کھیل کا فیصلہ کیا، جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ہم کنفیڈریشن آف افریقن فٹ بال (سی اے ایف) اور فیفا کو خط لکھیں گے، اور ان سے اس بات کی تحقیقات کرنے کو کہیں گے کہ کھیل کو کیسے ہینڈل کیا گیا۔

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس: وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سیاسی محاذ پر متحرک

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومتی ارکان کی حاضری یقینی بنانے کا ہدف، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سیاسی محاذ پر متحرک ہوگئے، آج ہی اسلام آباد جانے کا فیصلہ کرلیا۔ وزیراعلیٰ اسلام آباد میں پنجاب کے ارکان قومی اسمبلی سے ملاقات کریں گے۔ عثمان بزدار نے تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی کو عشائیہ پر مدعو کرلیا۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار پنجاب ہاؤس میں تحریک انصاف اور اتحادی ارکان قومی اسمبلی کو عشائیہ دیں گے۔ وزیر اعلی پنجاب ارکان قومی اسمبلی کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حاضری یقینی بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے۔ عثمان بزدار کل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی کارروائی بھی دیکھیں گے۔

بھارتی حکومت نے کررتار پور راہداری 19 نومبر سے کھولنے کا اعلان کردیا

بھارتی حکومت  نے  بالآخر کرتار پور راہداری 19 نومبر سے کھولنے کا اعلان کردیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کےسکھ ارکان پارلیمنٹ نےبھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سےکرتار پور راہداری کھولنے کی درخواست کی تھی۔

واضح رہے کہ بھارت نے کورونا کو وجہ بتاکر 16 مارچ 2020 کو کرتار پور راہداری بند کر دی تھی۔

ذرائع کے مطابق بھارت میں سکھوں کی تمام تنظیموں نے بھی راہداری کھولنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا جس کے بعد بھارتی حکومت  نے باباگورو نانک کی 552 ویں سالگرہ پر کرتار پور راہداری کھولنےکا اعلان کردیا۔

سربراہ پاکستان متروکہ وقف املاک بورڈ ڈاکٹر عامر نے جیو نیوز سےگفتگو میں بتایا کہ انہیں بھارت کی جانب سے کرتار پور راہداری 19 نومبر کو کھولنے کے غیر سرکاری انتظامات کاعلم ہے، تاہم بھارت کی طرف  سے پاکستان کو سرکاری طورپر تاحال مطلع نہیں کیاگیا۔

عدلیہ پر حملہ، ویڈیو بنانا ن لیگ کی تاریخ، شیخ رشید، فواد چودھری

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے کہاہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے حوالے سے تمام اتحادی جماعتوں کے اعتراضات دور کر دیے ہیں،وزیر اعظم سے ملاقات میں اتحادیوں کی لیڈرشپ کے اعتراضات کو تفصیل سے سنا گیا اور ان کو دور کیا گیا ہے، بدھ کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوگا،جس میںانتخابی اصلاحات کے بل پیش کیے جائیں گے، تمام اتحادی حکومت کے پیچھے کھڑے ہیں،عدلیہ پر حملہ کرنا، ججوں پر الزامات لگانا، ویڈیوز بنانا ن لیگ کی تاریخ رہی ہے،چیف جسٹس صاحب کے سوموٹو کا خیرمقدم کرتے ہیں، شاہد خاقان عباسی اور خواجہ آصف نے سوموٹو نوٹس لینے کے بعد پریس کانفرنس کی اور پھر عدالتوں کو سکینڈل بنانے کی کوشش کی،اسلام آباد ہائی کورٹ کو ان دونوں حضرات کو بھی اپنے سوموٹو نوٹس میں بلانا چاہئے۔پیر کو اسلام آباد میں وزیرداخلہ شیخ رشید احمد اور وزیراعظم معاون خصوصی شہبازگل کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بدھ کو طلب کر لیا گیا۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت کی اتحادی جماعتوں عوامی مسلم لیگ، جی ڈی اے، ایم کیو ایم، ق لیگ اور بلوچستان عوامی پارٹی کی قیادت کی وزیراعظم سے ملاقات ابھی تھوڑی دیر قبل ختم ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اتحادیوں کی لیڈرشپ کے اعتراضات کو تفصیل سے سنا گیا اور ان کو دور کیا گیا ہے۔فواد چوہدری نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تمام اتحادیوں نے پی ٹی آئی اور عمران خان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اجلاس میں بدھ کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ان کے مطابق انتخابی اصلاحات کے بل پیش کیے جائیں گے، تمام اتحادی حکومت کے پیچھے کھڑے ہیں۔وزیراعظم نے خود تمام پارٹیوں کی جانب سے کیے گئے سوالات کے جواب دیے، تمام اتحادی جماعتیں حکومت کے ساتھ کھڑی ہیں۔فواد چوہدری نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار پر نواز شریف کو جیل میں رکھنے کی ہدایت پر مبنی رپورٹ کو الزام قرار دیتے ہوئے کہا کہعدلیہ پر حملہ کرنا، ججوں پر الزامات لگانا، ویڈیوز بنانا ن لیگ کی تاریخ رہی ہے،کتنا مضحکہ خیز شگوفہ ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان میرے پاس آئے، ہم چائے پی رہے تھے، اچانک چیف جسٹس کو خیال آیا انہوں نے فون اٹھایا کہ فلاں جج کو فون کردیں، میڈیا میں ایڈیٹوریل چیک ہونا بہت ضروری ہے، اس طرح کوئی خبر بڑے اخبار میں بغیر ایڈیٹوریل نہیں لگ سکتی، اخبار نے یہ چیک کرنا مناسب نہیں سمجھا کہ جس جج کا نام لے رہے ہیں وہ جج بینچ میں ہی شامل ہی نہیں ہے، بدقسمتی سے کسی جج کا نام لے کر اتنی بڑی ہیڈ لائن لگا کر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا، چیف جسٹس صاحب کے سوموٹو کا خیرمقدم کرتے ہیں،ن لیگ کے شاہد خاقان عباسی اور خواجہ آصف نے سوموٹو نوٹس لینے کے بعد پریس کانفرنس کی اور پھر عدالتوں کو سکینڈل بنانے کی کوشش کی،اسلام آباد ہائی کورٹ کو ان دونوں حضرات کو بھی اپنے سوموٹو نوٹس میں بلانا چاہئے، جب جج صاحبان نے نوٹس لے لیا تھا تو ان کا کام نہیں بنتا کہ وہ اس پر پریس کانفرنس کرتے۔وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ ایم کیو ایم اور ق لیگ ہمارے ساتھ ہیں، اتحادیوں کے جواب وزیراعظم نے خود دیئے، آج صبح سے ہی وزیراعظم ہاﺅس میں کافی کام ہوا ہے،ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ق ہمارے ساتھ ہیں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ ملزم بھی کوئی عام آدمی نہیں ملک کاوزیر اعظم،بیوقوفانہ کہانیاں اور سازشی تھیوریاں گھڑنے کی بجائے یہ بتا دیں نواز شریف نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس جو بعد میں مریم نواز کی ملکیت میں دے دئیے گئے ان کے پیسے کہاں سے آئے؟ ۔ انہوںنے کہاکہ مریم نے کہا میری لندن میں تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں اب اربوں کی جائیداد سامنے آ چکی جواب اس کا دیں۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی شہبازگل نے کہا ہے کہ رانا شمیم ساہیوال سے نکل کر گلگت میں جج کیسے، کس حکومت میں لگے؟ جج شمیم نے یہ راز اتنے سالوں تک چھپا کر کیوں رکھا؟۔سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم سے متعلق خبر پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے اپنے بیان میں کہاکہ شمیم صاحب ایک کپ چائے نواز شریف اور مریم صاحبہ کے ساتھ بھی پی لیں، چائے پی کر بتائیں کہ لندن اپارٹمنٹس کے پیسے کہاں سے آئے۔وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے اپنے سلسلہ وار ٹوئٹس میں کہا کہ عدالتوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش، مریم کی اپیل رکوانے کے لیے ویڈیو سے لیکر خواب سنانے کی بجائے رسیدیں دیں۔انہوں نے کہا کہ جج شمیم کو اچانک خواب آنے کی وجہ مریم صفدر کی 17 تاریخ کو لگنے والی اپیل ہے، مریم نواز اپنی اپیل میں ہرصورت تاخیر کروانا چاہتی ہیں۔شہباز گل نے کہا کہ ابھی اور ڈرامے بھی ہوں گے، سب سے پہلے تو جج شمیم پر ایف آئی آر ہونی چاہیے، انہوں نے یہ راز اتنے سالوں تک چھپا کر کیوں رکھا؟انہوں نے کہا کہ واہ میری قوم حسن علی کے ایک کیچ چھوڑنے پر اتنا غصہ،اربوں لوٹنے والوں کو پھولوں کے ہار۔