کورونا کے باعث پاکستانی نژاد سر انور پرویز سمیت برطانیہ کے ایک ہزار ارب پتیوں کی دولت میں 54 ارب ڈالرکمی

لندن (ویب ڈیسک)بس کنڈیکٹر سے ڈرائیور بننے اور پھر چھوٹا سی دکان کھول کر ارب پتی بننے والے پاکستانی نڑاد برطانوی ارب پتی سر انور پرویز کی دولت میں کورونا وائرس کے باعث کم از کم 32 ارب روپے کی کمی ہوئی ہے۔کورونا وائرس کے باعث نہ صرف سر انور پرویز بلکہ برطانیہ کے ایک ہزار ارب پتیوں کی دولت میں 54 ارب ڈالر یعنی پاکستانی 80 کھرب روپے سے زائد کی کمی ہوئی ہے۔پاکستانی نڑاد سر انور پرویز کی مجموعی دولت میں گزشتہ 2 ماہ کے دوران 32 ارب روپے سے زائد کمی کے بعد وہ برطانیہ میں امیر ترین افراد کی فہرست میں 50 ویں نمبر پر آگئے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق برطانوی اخبار کی جانب سے ارب پتی افراد کی تازہ فہرست کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں پہلی بار برطانیہ کے ارب پتی افراد کی دولت میں اتنی بڑی کمی دیکھی گئی اور وہ بھی صرف 2 ماہ کے دوران ارب پتی افراد اربوں روپے سے محروم ہوگئے،دی سنڈے ٹائمز کی جانب سے ہر سال جاری کی جانے والی فہرست کے مطابق اس سال مجموعی طور پر کورونا وائرس کے باعث ایک ہزار ارب پتی افراد کی 54 ارب ڈالر کی دولت کم ہوئی اور کئی ارب پتی افراد 6 ارب ڈالر تک کی دولت سے محروم ہوگئے۔برطانوی ارب پتی افراد میں سے کم از کم 5 سے 6 ارب پتی لوگ گزشتہ 2 ماہ کے دوران پاکستانی 10 ارب روپے کی دولت سے محروم ہوگئے اور وہ امیر افراد کی فہرست میں بھی نیچے چلے گئے۔کورونا وائرس سے قبل پاکستانی نڑاد ارب پتی شخص سر انور پرویز امیر ترین افراد کی فہرست میں 42 ویں نمبر پر تھے مگر گزشتہ 2 ماہ میں 43 کروڑ 20 لاکھ امریکی ڈالر یعنی پاکستانی 32 ارب روپے سے زائد کی دولت گنوانے کے بعد وہ امیر افراد کی فہرست میں مزید نیچے چلے گئے اور تازہ فہرست میں وہ 50 ویں نمبر پر ہیں۔سر انور پرویز 1950 کی دہائی میں روزگار کے سلسلے میں پنجاب کے شہر راولپنڈی سے برطانیہ منتقل ہوئے تھے اور ابتدائی طور پر انہوں نے بس کنڈیکٹر کی نوکری کی تھی۔بس کنڈیکٹر کے بعد وہ ڈرائیور بنے تھے اور اس کے بعد انہوں نے 10 سال تک کفایت شعاری سے کام لیتے ہوئے اپنے دیگر اہل خانہ کو بھی ایک ایک کرکے برطانیہ منتقل کیا اور پھر 1960 تک ان کے خاندان کے دوسرے افراد بھی کچھ کمائی کرنے لگے۔1963 میں انہوں نے انگلینڈ کے ارل کورٹس کے علاقے میں مصالحوں اور حلال گوشت کی چھوٹی سی دکان کھولی اور پھر انہوں نے کیش اینڈ کیری اسٹور کھولے اور رفتہ رفتہ ترقی کی منزلیں طے کرتے گئے۔آگے چل کر سر انور پرویز نے بیسٹ وے نامی کمپنی بنائی جس کے تحت ہول سیل کے کاروبار سمیت سیمنٹ، فارمیسی، ریئل اسٹیٹ اور بینکنگ کے شعبے میں کاروبار کرنے لگے اور اسی گروپ کے تحت برطانیہ اور پاکستان سمیت دیگر ممالک میں بھی کاوروبار چل رہے ہیں۔سر انور پرویز کو ان کی خدمات کے عوض 1999 میں ملکہ برطانیہ نے اعزاز بھی دیا جب کہ انہیں ایک اچھی سماجی شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔دی سنڈے ٹائمز کی فہرست کے مطابق سر انور پرویز کے علاوہ چند ارب پتی افراد کی دولت میں بھی بہت ہی زیادہ کمی ہوئی ہے اور ان کی دولت میں مجموعی طور پر 6 ارب ڈالر یعنی پاکستانی 8 سے 9 کھرب روپے تک کی کمی ہوئی۔دولت میں کمی کے باعث کئی ارب پتی افراد دولت مند افراد کی فہرست میں بھی نیچے چلے گئے جب کہ کچھ افراد حیران کن طور پر ترقی کرکے اوپر آگئے۔
حیران کن طور مو¿جد جیمس ڈائسن کی دولت میں اضافہ ہوا اور وہ 2018 کے بعد پہلی بار وبا کے دنوں میں برطانیہ کے سب سے امیر شخص بن گئے اور ان کی دولت 16 ارب 20 کروڑ ڈالر سے زائد ہوگئی۔کورونا وائرس کی وجہ سے جن افراد کی دولت میں نمایاں کمی ہوئی ان میں بھارتی نڑاد ارب پتی بھائی ہندوجا برادرز بھی ہیں جن کی دولت میں 6 ارب ڈالر کی کمی ہوئی ہے اور ان کی دولت 22 ارب ڈالر سے کم ہوکر 14 ارب ڈالر تک جا پہنچی۔اسی طرح بھارتی نڑاد ارب پتی شخص لکشمی متل کی دولت میں بھی 4 ارب ڈالر کی کمی ہوئی ہے اور اب ان کی دولت 7 ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئی اور وہ امیر افراد کی فہرست میں 19 ویں نمبر پر آگئے۔دی سنڈے ٹائمز کی فہرست کے مطابق اگرچہ کورونا وائرس کی وجہ سے گزشتہ 2 ماہ میں برطانوی ارب پتی افراد کی دولت میں 54 ارب ڈالر کی کمی ہوئی تاہم اس کے باوجود لندن کو ارب پتی افراد کا دارالحکومت کہا جا سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس وقت بھی لندن میں 89 ارب پتی افراد رہائش پذیر ہیں۔لیکن ساتھ ہی رپورٹ میں بتایا گیا کہ حیران کن طور پر زیادہ تر ارب پتی کاروباری افراد کورونا کے باعث حکومت سے مدد کے خواہاں ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ متعدد ارب پتی افراد نے کورونا کی وجہ سے کئی ملازمین کو جبری رخصت پر بھیج دیا اور انہوں نے کاروبار بند کردیے، اس لیے اب وہ چاہتے ہیں کہ حکومت مالی طور پر ان کی مدد کرے۔رپورٹ کے مطابق ارب پتی افراد چاہتے ہیں کہ برطانوی حکومت نہ صرف ان کی مالی مدد کرے بلکہ وہ انہیں ٹیکس میں بھی چھوٹ دے۔

میں ’ارطغرل غازی‘ کے خلاف نہیں، ریما کی وضاحت

  کراچی(شوبزڈیسک)پاکستان میں دکھائے جانے والے ترکی کے ڈرامے ’ارطغرل غازی‘ کے حوالے سے چند روز قبل اداکارہ ریما کا ایک بیان سامنے آیا تھا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔اداکارہ ریما نے اپنے بیان میں ترک ڈراموں کی تشہیر کے خلاف آواز اٹھائی تھی، تاہم شدید تنقید کے بعد اب اداکارہ نے اپنے بیان کی وضاحت کردی۔سوشل میڈیا پر سامنے آئی ویڈیو کے مطابق ریما نے رمضان ٹرانسمیشن کے دوران بتایا کہ ان کے بیان کو غلط رنگ دیا گیا۔ریما کا کہنا تھا کہ ’میں ترکی کے ڈرامے کے مداحوں کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ میں اس ڈرامے کے خلاف نہیں اور نہ ہی اس ڈرامے کی تاریخ کے خلاف ہوں، ایسا ممکن نہیں کہ میں کسی ایسے ڈرامے کے خلاف ہوں جس میں اسلامی تاریخ کو پیش کیا گیا ہو، پھر چاہے وہ ڈراما ترکی کا ہو، ملائیشیا کا، سعودی عرب کا یا پھر کسی دشمن ممالک کا، اگر ہماری تاریخ کو مثبت دکھایا گیا تو میں اس کا سپورٹ کروں گی‘۔اداکارہ کا مزید کہنا تھا کہ ’میں بس یہ کہنا چاہ رہی تھی، کہ جب آپ کی ریاست کے چینل پر کچھ دکھایا جارہا ہو، تو ایسے وقت میں بارٹر سسٹم لاگو ہونا چاہیے، ماضی میں پاکستانی ٹیلی ویڑن انڈسٹری میں جو ڈرامے بنائے گئے ان کا بھی ترکی میں ترجمہ ہو اور حکومت کی جانب سے یہ معاہدہ کیا جائے کہ ہمارے ڈرامے بھی ترکی میں پیش ہوں، اس طرح ہماری مقامی انڈسٹری آگے بھی بڑھ سکے گی اور وہ افراد وہ اس انڈسٹری سے وابستہ ہیں جنہیں کام نہیں مل رہا ان کے لیے کئی مواقعے سامنے آئیں گے‘۔یاد رہے کہ اس سے قبل ریما نے اس ڈرامے کے حوالے سے کہا تھا کہ ’چند روز قبل شان شاہد نے بھی اس حوالے سے بات کی تھی۔ میں ان سے بالکل اتفاق کرتی ہوں، یہ غلط ہے کہ ہم پاکستان میں غیر ملکی پروجیکٹس کی تشہیر کریں، خاص طور پر تب جب یہاں کے فنکار گھروں پر بیٹھے ہیں جن کو کام نہیں دیا جارہا‘۔

لاہور اور فیصل آباد سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں ٹرانسپورٹ نہ چل سکی

لاہور: (ویب ڈیسک) لاہور اور فیصل آباد سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں ٹرانسپورٹ نہ چل سکی، پردیسی انتظار کرتے رہ گئے لیکن بس نہ چلی، مسافر شکوے کرتے رہے۔لاہور سے بسیں منزل کی جانب روانہ نہ ہوسکیں، لاری اڈے پر ایک دو بسوں کے علاوہ کوئی بس موجود نہیں تھی، ہو کا عالم تھا، چند مسافر آئے اور واپس لوٹ گئے۔فیصل آباد میں بس اڈوں پر آنیوالے مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، ٹرانسپورٹر اور پردیسیوں نے شکوے کا اظہار کیا۔ ملتان سمیت پنجاب کے مختلف شہروں بھی ٹرانسپورٹ نہ چلی سکی، ہر اڈے پر ویرانی چھائی رہی۔پشاور سمیت خیبرپختونخوا میں بسوں کا پہیہ چل پڑا، ایک دھڑے نے بسیں چلا دیں، ایس او پیز پر عملدر آمد نہ ہوسکا، مسافروں سے ڈبل کرائے بھی وصول کئے جانے لگے۔دوسری طرف سندھ حکومت نے عید سے پہلے ٹرانسپورٹ نہ چلانے کا اعلان کیا ہے، بلوچستان میں بھی بسیں چلانے کا فیصلہ نہ ہوسکا۔

چیف جسٹس پاکستان نے ملک بھر میں شاپنگ مالز کھولنے کی ہدایت کردی

اسلام آباد(ویب ڈےسک)کوروناازخودنوٹس کیس میں سپریم کورٹ نے ملک بھر میں شاپنگ ملز کھولنے کی ہدایت کردی ،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ہفتے اور اتوار کو بھی شاپنگ مالز اورمارکیٹیں بند نہیں ہونگی۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ آپ نئے کپڑے نہیں پہننا چاہتے لیکن دوسرے لیناچاہتے ہیں بہت سے گھرانے صرف عید پر ہی نئے کپڑے پہنتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں کورونا ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی،اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے بذریعہ ویڈیو لنک کراچی سے دلائل دیئے۔چیف جسٹس نے کمشنر کراچی کودکانیں اورمارکیٹیں سیل کرنے سے روک دیا چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ تاجروں سے بدتمیزی کرنی ہے نہ رشوت لینی ہے دکانیں سیل کرنے کے بجائے ایس او پیز پر عمل کرائیں جو دکانیں سیل کی گئی ہیں انہیں بھی کھول دیں۔چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ چھوٹے تاجر کو رونا کے بجائے بھوک سے ہی نہ مرجائیں ،وزارت قومی صحت کی رپورٹ اہمیت کی حامل ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ جن چھوٹی مارکیٹوں کو کھولا گیا وہ کونسی ہیں؟،کیا زینب مارکیٹ اورراجہ بازار چھوٹی مارکیٹیں ہیں ؟،کیاطارق روڈ اورصدر کاشمار بھی چھوٹی مارکیٹوں میں ہوتا ہے؟۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہاکہ شاپنگ مالز کے علاوہ تمام مارکیٹیں کھلی ہیں ،کمشنر کراچی نے کہاکہ مالز میں 70 فیصد لوگ تفریح کیلئے جاتے ہیں۔چیف جسٹس نے کمشنر کراچی کو ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ عید کے موقع پر ہفتے اوراتوار کو مارکیٹیں بند نہ کی جائیں ،عدالت نے چیف سیکرٹری سندھ کو فوری طلب کرلیا۔عدالت نے سندھ میں شاپنگ مالز کھولنے سے متعلق ہدایات فوری طلب کرلیں۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ عیدپر رش بڑھ جاتا ہے ہفتے اوراتوار کو بھی مارکیٹیں بند نہ کرائی جائیں،آپ نئے کپڑے نہیں پہننا چاہتے لیکن دوسرے لیناچاہتے ہیں بہت سے گھرانے صرف عید پر ہی نئے کپڑے پہنتے ہیں۔

ماسک نہ پہننے پر 55 ہزار ڈالر جرمانہ

ویب ڈےسک)قطر میں ماسک نہ پہننے پر تین سال قید یا 55 ہزار امریکی ڈالر جرمانے کا اعلان کیا گیا ہے۔کورونا وائرس کے پھیلاو¿ کو روکنے کے لیے مختلف ممالک میں کیے گئے لاک ڈاو¿ن میں نرمی کی جا رہی ہے تاہم عوام سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا بھی کہا جا رہا ہے۔قطر میں اس وقت کورونا کیسز کی تعداد 30 ہزار جب کہ 15 لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔خلیجی ملک نے کورونا کے کیسز کو بڑھنے سے روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات کے طورپر گھر سے نکلنے کے لیے ماسک پہننے کو لازمی قرار دیا ہے۔حکام کے مطابق گھر سے کسی بھی کام کے لیے نکلنے کے لیے ماسک پہننا ضروری ہو گا سوائے ان افراد کے جو اپنی گاڑی میں اکیلے سفر کر رہے ہوں۔قطری حکام کے مطابق ماسک نہ پہننے پر 55 ہزار امریکی ڈالر جرمانہ یا تین سال قید کی سزا ہو گی۔

ملک میں آج کورونا سے مزید 8 ہلاکتیں، 960 نئے کیسز رپورٹ

لاہور(وےب ڈےسک)ملک میں آج اب تک کورونا سے مزید 8 افراد کی ہلاکت کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 903 ہو گئی ہے جب کہ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مریضوں کی تعداد 42125 تک پہنچ گئی ہے۔اب تک سب سے زیادہ اموات خیبرپختونخوا میں سامنے آئی ہیں جہاں کورونا سے 318 افراد انتقال کرچکے ہیں جب کہ سندھ میں 277 اور پنجاب میں 260 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
اس کے علاوہ بلوچستان میں 36، اسلام آباد 7، گلگت بلتستان میں 4 اور آزاد کشمیر میں مہلک وائرس سے ایک شخص جاں بحق ہوا ہے۔آج کے کیسز کی صورتحال آج اب تک ملک بھر سے کورونا کے مزید 960 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور 8 ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں جن میں پنجاب سے 762 کیسز 8 ہلاکتیں، بلوچستان 148 کیسز اور اسلام آباد سے مزید 50 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔پنجاب سے آج اب تک کورونا کےمزید 762 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور 8 ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں جن کی تصدیق صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے کی گئی ہے۔پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق صوبے میں کورونا کے کیسز کی مجموعی تعداد 15346 ہوگئی ہے جب کہ 260 افراد اب تک جاں بحق ہوچکے ہیں۔

حلیمہ سلطان کے بعدارطغرل غازی کے مزید 2 اداکار پاکستان آنے کے خواہشمند

 

انقرہ (ویب ڈیسک)اسلامی فتوحات پر مبنی سیریز ’دیرلیش ارطغرل‘ میں حلیمہ سلطان کا کردار ادا کرنے والی ’اسراء بلجیک‘ کے بعد اب ’ارطغرل غازی‘ کے مزید دو اہم کردار’ دوآن بے‘ (روشان) اور اصلحان خاتون نے بھی بہت جلد پاکستان آنے کی خواہش ظاہر کردی۔’ارطغرل غازی‘ کے سیزن 3 میں اصلحان خاتون کا کردار ادا کرنے والی کلثوم علی نے گزشتہ روز فوٹو اور ویڈیو شیئر نگ ایپ انسٹاگرام پر اپنی تصویر شیئر کرتے ہوئے اپنے پاکستانی مداحوں کے لیے پیغام جاری کیا۔انسٹاگرام پر جاری کردہ اپنے پیغام میں کلثوم علی نے اپنے پاکستانی مداحوں کو ہیلو کرتے ہوئے لکھا کہ ’ا?ٓ کے محبت بھرے پیغامات اور کمنٹس کے لیے بہت شکریہ، آپ کی قیمتی تعریفوں نے مجھے بہت خوش کیا ہے۔‘کلثوم علی نے پاکستان کا دورہ کرنے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے لکھا کہ ’مجھے کبھی پاکستان آنے کا موقع نہیں ملا لیکن مجھے ا±مید ہے کہ اِس وبا کے ختم ہونے کے بعد میں پاکستان ضرور آوں گی اور اپنے مداحوں سے ملاقات کروں گی۔‘اداکارہ نے مزید لکھا کہ ’تب تک کے لیے ا?پ سب اپنا خیال رکھیں اور استنبول سے آپ سب کے لیے بہت ساری نیک تمنائیں۔‘ا?خر میں ا±نہوں نے پاکستان، پاکستان جیوے پاکستان بھی لکھا۔دوسری جانب ’ارطغرل غازی‘ میں دوان بے (روشان) کا کردار ادا کرنے والےجاوید چتین گونر نے ایک نجی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستانیوں کی جانب سے ملنے والے پیار کے لیے میں بہت خوش ہوں۔‘جاوید چتین گونر نے کہا کہ’پاکستانیوں نے ارطغرل غازی کو جو مثبت ردعمل دیا ہے ا±س کے لیے ہماری پوری ٹیم آپ کی مشکور ہے۔‘ا±نہوں نے کہا کہ ’میرے والدین نے مجھے سکھایا ہے کہ پاکستان میرا دوسرا ملک ہے۔‘ا±ن کا مزید کہنا تھا کہ ’میں جلد ہی پاکستان کا دورہ کروں گا۔‘اِس سے قبل ’ارطغرل غازی‘ میں حلیمہ سلطان کا مرکزی کردار اداکرنے والی 28 سالہ اسراء بلجیک نے پاکستانی مداحوں کے محبت بھرے پیغامات کے جواب میں پاکستان آنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ا±نہوں نے لکھا تھا کہ ’وہ جلد ہی پاکستان کا دورہ کریں گی اور اپنے مداحوں سے ملاقات کریں گی۔‘یاد رہے کہ ارطغرل غازی کے تمام اداکاروں کو پاکستانیوں کی جانب سے محبت بھرے پیغامات بھیجے جارہے ہیں، پاکستانی ا±ن کے سوشل میڈیا اکاو?نٹس پر کمنٹس کرکے ا±ن کے لیے اپنی پسندیدگی کا اظہار کرتے نظر آرہے ہیں۔

پاکستانی نژا د برطانوی نابینا لڑکی نے اپنی آواز کایسا جادو جگایا کہ سننے والے دم بخود رہ گئے

 

لندن: (ویب ڈیسک) آنکھوں سے محروم چودہ سالہ پاکستانی نڑاد برطانوی لڑکی سیرین جہانگیر نے اپنی آواز سے سب کو گرویدہ بنا لیا۔ برطانیہ کے شو ‘’بریٹن گاٹ ٹیلنٹ” میں سروں کا ایسا جادو جگایا کہ سننے والے دم بخود رہ گئے۔تفصیل کے مطابق نو سال کی عمر سے آنکھوں کی بینائی سے محروم ہونے والی پاکستانی نڑاد سیرین جہانگیر ‘’بریٹن گوٹ ٹیلنٹ” مقابلہ جیت کر اگلے مرحلے میں پہنچ گئی ہیں۔سٹیج پر کھڑے ہو کر گفتگو کرتے ہوئے سیرین جہانگیر کا کہنا تھا کہ میوزک ہی اس کی بینائی ہے۔ سیرین جہانگیر پیانو بجاتی ہیں اور گانا خود ہی کمپوز کر کے گاتی ہیں۔ سیرین کی پرفارمنس کے دوران حال میں موجود ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہال میں ایک سکوت طاری تھا۔سیرین جہانگیر وزیراعظم پاکستان عمران خان کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی سرمایہ کاری صاحبزادہ جہانگیر کی پوتی اور جنید جمشید کی بھتیجی ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ مسلمانوں پر مہر بان، پاکستانی نژادنوعمر لڑکی کو ہیرو قرار دے دیا

 

 

نیو یا ر ک (ویب ڈیسک)عالمی وبا کورونا کے خلاف جنگ میں پیش پیش پاکستانی نڑاد نوعمر لیلیٰ خان کی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے امریکی صدر نے اسے ہیرو قرار دے دیا۔امریکی ریاست میری لینڈ سے تعلق رکھنے والی 10سالہ پاکستانی نڑاد امریکی نوعمر لڑکی لیلیٰ خان کے اعزاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک تقریب منعقد کی گئی۔ تقریب میں لیلیٰ کی خدمات کے اعتراف میں ٹرمپ نے انہیں خود تعریفی سند عطا کی اور جذبے کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وفاقی دارالحکومت میں قائم امریکی سفارتخانے کی جانب سے پیغام شیئر کیا گیا۔امریکا میں جاری گرلز اسکاوٹس کوکیز فنڈ ریزنگ مہم میں حصہ لینے والی لیلیٰ خان نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے خدمات پیش کرنے والے مقامی طبی عملے اورفائر فائٹرز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے گرلز اسکاوئٹس کوکیز (بسکٹ ) کے 100 باکسز اور تشکر کےکارڈز پیش کیے تھے۔واضح رہے کہ ہرسال امریکا بھر میں جنوری سے اپریل تک ہونے والی گرلز اسکاوٹس کوکیز فنڈ ریزنگ مہم کے دوران 10لاکھ سے زائد لڑکیاں 20 کروڑ سے زائد کوکیز باکسز فروخت کرکے 800 کروڑ ڈالرز مالیت تک کے عطیات جمع کرتی ہیں۔کوکیز باکس کی فروخت سے جمع ہونے والی رقم فلاحی مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

پنجاب میں ٹرانسپورٹرز کا کرایہ کم کرنے اور سندھ میں تاجروں کا حکومتی پابندیاں ماننے سے انکار

کراچی لاہور، پشاور ( مانیٹرنگ سیل ) حکومت پنجاب نے صوبے میں جمعتہ الوداع اور عیدالفطر کی نماز کیلئے مشروط اجازت دیدی، جبکہ 26 صنعتیں، شاپنگ مالز اور پبلک ٹرانسپورٹ بھی آج سے کھل جائینگے، جبکہ پنجاب کے ٹرانسپورٹرز نے حکومتی شرائط کے ساتھ بسیں چلانے سے انکار کردیا ہے۔پبلک ٹرانسپورٹ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ 50 فیصد مسافر اور 20 فیصد کم کرایہ کیساتھ بسیں نہیں چلا سکتے ہیں، پنجاب حکومت ہم سے مذاکرات کرے، ادھر خیبر پختونخوا میں ا?ج سے بھی پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت ہوگی جبکہ ا?زاد کشمیر میں عید تک ٹرانسپورٹ بند رہے گی، سندھ میں تاجروں نے صوبائی حکومت کی پابندیوں کو ماننے سے انکار کردیا ہے۔تاجر رہنماﺅں نے کہا کہ عید میں صرف 6دن ہیں، کاروبار مکمل طور پر 24گھنٹے کھولنے کی اجازت دی جائے، جسے صوبائی حکومت نے مسترد جس پر تاجروں رہنماﺅں نے کہا کہ چاند رات تک تاجر کاروبار 24گھنٹے تک کرینگے، گرفتاری دینی پڑی تو دینگے، صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا تھا کہ ایس اوپیز کی خلاف ورزی ہوگی تو مارکیٹیں سیل ہونگی۔ دوسری جانب سندھ انٹر سٹی بس ایسوسی ایشن نے اعلان کیاہے کہ بدھ سے ملک بھر کیلئے ٹرانسپورٹ چلائینگے، سندھ حکومت نے اجازت نہ دی تو گاڑیاں سڑکوں پر کھڑی کر دینگے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کمشنر ا?فس میں تاجروں اور کمشنر کراچی اور حکومتی کمیٹی کے درمیان ہونے والے مذاکرات ناکام ہوگئے ، تاجر رہنماو?ں کا موقف تھا کہ اب وقت کم ہے اور صرف 6دن باقی ہیں۔ ان چھ دنوں میں کاروبار مکمل طور پر 24گھنٹے کھولنے کی اجازت دی جائے تاہم حکومتی نمائندے اس پر رضا مند نہ ہوئے اور انہوں نے تاجر برادری کی مطالبات مسترد کردیئے۔ تاہم مذاکرات کی ناکامی کے بعد کراچی کے تاجر رہنماو?ں نے ا?ج پیر سے تمام کاروبار مکمل طور پر کھولنے کا اعلان کیا ہے۔تاجر رہنماوں کا کہنا ہے کہ جیلیں بھردینگے لیکن رات گئے تک کاروبار کرینگے، کاروبار کا حق نہیں دیا جائیگا تو ہم اپنے حق کیلئے لڑینگے، تاجر رہنماو?ں کا کہنا تھا کہ حکومت سے مالی سپورٹ مانگی تھی جو ہمیں نہیں دی گئی۔ تاجر رہنماوں نے کہا کہ کل سے تمام کاروبار شاپنگ مالز افطاری کے بعد بھی کھولے جائینگے، سماجی فاصلہ اور احتیاطی تدابیر پر مکمل عمل درآمد کرینگے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر دکانوں او رمارکیٹ کے اوقات کار میں اضافہ کیا جائے۔ بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی کا کہنا تھا کہ ایس اوپیز کی خلاف ورزی ہوگی تو مارکیٹیں سیل ہونگی ،حکومت قانون کی خلاف ورزی پر کارروائی کا حق رکھتی ہے۔ ذرائع کے مطابق مارکیٹوں کے وقت نہ بڑھانے پر ڈیڈ لاک ہوا ، اور تاجر رہنما احتجاجاً اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے، بتایا جاتا ہے کہ سندھ حکومت سیل مارکیٹ کھولنے کیلئے رضا مند ہے تاہم ایس او پیز پر عملدرا?مد کی یقین دہانی پر مارکیٹس ڈی سیل کی جائیں گی۔ تاجر رہنما عتیق میر نے کہا ہم کاروبار کھولیں گے اور جتنا وقت چاہیں گے کھولیں گے، چاند رات تک تاجر کاروبار 24گھنٹے تک کرینگے، گرفتاری دینی پڑی تو دینگے۔

آج سے کاروبار شروع 24 گھنٹے کام کرنے دیں، تاجر بسیں بھی کھل گئیں، 90 فیصد نقصان پر کام نہیں کرینگے، ٹرانسپورٹرز

لاہور‘ کراچی‘ پشاور‘ کوئٹہ (نمائندگان خبریں) حکومت کی طرف سے کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کی روک تھام کےلئے اقدامات کے تحت مختلف بازاراور مارکیٹیں تین روز کی بندش کے بعد آج ( پیر) سے دوبارہ چار روز کےلئے کھل جائیں گی ، حکومت کی اجازت کے بعد شاپنگ مالز ، آٹو انڈسٹری ، پاور لومز کو بھی آج پیر سے سر گرمیاں کرنے کی اجازت ہو گی ، انٹر سٹی اور انٹر ڈسٹرکٹ ٹرانسپورٹ بھی چلے گی ۔تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے کورونا وائرس سے بچاﺅ کےلئے ہفتے میں چار روز کاروبار کرنے کی مشروط اجازت دی گئی تھی جس کے تحت مختلف مارکیٹیں اور بازار جمعہ ، ہفتہ اور اتوار تین روز تک بند رہنے کے بعد آج پیر کے رو ز صبح آٹھ بجے سے شام پانچ بجے تک دوبارہ کھلیں گے ۔ حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے مختلف بازاروںمیں ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں کیا گیا لیکن آج پیر سے کاروبار کھلنے کی صورت میں تاجروں اور خریداروں کو ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا بصور ت دیگر انتظامیہ کارروائی کرنے میں حق بجانب ہو گی ۔حکومت کی طرف سے ایس او پیز پر عملدرآمد کے لئے ٹیموں کو بازاروں اور مارکیٹوں کی مانیٹرنگ کرنے کے بھی احکامات جاری کئے گئے ہیں ۔ دوسری جانب حکومت نے عام آدمی کو سہولت دینے اور آمد و رفت کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کے لئے انٹرسٹی اور انٹر ڈسٹرکٹ ٹرانسپورٹ کھولنے کی اجازت دےدی ہے اورمسافروں کے لئے ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 20 فیصد کمی کا اعلان بھی کیا ہے۔پنجاب حکومت نے آن لائن ٹیکسی و ٹرانسپورٹ سروس کو بھی کام کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے تا ہم پبلک ٹرانسپورٹ اور آن لائن ٹیکسی و ٹرانسپورٹ کو وضع کردہ ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانا ہو گا۔مسافروں ، ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں کے لئے ماسک پہننا لازم قرار دیا گیا ہے -بسوں میں سینی ٹائزر ز رکھنے کی پابندی ہو گی اور مسافروں کے درمیان ضروری فاصلہ رکھا جائے گا۔بس اڈوں پر بھی سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لئے جاری ایس اوپیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا- ایک مقام سے دوسرے مقام پر پہنچنے کے بعد بس کو ڈس انفیکشن کیا جائے گا۔پنجاب حکومت نے آج پیر کے روز سے بڑے شاپنگ مالزکو بھی ایس او پیز کے تحت کھولنے کی اجازت دی ہے جبکہ پاورلومز کو بھی کام کی اجازت دےدی گئی ہے تا ہم اس ضمن میں محکمہ صنعت کو جاری کردہ ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے اقدامات کرنا ہو ں گے۔آٹو انڈسٹری کو بھی کام کرنے کی اجازت دیتے ہوئے ایس او پیز پر سختی سے عمل پیرا ہوں کی ہدایت کی گئی ہے ۔ علاوہ ازیں ڈس انفیکشن کے لئے بند کی گئی لاہور کی اشیائے خوردونوش کی سب سے بڑی تھوک مارکیٹ اکبری منڈی بھی تین روز کی بندش کے بعد آج پیر کے روز سے دوبارہ کھل جائے گی ۔ تاجر برادری نے ہفتے میں سات دن چوبیس گھنٹے کاروبار کھولنے کا مطالبہ کردیا،کہتے ہیں کہ عید میں ایک ہفتہ باقی ہے،کل ٹرانسپورٹ کھلنے کے بعد بازاروں میں مزید دباو¿ بڑھےگا،حکومت کا بیانیہ عوام نےمسترد کیا۔آل پاکستان انجمن تاجران کےعہدیداروں نے پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سے ہفتے کے سات دن چوبیس گھنٹےکاروبار کھولنے کا مطالبہ کرتے ہیں،جنرل سیکرٹری نعیم میرکہتے ہیں کہ عید میں وقت بہت کم اورایس او پیز پر عملدرآمد کرانا ناممکن ہے،عوامی دباو¿ کم کرنےکے لیے چوبیس گھنٹے کاروبار کھولنا ناگزیر ہے۔صدر آل پاکستان انجمن تاجران لاہورملک امانت کا کہنا تھا کہ ہول سیل اور ریٹیل مارکیٹس کےلیےدو شیڈول جاری کیے جائیں،ایس او پیز پر عملدرآمد حکومت کا کام ہے،تاجر برادری بھرپورساتھ دے گی۔تاجر برادری نےکل ٹرانسپورٹ کھلنے پرچھوٹے شہروں کےخریداروں کی لاہور آمد پر معاملات مزید خراب ہونےکا عندیہ دے دیا،،انکا کہنا تھا کہ 24 گھنٹے مارکیٹیں کھولنےسے رش میں کمی آئے گی،حکومت تاجروں کےساتھ تعاون کرے۔

لاہور‘ کراچی (خصوصی رپورٹر‘ وقائع نگار) آل پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ اونرز فیڑریشن نے تحفظات دور ہونے تک ٹرانسپورٹ نہ چلانے کا اعلان کر دیا۔ کہتے ہیں کہ90 فیصد خسارے کے ساتھ ٹرانسپورٹ چلانا ممکن نہیں حکومت ایس او پیز واضح کرے۔آل پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ اونرز فیڈریشن کا ہنگامی اجلاس بادامی باغ لاری اڈہ منعقد ہوا۔ جس میں لاہور کے ٹرانسپورٹروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ دیگر شہروں سے نمائندوں نےفون پر اپنی رائے دی۔اجلاس میں آل پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ اونرز فیڈریشن کےمرکزی چئیرمین حاجی اکرم ذکی، صدر سٹاف ڈیوٹی فلک شیر، مرکزی صدر ملک ندیم حسین، چیف آرگنائزر ایچ ایم جہانگیر، صدر لاہور واجد حسین ڈوگر سمیت دیگر نے شرکت کی۔آرگنائزر و ترجمان ایم ایچ جہانگیر کا کہنا تھا کہ تحفظات دور ہوئے بغیر ٹرانسپورٹ نہیں چلا سکتے۔ حکومت تحریری طور پر ایس او پیز جاری کرے جس کے تحت ہم پبلک ٹرانسپورٹ چلائیں گے۔ اگر 50 فیصد سواریوں میں کمی کرنی ہے تو پھر ہم کرایہ پورا لیں گے۔چئیرمین فیڈریشن اکرم ذکی کا کہنا تھا کہ 90 فیصد خسارے کے ساتھ ٹرانسپورٹ نہیں چلا سکتے۔ ہمارے تحفظات دور نہ ہوئے تو کل ٹرانسپورٹ نہیں چلے گی۔ ٹرانسپورٹرز کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے۔ حکومت ہمارے ساتھ مل کر ایس او پیز بنائے۔ٹرانسپوٹروں کا کہنا تھا کہ حکومت ٹال پلازہ کی شرح میں کمی ٹوکن ٹیکس 1 سال کے لئے موخر اور آئندہ ٹوکن ٹیکس میں 50 فیصد کمی کرے۔ پنجاب حکومت اور ٹرانسپورٹرز درمیان پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے کا معاملہ پھر التواکا شکار ہوگیا اور ٹرانسپورٹرز نے حکومتی ایس او پیز پر ٹرانسپورٹ چلانے سے انکار کردیا جس کے باعث پنجاب میں کل بھی پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چل پائے گی ۔ تفصیلات کے مطابق آل پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے چئیرمین عصمت اللہ نیازی نے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے بتائے گئے ایس او پیز کچھ اور تھے اب نظر کچھ اور آرہے ہیں۔ ہماری مشاورت سے بنائے گئے ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں کروایا گیا۔ دوسری جانب پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز نے ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے باعث کرایوں میں25 سے30 فی صد کمی کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی حکومت سے مارکیٹ میں اشیاکی قیمتوں میں بھی کمی کا مطالبہ کر دیا۔ جنرل سیکرٹری پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن طارق نبیل کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے کرایوں میں 25 سے30 فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کرایوں میں کمی کے پیش نظرمارکیٹوں میں اشیاکی قیمتوں میں کمی کرائے،تاکہ عام عوام کو کرایوں میں کمی کا حقیقی فائدہ پہنچ سکے۔ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے باعث عوامی مفاد کے پیش نظر گڈز ٹرانسپورٹرز نے اپنے طور پر کرایوں میں 30 فیصد تک کمی کا اعلان کیا ہے۔ انٹر سٹی بس ٹرانسپورٹرز نے شہر قائد میں کل(پیر) سے بسیں چلانے کا فیصلہ کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں 18 مئی سے ٹرانسپورٹ بحال ہوجائے گی۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ وزیر ٹرانسپورٹ سندھ نے ٹرانسپورٹ کھولنے کا وعدہ پورا نہیں کیا۔ ایسوسی ایشن کے مطابق صوبائی وزیر اویس شاہ کے کہنے پر19 اپریل کو گاڑیاں کھڑی کر دی تھی، نہیں معلوم تھا گاڑیاں اتنے طویل عرصے بند کرنی پڑیں گی، تاہم کل سے سڑکوں پر بسیں چلیں گی۔ دوسری جانب سندھ انٹرسٹی بس ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ وفاق نے انٹراسٹی اور انٹرسٹی ٹرانسپورٹ کی اجازت دے دی ہے جس کے تحت 20 مئی سے ایس او پی کے تحت بسیں چلانے جارہے ہیں۔ سندھ انٹرسٹی بس ایسوسی ایشن کے مطابق بلوچستان میں بھی ٹرانسپورٹ چلنے جا رہی ہے، ہم پر اپنے یومیہ اجرت کے ملازمین کا دبا ہے، حکومت نے ٹیکس چھوٹ کا اعلان کیا مگر ہمیں کچھ فائدہ نہیں ہوا ہے۔ مسافر اضافی کرایہ ادا کرکے سفر کر رہے ہیں، 20 مئی سے بین الصوبائی روٹ کھولنے کا اعلان کر رہے ہیں۔

اسرائیل میں تعینات چینی سفیر پراسرار طور پر ہلاک

نیویارک (سپیشل رپورٹر سے ) اسرائیل میں تعینات چین کے سفیر مردہ حالت میں پائے گئے ہیں ۔ اس بات کا اعلان اسرائیل کی وزارت خارجہ نے کیا ۔ امریکی اخبار بلوم برگ کے مطابق اسرائیل کی ہیوم نیوز ویب سائٹ کے مطابق اسرائیل میں متعین چینی سفیرمسٹر ڈو وائی جنہوں نے دو ماہ پہلے اپنا عہدہ سنبھالا تھا، اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے ہیں ۔ ان کی موت کی مزید تفصیلات معلوم نہیں ہوسکیں ۔58سالہ مسٹر ڈو وائی کو کرونا وائرس وبا کے دوران فروری میں اسرائیل میں چین کا سفیر تعینات کیا گیا تھا۔ ان کے پسماندگان میں ایک بیٹا اور بیوہ شامل ہیں ۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اسرائیل میں چین کے سفیر نے دو دن پہلے امریکی سیکرٹری خارجہ کے اس بیان کی مذمت کی تھی کہ جس میں کہا گیا تھا کہ چین نے کرونا وائرس وبا کے متعلق معلومات پوشیدہ رکھی ہیں ۔ امریکی ٹی وی چینل سی این این کے مطابق اسرائیل پولیس چینی سفیر کی رہائشگاہ پر پہنچ گئی ہے تاہم کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے اسرائیل دورے کے ایک ہفتے میں ہی چینی سفارت کار کی موت نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ مائیک پومپیو نے اسرائیل کے دورے کے دوران کرونا وائرس کے حوالے سے چین پر شدید تنقید کی تھی اور اسرائیلی رہنماﺅں سے مطالبہ کیا تھا کہ چین کیساتھ بنیادی انفراسٹرکچراور مواصلات کے معاہدے نہ کئے جائیں۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق اسرائیل میں تعینات چینی سفیر ڈو ووی دارالحکومت تل ابیب میں اپنی رہائش گاہ پر مردہ پائے گئے۔ 57سالہ ڈو ووی رات کو معمول کے مطابق اپنے کمرے میں سونے کے لئے گئے تاہم صبح ان کے ملازم نے انہیں جگانے کے لئے ان کے کمرے کا دروازہ کھولا تو وہ اپنے بستر پرمردہ حالت میں پائے گئے۔ ابتدائی طور پر ان کی موت دل کا دورہ پڑنے کے باعث بتائی جارہی ہے لیکن مختلف ذرائع ان کی موت کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں. سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے اسرائیل دورے کے ایک ہفتے میں ہی چینی سفارت کار کی موت نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ مائیک پومپیو نے اسرائیل کے دورے کے دوران کرونا وائرس کے حوالے سے چین پر شدید تنقید کی تھی اور اسرائیلی رہنماﺅں سے مطالبہ کیا تھا کہ چین کیساتھ بنیادی انفراسٹرکچراور مواصلات کے معاہدے نہ کئے جائیں۔ دوسری جانب فلسطینی نیوز ایجنسی قدس نیوز نیٹورک نے چینی سفیر کی موت کی خبر دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ انہیں زہر دیکر قتل کیا گیا ہے کیونکہ حال ہی میں انکا مکمل طبی معائنہ کیا گیا ہے اور وہ بالکل تندرست تھے۔ انہوں نے 14مئی کو کرونا وائرس کے حوالے سے چینی اور فلسطینی ڈاکٹرز کیلئے کانفرنس کا اہتمام کیا تھا۔ جبکہ جمعہ کے روز سفارتخانے نے امریکی وزیر خارجہ پومپیو کی چین پر کرونا وائرس بارے تنقید پر سخت ردعمل دیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی سفیر کی موت کا باضابطہ اعلان نہ چین نے کیا ہے اور نہ ہی اسرائیل نے ایسا کوئی اعلان کیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ چینی سفیر کی موت کا اعلان خود چین ہی کرے گا۔

پنجاب بھر میں پیر سے ٹرانسپورٹ حفاظتی اقدامات کے تحت چلے گی: صوبائی وزیر صنعت

لاہور (ویب ڈیسک)پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ تمام بڑے ٹرانسپورٹرز نے حکومتی ضابطہ کار (ایس او پیز) کو خوشدلی سے قبول کیا ہےکل سے صوبے بھر میں ٹرانسپورٹ حفاظتی اقدامات کو مکمل کرتے ہوئے چلے گی۔آل پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ اونرز فیڈریشن کی جانب سے پنجاب حکومت کی شرائط کے ساتھ بسیں چلانے سے انکار پر صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال نےکہا ہے کہ سیاسی وابستگیاں رکھنے والے چند ٹرانسپورٹرز کے علاوہ تمام ٹرانسپورٹرز نے حکومت کو ضابطہ کار پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی ہے۔میاں اسلم اقبال کا کہنا ہے کہ وائرس کا پھیلاو¿ روکنے کے لیے ٹرانسپورٹرز کی مشاورت سے ضوابط تیار کیے تھے، تمام بڑے ٹرانسپورٹرز نے حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ضابطہ کار کو خوشدلی سے قبول کیا ہے اور کل سے پنجاب بھر میں ٹرانسپورٹ حفاظتی اقدامات کو مکمل کرتے ہوئے چلے گی۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ بس میں ایک ہی خاندان کے افراد کے لیے خالی سیٹ چھوڑنے کی پابندی نہیں ہوگی جب کہ ڈرائیور اور کنڈیکٹر سمیت تمام مسافروں کے لیے ماسک پہننا لازم ہوگا اور اڈے سے روانگی سے قبل بس میں جراثیم کش اسپرے کرنا ہوگا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ زائدکرائے، زیادہ مسافربٹھانے یا کورونا کے حوالے سے اعلان کردہ ضابطہ کار کی خلاف ورزی پر بھرپور کارروائی کی جائے گی۔خیال رہے کہ گذشتہ روز وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے انٹرسٹی اور انٹر ڈسٹرکٹ ٹرانسپورٹ اور ا?ن لائن ٹیکسی سروس کھولنے کی اجازت دی تھی جب کہ کرایوں میں بھی 20 فیصد کمی کا اعلان کیا تھا۔تاہم پبلک ٹرانسپورٹ اونرز فیڈریشن نے حکومتی شرائط کے ساتھ بسیں چلانے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گنجائش سے آدھے مسافر بٹھانے کے بعد مقررہ کرایوں میں گاڑیاں نہیں چلا سکتے۔