کراچی(ویب ڈیسک) بھارت میں اچانک کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں خوفناک اضافہ ہوگیا۔ کورونا وائرس متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر گئی۔ یہ صورتحال دنیا کی دوسری بڑی آبادی والے ملک کے لیے بہت بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ بی بی سی کے مطابق خاص بات یہ ہے کہ یہ خبر حکومت کے اس اعلان کے ایک بعد سامنے آئی ہے جس میں لاک ڈاو¿ن میں اہم نرمیاں پیدا کیے جانے سے متعلق بتایا گیا تھا۔لاک ڈاو¿ن میں نرمی کے باوجود ملک میں متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ماہرین نے اس کی وجہ بڑی تعداد میں لوگوں کا ایک دوسرے سے ملنا جلنا بتائی ہے۔چند پیش گوئیوں کے مطابق انڈیا میں کورونا وائرس کے اثرات جولائی تک رہیں گے۔ تاہم اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ معاشرتی دوری کو کتنی کامیابی کے ساتھ برقرار رکھا جاتا ہے۔دوسری جانب بھارت میں ہزاروں شہری لاک ڈاون کی وجہ سے اپنے آبائی گھروں سے دور شہروں میں پھنسے ہوئے ہیں۔بڑی تعداد پیدل شہر شہر گاوں گاوں کا سفر کرررہے ہےں۔ اس دوران متعدد حادثات بھی پیش آئے جن میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ہزاروں افراد کی شہروں سے گاو¿ں کی جانب نقل مکانی نے وائرس کا پھیلاو رکنے کیلئے کیے جانے والے اقدام کو انسانی المیے میں بدل دیا ہے۔بھارت نے لاک ڈاون کے دوران معمولی جرائم میں ملوث ہزاروں قیدیوں کو بھی رہا کیا ہے جو جیل سے تو نکل گئے ہیں لیکن مسائل نے انہیں گھیر لیا ہے۔ لاک ڈاون کی وجہ سے وہ گھروں کو نہیں پہنچ پا رہے جبکہ ضروریات زندگی کیلئے ان کے پاس رقم نہیں ہے۔
Monthly Archives: May 2020
پمز ہسپتال میں کورونا وائرس سے طبی عملے کی پہلی شہادت
اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پمز اسپتال میں کورونا وائرس سے طبی عملے کی پہلی شہادت سامنے آگئی۔ وفاقی دارالحکومت میں متعدد ڈاکٹرز اور طبی عملے کے ارکان کورونا وائرس سے متاثر ہوئے جن میں سے چلڈرن وارڈ کے آپریشن تھیٹر کے ٹیکنیشن ظفر اقبال جان کی بازی ہار گئے۔چلڈرن وارڈ کے آپریشن تھیٹر کے ٹیکنیشن ظفر اقبال میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی اور وہ 15 روز سے آئسولیشن وارڈ میں زیر علاج تھے۔
جویریہ خان کی بابر اعظم اور دھونی کیساتھ پئیر بنانےکی خواہش
کراچی(سپورٹس ڈیسک)قومی ویمن کرکٹر جویریہ خان نے بابر اعظم اور ایم ایس دھونی کے ساتھ پئیر بنا کر کھیلنے کی خواہش ظاہر کر دی، اُن کا کہنا ہے کہ پرفارمنس بہتر بنانے میں بابر اعظم سے بڑی مدد ملتی ہے جبکہ ایم ایس دھونی کے ساتھ کھیل کر میچورٹی بہت جلد آتی ہے۔32سالہ جویریہ خان پاکستان کی طرف سے 103 ون ڈے اور 101 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیل چکی ہیں۔ اس وقت ان کا شمار پاکستان کی سینئر ترین کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔ جویریہ خان نے بھی ڈریم پئیر مہم میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے مین اور ویمن ڈریم پئیرز کے بارے میں بتا دیا۔ ویمن کرکٹر جویریہ خان نے اپنی حالیہ پرفارمنس میں بابر اعظم کو کریڈٹ دیا ہے، کہتی ہیں کہ وہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کپتان بابر اعظم سے رہنمائی لیتی رہتی ہیں، وہ جو بتاتے ہیں میں اس پر عمل کرتی ہوں، پرفارمنس بہتر بنانے میں مجھے بابرا عظم سے بڑی مدد ملی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایم ایس دھونی کے ساتھ بھی پئیر بنا کر کھیلنا چاہوں گی، ایم ایس دھونی کا کرکٹ مائنڈ ہے، ان میں کرکٹ کی بہت سمجھ بوجھ ہے، ان کے ساتھ کھیل کر میچورٹی بہت جلد آجاتی ہے۔جویریہ خان نے ویمن کرکٹرز میں آسٹریلیا کی کرکٹرز ایلیکس بلیک ویل اور میگ لیننگ کا نام لیا ہے، کہتی ہیں کہ ایلیکس بلیک ویل ساتھ لے کر چلتی ہیں جبکہ آسٹریلوی کپتان میگ لیننگ کی تیکنیک بہت شاندار ہے۔جویریہ خان کا کہنا ہے کہ آئی سی سی ویمن ورلڈ کپ کوالیفائر ملتوی ہونے سے مایوسی ہوئی لیکن موجودہ حالات میں یہ ایک اچھا فیصلہ ہے۔ کیونکہ کوویڈ 19 کے دور میں جان سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے، جویریہ خان نے کہا کہ پروفیشنل کرکٹر کی حیثیت سے اس سے بڑھ کر میری کوئی اور خواہش نہیں ہو سکتی کہ کرکٹ جلد سے جلد شروع ہو۔لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم سب احتیاطی تدابیر اختیار کریں، اگر حکومت کی جانب سے بتائی گئی احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کیا تو کورونا وائرس سے جلد چھٹکارا پانا مشکل ہو جائے گا۔جویریہ خان کہتی ہیں کہ اگرچہ ہم ان دنوں گھروں میں ہیں لیکن اس کے باوجود فٹنس کو برقرار رکھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تاکہ جب کھیلوں کی سرگرمیاں شروع ہوں تو کھلاڑی مکمل فٹ ہوں، میں بھی فٹنس کا بہت خیال رکھتی ہوں، خود کو متحرک رکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔
” پاکستانی انڈسٹری کو تباہ ہونے سے بچنا ہے تو۔۔۔” ارطغرل ڈرامے پر وینا ملک بھی بول پڑیں
کراچی(ویب ڈیسک) اداکارہ و میزبان وینا ملک کا کہنا ہے کہ ترک ڈرامے ”ارطغرل“ نے میرا جسم میری مرضی کے نعرے کو دفن کردیا ہے۔اداکارہ وینا ملک نے ترک ڈراما سیریل ”ارطغرل غازی“ کی پاکستان میں غیر معمولی مقبولیت کے حوالے سے کہا ہے کہ ترک ڈراما ارطغرل ترکی سے زیادہ پاکستان میں مقبول ہو رہا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستانی عوام کی سوچ اور پسند آج بھی اسلامی روایات کے مطابق ہے۔وینا ملک نے مزید کہا اس ڈرامے کی مقبولیت نے “میرا جسم میری مرضی” نعرے کو دفن کردیا ہے پاکستانی انڈسٹری کو تباہ ہونے سے بچنا ہے تو مغربی کلچر کو چھوڑنا ہوگا۔واضح رہے کہ ڈراماسیریل ”دیریلش ارطغرل“ پاکستان میں ”ارطغرل غازی“ کے نام سے اردو زبان میں ڈب کرکے پیش کیا جارہا ہے۔ اس ڈرامے کی پہلی قسط نے ہی یوٹیوب پر مقبولیت کے ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔
اعصام الحق کی امدادی مہم، کامران اکمل نے اپنا بیٹ عطیہ کردیا
کراچی(سپورٹس ڈیسک)قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹسمین کامران اکمل نے ٹینس اسٹار اعصام الحق کی کورونا متاثرین کے لیے شروع کی گئی امدادی مہم میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے اپنا دستخط شدہ بیٹ عطیہ کردیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اعصام الحق نے اپنے اکاو¿نٹ سے کامران اکمل کا ایک ویڈیو پیغام شیئر کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ اعصام الحق کو عطیہ کیا جانے والا بیٹ ا±ن کے دل کے بہت قریب ہے لیکن وہ یہ بیٹ ایک نیک مقصد کیلئے دے رہے ہیں۔45 سیکنڈ پر مبنی ویڈیو پیغام میں کامران اکمل نے بتایا کہ اعصام الحق اچھا کام کررہے ہیں، ہمارا فرض ہے کہ ہم انہیں سپورٹ کریں اس لیے میں انہیں اپنے دل سے قریب بیٹ دے رہا ہوں تاکہ وہ کورونا متاثرین کی مدد کرسکیں۔انہوں نے بتایا کہ عطیہ کئے جانے والے بیٹ سے انہوں نے کراچی میں پی ایس ایل کے سیزن ٹو میں پہلی سینچری بنائی تھی، سیزن 3 میں لاہور قلندرز کے خلاف شارجہ میں سینچری داغ چکے ہیں۔شعیب اختر نے اعصام الحق کو اپنا قیمتی ایوارڈ عطیہ کردیاکامران اکمل نے یہ بھی بتایا کہ اسی بیٹ سے وہ تیز ترین نصف سینچری بھی بنانے میں کامیاب رہے تھے اور ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی وہ اس سے قابلِ فخر کھیل پیش کرچکے ہیں۔انہوں نے یہ یقین دہانی بھی کروائی کہ وہ مستقبل میں بھی اعصام الحق کی مہم کو سپورٹ کرتے ہوئے اس کا حصہ بنتے رہیں گے۔
پاکستان میں کورونا کیسز 43 ہزار 336، صحتیاب افراد کی تعداد 12 ہزار سے متجاوز
لاہور(ویب ڈیسک)دنیا بھر میں کورونا وبا کے پنجے گاڑنے کے بعد اب پاکستان میں اس کا پھیلاو تیزی سے ہورہا ہے اور اس کے مزید نئے متاثرین سامنے آنے کے بعد مجموعی طور پر مصدقہ کیس کی تعداد 43 ہزار 336 ہوگئی جبکہ اموات 926 تک جاپہنچیں۔پاکستان میں اس وبا کو تقریباً 3 ماہ کا عرصہ ہوچکا ہے اور اس دوران اس کے کیسز میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ابتدائی طور پر آنے والے چند کیسز، پہلے درجنوں میں گئے جبکہ ہم یومیہ سیکڑوں یا یوں کہیں کہ ہزار سے زائد کیسز دیکھنے میں آرہے ہیں، اس کے علاوہ اموات کی شرح بھی اچانک بڑھ گئی ہے۔اگر اس تقریباً 3 ماہ کے عرصے کا جائزہ لیں تو 26 فروری 2020 کو ملک میں پہلا کیس سامنے آیا جس کے بعد مارچ کے آخر تک ان کیسز کی تعداد 2000 سے تجاوز کی جبکہ اموات 26 تک رہیں۔اپریل میں وائرس کا پھیلا کچھ تیز ہوا اور ایک ماہ یعنی 30 اپریل تک پاکستان میں کیسز ساڑھے 16 ہزار سے زائد ہوگئے اور اموات 385 تک جاپہنچی۔تاہم مئی کا مہینہ اس وائرس کے پھیلاو¿ کے حساب سے اب تک سب سے خطرناک ثابت ہوا ہے اور یکم مئی سے 18 مئی یعنی صرف 18 روز میں کیسز کی تعداد ساڑھے 16 ہزار سے بڑھ کر 43 ہزار سے تجاوز کر گئی جبکہ اموات بھی بڑھ کر 900 کا ہندسہ عبور کرگئیں۔تاہم جہاں ایک طرف کیسز اور اموات میں اضافہ دیکھا جارہا وہی دوسری طرف حکومتی سطح پر لگائی گئی مختلف پابندیاں اور لاک ڈاو¿ن کو سلسلہ وار نرم کیا جارہا جبکہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے کاروباری مراکز ہفتے اور اتوار کو بند کرنے کے حکومتی فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ملک بھر میں تمام شاپنگ مالز کھولنے کی اجازت دے دی۔آج (19 مئی) کی صورتحال کو دیکھیں تو کورونا کے نئے متاثرین اور اموات سامنے آئیں جبکہ صحتیاب افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔
شمالی وزیرستان: دھماکے میں ایک فوجی شہید، 3 زخمی ہوگئے
کراچی(ویب ڈیسک) خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی کے قریب ایک پر ہجوم بازار میں دھمکا خیز ڈیوائس پھٹنے سے ایک فوجی جوان شہید جبکہ دیگر 3 زخمی ہوگئے۔پولیس نے عامر کے نام سے شناخت ہونے والی فوجی اہلکار کی شہادت کی تصدیق کی مذکورہ دھماکا عیدیک بازار میں نظامیہ مسجد کے نزدیک ہوا۔اس حوالے سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے پولیس نے بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں بازار میں کھڑی کم از کم 14 گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔بیان میں کہا گیا کہ سیکیورٹی فورسز بازار میں گشت کررہی تھی جب ان کی گاڑی کے نزدیک ایک ریموٹ کنٹرولڈ ڈیوائس پھٹ گئی۔پولیس کا کہنا تھا کہ واقعے میں حوالدار ارشد، سپاہی عبد المنان اور اسلام نبی زخمی ہوئے جنہیں علاقے کے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔دھماکے کے بعد میرعلی تا میرامشاہ شاہراہ ٹریفک کی آمدورفت کے لیے بند کردی گئی اور فورسز نے سرچ آپریشن کیا۔خیال رہے کہ 7 مئی کو شمالی وزیرستان میں ہی ایک سیکیورٹی چیک پوسٹ پر راکٹ حملے میں پاک فوج کے 2 اہلکار شہید ہوگئے تھے۔واضح رہے کہ گزشتہ ایک ماہ میں ضلع شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے حملے میں 13 سیکیورٹی اہلکار شہید جبکہ 9 زخمی ہوئے ہیں۔قبل ازیں 26 اپریل کو شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کی گئی کارروائی کے دوران پاک فوج کے دو جوان شہید ہوگئے تھے جبکہ 9 دہشت گردوں کو بھی ہلاک کیا گیا تھا۔اس سے قبل 14 اپریل کو شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک فوجی اہلکار شہید ہوگیا تھا۔11 اپریل کو شمالی وزیرستان میں تحصیل میر علی کے قریب فائرنگ کے تبادلے میں 2 سیکیورٹی اہلکار شہید جبکہ 7 عسکریت پسند ہلاک ہوگئے تھے۔قبل ازیں 8 اپریل کو سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع شمالی وزیرستان اور مہمند میں کارروائی کرکے 7 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا تھا۔
حکومت عطیہ کیے گئے ہر روپے کے بدلے 4 اور دے گی، عمران خان
اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت عطیہ کیے گئے ہر روپے کے بدلے 4 اور دے گی۔وزیر اعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر احساس ایمرجنسی کیش پروگرام سے متعلق کہا ہے کہ وہ گزشتہ روز احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کیٹیگری 4 کے مستحقین سے ملا۔انہوں نے کہا کہ ملازمتوں سے نکالے جانے والے ملازمین کو کورونا ریلیف فنڈ سے امداد دی۔ حکومت عطیہ کیے گئے ہر روپیہ کے بدلے 4 اور دے گی۔وزیر اعظم نے کہا کہ فنڈز کی تقسیم میں احساس ڈیٹا اور شفافیت کا مکمل خیال رکھا جائے گا۔
کورونا وائرس کے سب سے پہلے مرکز میں پھنسے سیکڑوں پاکستانی آخر کار وطن واپس پہنچ گئے
کراچی(ویب ڈیسک) کورونا وائرس کی عالمی وبا کے سب سے پہلے مرکز چینی شہر ووہان میں پھنسے سیکڑوں پاکستانی طلبہ آخر کار وطن واپس پہنچ گئے۔ 250 سے زائد ان طلبہ کو ایک خصوصی پرواز کے ذریعے چین سے اسلام آباد لایاگیا۔نجی ٹی وی نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پی آئی اے کی پرواز پی کے 8872 طلبہ کو لے کر اسلام آباد ائیرپورٹ پہنچی، اس سے قبل ووہان ائیرپورٹ پر طلبہ کی مکمل طبی جانچ کی گئی اور طلبہ کی کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی رپورٹ بھی چیک کی گئی۔بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق چین سے پاکستانیوں کو وطن واپس لانے والی یہ پہلی خصوصی پرواز تھی اور یہ پاکستانی طلبہ ووہان سمیت چینی صوبے ہوبئی کی مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم تھے۔خیال رہے کہ جب ووہان میں وبا پھیلنے لگی تھی تو چینی حکومت نے شہر بھر کا رابطہ چین سمیت دنیا بھر سے منقطع کردیا تھا۔ اس دوران سخت ترین لاک ڈاون اور کرفیو نافذ کیاگیا جس کی وجہ سے وہاں موجود تقریبا پانچ سو پاکستانی بھی پھنس کررہ گئے۔ صورتحال سے پریشان پاکستانیوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیو پیغامات کے ذریعے اپنی تشویش ظاہر کی جس کے بعد یہاں پاکستان میں موجود ان کے والدین فکرمند ہوگئے تھے۔اس کے بعد طلبہ اور ان کے والدین کی جانب سے حکومت پر زور دیا گیا تھا کہ وہ انہیں وطن واپس لانے کیلئے اقدامات کرے تاہم چینی حکومت کی جانب سے طلبہ کی دیکھ بھال کی یقین دہانی اور وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے حکومت پاکستان نے طلبہ کو فوری طور پر وطن واپس نہ لانے کا فیصلہ کیا تھا۔
ماہرین کے مطابق اجتماعی مدافعت کا تصور انتہائی خطرناک ہے، فواد چوہدری
اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ماہرین نے ایک کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ بغیر احتیاطی تدابیر کے لاک ڈاو¿ن میں نرمی سنگین نتائج کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے۔وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کمیٹی کے خدشات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کا پھیلاو¿ روکنے کا حل وزیراعظم عمران خان کی اسمارٹ لاک ڈاو¿ن کی پالیسی ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس معمولی زکام نہیں ہے اور بتایا کہ ان کی وزارت میں ماہرین نے 3 پہلوو¿ں پر رائے دی۔فواد چوہدری کے مطابق ماہرین کا کہنا تھا کہ اجتماعی مدافعت (herd immunity) کا تصور انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے اس طرح کی کوئی حکمت عملی ہر گز نہیں اپنانی چاہئیے۔کمیٹی کی آرا کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان میں کورونا کا زیادہ دباو¿ جون کے وسط تک سامنے آئے گا۔کمیٹی ماہرین کی رائے چیف جسٹس گلزار احمد کی جانب سے ملک بھر میں شاپنگ سینٹرز کھولنے کی ہدایات کے بعد سامنے آئی۔سپریم کورٹ نے سوال کیا تھا کہ مالز کو بند رکھنے کی کیا منطق ہے؟ تاہم سپریم کورٹ کے احکامات ٹیلی ویڑن پر نشر ہوتے ساتھ ہی پیر کے روز تک بند متعدد دکانیں کھول دی گئیں۔
سپریم کورٹ میں کوروناازخودنوٹس کی سماعت آج پھر ہو گی
اسلام آباد(ویب ڈیسک)سپریم کورٹ میں کوروناازخودنوٹس کی سماعت آج پھر ہو گی ،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ سماعت کرے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں کوروناازخودنوٹس کی سماعت آج پھر ہو گی ،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ سماعت کرے گا۔اٹارنی جنرل ،چاروںں صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹسزجاری کر دیئے گئے،سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری صحت سمیت چاروں صوبائی چیف سیکرٹریز کو بھی نوٹسزبھجوا دیئے گئے۔واضح رہے کہ گزشتہ روزسپریم کورٹ نے ہفتہ اوراتوارکوکاروباری سرگرمیاں بندرکھنے کافیصلہ کالعدم قرار دیدیا،عدالت نے کہاکہ کاروباری سرگرمیاں ہفتہ،اتوارکوبندکرناآئین کی خلاف ورزی ہے،پنجاب اوراسلام آبادشاپنگ مالزکھولنے کاارادہ رکھتے ہیں،سندھ میں شاپنگ مالزبندرکھنے کی کوئی وجہ نظرنہیں آتی،سندھ شاپنگ مالزکھولنے کیلئے وفاقی حکومت سے رجوع کرے،اجازت کے بعدصوبے شاپنگ مالزکھولنے میں رکاوٹ پیدانہ کریں۔
ڈرگ اتھارٹی کے لاہور ، اسلام آباد میں میڈیکل سٹوروں پر چھاپے، درجنوں سیل
لاہور‘ اسلام آباد (نمائندگان خبریں) پنجاب بھر میں بھارتی ادویات کی فروخت دھڑلے سے جاری ، چینل فائیو کی نشاندہی پر ڈرگ کنٹرول ونگ کا صوبائی دارلحکومت کے متعدد میڈیکل سٹور پر چھاپے ،داتا گنج بخش ٹاﺅن کے ڈرگ انسپکٹر کی بھارتی ادویات فروخت کرنے والے میڈیکل سٹورز کے خلاف کارروائیاں، اسمگل شدہ ادویات فروخت کرنے ،فارمیسیوں پر کوالیفائیڈ پرسن نہ ہونے اور ڈاکٹر کے نسخہ کے بغیررجسٹرڈ بھارتی ادویات فروخت کرنے والے میڈیکل سٹورز سیل کردئیے گئے۔ خبریں ، چینل فائیو کی جانب سے گزشتہ دنوں جیل روڈ داتاگنج بخش ٹاﺅن کے علاقے سے بھارت سے درآمد کی جانے والی مختلف ادویات کی نشاندہی کی جس پر ڈرگ انسپکٹر ثنااللہ نے کاروائی کرتے ہوہے سیل کر دیا ۔خبریں ، چینل فائیو ٹیم کے ہمراہ چیف ڈرگ کنٹرولر کی ٹیم نے جب رانا فارمیسی سمیت متعدد فارمیسیوںپر چھاپہ مارا تو وہاں پر کوالفائیڈ پرسن یا فارما سسٹ موجود نہ تھا ، جبکہ چا ر افراد جو کہ ڈسپنسر بھی نہ تھے ڈاکٹر کے نسخہ جات کے بغیر شہریوں کو بھارتی ادویات فروخت کر رہے تھے جبکہ کمپیوٹرائزڈ بل بھی نہ دئیے جارہے تھے ۔ اس موقع پر مختلف فارمیسیوں پر درجہ حرارت کم کرنے کے لئے ایئر کنڈیشن بھی نہیں چلائے گئے تھے ۔جس پر ڈرگ انسپکٹر داتا گنج بخش ٹاﺅن کاروائی کرتے ہوئے سیل کردےئے ۔ ڈرگ کورٹ ماہرین کے مطابق رولز 20سب رول( 1)،( D)پنجاب ڈرگ رولز 2007کے مطابق کوئی بھی شخص بغیر نسخہ کے ادویات فروخت نہیں کر سکتا ۔تمام ادویات سیکشن23 (1) (B)آف ڈرگ ایکٹ 1976کے مطابق لائسنس کی شرائط کے مطابق فروخت کرنی چاہئے جس کی پہلی شرط کوالفائیڈ پرسن کو پابند کرتی ہے جس کی سزا سیکشن 27سب سیکشن 4کے مطابق جو شخص ڈرگ یا اس کے تحت بننے والے رولز کی خلاف ورزی کرے گا اور اس کے بارے میں سیکشن 27سب سیکشن 1،2،3میں فعال نہ کرے گا اس کو سیکشن 27سب سیکشن 4کے تحت 5سال قید یا 50ہزار روپے جرمانہ یا دونو ں سزائیں دی جا سکتی ہیں ۔ علاوہ ازیںخبریں اور چینل فائیو کی خبر پر ایکشن،وفاقی دارالحکومت میں بھی محکمہ صحت حرکت میں آ گیا،محکمہ صحت کی ٹیموں نے اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں واقع میڈیکل سٹوروں اور فارمیسیوں پر اچانک چیکنگ کا سلسلہ شروع کر دیاہے۔رپورٹ کے مطابق خبریں اور چینل فائیو نے بیرون ممالک بھارت سمیت دیگرممالک سے سمگل ہونے والی ممنوعہ ادویات کی میڈیکل سٹورز اور فارمیسیوں پر غیر قانونی فروخت کی نشاندہی کی تھی۔جس پر ایکشن لیتے ہوئے غیر قانونی ادویات کو چیک کرنے کے لیے اچانک چیکنگ کی گی۔اسلام آباد وفاقی دارالحکومت میں تمام بڑے اور چھوٹے میڈیکل سٹوروں پر محکمہ صحت کی ٹیموں نے اچانک معائنہ کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا کہ کہاں کہاں اور کس کس جگہ پر غیر قانونی طور پر ادویات کا سلسلہ شروع ہے۔جس پر چیف ڈرگ انسپکٹر نے کہاکہ ابھی تک 85 میڈیکل سٹورز پر چھاپے ماریں گے ہیں جو غیر قانونی اور ممنوعہ ادویات سیل کررہے تھے۔متعدد میڈیکل سٹورز سے غیر قانونی ادویات کو برآمد کیاگیاہے جن میں سے راشد میڈیکل سٹور،چٹھہ بختاور،یشی فارمیسی،ڈی ایچ اے ہمدرد میڈیکل سنٹر،کلینک برما ٹاو¿ن اور خٹک میڈیکل سٹورز شامل ہیں۔تمام میڈیکل سٹورز کو ڈرگ ایکٹ 1976 کے تحت سیل کیا گیاہے اور ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ 5 اور میڈیکل سٹورز بھی ایسے ہیں جن کو سیل کیاگیاہے۔اورسٹاک کوبھی ضبط کر دیاگیاہے۔8میڈیکل سٹورز ایسے ہیں جو بغیر لائسنس کے کام کررہے تھے کو بھی سیل کردیاگیاہے۔ ور بھاری جرمانے بھی کئے گئے ہیں۔اس حوالے سے خبریں اور چینل فائیو کو ڈرگ کنٹرولر نے بتایا کہ وفاقی دارالحکومت اور اردگرد کے علاقے میں جہاں کہیں بھی ڈرگ ایکٹ کی خلاف ورزی کی جائے گی تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔غیر قانونی اور ممنوعہ ادویات فروخت کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔محمکہ صحت اسلام آباد گاہے بگاہے اس حوالے سے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔گزشتہ چند دنوں سے کاروائیاں مزید تیز کیں گئی ہیں۔متعدد میڈیکل سٹورز کو سیل کیا جا چکا ہے اور بہت سارے میڈیکل سٹورز کے لائسنس ضبط کئے گئے ہیں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔اس کے علاوہ متعدد میڈیکل سٹورز اور فارمیسی کے مالکان کو وارننگ دیتے ہوئے واضح ہدایات جاری کیں ہیں کہ وہ کوئی بھی ایسی دوائی فروخت نہ کریں جو غیر قانونی اور ممنوعہ ہو۔اگر خلاف ورزی سامنے آئی تو میڈیکل سٹورزاور فارمیسی سیل کرنے کے ساتھ ساتھ مزید سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔چیف ڈرگ انسپکٹر نے لاہور میں غیر قانونی فروخت ہونے والی ادویات کے خلاف ایکشن لینے والے ڈرگ انسپکٹر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے بہت اچھا اقدام کیاہے۔تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ایسے عناصر کو منطقی انجام تک پہنچانا تمام ڈرگز انسپکٹرز کی قومی ذمہ داری ہے۔وفاق میں بھی ایسی کارروائیاں جاری ہیں غیر قانونی اور ممنوعہ ادویات سیل کرنے والوں کو بلکل بھی برداشت نہیں کیاجائےگا۔واضح رہے کہ چند دن پہلے خبریں اخبار اور چینل فائیو نے اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ مختلف شہروں میں غیر قانونی طور پر بھارت سمیت دیگر ممالک سے سمگل کی جانے والی ان رجسٹرڈ اور ممنوعہ ادویات فروخت کی جارہی ہیں۔جس پر محکمہ صحت نے ڈرگ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں شروع کیں ہیں۔
لاک ڈاﺅن مکمل ختم، ٹرانسپورٹ کے بعد ٹرینیں چلانے کا بھی اعلان، مارکیٹیں پورا ہفتہ کھلیں گی
اسلام آباد (خبرنگار خصوصی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے ہفتہ اور اتوارکو کاروبار بند رکھنے کا حکم کالعدم ،دو دن کاروبار بند رکھنے کا حکم آئین کے آرٹیکل 4 18 اور 25 کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ملک بھر میں چھوٹی مارکیٹیں ہفتے اور اتوار کو بھی کھلی رکھی جائیں اور شاپنگ مالز بھی کھول دیئے جائیں ، وزارت صحت کوئی غیر ضروری رکاوٹ پیدا نہیں کرےگی، کاروبار کھول دےگی، تمام مارکیٹوں اور شاپنگ مالز میں ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، ایس او پیز پر عملدرآمد کے حوالے سے متعلقہ حکومتیں ذمہ دار ہوں گی،کرونا وائرس کی وجہ سے پورا ملک بند نہ کیا جائے، ایس او پیزکی خلاف ورزی کی صورت میں دکان سیل نہیں کی جائے گی اور نہ ہی کسی کو ہراساں کیا جائےگا جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے این ڈی ایم اے کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ میں اخراجات کی کوئی واضح تفصیل موجود نہیں ،کرونا کے حوالے سے خرچ ہونے والے اربوں روپے کہاں جارہے ہیں؟ 500 ارب روپے کرونا مریضوں پر خرچ ہوں تو ہرمریض کروڑ پتی ہوجائےگا،اربوں روپے ٹین کی چارپائیوں پر خرچ ہو رہے، نہیں لگتا کرونا پر پیسہ سوچ سمجھ کر خرچ کیا جا رہا ہے، ایک مریض پر لاکھوں روپے خرچ ہونے کا کیا جواز ہے؟ کرونا اس لیے نہیں آیا کہ کوئی پاکستان کا پیسہ اٹھا کرلے جائے۔ پیر کو چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے کرونا وائرس ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور کمشنر کراچی سمیت دیگر حکام عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر کمشنر کراچی نے عدالت کو بتایا کہ کچھ مارکیٹس کو ایس او پیز پرعمل نہ کرنے پر سیل کیا ہے، اس پر چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور کمشنر کراچی کو ہدایت دی کہ چھوٹے دکانداروں کو کام کرنے سے نہ روکیں، آپ دکانیں بند کریں گے تو دکاندار تو کرونا کے بجائے بھوک سے مرجائے گا، سیل کی گئی مارکیٹس کو بھی کھولیں اور انہیں ڈرانے کے بجائے سمجھائیں۔چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ کراچی میں 5 بڑے مالز کے علاوہ کیا سب مارکیٹیں کھلی ہیں؟ اگر باقی مارکیٹس کھلی ہیں تو شاپنگ مال کیوں بند رکھے ہیں؟ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہمیں منطق بتائی جائے، کیا وبا نے حکومتوں سے وعدہ کر رکھا ہے وہ ہفتے اور اتوار کو نہیں آئے گی، کیا حکومتیں ہفتہ اتوار کو تھک جاتی ہیں، کیا ہفتہ اتوار کو سورج مغرب سے نکلتا ہے، ہم تحریری حکم دیں گے ہفتے اور اتوارکو تمام چھوٹی مارکیٹیں کھلی رکھی جائیں۔چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ عید پر رش بڑھ جاتا ہے، ہفتے اور اتوار کو بھی مارکیٹیں بند نہ کرائی جائیں، آپ نئے کپڑے نہیں پہننا چاہتے لیکن دوسرے لینا چاہتے ہیں، بہت سے گھرانے صرف عید پر ہی نئے کپڑے پہنتے ہیں۔اس موقع پر عدالت نے پورے ہفتے بھی ملک بھر کی تمام چھوٹی مارکیٹیں کھولنے کا حکم دیا جبکہ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ایس او پیز کے مطابق شام 5 بجے تمام مارکیٹس بند کی جائیں گی۔اس کے علاوہ عدالت نے کمشنرکراچی سے شہر میں شاپنگ مالز کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ملک بھر کے شاپنگ مالز کھولنے کا حکم دے رہے ہیں، ایس او پی پر مالز میں زیادہ بہتر عملدرآمد ہوسکتا ہے۔عدالت نے ملک بھرکے شاپنگ مالزکھولنے کے حوالے سے صوبوں کو وفاق سے اجازت لینے کی ہدایت کردی۔ این ڈی ایم اے نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی ۔123 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہاگیاکہ این ڈی ایم اے کو وزیراعظم نے 25.3 ارب روپے مختص کیے، وزارت صحت کی جانب سے 50 ارب روپے مختص کیے گئے جو تاحال جاری نہیں کیے گئے۔ رپورٹ میں کہاگیاکہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی جانب این ڈی ایم کو 8 ارب روپے ملے، چینی حکومت کی جانب سے 64 کروڑ روپے کی گرانٹ دی گئی۔ این ڈی ایم اے رپورٹ کے مطابق این ڈی ایم اے امداد صرف سامان کی صورت میں وصول کرتی ہے کیش رقم کی صورت میں نہیں،این ڈی ایم اے امداد کا آڈٹ کرانے کےلئے آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے درخواست کر چکی ہے ،بارڈرز پر قرنطینہ مراکز کے حوالے سے تفصیلات بھی رپورٹ میں شامل ہیں ۔رپورٹ میں کہاگیاکہ تفتان، چمن اور طورخم پر 1200 پورٹ ایبل کنٹینر تیار کیے گئے ہیں، تفتان پر 600, چمن 300 اور 300 طورخم کے لیے مختص کیے گئے ہیں، تفتان پر 1300 افراد، چمن میں 900 اور طورخم پر 1200 افراد کو رکھنے کی گنجائش ہے، طورخم پر قرنطینہ مرکز کے لیے 300 کمرے تعمیر کر لیے گئے ہیں، 1200 اضافی کمرے تعمیر کرنے کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں، چمن میں 300 کمروں میں 130 زیر تعمیر ہیں، تفتان میں 600 میں سے 202 تکمیل کے قریب ہیں۔رپورٹ میں کہاگیاکہ لوکل ملٹری اتھارٹی کے مطابق مزید کمروں کی ضرورت نہیں ہے، لوکل ملٹری اتھارٹی نے ٹینٹ ویلیج کی صورت میں 1300 کمروں کی سہولت فراہم کی ہوئی ہے، پاکستان ریلویز نے بھی دو ٹرینیں بطور قرنطینہ مختص کر رکھی ہیں۔دور ان سماعت این ڈی ایم اے کی رپورٹ پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ اربوں روپے کی رقم ماسک اور دیگر چھوٹی اشیا پر خرچ کی گئی ہے، کرونا کے حوالے سے اربوں روپےخرچ ہوچکے ہیں، یہ کہاں جا رہے ہیں؟ رقم کا حساب رکھا جائےنمائندہ این ڈی ایم اے نے بتایا کہ ہمارے لیے 25 ارب مختص ہوئے ہیں، یہ تمام رقم ابھی خرچ نہیں ہوئی، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ 25 ارب تو آپ کو ملے ہیں، صوبوں کو الگ ملے ہیں اور احساس پروگرام کی رقم الگ ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ 500 ارب روپے کرونا مریضوں پر خرچ ہوں تو ہرمریض کروڑ پتی ہوجائے گا، یہ سارا پیسہ کہاں جا رہا ہے؟ اتنی رقم لگانے کے بعد بھی اگر 600 لوگ جاں بحق ہوگئے تو ہماری کوششوں کا کیا فائدہ؟ کیا 25 ارب کی رقم سے آپ کثیر المنزلہ عمارتیں بنا رہے ہیں؟نمائندہ این ڈی ایم اے نے عدالت کو بتایا کہ یہ رقم ابھی پوری طرح ملی نہیں اور اس میں دیگر اخراجات بھی شامل ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے این ڈی ایم اے کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں اخراجات کی کوئی واضح تفصیل موجود نہیں ہے۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دئیے کہ ہمارے ملک کے وسائل بہت غلط طریقے سے استعمال ہورہے ہیں، ہمارا ملک کرونا ٹیسٹنگ کٹ بنانے کی صلاحیت ابھی تک حاصل کیوں نہیں کرسکا؟ اس ملک کے عوام صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے غلام نہیں ہیں، آپ قرنطینہ کے نام پر لوگوں کو یرغمال بنا رہے ہیں، عوام کے حقوق کی آئین میں ضمانت دی گئی ہے، آپ کسی پر احسان نہیں کررہے۔اس پر نمائندہ این ڈی ایم اے نے کہا کہ اس کا جواب وزارت صحت زیادہ بہتر طریقے سے دے سکتی ہے۔بعد ازاں عدالت نے سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا جس میں کہا گیا کہ کرونا وائرس بظاہر پاکستان میں وبا کی صورت میں ظاہر نہیں ہوا اور پاکستان ایک ایسا ملک نہیں جو کرونا وائرس سے زیادہ بری طرح متاثر ہو۔عدالتی حکم میں کہا گیا کہ ملک میں ہزاروں افراد دل، جگر،گردوں ، برین ہیمرج اور دیگر امراض کے سبب مرجاتے ہیں، حکومت کرونا کے علاوہ دیگر بیماریوں اور مسائل پر بھی توجہ دے۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے پورا ملک بند نہ کیا جائے، ایس او پیزکی خلاف ورزی کی صورت میں دکان سیل نہیں کی جائے گی اور نہ کسی کو ہراساں کیا جائے گا، صرف ایس او پیز پر عملدرآمد کے لیے اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔تحریری حکم میں مزید کہا گیا کہ اربوں روپے ٹین کی چارپائیوں پر خرچ ہو رہے، نہیں لگتا کرونا پر پیسہ سوچ سمجھ کر خرچ کیا جا رہا ہے، ایک مریض پر لاکھوں روپے خرچ ہونے کا کیا جواز ہے؟ کرونا اس لیے نہیں آیا کہ کوئی پاکستان کا پیسہ اٹھا کرلے جائے۔عدالت نے ہفتہ اور اتوارکو کاروبار بند رکھنے کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے کہاکہ دو دن کاروبار بند رکھنے کا حکم آئین کے آرٹیکل 4، 18 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ پنجاب میں شاپنگ مال فوری طور پر پیر کو ہی سے کھلیں گے جبکہ سندھ شاپنگ مال کھولنے کے لیے وزارت صحت سے منظوری لے گا اور وزارت صحت کوئی غیر ضروری رکاوٹ پیدا نہیں کرے گی، کاروبار کھول دے گی، تمام مارکیٹوں اور شاپنگ مالز میں ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، ایس او پیز پر عملدرآمد کے حوالے سے متعلقہ حکومتیں ذمہ دار ہوں گی۔بعد ازاں عدالت نے کرونا وائرس از خود نوٹس کیس کی سماعت (آج) منگل تک کےلئے ملتوی کردی۔
اسلام آباد‘ لاہور (نمائندگان خبریں) چھوٹی مارکیٹوں کے بعد مالز بھی کھل گئے اور وفاقی حکومت نے ٹرانسپورٹ کے بعد ٹرینیں بھی بدھ کو چلانے کا اعلان کرکے ملک بھر میں لاک ڈاﺅن مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ایس او پیز پر عمل در آمد کی شرط کے ساتھ 20 مئی سے ملک بھر میں 30 ٹرینیں چلانے کی منظوری دے دی ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے پریس کانفرنس میں ملک بھر میں ٹرین سروس بحال کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر 20 مئی سے 30 ٹرینیں چلائی جائیں گی اور حالات سازگار رہے تو یکم جون سے تمام ٹرینیں بحال کردیں گے۔ ٹرینوں کا نیا شیڈول جاری کردیا گیا ہے۔ شیخ رشید نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے ٹرینیں چلانے کی منظوری دی ہے۔ ایس او پیز پر عمل در آمد کے حوالے سے کل تمام اسٹیشنوں پر ریہرسل کی جائے گی۔ ٹرینوں میں سواری آدھی کردی گئی ہے اور کرایہ میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر ریلوے نے عوام سے مسافروں کو چھوڑنے کے لیے ریلوے اسٹیشن نہ آنے کی التجا کرتے ہوئے کہا کہ صرف مسافر ریلوے اسٹیشن آئیں اور ماسک لگا کر آئیں اور شہری ہروقت لا ِلہ ِلا نت سبحان ِنِی نت مِن الظالِمِین کا ورد جاری رکھیں۔ ایس او پیز کی خلاف ورزی ہوئی تو ڈویژن ہیڈ کیخلاف کارروائی کروں گا۔ ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید نے کہا کہ نہ تو حکومت کے خلاف کوئی سازش ہو رہی ہے اور نہ ہی نیب آرڈیننس میں ترمیم ہوتا دیکھ رہا ہوں۔ اگر ترمیم آئی تو مخالفت کروں گا۔ حکومت چلتی رہے، گی چلتی رہے گی، البتہ جس نے ملک لوٹا وہ سارے اندر ہوں گے۔ 31 جولائی سے پہلے جھاڑو پھر جائے گی۔


















