لاہور، بچوں کو زیادتی کرکے قتل کرنے والا سفا ک درندہ گرفتار،سنسنی خیز انکشافات کردیئے

 

لاہور:(ویب ڈیسک) نواب ٹاو¿ن میں 10 سالہ لڑکے کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم گرفتار کر لیا گیا جب کہ ملزم اس سے قبل بھی 2 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا اعتراف کرلیا۔ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق نواب ٹاو¿ن میں 2 روز قبل 10 سالہ غلام مصطفیٰ واردات کے روز گھر سے کزن کے ساتھ سودا لینے گیا اور لاپتا ہو گیا تھا جس کی لاش اس کے گھر کے قریب زیرتعمیر پلازہ سے ملی تھی۔ترجمان کے مطابق سی آئی اے اقبال ٹاو¿ن پولیس نے ملزم عبدالرحمان کو گرفتار کر لیا ہے، ملزم نے لڑکے کو قتل کرنے کے بعد ثبوت مٹانے کے لیے لاش جلانے کی بھی کوشش کی۔ترجمان نے بتایا کہ ملزم اس قبل بھی علاقے میں 2 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنا چکا ہے۔

آ ن لا ئن ٹکٹس بک کروا لیں ،ٹرینیں چلنا شروع

 

لا ہو ر (ویب ڈیسک)کورونا وائرس کے باعث بند ریلوے آپریشن کا دو ماہ بعد دوبارہ سے آغاز ہو گیا ہے اور ملک بھر میں ٹرینیں چلنا شروع ہو گئی ہیں۔دو روز قبل وزیراعظم عمران خان نے ملک بھر میں ٹرین سروس کو شروع کرنے کی منظوری دی تھی جس کے بعد وزیر ریلوے شیخ رشید نے 20 مئی سے 30 ٹرینیں چلانے کا اعلان کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ 31 مئی تک 30 ٹرینیں چلائیں گے اور اگر حالات ٹھیک رہے تو یکم جون سے تمام ٹرینیں چلا دیں گے۔آج ملک بھر میں ٹرین سروس کا آغاز ہو گیا ہے ان لا ئن ٹکٹس کی بکنگ شروع ،پہلی ٹرین صبح پاکستان ایکسپریس راولپنڈی سے صبح 6 بجےکراچی کے لیے روانہ ہوئی جب کہ دوسری ٹرین لاہور سے راولپنڈی کے لیے روانہ ہوئی۔ کراچی سے بھی ٹرین آپریشن 56 روز بعد بحال ہو گیا ہے اور عوام ایکسپریس 456 مسافروں کو لیکر پشاور کے لیے روانہ ہوئی، کراچی سے مجموعی طور پر 9 ٹرینیں اپنی منزل کی جانب روانہ ہوں گی۔ڈی ایس پاکستان ریلوے کے مطابق ایس او پی کے تحت ٹرینوں میں 40 فیصد نشستیں خالی رکھی جائیں گی اور کسی مسافر کے عزیز کو اسٹیشن میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی۔ریلوے حکام کے مطابق حفاظتی اقدامات کی خلاف ورزی پر مسافر پر پہلے جرمانہ ہو گا، پھر بھی کوئی مسافر باز نہ آئے تو ریلوے پولیس متعلقہ مسافر کو ٹرین سے ا±تار دے گی۔

8سال تک کس کے سا تھ تعلقات رہے،صبا قمر نے بڑا را ز کھو ل دیا

 

را ولپنڈی(ویب ڈیسک)پاکستان کی نامور اداکارہ صبا قمر نے حال ہی میں اپنا یوٹیوب چینل لانچ کیا تھا جس کے حوالے سے اداکارہ نے بتایا تھا کہ وہ اپنے یوٹیوب چینل کے ذریعے نئے ٹیلنٹ کو سامنے آنے کا موقع دیں گی۔اداکارہ نے حال ہی میں اپنے یوٹیوب چینل پر پہلی قسط شیئر کی تھی جس میں انہوں نے کورونا وائرس کے باعث لگے لاک ڈاو¿ن میں تنہائی بیان کی تھی۔اور اب صبا قمر نے اپنے چینل پر دوسری ویڈیو شیئر کردی جس میں انہوں نے ایک ایسا مزاحیہ شو پیش کیا جہاں نامور شخصیات سے عجیب و غریب سوالات پوچھے جاتے ہیں۔ویڈیو میں صبا قمر سے ماضی اور حال کی اداکاراو¿ں کے درمیان موازنا کرنے اور ان کی رومانوی زندگی کے حوالے سے سوالات پوچھے گئے۔انٹرویو کے دوران صبا قمر کا کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ اداکاروں کو ایسا ہونا چاہیے جن سے عام لوگ خود کو جوڑ سکیں، میں چاہتی ہوں کہ ایسے کردار کروں جو حقیقت لگیں‘۔اس دوران اداکارہ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ کسی کے ساتھ 8 سال تک تعلقات میں رہیں تاہم اس تعلق کا انجام بہت برا ہوا۔انہوں نے کہا کہ ’بہت چھوٹی عمر سے ہی، لڑکیوں کو سکھایا جاتا ہے کہ بھلے وہ مر جائیں لیکن اپنی زندگی میں آنے وا لے پہلے مرد کو کبھی نہیں چھوڑیں، اسی ایک جملے نے میری زندگی کے 8 سال تباہ کردیے‘۔صبا قمر کے مطابق ان کے ساتھ برا سلوک کیا گیا اور بعدازاں کسی دوسری خاتون کے لیے انہیں چھوڑ دیا گیا۔اداکارہ کے مطابق ’وہ مجھ سے جھوٹ بولتا، برا سلوک کرتا، میری تذلیل کرتا تھا اور بعدازاں معافی مانگ لیتا، میرے لیے یہ تعلق اہم تھا کیوں کہ میں شادی کے حوالے سے سوچتی تھی اسی لیے 8 سال اسے قائم رکھا یہ سوچ کر کہ وہ بہتر ہوجائے گا، لیکن وہ بہتر نہیں ہوا بلکہ اس نے میرے ذہن کو تباہ کردیا‘۔

حکومت کا شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے پر غور

 

اسلام آباد: (ویب ڈیسک)حکومت مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کا نام سفری پابندی کی فہرست میں درج کرنے پر غور کررہی ہے تا کہ ‘وہ فرار نہ ہوسکیں اور اپنے خلاف نئے بنائے گئے کرپشن کیسز کا سامنا کریں‘۔نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا کہ ’یہ زیر غور ہے اور شہباز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں درج ہونا چاہیئے‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ(ن) کے صدر ایک ٹی وی ٹاک شو میں نیا آئیڈیا لے کر آئے کہ ملک میں نئے انتخابات ہونے چاہیئے لیکن انہوں نے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کی جانب سے منظر عام پر لائے گئے ثبوت پر بات نہیں گی۔شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ’شہباز شریف نئے انتخابات کا تنازع کھڑا کر کے اپنی بدعنوانی چھپانے کی کوشش کررہے ہیں‘۔

پاکستان میں متاثرین کی تعداد 45 ہزار سے تجاوز ،ایک ہی روز میں 45 جا نبحق

لاہور (ویب ڈیسک)دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 48 لاکھ سے زیادہ ہے جبکہ تین لاکھ سے زیادہ افراد اس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔پاکستان میں متاثرین کی تعداد 45 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ 980 سے زیادہ افراد اب تک اس مرض سے ہلاک ہوئے ہیں۔ایک ہی روز میں 45 جا نبحپق۔ پاکستان میں سب سے زیادہ 345 ہلاکتیں صوبہ خیبر پختونخوا میں ہوئی ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت کو دھمکی دی ہے کہ وہ 30 دن کے اندر ادارے میں اہم تبدیلیاں متعارف کرائیں یا پھر امریکہ کی طرف سے مکمل طور پر فنڈنگ کے خاتمے کا سامنا کریں۔انڈیا میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔امریکہ، برطانیہ اور اٹلی کے بعد کورونا وائرس کی وجہ سے سب سے زیادہ اموات فرانس میں ہوئی ہیں۔سنگاپور کی حکومت نے 357 کورونا وائرس متاثرین سے بڑی تعداد میں ان کے موبائل پر ایسے ٹیکسٹ میسیجز بھیجنے پر معافی مانگ لی جن میں کہا گیا تھا کہ انھیں دوبارہ کورونا وائرس ہو گیا ہے۔پاکستان کا صوبہ سندھ اس وقت متاثرین کے اعتبار سے ملک کا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے اور یہاں 17 ہزار سے زائد افراد کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔صوبہ پنجاب میں متاثرین کی سب سے بڑی تعداد 16 سے 30 برس کے درمیان ہے جبکہ بلوچستان میں 33 سے 45 برس کے افراد اس بیماری سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔پاکستان ریلوے نے خصوصی ٹرینوں کا شیڈول جاری کیا ہے جس کے مطابق بدھ سے شروع ہونے والے اس سلسلے کے ابتدائی مرحلے میں 30 ٹرینیں چلائی جائیں گی۔

کریمینل ہیکرز گروپ نے ٹرمپ سے 42 ملین ڈالر تاوان مانگ لیا

لاہور (ویب ڈیسک)امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ہیکرزنے ٹرمپ کے ساتھ لیڈی گاگا، میڈونا، نکی مناج، ماریہ کرے سے پرسنل معاہدوں کا ڈیٹا چرایا ہے۔ہمارے پاس ٹرمپ کا کایک ٹن نازیبا سامان موجود ہے، سامنے لے آئے تو عوام دوبارہ انہیں صدر کی حیثیت سے نہیں دیکھنا چاہیں گے: ہیکرز۔امریکی صدر ٹرمپ ماڈل مینجمنٹ کے تحت 1995 ءمیں مس یونیورس اور مس یوایس کے مقابلے کراتے رہے ہیں۔لاءفرم کے ایک عہدیدارنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایف بی آئی سے بات کررہے ہیں ابھی ہیکرز کو تاوان نہیں دیا۔وائٹ ہاﺅس اور ایف بی آئی نے ٹرمپ سے تاوان مانگنے بارے کچھ بھی کہنے سے گریز کیا ہے

بھارت سے ادویات منگوائی جارہی ہیں، چیف جسٹس،کارروائی شروع، انکوائری بھی ہورہی ہے،اٹارنی جنرل

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی کرونا خطرات پر ماہرین کی ٹیم بنانے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے سینٹری ورکرز کو تنخواہیں اور حفاظتی سامان مہیا کرنے کا حکم دےدیا ہے جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ کورونا کے مشتبہ مریضوں کا سرکاری لیبارٹری سے ٹیسٹ مثبت اور نجی لیبارٹری سے منفی آتا ہے، یہاں سب لوگ پیسے سے کھیل رہے ہیں اورانسانوں کی کسی کو فکر نہیں ہے، ہماری تشویش اخراجات سے متعلق نہیں سروسز کے معیار پر ہے ،قرنطینہ مراکز میں واش رومز صاف نہیں ہوتے اور پانی بھی نہیں ہوتا ، قرنطینہ مراکز میں 10،10 لوگ ایک ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں، سوشل میڈیا پر وہاں کی حالت زار پر ویڈیوزچل رہی ہیں،کورونا وائرس پاکستان میں وجود رکھتا ہے اور اس کی وجہ سے پاکستان میں اموات ہوئی ہیں ، کورونا وائرس کے مریضوں کا بڑے پیمانے پر علاج چل رہا ہے،کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے کافی وسائل چاہیے ہوں گے، حکومت کورونا وائرس کے خلاف نبرد آزما ہے اور اس سلسلے میں چیرمین این ڈی ایم اے کی رپورٹ بڑی مفید ہے۔ منگل کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ کی کورونا وائرس ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) میجرجنرل افضل خان پیش ہوئے۔اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کورونا وائرس سے متعلق اخراجات پر وضاحت کےلئے چیئرمین این ڈی ایم اے عدالت میں موجود ہیں۔چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ہماری تشویش اخراجات سے متعلق نہیں بلکہ سروسز کے معیار پر ہے کیونکہ کورونا کے مشتبہ مریضوں کا سرکاری لیبارٹری سے ٹیسٹ مثبت اور نجی لیبارٹری سے منفی آتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری کے ملازمین کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، ہمارے ملازمین کا ٹیسٹ سرکاری لیب سے مثبت اور نجی لیب سے منفی آیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ کورونا کے مریضوں کو دنیا جہاں کی ادویات لگا دی جاتی ہیں، لاہور میں ایک شخص رو رہا تھا کہ اس کی بیوی کو کورونا نہیں لیکن ڈاکٹر چھوڑ نہیں رہے تھے۔حکومتی اقدامات پر مریضوں کی شکایات دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قرنطینہ مراکز میں واش رومز صاف نہیں ہوتے اور پانی بھی نہیں ہوتا جبکہ قرنطینہ مراکز میں 10،10 لوگ ایک ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں، سوشل میڈیا پر وہاں کی حالت زار پر ویڈیوزچل رہی ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ قرنطینہ سینٹرز کے مشتبہ مریض ویڈیوز میں تارکین وطن کو کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں نہ آئیں۔انہوں نے کہا کہ ہم بہت غریب ملک ہیں، ہماری معیشت کا شمار افغانستان، یمن اور صومالیہ سے کیا جاتا ہے لیکن ہم پیسے سے کھیل رہے ہیں اور لوگوں کا احساس نہیں، نیشنل ہسپتال لاہور سے ایک آدمی کی ویڈیو دیکھی ہے وہ رو رہا ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ ڈاکٹروں اور طبی عملے کو سلام پیش کرتے ہیں لیکن اس عملے میں جو خراب لوگ ہیں وہ تشویش کی وجہ ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ لاہور ایکسپو سینٹر اور اسلام آباد میں کئی قرنطینہ مراکز سے لوگوں کی ویڈیوز دیکھنے کو مل رہی ہیں، لوگ غصے میں کہہ رہے ہیں کہ باہر مر جاو¿ تاہم پاکستان نہ آو¿، 10،10 لوگ قرنطینہ مراکزمیں ایک ساتھ بیٹھے ہیں یہ کیسا قرنطینہ ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ان قرنطینہ سینٹرز میں کوئی صفائی کا خیال نہیں رکھا جارہا ہے، کئی سینٹرز میں پانی تک نہیں آتا ہے یہ تو حالات ہیں۔چیئرمین این ڈی ایم اے کو عدالت نے روسٹرم پر بلایا اور چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ کی رپورٹ میں پی پی ایز بنانے والی ایک کمپنی کا ذکر ہے، ڈیسٹوپاکستان آرمی کیا ہے اور کیا یہ کسی پرائیویٹ شخص کہ کمپنی ہے، خصوصی جہاز بھیجوا کر اس کمپنی کی مشینری منگوائی گئی۔چیف جسٹس نے کہا کہ سب لوگ صرف پیسے سے کھیل رہے ہیں کسی کو انسانوں کی فکر نہیں، پاکستان کے پاس خرچ کرنے کےلئے لامحدود رقم نہیں ہے، این ڈی ایم اے سارا سامان چین سے منگوا رہی ہے اور چین سے ایک ہی پارٹی این ڈی ایم اے کو سامان بھیج رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر سامان کی تیاری کےلئے ایک ہی مشین منگوائی گئی، یہ ڈیسٹو پاکستان آرمی کیا چیز ہے، ڈیسٹو کسی فوجی افسر کی نجی کمپنی ہوگی، سرکاری نہیں جس پر چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ ڈیسٹواسی کمپنی ایس پی ڈی کی ذیلی کمپنی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ تمام طبی آلات پاکستان میں ہی تیار ہو سکتے ہیں، وقت آ رہا ہے کہ ادویات سمیت کچھ بھی باہر سے نہیں ملے گا اس لیے پاکستان کو ہر چیز میں خود مختار ہونا ہوگا، اسٹیل مل چل پڑے تو جہاز اور ٹینک بھی یہاں بن سکتے۔انہوں نے کہا کہ تمام پی آئی ڈی سی فیکٹریاں اب بند ہوچکی ہیں، اسٹیل مل کو سیاسی وجوہات پر چلنے نہیں دیا جاتا۔چیف جسٹس نے کہاکہ مسئلہ ملکی پیداوار کا ہے تاکہ سرمایہ بنے اور نوکریاں ملیں، پاکستان میں ہر کمپنی اور ادارہ بند ہو رہا ہے، ہم صومالیہ کی طرف جارہے ہیں لیکن بادشاہوں کی طرح رہ رہے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم وینٹی لیٹرز بنانے کے قابل ہو چکے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہاں سب کچھ سیاسی طور پر ہورہا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کی ساری توجہ شہروں پر ہے دیہاتوں میں کوئی نہیں جا رہا ہے، کورونا وائرس کےلئے دیہاتوں میں آ ج بھی لوگ دم کروا رہے ہیں، حاجی سینٹرزکو قرنطینہ مرکز بنانے کےلئے 56 کروڑ خرچ کر دیے گئے لیکن قرنطینہ سینٹر تو نہ بن سکا جبکہ قرنطینہ میں جانے والا پیسے دیے بغیرباہر نہیں نکل سکتا۔چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ 20 اپریل سے ہم نے ملکی پیداوار میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی ہے اوراس وقت ملک میں ماہانہ ایک ملین کٹس تیار کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ضرورت سے زائد کٹس کو برآمد کرنے کی طرف جا رہے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے لوگ چین سے آ خری معیار کی چیز بنواتے ہیں جبکہ امریکا سمیت دیگر ممالک میں چیزوں کی خریداری کا ایک معیار رکھا جاتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ تھرڈ کلاس چیزیں باہر سے منگوائی جاتی ہیں، جیسے عسکری پارک میں اسکریپ شدہ جھولا لگایا گیا تھا، پاکستان میں اکثر مال اسکریپ شدہ ہی بھیجا جاتا ہے۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو آگاہ کیاکہ لاک ڈاﺅن پہلے جیسا مو¿ثر نہیں رہا، بیوٹی سیلون اور نائی کی دکانیں بھی کھل رہی ہیں۔چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو کہا کہ یہ ہماری وجہ سے نہیں کھل رہے بلکہ آپ کے انسپکٹر پیسے لے کر اجازت دے رہے ہیں جبکہ عدالت نے سندھ حکومت کو کچھ نہیں کہا۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے تمام سرکاری دفاتر کھول دئیے ہیں، سب رجسٹرار کا آفس آپ نے کھول دیا ہے، بڑی کرپشن کا ادارہ سب رجسٹرار آفس ہے، کرپشن کے تمام اجلاس سب رجسٹرار آفس میں ہوتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ عوامی خدمت کے لیے نہیں بلکہ سرکاری دفاتر کھولے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ کورونا کیسز کا عروج ابھی نہیں آیا، پاکستان میں 46 ہزار مریض ہیں جبکہ دنیا میں 3 لاکھ اموات کورونا وائرس سے ہوئی ہیں اورپاکستان میں اموات ایک ہزار کے لگ بھگ ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوگ ہسپتالوں میں کسی دوسرے مرض کے علاج کے لیے جاتے ہیں تو کورونا ٹیسٹ کا کہہ دیا جاتا ہے، حکومت کوشش کررہی ہے کہ او پی ڈی کو مکمل کھولا جائے۔انہوںنے کہاکہ حکومت کے لیے بڑا آسان ہے کہ لاک ڈاون کردیں لیکن یہ بھی دیکھنا ہے کہ لوگ بھوک سے نہ مرجائیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ تعلیم یافتہ لوگ بھی کورونا کے وجود پر سوال اٹھاتے ہیں، کورونا کے وجود پر کسی ڈاکٹر نے سوال نہیں اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ فاقہ کشی سے لوگوں کو بچانے کے لیے عدالت نے راستہ کھولا لیکن کل یہ تاثر گیا کہ کورونا سنجیدہ مرض نہیں ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کورونا وائرس ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ جون کا مہینہ کورونا کے لیے انتہائی خطرناک ہے جبکہ لوگ ابھی سے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ معلوم ہوا ہے کہ بھارت سے بھی ادویات منگوائی جا رہی ہیں جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ حکومت نے بھارت سے ادویات منگوانے پر کارروائی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت سے ادویات منگوانے کی انکوائری ہو رہی ہے۔اس موقع پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹڈی دل کا بڑا ریلا ایتھوپیا سے پاکستان کی جانب بڑھ رہا ہے تاہم ٹڈی دل سے نمٹنے کے لیے قدامات کیے جا رہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ٹڈی دل کو قابو نہ کیا تو آئندہ سال فصلیں نہیں ہوں گی، پہلے بھی ٹڈی دل آتا تھا لیکن دو ہفتے میں اسے ختم کر دیا جاتا تھا۔انہوں نے کہا کہ فصلوں کے تحفظ کے لیے قائم ادارے کے پاس جہاز تھے جو ٹڈی دل سے نمٹتے تھے، چیئرمین این ڈی ایم اے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اس وقت 20 میں سے صرف ایک جہاز فعال ہے۔اہوںنے کہاکہ مزید ایک جہاز بھی خرید لیا ہے اور پاک فوج کے پانچ ہیلی کاپٹرز کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں، توقع ہے ڈی دل سے جلد نمٹ لیا جائے گا۔سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ میں شامل جسٹس سردار طارق نے کہا کہ پنجاب اور اسلام آباد میں مالز حکومت کھول رہی تھی جبکہ عدالت نے حکم صرف سندھ کی حد تک دیا تھا۔انہوںنے کہاکہ باقی ملک میں مالز کھل رہے ہیں تو سندھ کے ساتھ تعصب نہیں ہونا چاہیے اس لیے عدالت کا گزشتہ روز کا حکم بالکل واضح ہے۔جسٹس سردار طارق نے کہا کہ مالز محدود جگہ پر ہوتے ہیں جہاں احتیاط ممکن ہے، راجا بازار، موتی بازار، طارق روڈ پر رش بہت زیادہ ہوتا ہے اس لیے مالز کھولنے کا الزام عدالت پر نہ لگائیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کے ہفتہ اتوار کے لاک ڈاﺅن پر حکم سے ممکن ہے حکومت مطمئن نہ ہو تاہم اس پر عمل کیا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہفتہ اتوار کو کھولنے کا حکم صرف عید تک کے لیے دیا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہماری پورے پاکستان پر نظر ہے، آنکھ، کان اور منہ بند نہیں کرسکتے۔اس موقع پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ وضاحت کردیں کہ ہفتہ اور اتوار کا لاک ڈاﺅن عید تک ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ 8 جون کو ہونے والی سماعت میں وضاحت کر دیں گے۔سپریم کورٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی کورونا کے خطرات پر ماہرین کی ٹیم بنانے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے پیش رفت رپورٹس مانگ لیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ سرکاری دفاتر کھول کر نجی ادارے بند کررہے ہیں، سندھ حکومت کے فیصلوں میں بڑا تضاد ہے۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ وفاقی حکومت طبی ماہرین کی رائے کے برخلاف جارہی ہے۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ عدالت ہماری گزارشات بھی سن لے، عدالت ماہرین کی کمیٹی بنا کر رپورٹ طلب کرلے، لاک ڈاون ختم ہوگیا ہے، اب اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہفتے میں دو دن لوگ مارکیٹ نہیں آئیں گے تو وبا کا پھیلاو¿ زیادہ نہیں ہوگا۔سپریم کورٹ نے سینٹری ورکرز کو تنخواہیں اور حفاظتی سامان مہیا کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد کہا کہ کورونا وائرس پاکستان میں وجود رکھتا ہے اور اس کی وجہ سے پاکستان میں اموات ہوئی ہیں جبکہ کورونا وائرس کے مریضوں کا بڑے پیمانے پر علاج چل رہا ہے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے کافی وسائل چاہیے ہوں گے، حکومت کورونا وائرس کے خلاف نبرد آزما ہے اور اس سلسلے میں چیرمین این ڈی ایم اے کی رپورٹ بڑی مفید ہے۔سماعت کو سمیٹتے ہوئے عدالت نے کہا کہ پی پی ایز پاکستان میں تیار ہورہے ہیں اور وینٹی لیٹرز کی تیاری بھی شروع ہوچکی ہے۔عدالت نے کہا کہ 1187 وینٹی لیٹر حکومت بیرون ملک سے منگوانے کا آرڈر دے چکی ہے اور300 وینٹی لیٹر آچکے ہیں۔عدالت نے نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے کورونا وائرس کے خلاف اقدامات پر پیش رفت رپورٹ طلب کی اور کورونا از خود نوٹس کیس کی سماعت 8 جون تک ملتوی کردی۔

 

لاہور(تجزیہ کار) سپریم کورٹ میں بھارت سے ادویات منگوانے کی خبروں پر بھی بحث ہوئی، خبریں اور چینل ۵ نے سب سے پہلے بھارت سے ادویات منگوانے کیخلاف باقاعدہ مہم شروع کی ، اٹارنی جنرل کا کہنا تھا حکومت نے بھارت سے ادویات منگوانے پر ایکشن لے لیا ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے نیب کو ختم کرنے کا مطالبہ کردیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک)سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔سندھ ہائی کورٹ کراچی میں پاکستان اسٹیٹ آئل ( پی ایس او) کے منیجنگ ڈائریکٹر کی مبینہ غیر قانونی تعیناتی کیس میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ سب اسٹیک ہولڈرزکو فیصلہ کرنا ہےکہ ملک کیسے چلےگا۔شاہد خاقان عباسی نے نیب کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) یا کسی اور ادارے میں ضم کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ نیب کےہوتے ہوئے ملک نہیں چل سکتا، نیب میں مقدمات 15، 15 سال چلتے ہیں، میراکوئی کرپشن کا کیس نہیں،ایک طریقہ کار کا کیس ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نیب جھاڑو پھیر لےجوکرلے،کوئی کیس بننا نہیں، میرا تو کھلا چیلنج ہے، کیمرےکےسامنے نیب آئے اور ہم سے پوچھا جائے، ٹرائل کے دوران کیمرے لگنے چاہئیں تاکہ عوام کوپتاچلےکہ کیا ہورہا ہے ، یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ الیکشن سے پہلے فیصلہ کیا جائے کہ گورننس کا نظام کیا ہوگا، فِری اور فیئرالیکشن ہونے تک سیاسی نظام نہیں چلےگا۔چینی تحقیقاتی کمیشن کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ چینی کمیشن کے حوالے سے جن کوبلایا گیا ہے وہ پیش ہوں گے تاہم چینی کمیشن سے سندھ حکومت کا کوئی تعلق نہیں،کمیشن بلائے تو پیش ہونا چاہیے،سب سے اہم یہ ہےکہ کمیشن کے سامنے وزیراعظم پیش ہوں۔کورونا وائرس کے حوالے سے شاہد کاقان عباسی نے کہا کہ وزیراعظم نہ اسمبلی میں آئے اور نہ ہی کوئی بیان دےسکے،حکومت کی کوئی پالیسی نظر نہیں آرہی، کل سپریم کورٹ نے مالز کھولنےکا کہا مگریہ حکومت کی ناکامی ہے،کوئی متفقہ پالیسی ہونی چاہیے تھی۔

کل سے ٹرین سروس کا آغاز، مسافروں کے لیے ایس اوپیز جاری

لاہور(ویب ڈیسک)محکمہ ریلوے نے ٹرین کا سفر کرنے والے مسافروں کے لیے ایس او پیز جاری کردیے۔ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ریلوے عامر نثار کے مطابق 2 ماہ بعد مسافر ٹرینیں کل 20 مئی سے شروع ہوجائیں گی اور پہلے مرحلے میں چاروں صوبوں سے30 ٹرینیں چلائی جا رہی ہیں۔انہوں نےکہا کہ کل پہلی ٹرین پاکستان ایکسپریس صبح 6 بجے راولپنڈی سےکراچی روانہ ہوگی اور دوسری ٹرین ریل کار راولپنڈی سےلاہورکل صبح 7 بجے چلےگی جب کہ تیسری ٹرین ریل کارکل صبح ساڑھے7 بجے لاہور سے راولپنڈی روانہ ہوگی۔ڈی ایس ریلوے کا کہنا تھا کہ ٹرین سروس کے دوران ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد ہوگا، مسافر ایک گھنٹہ پہلے اسٹیشن پہنچیں اور کسی مسافر کے عزیز کو اسٹیشن کی حدود میں داخلےکہ اجازت نہیں۔عامر نثار نے کہا کہ ٹرین میں 60 فیصد مسافر ہوں گے اور 40 فیصد نشستیں خالی ہوں گی، مسافر ماسک پہن کرآئیں اور سینٹائیزر ریلوے فراہم کرے گا جب کہ کورونا حفاظتی انتظامات کی خلاف ورزی پر مسافرکو 500 روپےجرمانہ ہوگا اور دوسری بار خلاف ورزی پر ایک ہزار روپے جرمانہ کیا جائے گا، مسافرتیسری بارخلاف ورزی کرے تو اسے ٹرین سے اتار دیاجائےگا۔ڈی ایس ریلوے کے مطابق ٹکٹوں کی فروخت آن لائن ہوگی اور ریزرویشن دفاتر بند رہیں گے۔

نوازالدین صدیقی کی اہلیہ نے خلع کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا

ممبئی (ویب ڈیسک)معروف بھارتی اداکار نواز الدین صدیقی کی اہلیہ نے اداکار پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے ان سے خلع لینے کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا۔ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق نوازالدین صدیقی کی اہلیہ عالیہ کے وکیل نے بتایا کہ نوازالدین کو ای میل اور واٹس ایپ کے ذریعے نوٹس بھیج دیا گیا ہے لیکن انہوں نے اب تک اس کا جواب نہیں دیا۔وکیل کے مطابق ’یہ نوٹس 7 مئی کو عالیہ صدیقی کی جانب سے نوازالدین صدیقی کو بھیجا گیا، نوازالدین صدیقی نے اب تک اس پر کوئی جواب نہیں دیا اور خاموشی اختیار کی ہوئی ہے، میرا خیال ہے وہ اس نوٹس کو نظرانداز کررہے ہیں، نوٹس میں عالیہ نے نوازالدین سے خلع مانگنے کے ساتھ خرچا دینے کا مطالبہ بھی کیا‘۔وکیل نے مزید بتایا کہ ’میں اس نوٹس کی مزید تفصیلات شیئر نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ نوازالدین صدیقی کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں اور وہ ان کے اور ان کے خاندان کے لیے کافی حساس ہوسکتے ہیں‘۔یاد رہے کہ نوازالدین صدیقی اور عالیہ کی شادی کو 10 سال کا عرصہ ہوچکا ہے اور ان کے دو بچے بھی ہیں۔2017 میں یہ افواہیں سامنے آئیں تھی کہ ان دونوں کے تعلقات خراب ہورہے ہیں جبکہ ان کی طلاق بھی ہورہی ہے تاہم دونوں نے ہی ان خبروں کو بے بنیاد ٹھہرایا تھا۔دوسری جانب عالیہ صدیقی نے اے بی پی نیوز کو اس حوالے سے بتایا کہ ’مجھے نواز سے ایک نہیں بلکہ کئی مسائل ہیں اور وہ سب خاصے سنگین ہیں‘۔عالیہ صدیقی کے مطابق ان کے تعلقات شادی کے ایک سال بعد 2010 سے ہی خراب ہونا شروع ہوگئے تھے۔

عمر اکمل نے تین سالہ پابندی کی سزا کو چیلنج کردیا

 لاہور (ویب ڈیسک)قومی کرکٹر عمر اکمل نے میچ فکسنگ کی پیشکش سے متعلق ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے کیس میں تین سال کی پابندی کی سزا کے خلاف اپیل دائر کردی۔پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت عمر اکمل کو دو مختلف اوقات میں کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر تین سال کی پابندی کی سزا دی گءتھی جسے عمر اکمل نے چیلنج کردیا ہے۔عمر اکمل نے معروف قانون دان بابر اعوان کی خدمات حاصل کی ہیں اور ان کے توسط سے سزا کے خلاف اپیل دائر کی ہے جب کہ اس سے قبل عمر اکمل نے پی سی بی ڈسپلنری پینل میں اپنا کیس خود لڑا تھا اور وہ وکیل کے بغیر سماعت میں پیش ہو ئے تھے۔پاکستان کرکٹ بورڈ عمر اکمل کی اپیل پر 15 روز کے اندر آزاد جج کا تقرر کرے گا جسے تقرری کے ایک ماہ کے اندر اپیل کا فیصلہ سنانا ہوگا۔عمر اکمل کو 17 مارچ کو نوٹس آف چارج جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ کرکٹر نے پی سی بی اینٹی کرپشن کوڈ کے آرٹیکل 2.4.4 کی دو مختلف اوقات میں دو مرتبہ خلاف ورزی کی ہے جس کی سزاکم از کم 6 ماہ سے تاحیات پابندی ہے۔
عمر اکمل کے کیس کا پس منظر
20 فروری کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے اینٹی کرپشن کوڈ کی دفعہ 4.7.1 کے تحت عمر اکمل کو فوری طور پر معطل کر دیا تھا اور اینٹی کرپشن یونٹ کی جانب سے جاری تحقیقات شروع کی گئی تھیں۔ اس معطلی کی وجہ سے عمر اکمل پاکستان سپر لیگ 5 میں بھی حصہ نہیں لے سکے تھے۔
بعد ازاں یہ خبریں سامنے آئیں کہ عمر اکمل کو بکی نے میچ فکسنگ کی پیشکش کی تاہم وہ اس کی اطلاع بروقت پی سی بی کو دینے میں ناکام رہے۔اس کے بعد عمر اکمل کے فون کا ڈیٹا پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے اینٹی کرپشن یونٹ نے اپنے پاس رکھ لیا اور عمر اکمل کو طلب کرکے ان کے دونوں فونز قبضے میں لے لیے۔ریکارڈ کے مطابق پی ایس ایل 2020سے پہلے بکی نے عمر اکمل سے رابطہ کیا اور انہیں فکسنگ کی پیشکش کی۔ان ٹھوس شواہد کے ہاتھ لگنے کے بعد پی سی بی نے کارروائی کی اور پھر عمرل اکمل نے بھی بکی سے رابطہ ہونے کا اعتراف کرلیا تاہم پی سی بی یا ٹیم منیجمنٹ کو بروقت آگاہ نہ کرنے پر ان کی معطلی برقرار رکھی گئی۔20 مارچ کو کرکٹر عمر اکمل پر اینٹی کرپش کوڈ کی خلاف ورزی کی فردجرم عائد کی گئی اور عمر اکمل کو 31 مارچ تک جواب داخل کرنے کی مہلت دی گئی۔ٹیسٹ کرکٹر کو اینٹی کرپشن کوڈ 4.2.2 کے تحت چارج کیا گیا اور ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے دو بار قانون کی خلاف ورزی کی۔پی سی بی انٹی کرپشن کوڈ کا آرٹیکل 4.2.2 کسی بھی فرد کی جانب سے کرپشن کی پیشکش کے بارے میں پی سی بی ویجیلنس اینڈ سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کو آگاہ نہ کرنا ہے۔

مہوش حیات ‘ارطغرل غازی’ پر فدا

کراچی (ویب ڈیسک)گزشتہ ماہ سے پاکستان ٹیلی وڑن (پی ٹی وی) پر نشر ہونے والے ترک ڈرامے ‘دیریلیش ارطغرل ‘ جسے اردو میں ترجمہ کرکے ‘ارطغرل غازی’ کے نام سے چلایا جا رہا ہے، اس پر نہ صرف عام شائقین بلکہ پاکستانی شوبز شخصیات بھی باتیں کرتی دکھائی دیتی ہیں۔’ارطغرل غازی’ کے نشر ہوتے ہی پاکستان میں اس کی مقبولیت ترکی سے ہی بڑھ گئی تھی اور صرف 20 دن میں ہی اس ڈرامے کو یوٹیوب پر 21 کروڑ بار دیکھا جا چکا تھا۔جہاں ‘ارطغرل غازی’ سے عام پاکستانی شائقین خوش دکھائی دے رہے ہیں، وہیں کچھ شوبز شخصیات جن میں اداکار شان، ریما اور یاسر حسین سرفہرست ہیں، انہوں نے اس ڈرامے کو سرکاری ٹی وی پر نشر کرنے پر اعتراض بھی کیا تھا۔’ارطغرل غازی’ پر اختلاف کرنے والے پاکستانی اداکاروں کے مطابق وہ اس ڈرامے کے مخالف نہیں ہیں بلکہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ اس ڈرامے کو سرکاری ٹی وی پر نشر نہیں کیا جانا چاہیے۔تاہم دوسری جانب کئی شوبز شخصیات ڈرامے کی تعریفیں بھی کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ایسی شوبز شخصیات میں اداکارہ وینا ملک اور مہوش حیات بھی شامل ہیں، جنہوں نے ڈرامے کو اسلامی روایات کے عین مطابق قرار دیتے ہوئے اس کی مقبولیت پر اطمینان کا اظہار کیا۔اداکارہ مہوش حیات نے ‘ارطغرل غازی’ کی پاکستان میں مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ انہیں نہیں معلوم کہ ترک ڈرامے کے خلاف اتنی منفی باتیں کیوں کی جا رہی ہیں؟ لیکن آخر ایک دن ہم سب یہ تسلیم کریں گے کہ ‘ارطغرل غازی’ غازی نہ صرف تعلیم پھیلانے بلکہ اسلامی تہذیب سکھانے والا ڈراما بھی ہے۔ساتھ ہی اداکارہ نے ڈرامے کے مرکزی کردار کی تعریف کرتے ہوئے ایک نیا ٹرینڈ بھی شروع کیا اور انہوں نے ہیش ٹیگ کے ساتھ کرش اپڈیٹ کا لفظ استعمال کیا۔مہوش حیات نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے خیال میں ‘ارطغرل غازی’کے اداکار انجین التان دوزیتان انتہائی پرکشش دکھائی دیتے ہیں۔مہوش حیات کے مطابق انجین التان دوزیتان ڈرامے میں ہولی وڈ اداکار لیو نارڈو ڈی کیپریو کی طرح پرکشش دکھائی دیتے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے کرش اپ ڈیٹ کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔دراصل مہوش حیات نے ڈرامے کے مرکزی اداکار کی پاکستان میں مقبولیت کو دیکھتے ہوئے انہیں ہولی وڈ کے شہرہ آفاق فلم ٹائی ٹینک کے ہیرو لیو نارڈو ڈی کیپریو سے تشبیح دی۔کیوں کہ ٹائی ٹینک کے بعد لیو نارڈو ڈی کیپریو بے حد مقبول ہوئے تھے اور اب ان کی طرح ‘ارطغرل غازی’ کے مرکزی ہیرو انجین التان دوزیتان بھی بے حد مقبول ہو رہے ہیں۔
وینا ملک نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ ارطغرل غازی ترکی سے زیادہ پاکستان میں مقبول ہو رہا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستانی عوام کی سوچ اور پسند آج بھی اسلامی روایات کے مطابق ہے۔اداکارہ نے مزید لکھا کہ اس ڈرامے کی مقبولیت نے “میرا جسم میری مرضی” نعرے کو دفن کردیا ہے اور پاکستانی انڈسٹری کو تباہ ہونے سے بچنا ہے تو مغربی کلچر کو چھوڑنا ہوگا۔خیال رہے کہ ڈرامے میں ‘ارطغرل غازی’ کا کردار 41 سالہ انجین التان دوزیتان نے نبھایا ہے جو حقیقی زندگی میں شادی شدہ اور 2 بچوں کے باپ ہیں۔ڈرامے میں ان کی بیوی ‘حلیمہ سلطان’ کا کردار 28 سالہ اسرا بیلگیج نے ادا کیا ہے جو حقیقی زندگی میں ایک طلاق یافتہ خاتون ہیں۔اگرچہ پاکستان میں پورے ڈرامے کی کاسٹ کو پسند کیا جا رہا ہے، تاہم ڈرامے کے دونوں مرکزی اداکاروں یعنی ‘ارطغرل غازی’ اور ‘حلیمہ سلطان’ کو بہت پسند کیا جا رہا ہے۔اس ڈرامے کی کہانی 13ویں صدی میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام سے قبل کی ہے اور اس ڈرامے کی مرکزی کہانی ’ارطغرل‘ نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے جنہیں ’ارطغرل غازی‘ بھی کہا جاتا ہے۔ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 13ویں صدی میں ترک سپہ سالار ارطغرل نے منگولوں، صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کس طرح اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔ڈرامے میں سلطنت عثمانیہ سے قبل کی ارطغرل کی حکمرانی، بہادری اور محبت کو دکھایا گیا ہے۔

چینی ملٹری میڈیکل ٹیم کا نیشنل کمانڈآپریشن سنٹرکا دورہ،پاکستانی ماہرین کی کوششوں کی تعریف

اسلام آباد(ویب ڈیسک)میجر جنرل ہوانگ چنگ ڑین کی سربراہی میں دس رکنی چینی ملٹری میڈیکل ٹیم نے نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ٹیم کو وبائی امراض کے خلاف پاکستان کی اب تک کی کوششوں ، ہنگامی اقدامات سمیت مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں بتایا گیا۔رپورٹ کے مطابق چین سے آئے وفد کو ٹی ٹی کیو حکمت عملی سے آگاہ کیا گیا۔ ٹی ٹی کیو کی حکمت عملی پاکستان کی قومی کوشش کا سنگ بنیاد ہے اور کوویڈ 19 کے خلاف ٹارگٹڈ لاک ڈاو¿نز اور قابو پانے کی کوششوں میں مدد فراہم کررہا ہے۔نیشنل کمانڈ آپریشن سنٹر کے حکام نے وفد کا چین کی طرف سے تمام شعبوں میں وبائی امراض کے خلاف لڑائی میں تعاون کے لئے شکریہ ادا کیا۔چینی میڈیکل ٹیم نے بھی ابتدائی علاج کے اپنے تجربات شیئر کیے جس سے چین کو وبائی مرض میں کنٹرول کرنے میں مدد ملی۔ چینی وفد نے ماہرین صحت کے مشوروں کے مطابق سائنسی انداز میں قومی کوویڈ کوششوں کو آگے بڑھانے پر این سی او سی کی تعریف کی۔چینی فوجی میڈیکل ٹیم پاکستان کے سرکاری دورے پر ہے جس میں بیماریوں کے کنٹرول ، پلمونولوجسٹ ، آئی سی یو ، متعدی بیماری اور کنٹرول ، جانچ کے ماہرین شامل ہیں۔