کراچی (ویب ڈیسک)مشیر خارجہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان معاشی بحران کا شکار ہوچکا ہے کیونکہ غیرملکی قرضہ 97 ارب ڈالر ہے ،اس سال حکومت نے 2 ہزار ارب روپے سود دیا ہے،آئندہ مالی سال میں سود کی مد میں 3 ہزار ارب روپے دینا ہونگے۔کراچی میں کونسل آف فارن ریلیشنز کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال میں ایکسپورٹ میں صفر فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا ہے۔ تجارتی خسارہ 40 ارب ڈالر ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم سب کچھ امپورٹ کر رہے ہیں ،اس صورتحال میں روپے کی قدر کو سنبھالا نہیں جاسکتا۔ پاکستان معاشی بحران کا شکار ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ روپے کی قدر پر میں بات نہیں کرونگا۔ وزارت خزانہ کوروپے شرح تبادلہ پر بات نہیں کرنا،شرح سود کا معاملہ اسٹیٹ بینک کا ہے وہ اس پر بات کرسکتے ہیں۔مشیر خزانہ نے کہا کہ میں نے 40 ملکوں کی معیشت پر کام کیا ہے۔ ہمیں خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے اقدامات کرنا تھے ، فوری بحران کو حل کرنے لئے دوست ملکوں سے مدد مانگی ، سعودی عرب اور اسلامی ترقیاتی بینک سے تیل کی تاخیرسے ادائیگی کا بندوبست کیا۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ ہم آئی ایم ایف اس لئے گئے کہ دنیا کو بتا سکیں ہم اپنے وسائل پر رہنا چاہتے ہیں۔ آئی ایم ایف میں جانے سے کم شرح سود پر قرض ملے گا ، آئی ایم ایف کی نگرانی کی وجہ سے دیگر ادارے بھی قرض دیتے ہیں۔حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ بجٹ کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ بجٹ کو بہت ذیادہ سوچ بچار کے بعد بنایا ہے۔ بزنس کمیونٹی کو مراعات دی ہیں اور بجٹ میں 100 ارب روپے رکھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مالیاتی خسارے کو کم کرنا ہوگا۔ ٹیکس میں اضافہ اور اخراجات میں کمی کرنا ہوگی۔ اگر لوگ برآمدی کافی پینا چاہتے ہیں تو اضافی قیمت دیں۔اب ٹیکس ہر نان فائلر کودیناہوگا،اچھے شہری ہونے کے ناطے آپکو ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔اس سے آپ کی انڈسٹری بہتر ہوگی۔مشیر خزانہ نے کہا کہ ہمیں آئینی طریقے سے لوگوں کوٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا۔ہم نے قرض اس لئے لیا کہ ہمیں ماضی کی حکومتوں کا قرضہ ادا کرنا ہے۔گزشتہ سال کے برابر دفاع کا موجودہ بجٹ ہونا بہت اچھی بات ہے۔ہم نے دیکھا کہ اوپری سطح پربجٹ میں کٹوتیوں کا آغاز ہوا ہے۔کیبنٹ کی تنخواہوں میں 10فیصد کمی ہوئی،وزیراعظم ہاﺅس کے خرچوں میں نمایاں کمی کی گئی۔ہمیں سوچنا ہوگا کہ کہاں ہمیں اپنے خرچے کم کرنے ہیں۔جولوگ شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں اب ہمارا ہاتھ انکی جانب بڑھے گا۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ جو شخص 12لاکھ سالانہ کماتا ہے تو اسے 2500ادائیگی کرنی ہے۔کیا غلط ہے؟چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)شبر زیدی نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ ایگری کلچراکانومی صوبائی معاملہ ہے،آگر آپ اس تناظر میں دیکھیں گے تو آپ کوسخت فیصلے کرنا پڑیں گے۔آڑھتیوں پر اس بجٹ میں 10ہزارسے 1لاکھ روپے تک ٹیکس لگایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایگری کلچر کا شعبہ بھی اب رجسٹرڈ ہونا چاہئے۔ہم کوشش کررہے ہیں کہ اپنی ہر ممکن کوشش کریں۔گورنر اسٹیٹ بنک رضاباقر نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ میری تقرری خزانہ کے محکمہ نے کی ہے۔تمام سمندرپار پاکستانوں کوکہوں گا آئیے اپنے ملک کی خدمت کریں۔اسٹیٹ بینک مرکزی بینک ہے جسے ملک کی بہتری کیلئے کام کرنا ہے۔آپکی رائے مقدم رکھی جائیگی۔گورنراسٹیٹ بنک نے کہا کہ انٹرسٹ ریٹ پالیسی کا مقصد مہنگائی سے لڑنا ہی ہوتا۔
Monthly Archives: June 2019
جرمنی، 5 جی کی نیلامی سے 7.3 ارب ڈالرز کی آمدنی
برلن(ویب ڈیسک) جرمنی کی حکومت کو 5 جی کی 41 مختلف اقسام کی فریکوئنسیوں کی ہونے والی نیلامی سے 6.5 ارب یورو ( 7.3 ارب امریکی ڈالرز) خطیر رقم حاصل ہوگی۔ یہ بات گزشتہ روز اس وقت یقینی ہوگئی جب ہونے والی نیلامی میں مختلف اداروں کی جانب سے 497 مرتبہ بولیاں دی گئیں۔جرمنی کی خبر رساں ایجنسی ’ڈی پی اے‘ کے مطابق لائسنسوں کی نیلامی کے نتیجے میں ہونی والے آمدنی وفاقی حکومت کی توقعات سے کہیں زیادہ ہے۔جرمنی کی ’فیڈرل نیٹ ورک ایجنسی‘ کے حوالے سے خبررساں ایجنسی نے بتایا ہے کہ نیلامی کے دوران مختلف اداروں کی طرف سے 497 مرتبہ بولیاں لگائی گئیں جو ایک ریکارڈ ہے۔نیلامی5 جی نیٹ ورک‘ کی فریکوئنسیوں کے ایک وسیع ’اسپیکٹرم سے متعلق تھی جو ڈیٹا کی بہت تیز رفتار ٹرانسفر کو یقینی بنائے گی۔ یہ فریکوئنسیاں دو گیگا ہرٹس سے لے کر 3.6 گیگا ہرٹس تک کے درمیان ہوں گی۔5 جی انٹرنیٹ سروس اس قدر تیز رفتار ہو گی کہ مختلف صنعتی پیداواری اداروں کی کارکردگی کو اس نیٹ ورک سے جوڑا جا سکے گا، جرمنی کے مختلف شہر آپس میں مربوط ہوجائیں گے اور اسی نیٹ ورک کے ذریعے بنا ڈرائیوروں کے چلنے والی خود کار گاڑیاں بھی کنٹرول ہوسکیں گی۔جرمن خبررساں ایجنسی کے مطابق نیلامی میں سب سے بڑی بولیاں جرمنی کے بڑے ٹیلیکوم ادارے ڈوئچے ٹیلیکوم، ووڈا فون اور ٹیلیفونیکا جرمنی کی طرف سے لگائی گئیں۔کامیاب بولی دہندگان کے لیے لازمی ہے کہ وہ 2022 تک جرمنی کے 98 فیصد گھروں کو تیز رفتار انٹرنیٹ نیٹ ورک سے جوڑیں۔مغربی نشریاتی ادارے کے مطابق جرمنی انٹرنیٹ ڈاﺅن لوڈ کی اوسطاً رفتار کے حوالے سے عالمی درجہ بندی میں 46 ویں نمبر پر ہے۔جرمنی کی خبررساں ایجنسی کے مطابق حکومت کو جو آمدنی ہوئی ہے وہ اپنی نوعیت کی انوکھی ہرگز نہیں ہے کیونکہ 2015 میں 4 جی نیٹ ورک کی نیلامی سے جرمنی کی حکومت کو 5.1 ارب یورو کی آمدنی ہوئی تھی۔جرمنی کے حوالے سے 2000 میں یہ اطلاعات عالمی ذرائع ابلاغ میں آئی تھیں کہ وہاں سے بہت سی ٹیلیکوم کمپنیاں اپنا کاروبار سمیٹ کررفو چکر ہوگئی ہیں کیونکہ مارکیٹ میں جو مقابلے بازی شروع ہوئی تھی اس کے لیے انتہائی خطیر رقم درکار تھی۔
ہانگ کانگ میں پارکنگ سے بھی چھوٹا مختصر ترین گھر
ہانگ کانگ (ویب ڈیسک) ہانگ کانگ اپنے مہنگے مگر مختصر نینو فلیٹس کے لیے مشہور ہے لیکن ایک بلڈر نے حال ہی عام پارکنگ سے بھی چھوٹے اپارٹمنٹس بنا کر لوگوں کو حیران کر دیا۔جیسے ہی لوگوں نے سوچا کہ اب ان سے مختصر کون سے فلیٹس ہوں گے تو رئیل اسٹیٹ ڈیولپرز نے ٹی پلس کے منصوبے سے پردہ اٹھایا، یہ فلیٹس اتنے مختصر ہیں کہ عالمی میڈیا کی خبروں کی زینت بنے۔ٹی پلس کو یوں کہہ لیں کہ یہ ایک شو باکس فلیٹ ہیں جو فلیٹس کی نئی قسم ہیں۔ فلیٹ کا رقبہ صرف 128 اسکوائر فٹ ہے جس اسے ایک عام پارکنگ کی جگہ سے بھی چھوٹا بنا دیتا ہے کیونکہ ایک عام پارکنگ کی جگہ بھی 130 اسکوائر فٹ ہوتی ہے۔اپنے حیران کردینے والے رقبے کے باوجود ٹی پلس ہاﺅسنگ کے فلیٹ میں وہ تمام سہولیات میسر ہیں جو کسی بھی انسان کو زندگی گزارنے کے لیے درکار ہوتی ہیں جیسے کچن، ایک ٹوائلٹ، سامان رکھنے کی جگہ، ایک ریفریجریٹر ، ایک بیڈ اور ایک کھانے کی میز۔ایک اتنا مختصر فلیٹ جو 5 سے 8 قدموں میں ہی ختم ہو جاتا ہو اس میں یہ تمام سہولیات کیسے سما سکتی ہیں، جو کوئی سوچنے کی کوشش کرے تو اس کی سوچ میں بھی نہ سما سکے۔حال ہی میں تعمیر ہونے والی یہ عمارت 73 اپارٹمنٹس پر مشتمل ہے۔بلڈر کو پوری امید کہ اس کے یہ تمام فلیٹس فروخت ہو جائیں گے تاہم اس کاروبار سے منسلک دیگر لوگ اسے بد ترین قرار دے رہے ہیں۔ٹی پلس کا ایک اپارٹمنٹ ہانگ کانگ ڈالر 2.85 ڈالر پر فروخت کے لیے دستیاب ہے یعنی 364,000 امریکی ڈالر۔یہ قیمت اگر آپ کو زیادہ لگ رہی ہے تو سن لیں کہ نینو فلیٹ اس سے بھی مہنگے ہیں اور ان کی قیمت 7.90 ملین امریکی ڈالر ہے یعنی ایک ملین امریکی ڈالر۔ معاملہ صرف اتنے مختصر فلیٹس پر ختم نہیں ہوگیا بلکہ ہانگ کانگ کے بلڈرز کے پاس اس سے بھی چھوٹے فلیٹس کا منصوبہ موجود ہے جو صرف 61.4 اسکوائر فٹ پر ہوں گے۔
جعلی اکاﺅنٹس کیس: نیب نے فریال تالپور کو گرفتار کرلیا
اسلام آباد(ویب ڈیسک) نیب نے سابق صدر آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپورکو گرفتار کرلیا۔چیئرمین نے گزشتہ روز جعلی اکاﺅنٹس کیس میں فریال تالپور کی گرفتاری کے وارنٹ پر دستخط کیے تھے جس کے بعد ان کی گرفتاری کے وارنٹ گزشتہ روز جاری کیے گئے تھے۔ذرائع کے مطابق نیب نے فریال تالپور کو اسلام آباد سے گرفتار کیا ہے اور انہیں کل احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ذرائع کا کہناہے کہ نیب ٹیم فریال تالپور کو اپنے دفتر منتقل کرے گی جہاں ان کا طبی معائنہ کرایا جائے گا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے جعلی اکاﺅنٹس کیس میں فریال تالپور اور آصف زرداری کی عبوری ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کی تھی جس کے بعد سابق صدر کو زرداری ہاﺅس اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا۔
ورلڈ کپ میں آج انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان مقابلہ ہوگا
لندن: کرکٹ ورلڈکپ کے 19ویں میچ میں آج میزبان انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ساؤتھ ایمپٹن کے روز باؤل گراؤنڈ میں دونوں ٹیمیں پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر ڈھائی بجے آمنے سامنے ہوں گی۔ انگلینڈ ورلڈ کپ تو کبھی نہ جیت سکا مگر ورلڈکپ کی تاریخ میں ویسٹ انڈیز سے کبھی نہیں ہارا۔ویسٹ انڈیز کی ٹیم اب تک ایونٹ میں 3 میچز کھیل چکی ہے جس میں اسے ایک میں کامیابی، ایک میں شکست اور ایک میچ بارش کی نذر ہوا جب کہ انگلش ٹیم بھی 3 میچز میں سے 2 میں کامیابی اور ایک میں شکست کا سامنا کرچکی ہے۔اس ہفتے لندن کا موسم میچ کے حوالے سے بہت خراب رہا، بارش کے باعث میچ بری طرح سے متاثر ہورہے ہیں، امید ہے کہ آج کا میچ بارش سے متاثر نہیں ہوگا۔انگلینڈ کی ٹیم:کپتان این مورگن کی قیادت میں ممکنہ انگلش ٹیم جیسن رائے، جونی بیرسٹرو، جوئے روٹ، جوس بٹلر، بین اسٹروکس، کرس ووکس، جوفرا آرچر، عادل رشید، مارک ووڈ اور معین علی پر مشتمل ہوگی۔ویسٹ انڈیز ٹیم:ویسٹ انڈین ممکنہ ٹیم کرس گیل، شائے ہوپ، شمرون ہیٹمیر، نکولس پورن، کپتان جیسن ہولڈر، کارلوس بریتھ ویٹ، ایشلے نرس، کیمار روچ، شیلڈن کوٹرل، ایون لیوس اور آندرے رسل پر مشتمل ہوسکتی ہے
پنجاب کا کھربوں کا بجٹ آج پیش
لاہور (وقائع نگار) پنجاب حکومت 21 کھرب 61 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کرے گی۔ محکمہ خزانہ پنجاب کی سرکاری دستاویز ات کے مطابق بجٹ کا کل حجم تقریبا1 کھرب 61 ارب روپے تجویز کیا جا رہا ہے جس میں ترقیاتی بجٹ کا حجم 346 ارب روپے ہو گا اور غیر ترقیاتی بجٹ کا حجم 1310 ارب روپے تجویز کیا جا رہا ہے۔ٹیکس کی مد میں شہریوں سے محکموں کے ذریعے 105 ارب روپے بڑھا کر 3 کھرب 68 ارب وصول کرنے کے اہداف مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ وزیراعلیٰ ا?فس سمیت دیگر سرکاری محکموں کے غیر ترقیاتی بجٹ میں کٹ لگانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔سرکاری دستاویز کے مطابق پنجاب کو این ایف سی کے تحت قابل تقسیم محاصل کی مد میں 1494 ارب روپے ملیں گے جبکہ صوبائی آمدنی کا حجم 368 ارب روپے ہو گا۔ پنجاب کے کچھ ترقیاتی سکیموں میں 27 ارب روپے کی غیر ملکی فنڈنگ بھی شامل ہوگی۔پنجاب کے بجٹ میں ڈیرہ غازیخان سمیت جنوبی پنجاب کے اضلاع میں ترقیاتی کاموں پر زیادہ فوکس رکھا جا رہا ہے جبکہ تنخواہوں اور پنشن سے متعلق وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق ہی پنجاب میں تجویز دی جائے گی، پنجاب میں نئی گاڑیوں کی خریداری کے لئے بھی بجٹ مختص کیا جا رہا ہے۔پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں اور اسکولز میں حالات بہتر بنانے اور نئے ہسپتال بنانے سے متعلق بھی منصوبے بجٹ میں تجویز کئے جا رہے ہیں، ہسپتالوں میں ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف بھرتی کرنے کے لئے بھی نئے اسامیوں کا بجٹ بھی رکھا جا رہا ہے۔
فریال تالپور بھی جیل کے اندر؟
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) قومی احتساب بیورو (نیب)نے جعلی بینک اکاونٹس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کو بھیگرفتار کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ذرائع نے بتایا کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال نے فریال تالپور کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔فریال تالپور کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دیے جانے کا امکان اور وہیں ان سے تفتیش کی جائے گی۔
روس بنا پاک بھارت میں ثالثی
بشکیک (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوزایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان کی روسی صدر سے غیررسمی ملاقات ہوئی، دونوں رہنماو¿ں نے مصافحہ کیا اور کچھ دیر کے لیے بات چیت کی گئی۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور روسی صدر پیوٹن کے درمیان غیررسمی ملاقات ہوئی،دونوںہنماو¿ں میں ملاقات شنگھائی تنظیم اجلاس کے سائیڈ لائن پر ہوئی، دونوں رہنماو¿ں کی ون آن ون ملاقات آج ہوگی۔اس سے قبل وزیراعظم نے روسی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور روس کی افواج کے درمیان تعاون بڑھا ہے، روس کے ساتھ دفاعی تعاون مزید بڑھانا چاہتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ میں روس کا دورہ کرنا پسند کروں گا، زندگی میں ایک بار روس کا دورہ کیا ہے، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے ملاقات کا امکان ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دورہ چین میں صدر پیوٹن سے ملاقات ہوچکی ہے، روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات خوش آئند ہیں۔صحافی کے سوال پر عمران خان کا کہنا تھا کہ روس سے اسلحے کی خریداری کا فی الحال ہمارا کوئی ارادہ نہیں ہے، اسلحے پر خرچ ہونے والی رقم انسانی ترقی کے لیے استعمال کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ اب 60 کی دہائی جیسے حالات نہیں رہے، پاکستان، بھارت دونوں امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، اب سرد جنگ جیسی صورت حال کا سامنا نہیں ہے۔ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر عمران خان کا کہنا تھا کہ فی الحال، منصوبے پر کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہورہی ہے، منصوبے پر پیش رفت نہ ہونے کی وجہ امریکا کی عائد کردہ پابندیاں ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں ویزہ اصلاحات کا نظام بہتر بنادیا ہے، اب لوگ آسانی سے پاکستان آکر ایئرپورٹ پر ویزہ حاصل کرسکتے ہیں، 70 ممالک کو ایئرپورٹ پر ویزے کی سہولت دے رہے ہیں، ماضی میں کسی ملک کے ساتھ ایسا معاہدہ نہیں تھا۔ وزیراعظم عمران خان کی روسی صدر پیوٹن سے ملاقات باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی صورتحال پر گفتگو۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تنازعات کے حل کے لیے روس سمیت کسی کی بھی ثالثی کے لیے تیار ہے۔وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورہ کرغزستان کے موقع پر غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جب ہمارے اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہوتے ہیں تو ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں جنگ سے کسی کو بھی فائدہ نہیں ہو گا۔ اس سے قبل ہماری بھارت سے تین جنگیں ہو چکی ہیں جس سے دونوں ہی ملکوں کو نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک بھارت تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کشمیر ہے جسے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے اور اگر دونوں حکومتیں مسئلہ کشمیر حل کرنے کا تہیہ کر لیں تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہم بھارت کو قائل کرنے میں ناکام رہے ہیں تاہم ہمیں امید ہے کہ موجودہ بھارتی وزیر اعظم اس مسئلہ کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے ممالک نے ہمیں نئی آوٹ لٹس تک رسائی فراہم کی ہے اور یقینا اب اس میں بھارت بھی شامل ہے جس سے ہم ہمارے دو طرفہ تعلقات انتہائی کمزور ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ برصغیر میں بہت زیادہ غربت ہے جس کے خاتمے کے لیے ہمیں ہتھیاروں کے بجائے انسانوں پر پیسہ خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ جیسے چین نے غربت کے خاتمے کے لیے اپنی عوام پر رقم خرچ کی اور وہاں سے آج غربت کا خاتمہ ہو چکا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کا ہمیشہ مغرب سے بہتر تعلقات استوار کرنے پر زور رہا ہے تاہم اب ہم نئی مارکیٹوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے لیے ہم شنگھائی تعاون تنظیموں کے ممالک سے تعلقات مزید بہتر کرنے کی کوشش کریں گے۔ واضح رہے وزیراعظم عمران خان شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کیلئے جمعرات کو کرغزستان کے دارالحکومت بشکک پہنچ گئے ہیں۔ کرغزستان کے وزیراعظم محمد کلئی ابولگزیف اور وزیر صحت کسموسبیک سراو¿چ نے وزیراعظم کا خیرمقدم کیا۔دوسری جانب کرغزستان میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کرغزستان میں 2600پاکستانی طلبائ زیرتعلیم ہیں۔پاکستانی طلبائ یہاں چلتے پھرتے سفیر ہیں،ہمارا مشن محدود ہے اور وسائل بھی محدود ہیں۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ ہم سب ملکر ان سفیروں کی مدد کریں گے۔ پاکستان کی خصوصیات اور استحکام بارے یہاں کردار ادا کریں گے، ہمارے ہاں مثبت خبر کا کوئی تذکرہ نہیں کرتا بلکہ منفی خبروں کو اچھالا جاتا ہے۔سنٹرل ایشیائ کی تمام ریاستیں ہمارے لیے اہم ہیں۔پاکستان وسط ایشیائی ملکوں کی تجارتی منڈی تک رسائی چاہتا ہے، ہمارے ان ممالک سے مذہبی تعلقات بھی ہیں، ہمارے ان سے ثقافتی تعلقات بھی ہیں۔یہ تاریخی اور ماضی کی روایات کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ہم ان کی بہت ساری ضروریات کو پورا کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سنٹرل ایشیائی ممالک میں لمبا چکر کاٹ کرآنا پڑتا ہے، افغانستان کے حالات میں بہتری آئے گی، افغانستان مستحکم ہوگا، امن قائم ہوگا، ویسے ہی تجارتی روابط بڑھتے چلے جائیں گے۔اانہوں نے کہا کہ پاکستان نے مشکل حالات میں بجٹ پیش کیا ، جوقوم کے سامنے ہے۔قرضوں کے سود کی ادائیگی کیلئے مزید قرضے لینا پڑتے ہیں۔ قرضوں کا موجودہ حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔22کروڑ کی آبادی میں برا ہ راست انکم ٹیکس دینے والا طبقہ 22لاکھ ہے۔کرپٹ اور کرپشن کیخلاف احتساب کا مربوط نظام بنا رہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان میں امن واستحکام میں بہتری آئی ہے۔پاکستان میں تجارت اور سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاحت کیلئے ویزہ پالیسی میں نرمی لا رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں بیرون ملک سے لوگ پاکستان میں آئیں۔باہمی تعلقات کے فروغ میں پاکستانی کمیونٹی کردار ادا کرسکتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان شنگھائی تعاون تنظیم کے19ویں اجلاس میں شرکت کےلئے کرغزستان پہنچ گئے۔وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور معاون خصوصی عثمان ڈار بھی کرغزستان پہنچے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان اپنے دورے میں شنگھائی تعاون تنظیم کے 2 سیشن سے خطاب کریں گے، اس کے علاوہ ایس سی او کے ارکان اور مبصر ممالک سمیت اہم بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندگان شریک ہوں گے۔اجلاس کی سائیڈلائن پر وزیر اعظم عمران خان کی شرکت کرنے والے ممالک کے رہنماں سے ملاقات متوقع ہے جبکہ اجلاس میں شریک رہنماو¿ں کی جانب سے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے معاہدوں پر دستخط کے علاوہ کئی فیصلوں کی منظوری دی جائے گی۔کرغزستان کے دارالحکومت بشکک روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایس سی او اجلاس کا مقصد خطے کی اقتصادی حالت کے اقدامات کا جائزہ لینا ہے، چند روز قبل او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس ہوا تھا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی تجاویز ایس سی او لیڈر شپ کے سامنے رکھی جائیں گی جس پر وہ فیصلہ دیں گے، وزیراعظم عمران خان کی دیگر ممالک کی قیادت سے بھی ملاقات اور مشاورت ہو گی۔واضح رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھی شرکت کررہے ہیں تاہم وزیراعظم عمران خان اور بھارتی وزیراعظم کی اجلاس کے دوران سائیڈ لائن پر ملاقات کوئی امکان ظاہر نہیں کیا جارہا۔ پاکستان 2017 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن بنا تھا، جس کے بعد سے وہ امور خارجہ، دفاع، قومی سلامتی، معیشت اور تجارت، سائنس اور جدت، نوجوان اور خواتین کو بااختیار بنانے، سیاحت اور ذرائع ابلاغ سمیت مختلف ایس سی او کےمختلف شعبوں میں متحرک طریقے سے شرکت کر رہا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ ماہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بشکیک میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کی تھی اور فورم نے ان دستاویزات اور فیصلوں پر غور کرکے حتمی شکل دی جن پر سربراہان مملکت کی کونسل کے اجلاس میں دستخط کیے جائیں گے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 13 اور 14 جون کو ہونے والے اس 2 روزہ اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان کے علاوہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی شرکت کر رہے ہیں، تاہم ان دونوں رہنماں کی ملاقات شیڈول نہیں ہے۔اس سلسلے میں گزشتہ ہفتے ترجمان بھارتی وزارت خارجہ نے دونوں وزرا اعظم کی متوقع ملاقات پر واضح کیا تھا کہ اجلاس میں دونوں وزرا اعظم کی ملاقات شیڈول نہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے بشکیک دورے کے دوران روسی صدر ولادمیر پیوٹن اور کرغزستان کے صدر سوروونبے شریپو ویچ سے ملاقات کی۔ وزیر اعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے روسی صدر سے غیر رسمی گفتگو کا بتایا۔ بیان میں بتایا گیا کہ عمران خان نے کرغزستان کے صدر سوروونبے شریپو ویچ سے ملاقات کی اور انہیں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے کامیاب انعقاد پر مبارک باد دی۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماں نے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور مختلف شعبہ جات میں ان تعلقات کو جامع انداز میں مزید بہتر بنانے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماں میں اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور کرغستان کے درمیان زمینی اور فضائی روابط کو بہتر بنایا جائے جبکہ مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس اور دوطرفہ سیاسی مشاورت جلد عمل میں لائی جائے۔ دونوں ممالک نے عوامی سطح پر رابطوں کو بہتر بنایا جائے، سیاحت کو فروغ دیا جائے اور ویزوں کے اجرا میں سہولت دینے پر بھی اتفاق کیا۔ ملاقات کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے کرغستان کے صدر کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔
عمران خان کو روس اور چین سے سپورٹ مل جائے تو یہ بہتر ہو گا
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار شاہد اقبال بھٹی نے کہا ہے کہ نواز شریف نے اپنے ملاقاتیوں کو تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کی بجائے عمران خان کی وزارت عظمیٰ سے محرومی کا اشارہ دیا ہے ۔ موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کے وتے ہوئے بہترین بجٹ پیش کیا ہے۔ عمران خان کو کانفرنس میں بھارت کی موجودگی میں روس اور چین سے سپورٹ مل جائے توپاکستان کے لیے اس سے بہتر کچھ نہیں۔ عمران خان کی مودی سے ملاقات پاکستان کے لیے اہم نہیں ہے۔اپوزیشن میں تحریک چلانے کا دم خم نہیں ، انہیں موقع عمران خان خود دے رہے ہیں۔ وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھ کر عمران خان وہی کام کررہے ہیں جو نواز شریف اور زردار ی کرتے رہے۔وزیراعظم کے خطاب اور بجٹ کیوجہ سے اسٹاک مارکیٹ نیچے گری۔میزبان تجزیہ کار میاں حبیب کا کہنا تھا کہ نواز شریف سے اپنے ملاقاتیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ میں پیر تو نہیں ہوں لیکن عمران خان اپنا وقت پورا نہیں کرپائیں گے۔عمران خان کے عوام کے منتخب وزیراعظم ہیں ، سیلیکٹڈ وزیراعظم کے الزام لگانے والی سیاسی جماعتوں نے صرف بیان بازی کی الیکشن کمیشن یا عدالت میں چیلنج نہیں کیا۔ عمران خان کے سابق حکمرانوں کے آڈٹ کے بیان پر عوام بہت خوش ہیں۔ مگر آڈٹ پاکستان بننے سے اب تک سب کرپٹ سیاستدانوں کا ہونا چاہیئے۔بے فکر ہو جائیں سسٹم کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ وزیراعظم کی بھارتی وزیراعظم سے ملاقات نظر نہیں آرہی تاہم چین اور روس سمیت دیگر ممالک کے وزرائے اعظم سے ملاقاتیں خوش آئند ہوں گی۔تجزیہ کاراشرف عاصمی نے کہا ہے کہ نواز شریف کے پاس کہنے کو کچھ نہیں اس لیے عمران خان کے خلاف باتیں کر کے خود کو تسلی دیتے ہیں مگر اسٹیبلشمنٹ کا آشیرباد جب تک ہے عمران خان چلیں گے۔ عمران خان بھی نواز شریف کی طرح اسٹیبلشمنٹ کی پراڈکٹ ہیں۔ عمران خان کی نفسیات میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ ہر جگہ جا کرکہنا ہے پاکستان میں کرپشن بہت ہے۔عمران خان احتساب کے نام پر چھپ رہے ہیں ۔پاکستان کی ظالم اشرافیہ ، ن لیگ نے بھاری مینڈیٹ لینے کے باوجود بلدیاتی اداروں کو اختیارات نہیں دیئے اور آج یہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بات کر رہے ہیں۔پاکستان میں جمہوریت آمریت سے بھی بدترین ، پارلیمنٹ اور وزیراعظم ربڑ اسٹیمپ بن گئے ہیں۔ عمران خان کو حکومت میں آنے کے لیے کوئی محنت نہیں کرنا پڑی، ہو سکتا ہے اس نظام کو لپیٹ دیا جائے۔ حکومت سابق بیوروکریٹس کا حساب کر کے دکھائے۔پروڈکشن آرڈر مانگنے والے وہ لوگ ہیں جو چھٹی کے دن عدالتیں کھلوا کر ضمانتیں کروالیتے تھے۔عمران خان جیسے انسان سے قطعی امید نہیں تھی کہ ایسا بجٹ آئے گا، عمران خان نے عوام کی امیدوں کو روند دیا۔ عمران چاہتی ہے کہ چوروں کے پیٹ پھاڑے جائیں اور لوٹا ہوا پیسہ عوام کی فلاح پر لگایا جائے۔ تجزیہ کار فیصل چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم کو بجٹ پیش ہونے کے بعد تقریر نہیں کرنی چاہیئے تھی، انکی تقریرون میں شوکا سرپرائز تھا۔عمران خان کا کمیشن بنانے کا اعلان بجٹ سے توجہ ہٹانے کے لیے تھا۔عمران خان پچھلے دس سال کا آڈٹ کرکے پچھلی حکومتوں کو این آر او دینا چاہ رہے ہیں۔ عمران خان جن کے آشیرباد سے آئے ہیں ، انہی سے عمران خان کو مشرف دور کے دس سال کا آشیر باد ملے گا۔مسئلہ کشمیر کے حل پر کوئی پیشرفت نظر نہیں آرہی۔ملزم ممبر اسمبلی کو پروڈکشن آرڈر نہیں ملنے چاہئیں۔
مودی بدنیت شخص بھارت نہیں چاہتا پاکستان مسائل سے نکلے، جنرل (ر) امجد شعیب
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ پراڈکشن آرڈر ممبر پارلیمنٹ کا حق ہے نہ ملنے کی
aورت میں پارٹی احتجاج کر سکتی ہے۔ کسی بھی ممبر کو قانون کے مطابق اسمبلی سیشن میں شامل ہونے سے روکا نہیں جا سکتا۔ چینل فائیو کے پروگرام نیوز ایٹ سیون میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب تک اسمبلی سیشن جاری رہے ممبر کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا پراڈکشن آرڈر حمزہ شہباز کا حق ہے۔ جونہی اجلاس ختم ہوتا ہے ممبر کو سرنڈر کرنا پڑتا ہے۔ عوام کو پتہ ہونا چاہئے چوبیس ہزار ارب قرضہ کہاں خرچ ہوا عمران خان کو اس پر بہت پہلے کام شروع کر دینا چاہئے تھا۔ بجٹ مشکل ترین تھا ۔ قرضوں کے باعث ملک مقروض ہے۔ حکومت کی کوشش ہے بجٹ کو ویلفیئر قرار دے سکے لیکن جو مہنگائی کی پوزیشن ہے کوئی شخص خوش نہیں البتہ حکومت کہتی ہے اگلے بجٹ تک صورتحال بہتر ہوگی۔ جیسا بجٹ آیا اپوزیشن کے پاس مہم چلانے کا موقع ہے لیکن اپوزیشن کے درمیان انڈرسٹیڈنگ نہیں اپوزیشن خود کو یکجا کرے تو فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ بے چین عوام اپوزیشن کی مرغوب غذا ہوتے ہیں۔ اگر کرپشن پر عمران نے کمیشن بنا دیا تو اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکل جائے گی۔ جنرل ر امجد شعیب نے کہا کہ ہم ملک کے اپنے مفاد ہوتے ہیں۔ جن لوگوں نے کرپشن کی انہیں پکڑنا چاہئے تاکہ پیسہ واپس آئے لیکن دوسرے ملک نہیں چاہتے پیسہ واپس دیں۔ الطاف حسین را اور ایم آئی سکس کا مہرہ ہے۔ بھارت نہیں چاہتا پاکستان مسائل سے باہر آئے مودی بد نیت شخص ہے لیکن نواز شریف اپنی حکومت میں اس سے ملتے رہے شاید نواز شریف میں اتنی عقل ہی نہیں۔ سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا کہ فاٹا میں الیکشن ہونا تھے لیکن صوبائی حکومت کے کہنے پر بیس جولائی تک موخر ہوئے۔ بھارت میں 1991 تک الیکشن کمیشن کا ایک ممبر ہوتا تھا اب دو ہوتے ہیں لیکن پاکستان کے چار ممبر ہیں حالانکہ پاکستان بھارت کے مقابلے میں چھوٹا ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب دباﺅ میں نہیں۔ عمران خان کو چاہئے تھا تقریر کے لئے پی ٹی وی کا استعمال کرتے۔
شعیب سڈل کمیشن سربراہ کے لیے موزوں ترین ،کیریئربے داغ ،مخالف بھی معترف
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ کافی دنوںے یہ افواہ گرم ہے بلکہ ایک ایوننگر اخبار نے جو ہم دوپہر کے وقت شائع کرتے ہیں اس میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ اگلی باری شاہد خاقان عباسی یا اگلی گرفتاری شاہد خاقان عباسی، یہ گرفتاری ہوتی ہے یا نہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے ایل این جی سکینڈل میں ان کی سماعت ابھی باقاعدہ شروع نہیں ہوئی لیکن یہ کیس نیب میں آ چکا ہے اس لئے ہو سکتا ہے کہ کسی وقت گرفتاری بھی عمل میں آ جائے۔ گرفتاری ہوتی ہے یا نہیں یہ عجیب بات ہے کہ وہ خود کہہ رہے ہیں کہ یہ میرے لئے اعزاز کی بات ہے میرا خیال ہے کہ یہ توپہلی دفعہ کسی سیاستدان کے منہ سے سنا ہے کہ یہ گرفتاری میرے لئے اعزاز ہو گی۔ اس کا مطلب ہے کہ آج کل گرفتاریاں کوئی بڑا اعزاز کا معاملہ ہے تو سب سے بڑا اعزاز تو نوازشریف صاحب کو مل ہی چکا ہے کہ وہ جیل میں ہیں اور شہباز شریف صاحب نے اپنے وضاحتی بیان میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ میرے ذمہ اب تک کرپشن کا داغ نہیں ملا۔ ان کے بارے میں بھی اتنا کچھ جے آئی ٹی کہہ چکی ہے کہ ان کے مختلف کیسز شروع ہوئے تو ان کے بارے میں بہت کچھ نکل آئے گا۔ باقاعدہ کیس کی سماعت ہوتی ہے تو پھر بہت ساری باتیں نکل آتی ہیں۔ بہر حال ایک بات جو شاہد خاقان صاحب نے بھی کہا اور آج شاید شہباز شریف نے بھی کہا کہ ہم نے اپنے دور حکومت میں کبھی کوئی کام نہیں کیا جو غیر قانونی ہو۔ ابھی تو لوگوں میں یہ بات بھولی نہیں ہو گی اور میں اپنے دوست کامل علی آغا سے بھی کہوں گا ان کو بہت اچھی طرح یاد ہو گا کہ یہ جو جاتی امراءکو جانے والی سڑک کس طرح سے بنی تھی اور اس سڑک کے آخر تک سوئی گیس کیسے گئی تھی۔ سوئی گیس تو لاہور کے بہت سے علاقوں میں ابھی تک نہیں ہے لیکن اتنی دور تک جا کر نہر کے ساتھ اور اس وقت انہوں نے وہاں انہوں نے میڈیکل سٹی بنایا اور ظاہر یہ کیا کہ ہسپتال وہاں بن رہا ہے اس لئے گیس لے جانی ضروری ہے حالانکہ وہ ہسپتال اتنا ہی اچھا تھا تو شہباز شریف صاحب کے بھائی نوازشریف وہاں علاج کے لئے داخل ہو جاتے وہ تو ان کا اپنا بنایا ہوا ہے ان کے ڈاکٹرز بھی اپنے خود سلیکٹ کئے ہوئے ہیں اس وقت بھی بڑا شور مچا تھا اس چیز کا کہ ایک چھوٹی سی نہر کے کنارے دو رویہ سڑک بنی اور پھر اس کے آخر میں سوئی گیس اتنے دور فاصلے پر کوئی توقع کی جا سکتی ہے کہ کسی گاﺅں میں سوئی گیس لے جائی جائے صرف اس لئے کہ وہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کا کیمپ آفس تھا اب یہ سارے کھاتے تو کھلنے ہیں آج نہیں تو کل کسی نہ کسی وقت تو یہ چیزیں سامنے آنی ہیں۔ اور خاص طور پر عمران خان نے جس کمشن کا ذکر کیا ہے اس کا بڑا مذاق اڑایا جا رہا ہے یہ مذاق کی بات نہیں ہے ان کا یہ کہنا کہ 24 ہزار ارب وہ خرچ کئے گئے جو قرضے لے کر 24 ہزار ارب بہت بڑی رقم ہوتی ہے اور وہ یہ 24 گھنٹے میں اس کے بارے میں بھی اعلان آ گیا وہ کمیشن 24 گھنٹے کے اندر وہ قائم ہو جائے گا اس لئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہم میں سے ہر ایک کو اپنا حساب دینا ہے جو حکومت میں ہیں ان کو بھی دینا ہے حکومت میں جو آج ہیں وہ کل آنے والی حکومت کو دینا ہے اس لئے تیار کرتا ہے اس کا وہ حساب کتاب تو بہر حال دینا ہو گا۔ اگر آپ شہر سے 20 میل دور جگہ خرید لیتے ہیں اور وہاں ہیں ایک ہسپتال کے بہانے سوئی گیس اور بجلی بھی لے جاتے ہیں اور سارے ٹرانسفارمر بھی وہاں لے جاتے ہیں تو یہ بات تو نہیں ہے کہ اس پر سوال جواب کبھی نہیں ہو گا۔ دیکھیں شہباز شریف کیا بیان دیتے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا حقائق کیا ہیں جو اب تک سامنے آ چکے ہیں۔ میں نے نہیں کہا کہ کسی عدالت نے کوئی فیصلہ نہیں دیا۔ عدالت کو ابھی فیصلہ دینا ہے کوئی نہ کوئی عدالت ان سارے معاملات پر فیصلہ دے گی آج دے گی کل دے گی فیصلہ کب آئے گا اس کی تاریخ میں تو فرق ہو سکتا ہے بالآخر کسی عدالت میں تو یہ معاملات آئیں گے اور اس وقت جو عدالت فیصلہ دے گی وہ آخری ہو گا کسی بھی پارٹی یا شخص کا اپنے بارے میں یہ کہنا کہ کون مانتا ہے کہ میں غلط کام کرتا رہا ہوں کوئی بھی نہیں مانتا یہ تو ایک طے شدہ بات ہے۔ انہوں نے جو کچھ فرمایا اب ہمارے دوست خواجہ سعد رفیق جو تھے وہ جتنے یقین کے ساتھ یہ کہتے تھے لیکن جونہی ابتدائی طور پر ان کی بات چیت شروع ہوئی جتنا واضح طور پر یہ محسوس ہوا کہ پہلے آشیانہ ہاﺅسنگ سکیم کے لئے اور لوگوں کو کم قیمت گھر بنانے کے لئے جو زمین خریدی گئی آپ مجھے بتائیں دنیا کا کون سا قانون اجازت دیتا ہے اور آغا صاحب آپ یہ بات بتائیں کہ کون سا اجازت دیتا ہے کہ لوگوں کو بینی فٹ کے لئے سستے داموں حریدی ہوئی زمین جو ہے اس کو انہوں نے پیراگون ہاﺅسنگ سوسائٹی کو دے دیا جو ایک پرائیویٹ سوسائٹی ہے جس نے انچوں کے لحاظ سے وہ زمین تقسیم کرنی ہے جو کہ سرکاری ریٹ پر خریدی گئی تھی اس بنیاد پر کہ یہاں بے گھر لوگوں کے لئے گھر بنائے جانے ہیں۔ کیا یہ کوئی دھاندلی یا بددیانتی نہیں ہے۔ عمران خان صاحب نے کہا تھا کہ کمیشن 24 گھنٹے میں بنایا جائے گا وہ تو کرغیزستان چلے گئے شنگھائی کانفرنس میں شرکت کے لئے وہ اعلان کیا اعلان ہی رہ جائے گا یا کوئی پیش رفت ہوئی ہے۔
اعلیٰ سطحی کمیشن کی سربراہی کیلئے شعیب سڈل کا نام بطور مضبوط امیدوار لئے جانے پر خوشی اور اطمینان ہے ان کی دیانتداری کے مخالف بھی قائل ہیں۔ شعیب سڈل کو تو اگر وزیراعظم عمران بھی کہیں گے کہ فلاں کا نام نکال دو یا اسے بچاﺅ تو وہ کمیشن سربراہی چھوڑ دیں گے ان کی بات نہیں مانیں گے۔ ان کے پورے کیریئر میں دامن پر کوئی داغ نہیں ہے۔ بری پارٹیوں میں گروپ بندی چلتی رہتی ہے۔ ن لیگ میں مایوسی پھیل رہی ہے اس لئے چھینا چھپٹی شروع ہو گئی ہے۔ مریم نواز کا ظفر وال جاتے راستے میں کوئی استقبال نہیں کیا گیا، جلسے میں کچھ لوگوں نے نوازشریف مردہ باد کے نعرے لگائے ن لیگ میں خواجہ آصف گروپ پیچھے ہٹتا اور احسن اقبال گروپ زور پکڑتا دکھائی دیتا ہے۔
بچھو کے زہر میں ٹی بی اور دیگر جراثیم کے خلاف طاقتور مرکبات دریافت
اسٹینفورڈ(ویب ڈیسک)اگر میں آپ سے کہوں کہ اس وقت طبی اشیا میں بچھو اور سانپوں کے زہر سونے چاندی سے بھی قیمتی ہیں تو یہ غلط نہ ہوگا۔ گزشتہ دنوں بچھو کے زہر میں زبردست طبی فائدے اور علاج سامنے آئے ہیں۔ لیکن اب اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے ایک خاص طرح کے بچھو کے زہر میں ایسے مرکب (کمپاﺅنڈ) تلاش کئے ہیں جو اسٹاف (اسٹیفیلو کوکس) بیکٹیریا اور ٹی بی کے چراثیم کو ختم کرسکتا ہے۔اچھی بات یہ ہے کہ بچھو کے زہر کی قلیل مقدار کی صورت میں اس مرکب کو تجربہ گاہ میں بھی تیار کیا جاسکتا ہے۔ اس سے قبل ماہرین بچھوﺅں کے زہروں میں ملیریا کے خلاف جزو، کینسر کے علاج میں مددگار سالمات اور دماغی رسولیوں کی درست نشاندہی میں مدد لے چکے ہیں۔اب تازہ خبر یہ ہے کہ مشرقی میکسکو میں پایا جانے والا ایک قسم کا بچھو Diplocentrus meliciاپنے اندرایسے کیمیائی اجزا رکھتا ہے جو اسٹیفیلو کوکس خاندان سے تعلق رکھنے والے کئی اقسام کے بیکٹیریا کا قلع قمع کرسکتے ہیں کیونکہ اسٹاف بیکٹیریا کی 30 اقسام ہیں جس نے ہمیں پریشان کررکھا ہے۔ اس سے جلد کے انفیکشن، بخار، قے، سردی اور فلو جیسی کیفیات اور امراض پیدا ہوتے ہیں۔اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے کیمیاداں رچرڈ زیر نے صرف نصف مائیکرولیٹر زہر سے دو نئے سالمات اخذ کئے ہیں جو ’بینزوکینونس‘ کہلاتے ہیں۔ یہ مرکبات بیکٹیریا کے خلاف پہلے بھی مو¿ثر ثابت ہوچکے ہیں اور اب تجربہ گاہ میں بھی اسے مصنوعی طور پر بنایا جاسکتا ہے۔ڈاکٹر رچرڈ کہتے ہیں کہ کرہِ ارض پر سب سے مہنگی اشیا

میں بچھو کا زہر بھی شامل ہے جس کی ایک گیلن (پونے چار لیٹر) مقدار کی قیمت 3 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کے برابر ہے اور اگر اسے حاصل کرنے کے لیے صرف بچھو کی جانب دیکھا جائے تو پھر کسی کا علاج بھی ممکن نہ ہوگا۔پہلے زہر میں موجود مرکب لیبارٹری میں تیار کیا گیا اور اس کے بعد اسے چوہوں پر آزمایا گیا۔ ماہرین نے دیکھا کہ دونوں طرح کے بینزوکینونس نے اسٹائفلوکوکس اور ٹی بی کےایسے سخت جان بیکٹیریا کو بھی ختم کیا جو کسی بھی دوا سے ختم نہیں ہورہے تھے اور ہماری اینٹی بایوٹکس کو ناکارہ بنارہے تھے۔یہ تو ابتدائی حوصلہ افزا تحقیق ہے لیکن اس مرکب سے دوا کشید کرنے میں ابھی کئی سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ دوا کا سفر اسی طرح شروع ہوتا ہے۔
سینسروں نے ایک پُل کوزندہ تجربہ گاہ میں تبدیل کردیا
نیو ہیمپشائر(ویب ڈیسک) یونیورسٹی آف نیوہیمپشائر کے سائنس دانوں نے شہر کے منفرد اور یادگارپل (میموریل برج) پر جدید ترین سینسر اور آلات نصب کرکے اسے ایک زندہ لیبارٹری میں تبدیل کردیا۔سینسرز کی بدولت پل کی مضبوطی اور اطراف میں فضائی آلودگی کا جائزہ لیا جاسکتا ہے اور دیگر پہلوﺅں پر بھی نظر رکھی جاسکتی ہے۔ یونیورسٹی آف ہیمپشائر کے سائنس دانوں نے اس منصوبے کو ’لِونگ برِج پروجیکٹ‘ کا نام دیا ہے۔ اس منصوبے کے سربراہ ایرن بیل ہیں جو کہتے ہیں کہ ایک پل لوگوں کو آنے جانے کا بے جان راستہ ہوتا ہے لیکن ہم اسے مزید کارآمد بنانا چاہتے تھے۔ماہرین نے پل پر 40 سینسر لگائے ہیں جو اسے ایک موسمیاتی اسٹیشن میں تبدیل کرتے ہیں۔ سینسر ٹریفک کا حال، پل کی ساخت، موسم کا احوال، پانی کی سطح اور لہروں کی خبر بھی دیتے ہیں۔ جب یہ پل بحری جہازوں کے لیے کھلتا ہے تب بھی سینسر سارے معاملات کو نوٹ کرتے رہتے ہیں کیونکہ اس کے نیچے سے ایک مشہور دریا گزرتا ہے۔برج کا ڈیٹا حاصل کرکے اسے مستقبل کے پلوں کی تعمیر کےلیے بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ اس طرح یہ پل اطراف کے حالات کا بھی احوال سناتا رہتا ہے۔دوسری جانب ماہرین نے اس تیرتے ہوئے پلیٹ فارم پر پانی کے بہاﺅ سے کام کرنے والی پنکھڑی (ٹربائن) بھی نصب کی ہے جس کی بدولت مستقبل میں قابلِ تجدید ذریعے سے بجلی حاصل کرنے کے منصوبے میں مدد ملے گی۔اب ایک ایپ تیار کی جارہی ہے جس کی بدولت لوگ اس پل سے جمع ہونے والے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرسکیں گے۔


















