لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”کالم نگار“میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کارعلامہ صدیق اظہرنے کہا ہے کہ تاریخ میں مارٹن لوتھر کنگ کے جیسے قوم سے خطاب کہ”آئی ڈریم“تاریخ کا حصہ ہیں، ہر ماہ قوم سے سیاسی خطاب موضوع سخن نہیں۔اپوزیشن کی جانب سے بجٹ پاس نہ ہونے دینے کے بعد کچھ ملاقاتیں یکایک ہوئیں۔ ایم کیو ایم کیساتھ گورنر سندھ کی ملاقات میں وعدہ کیا گیا کہ ایم کیو ایم کا ایک اور وزیر لیا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان سے چوہدری شجاعت کی دلچسپ ملاقات میں بجٹ سے پہلے ق لیگ کے تحفظات سامنے آئے اورمزید وزارتیں مانگی گئیں۔ پیپلزپارٹی واحد جماعت تھی جس نے بھٹو کے عہد میں پاکستانی عوام کو بحالی دی، پہلی مرتبہ ڈیڑھ سال میں قومی بینک تین گنا ہوئے،پہلی مرتبہ میٹرک تک تعلیم ، 100والی دوائی جنرک نیم دیکر 10کی کی گئی۔آج پیپلز پارٹی اور آصف زرداری ذوالفقار علی بھٹو کے مجرم ہیں۔ آصف زرداری نے اپنی تقریرمیں این آر او مانگا ہے ، انہوں نے کہاکہ حساب کتاب چھوڑو کب تک حسا ب کرتے رہو گے۔ آصف زرداری کی جائیدار کی لسٹ پڑھ کر بندہ کانوں کو ہاتھ لگاتا ہے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے 30سال پاکستان میں خوفناک لوٹ مار کی ہے۔ہر سندھی کے چہرے پر غربت اور زرداری کی کرپشن کی داستان لکھی ہے۔میزبان تجزیہ کارآغا باقر نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان کے قوم سے خطاب کے پیچھے دھواں ،دھوئیں کے پیچھے آگ اور چوہدری شجاعت کی حکومت وقت سے ملاقات ہمیشہ معنی خیز ہوتی ہے۔ ماضی میں وزرائے اعظم بہت کم خطاب کرتے تھے۔ہو سکتا ہے پیپلز پارٹی کے 2008ئ کے این آر او کے پیچھے کوئی سیاسی مصلحت ہو۔پاکستان کرکٹ ٹیم نے پاکستان کی واحد تفریح کو زحمت میں تبدیل کر دیا ہے۔تجزیہ کار خالد چوہدری کا کہنا تھا کہ ماضی کی نسبت موجودہ وزیراعظم کے خطابوں کا بازار لگتا ہے۔ایوب خان نے اپنے دور کے 10سال میں ایک درجن خطاب بھی نہیں کیے تھے۔ عمران خان کا قوم سے خطاب کھودا پہاڑ نکلا چوہا کے مترادف تھا۔سابق حکومتوں کیطرح موجودہ حکومت میں بھی کرپشن جاری ہے۔ پیپلز پارٹی نے عوام کو کچھ نہ دیا ہومگر سیاسی شعور دیا ہے۔ آج پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے بی بی شہید کی سالگرہ کا کیک کاٹا جوسیاسی مفاہمت کی نشانی ہے۔پاکستان خطرناک صورتحال سے دوچار ہے، عوام کے لیے اس ملک میں کچھ نہیں ہے۔پاکستان کرکٹ ٹیم کا مستقبل ہے انا للہ وانا الیہ راجعون۔عمران خان نے کرکٹ کو بھی سیاست سمجھتے ہیں۔ آئندہ مستقبل میں ون ڈے کرکٹ بھی ختم ہو جائے گا۔کالم نگار منور انجم نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے قوم سے خطاب میں قوم کے لیے کوئی لائن نہیں تھی۔تمام کرپٹ لوگ انکے ساتھ حکومت میں بیٹھے ہیں۔ حکومت نے قانون سازی میں کوئی اصلاحات نہیں کیںجسکی وجہ اپوزیشن کو کونے میں لگانا ہے۔ موجودہ بجٹ عوام دوست نہیں ،تحریک انصاف اشرافیہ کی جماعت ہے۔ عمران خان کو سلیکٹ کر کے لایا گیا ہے جسکے پیچھے مقاصد کچھ اور ہیں۔ذوالفقار بھٹو اپنے فلسفے کیوجہ سے آج بھی زندہ ہیں۔آصف زرداری نے اسمبلی فلور پر کوئی این آر او نہیں مانگا انکی تقریر سے لگا آج بھی وہ صدر مملکت ہیں۔قوم کو عمران خان سے توقع تھی کہ کرکٹ کو بہتر سمت میں لیکر جائیں گے مگر قوم کو ٹیم نے مایوس کیا۔
Monthly Archives: June 2019
سری لنکا نے 232رنز بنائے جو اس گرﺅنڈ پر کافی مشکل سکور تھا: طاہر شاہ ، محسن حسن اصول پسند آدمی ہیں ان کی بات نہ سنی جائے تو عہدہ چھوڑ دیتے ہیں: ندیم شیرازی کی گگلی میں گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)چینل فائیوکے پروگرام گگلی میں ورلڈکپ 2019ئ کے حوالے سے خصوصی ٹرانسمیشن میں گفتگو کرتے ہوئے اسپورٹس ایکسپرٹ ڈاکٹر ندیم شیرازی نے کہا ہے کہ موجودہ کرکٹ میں 300سے کم اسکور کوئی اسکور نہیں سمجھا جاتا۔دنیائے کرکٹ کے بلے بازوں نے پاور پلے آنے کے بعد نیا انداز اپنایا ہے۔ محسن خان کی کرکٹ ٹیم سے علیحدگی کسی اور پوزیشن پر لانے کے لیے ہے تو یہ الگ صورتحال ہوگی تاہم اگر انہوں نے ناراض ہوکر یا احتجاجاً استعفیٰ دیا ہے تو بات اور طرف چلی جائے گی۔ محسن خان اصول پسند آدمی ہیں انکی بات نہ سنی جائے تو وہ ایسے سسٹم میں نہیں رہنا چاہیں گے۔ سابق فرسٹ کلاس کرکٹر طاہر شاہ کا کہنا تھا کہ سری لنکا کرکٹ ٹیم نے جس گرا?نڈ میں انگلینڈ کے خلاف 232اسکور کیا ہے وہاں اسکور کرنا بہت مشکل ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی کھلاڑیوں کی ایسی کوئی تربیت نہیں کی گئی اور یہاں بھی پی سی بی میں سرکار کی مداخلت ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کلب کرکٹ سمیت کرکٹ پر مارشل لائ لگایاہوا ہے جوکرکٹ کی تباہی کا سبب ہے۔کرکٹر عبدالحفیظ کا ورلڈ کپ میچ پر بیان دینے کے مجاز نہیں ہیں مگروہ دے رہے ہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کی فٹنس یہ ہے کہ پریکٹس کے دوران شعیب ملک سے دوڑ کر گیند نہیں پکڑی گئی۔ پاکستان کی فیلڈنگ بہت کمزور ہے، کھلاڑی کیچ پکڑنا نہیں جانتے۔پاکستان میں کرکٹ کوچز نے ایکدوسرے کے نام رکھے ہوئے ہیں، مدثر نذر کو م±د، ضیا الحق کو جیزی کہا جاتا ہے جو اخلاقی آداب و مذہب کے خلاف ہے۔کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی بھی اس پر حیران ہوتے ہیں۔پاکستان کرکٹ ٹیم میں گروپ بندی ہے ، شعیب ملک کو ٹیم سے نہیں نکالا جائے گا، پاکستان ٹیم کو جیتنے سے غرض نہیں پیسا کمانے سے ہے۔محمد حفیظ میرے ہاتھوں کا پلا ہے اسے میڈیا میں آنے کا خبط ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کو لاڈلے بچوں کی طرح زیادہ پیسہ دیکر بگاڑ دیا۔ پی سی بی واحد ادارہ ہے جو ڈھیروں پیسا ضائع کرتا ہے۔
اپوزیشن کے بجٹ نامنظور کے بیانیے کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے:لیاقت بلوچ، وزیراعظم، وزیرخارجہ نے بھارتی حکمرانوں کو مبارکباد کا خط لکھاتھا :جنرل امجد شعیب ، نوازشریف نے 6ہفتے علاج کی بجائے سیاست کی نذرکردیئے:عارف چوہدری کی چینل ۵ کے پروگرام ” نیوز ایٹ 7 “ میں گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)رہنما جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے چینل فائیو کے پروگرام نیوز ایٹ سیون میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بطوراپوزیشن پارٹی ن لیگ کی پالیسی حکومت کی مخالفت کرنا ہے۔ عمران خان کی حکومت ضرور ہے مگر بہت سارے ریاستی معاملات انکے اپنے دائرہ اختیار میں نہیں آتے وگرنہ ایکطرف عمران خان اپنے ممبران سے کہاکہ میں چوروں کو پروڈکشن آرڈر نہیں دوںگا۔عجیب بات ہے کہ حکومت اب چوروں ،ڈاکو?ں کیساتھ بیٹھ کر معیثت کے میثاق اور اصلاح کی بات کررہی ہے جو لاحاصل ہے۔ اپوزیشن کے بجٹ نا منظورکے بیانیے کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیئے تاہم حکومت کے اتحادیوں کی ناراضگی بجٹ منظوری کے لیے خطرناک ہوسکتی ہے۔جماعت اسلامی نے مہنگائی ، بے روزگاری اور آئی ایم ایف کی غلامی کیخلاف جدوجہد شروع کر دی ہے ، 23جون کو فیصل آباد میں عوامی مارچ ہوگا۔جماعت اسلامی ڈرائینگ روم کی سیاست نہیں کرتی۔ سینئر ماہر قانون عارف چوہدری نے کہا کہ نواز شریف نے ضمانت کے 6ہفتے علاج کی بجائے سیاست کی نظر کیے جسکی وجہ سے عدالت نے انکی مزید ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔عدالتیں کیس کے میرٹ پر فیصلہ کرتی ہیں۔ حمزہ شہباز کو عدالت نے اپنی صوابدید پر ضمانت دی، جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ نواز شریف کے وکلائ کو اندازہ ہو گیا تھاکہ میرٹ پر انہیں ضمانت ملنے کی کوئی راہ نہیں ہے۔آصف زرداری کیخلاف منی لانڈرنگ اور جعلی اکا?نٹس کیس کے تانے بانے اکٹھے کرنے میں بہت وقت لگا ہے ، یہ کیس اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا کیونکہ یہ کیس نیب پراسیکیوٹرز، حکومت اور آصف علی زرداری کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ اس کیس میں آصف علی زرداری کو کلین چٹ مل جاتی ہے تو انصاف کے پورے نظام پر سوالیہ نشان ہوگا۔ تجزیہ کار جنرل (ر)امجد شعیب نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے بھارتی وزیراعظم و وزیر خارجہ کو مبارکباد کا خط سفارتی آداب کے تحت لکھا تھا۔ بھارت نے خط کے جواب میں دنیا کی آنکھوںمیں دھول جھونکنے کے لیے لکھا ہے کہ ہم بھی امن اور خطے کی ترقی چاہتے ہیں مگر چاہتے ہیں مذاکرات کے لیے ماحول سازگار ہو اور دہشتگردی نہ ہو۔ بھارت اپنے پرانے موقف سے اب بھی نہیں ہٹا۔بھارتی پالیسی پاکستان دشمنی ہے، جسکی وجہ کشمیر، پانی، سرکریک اور پانی کا مسئلہ ہے جو بھارت اپنی مرضی کے مطابق حل کرنا چاہتا ہے۔پاکستان اپنے دفاع کے قابل ہے اسلیے وہ بھارت کی مرضی کے مطابق مسائل کا حل نہیں چاہتا۔ بھارت چاہتا ہے پاکستان کو اندرونی و معاشی طورپر اتنا کمزور کر دیا جائے کہ وہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل بھول جائے۔ پاکستان بھارت کی طرح اسے دہشتگرد ملک قرار دینے کی کوشش نہیں کرتاجیسا کہ بھارت نے پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کروانے کے لیے سرتوڑ کوشش کی ہے۔ امریکااپنی فوج اور بڑا بحری بیڑا لیکر آیا ہوا ہے اور عرب ممالک کو بتا رہا ہے کہ ہم یہاں آپکے تحفظ کے لیے آئے ہیںورنہ ایران آپکے تیل کے جہازوں کو تباہ کرتا رہے گا۔جبکہ تیل بردار جہازوں کی تباہی کا ذمہ دار ایران نہیں سی آئی اے اور امریکہ کی شیطانیت ہے۔امریکا اپنی فوج کا خرچہ بھی عرب ممالک سے لے گا مگر کام اپنے مقاصد کے لیے کرے گا
فواد چودھری کو کہنے کا حق حاصل نہیں کہ مقدمات نیب نہیں حکومت بنا رہی ہے : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ قرضوں کا اثر عوام پر پڑ رہا ہے جو بڑا تکلیف دہ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اب جو قرضے ہیں وہ واپس تو کرنے ہیں اور کسی نے کسی طرح سے ملک بھی چلانا ہے تو یہ جو جتنی بھی مشکلات آ رہی ہیں یہ ایک قدرتی امر ہے اور بہت ہی صبر و تحمل اور بہادری سے اس کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ چیئرمین ایف بی آر شبرزیدی کی طرف سے پریس کانفرنس کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ حکومت کو مزید عوام کو اعتماد میں لینا چاہئے اور جو اصل حقیقت بتا دینی چاہئے اور جتنی دیر یہ مشکلات چلیں گی لوگوں کو ان کا بھی ادراک ہونا چاہئے قومی اسمبلی کے اجلاس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ تو عام طور پر یہ سلسلہ چلے گا۔ ق لیگ کے وفد کی وزیراعظم سے ملاقات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ حلیف جماعتوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ انڈر سٹینڈنگ ہونی چاہئے اس لئے کہ بجٹ کے سیشن میں عام طور پر بہت سے لوگ ناراض ہوتے ہیں پھر جو ناراض ہوتے ہیں جو کسی نہ کسی طریقے سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں مسلم لیگ ق ایک بڑی حلیف جماعت ہے اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی ہیں اور چودھری شجاعت وہ وہاں گاڈ فادر کے طور پر مسلم لیگ ق کے موجود ہیں تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان کی ملاقات نہ صرف گاہے بگائے ہوتی رہنی چاہئے چودھری شجاعت ملک کے وزیراعظم رہے ہیں کافی حکومت میں وہ وزارتوں میں رہے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ ان تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ امیر قطر کی آمد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں جو معاشی بحران ہے اس کے پیش نظر قطر کی طرف 22 ارب کی پیش کش بڑی اہم ہے اتنی انویسٹمنٹ کے نتیجے میں ملازمتیں بھی آئیں گی اور کاروبار بھی کھلیں گے اس لئے کہ سعودی عرب نے جو تعداد بتائی تھی اب تک عملاً اتنی انویسٹمنٹ پاکستان میں آئی نہیں۔ اعلانات ضرور ہوئے تھے مگر شروعات نہیں ہوئی۔ اگر قطر سے سرمایہ کاری پہلے شروع ہو جائے تو فوری طور پر اس کے اثرات سامنے آ سکتتے ہیں ضیا شاہد نے کہا کہ پروڈکشن آرڈر ایک آئینی قدم ہے اور ایک قانونی سہولت ہے کہ اگر کوئی ممبر قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی جیل میں ہے تو بھی اسے بجٹ سیشن میں یا اسمبلی کی کارروائی میں حصہ لینے کے لئے پروڈکشن آرڈر دیا جائے لیکن یہ سوال یہ ہے کہ اس ممبر کو بھی تو ثابت کرنا پڑے گا کہ جو سہولت اسے دی گئی کیا اس سہولت کے پیش نظر اس نے بحث میں حصہ لیا وہ کوئی جو بھی زیر بحث ایشو چل رہا ہے اس میں اس نے کیا حصہ لیا اگر وہ بحث میں حصہ نہیں لیتا تو اگر وہ 5 یا 7 منٹ تقریر کر کے یا فرض کیجئے کہ 2، 2½ گھنٹے کی تقریر کر کے بیٹھ جاتا ہے تو پھر اس کے پروڈکشن آرڈر کا فائدہ تو تب ہے کہ ایک رکن اسمبلی کی حیثیت سے فائدہ اٹھایا جائے سوال یہ ہے کہ اس سے کیا فائدہ ہوا شہباز شریف کے آنے سے کیا فائدہ ہوا حمزہ شہباز کے آنے سے کیا فائدہ ہوا اور اب سعد رفیق کے آنے سے کیا فائدہ ہوا۔ سعد رفیق نے تو ابھی اسمبلی میں تقریر ہی نہیں کی فواد چودھری کا بیان سامنے آیا ہے کہ نحیب احتساب نہیں کر رہا احتساب ہم کر رہے ہیں یعنی حکومت بار بار کہہ رہی ہے کہ نیب احتساب کر رہی ہے ہمارا احتساب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نیب نے کہا ہے کہ فواد چودھری کے بیان کی مصدقہ نقول نکال کر ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اگر کوئی رکن اسمبلی جو پروڈکشن آرڈر پر اسمبلی میں آیا ہے تو اس نے بجٹ پر بحث کوئی تجاویز دی ہیں یا حصہ ڈالا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ اگر اس نے اپنی حکومت کی تعریفیں کر دی ہیں اور موجودہ حکومت کو برا بھلا کہہ دیا ہے اس کے بعد وہ چھپ کر بیٹھ گیا ہے باقی وقت میں وہ آرام کرتا ہے گپ شپ لگاتا ہے سیاسی جوڑ توڑ کرتا ہے تو یہ تو اس قانون کا منشائ نہیں ہے اور اس قانون کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ پروڈکشن آرڈر پر آئے ہوئے ارکان اسمبلی کو یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ ان کی آمد ضروری تھی۔ کیا سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت کا صرف ایک ہی سنتا رہ گیا تھا کہ چاند کے معاملے وک کھنگالا جائے کیا سائنس اور ٹیکنالوجی کی ضرورت اس لئے تھی کہ چاند کا معاملہ حل کیا جائے جب سے فواد چودھری صاحب سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر بنے ہیں انہوں نے کیا حصہ ڈالا ہے۔ میں نے آج سے کئی سال پہلے گوبر سے بجلی بنانے کے حوالے سے تجاویز دی تھیں۔ آج لوگ اصل چیزوں کی طرف توجہ نہیں دیتا۔ دوسری چیزوں کی طرف توجہ دی جاتی ہے۔ضیا شاہد نے کہا کہ نوازشریف کے بارے میں 3 دن سے ایک اور خبر آ رہی ہے کہ گھیرا مزید تنگ ہو گیا اور اس میں یہ آ گیا کہ ان پر سیاسی ملاقاتوں پر پابندی آ گئی۔ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے میں نے کبھی کسی قیدی کو سیاست کرتے نہیں دیکھا۔ یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ایک شخص کو سزا ہو چکی ہے اور سزا بھی اخلاقی جرم میں ہوتی ہے یعنی وہ سیاسی جرم میں نہیں ہوئی اخلاقی جرم میں ہوئی ہے اور سیاست کر رہے ہیں وہ ملاقات کر رہے ہیں وہ اپوزیشن کی تحریک چلانے کی باتیں کر رہے ہیں گھر کے لوگ مل رہے ہیں۔ ابھی جوان ہمارے دوست سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنائ اللہ ان کو ملنے گئے تھے بھئی وہ کسی مسئلے پر مشورہ کرنے گئے تھے۔ جب وہ اپنی پارٹی کے چیف نہیں رہے جب قانونی طور پر ان کو منع کر دیا گیا ہے آپ سیاست نہیں کر سکتے تو پھر ان سے کس بات کا مشورہ کر رہے ہیں۔
حسین اصفر کی سربراہی میں قرضوں کے تحقیقاتی کمیشن کا نوٹیفکیشن جاری
اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے قرضوں کی تحقیقات کرنے کے لیے بنائے گئے کمیشن کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ملکی قرضوں کی تحقیقات کرنے کے لیے بنائے گئے کمیشن کا نوٹیفکیشن جا ری کردیا ہے۔ نوٹی فکیشن کے مطابق کمیشن کے سربراہ حسین اصغر ہوں گے، اور کمیشن میں نیب ، ایف آئی اے ، ایف بی آر، آئی ایس آئی، اسٹیٹ بینک، ایس ای سی پی، ایف آئی اے اور آڈیٹر جنرل سمیت وزارت خزانہ کے اسپیشل سیکرٹری بھی کمیشن کے رکن ہوں گے۔نوٹی فکیشن کے مطابق کمیشن 2008 سے 2018 تک قرضوں میں 25 ہزار ارب روپے کے اضافے کی تحقیقات کرے گا، اور ان ادوار میں میگا پراجیکٹس، ٹھیکوں کی تفصیلات جمع کی جائیں گی جب کہ کمیشن اعلی حکام اور ان کے خاندان کی جانب سے قومی خزانے کو ذاتی استعمال میں لانے کی بھی تحقیقات کرے گا۔ اور نوٹی فکیشن کے مطابق کمیشن کو فارنزک آڈیٹرز اور عالمی سطح کے ماہرین کو شامل کرنے کا اختیار ہوگا۔
زنگ آلود ریوالور 2 کروڑ روپے سے زائد میں نیلام
امریکہ (ویب ڈیسک)شہرہ آفاق ڈچ مصور وین خوخ کی جانب سے خودکشی میں استعمال کیا جانے والا زنگ آلود ریوالور ریکارڈ قیمت میں 2 کروڑ روپے سے زائد میں فروخت کردیا گیا۔وین خوخ نے مسلسل ذہنی مسائل اور بیماریوں سے لڑنے کے بعد تنگ آکر 1890 میں خود کو اسی پستول سے زخمی کرلیا تھا اور وہ کچھ دن بعد زخموں کے تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے

تھے۔وین خوخ جنہیں وین گوف اور وان گوگ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے، نیدرلینڈ میں 1853 کو پیدا ہوئے اور محض 37 سال میں چل بسے۔وین خوخ کو اپنی زندگی میں ہی شہرت ملی تھی تاہم موت کے بعد وہ انتہائی مشہور ہوئے اور ان کی پینٹنگز ریکارڈ قیمت میں فروخت ہونے لگیں۔وین خوخ نے زیادہ تر قدرتی خوبصورتی کی شاہکار پینٹنگز اور خاکے بنائے، تاہم انہوں نے نسوانی خوبصورتی کو چھیڑا۔ایک پادری کے گھر میں آنکھ کھولنے والے وین خوخ نے اپنی زندگی میں ناکام محبت، ناکام ملازم اور ناکام مذہبی استاد کا کیریئر دیکھنے کے بعد

ایک مصور بننے کا فیصلہ کیا اور انہوں نے 1870 سے قبل ہی مصوری شروع کردی اور انتہائی کم عمری میں شہرت حاصل کی۔وین خوخ نے سب سے بہترین پینٹنگزاور خاکے زندگی کے آخری پانچ سالوں میں بنائے، جنہوں نے انہیں اپنی زندگی میں ہی مابعد تاثیراتی دور کا سب سے معتبر مصور بنا دیا تھا۔وین خوخ سے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ڈپریشن کی بیماری میں مبتلا تھے اور ان کی اس بیماری کا اثر ان کے فن پاروں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔وین خوخ کو 20 ویں صدی کے معتبر ترین مصوروں میں شمار کیا جاتا ہے، ان کی ’ستاروں بھری رات‘ کے نام سے بنائی گئی پینٹنگ کو لیانارڈو ڈاونچی کی ’مونا لیزا‘ کی پینٹنگ کے بعد سب سے

بہترین پینٹنگ مانا جاتا ہے۔وین خوخ نے 1890 میں مسلسل ذہنی مسائل اور پریشانیوں سے تنگ آکر ایک پستول سے خود کو شدید زخمی کردیا تھا اور وہ چند بعد چل بسے تھے۔ان کی زندگی اور خودکشی سے متعلق پہلی بار مفصل معلومات ان کے مالکن مکان کی بیٹی نے 1930 کے بعد لکھی تھی۔انہوں نے ہی وین خوخ کی جانب سے استعمال کیا گیا پستول سنبھال کر رکھا تھا، جسے اب فرانسیسی دارالحکومت کے ایک آکشن ہاو¿س نے فروخت کے لیے پیش کیا تھا۔خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق وین خوخ کی جانب سے خود کشی میں استعمال کیے گئے زنگ آلود پستول کو ایک لاکھ 45 ہزار 700 امریکی ڈالر یعنی پاکستانی 2 کروڑ روپے سے زائد میں فروخت کیا گیا۔ریکارڈ قیمت میں فروخت کیا گیا پستول زنگ آلود ہوچکا تھا اور اس کا ہینڈل اور ٹریگر بھی متاثر ہوچکا تھا۔ریوالور کو فروخت کے لیے پیش کرنے والے آکشنر نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ایک نامعلوم شخص نے فون پر پستول کی سب سے زیادہ بولی دے کر اسے خرید لیا۔آکشنر کا کہنا تھا کہ اگرچہ فروخت ہونے والی چیز پینٹنگ یا فن پارہ نہیں تھی اور ایک ہتھیار تھا، جسے ایک عظیم انسان کی موت واقع ہوئی تھی، تاہم پھر بھی یہ پستول ایک تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔انہوں نے خوشگوار حیرانگی کا اظہار کیا کہ ریوالورآکشن ہاﺅس کے اندازوں سے دگنی قیمت پر فروخت ہوا۔
ٹرمپ نے ایران پر فوجی حملے کا حکم دینے کے بعد واپس لے لیا
نیویارک سٹی(ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر فوجی کارروائی کے اپنے ابتدائی حکم پر یو ٹرن لیتے ہوئے فوجی کارروائی روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے امریکی مسلح افواج کو ایران کو منہ توڑ جوان دینے کے اپنے ابتدائی حکم کو واپس لے لیا ہے۔ جس میں ایران کے ریڈار اور میزائل بیٹریزکو نشانہ بنانے کا حکم دیا گیا تھا۔نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ امریکی افواج نے اپنے صدر کے حکم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تمام تیاریاں مکمل کرلی تھیں، جنگی طیارے فضا میں طبل جنگ بجا رہے تھے اور جنگی بحری بیڑے نے پوزیشن سنبھال لی تھیں کہ صدر نے حکم واپس لے لیا۔نیویارک ٹائمز مزید رقم طراز ہے کہ ایک اہم سیکیورٹی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مزید بتایا کہ فوجی کارروائی کا حکم واپس لینے کے مراسلے میں کوئی وجہ تحریر نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی آئندہ کی حکمت عملی سے متعلق کچھ آگاہ کیا گیا ہے۔ڈرون مار گرانے کو ایران کی ’بہت بڑی غلطی‘ قرار دیکر فوجی کارروائی کا فوری حکم دینے کے سخت موقف کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں قدرے نرم لہجہ اختیار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ڈرون غیر مسلح اور بغیر پائلٹ کا تھا جسے ایران نے غلطی سے مار گرایا۔واضح رہے کہ ایران نے مبینہ طور پر آبنائے ہرمز کے قریب امریکی ڈرون مار گرایا تھا۔ پاسداران انقلاب نے امریکی ڈرون آر کیو 4 گلوبل ہاک ایران کے صوبہ ہرمزگان کے علاقے کوہ مبارک میں گرایا۔
نشے میں دھت ڈرائیور نے گاڑی فٹ پاتھ پر سوئے افراد پر چڑھادی، ایک شخص ہلاک
کراچی(ویب ڈیسک) کورنگی میں نشے میں دھت ڈرائیور سے گاڑی بے قابو ہونے کے باعث فٹ پاتھ پر سوئے افراد پر چڑھ گئی جس کے باعث ایک معمرشخص جاں بحق جبکہ 7 افراد زخمی ہوگئے۔زمان ٹاﺅن کے علاقے میں انڈس اسپتال کے قریب سیاہ رنگ کی ٹویوٹا کرولا گاڑی تیز رفتاری کے باعث ڈرائیور سے بے قابو ہوکر رکشے کو روندتے ہوئے فٹ پاتھ پر سوئے افراد پر چڑھ گئی جس کے نتیجے میں 8 افراد زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ایک 50 سالہ شخص دوران علاج دم توڑ گیا۔پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے گاڑی کے ڈرائیور عامر شہزاد ولد محمد رفیع ، اس کے دو دوست تنویر ولد نصیر احمد اور بلال بھٹی ولد محمد عرفان بھٹی کو گرفتار کرکے تھانے منتقل کردیا جبکہ ایک دوست طلحہ موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ایس ایچ او زمان ٹاﺅن بابر حمید نے ذرائع کو بتایا کہ گرفتار افراد لانڈھی کے رہائشی ہیں جو واقعے کے وقت نشے میں دھت تھے اور لانڈھی سے کسی دوست کی شادی میں شرکت کرنے کے بعد کلفٹن جا رہے تھے۔ متوفی کے اہلخانہ کے ملنے کے بعد مقدمہ درج کے باضابطہ تفتیش شروع کی جائے گی۔ڈرائیور عامر شہزاد نے بتایا کہ دوست کی شادی میں شرکت کرنے کے بعد کلفٹن کھانا کھانے جا رہا تھا کہ راستے میں دودھ والے کو بچاتے ہوئے گاڑی فٹ پاتھ پر چڑھ گئی، انھوں نے گاڑی رینٹ اے کار سے لی تھی اور وہ خود گارمنٹس فیکٹری میں ملازمت کرتا ہے۔
مسلمان شخص سے محبت کرنے پرگھروالوں نے زندگی جہنم بنادی، بہن ہرتھیک روشن
ممبئی(ویب ڈیسک) بالی ووڈ اداکارہرتھیک روشن کی بہن سنینا روشن نے اپنے بھائی اور گھر والوں پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمان شخص سے محبت کی وجہ سے نہ صرف گھروالوں نے میری زندگی جہنم بنادی بلکہ میرے والد نے مجھ پر ہاتھ بھی اٹھایا۔ناموربالی ووڈ ہدایت کارراکیش روشن کی بیٹی اور سپر اسٹار ہرتھیک روشن کی بہن سنینا روشن نے اپنے گھروالوں کی حقیقت بتاتے ہوئے روشن فیملی کے ایسے رازوں سے پردہ اٹھایا ہے جن کی وجہ سے ان کی پوری فیملی میں طوفان آگیا ہے۔ سنینا روشن نے حال ہی میں انٹرویوکے دوران اپنی فیملی کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے کہا کہ انہیں مسلمان لڑکے سے محبت کی سزا دی جارہی ہے۔سنینا روشن نے بتاتے ہوئے کہا کہ انہیں گزشتہ برس مسلمان صحافی روہیل امین سے محبت ہوگئی تھی، لیکن میرے والد روہیل کے مذہب کی وجہ سے اس محبت کے خلاف تھے۔ مسلمان شخص سے محبت کہ وجہ سے نہ صرف میرے والد نے مجھے تھپڑمارا بلکہ روہیل کو دہشتگرد قراردیا جو کہ بالکل جھوٹ ہے، کیونکہ اگر روہیل دہشتگرد ہوتا تو اس طرح آزادانہ نہ گھوم رہا ہوتا اور نہ ہی میڈیا میں کام کررہا ہوتا۔
“صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں “:وزیر اطلاعات صمصام بخاری کی اپوزیشن پر تنقید
لاہور(ویب ڈیسک)فوج اور اداروں پر تنقید کرنے والوں کو عوام قبول نہیں کریں گے ملکی سا لمیت اور تحفظ اسی فوج کے باعث ممکن ہوا ہے گالیاں دینے کی سیاست بری طرح مسترد ہو چکی ہے ہر معاملے میں فوج کو بدنام کرنے کی پالیسی ہر گز نہیں چلے گی فوج کے بعد اب عدلیہ پر تنقید کے نشتر چلائے جائیں گے نظریات کے نام پر ہونیوالی سیاست کے در پردہ ذاتی مقاصد ہیں نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کو پہلے ایک دوسرے سے معافی مانگنی چاہیے عوام کی یادداشت اتنی کمزور نہیں کہ ان جماعتوں کا ماضی بھول جائیں پیپلز پارٹی نے نواز لیگ کی سیاسی بیعت کر لی ہے پی پی پی اور ن لیگ کا یک نکاتی ایجنڈہ کرپشن کا تحفظ ہے جمہوریت دو جماعتوں کے اتحاد کا نہیں بلکہ رویے کا نام ہے من پسند فیصلوں کو تسلیم اور بصورت دیگر واویلا کیوں کیا جاتا ہے؟”دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبادیکھ”وزیر اطلاعات صمصام علی بخاری کا اپوزیشن کو مشورہ
”ٹوائے اسٹوری“سیریز کی چوتھی فلم نمائش کیلئے پیش کردی گئی
لاس اینجلس(ویب ڈیسک) مشہور اینی میٹڈ فلم سیریز ”ٹوائے اسٹوری“ کی چوتھی فلم نمائش کے لئے پیش کردی گئی ہے۔اینی میٹڈ فلموں کے شائقین کا انتظار ختم ہوا، مشہور اینی میٹڈ فلم سیریز ”ٹوائے اسٹوری“ کی چوتھی فلم ریلیز کردی گئی۔ فلم میں شرارتی کردار ”و±ڈی“ ایک مرتبہ پھر اپنی نٹ کھٹ حرکتوں سے مداحوں کو لطف اندوز کررہا ہے۔کامیڈی فلم ”ٹوائے اسٹوری4“ میں ”فورکی“ نامی ایک نیا کھلونا و±ڈی کے گروپ میں شامل ہوتا ہے لیکن وہ اپنے ساتھی کھلونوں کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا۔ اسی لئے گروپ کو چھوڑ کر کہیں چلا جاتا ہے۔ ادھر وڈی جب اپنے نئے دوست کی تلاش میں نکلتا ہے تو کہانی ایک دلچسپ موڑ لیتی ہے۔نامور ہالی ووڈ اداکارکینو ریوز بھی ایڈونچر سے بھرپور فلم میں اپنی آواز کا جادو جگا رہے ہیں۔
عورتوں کی کامیابی مردوں کو ہضم نہیں ہوتی
کراچی(ویب ڈیسک) معروف پاکستانی اداکارہ نادیہ خان نے کہا ہے کہ مرد عورتوں کو لے کر اِن سکیور ہوتے ہیں اور عورتوں کی کامیابی مردوں کو ہضم نہیں ہوتی۔تفصیلات کے مطابق معروف پاکستانی اداکارہ نادیہ خان نے گزشتہ روز اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’ہر لمحہ پرجوش‘ میں شرکت کی اور وسیم بادامی کے معصومانہ سوالات کا سامنا کیا۔نادیہ خان نے کہا کہ عورت کامیاب ہو تو مرد اور عورتوں کے درمیان فرق پیدا ہوجاتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ شادی کی کامیابی میں نصیب کا عمل دخل بھی ہوتا ہے، ایسا بھی ہوتا ہے کہ پہلی شادی کامیاب نہیں ہوتی اس کے بعد دوسری شادی کامیابی سے ہم کنار ہوتی ہے۔مارننگ شوز کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نادیہ خان نے کہا کہ میں نے جب مارننگ شو کیا اس میں کوئی پروگرام ایسا نہیں تھا جو متنازع ہو، میں نے کبھی اگلے روز معافی نہیں مانگی۔ان کا کہنا تھا کہ میرے شو کے خلاف کوئی مہم نہیں چلائی گئی تھی، میرے مارننگ شو میں سب لوگ آئے تھے اور جو لوگ رہ گئے تھے وہ بعد میں شو کا حصہ بنے۔نادیہ خان نے کہا کہ اگر میرے مارننگ شو میں کسی کو کوئی بات بری لگی ہو تو ان کی مرضی ہے اس میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔ایک سوال کے جواب میں نادیہ خان نے کہا کہ آج کل مارننگ شوز کہاں ہیں، ختم ہورہے ہیں، مارننگ شوز ختم نہیں ہونے چاہئیں، صبح ٹی وی دیکھنے بیٹھتے ہیں تو بہت کم آپشن ہوتا ہے پہلے ہر چینل پر شو ہوتا تھا مزہ آتا تھا کہیں نہ کہیں اپنی پسند کی چیز مل جاتی تھی۔نادیہ خان نے اعتراف کیا کہ پہلے ان کا رویہ کافی خراب تھا مگر اس میں تبدیلی آگئی ہے، پروڈیوسر جب ہوتے ہیں تو رویہ مختلف ہوتا ہے جب آپ اداکاری کررہے ہوں تو اس کو انجوائے کرتے ہیں۔واضح رہے کہ نادیہ خان نے 2003 میں اے آر وائی ڈیجیٹل پر مارننگ شو کی میزبانی کی تھی جس کا نام بریک فاسٹ نادیہ خان کے ساتھ تھا۔
بھارتی کوششیں ناکام؛ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں جانے سے بچ گیا
اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان ممکنہ طور پر ایف اے ٹی ایف (فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس) کی بلیک لسٹ میں جانے سے بچ گیا۔بھارت کی پاکستان کو معاشی نقصان پہنچانے کی کوششیں ناکام ہوگئی۔ پاکستان ایف اے ٹی ایف (فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس) کی بلیک لسٹ سے بچ گیا ہے۔ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ سے بچانے کیلئے تین اہم دوست ممالک ترکی، چین اور ملائیشیا کی حمایت حاصل کرلی ہے اور بھارت کا راستہ روکنے کیلئے جارحانہ سفارتکاری اپنائی گئی۔چند روز قبل ایف اے ٹی ایف اجلاس میں بھارت کی پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی قرارداد چین، ترکی اور ملائیشیا نے روک دی تھی۔ موجودہ اجلاس میں پاکستان کے بلیک لسٹ میں جانے کے امکانات کم ہیں۔ اگر پاکستان کو اس اجلاس میں بلیک لسٹ کیا جاتا ہے تواقتصادی پابندیاں اس اجلاس میں نہیں لگائی جائیں گی۔فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے یا نہ ڈالنے سے متعلق حتمی اعلان اکتوبر میں کیا جائے گا۔پاکستان ایف اے ٹی ایف کی نظرمیں جون 2018 سے ہے، جب ملک کے مالی نظام اورسیکیورٹی میکانزم کی تشخیص کے بعد دہشت گردی کی مالی معاونت اورمنی لانڈرنگ کے خدشات کی بنا پر اسے ‘گرے لسٹ’ میں ڈالا گیا تھا۔


















