لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ جب کوئی شخص جیل میں ہو تو قانونی طور پر اس کا علاج پرائیویٹ ڈاکٹر نہیں کر سکتا۔ خدشہ ہوتا ہے کہ علاج غلط نہ ہو جائے کیونکہ ذمہ داری، جیل حکام کی ہوتی ہے حکومت کی ہوتی ہے۔ ذاتی معالج سے مشورہ تو ضرور لیا جا سکتا ہے لیکن اس کو علاج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ صرف نوازشریف کے لئے نہیں ہے یہ گاندھی اور نہرو اور مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی اور مولانا حسرت موہانی اور مولانا ظفر علی خان کے زمانے سے یہ ایک رجیم جاری ہے وقت کے ساتھ ساتھ کہ ان کا علاج سرکاری ڈاکٹرز ہی کریں گے زیادہ سے زیادہ ان کے ذاتی معالج کو مشورے کے لئے شامل کر سکتے ہیں۔ نوازشریف کو ہسپتال داخل کروا دیا گیا ہے اس وقت ہی مجھے اندازہ تھا کہ ان کو ہارٹ کی کوئی تکلیف نہیں نکلے گی کیونکہ اس سے پہلے بھی ڈاکٹر یہی کہہ چکے تھے چنانچہ وہی ہوا کہ ڈاکٹروں نے کلیر قرار دیا کہ ان کا ہارٹ بالکل صحیح ہے اور یہ ان کے ہسپتال کے سیکشن سے بھی ظاہر ہوتا تھا سروسز ہسپتال میں ہارٹ کا کوئی وارڈ نہیں ہے ہارٹ کے کوئی سپیشلسٹ ڈاکٹر سروسز ہسپتال میں نہیں البتہ اس کے فوراً بعد صرف ایک دیوار ہے درمیان میں انسٹی ٹیوٹ ااف کارڈیا لوجی جو ہے ہارٹ کے سپیشل امراض کا جو سب سے بڑا پنجاب کا ہسپتال ہے وہ اس کے ساتھ ہی ہے اگر نوازشریف صاحب کو دل کی تکلیف ہوتی تو اس کو پھر اس میں داخل کیا جاتا سروسز ہسپتال میں نہ داخل کیا جاتا ہم نے کل خبریں کے صفحات پر سروسز ہسپتال کے ایم ایس کا ایک انٹرویو بھی چھاپا تھا کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہمارے پاس نہ کوئی ہارٹ کا مریض ہے نہ ہی ہمارے پاس کوئی سپیشلسٹ ہے اس لئے ہمارے ہسپتال میں ہارٹ کا کوئی علاج نہیں ہوتا لیکن اس کے باوجود آ گئے نواز شریف صاحب ان کو کمرہ مل گیا بڑی اچھی بات ہے۔ بڑی کیئر کرنی چاہئے اچھی بات ہے لیکن وہی ہوا جس کا خطرہ تھا کہ سوائے پتھری کے ان کے گردے میں نکلی ہے اس کے سوا ان کو کوئی تکلیف نہیں ہے اور جہاں تک گردے میں پتھری کا تعلق ہے یہ اتنا عام مرض ہے کہ میرا خیال ہے اس فلور پر جتنے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ان کے چیک کروائے جائیں تو ہر چار پانچ بندوں میں سے ایک بندے کے گردے میں پتھری نکلے گی۔ سب سے دلچسپ ریمارکس تو شیخ رشید صاحب کے ہیں انہوں نے کہا کہ نوازشریف لال حویلی آ جائے بجائے ہسپتال داخل ہونے کے میں ان کو کسی بندے سے دم کروا دوں گا اور وہ پتھری نکل جائے گی۔ آج کا اس کا ماڈرن طریقہ علاج اس کے لئے آپریشن ضروری نہیں ہے لیزر سے بھی پتھری نکالی جا سکتی ہے۔ اب نوازشریف کے سارے حامیوں کی خواہش ہو گی کہ کسی طرح سے دل کا مرض نکل آئے وہ شریف آدمی نہیں بھی بیمار یہ بیمار کر کے چھوڑیں گے۔ ابھی اس پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ نہیں تھی تو دل کی تکلیف لیکن سرکاری ڈاکٹروں نے ہیرا پھیری کی ہے۔ یہ سیاسی پارٹیوں کی اپنی حکمت عملی ہوتی ہے کہ کسی بات کو بہت بڑا کر کے پیش کرنا اگر ان کے لیڈر ہیں اور ان کے گردے میں پتھری نکل آتی ہے اور تکلیف ثابت بھی ہو گئی تو ظاہر وہ کہیں گے کہ ان کے پرسنل معالج کا مشورہ یہ ہے کہ لندن میں علاج ہو۔
مودی کے دورہ جموں و کشمیر اور وہاں پوری وادی میں ہڑتال اور پوری وادی سراپا احتجاج ہے۔ نریندر مودی کا 5 جنوری سے پہلے وہاں جانا بالکل اسی طرح سے جس طرح سے جلتی کو آگ دکھانے والی بات ہے۔ لہٰذا اس لئے لوگ پہلے ہی مودی کی شکل سے بیزار ہیں اور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مودی مسلمانوں کا دشمن ہے۔ کشمیر کی آزادی کا دشمن ہے۔ 4 تاریخ کو آ کر ایک دفعہ چلے جانا حالانکہ اس کی ضرورت نہیں تھی وہ 5 تاریخ کے بعد بھی آ سکتا تھا گویا یہ دوبارہ معاملے کو گرم کرنے والی بات تھی۔ مقبوضہ کشمیر میں جو آگ لگی ہوئی ہے اور پورے ملک میں احتجاج ہو رہا ہے اس کا منظر بھی لوگوں کے سامنے آ گیا۔ آزادی کشمیر کے لئے تڑپ کو آپ کس نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ پوری دنیا ہر جگہ پر چھوٹی سے چھوٹی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر احتجاج ہوتے ہیں لیکن کشمیر میں بھارت کر رہا ہے۔ اس پر سارے یورپین ممالک کیوں خاموش ہیں حتیٰ کہ برطانیہ میں اگر پاکستانیوں اور کشمیریوں نے اس کے خلاف احتجاج کرنا چاہا تو باقاعدہ مطالبہ ہوا بھارتی سفارتخانے کی طرف سے یہ جناب اس کی اجازت نہ دی جائے لیکن یہ بھارتی دباﺅ کے باوجود اس کو نہیں روک سکا۔ اور اس کے اثرات عالمی دنیا میں مرتب نہیں ہوتے اور عالمی ضمیر جو ہے وہ جاگ نہیں رہا۔وزیراعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر پر کھل کر بات کی ہے۔ اس سے پہلے حکومتیں نرم پالیسی اختیار کرتی تھیں۔ مسلہ کشمیر کے حل کے بغیر بھارت سے تعلقات نارمل نہیں ہو سکتے۔ دنیا میں اس وقت فضا بن رہی ہے۔ پاکستان کو دوبارہ سلامتی کونسل جا کر مسئلہ اٹھانا چاہئے اور بتانا چاہئے کہ بھارت نے شملہ معاہدے کے مطابق دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کے حل کی جانب کوئی توجہ نہیں دی۔ سلامتی کونسل اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرے اور کشمیریوں کو انصاف فراہم کرے۔ہیلتھ کارڈ کی فراہمی حکومت کا ایک بڑا اقدام ہے۔ اگلے فیز میں پنجاب میں ایک کروڑ لوگوں کو کارڈ دیا جائے گا جس سے غریبوں کو علاج کی سہولت حاصل ہو گی۔ عمران خان کا کیریئر بتاتا ہے کہ اس نے جس کام کا بھی بیڑا اٹھایا اسے پورا کیا۔ 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کا کام بھی شروع ہو جائے گا۔
بلاول بھٹو نے شیخ رشید کے حوالے سے غلط زبان استعمال کی جس پر شیخ رشید نے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ میرے خیال میں بلاول کو معذرت کرنی چاہئے۔ سیاست میں ایسی زبان چل نکلی تو پھر سب کیلئے بڑی مشکل ہو جائے گی۔ تمام سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ سیاست میں بداخلاقی کو روکیں اور ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کریں بلکہ سختی سے روکیں۔
ماڈل ٹاﺅن سانحہ کے بعد ہی اگر مظلوم خاندان کو انصاف ملتا تو ساہیوال واقعہ نہ ہوتا۔ ہمارے یہاں انصاف ملنے کا عمل بہت سست ہے۔ یہاں کیسز کو تاخیر کا شکار کیا جاتا ہے جس سے جرائم پیشہ افراد کے حوصلے بڑھتے ہیں۔ جرائم کی سزا اگر جلد اور کڑی نہ دی جائے تو ان میں کمی کے بجائے بڑھوتری آتی ہے۔
سینئر تجزیہ کار شمع جونیجو نے کہاکہ 80 اور90 کی دہائی میں محترمہ بینظیر بھٹو اور نصرت بھٹو کیخلاف جو گندی زبان استعمال ہوتی تھی اس میں شیخ رشید کا بڑا کردار تھا جسکی بعد میں کئی بار انہوں نے معافی بھی مانگی تاہم اب پھر انہوں نے ویسی ہی باتیں کرنا شروع کر دی ہیں۔ میں نے بلاول کو ٹویٹ کیا کہ انہیں ایسا بیان دینا زیب نہیں دیتا کیونکہ ان کی اور شیخ رشید کی پرورش میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ جواب میں بلاول نے جواب دیا کہ مجھے احساس ہے کہ غلطی ہو گئی ہے۔ جب بلاول نے اپنی غلطی کا احساس کر لیا ہے تو پھر شیخ رشید کا یہ کہنا کہ معافی مانگے مناسب نہیں ہے۔ قومی اسمبلی میں اخلاقیات کے حوالے سے کمیٹی بنائیگئی ہے جس میں ایسے ممبران ہیں جن کو خود پتہ نہیں اخلاقیات کس چڑیا کا نام ہے وہ کیا کریں گے۔ ہم سب کو اخلاقیات کا دائرہ خود سے شروع کرنا ہو گا اس سے ہی بہتری ممکن ہے۔
Monthly Archives: February 2019
پرنٹ میڈیا کیلئے کسی خصوصی قانون سازی کی ضرورت نہیں: چیئرمین پریس کونسل
کراچی (پ ر) پریس کونسل آف پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر صلاح الدین مینگل نے (سی پی این ای) کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر جبار خٹک کی سربراہی میں سی پی این ای اراکین سے سی پی این ای کے مرکزی سیکرٹریٹ کراچی میں ملاقات کی، جس میں سی پی این ای کے جوائنٹ سیکرٹری عامر محمود، فنانس سیکرٹری حامد حسین عابدی، سینئر ارکین طاہر نجمی، غلام نبی چانڈیو، مقصود یوسفی، سعید خاور، مظفر اعجاز، عبدالرحمان منگریو، بشیر احمد میمن، محمود عالم خالد، محمد طاہر اور زاہدہ عباسی نے شرکت کی۔ پی سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر صلاح الدین مینگل نے اس موقع پر کہا کہ صحافی برادری نے ہمیشہ اخبارات کی آزادی کے لئے قربانیاں دی ہیں اور آپ لوگ موجودہ صورتحال کو گہری نظروں سے دیکھ رہے ہیں جبکہ حالات دگرگوں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے ہر فورم پر کہا ہے کہ الیکٹرانک بشمول سوشل میڈیا کا انضمام تو سمجھ میں آتا ہے لیکن پرنٹ میڈیا کی اپنی الگ اور مسلمہ شناخت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرنٹ میڈیا کےلئے قوانین موجود ہیں اور اس کے لئے کسی خصوصی قوانین یا قانون سازی کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے پہلی حکومت کو بھی مشورہ دیا تھا کہ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کی قانون سازی اور فیصلہ سازی کے لئے اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میںلیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈان لیکس کے معاملے پر پریس کونسل آف پاکستان نے متفقہ قرارداد منظور کی تھی کہ اخبارات اور اخباری صنعت کے کارکنان کے خلاف پریس کونسل آرڈیننس کے مطابق کسی اور فورم میں کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ اس موقع پر سی پی این ای کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر جبار خٹک نے کہا کہ آزادی اظہار اور آزادی صحافت پر کسی قدغن کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پرنٹ میڈیا نے مجوزہ ریگولیٹری اتھارٹی کے تصور کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ حکومت کے میڈیا کے لئے امتیازی قوانین اور قانون سازی کی وجہ سے پرنٹ میڈیا کے حلقوں میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ میڈیا کو درپیش سنگین مسائل کو مزید پیچیدہ کرنے کی بجائے مسائل کو حل کرنے کے لئے فی الفور ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔ سی پی این ای کے جوائنٹ سیکرٹری عامر محمود نے کہا کہ جناب صلاح الدین مینگل صاحب پریس کونسل میں صحافیوں کے تحفظ کے لئے کام کرتے رہے ہیں اور اس حوالے سے ان کو مختلف اداروں کی جانب سے دباو¿ کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ انہوںنے پریس کونسل کو مو¿ثر طور پر چلا کر گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔
افغانستان میں حالات کی تبدیلی کا اثرمسئلہ کشمیر پر ضرور پڑے گا:کامران گورایہ ، نواز دور میں بھارت سے دوستیاں ‘ کلبھوشن کے معاملہ کودبانے کی کوشش کی گئی:ارشد یاسین ، جب تک بڑی طاقتوں پر دباﺅ نہیں ڈالا جائیگا‘ کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوگا : رحمت علی، تحریک انصاف کی طرح ماضی کی حکومتوں نے بھی ہیلتھ کارڈ شروع کئے تھے لیکن عمل نہیں کیا گیا:میاں افضل ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) کالم نگاررحمت علی رازی نے کہا ہے کہ کشمیر میں بھارت نے ظلم بربریت کا جو بازار گرم کر رکھا ہے اس سے پوری دنیا باخبر ہے۔ چینل فائیو کے پروگروام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب تک بڑی طاقتوں پر پریشر نہیں ڈالا جائے گا کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ پاکستان کو سفارتی محاذ کو بھی فعال کرنا ہو گا۔ مولانا فضل الرحمن کو جن کے والد پاکستان کو نہیں مانتے تھے کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنائے رکھا۔ میرے خیال میں اب بھارت بھی تھک گیا ہے۔ ہیلتھ کارڈ میں موجودہ حکومت مخلص ہے تو اچھی بات ہے۔ انہوں نے کہا میڈیکل بورڈ نے کہا ہے نوازشریف کو کچھ بھی نہیں ۔ میرے، خیال میں تو سب باہر جانے کے بہانے ہیں۔ کالم نگار و نمائندہ خصوصی میاں افضل نے کہا کہ مودی کی کشمیر آمد پر وادی میں کرفیو لگا دیا گیا۔کشمیر کا معاملہ بہت اہم ہے اس کے حل کے بغیر پاک بھارت امن ممکن نہیں۔ تحریک انصاف کی طرح ماضی کی حکومتوں نے بھی ہیلتھ کارڈ شروع کیا تھا لیکن عمل نہیں کیا گیا۔ڈاکٹر یاسمین راشد کو پنجاب کے حوالے سے ٹاسک دیا گیا ہے۔ کالم نگارکامران گورایہ نے کہا کہ افغانستان کی حالات کی تبدیلی کا اثر کشمیر پر پڑے گا اور بھارت پر اثر پڑے گا کہ مسئلہ کشمیر کا صرف اور صرف بات چیت ہی حل ہے جیسا کے امریکہ نے افغانستان میں مذاکرات کی اہمیت کو تسلیم کیا۔کشمیر کا حل اب نکالنا ہی پڑے گا کیونکہ سب کو پتہ ہے بھارت کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کئے ہوئے ہیں۔مشرف دور میں کشمیر پر کافی پیشرفت ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے بھی لگتا ہے نواز شریف کی صحت ٹھیک نہیں میری اطلاع کے مطابق ان کو دل کی اور گردے کی تکلیف ہے شاید بیماری کی بنا پر ان کی ضمانت بھی ہو جائے۔انہوں نے کہا چیئرمین پی سی بی کا سفارشی ہونا افسوسناک ہے۔ وزیراعظم کرکٹ کی بہتری کے لئے غور کریں۔ کالم نگار ارشد یاسین نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا واحد حل یہ ہے کشمیریوں کو حق خودارادیت دیا جائے یہی کشمیری بھی چاہتے ہیں پاکستان بھی یہی چاہتا ہے۔ لگتا ہے کشمیر کا مسئلہ عمران خان کے دور میں حل ہو جائے گا کیونکہ نواز دور میں بھارت سے دوستیاں پالی جاتی رہیں۔ نوازشریف دور میں کلبھوشن کے معاملے کو دبایا گیا۔کشمیری اب صرف آزادی چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا پرویزالٰہی دور میں سرکاری ہسپتالوں میں ادویات مفت ملتی تھیں۔ نوازشریف جیل کی صعوبتیں برداشت نہیں کر سکتے میرے خیال میں شریف برادران باہر چلے جائیں گے جو عمران خان کی حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ وزیراعظم عمران کے ہوتے کرکٹ کا یہ حال نہیں ہونا چاہئے۔
پنجاب حکومت نے نوجوانوں کیلئے قرض پروگرام کو حتمی شکل دیدی
لاہور(ویب ڈیسک) پنجاب حکومت نے نوجوانوں کے لیے قرض پروگرام کو حتمی شکل دے دی۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزارت صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال نے کہا ہے کہ پروگرام کے تحت ایک لاکھ سے لے کر 30 لاکھ روپے تک 6 ارب روپے مالیت کے قرضے دیئے جائیں گے خواتین کو قرض پروگرام میں خصوصی رعایت حاصل ہو گی۔وزیر صنعت نے کہا کہ نوجوان لڑکوں کے لیے 80 فیصد کاسٹ حکومت اور 20 فیصد وہ خود برداشت کریں گے جب کہ لڑکیوں کے لیے 90 فیصد حکومت اور 10 فیصد خواتین برداشت کریں گے، خواتین کو قرض کے لیے گریس پیریڈ 10 مہینے جب کہ لڑکوں کے لیئے 6 ماہ ہوگا۔میاں اسلم اقبال نے کہا کہ آپریشنل کاسٹ لڑکوں کے لیے 7 فیصد، لڑکیوں کے لیے 6 فیصد ہوگی اور یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل تکنیکی سہولتوں سے لیس طلبا کو قرضے دیئے جائیں گے، وز یراعظم عمران خان کو پروگرام سے متعلق بریفنگ دے کر اصولی منظوری حاصل کرلی ہے۔
نواز شریف کی طبیعت نہیں، نیت خراب ہے: فیاض الحسن چوہان
لاہور (ویب ڈیسک) صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی طبیعت نہیں، نیت خراب ہے۔ صرف گردے میں معمولی سی پتھری سامنے آئی ہے۔الحمرا ہال لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ تمام رپورٹس سے ثابت ہو گیا ہے کہ نواز شریف کو ماضی قریب میں کوئی ہارٹ اٹیک نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ تین میڈیکل بورڈز بنائے گئے ہیں لیکن انہیں تسلی نہیں ہو رہی۔ کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا، وہ بھی پتھری کی صورت میں صوبائی وزیر اطلاعات نے سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کو پڑھا لکھا جاہل قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ زرداری اور شہباز کی محبت ہر کسی کو دکھائی دے رہی ہے۔ نواز شریف کو ہم نے نہیں سپریم کورٹ نے چور قرار دیا ہے۔ رانا ثنا اللہ ہفتے میں تین بار فواد چودھری کو گالیاں نکالتے ہیں۔
اسٹینڈرز اینڈ پورز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کم کردی
واشنگٹن(ویب ڈیسک) اسٹینڈرز اینڈ پورز گلوبل ایجنسی نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ ’بی‘ سے ’منفی بی‘ کردی ہے۔مالیاتی امور سے متعلق خدمات فراہم کرنے والے بین الاقوامی ادارے اسٹینڈرز اینڈ پورز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ ’بی‘ سے ’منفی بی‘ کردی تاہم ایجنسی کی جانب سے پاکستان کی درجہ بندی مستحکم کے طور پر برقرار رکھی گئی ہے، ریٹنگ ایجنسی کے مطابق پاکستان کی معاشی نشونما اور مالیاتی دباﺅ کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ایجنسی کے مطابق پاکستان نے دوست ممالک سے مالی مدد حاصل کی ہے لیکن مالی عدم توازن مزید بڑھ جائے گا۔ ایس اینڈ پی کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات سے اصلاحات کے نتائج توقع کے مطابق سودمند نہیں ہوں گے۔
امریکا میں سردی کی لہرکا ’ تصویری منجمد نامہ‘
اوہایو(ویب ڈیس) امریکا، برطانیہ اوردیگر علاقوں میں سردی اور برفباری کے ایسے نئے ریکارڈز قائم ہوئے ہیں جس کے بعد عوام نے انہیں ’آرماگیڈن‘ کی طرح ’سرما گیڈن‘ کا نام دیا ہے۔صرف برطانیہ میں ہی اس وقت 2000ءسے زائد اسکول بند ہیں ۔ دوسری جانب امریکا میں نارتھ ڈکوٹا سے اوہایوتک غیر معمولی سردی نے ہر شعبہ حیات کو شدید متاثر کیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شدید موسم کی یہ کیفیت آب و ہوا میں تبدیلی کو ظاہر کررہی ہے۔اس ضمن میں امریکی عوام نے دلچسپ اور حیرت انگیز تصاویر جاری کی ہیں جس میں سردی کی شدت کو دیکھ کر سوشل میڈیا پر لوگوں نے حیرت کا اظہار کیا ہے۔شکاگو سے پرواز کے دوران جھیل مشی گن کی ایک تصویر جس میں جھیل جم کر پتھر کی مانند دکھائی دے رہی ہے۔شکاگو میں ہی ایک خاتون نے جب گاڑی کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی تو یہ منظر دیکھنے میں آیا۔برطانیہ اور امریکا میں سردی کی شدید لہر بے گھرافراد کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں اور امریکا میں ایک بے گھر شخص ایک بنچ پر بیٹھا ہے۔مرغی کے انڈے جو جم کر پتھر بن چکے ہیں۔یوں اس طرح نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔
تھرمل تصاویر کے ذریعے جلنے کے زخم کے علاج میں معاونت
کینیڈا(ویب ڈیسک) دنیا بھرکے ایمرجنسی روم میں جب جلنے والے مریضوں کو لایا جاتا ہے تو پہلے ڈاکٹر جلنے کی زخموں کی نوعیت، اس کی گہرائی اور پھیلاﺅ کو دیکھتے ہوئے اس کے جلنے کے درجوں کا اندازہ لگاتے ہیں جس میں وقت لگتا ہے لیکن ڈیجیٹل انفراریڈ تھرمو گرافی سے یہ کام بہت آسان ہوسکتا ہے۔کینیڈا کی مِک گِل یونیورسٹی کے ماہر ہوزے لوئیس رامریز گارشیا لیونا اور ان کے ساتھیوں نے پی ایل او ایس ون میں ایک رپورٹ شائع کرائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کسی تکلیف کے بغیر ڈیجیٹل انفراریڈ تھرموگرافی کے ذریعے فوری طور پر جلنے کے زخم کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔اس ٹیکنالوجی میں جسم سے خارج ہونے والی حرارت کو دیکھا جاتا ہے۔ انسانی جسم میں حرارت کا انحصار خون کے بہاﺅ پر ہوتا ہے۔ اس طرح زخم کے اندر خون کے بہاﺅ اور موجودگی کو دیکھنے کے لیے یہ ایک بہتر طریقہ ہے۔اس طرح بار بار ماہرین تھرمل امیجنگ کے ذریعے معلوم کرسکتے ہیں کہ آیا زخم ٹھیک ہو بھی رہا ہے یا مزید خراب ہورہا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ جلنے کے بدترین عمل میں خون کی رگیں شدید متاثر ہوتی ہیں۔ اس طرح خون کے ذریعے اہم اجزا آگے نہیں پہنچ پاتے اور یوں لاکھ کوششوں کے باوجود بھی زخم درست نہیں ہوپاتا۔ماہرین نے اس ڈیجیٹل انفراریڈ تھرمو گرافی کے ذریعے زخم کے بھرنے کی پیشگوئی کا ایک طریقہ بھی وضع کیا ہے۔ اس میں زخم کے تھرموگرام لے کر اس کا موازنہ صحت مند جلد سے کیا جاتا ہے۔ زخم کے تھرموگرام کی تبدیلیاں اس وقت تک دیکھی جاتی ہیں جب تک وہ صحتمند مند جلد کی طرح کا عکس نہیں دیتا۔اس کے بعد کئی تھرموگرام (جلد کے جلنے کی تصاویر) کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے جانچا جاتا ہے اور صرف درجہ حرارت کی تبدیلی سے ہی زخم کے بھرنے کی پیشگوئی کی گئی جس میں 90 فیصد درستی دیکھی گئی۔مِک گِل ماہرین کے مطابق یہ نظام مریض کے لیے ایک بہترین پیشگوئی کرتا ہے۔ اس کی بدولت زخم میں مردہ حصے بھی شناخت کیے جاسکتے ہیں یہاں تک کہ علاج کے طریقے اور مریض کے اسپتال میں رہنے کی مدت کی پیشگوئی بھی ممکن ہے۔
عظیم مصنفہ بانوقدسیہ کو ہم سے جدا ہوئے 2 سال بیت گئے
لاہور(ویب ڈیسک) اردو ادب کی عظیم مصنفہ بانو قدسیہ کو ہم سے جدا ہوئے 2 سال بیت گئے۔معروف ادیبہ اورافسانہ نگار بانو قدسیہ 28 نومبر 1928 کو بھارت کے مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئیں، انہوں نے ایف اے اسلامیہ کالج لاہوراور بی اے کنیئرڈ کالج سے کیا جب کہ 1949 میں گریجویشن کا امتحان پاس کیا اوروہ اس وقت پاکستان ہجرت کرچکی تھیں۔ بانوقدسیہ نے گورنمنٹ کالج لاہورمیں ایم اے اردو میں داخلہ لیا اوریہیں اشفاق احمد ان کے کلاس فیلو تھے اور دونوں نے دسمبر 1956 میں شادی کرلی۔مصنفہ بانو قدسیہ نے 27 ناول اورکہانیاں تحریر کی ہیں جس میں ”راجہ گدھ“، ”امربیل“، ”بازگشت“، ”آدھی بات“، ”دوسرا دروازہ“، ”تمثیل“،” حاصل گھاٹ“ اور ”توجہ کی طالب “ قابل ذکر ہیں جب کہ ان کے ناول ”راجہ گدھ“اور ”آدھی بات“ کو کلاسک کا درجہ حاصل ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لیے بھی بہت سے ڈرامے لکھے ہیں۔بانو قدسیہ کی ادب کے شعبے میں گراں قدرخدمات پرحکومت پاکستان کی جانب سے انہیں ستارہ امتیاز اورہلال امتیاز سے نوازا گیا۔ وہ 4 فروری 2017ءکو اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔
کنگ خان کا ’کافی ود کرن شو‘ کا حصہ بننے سے انکار
ممبئی(ویب ڈیسک) بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان نے بالی ووڈ کے مایہ نازپروڈیوسرکرن جوہر کے مشہور پروگرام ’کافی ود کرن‘ کا حصہ بننے سے انکارکردیا۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بالی ووڈ کے کنگ شاہ رخ جوپروڈیوسرکرن جوہرکے مشہورومعروف پروگرام ’کافی ود کرن‘ کے ہرسیزن کا حصہ بنتے تھے اور پھر اپنی کسی نہ کسی بات اورانکشاف سے خبروں کی زینت بھی بنے رہتے تھے، اس بار انہوں نے شو کا حصہ بننے سے انکار کردیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق شاہ رخ کا شو کا حصہ نہ بننے کی دو وجوہات ہیں۔ اداکارلگاتارفلاپ فلمیں دینے کے بعد اب نہیں چاہتے ہیں کہ وہ شو کا حصہ بنیں اورکسی بھی تنازعہ کا شکار ہوجائیں، وہ چاہتے ہیں وہ بس اب اپنے کرئیرپرتوجہ دیں اور آنے والی فلموں کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں۔دوسری جانب شاہ رخ خان اس لیے بھی کافی ود کرن کا حصہ بننا نہیں چاہتے کیونکہ ان کے اورشو کے میزبان کرن جوہر کے درمیان کچھ باتوں پررسہ کشی چل رہی ہے اورمیڈیا رپورٹس کے مطابق وہ دونوں ہی نہیں چاہتے کہ معاملہ حل ہو
محمد سمیع پی ایس ایل 4 کے لیے اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان مقرر
اسلام آباد(ویب ڈیسک) فاسٹ بولر محمد سمیع کو پی ایس ایل 4 کے لیے اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان مقرر کیا گیا ہے۔محمد سمیع کو قیادت سپرد کرنے کا اعلان اسلام آباد یونائیٹڈ کے مالک علی نقوی نے پریس کانفرنس کے دوران دکھائے گئے ویڈیو پیغام میں کیا۔ شاداب خان کو پہلے ہی نائب کپتان مقرر کیا جا چکا ہے۔اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے محمد سمیع نے کہا کہ کپتان کی ذمہ داری کا اہل سمجھنے والی فرنچائز انتظامیہ کا شکر گزار ہوں، پوری کوشش کروں گا کہ اسلام آباد یونائیٹڈ کی کارکردگی کا معیار پی ایس ایل 4 میں بھی برقرار رہے۔محمد سمیع نے کہا کہ قومی ٹیم کی نمائندگی کرنے والے شاداب خان کے نائب کپتان ہونے سے ان پر کوئی دباﺅ نہیں ہوگا، آل راﺅنڈر کی معاونت سے ٹیم کو فتوحات کی راہ پر گامزن رکھنے کی کوشش کروں گا، شاداب خان کو مستقبل کے لیے تیار کر رہے ہیں، نوجوان لیگ سپنر نے آنے والے وقت میں قیادت سنبھالنا ہے۔
امریکی ریاست کیلی فورنیا میں طیارہ گر کر تباہ، 2 افراد ہلاک
کیلی فورنیا(ویب ڈیسک ) امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر یوربا لنڈا میں چھوٹا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک اور 2 زخمی ہوگئے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر یوربا لنڈا میں چھوٹا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک اور 2 زخمی ہوگئے، طیارہ رہائشی علاقے میں گرا جس کے باعث 2 گھروں میں آگ لگ گئی جس کو فائر بریگیڈ نے فوراً بجھادیا جب کہ زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔فیڈرل ایوی ایشن حکام کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے طیارے سیسنا فور ون فور اے میں صرف پائلٹ سوار تھا، لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں جب کہ طیارہ گرنے کی وجوہات سامنے نہیں آسکیں۔
افغانستان میں انتخابات اقوام متحدہ کے زیر نگرانی کرانے کی تجویز
اسلام آباد(ویب ڈیسک) امریکا اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا اگلا دورآئندہ ماہ دوحا میں ہونے کی توقع ہے۔ آئندہ مرحلے میں افغانستان میں دو عشروں سے جاری جنگ کے خاتمے کی تجاویز پر مزید اور تفصیلی غور ہوگا جب کہ افغانستان میں انتخابات افغان حکومت کے بجائے اقوام متحدہ کے زیر نگرانی کرانے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔گذشتہ ماہ قطر میں ہونے والے مذاکرات میں افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے جہاں امید پیدا ہوئی وہاں اندیشوں نے بھی جنم لیا۔ دوحا میں 6 روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کے حوالے سے امریکا اور طالبان دونوں فریقین نے ’ پیش رفت‘ ہونے کا اعتراف کیا تھا۔ان مذاکرات کی بنیاد دو مرکزی نکات پر تھی پہلا امریکی افواج کے انخلا کی ٹائم لائن اور دوسرا یہ کہ مغرب اور دیگر ممالک کے خلاف دہشت گرد گروپ افغان سرزمین دوبارہ استعمال نہ کرسکیں تاہم باخبر حکام کے مطابق مذاکرات میں فریقین کے درمیان امن معاہدے طے پاجانے کی صورت میں افغانستان میں اگلے انتخابات اقوام متحدہ کے تحت کرائے جانے کی تجویز بھی زیرغور رہی۔ پاکستان بھی بند دروازے کے پیچھے ہونے والے مذاکرات کا حصہ تھا جس کی کوششوں سے دیرینہ دشمن مذاکرات کی میز پر بیٹھے تھے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں امن معاہدے کے تمام پہلوو¿ں پر مشتمل ایک ’وسیع تر فریم ورک‘ زیربحث رہا۔واضح رہے کہ طالبان اب تک امن معاہدے کے لیے جاری کوششوں میں افغان حکومت کے ساتھ بیٹھنے سے انکاری رہے ہیں تاہم حکام کے مطابق اگلے مرحلے میں طالبان اور افغان حکومت سمیت تمام گروپ عشروں کی خونریزی کے بعد اپنے ملک کا مستقبل طے کرنے کے لیے سرجوڑ کر بیٹھ سکتے ہیں۔یہ خبریں بھی گردش کرتی رہی ہیں کہ تمام اسٹیک ہولڈرز اگر کسی معاہدے پر پہنچ جاتے ہیں تو پھر افغانستان میں عبوری حکومت بھی قائم ہوسکتی ہے تاہم سب سے اہم سوال پھر بھی یہ ہوگا کہ آیا افغان طالبان یا کابل کی موجودہ انتظامیہ طاقت اور اختیار میں شراکت داری پر آمادہ ہوتے ہیں یا نہیں؟دریں اثنا مذاکرات میں جس انداز سے پیش رفت ہوئی ہے اس سے افغان صدر اشرف غنی بظاہر پریشان نظر آتے ہیں۔ ان کی انتظامیہ کو اس وقت سائیڈلائن کردیا گیا جب کہ وہ رواں برس جولائی میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد مزید پانچ سال کے لیے منصب صدارت سنبھالنے کے متمنی ہیں تاہم مشاہدہ کاروں کو یقین ہے کہ صدارتی انتخابات کا مستقبل جاری امن مذاکرات سے وابستہ ہے۔امریکا اور دیگر اسٹیک ہولڈرز جولائی سے قبل امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے حق میں ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ طالبان اس انتخاب میں حصہ لیں گے تاہم ذرائع کے مطابق طالبان نے انتخابی عمل کا حصہ بننے میں کوئی دل چسپی ظاہر نہیں کی اس کے بجائے دوحا میں ہونے والے مذاکرات میں طالبان کے نمائندے نے امریکا پر اپنا یہ موقف واضح کیا تھا کہ موجودہ نظام کے تحت منصفانہ انتخابات نہیں ہوسکتے۔طالبان کے تحفظات دور کرنے کے لیے اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی اداروں کی نگرانی میں انتخابات کروانے کی تجویز دی گئی تھی۔ طالبان پر اثر رکھنے والے ممالک ان پر انتخابی عمل کا حصہ بننے کے لیے دباو¿ ڈالتے رہے ہیں تاہم طالبان کی جانب سے انھیں واضح اشارے نہیں ملے۔مذاکراتی عمل میں طالبان کی نمائندگی کرنے والے شیرعباس ستنکزئی نے اس بات پر زور دیا کہ طالبان، افغان حکومت کو تسلیم نہیں کرتے اور توقع رکھتے ہیں کہ امن معاہدے کے بعد افغان فوج کو تحلیل کردیا جائے۔


















