ٹیکس وصولی کے احکامات، سینما مالکان کو پریشانی لاحق

لاہور( ویب ڈیسک ) سینما گھروں سے ٹیکس وصول کرنے کے احکامات نے سینما مالکان کی پریشانی میں اضافہ کردیا ہے۔لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے سینما گھروں سے ٹیکس وصول کرنے کے احکامات نے سینما مالکان کی پریشانی میں اضافہ کردیا ہے۔ دو سال سے ٹیکس کی چھوٹ میں رعایت کی مدت ختم ہونے کے باوجود سابقہ اور موجودہ حکومت کی جانب سے کوئی ایکشن نہ لیا گیا۔دوسری جانب امپورٹ قوانین کے تحت لائی جانے والی فلموں نے جہاں زبردست بزنس کیا وہیں پاکستانی فلموں کا کاروبار بھی بھرپور رہا لیکن ٹیکس ڈیپارٹمنٹ حکومت کی جانب سے احکامات کا انتظار کرتا رہا اور اس طرح قومی خزانے کو بھاری نقصان ہوا۔اس صورتحال پر شوبز کے سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ عدالت کا فیصلہ ملکی مفاد میں ہے۔ غیر ملکی فلموں کے مقابلے میں پاکستانی فلموں کو وقت نہیں دیا گیا۔سینما گھروں کے منتظمین نے صرف اپنی جیبیں بھریں اور اس سے پاکستانی فلم اور اس سے وابستہ کسی شخص کو کوئی فائدہ نہ پہنخا۔ ایسے میں عدالتی فیصلہ سامنے آنے پر پاکستانی فلمساز یقیننا خوش ہونگے اور اب ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کو بھی بقایاجات وصول کرکے قومی خزانے میں رقم ڈالنا ہوگی کیونکہ دو سال کے دوران لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپیکا قومی خزانہ کو نقصان پہنچا ہے۔عدالتی فیصلہ سامنے آنے کے بعد سینما انتظامیہ فوری حرکت میں آگئی ہے اور اب انھوں نے سابقہ ریکارڈ کو چھپانے اور قومی خزانے میں رقم جمع نہ کروانے کیلیے قانونی ماہرین سے صلا ح مشورے شروع کر دیے ہیں۔

سلمان خان نئی مشکل میں پھنس گئے

ممبئی (ویب ڈیسک )بالی ووڈ کے دبنگ اداکار سلمان خان ابھی پچھلے تنازعات سے باہر نکلے نہیں تھے کہ ان پر ایک نئی مصیبت آپڑی۔بالی ووڈ کے سلطان سلمان خان اکثر مختلف تنازعات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ابھی ان پر سے پچھلے مقدمات ختم نہیں ہوئے تھے کہ ایک اورنئی مصیبت میں گرفتار ہوگئے۔ دراصل سلومیاں کی ممبئی کے علاقے کھار میں جائیداد ہے جو انہوں نے ایک فوڈ کمپنی کو کرائے پر دے رکھی ہے۔ اس جائیداد میں ایک بہت پرانا درخت لگا ہوا ہے فوڈ کمپنی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ درخت پارکنگ ایریا میں موجود ہے جس کی وجہ سے آنے جانے والوں کو پریشانی کاسامنا کرنا پڑتا ہے، اس کے علاوہ یہاں فائر انجن بھی ہے لہٰذا کسی بھی ایمر جنسی کی صورت میں یہ درخت رکاوٹ بن سکتاہے اسلیے فوڈ کمپنی انتظامیہ اس درخت کو کاٹنا چاہتی ہے۔دوسری طرف تحفظ ماحولیات کے کارکن اس درخت کو کاٹنے کے خلاف ہیں ان کا کہنا ہے کہ درخت ایمرجنسی صورتحال میں نہیں بلکہ عمارت کی سجاوٹ میں رکاوٹ بن رہا ہے اور انتظامیہ اس درخت کو اپنے فائدے کے لیے کاٹنا چاہتی ہے لہٰذا انہوں نے اس اقدام پر اعتراض اٹھاتے ہوئے برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن(بی ایم سی) کے پاس شکایت درج کرائی ہے۔ بی ایم سی اس مسئلے پر ایک ہفتے کے اندر اپنا فیصلہ سنائے گی۔وسری جانب اس معاملے پر فی الحال اداکار سلمان خان کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیاہے۔ واضح رہے کہ سلمان خان سے قبل اداکار شاہ رخ خان بھی گزشتہ برس اسی طرح کے تنازع کا شکار ہوچکے ہیں۔ بی ایم سی کی جانب سے ان کی کمپنی ریڈ چلیز انٹرٹنمنٹ کے آفس میں موجود کیفے ٹیریا کو مسمار کردیاگیاتھا۔

ون ڈے میں ٹیم کمبی نیشن بہتر ،ویسٹ انڈیز سے اچھا مقابلہ ہوگا :بسمہ

لاہور (سپورٹس رپورٹر)پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز کے بعد ویمنز ون ڈے سیریز (آج)جمعرات سے شروع ہوگی۔آئی سی سی ویمنز چیمپئن شپ کے سلسلے میں ون ڈے سیریز کا پہلا میچ جمعرات کو دبئی کے انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، دوسرا مقابلہ اسی وینیو پر ہفتہ اور تیسرا پیر کو ہوگا۔ٹرافی کی تقریب رونمائی کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے پاکستان ویمنز ٹیم کی کپتان بسمہ معروف نے کہا کہ کراچی میں کھیلی جانے والی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں مجموعی طور پر گرین شرٹس نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، آخری میچ جیتنے سے پلیئرز کے اعتماد میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، ون ڈے فارمیٹ میں پاکستان کا کمبی نیشن زیادہ بہتر ہے، ٹیم سیریز کا فاتحانہ آغاز کرنے کے لئے پرعزم ہے، اسپنرز ہماری اصل طاقت ہیں، پیسرز ایمن انور، ڈیانا بیگ اور عالیہ ریاض بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں، اس شعبے میں مزید بہتری لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ویسٹ انڈین کپتان سٹیفنی ٹیلر نے کہا کہ اچھی تیاری کے ساتھ میدان میں اتر رہے ہیں، مہمان پلیئرز اچھی فارم میں ہیں، سیریز جیتنے کی پوری کوشش کریں گے۔

بھارت ٹی 20میں بد ترین شکست سے دو چار ،کیویز 80رنز سے فاتح

ویلنگٹن(اے پی پی) ٹم سیفرٹ کی جارحانہ بیٹنگ کی بدولت نیوزی لینڈ نے بھارت کو پہلے ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کرکٹ میچ میں یکطرفہ مقابلے کے بعد 80 رنز سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی۔ بھارتی ٹیم کو ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کرکٹ کی تاریخ میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں رنز کے اعتبار سے بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے قبل بھارتی ٹیم کو 2010ءمیں آسٹریلیا کے ہاتھوں 49 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جو کہ اس کی کسی بھی ٹیم کے ہاتھوں رنز کے اعتبار سے بڑی شکست تھی۔ میزبان ٹیم نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 219 رنز بنائے، سیفرٹ نے 6 چھکوں اور 7 چوکوں کی مدد سے 84 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی، جواب میں بھارتی ٹیم ہدف کے تعاقب میں 19.2 اوورز میں 139 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ کیویز باﺅلرز کی نپی تلی باﺅلنگ کے سامنے بھارت کا کوئی بھی کھلاڑی زیادہ دیر تک وکٹ پر نہ ٹھہر سکا، 7 کھلاڑی دوہرا ہندسہ عبور کرنے میں ناکام رہے، دھونی 39 رنز بنا کر نمایاں رہے، ساﺅتھی نے 3 کھلاڑیوں کو آﺅٹ کیا، سیفرٹ کو عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرنے پر میچ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ دیا گیا۔ بدھ کو ویلنگٹن میں کھیلے گئے پہلے ٹی ٹونٹی میچ میں بھارتی قائد روہت شرما نے ٹاس جیت کر پہلے باﺅلرز کو آزمانے کا فیصلہ کیا جو ان کیلئے مہنگا ثابت ہوا، میزبان ٹیم نے پہلے کھیلے ہوئے مقررہ اوورز میں 6 وکٹوں پر 219 رنز کا مجموعہ ترتیب دیا، ٹم سیفرٹ اور کولن منرو نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے حریف باﺅلرز کی خوب دھنائی کی اور انہوں نے ٹیم کو 86 رنز کا جاندار آغاز فراہم کیا، یہاں پر کرونل پانڈیا نے منرو کو آﺅٹ کر کے ٹیم کو پہلی کامیابی دلائی، انہوں نے 34 رنز بنائے، 134 کے سکور پر نیوزی لینڈ کی دوسری وکٹ گری جب سیفرٹ جو کہ جارحانہ بیٹنگ کر رہے تھے 84 رنز بنانے کے بعد خلیل احمد کی گیند پر بولڈ ہوئے، ڈیرل مچل 8 رنز بنا کر چلتے بنے، کپتان کین ولیمسن 34 رنز بنا کر چھاہل کی گیند کا نشانہ بنے، کولن ڈی گرینڈ ہوم 3 رنز بنا سکے، روز ٹیلر نے 23 رنز بنائے، کوگلجین 20 اور مچل سینٹنر 7 رنز بنا کر ناٹ آﺅٹ رہے۔، ہرڈک پانڈیا نے 2 جبکہ کرونل پانڈیا، بھنشور کمار، خلیل احمد اور یزوندرا چھاہل نے ایک، ایک وکٹ لی۔ جواب میں بھارتی ٹیم ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی اور آخری اوور کی دوسری گیند پر 139 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی، 18 کے سکور پر ساﺅتھی نے روہت شرما کو آﺅٹ کر کے حریف ٹیم پر دباﺅ بڑھا دیا جس کے بعد کوئی بھی کھلاڑی کھل کر نہ کھیل سکا، شرما 1، شیکھر دھون 29، وجے شنکر 27، ریشبھ پانٹ 4، دھونی 39، دنیش کارتھک 5، ہرڈک پانڈیا 4، کرونل پانڈیا 20، بھنشور کمار اور چھاہل ایک، ایک رن بنا کر آﺅٹ ہوئے، ساﺅتھی نے 3، فرگوسن، سینٹنر اور آئش سودھی نے 2، 2 اور ڈیرل مچل نے ایک وکٹ لی۔

نواز شریف کو سروسز ہسپتال میں ہی رکھا جائیگا ،سابق وزیراعظم کا جیل جانے پر اصرار

لاہور (جنرل رپورٹر) نوازشریف کو مزید علاج کے لئے سروسز ہسپتال میں ہی رکھا جائے گا ، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے کارڈیک سپیشلسٹ ان کا سروسز ہسپتال میں آکر ہی میڈیکل چیک اپ کریں گے ،قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ سروسز ہسپتال سے کسی بھی دوسرے ہسپتال میں بر اہ راست منتقل کیا جا ئے ذرائع، سروسز ہسپتال میں زیر علاج سابق وزیراعظم نواز شریف نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی جانے سے انکار کرتے ہوئے فوری طور پر جیل بھجوانے پر اصرار کیا تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں جیل بھجوا دیا جائے وہ پہلے بھی پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی جا چکے ہیں۔ یاد رہے کہ وہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سی سی یو 3 کے کیبن نمبر 6اور7میں داخل رہ چکے ہیں جبکہ پی آئی سی انتظامیہ کی جانب سے ہسپتال کے سی سی یو 3کے کیبن نمبر 4اور 5کو تیار کر دیا جا چکا ہے ۔ذرائع کا کہناہے کہ نوازشریف سروسز ہسپتال میں مکمل میڈیکل چیک اپ کےلئے داخل کیے گئے ہیں قانون کے مطابق نوازشریف کو سروسز ہسپتال سے پہلے جیل منتقل کیا جائے گا اور میڈیکل رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ فیصلہ کرے گی کہ انہیں جیل سے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی یا پھر اتفاق ہسپتال میں منتقل کر نا ہے جبکہ اس کے بعد متعلقہ ہسپتال کو سب جیل قرار دیا جائے گا تا ہم گزشتہ روز پنجاب حکومت نے نواز شریف کو سروسز ہسپتال میں ہی رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور پی آئی سی کے ڈاکٹرز کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ سروسز ہسپتال آ کر ان کا معائنہ کریں گے جبکہ سروسز ہسپتال میں نوازشریف خون کی ٹیسٹ رپورٹ کے مطابق ان کی کی فاسٹنگ شوگر ہائی ہے جس میں خالی پیٹ شوگر 155 ہے جبکہ نارمل 70 سے 100 ہونی چاہیے۔ لیپڈ پروفائل ٹیسٹ میں ٹرائی گلائے سیرائڈ بھی 219 ہے جو کہ نارمل سے زیادہ ہے جبکہ اس کا نارمل ریٹ 80 سے 150 ہونا چاہئے ۔نواز شریف کے کو لیسٹرول اور ایچ ڈی ایل کا تناسب بھی زیادہ ہے جو کہ 5.1ہے جبکہ نارمل 5 سے کم ہونا چاہیے ۔رینل فنکشنل ٹیسٹ میں بلڈ یوریا بھی 63ہے یہ نارمل 50 سے کم ہونی چاہئے لیکن نوازشریف کی 63 ہے۔نوازشریف کا سریم کریٹینین بھی 1.4ہے جو کہ معمول سے زیادہ ہے جبکہ اس کی نارمل رینج 1.3 سے کم ہونی چاہیے۔ ایچ ڈی ایل کولیسٹرول بھی معمول سے کم نارمل رینج 55 سے 35 ہونی چاہیے جبکہ نوازشریف کی 28 ہے ۔ ذرائع کے مطابق سپیشل میڈیکل بورڈ کی متفقہ طور پر یہ رائے ہے کہ نواز شریف کودل کی شریانوں کامرض لاحق ہے نواز شریف کو ایسے ہسپتال میں رکھاجائے جہاں 24 گھنٹے اچھی طبی سہولیات میسر ہوںاور بلڈ شوگر اور بلڈچارٹ کومینٹین رکھا جائے۔رپورٹ میں تجویز یہ بھی تجویز کی گئی کہ نوازشریف کے دل کے مرض کی وجہ سے ان کے پرانے معالج سے بھی مشورہ کیا جائے اور انہیں مستقل آرام اور ان کی ادویات کو تبدیل کرنی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

حکومت اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہو گئی: رانا ثناءاللہ

لاہور (آئی این پی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ حکومت اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہو گئی، مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے اس طرح کے بیانات دئیے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے بیان پر اپنے ردعمل میں مسلم لیگ (ن)کے رہنما رانا ثناءاللہ نے کہا کہ حکومتی وزرا ابہام پیدا کر رہے ہیں، ان کی کوئی سوچ نہیں اور ان کے وفاقی وزیر اداروں کے سربراہان کے متعلق اس قسم کی گفتگو کر رہے ہیں کہ فلاں صاحب ان سے رات کے اندھیرے میں ملنے کے لیے آئے اور انہوں نے آ کر گاڑی کی نمبر پلیٹ تبدیل کی۔

پاکستان کشمیر میں حالات بگاڑنے میں سرگرم ہے: ارون جیٹلی کی ہرزہ سرائی

نئی دہلی(آن لائن) بھارتی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے شور مچانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ، پاکستان کشمیر میں حالات بگاڑنے میں ہمیشہ سرگرم رہا ہے ۔ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ارون جیٹلی نے کہا کہ پاکستان کشمیر میں حالات خراب کرنے کی تمام تر کوششیں کررہا ہے تاہم ہماری فوج ان کوششوں کو ناکام بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے انہوں نے کہا کہ بھارت بات چیت کیخلاف نہیں ہے تاہم دہشتگردی اور بات چیت ایک ساتھ نہیں چل سکتے انہوں نے کہا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور اسے بھارت سے کسی صورت الگ نہیں کیا جاسکتا ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کشمیر کے اپنے دورہ کے دوران کئی حلقوں کے نمائندوں سے بات چیت کی جنہوں نے اس بات کا برملا اظہار کیا ہے کہ کشمیری عوام بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تاہم پاکستان حالات کو نارمل نہیں ہونے دے رہا انہوں نے کہا کہ پاکستان اگر حالات کو ٹھیک کرنے اور مذاکرات کا خواہشمند ہے تو اسے دہشتگردی کے ڈھانچے کو ختم کرنا ہوگا۔

ایل این جی سکینڈل : نیب نے شاہد خاقان عباسی کو کل طلب کر لیا

اسلام آباد (آن لائن) سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے 8 فروری کو طلب کر لیا۔ ذرائع کے مطابق ایل این جی اسکینڈل کیس میں نیب کی تحقیقات جاری ہیں اور نیب راولپنڈی نے سابق وزیر اعظم کو طلبی کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔نیب راولپنڈی بیورو نے شاہد خاقان عباسی کو 8 فروری کو صبح 10 بجے طلب کیا ہے۔ایل این جی اسکینڈل میں تحقیقات کے لیے نیب نے مسلم لیگ نون کے رہنما مفتاح اسماعیل کو ریکارڈ سمیت گیارہ جنوری کو طلب کیا گیا تھا جس میں مفتاح اسماعیل نے نیب کی جانب سے پوچھے گئے 30 سوالات کے جواب جمع کرائے تھے۔نیب کے مطابق سابق دور حکومت میں ایل این جی کی خریداری سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا تھا۔واضح رہے کہ گزشتہ سال جون 2018 میں من پسند کمپنی کو ایل این جی ٹرمینل کا ٹھیکہ دینے کے الزام پر چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے سابق وزرائے اعظم سمیت دیگر کے خلاف تحقیقات کرنے کی منظوری دی تھی۔ سابق وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے دور حکومت میں سابق وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے قطر کے ساتھ ایل این جی درآمد کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت پاکستان ہر سال قطر سے 3.75 ملین ٹن ایل این جی خریدے گا جو کہ پاکستان کی قومی ضرورت کا کل 20 فیصد ہے۔

روس پاکستان کے گیس سیکٹر میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریگا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) روس، پاکستان کے گیس سیکٹر میں10ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کرے گا، معاہدہ طے پاگیا، پاکستان کو روزانہ ایک ارب کیوبک فٹ گیس بھی فراہم کی جائے گی، اعلامیے کے مطابق روسی وفد نے وزیر پٹرولیم غلام سرور خان سے ان کے دفتر میں ملاقات کی جہاں ،روسی کمپنی گیزپروم کے نمائندے وٹالی مارکلوف اور آئی جی ایس کے منیجنگ ڈائریکٹر مبین صولب نے 10ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے پر دستخط کئے، منصوبے کے تحت مقامی سطح پر گیس فراہمی کے نظام کی بہتری اور نئی پائپ لائن کی تنصیب پر کام کیا جائے گا، حکام پٹرولیم ڈویژن کے مطابق روسی کمپنی شمال تا جنوب پائپ لائن بچھائے گی، ساتھ ہی زیر سمندر تیل و گیس کے ذخائر بھی تلاش کرے گی، منصوبہ تین سے چار سال میں مکمل ہوگا، حکام نے بتایا کہ معاہدے کے تحت پاکستان کو 50کروڑ سے 1ارب کیوبک فٹ تک یومیہ گیس ملے گی جو روس سے سمندری راستے کے ذریعے فراہم کی جائے گی، وزیر پٹرولیم غلام سرور خان نے معاہدے کو خوش آئند قرر دیتے ہوئے اسے روس اور پاکستان کے درمیان کثیر المقاصد سے تشبیہ دی ہے

وزیراعظم کی زیر صدارت سینئر قیادت کا اجلاس ، کسی این آر او نہ دینے کا فیصلہ وزیراعظم کی زیر صدارت سینئر قیادت کا اجلاس ، کسی این آر او نہ دینے کا فیصلہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی کی سینئر قیادت کا اہم اجلاس ہوا، جس میں این آر او کے امکان کو ایک بار پھر رد کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق اجلاس میں ملکی سیاسی صورت حال اور این آر او کی بازگشت پر تبادلہ خیال ہوا، اجلاس کے بعد وزیراطلاعات نے ویڈیو بیان جاری کیا۔ شہبازشریف کو بھی علیم خان کی طرح اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت میں کسی کو این آر او نہیں ملے گا، اجلاس میں متفقہ فیصلہ ہوا ہے کہ نہ تو کسی سے ڈیل ہوگی، نہ ڈھیل دی جائے گی۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ بدعنوانی کیسز کا سامنا کرنے والے عناصر کو انجام تک پہنچایا جائے گا، شہبازشریف پی اے سی کو کیسزکے خلاف بطور ڈھال استعمال کررہے ہیں، پی اے سی میں سعد رفیق ناقابل قبول ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ علیم خان کا وزارت سے فوری استعفے کا اقدام قابل تعریف ہے، کیس قانون کے مطابق چلایا جائے، وزراءاس معاملے پر غیرضروری بیان بازی سے اجتناب کریں۔ تفصیلات کے مطابق وزیر بلدیات پنجاب علیم خان کی گرفتاری پر وزیراعظم عمران خان ردعمل بھی سامنے آ گیا ہے ۔انھوں نے گرفتاری کے بعد علیم خان کی جانب سے استعفے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے فوری استعفے کا اقدام قابل تعریف ہے ۔انھوں نے ہدایت کی کہ کیس قانون کے مطابق چلایا جائے اور وزراءاس معاملے پر غیرضروری بیان بازی سے گریز کریں ۔یاد رہے نیب نے پی ٹی آئی کے سینئر صوبائی وزیر بلدیات عبدالعلیم خان کو گرفتار کر لیا، انہیں آف شور کمپنیوں کے حوالے سے حراست میں لیا گیا، گرفتاری کے بعد عبدالعلیم خان کو نیب حوالات منتقل کر دیا گیا۔ سینئر وزیر نے اپنا استعفیٰ وزیراعلیٰ کو بھجوا دیا۔نیب نے عبدالعلیم خان سے 5 آف شور کمپنیوں سے متعلق سوالات کئے، وہ 18 میں سے 3 سوالات کے جواب دے سکے، جن آف شور کمپنیوں کے حوالے سے سوال پوچھے گئے، ان میں آر اینڈ آر انٹرنیشنل، ایف زیڈ سی، اے این اے اور ہیکسم انوسٹمنٹ اوورسیز لمیٹڈ کمپنی شامل ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ گزشتہ 3 سالوں میں پختونخواہ کے صوبے میں غربت میں کمی کی وجہ سیاحت کا فروغ ہے، سیاحت کے پوٹینشل کو مزید فروغ دینے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے تحریک انصاف ہزارہ ڈویژن کے اراکین قومی اسمبلی کی ملاقات ہوئی۔ملاقات میں وزیر توانائی عمر ایوب خان، پرنس نواز الائے، صالح محمد، علی خان جدون، عظمی ریاض، نعیم الحق، ندیم افضل گوندل، ملک عامرڈوگر اور ارشد داد موجود تھے۔ ارکان اسمبلی نے وزیر اعظم کو اپنے حلقوں کی عوام کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخواہ میں سیاحت کا بے پناہ پوٹینشل موجود ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ 3 سالوں میں صوبے میں غربت میں کمی کی وجہ سیاحت کا فروغ ہے، سیاحت کے پوٹینشل کو مزید فروغ دینے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ فروغ سے صوبے میں مزید خوشحالی آئے گی۔ سیاحت کے فروغ میں مقامی لوگوں کو کاروبار کے زیادہ مواقع دیں گے۔انہوں نے کہا کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ویسٹ ٹو انرجی پر توجہ کی اشد ضرورت ہے۔ صوبوں میں ترقیاتی کاموں میں تفریق ختم کرنا ضروری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ سسٹم کو مستحکم اور پروونشل فنانس ایوارڈ پر عمل یقینی بنایا جائے۔ کم ترقی یافتہ علاقوں کو مناسب وسائل کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سی پیک کی تعمیر اور گوادر میں ترقیاتی عمل سے بلوچستان کی عوام کے لئے سماجی و معاشی ترقی کے بے شمار موقع میسر آئیں گے، بلوچستان کی عوام کی ترقی خصوصاً نوجوانوں کو ہنرمند بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، نوجوانوں کو ہنر سکھانے کے لئے بلوچستان میں ٹیکنیکل کالجز کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے،بلوچستان میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے سولر انرجی کو بروئے کار لانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بدھ کو وزیراعظم عمران خان سے بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے ممبران قومی اسمبلی نے ملاقات کی جس میں وزیر برائے دفاعی پیداوار زبیدہ جلال، ایم این ایز سردار محمد اسرار ترین، خالد حسین مگسی، احسان اللہ ریکی اور روبینہ عرفان شامل تھے ۔ معاون خصوصی نعیم الحق، ترجمان ندیم افضل گوندل، ملک عامر ڈوگر اور ارشد داد بھی موجود تھے ۔ملاقات میں بلوچستان کی عوام کو درپیش مسائل سے متعلقہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔وزیر اعظم کوبتایاگیا کہ بلوچستان میں پانی کی قلت خصوصاً پینے کے پانی کی کمی کے مسئلے کا مکمل ادراک ہے،اس مسئلے کے حل کےلئے وزیراعلیٰ سے رابطے میں ہیں۔ وزیر دفاعی پیداوار زبیدہ جلال نے ایسٹ بے پر ایکسپریس وے کی تعمیر سے منسلک پیسیج وے سے متعلقہ ماہی گیروں کے مسائل سے وزیراعظم کو آگاہ کیا اور پیسیج وے کی کشادگی کا مطالبہ پیش کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے معاملے کے حل کے لئے اقدامات کی ہدایت کی ۔ وزیراعظم نے کہاکہ سی پیک کی تعمیر اور گوادر میں ترقیاتی عمل سے بلوچستان کی عوام کے لیے سماجی و معاشی ترقی کے بے شمار موقع میسر آئیں گے۔ وزیراعظم نے کہاکہ بلوچستان کی عوام کی ترقی خصوصاً نوجوانوں کو ہنر مند بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ نوجوانوں کو ہنر سکھانے کے لیے بلوچستان میں ٹیکنیکل کالجز کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سولر انرجی کو بروئے کار لانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی (پی اے سی) کو کرپشن کیخلاف بطور ڈھال استعمال کر رہے ہیں، وہ اس سے الگ ہو کر مقدمات کا سامنا کریں۔ وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت تحریک انصاف کی سینئر قیادت کا اجلاس ہوا جس میں ملک کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے 22 سال کرپشن کے خلاف جدوجہد کی، ان کی کرپشن کے خلاف لڑائی اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ عوام کے لئے تھی۔ فواد چودھری نے واضح کیا کہ کسی سے ڈیل ہوگی نہ ڈھیل دی جائے گی، کسی کو بھی این آر او ملنا ناممکن ہے۔ اجلاس میں قیادت نے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی (پی اے سی) کا چیئرمین بننے کے بعد شہباز شریف کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی اے سی بنتے ہی شہباز شریف نے نیب پر دباﺅ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ ن لیگ پی اے سی کو کرپشن کے خلاف بطور ڈھال استعمال کر رہی ہے۔ خواجہ سعد رفیق کو بھی پی اے سی میں شامل کرنا کرپشن کے خلاف بطور ڈھال استعمال کرنے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے عبدالعلیم خان کو گرفتار کیا تو انہوں نے فوری استعفیٰ دے دیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ تحریک انصاف اور دیگر سیاسی جماعتوں کے کلچر میں کیا فرق ہے۔ انہوں نے استعفیٰ دے کر شاندار روایت قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عبدالعلیم خان نے اپنے عہدے کا استعمال کئے بغیر اب نیب کیسز کا سامنا کرنا ہے، شہبازشریف کی سوچ بھی ان کے جیسی ہونی چاہئے، ہمارا مطالبہ ہے شہباز شریف پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی سے علیحدہ ہو جائیں اور مقدمات کا سامنا کریں۔

آمدن سے زائد اثاثے ، آف شور کمپنیاں بنانے کا الزام ، علیم خان گرفتار ، نیب حوالات بند

لاہور (خبرنگار) قومی احتساب بیورو (نیب) نے پانامہ سکینڈل میں جاری تحقیقات میں ہم پیشرفت کرتے ہوئے پنجاب کے سینئر وزیر اور پاکستان تحریک انصاف مرکزی رہنما عبدالعلیم خان کو مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے الزام میں گرفتار کر لیا جنہیں ریمانڈ کے حصول کےلئے آج احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا، تفصیلات کے مطابق نیب لاہور سینئر وزیر پنجاب علیم خان کے خلاف بیرون ملک جائیداد، آمدن سے زائد اثاثوں اور آف شور کمپنی کے حوالے سے تفتیش کررہا ہے، وہ آخری مرتبہ 8 اگست کو نیب کے سامنے پیش ہوئے جس کے بعد انہیں ایک سوالنامہ دیا گیا اور 6 فروری کو طلب کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں علیم خان چوتھی بار پیش کرنے کے لئے پونے گیارہ بجے کے قریب ٹھوکرنیاز بیگ پر موجود نیب کے دفتر پہنچے جہاں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج جس حوالے سے طلب کیا گیا اس پر واپسی پر بات کروں گا۔ نیب کے دفتر سے عبدالعلیم خان کا اسٹاف اکیلے روانہ ہوا اور سینئر وزیر نیب کے دفتر سے باہر نہیں آئے۔ نیب آفس میں پیشی کے موقع پر ان سے مختلف سوالات کیے گئے جبکہ 2گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی تحقیقات میں وہ نیب حکام کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے، جس کے بعد انہیں مزید تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا گیا۔ نیب لاہور کی جانب سے جاری گرفتاری کی وجوہات کے مطابق عبدالعلیم خان کی جانب سے مبینہ طور پر پارک ویو کوآپریٹو ہاﺅسنگ سوسائٹی کے بطور سیکرٹری اور ممبر صوبائی اسمبلی کے طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جس کی بدولت پاکستان و بیرون ممالک میں مبینہ طور پر آمدن سے زاہد اثاثہ جات بنائے۔ ملزم عبدالعلیم خان نے ریئل اسٹیٹ بزنس کا آغاز کرتے ہوئے کروڑوں روپے مذکورہ بزنس میں انویسٹ کیے، علاوہ ازیں ملزم کی جانب سے لاہور اور مضافات میں اپنی کمپنی میسرز اے اینڈ اے پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام مبینہ طور پر 900کنال زمین خریدی جبکہ 600کنال مزید زمین کی خریداری کےلئے بیانہ رقم بھی ادا کی گئی تاہم ملزم عبدالعلیم خان مذکورہ زمین کی خریداری کےلئے موجودہ وسائل کے حوالے سے تسلی بخش جواب دینے سے قاصر رہے ۔ملزم عبدالعلیم خان نے مبینہ طور پر ملک میں موجود اثاثہ جات کے علاوہ 2005اور 2006ءکے دوران متحدہ عرب امارات اور برطانیہ میں متعدد آف شور کمپنیاں بھی قائم کیں جن میں ملزم کے نام موجودہ اثاثہ جات سے کہیں زیادہ اثاثے خریدے گئے جن کے حوالے سے نیب افسران تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم ملزم کی جانب سے ریکارڈ میں مبینہ ردو بدل کے پیش نظر ملزم کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے تاہم دوران گرفتاری ملزم کے اپنے اور دیگر بے نامی اثاثہ جات کے حوالے سے قانون کے مطابق تحقیقات رکھی جائیں گی ۔ ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کا کہنا تھا کہ نیب بہتر قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات سرانجام دے رہا ہے جس میں پسند نا پسند کا تصور نہیں۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کے ویژن کے مطابق کرپٹ عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی جب کہ تمام میگا کرپشن مقدمات کی انتہائی شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر تحقیقات جاری ہیں جنہیں جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے سرکرداں ہیں۔ نیب لاہور نے علیم خان کو نیب حوالات منتقل کر دیا گیا جہاں طبی ماہرین نے عبدالعلیم خان کا طبی معائنہ کیا ۔ طبی معائنے کے بعد ڈاکٹرز نے انہی مکمل صحت مند قرار دے دیا۔ نیب نے اس موقع پر علیم خان کو اپنے استعمال کی اشیا گھر سے منگوانے کی اجازت دے دی ہے۔ سینئر وزیر پنجاب علیم خان کوآج نیب عدالت نے پوچھ گچھ کیلئے طلب کیا تھا۔عبدالعلیم خان دن گیارہ بجے کے قریب ٹھوکرنیاز بیگ پر موجود نیب کے دفتر پہنچے۔ جہاں نیب نے علیم خان سے 18سوالات کئے جن میں سے وہ صرف3سوالات کے جواب دے سکے اور نیب کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے جس کے بعد نیب نے انہیں حراست میں لے لیا۔ عبدالعلیم خان چوتھی بار قومی احتساب بیورو کے روبرو پیش ہو ئے تھے۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی رہنما کی ایف زیڈ سی اور اے این اے نامی کمپنیوں میں 90 کروڑ روپے سے زائد کی ٹرانزیکشنز ہوئی ہیں۔اس حوالے سے بھی ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔ صوبائی وزیر بلدیات اس سے پہلے سال 2018 میں تین بار نیب کی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہو چکے ہیں لیکن تاحال نیب حکام ان کے جمع کروائے گئے ریکارڈ اوت بیانات سے مطمئن نہیں ہو سکے۔ نیب کی جانب سے اس بار بھی حکومتی رکن کو فنانشل مینجمنبٹ یونٹ، ایف بی آر اور سیکیورٹیز ایکسچینبننج کمیشن آف پاکستان کی اہم دستاویزات ساتھ لانے کا کہا گیا تھا۔واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو تحریک انصاف کے رہنما علیم خان سے آف شور کمپنیوں سے متعلق تحقیقات کر رہی تھی انہیں آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام میں کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ علیم خان سال 2011 میں پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے۔ گزشتہ سات سال سے وہ اس جماعت سے وابستہ ہیں۔ اس سے قبل وہ سابق صدر مشرف کے دور میں وزیر کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ نیب میں گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کے سینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ میں اپنے کیسز کا دفاع کروں گا ۔مجھے انصاف کی پوری امید ہے۔ پی ٹی آئی رہنما علیم خان نے بھرپور عدالتی جنگ لڑنے کا فیصلہ کر لیا۔اس سلسلے میں علیم خان نے اپنی قانونی ٹیم کو بھی تیاری کا پیغام بھجوا دیا ہے۔

7 کھرب ڈالر خرچ کر چکے ، افغانستان سے نکلنے کا وقت آ گیا : ٹرمپ

واشنگٹن (آن لائن)امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان اور شام سے اپنی فوجیں واپس بلانے اور امن کے لیے کوشش جاری رکھنے کا اعادہ کرتے ہوئے کہاہے کہ شام اور افغانستان میں جاری لڑائی میں امریک مداخلت کے خاتمے کے منصوبوں پر کام جاری رکھیں گے، عظیم قومیں نہ ختم ہونے والی جنگیں نہیں لڑتیں۔ افغانستان میں 7000 امریکی فوجیوں نے جانیں دیں جبکہ مشرق وسطی میں دو دہائیوں سے جاری جنگ پر سات کھرب امریکی ڈالر خرچ ہوئے، ہماری فوج نے بے مثال شجاعت کے ساتھ لڑائی کی، ہم ان کی بہادری کے لیے ان کے شکر گزار ہیں۔ہمارے فوجیوں کی بہادی کی وجہ سے ہی ہم اس طویل اور خونی مسئلہ کے سیاسی حل کی طرف بڑھے ہیں۔ افغانستان میں ان کی انتظامیہ نے بہت سے گروپوں بشمول طالبان کے ساتھ تعمیری بات چیت شروع کی ہے اور امن معاہدے کے لیے کوششیں کرنے کا یہی وقت ہے۔ہم نہیں جانتے کہ ہم کسی معاہدے تک پہنچیں گے یا نہیں تاہم دو دہائیوں سے جاری جنگ کے بعد اب وقت آ گیا ہے کہ ہم کم از کم امن کی کوشش کریں۔ہم شام میں لڑنے والے اپنے بہادر جنگجوں کو بھی واپس گھر میں خوش آمدید کہیں گے،ایران ،اسرائیل کو دھمکانے کا سلسلہ بند کرے ،ایسی حکومت سے صر نظر نہیں کریں گے جو امریکہ کے لیے موت کے نعرے لگائے اور یہودیوں کے قتلِ عام کی دھمکی دے، میری انتظامیہ نے دنیا میں دہشت گردی کی حمایت کرنے والی صف اول کی ریاست کا مقابلہ کرنے کے لیے فیصلہ کن انداز اپنایا۔اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ بدعنوان ایرانی حکومت کبھی جوہریہ ہتھیار نہ بنا سکے میں نے تباہ کن ایرانی جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کی۔ اور ایران کے خلاف سخت ترین پابندیاں عائد کیں۔اگر امریکہ کی حقیقی صلاحیتیوں کو سامنے لانا ہے تو بدلے کی سیاست کو مسترد کرنا ہوگا، پناہ گزینوں کے بڑے بڑے کاروان امریکی کے راستے پر تھے اور ایسے میں منشیات کے سمگلرز اور انسانی سمگلروں سے نمٹنے کے لیے اقدامات کی ضرورت تھی اس لیے میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کا فیصلہ کیا تاہم ایسا امیگریشن کا نظام قائم کرنا انتہائی ضروری ہے جو محفوظ قانون کے مطابق اور جدید ہو۔میری انتظامیہ نے 50 لاکھ ملازمتیں تخلیق کیں اور معیشت کو ترقی ملی،تجارت کے حوالے سے چین کے ساتھ ایک نئے معاہدے پر کام کر رہے ہیں جس کے تحت امریکی خسارے کو کم کیا جا سکے، ملازمتیں محفوظ رہیں، اور نامناسب تجارتی طریقے ختم کیے جائیں۔ چین پر واضح کر رہے ہیں کہ امریکی ملازمتوں اور انٹیلیکچوئل پراپرٹی کی چوری ختم ہونی چاہیے، شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے 27 اور 28 فروری کو ویتنام میں ملوںگا، اگر میں امریکہ کا صدر منتخب نہ ہوا ہوتا تو ہم اس وقت شمالی کوریا کے ساتھ ایک بڑی جنگ لڑ رہے ہوتے، دنیا میں امریکیوں کے برابر کوئی نہیں، نہ ہی کوئی امریکا کا مقابلہ کر سکتا ہے، یہ ملک ڈیمو کریٹس یا ری پبلیکنز کا نہیں امریکی عوام کا ہے، دو جماعتوں کی طرح نہیں مل کر کام کریں گے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اپنے دوسرے سالانہ سٹیٹ آف دی یونین خطاب میںامریکی صدر نے افغانستان اور شام سے اپنی فوجیں واپس بلانے اور امن کے لیے کوشش جاری رکھنے کا بھی اعادہ کیا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ شام اور افغانستان میں جاری لڑائی میں امریک مداخلت کے خاتمے کے منصوبوں پر کام جاری رکھیں گے۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ عظیم قومیں نہ ختم ہونے والی جنگیں نہیں لڑتیں۔افغانستان کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ افغانستان میں 7000 امریکی فوجیوں نے جانیں دیں جبکہ مشرق وسطی میں دو دہائیوں سے جاری جنگ پر سات کھرب امریکی ڈالر خرچ ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری فوج نے بے مثال شجاعت کے ساتھ لڑائی کی، ہم ان کی بہادری کے لیے ان کے شکر گزار ہیں۔ ہمارے فوجیوں کی بہادی کی وجہ سے ہی ہم اس طویل اور خونی مسئلہ کے سیاسی حل کی طرف بڑھے ہیں۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ان کی انتظامیہ نے بہت سے گروپوں بشمول طالبان کے ساتھ تعمیری بات چیت شروع کی ہے اور امن معاہدے کے لیے کوششیں کرنے کا یہی وقت ہے۔افغان طالبان کے ساتھ جاری مذاکرات کا حوالے دیتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھاکہ ہم نہیں جانتے کہ ہم کسی معاہدے تک پہنچیں گے یا نہیں تاہم دو دہائیوں سے جاری جنگ کے بعد اب وقت آ گیا ہے کہ ہم کم از کم امن کی کوشش کریں۔شام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم شام میں لڑنے والے اپنے بہادر جنگجوں کو واپس گھر میں خوش آمدید کہیں۔امریکہ صدر نے اسرائیل کو دھمکانے پر ایران کو متنبہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسی حکومت سے صر نظر نہیں کریں گے جو امریکہ کے لیے موت کے نعرے لگائے اور یہودیوں کے قتلِ عام کی دھمکی دے۔ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے خاتمے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میری انتظامیہ نے دنیا میں دہشت گردی کی حمایت کرنے والی صف اول کی ریاست کا مقابلہ کرنے کے لیے فیصلہ کن انداز اپنایا۔اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ یہ بدعنوان حکومت کبھی جوہریہ ہتھیار نہ بنا سکے میں نے تباہ کن ایرانی جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کی۔ اور ایران کے خلاف سخت ترین پابندیاں عائد کیں۔میکسیکو کے ساتھ سرحدی دیوار کے لیے فنڈنگ کے معاملے پر ڈیموکریٹس کے ساتھ ان کی لڑائی کے بعد صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ کی حقیقی صلاحتیوں کو سامنے لانا ہے تو بدلے کی سیاست کو مسترد کرنا ہوگا۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ پناہ گزینوں کے بڑے بڑے کاروان امریکی کے راستے پر تھے اور ایسے میں منشیات کے سمگلرز اور انسانی سمگلروں سے نمٹنے کے لیے اقدامات کتی ضرورت تھی۔تاہم انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسا امیگریشن کا نظام قائم کرنا انتہائی ضروری ہے جو محفوظ قانون کے مطابق اور جدید ہو۔ان کا کہنا تھا کہ ان کی انتظامیہ نے 50 لاکھ ملازمتیں تخلیق کیں اور معیشت کو ترقی ملی۔تجارت کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ وہ چن کے ساتھ ایک نئے معاہدے پر کام کر رہے ہیں جس کے تحت امریکی خسارے کو کم کیا جا سکے، ملازمتیں محفوظ رہیں، اور نامناسب تجارتی طریقے ختم کیے جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ چین کو واضح کر رہے ہیں کہ امریکی ملازمتوں اور انٹیلیکچوئل پراپرٹی کی چوری ختم ہونی چاہیے۔صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں اعلان کیا کہ وہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے 27 اور 28 فروری کو ویتنام میں ملیں گے۔امریکی صدر نے کہا کہ اگر میں امریکہ کا صدر منتخب نہ ہوا ہوتا تو ہم اس وقت شمالی کوریا کے ساتھ ایک بڑی جنگ لڑ رہے ہوتے،ان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی بہت کام ہونا باقی ہے، لیکن کم جونگ ان کے ساتھ میرے تعلقات اچھے ہیں۔ دنیا میں امریکیوں کے برابر کوئی نہیں، نہ ہی کوئی امریکا کا مقابلہ کر سکتا ہے، یہ ملک ڈیمو کریٹس یا ری پبلیکنز کا نہیں امریکی عوام کا ہے، دو جماعتوں کی طرح نہیں مل کر کام کریں گے۔انہوں نے کہا کہ بیرون ملک دشمنوں کو ناکام بنانے کے لیے امریکیوں کو اپنے ملک میں اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا، امریکا ہر دن ہر جگہ فتح یاب ہورہا ہے، امریکی معیشت دنیا کی بہتر معیشت اور امریکی فوج دنیا کی طاقتور فوج ہے،جیت اپنی پارٹی کے لیے فتح حاصل کرنا نہیں بلکہ اس ملک کیلیے فتح اصل کامیابی ہے، امریکی خلانورد اس سال امریکی راکٹ پر خلا میں جائیں گے۔صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ کانگریس کے ساتھ مل کر امریکی عوام کے لیے کام کرنے پر تیار ہیں، امریکی قوم کی نظریں اس وقت کانگریس کی طرف ہیں، یہ امریکی سیاسی نظام ہی ہے جس کی وجہ سے آج ہم یہاں جمع ہیں، فتح اپنی یا کسی جماعت کے لیے نہیں قوم کے لیے جیت کا نام ہے۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا تیل و گیس کی پیداوار کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا ملک بن چکا، زمین پر ہماری فوج سب سے طاقت ور ہے، ہر روز ہم فتح پا رہے ہیں، گزشتہ دو سال میں مسائل کے حل کیلیے انتھک جدوجہد کی، دو سال میں ان مسائل کے حل پر بھی کام کیا جو دہائی سے دونوں جماعتوں کے ارکان نے نظر انداز کیے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دوسرے سالانہ سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں اعلان کیا ہے کہ وہ رواں ماہ ایک مرتبہ پھر شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر ملاقات کریں گے۔ان دونوں رہنماﺅں کی یہ دوسری ملاقات امریکی صدر کے مطابق ویت نام میں ہو گی۔امریکی کانگریس میں ایک گھنٹے سے زیادہ دیر تک جاری رہنے والی تقریر میں صدر ٹرمپ نے جہاں قومی اتحاد پر زور دیا وہیں وہ میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کے اپنے متنازع منصوبے پر بھی مصر رہے۔امریکی صدر نے افغانستان اور شام سے اپنی فوجیں واپس بلانے اور امن کے لیے کوشش جاری رکھنے کا بھی اعادہ کیا۔صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں اعلان کیا کہ وہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے 27 اور 28 فروری کو ویتنام میں ملیں گے۔امریکی صدر نے کہا کہ اگر میں امریکہ کا صدر منتخب نہ ہوا ہوتا تو ہم اس وقت شمالی کوریا کے ساتھ ایک بڑی جنگ لڑ رہے ہوتے۔ان کا مزید کہنا تھا ابھی بہت کام ہونا باقی ہے، لیکن کم جونگ ان کے ساتھ میرے تعلقات اچھے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ شام اور افغانستان میں جاری لڑائی میں امریک مداخلت کے خاتمے کے منصوبوں پر کام جاری رکھیں گے۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ عظیم قومیں نہ ختم ہونے والی جنگیں نہیں لڑتیں۔افغانستان کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ افغانستان میں 7000 امریکی فوجیوں نے جانیں دیں جبکہ مشرق وسطی میں دو دہائیوں سے جاری جنگ پر سات کھرب امریکی ڈالر خرچ ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری فوج نے بےمثال شجاعت کے ساتھ لڑائی کی، ہم ان کی بہادری کے لیے ان کے شکر گزار ہیں۔ ہمارے فوجیوں کی بہادی کی وجہ سے ہی ہم اس طویل اور خونی مسئلہ کے سیاسی حل کی طرف بڑھے ہیں۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ان کی انتظامیہ نے بہت سے گروپوں بشمول طالبان کے ساتھ تعمیری بات چیت شروع کی ہے اور امن معاہدے کے لیے کوششیں کرنے کا یہی وقت ہے۔افغان طالبان کے ساتھ جاری مذاکرات کا حوالے دیتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا ہم نہیں جانتے کہ ہم کسی معاہدے تک پہنچیں گے یا نہیں تاہم دو دہائیوں سے جاری جنگ کے بعد اب وقت آ گیا ہے کہ ہم کم از کم امن کی کوشش کریں۔شام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا اب وقت آ گیا ہے کہ ہم شام میں لڑنے والے اپنے بہادر جنگجوں کو واپس گھر میں خوش آمدید کہیں۔امریکی صدر نے نے اس بات پر زور دیا کہ ایسا امیگریشن کا نظام قائم کرنا انتہائی ضروری ہے جو محفوظ قانون کے مطابق اور جدید ہو۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسی حکومت سے صر نظر نہیں کریں گے جو امریکہ کے لیے موت کے نعرے لگائے اور یہودیوں کے قتلِ عام کی دھمکی دے۔ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے خاتمے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا میری انتظامیہ نے دنیا میں دہشت گردی کی حمایت کرنے والی صف اول کی ریاست کا مقابلہ کرنے کے لیے فیصلہ کن انداز اپنایا۔اس بات کو یقنی بنانے کے لیے کہ یہ بدعنوان حکومت کبھی جوہرےہ ہتھیار نہ بنا سکے میں نے تباہ کن ایرانی جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کی۔ اور ایران کے خلاف سخت ترین پابندیاں عائد کیں۔امریکی صدر نے اپنے خطاب کے آغاز میں سیاسی اتحاد پر زور دیا جبکہ چند گھنٹے قبل ہی خود انھوں نے امریکی سینیٹ کے ایک ڈیمو کریٹ رہنما کے لیے اشتعال انگیز الفاظ استعمال کیے تھے۔میکسیکو کے ساتھ سرحدی دیوار کے لیے فنڈنگ کے معاملے پر ڈیموکریٹس کے ساتھ ان کی لڑائی کے بعد صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ کی حقیقی صلاحتیوں کو سامنے لانا ہے تو بدلے کی سیاست کو مسترد کرنا ہوگا۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ پناہ گزینوں کے بڑے بڑے کاروان امریکی کے راستے پر تھے اور ایسے میں منشیات کے سمگلرز اور انسانی سمگلروں سے نمٹنے کے لیے اقدامات کتی ضرورت تھی۔تاہم انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسا امیگریشن کا نظام قائم کرنا انتہائی ضروری ہے جو محفوظ قانون کے مطابق اور جدید ہو۔ان کا کہنا تھا کہ ان کی انتظامیہ نے 50 لاکھ ملازمتیں تخلیق کیں اور معیشت کو ترقی ملی۔تجارت کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ وہ چن کے ساتھ ایک نئے معاہدے پر کام کر رہے ہیں جس کے تحت امریکی خسارے کو کم کیا جا سکے، ملازمتیں محفوظ رہیں، اور نامناسب تجارتی طریقے ختم کیے جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ چین کو واضح کر رہے ہیں کہ امریکی ملازمتوں اور انٹیلیکچوئل پراپرٹی کی چوری ختم ہونی چاہیے۔

شہزادی کیٹ کا سکول کا دورہ، بچوں کے ساتھ تصاویر بنوائیں

لندن ( وائس آف ایشیا)برطانوی شاہی خاندان کی بہو کیٹ مڈلٹن بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے لاوینڈر پرائمری اسکول پہنچ گئیں وہاں انہوں نے بچوں کو اپنی تصاویر بھی دکھائیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق برطانوی شاہی خاندان کی بہو اور ڈیانا کے بڑے صاحبزادے شہزادہ ولیم کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن نے بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کو ا±جاگر کرنے کے لیے لاوینڈر پرائمری اسکول کا دورہ کیا اور وہاں انہوں نے بچوں کو اپنی نجی تصاویر بھی دکھائیں۔اسکول میں کیٹ مڈلٹن نے بچوں کے ساتھ بات چیت کی اور ا±ن کے معصومانہ سوالات کے جواب دئیے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیٹ کا کہنا تھا کہ بچوں کی نشونما میں جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذہنی صلاحیتوں کا بھی بہت اہم کردار ہے۔انہوں نے کہا کہ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو کم عمری میں ہی اس قابل بنائیں کہ وہ اپنی پریشانیاں اور خیالات کا اظہار با آسانی کر سکیں۔دورہ اسکول کے موقع پر کیٹ کا استقبال نہایت گرم جوشی سے ہوا جبکہ انہیں پھولوں کا گلدستہ بھی پیش کیا گیا۔بعض بچوں نے انہیں گلے لگا کر اپنی خوشی و مسرت کا اظہاربھی کیا۔