لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی اسلامی اتحاد فورس کے سربراہ راحیل شریف سے ملاقات میں علاقائی مسائل زیر بحث آئے ہوں گے۔ پاکستانی عوام کی دلچسپی اس میں ہے کہ سعودی عرب یمن کے مسئلہ پر کیا پیشقدمی چاہتا ہے کیا راحیل شریف یمن جنگ میں حصہ لیں گے۔ اس سے قبل پاکستانی حکومت واضح کر چکی ہے کہ یمن جنگ میں پارٹی نہیں بنیں گے اب ایک بار پھر بحث شروع ہو چکی ہے کہ کیا پاکستان سعودی عرب کی یمن کیخلاف جنگ میں حمایت یا عمومی مدد کرے گا۔ پاکستان کی پوری کوشش ہے کہ اس جنگ میں نہ الجھے۔ جنرل (ر) راحیل شریف کی بھی یہی کوشش ہو گی کہ جنگ میں پارٹی نہ بنا جائے۔ دعا ہے کہ پاکستان اس تنازع سے خود کو محفوظ رکھ سکے کیونکہ مسلم ممالک میں پاکستان کی ایک خاص پوزیشن ہے اس لئے بہت احتیاط سے کام لینا ہو گا۔ وزیراعظم عمران خان نے یہی کہا تھا کہ یمن جنگ کے مسئلہ پر صلح اور امن کی کوشش کی صورت میں اپنی خدمات پیش کریں گے۔
نوازشریف کو طبی بنیاد پر رہائی نہیں ملے گی البتہ انہیں علاج کی سہولت قانون کے مطابق ملنی چاہئے۔ نوازشریف کو نااہلی کیس میں سزا ہو چکی ہے اب انہیں ایک عام قیدی سے زیادہ سہولت نہیں دی جا سکتی۔ عام قیدی کو تو پتھری ہونے پر بیرون ملک نہیں بھیجا جاتا۔ قیدی کو بیماری ہو تو میڈیکل بورڈ بنتا ہے جس کی سفارش پر علاج ہوتا ہے۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ سخت فیصلے کرنے والے جج ہیں۔ ان کا مزاج ایسا ہے کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ اصغر خان کیس میں خلاف قانون کچھ ہوا ہے توکسی کو رعائت نہیں دیں گے۔ بریگیڈیئر (ر) حامد سعید اختر تو اعتراف کر چکے ہیں کہ پیسے تقسیم کئے گئے۔ یہ کوئی نئی منفی بات نہیں بلکہ اہم ثبوت ہے۔
حکومت نے ابھی تک طریقہ کار نہیں بتایا کہ کس معیار کے تحت ہیلتھ کارڈ تقسیم ہوں گے۔ پنجاب کی 11 کروڑ آبادی میں کیسے طے ہو گا کہ ان 7 کروڑ کو کارڈ دینے ہیں اور ان 4 کروڑ کو نہیں دینے۔ فواد چودھری نے ایک اجلاس میں کہا کہ پریس کلب ممبران کو کارڈ دیئے جائیں گے تو دیگر لوگ جو پریس میں کام کرتے ہیں ان کو کیوں نہ دیئے جائیں۔ ہمارے ایک سینئر کارکن عبدالجبار ثاقب 27 سال سے خبریں میں کام کر رہے ہیں وہ پریس کلب ممبر نہیں تاہم ان سے بڑھ کر ہیں۔ ڈپٹی ایڈیٹر پروڈکشن ہیں پورا اخبار تیار کرتے ہیں۔ اگر وہ پریس کلب کے ممبر نہیں تو انہیں ہیلتھ کارڈ کیوں نہیں دیا جا سکتا۔ حکومت کو واضح کرنا چاہئے کہ کارڈ تقسیم کرنے کا طریقہ کار اور معیار کیا ہو گا۔
عوام مہنگائی کے ہاتھوں تنگ ہیں اس لئے بجلی گیس بلوں میں مزید اضافہ برداشت نہیں کریں گے۔ عمران خان مشکل وقت میں آئی ایم ایف کے پاس نہ گئے اور دوست ممالک کے پاس جا کر مدد لی زرمبادلہ کے ذخائر کو بھر لیا۔ وزیرخزانہ کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ کرنے کی صورت میں مہنگائی بڑھنے کا خطرہ نہیں ہے کیونکہ ہم ان کی بجلی گیس بل بڑھانے کی شرط نہیں مانیں گے۔
آصف زرداری کیخلاف غیر قانونی اثاثہ جات کیس دوبارہ کھل جاتا ہے تو ان کی مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا۔
آئی جی پنجاب گگو منڈی میں بچی سے زیادتی کیس کا نوٹس لیں اور اگر پولیس اس کیس کو بگاڑنے میں ملوث ہے تو ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے۔
مریم نواز کا تو حق ہے کہ وہ اپنے والد کی علالت کے مسئلہ کو ایکسپلائٹ کریں وہ جو کر رہی ہیں وہ اپنے طور پر صحیح کر رہی ہیں لیکن مریم اورنگزیب اس جماعت کی ترجمان احسن اقبال بڑے لیڈر ہیں لیکن ضروری نہیں ہے کہ تینوں خواتین و حضرات جو کہتے ہیں وہ درست بھی ہو چونکہ جو میرٹ کے فیصلے میرٹ پر ہوتے ہیں اور بیماری دیکھنے کا ایک پروسیجر ہے اور اگر قیدی کو کوئی تکلیف ہو تو اس کے لئے میڈیکل بورڈ کی رائے پر ہی اس کا علاج ہوتاہے۔ کیا لندن کا ہسپتال بھی سب جیل قرار پا سکتا ہے۔
ضیا شاہد نے کہا کہ آصف زرداری نے جو عدالت نے چھوٹ دی تھی کہ ان کے خلاف کوئی جرم ثابت نہیں وہ رہا ہے لہٰذا کوئی ایکشن نہ لیا جائے اور اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے پنڈی بنچ میں نیب میں اپیل دائر کر دی ہے اور عدالت نے اس پر ایک ماہ بعد یعنی 6 مارچ کو تاریخ بھی دے دی ہے اور نیب کو ہدایت کی ہے کہ ایک ماہ کے اندر تمام متعلقہ ریکارڈ جو ہے اس کو چیک کر کے سارے ثبوت دے کیونکہ نیب کی درخواست تھی کہ یہ سہولت جو دی گئی ہے لیگل نہیں ہے گویا دوسرے لفظوں میں اگر 6 مارچ کو ممکن ہو سکتا ہے کہ اگر کیس جناب آصف زرداری کے خلاف جاتا ہے اور نیب ٹھوس وجوہات کی بنیاد پر جو کوائف جمع کرواتا ہے اس کی بنیاد پر ان کا کیس تبدیل بھی ہو سکتا ہے اور جناب آصف زرداری کو سزا بھی ہو سکتی ہے اور دوبارہ انہیں مجرم سمجھتے ہوئے گرفتاری کا آرڈر بھی ہو سکتا ہے۔ آپ آصف زرداری صاحب کا مستقبل کس طرح سے دیکھتے ہیں۔
Monthly Archives: February 2019
اوباش کی 4 سالہ بچی سے زیادتی ، پولیس نے کیس زیادتی کی کوشش بنا ڈالا
گگومنڈی(میاں ذوالفقار) 35سالہ اوباش شخص نے چارسالہ بچی کو اپنی ہوس کانشانہ بنا دیا۔ پولیس نے اعلیٰ حکام کے نوٹس کے ڈر سے زیادتی کو زیادتی کی کوشش میں بدل ڈالا۔ حافظ آبادکالونی کے محنت کش ابوبکر بھٹی کی چارسالہ بیٹی مریم امرود خریدنے باہر نکلی جسے دیہہ ہذا کے ہی نیاز قصائی نے اپنی ہوس کا نشانہ بناڈالا۔ بچی کے رونے کی آواز سن کر موقع پر پہنچی توملزم فرارہوگیا جسے بعدازاں اہل محلہ نے پکڑکرپولیس کے حوالے کردیا۔ بچی کی والدہ بچی کوخون میں لت پت اٹھاکرتھانے پہنچ گئی لیکن پولیس نے زیادتی کی بجائے کوشش کئے جانے کی درخواست لکھواکر ڈاکٹ جاری کر دیا۔ ڈاکٹرکا زیادتی کارزلٹ دینے سے انکار۔ پولیس ڈاکٹ پر زیادتی کی کوشش لکھا ہوا ہے اس لئے ہم زیادتی کا رزلٹ نہیں دے سکتے۔ ڈیوٹی پر موجود ڈسپنسر کا موقف۔ متاثرہ بچی کے والد ابوبکر بھٹی کی خبریںسے گفتگو۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روزگگومنڈی شہرکی نواحی بستی حافظ آبادکے رہائشی محنت کش ابوبکر بھٹی کی چارسالہ بیٹی مریم دن دو بجے کے قریب امرود لینے کیلئے گھرسے باہر نکلی جسے دیہہ ہذاکا ہی رہائشی اوباش 35سالہ نیاز قصائی ورغلا کراپنے گھرلے گیااور اس سے زیادتی کرنے لگا۔ بچی کے رونے کی آواز سن کر جب اس کی والدہ کلثوم بی بی موقع پر پہنچی تو ملزم بچی کو خون میں لت پت چھوڑکرفرار ہوگیا جسے بعدازاں اہل محلہ نے پکڑکر پولیس کے حوالے کردیا ہے۔ متاثرہ بچی کی والدہ اپنی چار سالہ بیٹی کو اسی حالت میں لے کر تھانے پہنچ گئی لیکن پولیس نے زیادتی کی بجائے زیادتی کی کوشش کاڈاکٹ جاری کردیا۔ ڈاکٹر نے بچی کامیڈیکل جاری کرنے سے انکارکر دیا۔ موقف لینے پرڈیوٹی پر موجود ڈسپنسر چشتی کاکہنا تھاکہ پولیس نے صرف زیادتی کی کوشش کاڈاکٹ جاری کیا ہے اس لئے ہم زیادتی کانتیجہ نہیں دے سکتے۔
وزیراعظم نے اسد عمر پراعتماد کیا تھا اب انہیں خود آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا: سیف الرحمان ، بیورو کریسی جہاں بھی ہو ہاں میں ہاں ملاتی ہے ، حکومت خود آئی ایم ایف سے رابطہ نہ کرتی:رحمت علی ، کشمیر کے بارے میں کوئی واضح پالیسی دکھائی نہیں دی ، ترجیحات سامنے لانا ہوں گی: میاں افضل ، ملک کے لئے پیسہ اکٹھا کرنا مشکل البتہ چندہ جمع کرنا آسان ہے: شاہد بھٹی ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کالم نگار رحمت علی رازی نے کہا کہ بیورو کریسی جہاں بھی ہو ہاں میں ہاں ملاتی رہتی ہے۔ حکومت کو چاہئے خود آئی ایم ایف سے رابطہ نہ کرتی۔ چینل فائیو کے پروگرام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ گزشتہ حکمران صرف اپنی غربت ختم کرتے رہے جس کے باعث موجودہ حکومت کو کشکول لے کر پھرنا پڑ رہا ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی بھی بہتر کرنے کی ضرورت ہے خاص طور پر کشمیر پر پاکستان کو موثر انداز میں اپنا مقدمہ لڑنا چاہئے۔ جس کو بھی پکڑو وہ بیمار بن جاتا ہے۔ جن لوگوں نے پیسہ لوٹا انہیں اب جواب دینا ہو گا‘ احتساب ہو گا تو ہی معیشت مضبوط ہو گی اس کے بغیر ملک پیروں پر نہیں کھڑا ہو سکتا۔
کالم نگار شاہد بھٹی نے کہاکہ وزیراعظم تو پہلے کہتے تھے میں آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاﺅں گا وہ خود آئی ایم ایف کے پاس گئے کیا وزراءپر اعتماد نہیں۔ ریاست مدینہ کی بات کرنے والے کہاں ہیں۔ دعوے کرنا بہت آسان عمل مشکل ہے۔ ملک کے لئے پیسہ اکٹھا کرنا مشکل البتہ چندہ جمع کرنا آسان ہے۔ اتنے وزراءکی فوج کرکے آئی ایم ایف کے پاس خود جانا سمجھ سے باہر ہے یوں لگتا ہے تبدیلی نہیں آئی باری آئی ہے۔ سمت کا تعین بہت ضروری ہے۔ اس بات سے متفق ہوں شاہ محمود قریشی نے مسئلہ کشمیر اجاگر کیا۔
کالم نگار میاں افضل نے کہاکہ کونسی ایسی وجوہات ہیں کہ ہمیں پھر آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا جو دعوے کئے گئے تھے وہ تو ہوا ہو گئے۔ انہوں نے کہا پہلے کی طرح اب بھی کشمیر کمیٹی فعال نہیں ہوئی‘ کشمیر کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی دکھائی نہیں دی۔ ترجیحات بھی واضح کرنا ہوں گی‘ غریب کو ریلیف ملنا چاہئے تاکہ حقیقی تبدیلی نظر آئے۔ سسٹم کی تبدیلی کے لئے سخت فیصلے کرنا بھی ضروری ہے تاکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہوکہ واقعی کام ہو رہا ہے۔
کالم نگار میاں سیف الرحمان نے کہاکہ اپوزیشن شیڈو حکومت ہوتی ہے۔ عمران خان نے اسد عمر پر زیادہ اعتماد کیا تھا لیکن اب خود ہی آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں جس طرح امریکہ کو مار پڑی اس سے حقیقت سامنے آ گئی ہے۔ نوازشریف کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ میں عدالتوں پر اعتماد کرنا چاہئے۔
بڑی ٹیمیں جلد پاکستان کھیلنے کےلئے آئیں گی:طاہرشاہ ، کراچی میں پی ایس ایل کے5میچزکاہوناخوش آئندبات:احسن ناگی کی گگلی میں گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق فرسٹ کلاس کرکٹر طاہر شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں کافی ٹیمیں آنا شروع ہو گئی ہیں تھوڑی سی کوشش کی جائے تو آسٹریلیا کی ٹیم بھی پاکستان آ جاتی بس ذرا بہتر طریقے سے معاملے کو ہینڈل کیا جانا چاہئے تھا۔ جلدبڑی ٹیمیں پاکستان کارخ کریں گی۔چینل فائیو کے پروگرام گگلی میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کو پورے اوورز کھیلنے چاہئیں پہلے آﺅٹ نہیں ہونا چاہئے۔میں سمجھتا ہوں صرف ایک سنچری بنانے سے کوئی بھی بڑا پلیئر نہیں بن جاتا۔سپورٹس صحافی احسن ناگی نے کہا کہ پاکستان میں پی ایس ایل میچز کا کامیاب ہونا بہت ضروری ہے تاکہ دنیا کو قائل کیا جا سکے۔کراچی میںپی ایس ایل ہونا خوش آئند بات ہے۔اگر کوئی ٹیم پاکستان نہیں آتی تو اس کو پی سی بی کی ناکامی نہیں کہا جا سکتا۔انٹرنیشنل کرکٹ کو واپس لانے کا مرحلہ آہستہ آہستہ طے ہو گا۔پی ایس ایل میں پاکستان زیادہ لڑکوں کو موقع دے کر نیا ٹیلنٹ سامنے لا سکتا ہے۔
پاکستان ویمن ٹیم نے ویسٹ انڈیز کیخلاف ون ڈے سیریز جیت کر تاریخ رقم کر دی
دبئی(ویب ڈیسک) پاکستان ویمن ٹیم نے تیسرے ایک روزہ میچ میں ویسٹ انڈیز کو شکست دیکر مہمان ٹیم کے خلاف پہلی بار ون ڈے سیریز اپنے نام کر لی۔دبئی میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان ویمن ٹیم نے ویسٹ انڈیز ویمن کو 4 وکٹ سے شکست دی۔ویسٹ انڈین ویمن ٹیم نے پہلے کھیلتے ہوئے 47.3 اوورزمیں 159 رنز بنا کر آﺅٹ ہوئی۔ویسٹ انڈیز ویمنز کی سات کھلاڑی ڈبل فیگرمیں داخل نہ ہو سکیں۔ پاکستان کی جانب سے نشرہ سندھو اور ڈائنا بیگ نے تین تین کھلاڑیوں کو آﺅٹ کیا۔پاکستان ویمن ٹیم نے مقررہ ہدف 47.2 اوورز میں 6 وکٹ پر حاصل کر لیا۔سدرہ امین نے ایک بار پھر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 52 رنز بنائے جب کہ ندا ڈار نے 26 اور جویریہ خان نے 24 رنز بنائے۔پاکستان نے تین میچوں کی سیریز دو ایک سے اپنے نام کر لی۔پاکستان ویمن ٹیم کی کامیابی پر سابق کپتان وسیم اکرم، یونس خان اور ہیڈ کوچ قومی ٹیم مکی آرتھر کھلاڑیوں کو مبارکباد دینے پہنچ گئے۔پاکستان ویمن ٹیم اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ اپنے سے بہتر رینکنگ والی ٹیم سے سیریز جیتی ہے۔قومی ٹیم کے سابق کپتان یونس خان نے پاکستان ویمن ٹیم کی کپتان بسمہ معروف کو 100 ایک روزہ میچ مکمل کرنے پر پی سی بی کی جانب سے اسپیشل مومنٹو ایوارڈ سے نوازا۔
افغان صدر کی طالبان کو کابل میں دفتر کھولنے کی پیش کش
کابل(ویب ڈیسک) افغانستان کے صدر اشرف غنی نے طالبان کو ملک میں دفتر کھولنے کی پیش کش کی ہے۔افغان صدر نے صوبہ ننگرہار کے ضلع غنی خیل کا دورہ کیا اور وہاں داعش کے خلاف کامیابی پر سیکیورٹی فورسز کو مبارک باد دی۔اس موقع پر افغان نیشنل آرمی سے خطاب کرتے ہوئے صدر اشرف غنی نے کہا کہ طالبان جہاں چاہیں دارالحکومت کابل، صوبہ قندھار یا ننگرہار میں اپنا سیاسی دفتر کھول سکتے ہیں جس کے لیے حکومت ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی اور تحفظ بھی فراہم کیا جائے گا۔اشرف غنی نے کہا کہ وہ افغانستان میں باوقار اور دیرپا امن لانا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے ماسکو کانفرنس میں شرکت پر طالبان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امن مذاکرات کے لیے مکہ جانا بہتر ہے یا ماسکو، مکہ میں ہونے والی امن کانفرنس میں طالبان نے شرکت نہیں کی لیکن ماسکو میں منعقدہ امن مذاکرات میں شرکت کرلی۔دوسری طرف طالبان نے صدر اشرف غنی کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برادری قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ان کے دفتر کو ہی تسلیم کرے۔گذشتہ ماہ قطر میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا اور امن معاہدے پر اتفاق ہوگیا ہے۔ ان مذاکرات میں شریک نہ کرنے پر افغان حکومت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ طالبان امریکا کی بجائے اس سے مذاکرات کریں تاہم طالبان اشرف غنی حکومت کو کٹھ پتلی قرار دیتے ہوئے تسلیم نہیں کرتے اور اس کی کسی بھی پیش کش کو مسترد کردیتے ہیں۔
مکہ مکرمہ میں قتل کا مجرم آخری لمحے میں گردن زنی سے بچ گیا
مکہ مکرمہ(ویب ڈیسک) مکہ مکرمہ کی مسجد التنعیم کے قریب قتل کا مجرم آخری لمحے میں گردن زنی کی سزا سے بچ گیا۔سعودی میڈیا کے مطابق قتل کے سعودی مجرم کا سر قلم کیا جانا تھا اور مقتول کے ورثاءبھی سزا پر عملدرآمد کیلئے مقررہ مقام پر پہنچ چکے تھے۔اس دوران مقامی شہریوں اور غیر ملکیوں کی بھی کثیر تعداد جمع تھی جب کہ سزا کے خوف سے قاتل کا چہرہ بھی زرد پڑگیا تھا۔سزا پر عملدر آمد سے چند ہی لمحوں قبل مقتول کے ورثاءنے قاتل کو معاف کرنے کا اعلان کیا جس پر پورا مجمع ہی حیران رہ گیا۔ مقتول کے ورثاءنے کہا کہ اللہ کی رضا کیلئے اپنے عزیز کے قاتل کو معاف کرتے ہیں۔مقتول کے ورثاءکے اعلان کے ساتھ ہی ہر طرف سے اللہ اکبر اور فریقین کو مبارکباد کی صدائیں گونجنے لگیں۔یاد رہے کہ سعودی عرب میں قتل اور منشیات اسمگلنگ سمیت متعدد جرائم کی سزا موت ہے اور وہاں سزائے موت کا طریقہ سرقلم کیا جانا ہے۔
لبنانی وزیراعظم نے شریف خاندان کو معافی دلوانے کی غلطی تسلیم کرلی، فواد چوہدری
اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ لبنانی وزیراعظم سعد الحریری نے شریف خاندان کو معافی دلوانے کی غلطی تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ شریف خاندان کو معافی دلوانا بڑی غلطی تھی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹوئٹ میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو پرویز مشرف سے این آر او دلوانے والے لبنانی وزیراعظم سعد الحریری نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی، اور ملاقات میں سعد الحریری نے شریف خاندان کو معافی دلوانے کی غلطی تسلیم کی۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے سعدالحریری کو بتایا کہ پاکستان میں پھر نواز شریف کو این آر او کی بازگشت ہے، جس پر لبنانی وزیراعظم نے دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا شریف خاندان کو معافی دلوانا بڑی غلطی تھی، شریف خاندان نے ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا جس پر شرمندگی ہوئی۔
ملکی تجارتی خسارے اور درآمدات میں کمی، برآمدات میں اضافہ ہوگیا،ہماری پالیسی اور ملکی معیشت کی گاڑی بالکل ٹھیک چل رہی ہے،مشیر تجارت
اسلام آباد(ویب ڈیسک) ادارہ شماریات کے مطابق ملکی تجارتی خسارے اور درآمدات میں کمی واقع ہوئی ہے جب کہ برآمدات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ادارہ شماریات کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 19-2018 کے پہلے 7 ماہ میں تجارتی خسارہ 19 ارب 26 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہو گیا ہے۔ادارہ شماریات کے مطابق جولائی تا جنوری تجارتی خسارہ 9 اعشاریہ 66 فیصد کم ہوا جب کہ 7 ماہ میں برآمدات 13 ارب 23 کروڑ 10 لاکھ ڈالر رہیں۔ ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں برآمدات میں 2 اعشاریہ 24 فیصد اضافہ ہوا۔اعلامیے کے مطابق پہلے 7 ماہ میں درآمدات کا حجم 32 ارب 49 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رہا اور گزشتہ سال کے مقابلے میں درآمدات میں 5 اعشاریہ 17 فیصد کمی ہوئی۔ادارہ شماریات نے بتایا کہ جنوری 2019 میں تجارتی خسارہ 2 ارب 46 کروڑ 10 لاکھ ڈالر رہا اور جنوری 2018 کے مقابلے میں گزشتہ ماہ میں تجارتی خسارہ 31 اعشاریہ 74 فیصد کم ہوا۔ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ جنوری میں برآمدات 2 ارب ڈالر سے زائد رہیں جب کہ گزشتہ ایک ماہ میں درآمدات 4 ارب 50 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہیں جس میں جنوری 2018 کے مقابلے میں 19 فیصد کمی ہوئی ہے۔ادارہ شماریات کے مطابق جنوری 2019 میں برآمدات میں 4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔یاد رہے کہ وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داﺅد کا کہنا ہے کہ ہماری پالیسی اور ملکی معیشت کی گاڑی بالکل ٹھیک چل رہی ہے جب کہ روپے کی قدر میں کمی کا فائدہ آئندہ 5 ماہ میں نظر آئےگا۔
نوازشریف خرابی صحت کا بہانہ بنا کر این آر او مانگ رہے ہیں، فیاض الحسن چوہان
راولپنڈی(ویب ڈیسک) وزیراطلاعات و ثقافت پنجاب فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ نوازشریف علاج کے بہانے لندن جانا چاہتے ہیں لیکن یہ کسی بھی صورت ممکن نہیں ہو سکے گا۔راولپنڈی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے صوبائی وزیراطلاعات و ثقافت پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس نوازشریف کی دل کی بیماری کا علاج موجود ہے مگر ان کے دل کی خواہش پوری نہیں کرسکتے کیونکہ وہ علاج کے بہانے لندن جانا چاہتے ہیں اور اب یہ کسی بھی صورت ممکن نہیں ہو سکے گا۔فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ جیل میں نوازشریف بیماری کے بہانے ہسپتال جانے کا کہتے ہیں اور ہسپتال پہنچ کر ان کو جیل کی یاد ستانا شروع ہو جاتی ہے، نوازشریف خرابی صحت کا بہانہ بنا کر این آر او مانگ رہے ہیں جب کہ ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان ذاتی مفادات کے تحت جھوٹ بول رہے ہیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نوازشریف کے دل کے معائنہ کے لئے ایک ماہ میں 4 میڈیکل بورڈ تشکیل دیئے گئے لیکن ان کی تسلی کبھی بھی ممکن نہیں کیونکہ اب ان کے لئے یوم حساب آ چکا ہے اور وہ کسی بھی بہانے سے راہ فرار کی تلاش میں ہیں۔
آئی ایم ایف سے معاہدے کے قریب آگئے ہیں،ضرورت اس بات کی ہے کہ اس معاہدے کو آخری بنائیں، اسد عمر
پشاور(ویب ڈیسک) وزیرخزانہ اسد عمرنے کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے قریب آگئے ہیں اورضرورت اس بات کی ہے کہ اس معاہدے کو آخری بنائیں۔پشاورمیں چیمبر آف کامرس میں اپنے خطاب میں وزیر خزانہ اسد عمرنے دعوی کیا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے قریب آگئے ہیں، آئی ایم ایف اور پاکستان کے اعدادو شمار کے فرق میں کمی آئی ہے، آئی ایم ایف نے اپنی پوزیشن بدلی ہے، ان سے اچھا معاہدہ ہوگا اورضرورت اس بات کی ہے کہ اس معاہدے کو آخری بنائیں۔اسد عمر نے کہا کہ ٹیکس نیٹ بڑھائے بغیرملک ترقی نہیں کرسکتا، پاکستان کو باہر سے آکر کوئی ٹھیک نہیں کرے گا، ہم ہی اسے ٹھیک کریں گے، ہم بہتر فیصلے کریں گے تو معیشت بہتر ہو گی اور یہ صرف سرمایہ کاری سے ہوگا، باتیں بہت ہوگئیں اب کام شروع کرنا ہے، ٹیکس نیٹ کا دائرہ وسیع کرنا ضروری ہے اس کے بغیرملک آگے نہیں بڑھے گا، ایف بی آرکے چھاپوں اور اور آڈٹ سے ٹیکس نہیں بڑھے گا۔اسد عمر نے کہا کہ حکومت نہ کسی کے ساتھ ڈیل کررہی ہے اور نہ کسی کو ڈھیل دینی ہے اور یہ بات لبنانی وزیراعظم سعد حریری کو بھی بتادی ہے جبکہ سعد حریری نے بھی کہا ہے کہ اس معاملے پر اب کوئی بات نہیں ہوگی۔ پے پیل مجھ سمیت کسی حکومتی ادارے کی ڈیسک پر نہیں رکا ہوا، ہم نے تو اس حوالے سے اقدامات اٹھائے ہیں۔ جو نوجوان گھر بیٹھے کام کرتے ہیں ان کے لیے یہ روزگار کا زبردست ذریعہ ہے، پے پیل یا کوئی اچھا آن لائن پیمنٹ سسٹم نہ ہونے سے انہیں مشکلات ہورہی ہیں۔وزیرخزانہ نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تجارت کے ذریعے تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں، ایران اورافغانستان کے ساتھ تجارت کو ہر صورت بڑھانا ہے، افغانستان میں امن کے لئے پاکستان جو کچھ کرسکتا ہے اس کو کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں مزید بجلی کے منصوبے شروع کرنے کی ضرورت ہے، قبائلی علاقوں میں اصلاحات لارہے ہیں، صوبوں کواس کے حقوق ملنے چاہیں، جس چیمبر میں بھی جاتاہوں وہاں یہ گلہ رہتا ہے کہ یہاں اس سے پہلے کوئی وزیرخزانہ نہیں آیا، ایسے چیمبرز بھی گیا ہوں جہاں سات سال سے وزیرخزانہ نہیں گیا ہے۔اسد عمرنے کہا کہ خیبر پختونخوا میں بجلی اور گیس کی زیادہ پیداوار ہے، وزیراعظم نے ان دو شعبوں پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی ہے، تیسرا شعبہ یہاں سیاحت ہے جس کو فروغ دینا ہے، اگر کسی کو ان کے گھر کے پاس نوکری دینی ہے تو وہاں سیاحتی مقامات پر کام کرنا ہوگا، چوتھی خوبی پشاور کی یہ ہے کہ یہ وسطی ایشیاءکا مرکزی خطہ ہے جو ہماری خوش قسمتی ہے۔ اسد عمرنے خیبر پختونخوا میں سیاحت کو فروغ دینے کے ساتھ ہمسایہ ممالک سے تجارت بڑھانے کی ضرورت پربھی زوردیا۔
اصغرخان کیس؛ پاک فوج کو ملوث افسران کیخلاف 4 ہفتے میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم
اسلام آباد(ویب ڈیسک) اصغرخان عملدرآمد کیس میں سپریم کورٹ نے پاک فوج کو ملوث افسران کے خلاف 4 ہفتے میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیدیا۔ سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں اصغرخان عملدرآمد کیس کی سماعت کی، اس موقع پر جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ فوجی افسران کیخلاف کورٹ مارشل کی کارروائی کیوں شروع نہیں ہوئی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ انکوائری میں شواہد سامنے آنے پر کورٹ مارشل ہوگا۔عدالت نے پاک فوج کو ملوث افسران کے خلاف 4 ہفتے میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ انکوائری مکمل کرکے رپورٹ پیش کی جائے جب کہ ایف آئی اے رپورٹ کا جائزہ وزارت دفاع کے جواب کیساتھ لیا جائے گا۔
پس منظر؛
اکتوبر 2012 میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ایئرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان کی درخواست پر 1990ءکے الیکشن میں دھاندلی سے متعلق کیس کا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے 1990ء کے انتخابات میں دھاندلی اور سیاسی عمل کو آلودہ کرنے پر سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اسد درانی کے خلاف وفاقی حکومت کو قانونی کارروائی کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم اس فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کےلیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر ہوئی جسے اصغر خان عملدرآمد کیس کا نام دیا گیا اور گزشتہ سال مئی میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ان دونوں سابق اعلیٰ فوجی افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔
خیسور واقعہ؛ متورکئی کے قتل کی ذمہ دار پی ٹی ایم قیادت ہے، بھائی پرخے جان
شمالی وزیر ستان(ویب ڈیسک) خیسور واقعہ میں پشتون تحفظ موومنٹ کے الزامات کا پول کھولنے والے شخص کے قتل کی ذمہ داری پی ٹی ایم کی قیادت پر عائد کی گئی ہے۔خیسور واقعہ پر ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان کی رپورٹ سامنے آگئی اور مقتول متورکئی کے بھائی پرخے جان نے قتل کی ذمہ داری منظور پشتین، محسن داوڑ اور علی وزیر سمیت 6 افراد پر عائد کردی۔تحصیلدار میرعلی نے ڈپٹی کمشنر کو رپورٹ جمع کروا دی جس میں مقتول متورکئی کے بھائی پرخے جان کا بیان بھی شامل ہے جس میں اس نے کہا کہ 2،3 ہفتوں قبل حیات خان کی غلط بیانی پر مبنی ویڈیو سامنے آئی تھی، لیکن میرا بھائی متورکئی خیسور واقعے کے حوالے سے تمام دنیا کو اصل حقائق بتانا چاہتا تھا جس پر اسے قتل کردیا گیا، پی ٹی ایم نے میرا اور میرے بھائی کا گھر گرانے کی بھی کوشش کی۔پرخے جان نے کہا کہ ڈی آئی خان میں وزیر جرگہ کے ذریعہ ہمارے گھر گرانے کی کوشش کی گئی، ناکامی پر مجھے اور میرے بھائی کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں، 9 فروری کو دو موٹرسائیکل سواروں نے نورنگ لکی مروت میں مجھ پر فائرنگ کی تاہم میری جان بچ گئی، مگر 10 فروری کو میرے بھائی گل شماد خان عرف متورکئی کو قتل کردیا گیا۔پرخے جان نے کہا کہ میرے بھائی کے قتل کی ذمہ داری منظور پشتین، محسن داوڑ، علی وزیر، مالک نصراللہ پر عائد ہوتی ہے، ان کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر گل عالم اور عید رحمان بھی اس قتل میں ملوث ہیں، یہ تمام افراد غیر قانونی جرگے اور خیسور واقعہ کے ذمہ دار ہیں۔جنوری میں شمالی وزیرستان کے علاقے خیسور میں ایک بچے حیات خان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی جس میں اس نے الزام لگایا کہ اس کے والد اور بڑے بھائی کو چار ماہ قبل مبینہ طور پر سیکورٹی فورسز اپنے ساتھ لے گئیں، اور پھر تلاشی لینے کے بہانے گھر میں گھس کر چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا جاتا ہے۔بچے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک اور ویڈیو سامنے آئی جس میں متورکئی نامی شخص نے بچے حیات خان کو اپنا بھانجا کہتے ہوئے اس کے الزامات کی تردید کی۔ تاہم اتوار کو متورکئی کو خیسور میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔


















