22 فروری سے پنجاب بھر میں صحت سہولت کارڈ جاری کرنیکا اعلان

لاہور (جنرل رپورٹر) صوبائی وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ پنجاب بھر میں صحت سہولت کارڈ کا 22 فروری سے اجراءکر دیا جائے گا۔ اس سہولت کے تحت 7لاکھ 20ہزار روپے کے صحت سہولت کارڈکے ذریعے 72 لاکھ خاندانوں کے ساڑھے تین کروڑ افراد مستفید ہوں گے۔ پہلے مرحلہ میں صوبہ پنجاب کی 50 فیصد آبادی میں صحت سہولت کارڈ تقسیم کر دیا جائے گا۔ سابقہ حکومتوں کی طرح زبانی جمع خرچ نہیں بلکہ صحت سہولت کارڈ پروگرام کا باقاعدہ چیک اینڈ بیلنس رکھا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج ڈی جی پی آر میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر سپیشل سیکرٹری شکیل احمد، ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز پنجاب امجد حسین بھٹی و دیگر موجود تھے۔صوبائی وزیرصحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے اس موقع پر مزید کہا کہ صحت سہولت کارڈ کے اجراءکا بنیادی مقصد اس غریب کو شعبہ صحت میں زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا ہے جو اپنے سمیت اہل خانہ کا کسی بھی مہلک بیماری کا شکار ہونے کی صورت میں سرکاری و نجی ہسپتالوں میں مفت علاج معالجہ نہیں کروا سکتا۔ مریض صحت سہولت کارڈ کے ذریعے کسی بھی ہسپتال میں مہلک بیماری کے علاج معالجہ کے لئے 7 لاکھ 20 ہزار روپے تک مفت سہولت حاصل کر سکے گا۔ پنجاب بھر کے دوردراز علاقوں سے افراد لاہور آ کر اس سہولت سے مستفید ہو سکیں گے۔ ماہ مارچ کے آخر تک 4 اضلاع میں 8لاکھ صحت سہولت کارڈز تقسیم کر دیئے جائیں گے۔ صحت سہولت کارڈز میں ہسپتال تک آنے کے لئے مریض کو ایک ہزار روپے تک کی سہولت دی گئی ہے۔ مریض صحت سہولت کارڈ کے ذریعے حادثات میں ہیڈانجری، نیوروسائنسز، کارڈیوویسکلر، شوگر، ڈائیلاسز، ہیپاٹائٹس، جگر، ایچ آئی وی، انجیوپلاسٹی، برین سرجری اور کینسر جیسی بیماریوں کے علاج معالجہ کے لئے مفت علاج کروا سکیں گے۔ ماں اور بچہ کی صحت کو یقینی بنانے کے لئے بھی ترجیحی بنیادوں پراقدامات اٹھا رہے ہیں۔ ہمارے معاشرے کی اکثریت سفید پوش ہے جن کو کسی بھی بیماری کی صورت میں علاج معالجہ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صحت سہولت کارڈز کی معیاد تین سال ہو گی جس کے بعد دوبارہ ری نیو کروانے کی سہولت بھی میسر ہو گی۔ دسمبر کے آخر تک پورے پنجاب میں تمام صحت سہولت کارڈز تقسیم کر دیئے جائیں گے۔ مجموعی طور پر پنجاب میں 72لاکھ صحت سہولت کارڈز کے ذریعے ساڑھے تین کروڑ افراد کو سہولت دی جا سکے گی۔ سابق دور حکومت میں کارڈز صرف سیاسی بنیادوں پر تقسیم کئے گئے جن کا علاج معالجہ صرف شریف میڈیکل کمپلیکس اور اتفاق ہسپتال سے ہی ممکن تھا۔ سابق دور کے صحت سہولت کارڈ کی تقسیم میں ڈھائی ارب روپے کی واجبات موجودہ حکومت کو ادا کرنے پڑے۔ پنجاب کی عوام میں صحت سہولت کارڈز کی مد میں 7ارب روپے بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے اس موقع پر مزید کہا کہ صحت سہولت کارڈز کی اہمیت کا پیمانہ متعلقہ اضلاع کے کمشنراور ڈپٹی کمشنر کو بتا دیا گیا ہے جو قوانین و ضوابط پر مبنی ہو گا۔ صحت سہولت کارڈ کی سہولت میرے سمیت پنجاب کے عوام کے ٹیکس کے پیسہ سے دی جا رہی ہے جس کے ایک ایک پیسہ کا حساب کتاب رکھا جائے گا۔ نیشنل اکنامک سروے کے ذریعے ہر ضلع میں صحت سہولت کارڈ کے اصل حقدار کا معیار طے کیا جائے گا۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ویژن کے مطابق پنجاب سمیت پورے پاکستان میں عوام کو صحت سہولت کارڈز کا تحفہ دیا گیا ہے۔ ہم دعوﺅں سے نہیں ایمانداری سے کام کر کے دکھائیں گے اور عوام کو سوفیصد ریلیف دینے پر یقین رکھتے ہیں۔ ہسپتالوں میں مریضوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے جس کو یقینی بنانے کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔

پتنگ بازی پر پابندی کا قانون پورے صوبے میں نافذ کیا جائے: عثمان بزدار

لاہور (خبر نگار) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے فیصل آباد میں پتنگ بازی کے واقعات پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے پتنگ بازی کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او فیصل آباد اور کمشنر فیصل آباد ڈویژن سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیراعلیٰ نے فےصل آباد کے علاقے رحمانیہ روڈ پر ڈور پھرنے سے موٹر سائیکل سوار نوجوان کے جاں بحق ہونے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کو جاں بحق نوجوان کی رہائش گاہ پر جا کر لواحقین سے اظہار ہمدردی اور دلجوئی کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر فرائض سے غفلت برتنے پر تھانہ فیکٹری ایریا کے ایس ایچ او کو معطل کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے سعودی عرب سے پولےس حکام اور انتظامےہ کو ہدایات جاری کی ہیں کہ پتنگ بازی پر پابندی کے قانون پر صوبہ بھر میں سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور خلاف ورزی کرنےوالوں کےخلاف قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ پتنگ بازی کے واقعات کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات کئے جائیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے پاکستان کی انٹر نیشنل خاتون سائیکلسٹ اور ساو¿تھ ایشین میڈلسٹ صبیحہ زاہد کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھکر کے علاقے دریا خان موڑ پر ٹریفک حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاح پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

غیر قانونی اثاثہ جات : زرداری کیخلاف کیس دوبارہ کھل گیا

راولپنڈی (آن لائن،صباح نیوز‘ مانیٹرنگ ڈیسک) نیب راولپنڈی نے سابق صدر کے خلاف اثاثہ جات کیس میں بریت کے خلاف اپیل ری اوپن کرادی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق آصف علی زرداری کے خلاف شکنجہ سخت ہوگیا، نیب راولپنڈی نے سابق صدر کے خلاف اثاثہ جات کیس میں بریت کے خلاف اپیل ری اوپن کرادی۔ نیب نے اپنی اپیل میں موقف اختیار کیا کہ آصف زرداری کے خلاف ریفرنس مضبوط ہے اور اس میں مزید شواہد بھی مل چکے لہذا بریت ختم کرکے ملزم کو کڑی سزا اور نااہل قرار دیا جائے۔ دوسری جانب جسٹس قاسم خان نے نیب کی درخواست منظور کرتے ہوئے اپیل 6 مارچ کو سماعت کے لئے مقرر کردی جب کہ ہائی کورٹ نے احتساب عدالت کو نوٹس کرتے ہوئے ریکارڈ بھی طلب کر لیا۔واضح رہے کہ راولپنڈی کی احتساب عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری کو غیر قانونی اثاثہ جات ریفرنس کیس میں بری کردیا تھا۔ دوسری جانب جسٹس قاسم خان نے نیب کی درخواست منظور کرتے ہوئے اپیل 6مارچ کو سماعت کیلئے مقرر کردی جبکہ ہائی کورٹ نے احتساب عدالت کو نوٹس کرتے ہوئے ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔ واضح رہے کہ راولپنڈی کی احتساب عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری کو غیرقانونی اثاثہ جات ریفرنس کیس میں بری کردیا تھا۔

رواں ماہ بھی بارشوں اور برفباری کی پیشگوئی، ریکارڈ ٹوٹ جانے کا امکان

اسلام آباد(صباح نیوز)رواں ماہ بھی ملک بھر میں بارشوں اور پہاڑی علاقوں میں شدید برفباری کی پیشگوئی کی گئی ہے، رواں ماہ فروری میں بھی بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے ،پہاڑی علاقوں میں برفباری سے سابقہ تمام ریکارڈ ٹوٹ جانے کا امکان ہے ،رواں ماہ پاکستان بھر میں 4 سے 5 بارش برسانے والے سلسلے داخل ہونے کا امکان ہے اور نئے سلسلوں کے داخل ہونے سے پورے ملک کے طول و عرض میں بارشیں ہوں گی اور ان بارشوں کے باعث سندھ اور بلوچستان کے خشک اور قحط زدہ علاقوں میں بھی صورتحال بہتر ہو جائے گی۔محکمہ موسمیات نے پہاڑی علاقوں میں بھی شدید برفباری کی پیشگوئی کی ہے اور کہا کہ برفباری کا نیا سلسلہ اگلے 72 گھنٹوں کے بعد شروع ہوجائے گا، ملکہ کوہسار مری میں پے درپے برفباری کے سلسلے آئیں گے اور موجودہ عالمی موسمیاتی کیفیت کے مطابق مری کی تاریخ کے تمام سابقہ ریکارڈز ٹوٹ جانے کا امکان ہے، جبکہ بارشوں اور برفباری کے باعث فروری کے دوران درجہ حرارت معمول سے 8سے 10سینٹی گریڈ کم رہنے کا اندیشہ ہے۔

عاقب کوپی ایس ایل میںڈ ویلئیرز سے بڑی توقعات

دبئی(آئی ا ین پی) پاکستان سوپر لیگ کی فرنچائز لاہور قلندرز کے کوچ اور ڈائریکٹر کرکٹ عاقب جاوید پر امید ہیں کہ کپتان محمد حفیظ 14فروری کو کھیلے جانے والے ایونٹ کے افتتاحی میچ میں ایکشن میں ہوں گے اور اے بی ڈویلیرز کی موجودگی میں قلندرز کی بیٹنگ محفوظ ہاتھوں میں ہے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے عاقب جاوید نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پہلے تین سیزن میں نتائج کے اعتبار سے لاہور قلندرز خاصے پیچھے رہے، البتہ اس بار بہتر نتائج کے معاملے میں انھیں اپنی ٹیم سے بڑی توقعات ہیں۔عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ لاہور قلندرز متوازن ٹیم ہے اور سب سے بڑھ کر محمد حفیظ کی کپتانی اہم پہلو ہے جب کہ مایہ ناز کھلاڑی اے بی ڈی ویلئیرز کی موجودگی میں قلندرز کی بیٹنگ کوئی دو رائے نہیں کہ محفوظ ہاتھوں میں ہے۔38سالہ آل رانڈر محمد حفیظ دورہ جنوبی افریقا میں ہیمسٹرنگ انجری کے سبب تین ٹی ٹوئنٹی میچز نہیں کھیل سکے تھے تاہم عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ محمد حفیظ کی فٹنس رپورٹ خاصی مثبت ہے اور یقین رکھتے ہیں کہ اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف ایونٹ کے افتتاحی میچ میں محمد حفیظ ہی لاہور قلندرز کی قیادت کرتے دکھائی دیں گے۔فخر زمان کی حالیہ کارکردگی کے تناظر میں پوچھے گئے سوال پر عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ لیگ کرکٹ کے معاملات قدرے مختلف ہوتے ہیں اور یو اے ای کی پچز ہیں، جہاں وہ سمجھتے ہیں کہ بائیں ہاتھ کے بیٹسمین مایوس نہیں کریں گے۔افتتاحی میچ پر گفتگو کرتے ہوئے عاقب جاوید نے کہا کہ یہ ہمارے لئے پہلا تجربہ ہے، پہلے تین سیزن میں ہم کبھی پہلا میچ نہیں کھیلے، اس بار ہمیں یہ موقع مل رہا ہے تاہم ہم پر کوئی دبا نہیں۔انہوں نے کہا کہ لاہور قلندرز کے لئے پہلا میچ ہی نہیں پہلے تین میچ اہمیت کے حامل ہیں جو انہیں چار دن میں کھیلنا ہوں گے۔

افتتاحی میچ میں ٹاس کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے عاقب جاوید کا خیال تھا کہ اگر ‘اوس’ ہوئی تو یقینا اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

پریانکا گاندھی کی سیاسی زندگی شروع، لکھنو میں شاندار استقبال

لکھنو(آئی این پی)بھارت میں لکھنو کے مقام پر پرینکا گاندھی کا روڈ شو دوپہر تقریبا12 بجے اموسی ائیرپورٹ سے شروع ہوا۔ اس دوران 30 جگہوں پر پرینکا گاندھی کا قافلہ ٹھہرتے ہوئے 9گھنٹے بعدکانگریس پارٹی کے دفترپہنچا۔بھارتی میڈیا کے مطابق اپنی سیاسی اننگز شروع کرنے کے بعد پیر کے روز پرینکا گاندھی نے لکھنو میں پہلا میگا روڈ شو شروع کیا۔ائیرپورٹ کے باہر کثیر تعداد میں شہری کی ممتاز سیاسی و سماجی شخصیات اوراہالیان لکھنو وپارٹی کارکنان نے پرجوش استقبال کیا۔ روڈ شو میں بس پر پرینکا گاندھی کے ساتھ راہول گاندھی ، جیوترادتیہ سندھیا اور کانگریس کے دیگر اہم رہنما سوارہوئےاور بس کی چھت پر کھڑے ہاتھ ہلا کر لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور عوامی کے نعروں کی جواب دیا۔روڈ شوکے دوران رابرٹ واڈرا نے فیس بک پرجذباتی اندازمیں تحریرکیاکہ ہم پرینکا کو ملک کے حوالے کرتے ہیں۔پرینکا کی ریلی جیسے جیسے کانگریس صدر دفتر کی جانب بڑھتی رہی بھیڑ میں اضافہ ہوتا گےا۔جگہ جگہ سڑکوں پرچوکیدار چور ہے کا نعرہ بھی لگاتے رہے ۔ اس درمیان بعض لوگوں نے اپنے جسم پر چوکیدار چور ہے نعرہ بھی پینٹ کر ارکھا تھا ۔ مرد وخواتین اور نوجوانوں کا ہجوم ہاتھوں میں پارٹی کا جھنڈا لئے ان کا خیر مقدم کرتا ہوا نظر آیا۔بعض لوگ پرینکا گاندھی کو اتر پردیش کا مستقبل قرار دے رہے ہیں۔ان کی آمد سے بی جے پی والوں کی حالت خستہ ہو گئی ۔ کچھ لوگ نعرہ لگا رہے تھے کہ رائے بریلی کا طوفان، بدلے سارا ہندوستان۔ پرینکا کی سیاست میں آنے کے بعد کارکنان کا جوش اس ریلی میں بھی کھل کر سامنے آ گیا ۔ جگہ جگہ کانگریس کارکنان پرینکا نہیں یہ آندھی ہے، آج کی اندرا گاندھی ہے کے نعرے بھی لگا رہے ہیں۔ مکانات کی چھتوں ، سڑکوں اور دیواروں پر پرینکا گاندھی کے چاہنے والے کانگریس کا پرچم لیے ان کا استقبال کیا۔ کانگریس کارکنان اور عوام کی بھیڑ اس قدر زیادہ ہے کہ پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کو ٹریفک اژدہام کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔پرینکا گاندھی کا قافلہ کانگریس دفتر کی طرف رواں دواں ہے اورلوگ بیحد پرجوش نظرآ ئے۔واضح ہو کہ پرینکا گاندھی4 روزہ دورے پرلکھنآئی ہوئی ہیں اس دوران کئی اہم میٹنگ اور اجلاس ہونگے۔

لندن: بوڑھی خاتون کلمہ پڑھتے ہی اللہ کو پیاری ہو گئی :ویڈیو وائرل

لندن (آن لائن) ہم اکثر ہی کئی لوگوں کے اسلام قبول کرنے اور دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی خبریںسنتے ہیں لیکن حال ہی میں لندن میں مقیم ایک ضعیف عمر خاتون کے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اسلام قبول کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس نے سب کی توجہ حاصل کر لی۔ اس ویڈیو میں خاتون کو اپنی زندگی کی آخری سانسیں لیتے اور اسلام قبول کرتے دیکھا گیا۔ اس ویڈیو کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کے علاوہ دیگر سائٹس پر بھی زیادہ سے زیادہ شئیر کیا گیا۔ اس ویڈیو میں خاتون کو کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کرتے اور کلمے کا ترجمہ پڑھتے ہوئے بھی سنا گیا۔ فیس بک پر جاری پوسٹ کے مطابق ضعیف عمر خاتون اسپتال میں زیر علاج تھیں اور انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں مدد کے لیے پکار رہی تھیں۔ ویڈیو بنانے والے شخص نے بتایا کہ میں جیسے ہی ان کے پاس گیا انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں اسلام قبول کرنا چاہتی ہوں ، کیا تم میری مدد کر سکتے ہو ؟ جس کے بعد ویڈیو بنانے والے شخص نے ضعیف خاتون کو کلمہ پڑھا کر انہیں اسلام قبول کروایا جس کے بعد وہ پر سکون انداز میں ابدی نیند سو گئیں۔پوسٹ کے آخر میں یہ بھی تحریر تھاکہ جب اللہ تعالی کسی شخص کو رہنمائی عطا کرنے کا دعوی کرتے ہیں تو کوئی بھی اس شخص کو بھٹکا نہیں سکتا۔ اس پوسٹ کے مطابق ضعیف خاتون اسلام قبول کرنے کے فوری بعد ہی خالق حقیقی سے جا ملیں۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس ویڈیو کو بے حد پسند کیا اور اسے زیادہ سے زیادہ شئیر کیا گیا۔سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں بلا شبہ اسلام ہی سچا مذہب اور دین حق ہے۔ تاقیامت کئی لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوتے رہیں گے۔

علی ظفر ، ہمایوں سعید ،ماہرہ فلم فیسٹیول میں شرکت کیلئے بھارت جانے کو تیار

کراچی (شوبزڈیسک) پاکستانی ٹی وی و فلم سٹارز بھارتی فلم فیسٹیول میں شرکت کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہوگئے۔ نامور فنکار علی ظفر، ہمایوں سعید، ماہرہ خان اور دیگر نے 25 فروری سے نیو دہلی میں ہونے والے ”انڈس ویلی انٹر نیشنل فلم فیسٹیول“ میں جانے کیلئے شیڈول ترتیب دیدیا۔ اداکارہ ماہرہ خان پی ایس ایل کے چوتھے سیزن میں پشاور زلمی کی برانڈ ایمبیسیڈر ہونے کی بنا مشکلات کا شکا رہیں وہ صرف ایک دن جانے کی اجازت مانگ رہی ہیں۔ اس فیسٹیول میں 12 پاکستانی فلمیں پیش کی جائیں گی۔

وزیر اعظم عمران خان آج تھل ایکسپریس کا افتتاح کریں گے

ملتان (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان کے احکامات پر ملتان اور راولپنڈی کے درمیان بحال کی جانے والی تھل ایکسپریس کا افتتاح (آج) منگل کو ہوگا، وزیراعظم عمران خان صبح سات بجے راولپنڈی ریلوے اسٹیشن پر تھل ایکسپریس کا افتتاح کریںگے۔ ملتان سے بھی صبح سات بجے ٹرین راولپنڈی کے لئے روانہ ہوگی۔ ٹرین کی روانگی کے موقع پر راولپنڈی میں ہونے والی تھل ایکسپریس کی افتتاحی تقریب ملتان ریلوے اسٹیشن پر براہ راست دکھائی جائے گی۔ ٹرین کی روانگی کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں۔ اس موقع پر ملتان ریلوے اسٹیشن کو خوبصورتی سے سجایاگیا ہے۔ ملتان سے راولپنڈی تک جن ریلوے اسٹیشنوں پر اس ٹرین کاسٹاپ ہے وہاں بھی سجاوٹ کا اہتمام کیاگیا ہے۔ مختلف بینرز آویزاں ہیں جن پر وزیراعظم عمران خان اور وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کی تصاویر لگائی گئی ہیں۔وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد بھی ٹرین کے ذریعے ملتان پہنچیں گے۔ڈویژنل سپرٹننڈنٹ ریلوے ملتان ڈویڑن امیرمحمدداﺅدپوتااپنے ڈویژنل ا فسران کے ہمراہ کندیاں اسٹیشن پروفاقی وزیربرائے ریلوے شیخ رشیداحمد کااستقبال کریں گے اور ان کے ہمراہ ملتان کینٹ اسٹیشن تک آئیں گے۔ ملتان کینٹ اسٹیشن پہنچنے پرڈپٹی ڈی ایس صائمہ بشیروفاقی وزیرکااستقبال کریں گی۔

اصغر خان کیس : سپریم کورٹ کا پاک فوج کے ملوث افسروں کیخلاف 4 ہفتے میں انکوائری مکمل کرنیکا حکم

اسلام آباد (آئی ا ین پی‘ این این آئی) سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس میں پاک فوج کے ملوث افسران کے خلاف 4 ہفتے میں انکوائری مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا ،عدالت نے قرار دیا کہ ایف آئی اے رپورٹ کا جائزہ وزارت دفاع کے جواب کے ساتھ لیا جائے گا،جائزہ لیں گے کہ عدالتی حکم پر عمل ہوا یا نہیں۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے اصغر خان کیس کی سماعت کی ، بینچ میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل تھے ، سابق وفاقی وزیرعابدہ حسین عدالت میں پیش ہوئیں ، عابدہ حسین اصغرخان کیس میں اہم فریق ہیں۔سماعت میں جسٹس گلزار نے کہا ایسامعلوم ہوتا ہے ایف آئی اےہاتھ اٹھاناچاہتی ہے، اٹارنی جنرل بتائیں کورٹ مارشل کی بجائے تفتیش کیوں ہورہی ہے، فوجی افسران کے خلاف وزارت دفاع نے کورٹ ماشل کے لیے کارروائی کیوں شروع نہیں کی؟ جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کورٹ مارشل سے پہلے تفتیش کرناقانونی تقاضاہے۔جسٹس اعجاز نے استفسار کیا ریٹائرمنٹ سے کتنے عرصے بعدتک کورٹ مارشل ہوسکتاہے؟جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد معاملہ آگے چلے گا، فراڈ ہو یا قومی خزانے کو نقصان پہنچے تو کسی بھی وقت کورٹ مارشل ہوسکتا ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے اس موقع پر کہا کہ اصغر خان کیس میں 28 سال پہلے 184 کروڑ روپے کی رقم استعمال ہوئی۔بینچ کے سربراہ جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا بانی ایم کیو ایم اور ایم کیو ایم کو بھی پیسے ملے تھے، کیس میں ان کا نام سامنے آیا نا ہی ایف آئی اے رپورٹ میں۔ جسٹس گلزار نے کہا اس میں پبلک منی کاہی معاملہ ہے، ایف آئی اے نے کہا بینکوں میں 28سال سے پہلے کا ریکارڈ موجود نہیں، اسی لئے ہمیں کوئی ثبوت حاصل نہیں ہوپا رہے، ایساہے توبینکوں کے صدورکوبلاکرپوچھتے ہیں کیا معاملہ ہے، اگلہ اقدام دونوں رپورٹس کا مشترکہ جائزہ لیکر کریں گے۔اٹارنی جنرل نے جواب میں کہا کہ ایف آئی اے رپورٹ میں بانی ایم کیو ایم کا نام تھا، وہ بانی پاکستان میں نہیں ہیں اس حوالے سے برطانوی حکومت کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ بانی ایم کیو ایم اور چند دیگر ملزمان کی حوالگی کے لیے بات چیت جاری ہے، بہت جلد اہم پیش رفت متوقع ہے۔عدالت نے 4 ہفتے کے اندر پاک فوج کے ملوث افسران کے خلاف انکوائری مکمل کرتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔عدالت نے قرار دیا کہ ایف آئی اے رپورٹ کا جائزہ وزارت دفاع کے جواب کے ساتھ لیا جائے گا اور جائزہ لیں گے کہ عدالتی حکم پر عمل ہوا یا نہیں،وقت مانگاگیاہے اسی لئے مزیدسماعت ملتوی کی جاتی ہے۔بعد ازاں سپریم کورٹ میں اصغرخان کیس کی سماعت 4ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔

سانحہ مشرقی پاکستان کی ذمہ دار سیاسی جماعتیں ، بھٹو نے معیشت کو برباد کیا ، بینظیر دور میں کویت نے پاکستان میں آئل ریفائزی لگانے کا فیصلہ کیا، مگر منصوبہ ناکام بنادیا گیا: سابق سفیرمشتاق اے مہرکی چینل ۵کے پروگرام ” ڈپلو میٹک انکلیو “ میں گفتگو

اسلام آباد (انٹر ویو :ملک منظور احمد ،تصاویر :نکلس جان) سابق سفیر مشتاق اے مہر کا کہنا ہے کہ پاکستان اور اور بھارت کے درمیان بنیادی مسئلہ کشمیر کا ہے، اگر پا کستان اور ہندوستان باہمی تجارت شروع کر دیں تو تعلقات میں بہتری آسکتی ہے ، جب تک ملک سے کرپشن کا خاتمہ نہیں کیا جاتا ملک ترقی نہیں کر سکتا، سی پیک پا کستان کے لیے اہم موقع ہے ،اس منصوبے کے تحت برآمدات کو بڑھانے والی صنعتوں کو فروغ دینا ہو گا ۔سانحہ مشرقی پا کستان کو ہماری اشرافیہ درست طور پر ہینڈل نہ کرسکی انھوں نے سول نا فرمانی کو خانہ جنگی میں بدل دیا ۔ ذوالفقار بھٹو کی غلط پا لیسیوں کے باعث صنعت تباہ ہوگئی، ذوالفقار بھٹو ملک میں چین کی طرز پر ون پا رٹی سسٹم اور کیمونیزم لانا چاہتے تھے ،بنگلہ دیش میں جب بھی عوامی لیگ کی حکومت آتی ہے پا کستان مخالف پالیسی لے کر چلتی ہے ،اگر ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری لانی ہے تو نیب کو ختم کرنا ہو گا ۔پاکستان غریب ملک نہیں ہے وسائل کی منصفانہ تقسیم کی ضرورت ہے ،ان خیالات کا اظہار انھوں نے چینل فا ئیو کے پروگرام ڈپلومیٹک انکلیو میں خصوصی انٹر ویو دیتے ہوئے کیا ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مشتاق مہر کا کہنا تھا کہ ہماری فارن پالیسی کے دو فیز رہے ہیں ،ایک 1947ءسے لے کر1970ءتک اور دوسرا اس کے بعد کا ،ہماری فارن پالیسی کا بنیادی مقصد یہ ہی رہا ہے کہ پا کستان کی حفاظت کی جاسکے اور اس میں بڑی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے ،ایک بڑا واقعہ مشرقی پا کستان کا پیش آیا ،ہماری اس وقت کی رولنگ کلاس اس واقع کو صیح ہینڈل نہیں کر سکی ،میرے خیال میں اس واقعہ میں قصور فوج کا نہیں ہماری سیاسی جماعتوں کا تھا ،انھوں نے ایک سول نافرمانی کی تحریک کو خانہ جنگی میں بدل دیا ،ایک آدمی ایک ووٹ کا اصول اپنایا گیا ،لیکن جن لوگوں نے الیکشن جیتے ان کو اکثریت نہیں دی گئی ،نتیجہ صاف ظاہر ہے ،الگ ہونا مقدر تھا ،دونوں حصوں کے درمیان تین ہزار کلومیٹر کا فیصلہ تھا جسے پی آئی ائے کی فلا ئیٹ اکھٹا نہیں رکھ سکتی تھی ۔بھٹو صاحب نے مشرقی پا کستان کے الگ ہوجانے کے بعد ایک شکست خوردہ ملک کو بہت اچھے انداز سے اکٹھا کیا کیونکہ اس وقت یہ بہت چیلنجنگ کام تھا ،بھٹو صاحب نے ہماری معاشی پا لیسی ،خارجہ پالیسی سمیت بنیادی تبدیلیاں کیں ،وہ چاہتے تھے کہ چین کی پا کستان میں نظام لایا جائے جہاں پر ون پارٹی سسٹم ہو ،کمیونزم لایا جائے انھوں نے ساری انڈسٹری جوکہ ایوب دور میں ترقی کر رہی تھی اسے بھی برباد کر دیا ،ون پارٹی سسٹم لانے کی کوشش کی ۔اس سے پا کستان پیچھے چلا گیا ،لیکن انھوں نے پا کستان کی شناخت کو مستحکم کیا ۔اسی طرح پانچ سال گزر گئے پھر ضیا الحق صاحب آگئے ،زندگی کچھ نارمل ہوئی ،لیکن پھر ایران میں انقلاب آگیا اور افغان جنگ بھی شروع ہوگئی ۔ان دونوں ممالک کے حالات کے پا کستان پر گہرے اثرات پڑتے ہیں ،ایران کا اہل تشیع ہونے کی وجہ سے اور افغانستان کا پشتون فیکٹر کی وجہ سے لیکن اس کے باوجود ہماری اس وقت کی رولنگ کلاس نے کوشش کر کے ایک بیلنسڈ خارجہ پالیسی تشکیل دی ،اسلامی ممالک سے تعلقات قائم کیے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم آج بھی ایک آزاد ملک کی حیثیت سے موجود ہیں ۔بنگلہ دیش کے حوالے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس وقت بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کی حکومت ہے اسی نے بنگلہ دیش کو آزاد کراویا تھا ،انھیں کا فوج کے ساتھ جھگڑا ہوا تھا ،کئی قتل بھی ہوئے وہ زخم آج بھی نہیں بھر سکے ،جب بھی عوامی لیگ حکومت میں آتی ہے پا کستان کو دشمن سمجھتی ہے اور ہندوستان کو دوست جانتی ہے ،دوسری چیز یہ ہے کہ جب بھی پا کستان میں اینٹی عوامی لیگ حکومت آئی چاہے وہ ضیا الرحمان کی ہو یا ارشاد کی میری نظر میں ان کو ہم ضرورت سے زیادہ سپورٹ کیا اور مدد کی ہم نے بیلنس رکھنے کی کوشش نہیں کی ،ہم نے یہ نہیں سوچا کہ ہر ملک میں سیاسی فورسز ہوتیں ہیں اور وہ کسی بھی وقت اقتدار میں آسکتی ہیں ۔تیسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان میں بہت بڑی تبدیلی آگئی ،کانگرس جس نے پا کستان کو توڑا تھا لیکن بعد میں شملا معا ہدہ بھی کیا تھا وہ اقتدار سے نکل گئی اور ایک نئی قوت ،بی جے پی کی شکل میں ہندوستان میں آئی جوکہ ہندو انتہا پسند قوت تھی ،انھوں نے ہندو ازم کو الیکشن کے لیے استعمال کیا ،ان کا خیال تھا کہ بھارت میں ہندو کو مظبوط کر کے ایک ورلڈ پا ور بنائیں گے ان لوگوں نے بھی تعلقات کو بہت نقصان پہنچایا ۔پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ،میں دونوں یورپ میں رہا ہوں کیپیٹل اسٹ اور کمیونسٹ دونوں میں میرا یہ یقین ہے کہ آپ اکھٹے ہوسکتے ہیں ،اس میں سب سے اہم چیز تجارت ہے ،اگر تجارت شروع ہو جائے تو تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں ،پچھلے دور میں بھی زرادری صاحب نے بھی بھارت کے ساتھ تجارت بڑھانے کی بہت کوشش کی ،تجارت ایسی چیز ہے جسے ہندو بنیا بھی مان لے گا ،لیکن بنیادی مسئلہ کشمیر کا ہے ،ہمارے دل و جان کشمیری عوام کے ساتھ ہیں اور ہم نے انھیں 47ءسے اپنایا ہوا ہے ،لیکن اب کشمیر کے مسئلہ میں بھی بہت تبدیلی آچکی ہے ،یہ مسئلہ اب نہ پا کستان کے بس میں ہے اور نہ ہی بھارت کے اب کشمیر کی تحریک وہاں کے نوجوان کے ہاتھ میں چلی گئی ہے ،نیا نوجوان جو کہ انٹرنیٹ کی پیدا وار ہے ،اب ایسا کوئی میکنزم بنانا ہوگا جس میں پا کستان بھارت اور کشمیری نوجوان مل کر بیٹھ جائیں تو کوئی حل نکل سکتا ہے ۔کویت اور پا کستان کے تعلقات کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے مشتاق مہر کا کہنا تھا کہ کویت اور پا کستان کے تعلقات بہت ہی اچھے رہے گے ۔،خو شحالی آئیگی ،کویت پا کستان کو بہت امداد دینے کو تیار ہے ،بے نظیر بھٹو کے دور میں کویت نے پا کستان میں تیل کی ریفائنری لگانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن پاکستان میں کاروباری برادری نے اس منصوبے کو چلنے نہیں دیا ،ہماری قیادت سیاسی غلطیاں کر جاتی ہے ہم عرب امارات کو ناراض کر دیا اور وہ ہندوستان کے پاس چلے گئے ،اب ہم پھر سعودی عرب اور عرب امارات کے پاس جارہے ہیں ،تو ایسے کام نہیں کرنے چاہیں ۔جہاں تک یمن کی جنگ کا تعلق ہے تو ہمیں اس میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے عرب ممالک عرب لیگ کے ذریعے عرب سلوشن ڈھونڈتے ہیں اورباہر کے کسی ملک کو دخل اندازی کی اجازت نہیں دیتے ۔اگر وہ خود ہمارے پاس مدد کے لیے آئیں تو ہمیں اس بارے میں سوچنا چاہیے ،ورنہ ا س مسئلہ سے دور ہی رہنا چا ہیے ۔افغانستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ،افغانستان کا مسئلہ پیچیدہ ہے ،افغانستان کی چالیس فیصد آبادی پشتون ہے ،لیکن پشتونوں کی اکثریت پا کستان میں رہتی ہے جن کے یہاں پر رشتے بھی ہیں ،ہمارا حق بنتا ہے کہ ہم ان کے معاملات کو دیکھیں ،افغانستان ایک بہت تقریبا 300سال پرانا ملک ہے ،افغان ہمیشہ اکھٹے رہے ہیں ،لیکن اب ان میں ایک شناخت کا مسئلہ بھی پیدا ہو گیا ہے ،شمال کے لوگ حکومت چاہتے ہیں ،لیکن پختونوں کی اکثریت ہے وہ انھیں حکومت دینا نہیں چا ہتے ۔پا کستان کو چاہیے اس مسئلہ میں بھی جس حد تک ہو سکے دور رہے ،امریکہ کے افغانستان میں آنے کے بعد مشرف صاحب افغان جنگ میں کود گئے اس کا نتا ئج سب کے سامنے ہیں ،ہمیں دوبارہ ایسی غلطیاں نہیں کرنی چاہیے ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اس خطے میں پا کستان نسبتا ایک چھوٹا ملک ہے ،اب دنیا میں جو بڑی تبدیلی آرہی ہے وہ یہ ہے کہ بارڈر ختم ہورہے ہیں ،1945ءمیں جنگ عظیم دوئم کے خاتمے کے بعد جو نینشن اسٹیٹس قائم کی گئی تھیں ،ان کا تصور بھی کمزور پڑتا جا رہا ہے ،یورپ میں ختم ہوچکے ہیں ،اشیا میں کچھ ابھی بھی ہیں ،جنگ کی نوعیت بھی بدل رہی ،اب معاشی جنگیں ہو رہیں ،امریکہ کی اور امریکی ڈالر کی وہ حیثیت نہیں رہی جو کچھ سال قبل تک تھی چین ابھر رہا ہے ،بھارت بھی آگے آرہا ہے ،روس بھی آگے آنا چا ہتا ہے ،یورپ متحد ہو رہا ہے ،ایک اور چیز جو ہو رہی ہے وہ یہ کہ ،ریجنل ازم فروغ پا رہا ہے ،مستقبل کی پلانگ خطے کو دیکھ کر کرنی ہو گی ،بڑے ملک جیسے کہ چین ہے یا بھارت ہے امریکہ ہے یہ تو بچ جائے گے چھوٹے ملکوں کو اپنے بچاﺅ کے لیے حکمت عملی ترتیب دینی ہو گی ۔جمہوریت میں بھی تبدیلیاں آرہی ہیں ،ہمیں اپنے آپ کو انٹر نیشنل معیار کے مطابق ڈھالنا ہو گا ،پاکستان غریب ملک نہیں ہے ،پا کستان میں امیر اور غریب کا فرق بہت زیادہ ہے ،اسے ختم کرنے کی ضرورت ہے اور یہ فرق صرف چندے سے نہیں ،حکومتی ایکشن سے ختم کیا جا سکتا ہے ۔سی پیک کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پا کستان سی پیک سے فا ئدہ اٹھا سکتا ہے ،ضرورت اس آمر کی ہے کہ ایسی صعنتیں لاگئیں جائیں جو پا کستان کی پیدا وار بڑھا سکیں ،سی پیک چین کے لیے بہت ہی فا ئدہ مند منصوبہ ہے ،چین نہیں چاہتا کہ امریکہ اس کی تجارت کے راستے بند کردے ۔چین افریقہ اور مشرق وسطیٰ تک رسائی چا ہتا ہے ہمیں اپنا فا ئدہ دیکھنا چاہیے ۔پاکستان کو ایک ایکسپورٹ اکانومی بنانا ہو گا ،پا کستان کو چاہیے کہ سی پیک کو اپنی برآمدات بڑھانے کے لیے استعمال کرے ۔پاکستان کو کاروباری افراد کو سہولتیں دینا ہوں گیں ،اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول بنانا ہو گا ۔اگر سنگا پور جیسا چھوٹا سا ملک کاروبار کو اتنا آسان بنا سکتا ہے تو پا کستان کیوں نہیں ،پا کستان کے پاس تو پہاڑ بھی ہیں سمندر بھی کسی چیز کی کمی نہیں ہے ۔لیکن ایک بات میں آپ کو بتا دوں جب تک پا کستان میں نیب موجود ہے فارن پرائیویٹ سرمایہ کاری پا کستان میں کھبی بھی نہیں آئے گی ۔یہ بات مجھے ایک ریا ست کے سربراہ نے کہیں تھی ،سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کرنا ہو گا ۔بطور ملک پا کستان کی ترجیح معیشت کی بہتری ہونی چاہیے ۔اس کے لیے ایمان داری اور ایک اچھی حکمت عملی کی ضرورت ہے ۔پاکستان کو ایک اچھی کاروباری حکومت کی ضرورت ہے ۔اگر ہمارا اوجی ڈی سی ایل اور اس جیسے اور ادارے اپنا کام ٹھیک انداز میں کریں تو ہمیں باہر سے بھی کوئی چیز منگوانے کی ضرورت نہیں رہے گی ،پاکستان کو سب سے پہلے اپنے وسائل پر انحصار کرنے کی ضرورت ہے ۔

ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے مائیکل جیکسن کی قبرکشائی کا امکان‘ بچوں سے زیادتی کا انکشاف

لاس اینجلس (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے آنجہانی پاپ گلوکار مائیکل جیکسن کی قبر کشائی کا قوی امکان پیدا ہوگیا ہے۔ مائیکل جیکسن کی قبر کشائی کا امکان ان پر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات کے بعد ظاہر کیا جا رہا ہے۔ امریکی ویب سائٹ راڈار آن لائن نے دعویٰ کیا ہے کہ گناہوں کے ثبوت کنگ آف پاپ کے ساتھ دفن ہیں۔ ایسے 11 لوگ سامنے آئے ہیں جنہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مائیکل جیکسن کے مقبرے سے ان کی باقیات نکال کر ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے۔ ویب سائٹ نے قبر کشائی کے بارے میں کہا ہے کہ مائیکل جیکسن پر ماضی میں بھی بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات لگتے رہے ہیں، اور حال ہی میں بہت سے مزید لوگ بھی ان الزامات کے ساتھ سامنے آئے ہیں جس کے باعث اس بات کا قوی امکان ہے کہ ثبوتوں کی خاطر مائیکل جیکسن کی قبر کشائی کی جائے گی۔ دوسری جانب جیکسن سٹیٹ کی جانب سے راڈار آن لائن کے دعویٰ کی نفی کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ویب سائٹ کو مصدقہ ذرائع پر اعتماد کرنا چاہئے۔ مائیکل جیکسن کا انتقال 2009 ءمیں ہوا تھا اس لئے ان کا جسد خاکی خاک میں مل گیا ہوگا لیکن فرانزک ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیڈ باڈی کے ناخن اور جلد بہت سے شواہد فراہم کرسکتے ہیں۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ بڑی اہمیت کا حامل ہوگا: جنرل (ر) عبدالقیوم ، عالمی طاقتیں پاکستان کو شام، عراق بنانا چاہتی ہیں:بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ ، آئی ایم ایف کی شرائط میں سے زیادہ تر تو پہلے ہی مان لی گئیں: چودھری منظور، کی چینل ۵ کے پروگرام ” نیوز ایٹ 7 “ میں گفتگو

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)پیپلز پارٹی کے رہنماءچوہدر ی منظور نے کہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط میں سے بیشتر تو پہلے ہی مان لی گئی ہیںجو قرضہ چند ماہ میں لیا گیا وہ تاریخ کا بڑا قرضہ ہے۔حکومت نے قرضہ نہ لینے کا وعدہ کیا تھا لیکن پورا نہیں کیا مسلسل جھوٹ ہی بولا گیا۔ چینل فائیو کے پروگرام نیوز ایٹ سیون میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے مختصر کابینہ کے وعدے پر بھی عمل نہیں کیا۔ماہر اقتصادیات شاہ حسین صدیقی نے کہا موجودہ حکومت کے دور میں قرضوں میں مزید اضافہ ہوا۔صرف قرضے لینے سے بحران ٹلتا ہے ختم نہیں ہوتا اصلاحات بہت ضروری ہیں۔میرے خیال میں وزیراعظم عمران کو آئی ایف کے سربراہ سے نہیں ملنا چاہئے تھا۔اگر یہی حال رہا تو آئندہ بجٹ بہت سخت ہو گا،ٹیکس کی چوری بھی تاحال نہیں رک سکی معیشت کی شرح نمو بہت سست رہے گی۔جنرل ر عبدالقیوم نے کہا ہے کہ اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی جنرل ر راحیل شریف کے ہاتھ میں ہے جو ایک مایہ ناز جنرل ہیں دہشت گردی کے خلاف ان کی کاوشیں ناقابل فراموش ہیں۔سعودی ولی عہد کا دورہ بھی خاصی اہمیت کا حامل ہوگا،مسلم دنیا کے مضبوط ہونے سے صرف پاکستان نہیں سب کا فائدہ ہے۔میں سمجھتا ہوں حکومت کو خارجہ پالیسی مزید موثر بنانے کی بھی ضرورت ہے۔بریگیڈئر ر محمود شاہ نے کہا کہ عالمی طاقتیں پاکستان کو شام اور عراق بنانا چاہتی ہیں۔پاکستان میں حالات خراب کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ہیومن رائٹس کی بات کرنے والی طاقتیں کشمیر کی بات کیوں نہیں کرتیں۔