پی اے سی چیئرمین چور ، دودھ کی رکھوالی پر بلے کو بٹھایا گیا : شیخ رشید

اسلام آباد( این این آئی، صباح نیوز) وفاقی وزیرریلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ فوجی عدالتوں کو مزید دوسال دئیے جائیںچور ڈاکو کسی کا احتساب نہیں کرسکتا، اس کے خلاف سپریم کورٹ آ رہا ہوں۔ جمعہ کو سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ فوجی عدالتوں نے زبردست کام کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ کم از کم دو سال میں بہت سارے لوگوں کو پھانسیاں ہوئی ہیں، مجرم جیلوں میں گئے ہیں، 14سال بعد ریلوے میں وزیر آیا تو کرپشن کے کیسز وہیں پڑے ہیں۔ شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئر مین بنانے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ میں توایک بندے کے پیچھے لگا ہوں کہ دودھ کی رکھوالی پہ بلے کو نہیں بٹھایا جاسکتا،چور، ڈاکو کسی کا احتساب نہیں کرسکتا، اس کے خلاف سپریم کورٹ آ رہا ہوں۔وزیر ریلوے نے کہا کہ عمران خان کوووٹ اس لیے ملا ہے کہ وہ آئین اور قانون کے تحت کرپٹ لوگوں کو شکنجے میں لائیں،اسی لیے لوگوں نے انہیں ووٹ دیئے۔شیخ رشید نے کہا کہ اگر ہماری ضرورت کرپٹ لوگوں کے ساتھ مل کر چلنے کی ہے تو یہ اچھی موو نہیں ہوگی۔ وفاقی وزیرریلوے شیخ رشید احمد نے شہبازشریف کو پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنائے جانے کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کردیا ۔ اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قوم کی دولت لوٹنے والے گرفتارہوکربھی قوم کا پیسہ استعمال کر رہے ہیں، چوروں، ڈاکوﺅں اورلٹیروں کے لئے ڈاکٹروں نے بیان دیا ان کوکھلی فضا میں رکھو، اسحاق ڈارسابق وزیراعظم کے جہاز میں فرارہوا تو آصف زرداری بھی نکل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہبازشریف نوازشریف سے بڑا ڈاکو ہے، چین جانے کے بعد پتہ چلا شہبازشریف کا داماد بھی ڈاکو ہے، پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا چیئرمین چورہے، دودھ کی رکھوالی پربلے کو بٹھا دیا گیا، اس معاملے پرحکومت سے شدید اختلاف ہے، پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے چیئرمین کے معاملے پرعدالت سے رجوع کر وںگا۔ریلوے کی زمینوں کی لیزکے حوالے سے انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس نے جو عزت اورمقام پایا وہ تاریخی ہے، چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ریلوے زمین فروخت نہیں کرسکتی، ریلوے اراضی لیز پر پانچ سال سے زیادہ نہیں دے سکتے، رائل پام کلب کیس کا فیصلہ جسٹس عظمت سعید شیخ کریں گے۔فوڈ ڈیپارٹمنٹ کی کارروائیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر امیر اورغریب کے لئے الگ الگ قانون ہوئے تو بے بس لوگ باہر ضرورنکلیں گے، 14 دنوں کے لئے دکانیں بند کی جاتی ہیں، غریب آدمی کہاں سے کھائے گا، ہمارا فرض ہے کہ ان لوگوں کا خیال رکھیں جن کو فوڈ ڈیپارٹمنٹ والے 50 ہزارکا جرمانہ کررہے ہیں۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ شہبازشریف نوازشریف سے بڑا ڈاکو ہے، چین جانے کے بعد پتہ چلا شہبازشریف کا داماد بھی ڈاکو ہے، پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا چیئرمین چورہے، دودھ کی رکھوالی پربلے کو بٹھا دیا گیا، اس معاملے پرحکومت سے شدید اختلاف ہے، پبلک اکانٹس کمیٹی کے چیئرمین کے معاملے پرعدالت سے رجوع کرنے جارہا ہوں۔ریلوے کی زمینوں کی لیزکے حوالے سے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے جو عزت اورمقام پایا وہ تاریخی ہے، چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ریلوے زمین فروخت نہں کرسکتی، ریلوے اراضی لیز پر پانچ سال سے زیادہ نہیں دے سکتے، رائل پام کلب کیس کا فیصلہ جسٹس عظمت سعید شیخ کریں گے۔فوڈ ڈیپارٹمنٹ کی کارروائیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ اگر امیر اورغریب کے لئے الگ الگ قانون ہوئے تو بے بس لوگ باہر ضرورنکلیں گے، 14 دنوں کے لئے دکانیں بند کی جاتی ہیں، غریب آدمی کہاں سے کھائے گا، ہمارا فرض ہے کہ ان لوگوں کا خیال رکھیں جن کو فوڈ ڈیپارٹمنٹ والے 50 ہزارکا جرمانہ کررہے ہیں۔

لاہور سمیت کئی علاقوں میں رم جھم ، نزلہ ،بخار ، بیماریوں سے چھٹکارے کی امید

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) صوبائی دارالحکومت سمیت کئی شہروں میں بارش‘ سردی میں اضافہ ہو گیا۔ لاہور کے مختلف علاقوں ڈیوس روڈ‘ حبیب اللہ روڈ‘ گڑھی شاہو اور ملحقہ علاقوں میں بوندا باندی ہوئی۔ شیخوپورہ شہر اور گردونواح میں تیز بارش جبکہ گوجرانوالہ شہر کے مختلف حصوں میں ہلکی بارش ہوئی۔ بارش کے باعث سردی میں اضافہ ہو گیا۔

بے نظیر ہسپتال منصوبہ ، 21 کروڑ سے زائد رقم کا ریکارڈ غائب

راولپنڈی (اے این این) بینظیر بھٹو ہسپتال (بی بی ایچ)کے اکاﺅنٹس آڈٹ میں 24 کروڑ 24 لاکھ 80 ہزار مالیت کے ایک منصوبے کا ریکارڈ غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ مالی سال 16-2015 کے لیے راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی (آر ایم یو) کے انتظامی کنٹرول میں بی بی ایچ کے آڈٹ میں آڈٹرز کو ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ کے لیے قائم اضافی 25 سرجکل بیڈ اور متعلقہ سہولیات کا ریکارڈ نہیں ملا۔صوبائی حکومت کی جانب سے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے تحت ہسپتال کو 28 کروڑ 35 لاکھ 20 ہزار روپے فراہم کیے گئے تھے لیکن ہسپتال کی انتظامیہ نے آڈٹ کے دوران 4 کروڑ 10 لاکھ 39 ہزار روپے کا واچرز فراہم کیے جبکہ 24 کروڑ 24 لاکھ 80 ہزار روپے کے واچرز غائب تھے۔آڈٹرز نے واچرز پیش کرنے کے لیے متعلقہ حکام سے کئی مرتبہ زبانی اور تحریری درخواستیں اور ملاقاتیں کیں لیکن کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔آڈٹ ٹیم نے اکاﺅنٹس کے معائنہ سے متعلق آڈیٹر جنرل کے افعال کو روکنے کے لئے متعلقہ حکام کے خلاف انضباطی کارروائی کی سفارش کی۔اس حوالے سے بی بی ایچ کے سینئر عہدیدار نے بتایا کہ محکمہ صحت کی جانب سے ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی اور 28 کروڑ 30 لاکھ روپے کے منصوبے کے غائب شدہ ریکارڈ کو دیکھنے کا کہا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے اکانٹنٹ کو معطل کردیا تھا اور پنجاب امپلائز کارکردگی، نظم و ضبط اور احتساب ایکٹ 2006 کے تحت انکوائری شروع کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ سابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر آصف قادر میر نے رابطہ کیا تھا اورانہوں نے یہ واضح کیا تھا کہ وہ ریکارڈ کہ ذمہ دار نہیں کیونکہ اسے آر ایم یو کی جانب سے مرتب کیا گیا تھا۔اس کے بعد میڈیکل سپرنٹنٹ نے راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد عمر کو گمشدہ ریکارڈ سے متعلق خط لکھا تھا۔انہوں نے کہا کہ اے ڈی پی کے مرکزی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر اطہر تحسین سے بھی متعلقہ معلومات کی فراہمی کے لیے رابطہ کیا گیا تھا، تاہم ریکارڈ نہیں ملا اور بی بی ایچ انتظامیہ نے محکمہ صحت کو آگاہ کردیا۔دوسری جانب جب ڈاکٹر اطہری تحسین سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ریکارڈ جلد ہی فراہم کردیا جائے گا۔انہوں نے کہا آڈٹ ٹیم نے گمشدہ ریکارڈ سے متعلق اعتراض کیا لیکن انتظامیہ انہیں اخراجات کی تفصیلات فراہم کرے گی۔

توانائی بحران کنٹرول کرنے میں مدد ، زراعت میں بھی تعاون برھائیں گے، وزیراعظم سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کیلئے اقدامات کررہے ہیں، نائیجرین ہائی کمشنر کی چینل ۵ کے پروگرام ” ڈپلو میٹک انکلیو “ میں گفتگو

اسلام آباد(انٹروےو:ملک منظور احمد ،عکاسی :نکلس جان ) نائیجیریا کے ہائی کمشنر میجر جنرل (ر) ادے بائےو اولانی نے کہا ہے کہ نائیجیریا اور پاکستان کو مشترکہ سیکورٹی چیلنجوں کا سامنا ہے افواج پاکستان نے نہایت کامیابی کے ساتھ دہشت گردی اور انتہاءپسندی پر قابو پا لیا ہے دونوں ممالک کے درمےان دفاع کے شعبہ میں تعاون مثالی ہے نائیجیریا کی تےنوں افواج کے سےنئر افسران پاکستانی افواج سے ٹرےنگ حاصل کر تے ہےں ابھی حال ہی میں ہمارے پانچ سو کیڈٹس اےن ڈی ےو سے فارغ التحصل ہوئے ہیں افرےقی ممالک پاکستان کےلئے گےٹ وے کا درجہ رکھتے ہےں موجودہ حکومت نے پہلی مرتبہ افرےقی ےونےن کے رکن ممالک کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات بڑھانے کا فےصلہ کیا ہے دفاعی پیداوار کے شعبہ میں پاکستان مےں بے پناہ کامیابےا ں حاصل کی ہیں نائیجیریا پاکستان سے دفاعی آلات خرےدے گا افواج پاکستان کا شمار دنےا کے انتہائی پروفےشنل افواج مےں ہوتا ہے دونوں ممالک کے درمےان تجارتی حجم پانچ سو ملین ڈالر ہے جو ہماری توقعات سے بہت کم ہے سی پیک کا منصوبہ انفراسٹکچر کے شعبہ میں ایک انقلاب برپا کر دے گا نائیجیریا سی پیک منصوبہ میں گہری دلچسپی لے گا ان خیالات کا اظہار انہوںنے چےنل فائےو کے پروگرام ڈپلو میٹک انکلیو میں انٹروےو دےتے ہوئے کیا ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں کراچی میں آئےڈیاز 2018ءدفاعی نمائش منعقد ہوئی جس مےں نائیجیریا کی فضائےہ کے سربراہ کی قےادت مےں چودہ رکنی وفد نے شرکت کی دفاع کے شعبہ میں حالیہ برسوں مےں بہت تعاون بڑھا ہے انہوںنے کہا کہ نائیجیریا کو پاکستان کی طرح سیکورٹی چیلنجوں کا سامنا ہے پاکستان کے تجربات سے ہم استفاد ہ کرےںگی دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس پر قابو پانے کےلئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے ہم پاکستان کی قربانےوں کو انہتائی عزت کی نگاہ سے دےکھتے ہےں ایک سوال کے جواب مےں انہوں نے کہا کہ زراعت کے شعبہ میں دونوں ممالک تعاون بڑھائےں گے پاکستان کی طرح نائیجیریا بھی ایک زرعی ملک ہے اور ہمارا زراعت کا شعبہ جی ڈی پی میں 23فےصد ہے آئل اینڈ گےس کے ذخائر ہمارےملک میں بہت زےادہ ہے اور ہم چاہتے ہےں کہ پاکستان کے سرماےہ کار نائیجیریا مےں آئل ایند گےس کے شعبہ میں سرمایہ کاری کرےںگے پاکستان کاٹن ، شوگر اور ٹےکسٹائل مصنوعات پیدا کرنے کا دنےا کا چھٹا بڑا ملک ہے ہم پاکستان کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات بڑھانا چاہتے ہےں وزےراعظم عمران خان ملک میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کےلئے نمایاں اقدامات کر رہے ہےں اور ہمیں امید ہے کہ پاکستان جلد معاشی استحکام حاصل کر لے گا اقتصادی پالیسیوں مےں تسلسل کی ضرورت ہے توانائی کے بحران پر قابو پانے مےں نائیجیریا مدد کر سکتا ہے تعلےم کے شعبہ میں پاک نائیجیریا تعاون بڑھ رہا ہے سےاسی اور سفارتی تعلقات اےک نئے دور مےں داخل ہو رہا ہے افرےقہ کی منڈےاں پاکستان کےلئے انتہائی پرکشش ثابت ہو سکتی ہیں موجودہ وزےرخارجہ شاہ محمود قرےشی افرےقی ممالک کے ساتھ تعلقات ایک نئے دور میں داخل کرنے کےلئے انتہائی پر عزم ہیں اور ہماری ان کے ساتھ ملاقات بہت با معنی اور نتےجہ خیز رہی ۔

عمران خان کی پیشکش مگر مودی حکومت الیکشن سے پہلے مذاکرات نہیں کریگی : ضیا شاہد ، سموگ کنٹرول کیلئے ٹاور کیساتھ انسولیٹر لگائے جاتے ہیں : طاہر چیمہ ، چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ یہ اس طرح کا معاملہ ہے جس طرح سے مجھے ذاتی طور پر پتہ چلا کہ جو غیرملکی یونیورسٹی سے سکالر شپس آتے ہیں اور آتے ہی ایجوکیشن کے ذریعے آتے ہیں اب ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ وفاقی حکومت میں رہا ہی نہیں بہرحال جہاں بھی کہیں ہوئے ہیں کسی کو کوئی بتایا ہی نہیں جاتا اور ہر سال بہت سے سکالر شپس ضائع ہو جاتے ہیں وہ کسی کو بھی نہیں ملتا اور جس کسی کی اپنے کسی عزیز رشتہ دار کو بیورو کریسی نے بھیجنا ہو تو وہ جھٹ سے فائل نکالتی ہے اس میں سے کوئی سکالر شپ نکال کر دے دیتی ہے، اس طرح یہ جو موجودہ کیس ہوا ہے کہ ہسپتال کے لئے امداد دی گئی اور پھر ہسپتال کے لئے کوئی جگہ نہیں فراہم کی گئی پھر درمیان میں ہو گیا کہ اچھا چلو ہسپتال نہیں یونیورسٹی بنا دیتے ہیں حالانکہ ایڈ آئی ہے اس مقصد کے لئے کہ یہاں کوئی ہسپتال بنایا جائے زیادہ ضرورت ہسپتالوں کی ہے مرتے ہوئے لوگوں کو زیادہ ضرورت ہے کہ ایجوکیشن کے لئے زیادہ ضرورت ہے۔ صحت کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہونی چاہئے۔ یہ نالائقی ہے سرکاری محکموں کی اور اب یہ خبر بھی آئی ہے تو دب جائے گی۔ کوئی یہ جائزہ نہیں لے رہا کہ کس کا قصور تھا وہ ملزم کو پکڑا نہیں جاتا۔ مجرم پکڑا نہیں جاتا ہے اور وہ ریٹائر بھی ہو گیا ہے تو گھر سے بلا کر اس پر مقدمہ کیوں نہیں چلایا جاتا اس پربدعنوانی کا اور کام میں غفلت برتنے کا کیوں مقدمہ درج نہیں کرتے۔ یہ بھی کہا گیا ہے ایک درخواست کسی بھی شحص کی پگڑی اچھالی جاتی ہے تحقیقات کا کوئی معیار ہی نہیں یہ کس چیز کی طرف اشارہ ہے اس سوال کے جواب ضیا شاہد نے کہا کہ نیب میں جو کیس چل رہے ہیں وہ کئی مہینتوں تک چلتے ہیں اور کئی کیسز آتے ہیں جس میں بندے کو پکڑا جاتا ہے اور اسے عدالت میں پیش کیا جاتا ہے یہ بھی نہیں دیکھا جاتا ہے کہ بدنیتی بیورو کریسی کے اندر چھپی ہوئی ہیں اور بالکل اللہ جانے کس طرح سے معاملات چل رہے ہیں کہ جب بھی یہ جو محتلف عدالتوں میں معاملات ہوتے ہیں یقین جانیں کہ یہ خبر چھپتی ہے اور اس کے بعد دب جاتی ہے پھر کوئی نہیں پوچھتا کہ قصوروار کون تھا اور اسے کیا سزا ملی اور ذرا دس، بیس، تیس، چالیس لوگوں کو سزا باقاعدہ مل جائیں تو لوگوں کو اپنی ریٹائرمنٹ کے گھر بیٹھ کر اس بات کا خوف ہو کہ اگر ہم نے اپنی دوران ملازمت کوئی کوتاہی کی تھی تو ہمیں پکڑا جائیگا، یہاں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔
اس سوال کے جواب میں کہ کہا جا رہا ہے کہ تربیلا کے 15 یونٹ مکمل طوور پر بند ہو چکے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ وہ فنی خرابی ہے وہی خرابی ہے جو دنوں سے اس کے اوپر چلی جا رہی ہے یہ فوگ اور سموگ ہے انہوں نے کام کرنا بند کر دیا ہے اور ہر گھنٹے بعد ایک گھنٹہ بجلی بند کی جا رہی ہے 14 سے 16 گھنٹے مختلف علاقوں میں لوگوں کا جینا محال ہو گیا ہے اس پر ضیا شاہد نے کہا کہ 16 گھنٹے کا مطلب ہے یہ جو بیس گھنٹے میں سے 16 گھنٹے یعنی دو تہائی اگر 24 گھنٹے میں سے 8 گھنٹے بجلی آتی ہے 16 گھنٹے نہیں آتی۔ یہ اتنی خوفناک صورتحال ہے کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اتنے بحران کے موقع پر وزیراعظم اٹھ کر ترکی چل دیئے۔ کمال ہے کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے یہ جو وفاقی حکومت کی ایک پکڑ ہوئی تھی کہ اگر کسی جگہ پر بنگلنگ ہوتی ہے یا کوتاہی ہوتی ہے تو فوری طور پر ٹاسک فورس بنائی جاتی تھی کوئی مشین بنایا جاتا تھا کوئی کمیٹی بنائی جاتی تھی۔ اس وقت یہ کوئی مسئلہ نہیں سمجھا جا رہا۔ اور کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے۔ نہ بجلی کے محکمے سے کوئی پوچھنے والا ہے نہ کوئی ان سارے لوگوں سے جو شہری زندگی کی خرابیاں ہیں اس کو کنٹرول کرتے ہیں اور اس کو دیکتے ہیں میں سمجھتا ہوں عمران خان ہزار دفعہ باہر جائیں حکومت گو ہے ناں اور کوئی وزراءبھی موجود ہیں۔ کس لئے خاموش ہیں بجلی کا وزیر کیوں چپ ہے میں نے ایک بیان نہیں دیا تھا کہ اس مسئلہ پر کہ کیا ہو رہا ہے اور یہ کیوں صورت حال پیدا ہوئی ہے اسے چاہئے تھا کہ وہ پریس کو بلاتا تا کہ لوگ اس سے پوچھ سکتے یہ کس قسم کے وزیر ہیں۔ حکومت کو سارے کام چھوڑ کر جو روزانہ کی بنیاد پر مسائل ابھرتے ہیں اس کو کوئی تو مانیٹرنگ کرنے والا ہونا چاہئے۔ کل جو کابینہ کا جو اجلاس ہوا ہے اس میں کس نے اس طرف غور ہی نہیں کیا۔ ساری دنیا میں دھند بھی ہوتی ہے فوگ بھی ہوتی ہے اس میں جہاز اترتے چرھتے بھی ہیں اور پاکستان کے جہاز بھی ایسے ہی ہیں پتہ نہیں کسی زمانے کے لئے ہوئے اور 16,16 گھنٹے ایک سے دوسری جگہ فلائٹس نہیں جاتیں۔ اب بجلی کا مسئلہ شروع ہوا ہے۔ کل ہماری لیسکو کے چیئرمین سے بات ہوتی تھی وہ کہہ رہےتھے جب تک موسم خراب ہے ایسا ہی رہے گا۔ میں نے ان سے یہی سوال کیا تھا کہ جناب جن ملکوں میں فوگ ہوتی ہے جہاں 24,24 گھنٹے بارش بھی ہوتی ہے نہ تو ٹرانسفارمر اڑتے ہیں اب تو ٹرانسفارمر اڑنے سے ایک قدم آگے کام پڑ گیا کہ پاور ہاﺅس ہی ختم ہو گئے۔ یہ موسم کی خرابی کی وجہ سے بجلی پیدا کرنےو الے جو آئی پی پیز ہیں اس کے اندر مشینوں میں سموگ کہاں سے گھس جاتی ہے۔ کیا بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں کو پیسے بہت دیتے ہیں اس لئے توجہ نہیں دے رہے کیا اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے۔ یا اس کا اس مسئلہ کا کوئی تعلق ہے یا نہیں ہے۔ کیا سرکلر ڈیٹ کی وجہ سے بھی پلانٹ بند ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے ترک صدر سے ملاقات بھی کی ان کے ساتھ نماز جمعہ بھی ادا کی۔ علاقائی صورتحال پر بات کی گئی اور اس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کی گئی ہے۔ ترک صدر نے کہا کہ پاکستان میں تبدیلی میں عمران خان کی بہت جدوجہد ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگلے 5 سال میں جو 50 لاکھ گھر بنانے ہیں اس سے ترک کمپنیوں کی مدد حاصل کی جائے گی۔ وہ سرمایہ کاری کریں گی پاکستان میں گھر بنانے ہیں۔ اس پر ضیا شاہد نے کہا کہ اس کی تفصیل تو ٹیکنوکریٹس ہی بتا سکتے ہیں لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ترکی ٹیکنالوجی میں پاکستان سے کافی زیادہ ایڈوانس ہے اور جنرل ایڈمنسٹریشن میںبھی ترکی اور ترک حکومت کی کارکردگی بہت بہتر ہے لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں ترکی سے کچھ نہ کچھ رہنمائی حاصل کرنی چاہئے اور میں نے کل بات کی تھی کہ یہ جو 50 لاکھ گھروں والی بات ہے اس کو کسی دوسرے سے بات کرنی چاہئے کہ وہ یہاں گھر بنائے اور قسطوں میں پیسے کنسورشیم ایک جو ہو وہ قسطوں میں پیسے عوام جو ہیں دے سکے اس طرح بالکل فری گھر کبھی نہیں بن سکتے اتنا پیسہ پاکستان کے پاس نہیں ہے لہٰذا پریشر ہو گا کہ ااسان اقساط ان کی قیمت لے لی جائے البتہ بنا کر دیئے جائیں اور مکان پلج ہو اور اگر کوئی شخص اس کی ادائیگی نہ کرے تووہ مکان اس سے واپس لے لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن ضروری ہے اور کہا ہے کہ میں بھارت سے مذاکرات کا خواہش مند ہوں اس پر ضیا شاہد نے کہا کہ عمران خان مسلسل خواہشات کا اظہار کرتے جا رہے ہیں اور اچھی بات ہے ان کی پالیسی بالکل صحیح ہے لیکن میں اپنے طور پر چونکہ انڈیا کے الیکشن سر پر ہیں لہٰذا آپ نے پڑھا ہو گا اور آج انڈیا میں جو برسراقتدار پارٹی ہے نریندر مودی کی جو پارٹی ہے وہ مسلمانوں کے خلاف وسیع پیمانے پر پریوپیگنڈا کر رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ ان کو بالکل بھول جائیں اور پچھلے الیکشن کی طرح وہ اب بھی نان مسلم ووٹ کی بنیاد پر الیکشن جیتنا چاہتی ہے اور ان کے اس اقدام سے آج کل کے حالات میں بھارت کی کوئی بھی حکومت ہو گی الیکشن جب سر پر ہوں گے تو وہ کسی قیمت پر پاکستان سے مذاکرات میں نہیں جائے گی ہاں البتہ جبالیکشن ہو جائیں نئی حکومت آ جائے۔ خواہ یہی حکومت برسراقتدار ہو یا کوئی نئی حکومت آ جائے یا کوئی مخلوط حکومت آ جائے تو اس میں اس کے امکانات ہو سکتے ہیں کہ عمران خان کی پیش کش پر غور کیا جائے سردست جب الیکشن سر پر ہوں تو سیاسی پارٹیاںکبھی کوئی جرا¿ت مندانہ قدم نہیں اٹھا سکتیں۔
کشمیر میں صدارتی نظام نافذ کرنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ بھارت کا وہاں براہ راست کنٹرول ہو جائے گا۔ بھارت مکمل طور پر ننگا ہو چکا ہے‘ بے رحمانہ طرز حکومت اس کی پہچان ہے۔ کانگریسی دور میں تو ایک لاکھ عہدے پر مسلمان کو تعینات کر دیا جاتا تھا اب تو مسلمانوں کو کوئی بھی عہدہ نہیں دیا جاتا۔ کشمیر میں ریاستی دہشتگردی جاری ہے جبکہ باقی بھارت میں مذہبی دہشتگردی ہو رہی ہے۔ گائے کا ذبح کرنے کا محض الزام لگاکر مسلمانوں کو قتل کیا جاتا ہے۔ بی جے پی حکومت نے مسلمانوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔
رانا ثناءاللہ کے شیخ رشید کیخلاف جوا کرانے کے الزامات بچگانہ سے لگتے ہیں کہ اس دور میں تو شیخ رشید انہی کے ساتھی تھے۔ شیخ رشید شہبازشریف کو چیئرمین پی اے سی بنانے کیخلاف سپریم کورٹ میں رٹ دائر کرنے جا رہے ہیں وہ صرف نئے چیف جسٹس کے آنے کے انتظار میں ہیں۔ شیخ رشید کی بات میں وزن ہے کہ جس شخص پر خود الزامات ہیں اسے یہ عہدہ کیسے دیا جا سکتا ہے جبکہ یہ آئین میں بھی نہیں لکھا صرف ایک روایت ہے۔ آصف زرداری نے جب اپنے گرد گھیرا تنگ دیکھا تو سارا وزن (ن) کے پلڑے میں ڈال دیا اور کمیٹیاں نہ بننے دیں جس کے باعث حکومت دباﺅ میں آئی اور شہبازشیرف کو عہدہ سونپ دیا۔ آڈٹ رپورٹس میں بڑے بڑے گھپلے سامنے آئے ہیں جن ادوار میں یہ گھپلے ہوئے اس وقت کے افسران کو چاہے وہ ریٹائرڈ ہیں پکڑنا چاہئے کیونکہ وہی ذمہ دار ہیں۔
ایم این ایم کمیٹی نے غریب عوام سے سستی موٹر سائیکل کے نام فراڈ کیا جسے سب سے پہلے خبریں نے بے نقاب کیا تھا مقدمہ درج اور گرفتاریاں بھی کرائی تھیں اب فراڈ کا وسیع پیمانے پر کاروبار کرنے والے پولیس کو ضرور ساتھ ملاتے ہیں بلکہ سب سے پہلے پولیس کا حصہ اسے پہنچاتے ہیں جس کے بدلے میں پولیس انہیں تحفظ فراہم کرتی ہے۔ پولیس کا نظام درست کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونا چاہئے۔
خبریں کے نمائندہ شیخوپورہ جاوید معراج نے کہا کہ ایم این ایم کمپنی احمد سیال نے بنائی جو فیصل آباد کا ہے اس کمپنی کی آڑ میں سود کا کاروبار آگے بڑھایا جس کے باعث 25 ہزار سے زائد لوگ متاثر ہوئے۔ ”خبریں نے سب سے پہلے اس فراڈ کو بے نقاب کیا مقدمات درج ہوئے کچھ گرفتاریاں بھی ہوئیں تاہم متاثرین کو رقمم واپس نہ ملی۔ خبریں کی خبر پر ایف آئی اے نے احمد سیال کے ساتھی سمیت فیصل آباد سے گرفتار کیا، ملزم اویس اور ارسال تاحال نہیں پکڑے جا سکے۔ فراڈ کا یہ کاروبار شروع ہوا تو خود اس میں پولیس والے سرمایہ کاری کر رہے تھے۔ ملززان کے اوپر تک تعلقات تھے۔ سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کے بیٹے سلمان شہباز کا نام بھی اس کیس میں سامنے ااتا رہا ہے ملزمان کو تحفظ فراہم کرتے تھے، یہی وجہ تھی کہ پولیس اور انتظامیہ ملزمان پر ہاتھ نہیں ڈالتی تھی۔
نمائندہ خبریں جھنگ عمران گل نے کہا کہ نیب نے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نواحی گاﺅں 287 گ بے جو جھنگ کے قریب ہے چھاپہ مارا، جاوید نمبردار کے گھر کی دیواروں اور چھتوں میں چھپائے 3 ارب 27 کروڑ روپے 5 کلو سونا برآمد کیا۔ 2 گاڑیاں اور 2 پٹرول پمپ بھی نیب نے تحویل میں لے لئے۔ جاوید ایم این ایم کمپنی کا ایریا منیجر تھا۔ یہ کمپنی بہت سے شہروں میں لکی کمیٹی اور سستی موٹر سائیکل کے نام پر غریب عوام کو لوٹ چکی ہے۔

پولیس ، عوام میں دوریاں ختم کرنا ہونگی : کمانڈنٹ احسان طفیل ، تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال تشویشناک : اے آئی جی محمد طارق کی چینل ۵ کے پروگرام ” نیوز ایٹ 7 “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج سہالہ احسان طفیل نے چینل فائیو کے ”نیوز ایٹ 7“ کی ٹیم سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی اور جرائم کیخلاف پولیس کے ساتھ قوم، پاک فوج، میڈیا، عدلیہ کی بھی قربانیاں شامل ہیں۔پولیس کے ابتک 500سے زائد اہلکار جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ پولیس اور عوام میں جو دوری پائی جاتی ہے اسکی بہت سی وجوہات ہیں۔جن کو دور کرنے کیلئے کلچرل شفٹ چاہیے تاکہ دونوں ایک دوسرے کو نا پسند کرنےکی بجائے ایک دوسرے کا سہارا بنیں، موجودہ حکومت کی اس جانب توجہ ہے کہ نیا سال اس جمہوری اداروں کے ساتھ ملکر پولیس اور عوام کے بیچ پائے جانے والے خلا دور کیا جا سکے۔ ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ محمد طارق نے کہا کہ اگست 2017ءمیں میں نے عہدے کا چارج سنبھالا۔ پولیس ٹریننگ میں دیکھا کہ صرف پروفیشنل چیزیں ہی پڑھائی جا رہی ہیں اخلاقیات کو نصاب کا حصہ نہیں بنایا گیا، ہم نے اخلاقیات کو اس میں شامل کیا تاکہ پولیس افسروں اور اہلکاروں کے رویے میں فرق آئے انہیں معلوم ہو کہ پڑھے لکھے اور جاہل میں کیا فرق ہوتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں منشیات فروشی صرف اسلام آباد کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ملک بھر کا ایشو ہے، وزارت داخلہ نے اس حوالے سے جو اعداد و شمار پیش کئے وہ تشویشناک ہیں اس حوالے سے حکومت کو خصوصی طور سے کام کرنا ہو گا۔ سی پیک سپیشل پروٹیکشن یونٹ کے انچارج محمد ارشد نے کہا کہ اہلکاروں کی خصوصی ٹریننگ کی جا رہی ہے کیونکہ ان سے سی پیک منصوبوں اور وہاں کام کرنے والے غیر ملکیوں کی حفاظت کا کام لیا جانا ہے۔ یہاں کی جانے والی ٹریننگ کمانڈرز کی سطح کی ہے۔ سابق فوجی افسران بھی ٹریننگ دینے والوں میں شامل ہیں۔ یہاں سے ٹرینڈ اہلکاروں کو دیگر اہم مقامات پربھی تعینات کیا جا سکتا ہے۔

سہ ملکی کبڈی سیریزکامیدان فیصل آبادمیں سجے گا

ساہیوال (بیورورپورٹ )تین ملکی انٹرنیشنل کبڈی میچز 11جنوری کو ظفر علی سٹیڈیم ساہیوال میں کھیلے جائیں گے جس میں پاکستان ‘ایران اور بھارت کی کبڈی ٹیمیں شرکت کریں گی ۔ےہ بات انفارمےشن آفےسر عقےل اشفاق نے بتائی۔انہوں نے بتاےا کہ تین ملکی انٹرنیشنل کبڈی میچز کا اہتما م پاکستان کبڈی فیڈریشن نے کیا ہے جو پنجاب کے 4بڑے شہروں بہاولپور‘ ساہیوال ‘نارروال اور لاہور میں رواں ماہ منعقد ہونگے جس میں پاکستان کی دو ٹیمیں پاکستان گرین اور پاکستان وائٹ کے علاوہ ایران اور بھارت کی ٹیمیں شرکت کریں گی۔اس سلسلے میں ساہیوال کے ظفر علی سٹیڈیم میں 11جنوری کو دو میچ کھیلے جائیں گے جن میں پہلا میچ دوپہر ایک بجے پاکستان گرین اور ایران کے مابین اور دوسرا میچ اسی روز بھارت اور پاکستان وائٹ کے درمیان کھیلا جائے گا۔

۔میچز کے تمام انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں۔

ماضی میں اہل اقتدار سرمایہ دار تھے ،عمران خان کاخود کوئی کاروبار نہیں:ناصراقبال ، ترکی سے پاکستان کے کئی معاہدے چل رہے ہیں مزید بھی ہونے چاہئیں:امجدسلیم ، تعلیمی اداروں کی مہنگی فیسوں بارے عدالت کا فیصلہ خوش آئند ہے: امجداقبال ، کاروبار کا اس وقت برا حال ہے جس کی وجہ بے یقینی کی صورتحال ہے: افضال ریحان ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ’کالم نگار‘ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار ناصر اقبال خان نے کہا ہے کہ ترکی پاکستان میں سرمایہ کاری کرتا ہے تو اس سے ہمیں فائدہ ہو گا ماضی میں ہمارے اہل اقتدار خود سرمایہ دار تھے وہ صرف اپنے کاروبار کو پھیلاتے رہے، خود بیرون ملک سرمایہ کاری کرتے تو ان کے کہنے پر کون یہاں سرمایہ کاری کرتا۔ عمران خان پہلے حکمران ہیں جن کا اپنا کوئی کاروبار نہیں ہے ان پر اندرون بیرون لوگ اعتماد کرتے ہیں۔ شعبہ تعلیم اور صحت یہاں ایک مافیا بن چکا ہے۔ پہلی بار اعلیٰ عدلیہ نے نجی درسگاہوں کی بے تحاشہ فیسوں کیخلاف ایکشن لیا ہے ریاستی اداروں کو عدالت کے فیصلے پر عملدراامد کرانا چاہئے۔ بعض میڈیا گروپس مصنوعی ریٹنگ دکھا کر بزنس لیتے ہیں جو غلط ہے۔ میڈیا پر کوئی دباﺅ نہیں ہے حکومت میں شامل کسی شخص کو سرکاری ٹھیکہ نہیں دینا چاہئے۔ بلوچستان میں غذائی قلت کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ کالم نگار امجد سلیم نے کہا کہ عمران خان کا ترکی کا دورہ بہت اہم ہے معیشت پر خاصی توجہ دی جا رہی ہے ترکی سے پاکستان کے کئی معاہدے چل رہے ہیں مزید ہونے چاہئیں۔ ملک میں تعلیمی ایمرجنسی لگانے کی ضرورت ہے۔ حکومت اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے پر عملدرآمد کرائے تعلیم پر 3 فیصد اور صحت پر 1 فیصد سے کم خرچ کیا جا رہا ہے جو شرمناک ہے۔ میڈ کی ٹھیک ریٹنگ کا تعین ضروری ہے تا کہ حصہ بقدر جسہ مل سکے۔ ویج بورڈ ایوارڈ پر عملدرآمد کرایا جائے۔ مہمند ڈیم کے ٹھیکے پر کوئی مسئلہ ہے تو حکومت اسے پارلیمنٹ میں لے جائے۔ 15 فیصد غذائی قلت پر تو ایمرجنسی ڈکلیئر ہوتی ہے بلوچستان میں 40 سے 60 فیصد غذائی قلت ہے جو شرمناک ہے۔ سینئر صحافی امجد اقبال نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے ترکی میں بڑی اہم ملاقاتیں کی ہیں ترک سرمایہ کاروں کو دعوت دی جو خوش آئند ہے نجی تعلیمی اداروں ی مہنگی فیسوں بارے عدالت کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ چینلز کی ریٹنگ کی تصدیق کیلئے ماہرین کے نام عدالت طلب کرنا اچھا اقدام ہے۔ مہمند ڈیم کی بڈ آج کی نہیں بلکہ ڈیڑھ سال پہلے کی ہے اگر ملک میں کوئی بڑا کام ہونے جا رہا ہے تو کوئی رکاوٹ نہیں آنی چاہئے۔ بلوچستان میں غذائی قلت بہت سنجیدہ مسئلہ ہے جسے فوری حل کیا جانا چاہئے۔ تجزیہ کار افضال ریحان نے کہا کہ ترکی اور پاکستان کے تعلقات حکومت کے ساتھ عوامی سطح پر بھی ہیں ترکی کے سرمایہ کار یہاں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو خوش آئند ہے، حکومت پہلے سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت زار درست کرے نجی اداروں کو خراب نہ کرے۔ کاروبار کا اس وقت برا حال ہے جس کی وجہ بے یقینی ہے۔ میڈیا زیر عتاب ہے صحافی بیروزگار ہو رہے ہیں۔ حکومت نے خود شفافیت کا نعرہ لگایا تھا رزاق داﺅد کو ٹھیکہ دینا شفافیت ہے۔ بلوچستانمیں غذائی قلت افسوسناک ہے جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

رونالڈو نے سال کے بہترین فٹبالر کا ایوارڈ جیت لیا

دبئی (آئی این پی)پرتگال کے اسٹار فٹ بالر کرسٹیانو رونالڈو نے پلیئر آف دی ایئر 2018کا ایوارڈ اپنے نام کرلیا۔گلوبل سوکر ایوارڈ کی 10ویں تقریب دبئی کے جومیرا ریزورٹ میں ہوئی۔ اس موقع پر پلیئر آف دی ائیر کا ایوارڈ شہرہ آفاق فٹبالر رونالڈو نے اپنے نام کیا۔ کرسٹیا نو رونالڈو کا کہنا تھا کہ پلیئر آف دی ائیر کا ایوارڈ ان کے لیے اعزاز ہے، اس موقع پر اپنی فیملی، دوستوں اور اسٹاف کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ 2018بہت مشکل سال رہا، لیکن میں نے کئی انعامات بھی جیتے، 2019نیا سال ہے، اس سال جووینٹس کے ساتھ ٹرافیاں جیتنا چاہتا ہوں۔پلیئر آف دی کیٹگری کی دوڑ میں رونالڈو کے ہمراہ فرانسیسی فٹبالر گریزمین اور کیلین بھی شامل تھے۔ تینتیس سالہ رونالڈو چیمپئنز لیگ کے بھی ٹاپ اسکورر میں شامل رہے ہیں۔ اس سال ہونے والی تقریب میں یووینٹس کلب سے تعلق رکھنے والے پرتگالی فٹ بالر رونالڈو نے گول آف دی ایئر کا بھی ایوارڈ اپنے نام کیا۔

پی ایس ایل، کراچی کنگزکی کپتانی عماد وسیم کے سپرد

کراچی(آئی این پی) پاکستان سپر لیگ کے سیزن 4 کے لیے کراچی کنگز کے کپتان اور نائب کپتان کا اعلان کردیا گیا۔ عماد وسیم کپتان برقرار رہیں گے جبکہ کولن انگرام نائب کپتان ہوں گے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کراچی کنگز کے مالک سلمان اقبال نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم کی مینجمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ عماد وسیم کراچی کنگز کے کپتان رہیں گے۔اپنے ٹویٹ میں سلمان اقبال کا کہنا تھا کہ کولن انگرام کراچی کنگز کے نائب کپتان ہونگے ۔پاکستان سپر لیگ کے افتتاحی سیزن 2016 میں شعیب ملک ٹیم کے کپتان تھے جبکہ سیزن 2 میں کمار سنگا کارا نے کپتانی کے فرائض انجام دئیے ۔ گزشتہ برس عماد وسیم کو ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا تھا جو اس سیزن میں بھی برقرار رہیں گے۔خیال رہے کہ پاکستان سپر لیگ سیزن 4 کے شیڈول کا اعلان کیا جا چکا ہے۔

پی ایس ایل کا چوتھا ایڈیشن 14 فروری سے 17 مارچ تک ہوگا۔پی ایس ایل فور کے 4 میچز پہلی مرتبہ ابو ظہبی میں ہوں گے جبکہ شارجہ اور دبئی میں بھی میچز ہوں گے۔ آخری 8 میچز پاکستان میں ہوں گے جن میں 3 میچ لاہور اور 5 میچ کراچی میں ہوں گے۔لاہور میں ہونے والے میچز 9، 10 اور 12 مارچ کو ہوں گے جبکہ 7، 10، 13 اور 15مارچ کو میچز کراچی میں ہوں گے۔ پی ایس ایل فور کا فائنل 17 مارچ کو کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

حفیظ بنگلہ دیش سے ڈی پورٹ ہونے سے بال بال بچ گئے

ڈھاکہ (آئی این پی) بنگلہ دیش پریمیئرلیگ (بی پی ایل)کھیلنے کیلئے بنگلہ دیش جانےوالے محمد حفیظ کو ڈھاکا ایئرپورٹ پر روک لیا گیا اور وہ ڈی پورٹ ہونے سے بال بال بچ گئے۔بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کا آغاز 5 جنوری سے ہوگا جس میں محمد حفیظ سمیت متعدد کرکٹرز ایکشن میں نظر آئیں گے۔ایونٹ میں راج شاہی کنگز کی نمائندگی کرنےوالے محمد حفیظ بغیر ویزا کے ڈھاکا پہنچے تو انہیں ایئرپورٹ پر ہی روک لیا گیا۔بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کھیلنے کیلئے آنےوالے کھلاڑیوں کیلئے آن ارائیول ویزا کی پالیسی تھی لیکن بنگلہ دیش میں انتخابات کی وجہ سے کرکٹرز کو اس بار ویزا لینا لازمی تھا اور حفیظ اس نئی پالیسی سے لاعلم تھے۔

محمدحفیظ کو گھنٹوں ائیرپورٹ پر روک کر رکھا گیا اور ایک موقع پر انہیں ڈی پورٹ کرنے کی تیاری کرلی گئی تھی البتہ بی پی ایل حکام نے حفیظ کو وطن واپسی کی خفت سے بچا لیا۔بنگلہ دیشی حکومت کے اعلی حکام کی خصوصی مداخلت پر پاکستانی آل راونڈر کو ویزا جاری کیا گیا اور انہیں بنگلہ دیش میں داخلے کی اجازت ملی۔بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں آل راونڈر عامر یامین کومیلا وکٹورینز، محمد حفیظ اور محمد سمیع راج شاہی کنگز، شعیب ملک اور شاہد آفریدی کومیلا وکٹورینز جبکہ محمد عرفان، محمد نواز اور سہیل تنویر سلہٹ سکسرز کی نمائندگی کریں گے۔

پروٹینزبلے بازوں کے سامنے قومی باﺅلر ز بے بس

کیپ ٹاﺅن(نیوزایجنسیاں)کیپ ٹاﺅن کے دوسرے روزپروٹیزبلے بازوں کا راج رہا،پورے دن کے کھیل کے دوران قومی باﺅلرزصرف4کھلاڑیوں کو ہی آﺅٹ کرسکے۔میزبان سائیڈنے دوسرے روزکھیل کے اختتام پر6وکٹوں کے نقصان پر382 رنز بنا لیے ۔ کپتان فیف ڈوپلیسی نے 103رنزکی شانداراننگز کھیلی جبکہ ٹیمیاباوما75رنزبناکرآﺅٹ ہوئے۔میزبان سائیڈکو پاکستان کیخلاف 205رنزکی مجموعی برتری حاصل ہوگئی ہے جبکہ اس کی 4وکٹیں باقی ہیں۔کوئنٹن ڈی کوک55اورورنن فلینڈر6رنزکیساتھ کریزپرموجودہیں شاہین آفریدی نے 3کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔کیپ ٹاﺅن ٹیسٹ کے دوسرے روزجنوبی افریقہ نے 123 رنز 2 وکٹوں کے نقصان سے اننگز شروع کی تو محض 4 رنز کے اضافے پر تیسری وکٹ گر گئی جس کے بعد چوتھے بلے باز ڈی بروئن بھی 13 رنز بنا کر شاہین خان آفریدی کی گیند پر آوٹ ہو گئے.کیپ ٹان دوسرے ٹیسٹ کے دوسرے روز نیوزی لینڈ نے 123 رنز سے بیٹنگ کا آغاز کیا تو ہاشم آملہ صرف 4 رنز کے اضافے پر محمد عباس کی گیند پر آوٹ ہو گئے۔اس وقت تک پروٹیز ٹیم کا مجموعی سکور 127 تھا۔ ان کے بعد چوتھا شکار شاہین خان آفریدی نے ڈی بروئن کا کیا جو 13 رنز بنانے کے بعد بابر اعظم کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہوئے۔پہلا روز سنچورین ٹیسٹ کا ری پلے ثابت ہوا، قومی ٹیم ایک سو ستتر رنز پر ڈھیر ہوگئی، کپتان سرفراز احمد نے نصف سنچری سکور کی، جواب میں پروٹیز نے 2 وکٹوں کے نقصان پر ایک سو تیئس رنز بنا لئے۔کیپ ٹان ٹیسٹ کا پہلا روز جنوبی افریقہ کے نام رہا۔ سنچورین ٹیسٹ کی طرح کیپ ٹان کی پچ پر بھی قومی بلے بازوں کا جی نہ لگا۔ پوری ٹیم ایک سو ستتر رنز پر ڈھیر ہو گئی۔سرفراز احمد نے کچھ مزاحمت دکھائی۔ نصف سنچری بنائی تاہم کپتان چھپن رنز بنا کر آٹ ہوگئے۔ شان مسعود نے ٹیم کو چوالیس رنز کا سنبھالا دیا۔ محمد عامر بائیس رنز بنا کر ناقابل شکست رہے۔فاسٹ بالر اولیور نے چار اور ڈیل اسٹین نے تین شکار کئے۔

جواب میں پروٹیز نے 2وکٹ پر ایک سو تیئس رنز بنا لئے۔ اوپنر ایڈن مارکرم نے اٹھتر رنز کی اننگز میں ایک چھکا اور چودہ چوکے لگائے۔ ہاشم آملہ چوبیس رنز بنا کر ناٹ آٹ ہیں۔ محمد عامر اور شان مسعود نے ایک ایک کھلاڑی کو آٹ کیا، پروٹیز کو پاکستان کی پہلی اننگز کا اسکور برابر کرنے کے لئے مزید چون رنز درکار ہیں اور ابھی اس کی آٹھ وکٹیں باقی ہیں۔

شیوسینا کی درخواست پرعمران ہاشمی کی فلم کی ریلیز کی تاریخ تبدیل

ممبئی(شوبزڈےسک )بھارتی ہندو انتہا پسند جماعت شیوسینا کی درخواست پراداکارعمران ہاشمی کی فلم چیٹ انڈیا کے فلمسازوں نے اپنی فلم کی ریلیز کی تاریخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا اب فلم اپنی مقررہ تاریخ سے ایک ہفتے قبل ریلیزہوگی۔ناموربالی ووڈ اداکارعمران ہاشمی کی فلم چیٹ انڈیا کا انتظار ان کے مداح بے چینی سے کررہے تھے فلم رواں ماہ 25 جنوری کو ریلیزہونی تھی تاہم بھارتی ہندو انتہا پسند جماعت شیوسینا کی درخواست پر اب چیٹ انڈیا 25 جنوری کے بجائے 18 جنوری کو نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔
25
جنوری کو ہندوانتہا پسند جماعت شیو سینا کے سربراہ اور بھارتی سیاستدان بال ٹھاکرے کی زندگی پرمبنی فلم ٹھاکرے بھی ریلیز ہورہی ہے، فلم میں اداکار نوازالدین صدیقی نے بال ٹھاکرے کا مرکزی کردارادا کیا ہے، لہذا شیوسینا جماعت کے ممبران نہیں چاہتے کہ فلم ٹھاکرے کے ساتھ کوئی اورفلم ریلیز ہو اسلیے انہوں نے چیٹ انڈیا کے ہدایت کار سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنی فلم کی ریلیزکسی اوردن ملتوی کردیں۔ شیوسینا کی درخواست کے بعد چیٹ انڈیا کو مقررہ تاریخ سے ایک ہفتے قبل یعنی 18 جنوری کو نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔