سوناکشی سنہا مسلمان لڑکے ظہیر اقبال کو دل دے بیٹھیں

ممبئی(شوبزڈیسک) بالی ووڈ کی معروف اداکارہ سوناکشی سنہا مسلمان لڑکے ظہیر اقبال کو دل دے بیٹھی ہیں۔گزشتہ سال بالی ووڈ سے وابستہ شخصیات کی شادیوں کی وجہ سے خاصی مقبول رہا تاہم نئے سال کی ابتدا میں ہی کئی نام ایک ساتھ جڑے دیکھے جارہے ہیں۔ معروف اداکار کارتیک آریان اور چنکی پانڈے کی بیٹی اننیا پانڈے کے درمیان بڑھتی قربتوں کے خبریں زیر گردش تھیں کہ دوسری جانب دبنگ اداکارہ سوناکشی مسلمان لڑکے کو دل بیٹھنے کی وجہ سے بھی خبروں کی زینت بن گئی ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سوناکشی سنہا ان دنوں بالی ووڈ میں ڈیبیو کرنے والے ظہیر اقبال کے ساتھ دیکھی جارہی ہیں۔ ظہیر اقبال نے پہلے ہی سلومیاں کی آنکھ کا تارا بن چکے ہیں جنہیں بالی ووڈ سلطان خود منیش بہل کی بیٹی پرانوتن کے ہمراہ رومانس سے بھرپور فلم میں متعارف کرا رہے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ سلمان خان کی سالگرہ پر کئی بالی ووڈ شخصیات نے شرکت کی جہاں سوناکشی ڈیبیو کرنے والے اداکار کو پہلی ہی نظر میں دل دے بیٹھی تھیں۔

ہریتک کے والد راکیش روشن بھی کینسر کے مرض میں مبتلا

ممبئی (شوبزڈیسک) بالی ووڈ ہدایتکار راکیش روشن بھی کینسر کے مرض میں مبتلا ہوگئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بالی ووڈ اداکارہریتک روشن نے انسٹا گرام ایپ پراپنے والد سے متعلق بتایا کہ وہ کینسر کے موذی مرض مبتلا ہوگئے ہیں تاہم ابھی ان کے اس مرض کی شروعات ہوئی ہے جس کا علاج شروع کردیا گیا ہے۔ اداکارنے کہا کہ میرے والد سب سے مضبوط ترین انسان ہیں جنہیں کچھ ہفتوں قبل ہی گلے کا کینسرتشخیص ہوا ہے لیکن وہ آج بھی بہت پر امید ہیں اور اس بیماری سے لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بالی ووڈ اداکارہ سونالی بیندرے ‘ رشی کپور اور عرفان خان بھی کینسرجیسی موذی بیماری میں مبتلا ہوچکے ہیں۔

سلطان راہی کی آج 23 ویں برسی‘ کھرا انسان تھا:مصطفی قریشی

لاہور(شوبزڈیسک) پنجابی فلموں کے بادشاہ سلطان راہی کی آج 23 ویں برسی منائی جائے گی ۔ اصل نام سلطان محمد تھا۔کیرئیرکا آغاز فلم باغی میں ایک معمولی سے کردار سے کیا ۔ 1971ءمیں فلم بابل میں انہیں ایک بدمعاش کا ثانوی ساکردار دیا گیا ۔ 1972میں بطور ہیرو ان کی پہلی فلم بشیرا ریلیز ہوئی ۔جس نے انھیں بام عروج تک پہنچادیا۔انہوں نے مجمو 804 فلموں میں کام کیا جن میں500سے زیادہ پنجابی زبان میں اور 160 فلمیں اردو زبان میں بنائی گئی تھیں۔ اداکار مصطفی قریشی نے کہا ہے کہ سلطان راہی کے دنیا سے جانے کے بعد ہماری جوڑی ٹوٹ گئی ،مرحوم حقیقی زندگی میں واقعی ایک کھرا اور بہترین انسان تھا اور اسکی کمی کوئی پوری نہیں کر سکتا۔
مصطفی قریشی نے کہا کہ پنجابی بڑی میٹھی زبان ہے ،میری مادری زبان سندھی ہے لیکن فلموں میں کام کرنے کے لئے مجھے پنجابی زبان سیکھنی پڑی۔انہوں نے ایک انٹر ویوکے دوران کہا کہ پنجابی فلموں میں پنجابی زبان کاجاندار استعمال کیاجاتاہے ،سلطان راہی مرحوم پنجابی زبان کو اونچا بولتے تھے اور یہ پنجاب کی ثقافت کا حصہ ہے۔مصطفی قریشی نے کہا ہے کہ ہمیشہ فلم انڈسٹری کی بحالی کیلئے جدوجہد کی ،مستقبل میں بھی اپنا کردار ادا کرتا رہوں گا۔انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ پچھلے دو سالوں سے پاکستانی فلمیں اچھا بزنس کررہی ہیں مگر بالی ووڈ کی فلموں کا زور توڑنے کیلئے مسلسل پاکستانی فلموں کی نمائش کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے تب جا کر ہم بھارتی فلموں کو منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ نئے سال میں فلموں کی تواتر کے ساتھ نمائش سے فلم انڈسٹری بحرانی کیفیت سے نکلنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

جہیز مانگنا جرم ، قانون موجود مگر 1976 ءسے اب تک کوئی مقدمہ درج نہ ہو سکا

لاہور( این این آئی ) پنجاب اسمبلی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی بربریت کیخلاف ،کشمیر کے مسئلے کو عالمی فورمز پر اجاگر کرنے اور گندم خریداری کیلئے پالیسی بنانے کے مطالبے پر مبنی قراردادیں منظور کر لیں جبکہ ایوان نے پروڈکشن آڈر کے معاملے پر قائم کمیٹی کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع کی تحریک بھی منظور کرلی ،وقفہ سوالات کے دوران بتایا گیا ہے کہ جہیز کے حوالے سے قانون موجود لیکن ابھی تک کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا،جنوبی پنجاب میں امن و امان کے قیام کےلئے ملٹری پولیس ڈیوٹی سر انجام دے رہی ہے اور محکمہ داخلہ ملٹری پولیس کے بجٹ کی منظور دیتا ہے۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس دوسرے روز بھی پینل آف چیئرمین میاں شفیع محمد کی صدارت میںمقررہ وقت کی بجائے ایک گھنٹہ 20منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے محکمہ داخلہ سے متعلق سوالوں کے جوابات دئیے ۔انہوںنے ایوان کو بتایا کہ 1122 کا دائرہ کار تحصیل سطح تک بڑھایا جائے گا، جیسے ہی فنڈز دستیاب ہوں گے لاہور میں ایمبولینسز کی تعداد میں مزید اضافہ کریں گے ۔ضمنی سوال کے جواب میں راجہ بشارت نے کہا کہ جہیز کے حوالے سے 1976کا ایکٹ موجود ہے لیکن ابھی تک جہیز کے حوالے سے کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔(ن) لیگ کے رکن اسمبلی طاہر خلیل سندھو نے نقطہ اعتراض پر بات کرتے کہاکہ سپریم کورٹ کے واضح حکم کے مطابق مری کالج سیالکوٹ اور راولپنڈی کالج کو پرائیویٹ نہیں کیا جا سکتا،البتہ حکومت انتظامات پرائیویٹ سیکٹر کو دے سکتی ہے اوراس حوالے سے پنجاب حکومت نے 2015 میں نوٹیفکیشن بھی جاری کیا ۔وزیر قانون نے کہا کہ سابقہ حکومت نے تین سال اس نوٹیفکیشن پر عملدرآمد نہیں کرایا لیکن ہم اس نوٹیفکیشن پر عمل کریں گے۔(ن) لیگ کے رکن اسمبلی سمیع اللہ خان نے نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شیریں مزاری جب اپوزیشن میں تھیں تو اپنے ٹوئٹ کے ذریعے یہ میسج دیتی تھیں کہ شہزادے شکار پر اور ہنٹنگ ٹرپ پر آئے ہوئے ہیں، آج وہ حکومت میں ہیں اور پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر نے اس ہنٹنگ ٹرپ کی خاطر پنجاب اسمبلی کے ایوان کے تقدس کو پامال کیا ہے ۔اس کے جواب میں صوبائی وزیر ظہیر الدین نے کہا سمیع اللہ خان پوائنٹ سکورننگ کررہے ہیں ایسی کوئی بات نہیں ۔ڈپٹی سپیکر اپنی مصروفیات کی وجہ سے اسمبلی نہیں آئے ،وہ ولی عہد کے ساتھ شکار نہیں کھیل رہے اور اس موسم میں شکار ہوتا بھی نہیں ۔حکومتی رکن اکبر نوانی نے کہا کہ راجن پور میں گزشتہ ماہ بھی قطر اور عرب ممالک کے شہزادے شکار کھیلنے آئے ہیں ،شکار کا کوئی موسم نہیں ہوتا۔مسلم لیگ (ن) کے رکن ظہیر اقبال نے ایوان میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدارکاعوام سے تعارف شہباز شریف کا نام استعمال کرکے کرایا جا تا ہے ۔انہوں نے بہاولپور میں کابینہ کا اجلاس نہیں کیا بلکہ سردیوں کی چھٹیاں انجوائے کرنے گئے تھے ۔کابینہ کے اجلاس میں علاقے کے مسائل حل کرنے کی بجائے صرف وزراءکی نئی گاڑیوں کی منظوری دی گئی ۔جس پر چیئر مین میاں شفیع محمد نے ان کو مائیک بند کرادیا اور وہ احتجاجاً ایوان سے واک آﺅٹ کر گے۔اجلاس کے دوران صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے ایوان کو بتایا کہ پروڈکشن آرڈر کے معاملے پر قائم کمیٹی کی مدت ختم ہوگئی ہے ۔ انہوں نے کمیٹی کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع کرنے کی تحریک ایوان میں پیش کی جس کی ایوان نے متفقہ طو رپر منظوری دیدی ۔رکن اسمبلی ساجد خان کی جانب پیش کی جانے والی قرارداد میں کہا گیا کہ پنجاب اسمبلی کا ایوان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے درجنوں نوجوانوں کو شہادت اور سینکڑوںافراد کو زخمی کئے جانے پر انتہائی دکھ اور شدید الفاظ میں مذمت کا اظہارکرتا ہے۔بھارت مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی انتہا کرکے انسانی حقوق کی پامالی اور خلاف ورزی کر رہا ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی قتل و غارت پر عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی خاموشی نہایت افسوس ناک اور کشمیریوں کی نسل کشی کے مترادف ہے جسے ہر صورت روکنا ہوگا۔پاکستان کشمیریوں کے مسئلہ کو دنیا کے ہر فورم پر لے کر گیالیکن اقوام متحدہ ،او آئی سی اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں نے مسئلہ کشمیر کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔یہ ایوان وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ نہ صرف اس مسئلہ کو عالمی فورمز پر اٹھائے بلکہ کشمیریوں کی قتل و غارت گری کو فوری طور پر رکوائے۔مذکورہ قرارداد متفقہ طو رپر منظور کر لی گئی ۔رکن اسمبلی صفدر شاکر کی قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ صوبائی حکومت آئندہ گندم کی خریداری کےلئے ایسی پالیسی بنائے جس سے زمیندار کوباردانہ کے حصول اور گندم کی فروخت میں کوئی مشکل درپیش نہ ہو۔ ایوان نے اس قرارداد کی بھی منطوری دیدی ۔اپوزیشن کی جانب سے دو مرتبہ کورم کی نشاندہی کی گئی تاہم حکومت نے کورم پورا کر لیا اور ایجنڈا مکمل ہونے پر اجلا س آج بدھ صبح گیارہ بجے تک کیلئے ملتوی کردیاگیا۔

3ملکی کبڈی سیریزکے نئے شیڈول کااعلان

لاہور(سپورٹس رپورٹر ) تین ملکی کبڈی سیریز کا وینیو اور نیاشیڈول منظرعام پرآگیا،حکومتی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے افتتاحی میچ 8جنوری کوجھنگ میں منعقدنہ ہوسکا ۔نئے شیڈول کے مطابق سیریز کا افتتاحی میچ 8 جنوری کو جھنگ کی بجائے اب 10 جنوری کو بہاولپور میں ہوگا۔بی این پی کے مطابق تین ملکی کبڈی سیریز کے تحت پاکستان، بھارت اور ایران کی ٹیموں کے درمیان انٹرنیشنل کبڈی سیریز 8 جنوری سے شروع ہو کر 14 جنوری تک پاکستان کے مختلف شہروں میں ہونا تھی۔ذرائع کے مطابق سیریز کا پہلا میچ جھنگ میں شیڈول تھا تاہم وزارت داخلہ کی طرف سے اجازت نہ ملنے کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان یہ میچ نہیں ہوسکے گا۔ اب دونوں ٹیمیں 10 جنوری کو بہاولپور میں ایک دوسرے کے درمیان ایکشن میں دکھائی دیں گی، اسی روز پاکستان گرین کا میچ ایران کے ساتھ ہوگا۔11 جنوری کو بھی سیریز کے مزید 2 میچز ساہیوال میں کھیلے جائیں گے، پاکستان گرین کا مقابلہ بھارت جب کہ پاکستان وائٹ کا میچ ایران کے ساتھ ہوگا۔ 13 جنوری کو سیریز کے سیمی فائنل اور فائنل مقابلے لاہور میں کھیلے جائیں گے۔

ابتدائی میچ میں پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف ایکشن میں دکھائی دیں گی۔

ملک میں ہاکی کا بنیادی ڈھانچہ موجودنہیں ، منظور سینئر

لاہور (سپورٹس رپورٹر) اولمپیئن منظور الحسن سینئر نے کہا ہے کہ ملک میں ہاکی کا بنیادی ڈھانچہ نہ ہونے کے برابر ہے اگر ڈومیسٹک کی سطح پر ہاکی پر توجہ دی جائے تو انٹرنیشنل سطح پر دو سال میں ہاکی میں کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں گذشتہ روز نصیر بندہ ہاکی سٹیڈیم میں اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہاکی کی مثال اس طرح ہے کہ جس طرح ایک خستہ حال مکان ہے اور مکان کی دیواروں کی بنیادیں کمزور ہونگی تو وہ مکان کیسے کھڑا ہو سکتا ہے اسی طرح ہاکی کی بنیادیں جب تک کمزور ہونگی تو ملک میں ہاکی ترقی نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہاکہ اب ہمیں ہاکی میں کھویا مقام دوبارہ حاصل کرنے کےلئے دن رات محنت کرنی ہوگی، دو سال کےلئے انٹرنیشنل مقابلوں میں حصہ لینے کی بجائے ڈومیسٹک ہاکی پر توجہ دینی ہوگی تاکہ آنے والے دنوں میں شائقین ہاکی اسی شوق و ذوق سے دیکھیں جس طرح 70 کی دہائی میں دیکھ رہے تھے۔ منظور الحسن نے کہا کہ ضلعی سطح پر ہاکی کے فروغ کےلئے متوازی ایسوسی ایشنوں کو ختم کرناہوگا جو کہ اس وقت کھلاڑی مختلف دھڑے بندیوں کی نذر ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہمارے دور میں اتنی سہولیات موجود نہیں تھیں جتنی اب ہیں لیکن ہم جذبے کے ساتھ میدان میں اترتے تھے اور پاکستان تین بار اولمپک میں اور چار بار عالمی چیمپئن ہونے کے ساتھ ساتھ کئی بار ایشین گیمز اور چیمپئنز ٹرافی میں کامیابی حاصل کرنے اعزازات حاصل کرچکا ہے۔

ٹیسٹ رینکنگ ،اظہر علی ٹاپ 10سے باہر

دبئی(اے پی پی) انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی تازہ ترین ٹیسٹ پلیئرز رینکنگ میں بلے بازوں میں ویرات کوہلی بدستور سرفہرست ہیں، کین ولیمسن دوسرے نمبر پر برقرار ہے، چیتشور پوجارا نے ایک سیڑھی چڑھ کر سٹیون سمتھ کو تیسری پوزیشن سے محروم کر دیا، ایڈم مرکرم 7 درجے ترقی پا کر دوبارہ ٹاپ ٹین میں شامل ہو گئے جبکہ اظہر علی 9 درجے تنزلی کے بعد ٹاپ ٹین سے باہر ہو گئے، ڈوپلیسی اور ریشبھ پانٹ کی ٹاپ ٹونٹی میں انٹری ہوئی ہے، اسد شفیق 5 اور بابر اعظم 2 درجے ترقی کے ساتھ بالترتیب 24ویں اور 25ویں نمبر پر آ گئے، باﺅلرز میں ربادا سرفہرست ہیں، شاہین شاہ آفریدی 31 درجے لمبی چھلانگ لگا کر 60ویں نمبر پر آ گئے۔ منگل کو آئی سی سی کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین ٹیسٹ پلیئرز رینکنگ کے تحت بلے بازوں میں ویرات کوہلی سرفہرست ہیں، کین ولیمسن دوسرے نمبر پر موجود ہیں، پوجارا نے ایک سیڑھی چڑھ کر سمتھ سے تیسری پوزیشن چھین لی، ایڈن مرکرم 7 درجے ترقی کے ساتھ 10ویں نمبر پر آ گئے، انہوں نے اظہر علی کو 19ویں نمبر پر دھکیل دیا، ریشبھ پانٹ 21 درجے ترقی پا کر پہلی مرتبہ ٹاپ ٹونٹی میں آ گئے، انہوں نے 17واں نمبر سنبھال لیا، ڈوپلیسی 6 سیڑھیاں چڑھ کر 16ویں نمبر پر آ گئے، ٹیمبا باووما 5 سیڑھیاں چڑھ کر 21ویں نمبر پر آ گئے، اسد شفیق نے 5 درجے ترقی کے ساتھ 24ویں جبکہ بابر اعظم نے 2 درجے بہتری کے ساتھ 25ویں پوزیشن سنبھال لی، شان مسعود 22 درجے بہتری کے بعد 65ویں، مارکس ہیرس 21 درجے ترقی کے ساتھ 69ویں نمبر پر آ گئے، باﺅلرز میں کگیسو ربادا سرفہرست ہیں۔

، جیمز اینڈرسن دوسرے اور پیٹ کمنز تیسرے نمبر پر موجود ہیں، فلینڈر ایک درجہ بہتری کے بعد چوتھے نمبر پر آ گئے، روندرا جدیجا کی ترقی کے ساتھ ٹاپ فائیو میں واپسی ہوئی ہے، محمد عباس ایک درجہ گر کر چھٹے نمبر پر چلے گئے، یاسر شاہ بھی تنزلی کے بعد 15ویں نمبر پر چلے گئے، ڈونے اولیوائر 4 درجے بہتری کے ساتھ 32ویں نمبر پر آ گئے، محمد عامر کا 34واں نمبر ہے، شاہین شاہ آفریدی 31 درجے لمبی چھلانگ لگا کر 60ویں نمبر پر آ گئے، آل راﺅنڈرز میں شکیب الحسن سرفہرست ہیں، جدیجا نے جیسن ہولڈر سے دوسری پوزیشن چھین لی۔

سیوریج پانی میں پولیو وائرس تشویشناک ، مستقبل میں معذور نسلیں پیدا ہونگی : ضیا شاہد ، بھارت طالبان کیخلاف کوئی ایکشن نہیں لینا چاہتا : عابدہ حسین ، حکومت کی ذمہ داری اسحاق ڈار کی واپسی کیلئے برطانیہ سے بات کرے : بریگیڈئیر (ر ) فاروق حمید ،مودی حکومت پاکستان دشمنی کو الیکشن جیتنے کیلئے استعمال کرنا چاہتی ہے : عبداللہ گل ، چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ افغانستان کے بارے میں موجودہ حکومت کی پالیسی جس طرح سے عمران خان کی حکومت نے کوشش کی اور جس طرح سے ابوظہبی میں امریکہ سے مذاکرات بھی طالبان سے چل رہے ہیں اس سے ظاہر ہوتاہے کہ معاملات سلجھنے کی طرف چل رہے ہیں اور اب جنگ کا فوری خطرہ نہیں ہے اس پر کور کمانڈرز کانفرنس میں اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔ میرا خیال ہے جب تک ابوظہبی میں ہونے والے مذاکرات کا کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں ااتا۔ مذاکرات چل رہے ہیں لیکن کسی قسم کی کوئی چیز ابھی سامنے نہیں آئی۔ نہ تو فریقین کا کوئی طرز عمل سامنے آیا ہے کہ امریکہ نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہو یا طالبان نے کہا ہو کہ ہم نہیں بات کرتے۔ بات چیت چل رہی ہے اس لئے دیکھو اور انتظار کرو والی صورت حال ہے۔ دیکھنا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ ٹرمپ نے نیٹو فورسز کے سربراہ سے کہا تھا مذاکرات کا نتیجہ کچھ ہو سکتا ہے ہر طرح کی صورتحال کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہیں اس کا مطلب ہے کہ مذاکرات ناکامی کی طرف بھی جا سکتے ہیں۔ ضیا شاہد نے کہا کہ یہ ناکام بھی ہو سکتے ہیں چونکہ ابھی ناکامی کی کوئی اطلاع نہیں اس لئے ہم یہی سمجھتے ہیں کہ جاری ہیں۔ مذاکرات جاری رہنا بھی ایک امید والی بات ہوتی ہے۔ کیونکہ مذاکرات کو ختم ہونا ہو تو کسی بھی سٹیج پر ایک فریق جو ہے وہ سخت موقف اختیار کر کے دوسرے فریق کو انکار کر سکتا ہے یا بات چیت بھی جاری رکھنے سے انکار کر سکتا ہے۔ پہلے بھی ایسے معاملات زیر بحث آئے ہیں کہ جس میں خواہ حکومت میں تھے یا حکومت میں نہیں تھے اپوزیشن میں تھے اگر کسی نے اپنی جائیداد چھپائی ہو تو اس کو صادق اور امین کی تعریف سے نکالا جا سکتا ہے اوراگر صادق اور امین کوئی نہیں رہتا یعنی امانت دار نہیں صادق نہیں ہے یعنی سچ نہیں بولتا تو اسکو نااہل کیا جا سکتا ہے اب اعظم سواتی کے بارے میں کیا کہا کہ 101 کنال زمین جو ہے اس کی موجودگی کا انہوں نے کس جگہ اپنے کاغذات میں ذکر نہیں کیا چنانچہ اگر اس بنیاد پر ان کو ٹرائل کیا جائے اور ثابت ہو جائے کہ انہوں نے بغیر کسی وجہ کے چھپایا ہے تو پھر نااہل بھی ہو سکتے تھے اور ان کی سینٹ کی سیٹ بھی ختم ہو سکتی ہے۔ جب انہوں نے استعفیٰ دیا تھا تو تحریک انصاف والوں نے کہا تھا کہ اور ان کی لیڈر شپ کے قریبی حلقوں نے کہا تھا کہ اگر ان کے اوپر کوئی چیز ثابت نہ ہوئی یعنی اگر یہ 101 کنال اراضی والی موجودگی بھی کہ ان کے اثاثے ہیں کہیں ظاہر نہیں کئے گئے تھے اگر یہ نہ ہوتا تو وہ اس کو واپس بھی لے لیتے دوبارہ حکومت میں لے لیتے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ 101 کنال زمین جو ہے یہ ان کے حلق میں ہڈی کی طرح پھنس گئی ہے۔ استعفے اکثر بڑی بڑی مدت تک محفوظ رکھے جاتے ہیں جب تک کوئی فائنل فیصلہ نہیں ہو جاتا تھا۔
اسحق ڈار کی وطن واپسی کے حوالے سے بھی ایک کیس کی سماعت ہوئی ہے جس پر چیف جسٹس صاحب نے استفسار کیا ہے کہ لمبا عرصہ گزر جانے کے باوجود اسحق ڈار کو وطن لانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا جا سکا۔ اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ عدالت نے یہ الفاظ استفسار کئے ہیں کہ اس میں صرف خط و کتابت کے اور کچھ نہیں ہوا۔ حکومت نے تو خط لکھ دیا اور جواب میں خط آ گیا مگر عدالت اس حوالے سے ٹھوس ثبوت مانگتی ہے۔ حکومت کو اس بارے واضح طور پر بتانا پڑے گا کہ جو باہمی معاہدات ہوئے تھے اس کے باوجود ہم اس کو لانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ تو پھر یہ عدالت اس مسئلے کو ٹھپ کر سکتی ہے۔ عدالت کا دائرہ اختیار پاکستان کے اندر ہے۔ پاکستان سے باہر برطانیہ میں بیٹھے ہوئے وزیراعظم برطانیہ کو یا وزیر داخلہ برطانیہ کو کس طور پر عدالت مخاطب بھی نہیں کر سکتی۔ پرویز رشید، عطاءالحق قاسمی، اسحق ڈار، فواد حسن فواد کو جو جرمانہ عائد کیا گیا تھا اس کیس کی سماعت ہوئی کہ ان کی جانب سے ایک پیسہ بھی نہیں جمع کرایا گیا۔ کہا جا رہا ہے کہ ان کو دوبارہ سے نوٹس کئے جائیں گے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ ان کو دو ماہ کی مہلت دی گئی تھی۔ ان دو ماہ کے دوران تو ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو سکتی تھی۔ عطاءالحق قاسمی نے اینکر کامران خان سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرے پاس تو پیسے نہیں ہیں۔ میں تو پھر جیل ہی جاﺅں گا۔ ہاں البتہ ان کو جو نوٹسدیئے گئے ہیں آج کے جواب میں جو کہیں گے وہ عدالت میں جواب کنسیڈر ہو گا۔ پرویزرشید، عطاءالحق قاسمی کو، اسحاق ڈار اور فواد حسن فواد کو بھی ہوا تھا۔ ان چاروں جرمانوں کے جواب میں اب وہ جو کچھ کہیں گے اس کو عدالت میں جواب تسلیم کر کے عدالت اس پر غور کرے گی۔ میں سمجھتا ہو ںکہ ریکوری کے سسٹم میں ہمیشہ مدت دی جاتی ہے اس مدت کے اندر کوئی کارروائی نہیں ہو سکتی ان کو بھی جو مدت دی گئی تھی اگر مدت گزر چکی ہے تو عدالت دوبارہ نوٹس کر سکتی ہے اور وہ مدت گزر گئی ہے تو عدالت گرفتار بھی کر سکتی ہے۔
تعلیمی اداروں کی بھاری فیسیں پرانا مسئلہ ہے جو پہلے کراچی میں سامنے آیا۔ عدالت نے فیسیں کم کرنے کا کہالیکن نہ کی گئیں۔ اب لاہور میں بھی ایسا ہی نظر آ رہا ہے کہ عدالت کے حکم کے باوجود ادارے فیسیں کم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ عدالت ابھی اس معاملے پر زیادہ زور نہیں دے رہی وگرنہ وہ اپنے حکم پر عملدرآمد نہ کرنے پر گرفتاری کا حکم بھی دے سکتی ہے۔ عدالت اپنے کسی بھی حکم پر عملدراامد کرانے کی طاقت رکھتی ہے۔ وزیر تعلیم شفقت محمود کا کام صرف پی ایم ہاﺅس کو یونیورسٹی بنانا نہیں تھا بلکہ وزیراعظم نے یکساں نظام تعلیم پر جو بار بار زور دیا ہے اس پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارت نے امریکہ کو ٹکا سا جواب دے دیا ہے کہ وہ طالبان سے نہیں لڑ سکتا، امریکی صدر ٹرمپ نے بھی اس جواب پر چپ سادھ لی ہے اور کسی غصے کا اظہار نہیں کیا بلکہ ٹرمپ اور مودی نے آپس میں مزید تعاون بڑھانے پر غور کیا ہے۔ طالبان سے جنگ سے انکار کرنے والا بھارات کشمیر میں نہتے شہریوں پر ظلم و ستم ڈھا رہا ہے اب اطلاع ہے کہ کشمیر میں سبز رنگ بنانے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے کہ اس سے پاکستان کا پرچم بنایا جاتا ہے۔ بھارت سبز رنگ کو کہاں کہاں سے مٹائے گا کہ یہ رنگ تو ہریالی کی صورت پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے شروع سے ہی یہ موقف اپنا رکھا ہے کہ کسی پرائی جنگ میں نہیں کودیں گے۔ ابوظہبی میں جاری امریکہ طالبان مذاکرات کو ایک طرح سے عمران خان کی ااشیر باد حاصل ہے۔ تحریک انصاف حکومت نے اپنے اثرورسوخ کا استعمال کر کے طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کیا، اب جس فورس کو آپ بات کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اس سے خود تو نہیں لڑ سکتے۔ عمران خان نے اچھی پالیسی اپنائی ہے، پاکستان خود افغانستان میں امن چاہتا ہے جو صرف اس صورت ممکن ہے کہ امریکہ نہ صرف طالبان سے مذاکرات کرے بلکہ اسے کسی حتمی نتیجہ تک بھی پہنچائے۔ مذاکرات کا ختم نہ ہونا بتا رہا ہے کہ معاملات آگے بڑھ رہے ہیں۔
پاکستان کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے بڑی تعداد میں بچے معذور پیدا ہو رہے ہیں یا پیدائش کے بعد پولیس کا شکار ہو کر معذور ہو رہے ہیں۔ آنے والی نسل کو پولیو سے بچانے کیلئے اس مسئلہ پر خاصی توجہ دینا ہو گی۔ اب بھی پولیو ٹیموں کی بعض علاقوں تک رسائی نہیں اور بعض جگہ والدین بچوں کو قطرے نہیں پلانے دیتے اس وجہ سے بھی یہ بیماری بڑھ رہی ہے۔ سیوریج کے پانی میں پولیو وائرس کا پایا جانا انتہائی تشویشناک ہے جس کا تدارک ضروری ہے۔
دفاعی تجزیہ کار عبداللہ گل نے کہا کہ وزیراعظم اور حکومت نے بھارت کے حوالے سے مناسب پالیسی اپنا رکھی ہے۔ بھارت میں الیکشن جاری ہیں مودی کو 5 صوبوں میں شکست ہوچکی ہے کرپشن کے میگا سکینڈل بھی سامنے آ رہے ہیں اس لئے پاکستان مخالف نعرہ لگانا مودی کے لئے بہت ضروری ہو چکا ہے۔ مودی حکومت سازش کے ذریعے چاہتا ہے کہ پاکستان اسے کوئی ایسا موقع دے جسے بہانہ بنا کر وہ الیکشن جیتنے کی پوزیشن میں آ جائے۔ وزیراعظم عمران خان کا امن کا پیغام اچھا ہے، آرمی چیف نے بھی امن کی بات کی۔ پاکستان ہر قسم کا جواب دینا جانتا ہے تاہم وہ ذمہ دار ایٹمی ریاست ہونے کا ثبوت دے رہا ہے۔ بھارت کو افغانستان میں اپنے کھربوں ڈوبتے نظر آ رہے ہیں کیونکہ امریکہ تو طالبان کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔ ایک تقریب میں امریکی اور بھارتی سفیر سے ملاقات ہوئی، ان کی باتوں سے واضح ہو رہا تھا کہ ان کے افغانستان میں دن تھوڑے ہیں ایسا ہونے کی صورت میں پاکستان کی وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی اور تاپی منصوبہ کی باگیں ہاتھ میں آ جائیں گی اور یہی غم بھارت کو کھائے جا رہا ہے۔
دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) فاروق حمید نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ میں حالیہ ہونے والا معاہدہ اسحق ڈار کی وطن واپس لانے کی جانب پہلا قدم ہے سپریم کورٹ نے اسحق ڈار کو واپس لانے کا کہا ہے اس لئے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ برطانوی حکومت سے بات کرے۔ اسحق ڈار نے برطانیہ میں سیاسی پناہ کی بھی درخواست دے رکھی ہے ان کو واپس لانے میں مسائل تو ہیں تاہم دیکھنا ہے کہ حکومت، وزارت داخلہ اور نیب ڈار کو واپس لانے میں کب کامیاب ہوتے ہیں۔ الطاف حسین، حسن و حسین نواز، علی عمران یہ سب قانون کے بگھوڑے ہیں جنہوں نے برطانیہ میں پناہ لے رکھی ہے، حکومت یقینا ان سب قانون کے مجرموں کو واپسلانے کیلئے اقدامات کر رہی ہو گی۔ آنے والے مہینوں میں حکومت قومی سلامتی کے ادارے اگر اپنا رول ادا کرتے ہیں تو شاید ان سب کو واپسلانے میں کامیاب رہیں گے۔ قومی خزانہ لوٹنے والوں سے ایک ایک پائی کا حساب لینا ہو گا۔ حمزہ شہباز کے خلاف نیب کارروائی کرے گی۔ ایف آئی اے نے ان کی لندن فرار ہونے کی کوشش کو ناکام بنایا۔ قومی خزانے کو لوٹنے والا کوئی شخص بھی اب بیرون ملک فرار نہیں ہو سکتا۔
سابق سفیر عابدہ حسین نے کہا کہ بھارت کی پالیسی ہمیشہ ہی دوغلی رہی ہے، وہ کہتا کچھ اور کرتا کچھ ہے۔ بھارت طالبان کے خلاف کسی قسم کا کوئی ایکشن نہیں لینا چاہتا اور خود کو بے نقاب بھی نہیں ہونے دینا چاہتا۔ سنجیدگی سے دیکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ بھارت کا طالبان پر کوئی اثرورسوخ نہیں ہے۔

قومی سکواڈ کے جو ہانسبرگ میں ڈیرے

جوہانسبرگ(ندیم شبیرسے)جنوبی افریقہ کیخلاف تیسراٹیسٹ کھیلنے کےلئے قومی ٹیم نے کیپ ٹاﺅن سے جوہانسبرگ پڑاﺅڈال لیا۔سکواڈآج ٹریننگ سیشن کریگا جبکہ میچ کل سے شروع ہوگا۔جنوبی افریقا کے خلاف تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ کے لیے قومی ٹیم میں دو تبدیلیاں کیے جانے کا امکان ہے۔ جنوبی افریقا کے خلاف ٹیسٹ سیریز پاکستان ٹیم کے ہاتھوں سے نکل گئی تاہم کھلاڑی آخری ٹیسٹ میں بہتر پرفامنس کےلئے پرامید ہیں جس کے لیے ٹیم میں دو تبدیلیوں پر غور کیا جارہا ہے۔تیسرے ٹیسٹ کےلئے فائنل الیون میں اوپننگ بلے باز فخر زمان اور لیگ اسپنر یاسر شاہ کی جگہ محمد رضوان اور فہیم اشرف کی شمولیت کا امکان ہے۔ ہیڈ کوچ مکی آرتھر کا بھی کہنا ہے کہ وہ 5 بولرز کے ساتھ ٹیسٹ میچ کھیلنے کی حکمت عملی کے حامی ہیں لیکن جنوبی افریقا کی کنڈیشنز مختلف ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ فہیم اشرف کی قابلیت کے معترف ہیں اور انہوں نے انگلینڈ میں بھی ان کی تعریف کی اور پرامید ہیں کہ فہیم اشرف پاکستان کے مکمل آل راو¿نڈر ہوں گے۔ یاد رہے کہ جنوبی افریقا کے خلاف آخری ٹیسٹ جمعے سے جوہانسبرگ میں شروع ہوگا۔جنوبی افریقہ پہلے دوٹیسٹ جیت کرپہلے ہی سیریزمیں2-0کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی ہے ۔تیسراٹیسٹ جیتنے کی صورت میںجنوبی افریقہ پاکستان کو3-0سے شکست دے کرسیریزمیں وائٹ واش کرنے کااعزازحاصل کرے گی۔وضح رہے کہ پہلے ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقہ نے پاکستان کو6وکٹوں سے شکست دی اوردوسرے ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقہ نے پاکستان کو9وکٹوں سے شکست دی۔رپورٹ کے مطابق پاکستان اورجنوبی افریقہ کی ٹیموںکے مابین مجموعی طورپر1995ءسے اب تک 25ٹےسٹ مےچ کھےلے گئے جن مےںسے4مےچ پاکستان نے جےتے اور 14مےںجنوبی افرےقہ نے کامےابی حاصل کی جبکہ7مےچ غےرفےصلہ کن رہے۔

پاکستان کی کامےابی کاتناسب16فیصداورجنوبی افرےقہ کی کامےابی کا تناسب 52 فیصداوردونوںٹیموںکے مابین میچ ڈراہونے کاتناسب28فیصدہے۔

حکومت پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو زندہ دیکھنا چاہتی ہے : فیاض الحسن چوہان ، حکومت کو علاقائی اخبارات کا کوٹہ مختص کرنا ہو گا تبھی یہ اخبارات زندہ رہیں گے: سینئر نائب صدر سی پی این ای امتنان شاہد ، مستحق فنکاروں کے ما ہا نہ وظائف لگائے، بروقت ادائیگی یقینی بنائی، تھیٹر میں من پسند لوگوں کو ٹھیکے ملتے تھے جو اب بند کر دیئے ، اشتہارات جاری کرنے کیلئے کمیٹی بنا دی، میرٹ پر اشتہارات جاری کرنے کیلئے سی پی این ای کی تجاویز درکار ہونگی،سی پی این ای اجلاس سے خطاب

لاہور (رپورٹنگ ٹیم) وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ حکومت اخبارات کو زندہ رکھنا چاہتی ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے مسائل حل کریں گے حکومت بڑے اور موثر اخبارات کو میرٹ پر اشتہارات جاری رکھے گی۔ ڈمی اخبارات کو اشتہارات نہیں دئیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لئے صوبائی حکومت نے ایک کمیٹی بنا دی گئی جو فہرست تیار کرے گی۔ ڈی جی پی آر پنجاب سے ہفتے میں دو بار ان سے ملاقات ہو گی۔ علاقائی اخبارات کو بھی میرٹ پر اشتہارات جاری کئے جائیں اس سلسلے میں سی پی این ای کا تعاون اور مشاورت درکار ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جب سے وزارت اطلاعات سنبھالی ہے کرپشن کے خاتمے کے لئے بہت سے اقدامات کئے ہیں اور ثقافت کے شعبے میں جامع اصلاحات کی ہیں۔ بہت سے مستحق فنکاروں کے ماہانہ وظائف لگائے اور اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ یہ وظائف ان قومی فنکاروں کو بروقت مل سکیں جبکہ سابق دور میں من پسند فنکاروں کو وظائف دئیے جاتے تھے اور درجنوں فنکار اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھا سکے تھے۔ اسی طرح تھیٹر میں مافیا کا خاتمہ کیا ہے۔ ان اداروں میں تمام تر ٹھیکے نواز حکومت میں بیٹھے افراد کے رشتہ داروں کو دئیے جاتے تھے ہم نے آکر اس ناانصافی کو ختم کر دیا ہے اور ثقافت کے تمام شعبوں میں میرٹ پر فیصلے کر رہے ہیں۔ وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ میڈیا کی آزادی حکومت کی آزادی ہے۔ انہوں نے کہا چھوٹے علاقائی اخبارات کے مسائل کے لئے سی پی این ای مدد بھی درکار ہو گی اور تنظیم کی تجاویز پر عملدرآمد بھی کریں گے۔ ان خیالات انہوں نے سی پی این پنجاب کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ میڈیا ریاست کا اہم ستون ہے اور تحریک انصاف کی حکومت میڈیا کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے۔ پنجاب میں کسی بھی قومی یا ریجنل اخبار کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں چند ایک اخبارات اور ٹی وی چینلز کو نوازا جاتا تھا اب ایسا نہیں ہے۔ دو ادارے ایسے تھے جو قومی اداروں کے خلاف بولتے تھے انہیں سمجھا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اخبارات کو میرٹ پر اشتہارات دیئے جائیں گے جبکہ ریجنل اخبارات کو پالیسی کے مطابق اشتہارات جاری ہوں گے۔ سی پی این ای کے سینئرنائب صدر امتنان شاہد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو علاقائی اخبارات کا کوٹہ مختص کرنا ہو گا تبھی یہ اخبارات زندہ رہیں گے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سی پی این ای کے سابق سیکرٹری جنرل اعجاز الحق نے سوال اٹھایا کہ مرکز اور صوبوں میں اخبارات کی روٹیشن میں کئی ریجنل اخبارات کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ روٹیشن صرف میڈیا لسٹ کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہئے بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ کون سے ریجنل اخبارات عملی طور پر مارکیٹ میں موجود ہیں۔ ان کی تجویز پر صوبائی وزیر نے کہا کہ سی پی این ای کا ایک وفد سیکرٹری اطلاعات اور ڈی جی پی آر سے ملاقات کر کے اس معاملے پر بات کرے گا۔ اجلاس کے اختتام پر اعجاز الحق نے انہیں 18 جولائی کو اسلام آباد میں ہونے والے نیشنل میڈیا کنونشن میں شرکت کی دعوت دی اور بتایا کہ اس کنونشن میں اخبارات، ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا سے متعلق شخصیات شریک ہوں گی، اور کنونشن کے آخری سیشن میں وزیراعظم عمران خان کی شرکت بھی متوقع ہے۔اجلاس میںایاز خان، جنرل سیکرٹری سی پی این ای جبار خٹک، اعجاز الحق، رحمت علی رازی، ارشاد عارف، سید انتظار زنجانی، کاظم خان، علی احمد ڈھلوں، محمد ارشد روحانی، اجمل شفیق، ملک لیاقت، اشرف سہیل، اکمل چوہان، ایم اسلم میاں، عبدالودود ربانی، ذوالفقار راحت ، ملک فرزند علی، عثمان غنی، وقاص طارق، زبیر محمود، توفیق شیخ، امتیاز روحانی، بشیر احمد، سردار عابد علیم نے بھی شرکت کی۔

پیزا کے شوقین ہیں؟ تو اس حیران کن حقیقت کو بھی جان لیں

لاہور (ویب ڈیسک)اگر آپ سے سوال پوچھا جائے کہ اطالوی زبان کا وہ کون سا لفظ ہے جو سب سے زیادہ بولا ، سمجھا اور پسند کیا جاتا ہے تو یقیناً آپ کو جواب معلوم ہوگا۔ آپ صحیح سمجھے یہ لفظ ہے ‘پیزا’۔ جو دنیا بھر سمیت ہمارے ملک میں بھی دیسی اور بدیسی شکلوں میں بہت شوق سے کھایا جاتا ہے۔ اب اس پیزا سے جڑی ایک پہیلی بوجھیں، کیا 18 انچ کے ایک پیزا میں دو 12 انچ کے پیزا سے زیادہ پیزا ہوتا ہے؟ آپ کہیں گے کہ رہنے دیں پیزا کے سلائس کھائیں پیزا مت گنیں۔ لیکن جناب پیزا سے جڑا ہے ایک حساب۔اس حساب کو سمجھ لینے کے بعد آپ دوستوں کے ساتھ دو 12 انچ کے پیزا منگانے کے بجائے ایک 18 انچ کا پیزا کھانا پسند کریں گے۔ پیزا اتنا ہی ہوگا لیکن قیمت ہوگی ایک پیزا کی۔سننے میں یہ کچھ عجیب لگ رہا ہوگا لیکن فرمیٹ لائبریری نے پیزا کے حجم کا حساب کتاب لگایا ہے اور جواب یہ آیا ہے کہ اب 12 انچ کے دو پیزا کی بجائے 18 انچ کا ایک پیزا کھایا جائے۔ایک 18 انچ کا پیزا اپنے حجم کا 254 اسکوائر انچ ہوتا ہے جبکہ دو 12 انچ کے پیزا میں صرف 226 اسکوائر انچ ہوتے ہیں تو ہوا نا 18 انچ کا پیزا 2 12 انچ کے پیزوں سے بڑا؟سوشل میڈیا پر یہ حساب منظر عام پر آنے کے بعد لوگوں نے اس حساب پر اپنی رائے دی اور یوں ایک تانتا سا بندھ گیا۔اس حساب کتاب پر ٹوئٹر کے ایک صارف نے سوال اٹھا یا کہ اگر پیزا کا کرسٹ نہ کھایا جائے تو پھر تو یہ حساب ہی غلط ثابت ہو جاتا ہے۔اتنا حساب کتاب جب کریں جب خود سے پیزا کھلانا ہو تاکہ دوسرا اس چکر میں یا تو پیزا کھانے سے انکار کر دے یا پھر ایک سلائس کھا کر ریاضی کے تحت پیٹ بھرا ہوا محسوس کرے اور اگر کسی کی پیزا دعوت ہو تو پھر ‘بے حساب’ کھائیں۔

سعودی عرب میں گاڑی الٹنے سے ایک ہی خاندان کے7 افراد جاں بحق

ریاض(ویب ڈیسک) سعودی عرب میں گاڑی الٹنے سے ایک ہی خاندان کے7 افراد جاں بحق ہوگئے۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق حادثہ گزشتہ شب پرانی ساحلی شاہراہ مکہ اللیث ہائی وے پر پیش آیا جس کے نتیجے میں گاڑی میں موجود ایک ہی خاندان کے 7 افراد لقمہ اجل بن گئے۔رپورٹ کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد میں ایک شخص اور اس کی دو بیویاں، ایک بیٹا اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ گاڑی میں موجود چار بیٹیاں زخمی ہوئیں۔جاں بحق افراد کو شہدائے حرم قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا ہے جبکہ حادثے میں زخمی ہونے والی چار لڑکیاں اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔حادثے کا شکار خاندان آبائی گاو¿ں میں چھٹیاں گزار کر مکہ مکرمہ واپس آرہا تھا۔

ہمیں یہ طعنہ نہ سننا پڑے کہ عدلیہ میں پاناما لیکس کے جج بیٹھے ہیں: چیف جسٹس

اسلام آباد(ویب ڈیسک) لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس فرخ عرفان کے خلاف ریفرنس کی سماعت سپریم جوڈیشل کونسل نے کھلی عدالت میں کی جس کے دوران چیف جسٹس نے وکیل حامد خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ طعنہ نہ سننا پڑے کہ عدلیہ میں پاناما لیکس کے جج بیٹھے ہیں۔یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فرخ عرفان کا نام بھی پاناما لیکس میں آف شور کمپنیاں بنانے والوں کی فہرست میں شامل تھا۔ جسٹس فرخ عرفان کے خلاف ریفرنس چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت ہے۔ریفرنس کی سماعت کے دوران جسٹس فرخ عرفان کے وکیل حامد خان نے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کا بیان حلفی پیش کرنے کی اجازت مانگی۔اس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ حامد خان آپ سابق چیف جسٹسز کو کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہتے ہیں، ہم اتنے معتبر ججز کو نہیں بلائیں گے اور نہ ہی سابق چیف جسٹس کو بلانے کا حکم دیں گے، اگر حامد خان آپ خود انہیں رضا کارانہ لے آئیں تو اعتراض نہیں۔جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ حامد خان آپ جسٹس فرخ عرفان سے متعلق وکلائ کے بیان حلفی دے رہے ہیں کیا یہ مناسب ہے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ جسٹس فرخ عرفان پر یہ الزام بھی ہے وہ دوران سماعت غصے میں آ جاتے ہیں، اس لیے ان کے ساتھی جج اسد منیر کا بیان حلفی پیش کر رہا ہوں۔سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس اسد منیر بھی سپریم جوڈیشل کونسل میں پیش ہوئے اور کہا کہ جسٹس فرخ عرفان سے متعلق بیان حلفی میرا ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سابق جج اسد منیر پر جرح کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کو جسٹس فرخ عرفان کے ٹیکس معاملات کا علم ہے؟ اس پر اسد منیر کا کہنا تھا کہ مجھے ان کا علم نہیں ہے۔انہوں نے جسٹس (ر) اسد منیر سے پوچھا کہ آپ جسٹس فرخ عرفان کو کب سے جانتے ہیں؟ جس پر ان کا جواب تھا کہ میں 1990 سے جسٹس فرخ عرفان کو جانتا ہوں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مزید پوچھا کہ کیا ا?پ کو جسٹس فرخ عرفان کی پاناما لیکس سے پہلے آف شور کمپنیوں سے تعلق کا علم تھا؟ اس پر بھی جسٹس (ر) اسد منیر نے نفی میں جواب دیا۔اس دوران چیف جسٹس نے بھی جسٹس (ر) فرخ عرفان سے سوال کیا کہ آپ سے بیان حلفی کے لیے کس نے رابطہ کیا؟ اس کے جواب میں جسٹس (ر) اسد منیر نے کہا کہ بیان حلفی کے لیے جسٹس فرخ عرفان نے خود رابطہ کیا تھا۔چیف جسٹس نے سابق جج سے استفسار کیا کہ کیا بیان حلفی خود ٹائپ کیا یا اسٹینو سے کرایا؟ ہم اسٹینو اور ٹائپسٹ کو بھی بلا لیں گے۔سابق جج اسد منیر کا کہنا تھا کہ پرنٹر میرے دفتر کا نہیں تھا میں نے ای میل کیا، اس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کس کو ای میل کیا؟ جس کے جواب میں سابق جج کا کہنا تھا کہ فرخ عرفان کے بھائی حسن عرفان جو اس مقدمے میں وکیل بھی ہیں۔اس دوران چیف جسٹس نے جسٹس فرخ عرفان کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ حامد خان، میں دیوانی مقدمات میں بہترین جرح کرنے والا وکیل رہا ہوں لہٰذا فوراً گواہ لائیں ہم سب کے اکٹھے بیان قلم بند کرنے کیلئے تیار ہیں۔جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ اگر آپ کہتے ہیں تو ہم خود گواہ بلانے کی آوازیں لگانا شروع کر دیتے ہیں، ہم آواز لگا دیں کہ فلاں فلاں حاضر ہو۔انہوں نے کہا کہ ”حامد خان جتنے وکلائ کے بیان حلفی دیے ہیں وہ جج صاحب کی لائ فرم کے ملازم ہیں اور میں سوچ رہا ہوں کہ بیان حلفی دینے والے وکلائ سے متعلق ایک لفظ لکھ دیا تو ان کا مستقبل تباہ ہو جائے گا، تڑی نہیں لگا رہا سوچ رہا ہوں یہ کتنا بڑا رسک لے رہے ہیں۔ ”اس دوران وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ آپ سختی سے بات کرتے ہیں تو نوجوان وکلائ گھبرا جاتے ہیں۔سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس فرخ عرفان کے رپورٹڈ مقدمات کی فہرست طلب کرلی۔ دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان اور جسٹس فرخ عرفان کے وکیل حامد خان سے مکالمہ ہوا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ حامد خان ہمیں بتا دیں کہ ہمارا جج دیانت دار ہے، ہمیں یہ طعنہ نہ سننا پڑے کہ عدلیہ میں پاناما لیکس کے جج بیٹھے ہیں۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ سادہ سوال ہے پیسہ جائز طریقے سے کمایا اور جائزطریقے سے باہر لے گئے؟ سادہ سا سوال ہے کہ دیانت داری کا ثبوت دے دیں۔جسٹس ثاقب نثار نے وکیل حامد خان سے کہا کہ آپ سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کو لانا چاہتے ہیں تو لے آئیں لیکن افتخار چوہدری نے آپ کی طرف سے بیان حلفی میں یہی کہا ہے کہ فرخ عرفان اچھے آدمی ہیں؟ افتخار چوہدری صاحب سے پوچھا جائے آف شور کمپنیوں کا علم تھا ؟ تو وہ کیا کہیں گے مجھےعلم نہیں۔اس پر وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ افتخار محمد چوہدری کی ذات سے متعلق کیوں سوال ہو؟ وہ تو اتنا ہی بتائیں گے کہ فرخ عرفان جج بننے سے پہلے کاروبار چھوڑ چکے تھے۔اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ بتا دیں یہ پیسہ پاکستان سے نہیں کمایا، جب باہر تھے تو یہ ڈکلئیر کرنے کی ضرورت نہیں تھی، ہائی کورٹ کے ججز کے فیصلے ہمارے پاس آتے ہیں، پتہ ہے کون سا جج کتنے پانی میں ہے۔بعد ازاں سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کل شام 4 بجے تک ملتوی کردی۔