نیب نواز شریف کے خلاف کوئی بھی الزام ثابت نہیں کرسکا، ترجمان (ن) لیگ

اسلام آباد(ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور شریف خاندان نے 3 نسلوں اور 3 دہائیوں کے ذاتی کاروبار کا حساب دیا لیکن نیب نواز شریف کے خلاف کوئی بھی الزام ثابت نہیں کر سکی۔مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر اللہ تعالیٰ کا شکرادا کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہر امتحان سے سرخرو ہوں گے کیونکہ ا±ن کی نیت صاف ہے، نواز شریف اور شریف خاندان نے 3 نسلوں اور 3 دہائیوں کے ذاتی کاروبار کا حساب دیا، ملک کو ایٹمی اور معاشی قوت بنایا، پاکستان کے نوجوانوں کو روشن مستقبل کی ا±مید دی اور دن رات نیک نیتی، ایمانداری اور دیانتداری سے ملک اور قوم کی خدمت کی ہے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ نواز شریف نے اربوں روپے کے منصوبے لگائے، بدترین مخالف ایک روپے کی کرپشن کا الزام تک نہ لگا سکے، نواز شریف اورشریف خاندان پرسرکاری پیسوں کے خرد برد اور کرپشن کا ایک بھی الزام ثابت نہ ہوسکا اور نیب محمد نواز شریف کے خلاف کوئی بھی الزام ثابت نہیں کرسکا۔ نواز شریف کے خلاف آج تک ایک روپے کی کرپشن، کِک بیک اور اختیارات کا ناجائز استعمال ثابت نہیں ہو سکا،مفروضوں پر مبنی کیس قانون کے کٹہرے میں زیادہ دیر تک نہیں رہ سکتا۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزا معطلی سے متعلق نیب کی اپیل خارج کردی ہے۔

ہر ڈویژنل ہیڈ کوارٹر پر کابینہ اجلاس منعقد کر ینگے:وزیر اعلیٰ عثمان بزدا ر کی چینل فا ئیو سے گفتگو

لاہور(صدف نعیم )پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے بعد چینل فائیو سے گفتگو کے دوران وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے کہا ہے کہ ہم ہر ڈویژنل ہیڈ کوارٹر پر کابینہ کے اجلاس منعقد کر ینگے۔پنجا ب اسمبلی عوامی مفا د کے لئے ریکارڈ قا نو ن سا زی کر یگی ۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر وزیر کی کا رکر دگی کا خو د جا ئزہ لے رہاہوں۔پروٹو کول خود لو نگا نہ اپنے وزراءسے اس کی امید رکھونگا۔ہمارا دامن صاف اور عوام کے اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچاﺅں گا،کچھ عرصہ بعد عوام خو د محسو س کرینگے کہ نہ صرف پنجاب بلکہ پو رے پا کستان میں تبدیلی آئیگی۔

پشاور میں چینی انجنیئر اور پاکستانی خاتون نے شادی کرلی

پشاور(ویب ڈیسک) مقامی عدالت میں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار چینی انجنیءاور پاکستانی خاتون رشتہ ازدواج سے منسلک ہوگئے۔ پشاور کی مقامی عدالت میں ایک دوسرے کی محبت میں چینی شہری ڑوان لنگ اور پاکستانی خاتون زینب نے شادی کرلی۔چینی شہری ڑوان لنگ بطور سولر انجنیئر پاکستان میں کام کر رہا ہے جب کہ زینب پشاور کے علاقے سول کوارٹر کی رہائشی ہے، کچھ عرصہ قبل دونوں کی دوستی ہوئی اور پھر یہ دوستی محبت میں بدل گئی۔ جس کے بعد دونوں نے کورٹ میرج کرلی۔ پاکستانی خاتون کی محبت میں گرفتار چینی مرد نکاح سے قبل مسلمان ہوا ہے اور اس کا نام اذان رکھا گیا ہے۔

سیریز میں کلین سویپ ، پروٹیز نے شاہینوں کے پَر نوچ لیے

جوہانسبرگ (ویب ڈیسک ) جنوبی افریقا نے تیسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کو 107 رنز سے ہرا کر سیریز میں کلین سوئپ کردیا۔ جوہانسبرگ ٹیسٹ میں جیت کے لیے 381 رنز کے تعاقب میں قومی ٹیم شدید مشکلات سے دوچار رہی۔جوہانسبرگ ٹیسٹ کے چوتھے روز قومی ٹیم نے 3 وکٹوں کے نقصان پر 153 رنز سے اننگز کا آغاز کیا تو اسد شفیق 48 اور بابر اعظم 17 رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے۔دونوں بلے بازوں نے محتاط انداز اپنایا لیکن بابراعظم 21 کے انفرادی اسکور پر پویلین لوٹ گئے جس کے بعد آنے والے کپتان سرفراز احمد بھی بغیر کوئی رن بنائے چلتے بنے۔اسد شفیق نے پروٹیز بولروں کے سامنے کچھ مزاحمت کی کوشش کی لیکن وہ بھی 179 کے مجموعی اسکور پر ہمت ہار گئے، انہوں نے 11 چوکوں کی مدد سے 65 رنز کی اننگز کھیلی۔ اب تک ڈین اولیوئیر 3، ڈیل اسٹین 2 اور فلینڈر ایک وکٹ حاصل کرچکے ہیں۔اس سے قبل دوسری اننگز میں پاکستانی اوپنرز امام الحق اور شان مسعود نے ٹیم کو 67 رنز کا آغاز فراہم کیا، امام الحق 35، شان مسعود 37 اور آﺅٹ آف فارم اظہر علی نے ایک مرتبہ پھر مایوس کن کارکردگی پیش کی اور صرف 15 رنز بنا کر پویلین کی راہ لی۔یاد رہے کہ پاکستان کی پوری ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 185 رنز پر ڈھیر ہوگئی تھی جب کہ میزبان ٹیم نے پہلی اننگز میں 262 اور دوسری میں 303 رنز بنائے۔

شریف فیملی کی ایک اور خاتون کی سیاست میں دھماکے دار انٹری سب کو للکار دیا ،،، دیکھئے کون؟؟؟

لاہور(ویب ڈیسک) مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی بہو بھی مسلم لیگ (ن) کے دفاع میں میدان میں آگئیں اورپہلی بار سیاسی معاملات میں انٹری ڈال دی، انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ بیان میں پی ٹی آئی کےوزرائ کے لیے کہا کہ یہ کیا مسلم لیگ ن کے سیاستدانوں کامقابلہ کریں گے۔تفصیلات مطابق بیگم سلیمان شہباز نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ کیا وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان مفتاح اسماعیل سے معاشیات پر بات کرسکتے ہیں؟کیا وفاقی وزیر مراد سعید شاہدخاقان عباسی سے اکنامک گروتھ اورانویسٹمنٹ پالیسی پر دلائل کیساتھ بات کرسکتے ہیں ؟کیا وفاقی وزیر فیصل واوڈاسی پیک اور سالانہ مالیاتی امور پر پر انکا سامنا کرسکتے ہیں؟ کیا یہ مذاق نہیں ؟

کیا آپ نے سلائی مشینوں کی کمائی سے جائیداد بنائی ؟ صحافی نے یہ سوال علیمہ خان سے کیا کہ تو آگے سے کیا جواب ملا ؟ جانئے

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) وزیراعظم عمران کان کی ہمشیرہ سپریم کورٹ میں پیش ہونے کیلئے آئی تو اس موقع پر صحافیوں نے انہیں گھیر لیا اور سوالات کیے جس پر انہوں نے جوابات بھی دیئے۔تفصیلات کے مطابق صحافی نے ان سے سوال کیا کہ ” کیا آپ نے سلائی مشینوں کی کمائی سے جائیدادیں بنائی ہیں ؟ جس پر علیمہ خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جی پاکستان میں بہت خواتین سلائی مشین سے روزگار کما رہی ہیں، میری سلائی مشینوں کا مذاق اڑایا جا رہا ہے،جب خاتون کام کرتی ہے،توہم اسکی سلائی مشینوں کابھی مذاق اڑاتے ہیں،سلائی مشینیں ہماری ایکسپورٹ کابڑاحصہ ہیں،لاکھوں لوگ کام کر رہے ہیں۔میں 20سال سے کام کررہی ہوں، میں نے اپنی تمام جائیدادیں ظاہر کی ہوئی ہیں،امریکہ میں جائیدادبھی ظاہر کی ہوئی ہے۔ان کا کہناتھا کہ پاکستان میں فارن ایکسچینج ایکسپورٹ س آرہا ہے،سلائی مشینوں سے آ رہا ہےصحافی نے علیمہ خان سے سوال کیا کہ آپ کو اپوزیشن کی جانب سے عمران خان کی بے نامی دار ٹھہرایا جارہا ہے ؟ جس پر علیمہ خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں اپنا بیان اس حوالے سے دے چکی ہوں، مجھے عمران خان کی طرف سے نہیں بلکہ والدین کی طرف سے حصہ ملا، آپ رکارڈ چیک کرلیں تمام چیزیں رکارڈ پرموجود ہیں ، میری ویلتھ اسٹیٹمنٹ چیک کر لیں،میں 20سال سے کام کر رہی ہوں۔

فیصل آباد: زرعی یونیورسٹی کا 14 فروری کو ’ سسٹرز ڈے ‘ منانے کا اعلان

لاہور (ویب ڈیسک ) فیصل آباد کی زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ظفر اقبال رندھاوا نے 14 فروری کو ’ مذہبی روایات کے فروغ ‘ کےلیے ’ سسٹرز ڈے‘ منانے کا اعلان کیا ہے۔

وائس چانسلر اور یونیورسٹی کے دیگر اراکین کی جانب سے لیے گئے اس فیصلے کے تحت ’ سسٹرز ڈے ‘ کے موقع پر کیمپس میں موجود طالبات کو اسکارف اور عبایا تحفے کے طور پر دیے جائیں گے۔

وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ وہ پریقین نہیں کہ سسٹرز ڈے منانے کی تجویز کو سراہا جائے گا یا نہیں لیکن ان کا ماننا تھا کہ یہ تجویز پاکستان کی ثقافت اور اسلام سے مطابقت رکھتی ہے۔

ظفر اقبال رندھاوا نے کہا کہ اکثر افراد نے ویلنٹائنز ڈے کو خطرے میں تبدیل کردیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ’ میں سوچتا ہوں کہ اگر کوئی خطرہ ہے تو آپ اسے ایک موقع میں تبدیل کردیں ‘۔

وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ ’ ہماری نظر میں خواتین کا اہم مقام ہے‘

انہوں نے شکوہ کیا کہ ’ صنفی بااختیاری کے اس دور میں مغربی خیالات فروغ پارہے ہیں لیکن بہترین صنفی بااختیاری اور کام کی تقسیم ہمارے مذہب اور ثقافت میں ہے‘۔

ظفر اقبال رندھاوا نے دعویٰ کیا کہ ’سسٹرز ڈے کی مدد سے ایک اچھا تصور فروغ پائے گا اور لوگوں کو احساس ہوگا کہ پاکستان میں بہنوں کو کتنی محبت دی جاتی ہے۔

انہوں نے پوچھا کیا کہ ’ کیا بہن اور بھائی کی محبت سے عظیم کوئی محبت ہے؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ سسٹرز ڈے شوہر اور بیوی کے درمیان محبت سے زیادہ اہم ہے‘۔

خیال رہے کہ 14 فروری کو دنیا بھر میں ویلنٹائنز ڈےمنایا جاتا ہے لیکن یہ عالمی تہوار سالوں سے پاکستان میں ایک متنازع موضوع ہے ، اکثر افراد اس کی حمایت کرتے اور مناتے بھی ہیں تاہم دیگر افراد کی جانب سے اس دن کے خلاف احتجاج بھی کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد ہائیکورٹ نے ویلنٹائن ڈے منانے سے روک دیا

بڑے شہروں میں اکثر ریسٹورنٹس، ڈیلیوری سروسز، بیکری اور کاروبار ویلنٹائنز ڈے کی پروموشن کی جاتی ہے اس کے ساتھ ملک بھر کے مختلف مقامات اور جامعات میں ویلنٹائنز ڈے مخالف مہم سڑکوں پر بینرز کی صورت میں دکھائی دیتی ہے۔

واضح رہے کہ 2017 اور 2018 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے نے ویلنٹائنز ڈے کی تمام تقریبات پر پابندی عائد کرتے ہوئے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو فوری طور پر ویلنٹائنز ڈے کو اجاگر نہ کرنے کی تنبیہ کی تھی‘۔

پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ( پیمرا) کو بھی تمام اداروں کو ویلنٹائنز ڈے کو اجاگر نہ کرنے کی ہدایت جاری کرنے کا حکم دیا گیا۔

2016 میں اس وقت کے صدر ممنون حسین نےپاکستانی شہریوں کو ویلنٹائنز ڈے نہ منانے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایک مغربی تہوار ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’ ویلنٹائن ڈے کا ہماری ثقافت سے کوئی تعلق نہیں اس لیے یہ دن منانے سے گریز کرنا چاہیے‘۔

گردوں کے امراض سے بچنا چاہتے ہیں ؟تو اپنی ایک عام عادت پر قابو پالیں

اسلام آباد (ویب ڈیسک )کتنی چینی کا استعمال جسم کے لیے بہت زیادہ ہوتا ہے؟ اس سوال کا جواب مختلف ماہرین مختلف اعدادوشمار کے ساتھ دیں گے۔مگر امریکی محکمہ صحت یعنی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی ہدایات گزشتہ دنوں جاری ہدایات کا جائزہ لیا جائے تو اس میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کو روزانہ صرف 50 گرام چینی کا استعمال کرنا چاہئے۔یہ تعداد 4 چائے کے چمچ یا سافٹ ڈرنک کے ایک کین سے کم کچھ کم ہوتی ہے۔عالمی ادارہ صحت کا بھی کہنا ہے کہ روزانہ 25 گرام یا چھ چائے کے چمچ چینی کا استعمال طبی لحاظ سے

فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔طبی ماہرین تو اسے جدید عہد کا زہر بھی قرار دیتے ہیں اور اگر آپ بھی بہت زیادہ میٹھے کے شوقین ہیں تو سائنسی طبی تحقیقی رپورٹس کی روشنی میں جان لیں کہ اس کے کیا اثرات آپ کو بھگتنا پڑسکتے ہیں۔یہ کوئی راز نہیں کہ بہت زیادہ چینی اور دانتوں کے امراض کے درمیان تعلق موجود ہے درحقیقت یہ میٹھی شے دانتوں کی صحت کی دشمن ہے اور اسے کیوٹیز کا بہت بڑا سبب قرار دیا جاتا ہے۔ طویل عرصے سے دندان ساز عالمی ادارہ صحت کے روزانہ چھ چائے کے چمچ چینی کے استعمال کو بھی کم کرنے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔ ایک ماہر کے مطابق دانتوں کی فرسودگی اس وقت عمل میں آتی ہے جب عام چینی کے استعمال سے دانتوں کی سطح پر بیکٹریا پیدا ہوتے ہیں، جبکہ مٹھاس سے تیزاب پیدا ہوتا ہے جو دانتوں کی سطح کو تباہ کردیتا ہے کبھی نہ ختم ہونے والی بھوک ایک ہارمون لپٹین جسم کو بتاتا ہے کہ کب اس نے مناسب حد تک کھالیا ہے۔ جن لوگوں میں اس ہارمون کی مزاحمت پیدا ہوجاتی ہے تو انہیں پیٹ بھرنے کا اشارہ کبھی موصول نہیں ہوتا اور یہ وزن کنٹرول کرنے کے لیے بڑی رکاوٹ ثابت ہوتا ہے۔ کچھ طبی تحقیقی رپورٹس میں اس بات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ لپٹین کی مزاحمت موٹاپے کے اثرات میں سے ایک ہے مگر چوہوں پر ہونے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ بہت زیادہ چینی کا استعمال خاص طور پر اس کا سیرپ جو کولڈ ڈرنکس میں عام ہوتا ہے، براہ راست لپٹین کے لیول کو معمول سے زیادہ بڑھا دیتا ہے اور اس ہارمون سے متعلق جسمانی حساسیت میں کمی آجاتی ہے۔ انسولین کی حساسیت جب آپ ناشتے میں بہت زیادہ مٹھاس پر مشتمل غذا استعمال کریں تو کیا ہوگا؟ یہ آپ کے جسم میں انسولین کی طلب کا مطالبہ بڑھا دے گی۔ انسولین وہ ہارمون ہے جو غذا کو قابل استعمال توانائی میں تبدیل کرنے کا کام کرتا ہے مگر جب اس کی مقدار زیادہ ہو تو جسم اس کے حوالے سے کم حساس ہوجاتا ہے اور خون میں گلوکوز جمنے لگتا ہے۔ ایک تحقیق کے دوران محققین نے چوہوں کو چینی کی بہت زیادہ مقدار سے بنی خوراک استعمال کرائی تو ان میں انسولین کی مزاحمت فوری طور پر سامنے آگئی۔ انسولین کی مزاحمت کی علامات میں تھکن، بھوک، دماغ میں دھند چھا جانا اور ہائی بلڈ پریشر شامل ہیں جبکہ یہ توند کے ارگرد اضافی چربی کا بھی باعث بنتی ہے۔ ذیابیطس سے 2008 کے درمیان امریکا میں ذیابیطس کے شکار افراد میں 128 فیصد اضافہ ہوا اور وہاں کے ڈھائی کروڑ لوگوں کو یہ مرض لاحق ہے۔ اسی طرح جن ممالک میں چینی کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے وہاں اس مرض کی شرح کافی بلند ہے۔ 51 ہزار خواتین پر ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ میٹھے مشروبات جیسے کولڈ ڈرنکس، میٹھی آئس ٹی، انرجی ڈرنکس وغیرہ استعمال کرتے ہیں ان میں ذیابیطس کا خطرہ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح تین لاکھ سے زائد افراد پر ہونے والی ایک اور تحقیق میں بھی اس نتیجے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بہت زیادہ کولڈ ڈرنکس کا استعمال نہ صرف وزن میں اضافے کا باعث بنتا ہے بلکہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کا مرض بھی لاحق ہوسکتا ہے۔ موٹاپا موٹاپا چینی کے زیادہ استعمال کے نتیجے میں لاحق ہونے والے بڑے خطرات میں سے ایک ہے۔ روزانہ صرف ایک کین کولڈ ڈرنک کا استعمال ہی ایک سال میں تین کلو وزن بڑھنے کا باعث بن جاتا ہے جبکہ سوڈا کا ہر کین بہت زیادہ موٹاپے کا امکان بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ یہ تو واضح ہے کہ کولڈ ڈرنکس کا استعمال مضر ہے مگر دیگر میٹھی غذائیں کا موٹاپے سے تعلق کافی پیچیدہ ہے۔ چینی براہ راست موٹاپے کا خطرہ بڑھا سکتی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ذیابیطس، میٹابولک سینڈروم یا عادات جیسے زیادہ غذا کا استعمال اور ورزش نہ کرنا بھی اس کا باعث بنتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق ہماری غذا کی سپلائی اور ان کے استعمال کا رویہ موٹاپے کا باعث بنتے ہیں۔ جگر کے امراض بہت زیادہ مقدار میں چینی آپ کے جگر کو بہت زیادہ کام پر مجبور کردیتی ہے اور لیور فیلیئر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق چینی کو جس طرح ہمارا جسم استعمال کرتا ہے وہ جگر کو تھکا دینے اور متورم کردینے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چینی کی بہت زیادہ مقدار جگر پر غیر الکحلی چربی بڑھنے کے مرض کا باعث بن سکتی ہے اور یہ چربی بتدریج پورے جگر پر چڑھ جاتی ہے۔ عام فرد کے مقابلے میں 2 گنا زیادہ سافٹ ڈرنکس استعمال کرنے والے افراد میں اس مرض کی تشخیص زیادہ ہوتی ہے۔ جگر پر غیر الکحلی چربی کے امراض کے شکار بیشتر افراد کو اکثر علامات کا سامنا نہیں ہوتا اور یہی وجہ ہے کہ وہ کافی عرصے تک اس سے آگاہ بھی نہیں ہوپاتے۔ لبلبے کا کینسر کچھ طبی تحقیق رپورٹس میں زیادہ چینی والی غذا?ں کے استعمال اور لبلبے کے کینسر کے خطرے میں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس تعلق کی وجہ ممکنہ طور پر یہ ہوتی ہے زیادہ میٹھی غذائیں موٹاپے اور ذیابیطس کا باعث بنتی ہیں اور یہ دونوں لبلے کے افعال پر اثر انداز ہوکر کینسر کا باعث بن سکتے ہیں۔ ایک تحقیق میں چینی کے زیادہ استعمال اور کینسر کے خطرے کے درمیان تعلق کی تردید کی مگر محققین کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ گردوں کے امراض چینی سے بھرپور غذا اور بہت زیادہ سافٹ ڈرنکس کا استعمال گردوں کے امراض کا خطرہ بھی بڑھا سکتا ہے۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ میٹھے مشروبات کا استعمال گردوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق گردوں کے نقصان اور میٹھے مشروبات کے درمیان تعلق ایسے افراد میں سامنے آیا ہے جو 2 یا 3 کولڈ ڈرنکس روزانہ استعمال کرتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ کولڈ ڈرنکس کے بہت زیادہ استعمال اور گردوں کے امراض کے درمیان ٹھوس تعلق کے شواہد ملے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چوہوں کو چینی سے بھرپور غذا کا استعمال کرایا گیا تو ان جانوروں کے گردوں نے آہستہ آہستہ کام کرنا چھوڑ دیا جبکہ ان کے حجم میں بھی اضافہ ہوا۔ بلڈپریشر کا باعث عام طور پر نمک کو فشار خون یا ہائی بلڈ پریشر کا باعث سمجھا جاتا ہے مگر بہت زیادہ چینی کھانے کی عادت بھی آپ کو اس جان لیوا مرض کا شکار بناسکتی ہے۔ مختلف طبی رپورٹس کے مطابق طبی ماہرین نے بلڈ پریشر کے حوالے سے غلط سفید دانوں پر توجہ مرکوز کررکھی ہے۔ تحقیق کے مطابق نمک کے مقابلے میں اس غذا پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے جو لت کی طرح انسانی دماغ کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے اور وہ ہے چینی۔ محقین کے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ چینی کو ہضم کرنے سے یورک ایسڈ پیدا ہوتا ہے یعنی ایسا کیمیکل جو ہائی بلڈ پریشر کا باعث ہے۔تاہم محققین کے مطابق اس حوالے سے بڑے پیمانے پر طویل المعیاد تحقیق کی ضرورت ہے۔ امراض قلب کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کی معمولی سی لاپرواہی یا منہ کے ذائقے کا چسکا آپ کو دل کی بیماریوں کا شکار بنا سکتا ہے۔ جی ہاں بہت زیادہ میٹھی اشیاءکھانے کی عادت آپ کے دل کی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے خاص طور پر اگر آپ ایک خاتون ہیں۔ امراض قلب کو ایڈز یا کینسر جتنی توجہ نہیں ملتی مگر یہ دنیا میں اموات کا باعث بننے والی چند بڑی وجوہات میں سے ایک ہے کیونکہ ذیابیطس اور موٹاپے جیسے عناصر اس کا باعث بن سکتے ہیں۔ ایک تحقیق میں چوہوں پر کیے جانے والے تجربات سے معلوم ہوا کہ بہت زیادہ چینی والی غذا?ں کے استعمال سے ہارٹ فیلیئر کے کیسز زیادہ سامنے آنے لگے جبکہ بہت زیادہ چربی یا نشاستہ دار غذا?ں کے استعمال سے اتنا خطرہ پیدا نہیں ہوا۔ ہزاروں افراد پر ہونے والی ایک پرانی تحقیق میں بھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ بہت زیادہ چینی کے استعمال اور دل کے امراض سے ہلاکتوں کے خطرے میں اضافے کے درمیان تعلق موجود ہے۔ اس تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ جو لوگ اپنی روزمرہ کی کیلوریز کی ضروریات کا 17 سے 21 فیصد حصہ چینی سے پورا کرتے ہیں، ان میں امراض قلب سے ہلاکت کا خطرہ 38 فیصد تک بڑھ جاتا ہے

پاکستان میں بانجھ پن خطرناک اضافہ،طبی ماہرین نے وجہ بتادی

کراچی(ویب ڈیسک)طبی ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان میں بانجھ پن ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ ملک میں 15 سے 20فیصد جوڑے بانجھ پن کا شکار ہیں۔ ایسے بانجھ پن جوڑوں میں سے 40 فیصد مردوں، 30فیصد عورتوں اور 30فیصد کیسز میں مرد اور عورت دونوں میں خرابی ہوتی ہے۔ اس خرابی کے باعث خواتین معاشرے کی ستم ظریفی کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ اکثر اوقات مردوں میں خرابی کے باوجود عورتوں کو طلاق دے دی جاتی ہے۔ مرد تین، تین، چار، چار شادیوں کے باوجود بھی اولاد پیدا نہیں کرپارہا ہوتا ہے۔ بانجھ پن کی بیماری کے 80فیصد کیسز

کا اب علاج ممکن ہے۔پاکستان میں بانجھ پن کے مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ آج کل 19سے 22سال کی عمر کی نوجوان لڑکیوں میں ایک بیماری پولی سسٹک اوورین ڈیزیز کافی بڑھ گئی ہے جس میں لڑکیوں کی مونچھ اور داڑھی کے بال ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ایسی صورت حال ہونے پر والدین کو ایسی بچیوں کی جلد شادی کا سوچنا چاہیے کیونکہ شادی اور پھر بچوں کی پیدائش کے بعد یہ مسئلہ کافی کم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی جوڑے کے ہاں شادی کے 12 ماہ کے اندر ازدواجی تعلقات خوشگوار ہونے کے باوجود بچے کی پیدائش نہ ہو تو انہیں بانجھ پن کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے انہیں ایم بی بی ایس ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے جس کے بعد وہ انہیں ضرورت کے مطابق ماہر امراض نسواں یا یورولوجسٹ کے پاس ریفر کر دے گا۔ بانجھ پن کا شکار جوڑوں کو کسی بنگالی بابا اور حکیم کے چکر میں نہیں پڑنا چاہیے۔ بانجھ پن ایک بڑی سائنس ہے اور اس بیماری کے 80 فیصد کیسز کا کامیاب علاج ممکن ہے۔بانچھ پن کے 100میں سے 15فیصد کیسز ایسے ہوتے ہیں جن میں خرابی نہ ہونے کے باوجود بھی وہ بچے پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ،بیماری کی تشخیص کے لیے تجویز کیے گئے ٹیسٹ بھی بعض اوقات لوگ غیر معیاری لیبارٹریز سے کراتے ہیں جس سے رپورٹ صحیح نہیں ملتی اور بروقت علاج شروع نہیں ہو پاتا۔ بعض مردوں میں جرثومہ ہی نہیں ہوتاتو اس کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا۔

تعلقات استعمال کر کے اپنے خلاف کیس دبایا ، وزیر پٹرولیم کی نا اہلی بارے خاص خبر

اسلا م آباد (ویب ڈیسک ) وفاقی وزیرِ پییٹرولیم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما غلام سرور خان کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر۔حلقہ این سے 59 کے ہی ایک شہری نے وفاقی وزیرِ کے خلاف دائر درخواست میں موقف اختیار کیا کہ غلام سرور 2002 کے انتخابات میں میٹرک پاس تھے جبکہ الیکشن کمیشن کی گریجویشن کی شرط پر پورا نہیں اترتے تھے۔درخواست گزار نے بتایا کہ پی ٹی آئی رہنما نے کسی دوسرے غلام سرور نامی شخص کی ٹیکنیکل بورڈ کی سند پر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔انہوں نے کہا کہ جب 2002 میں ان کی تعلیمی اسناد کو چیلنج کیا گیا تو انہوں نے یہی اسناد جسٹس تصدق حسین جیلانی کے سامنے پیش کیں تھیں۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ اس وقت ملک میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی حکومت تھی اور غلام سرور خان اس حکومت کا حصہ تھے جس کی وجہ سے انہوں نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا اور یہ کیس دبا رہا۔درخواست میں بتایا گیا کہ اچانک فیصل آباد کا رہائشی اصل سرور خان ولد عبدالحمید خان سامنے آگیا اور اس نے دعویٰ کیا کہ یہ ڈپلومہ اس کا ہے جس کے جواب میں غلام سرور خان نے راولپنڈی بورڈ سے ایک اور ڈپلومہ جمع کروادیا جبکہ اسلامیہ کالج کی ان کی ڈگری منسوخ کردی گئی تھی۔درخواست گزار نے عدالتِ عظمیٰ سے استدعا کی اپنے کاغذات نامزدگی اور حلف نامے میں جھوٹے کوائف دینے پر وہ صادق امین نہیں رہے اور پچھلے 16 سال سے حکم امتناعی اور اثر و رسوخ سے موجودہ وفاقی وزیر پیٹرولیم اس کیس کو کھینچتے رہے۔درخواست گزار نے چیف جسٹس ا?ف پاکستان سے درخواست کی کہ جھوٹ بولنے، وسائل اور تعلقات استعمال کرنے پر کیس کو دبانے کی وجہ سے موجودہ وزیر صادق اور امین کے زمرے سے باہر ہیں، تاہم حلقے اور وزارت پر موجود ایسے شخص کو اس منصب پر بیٹھنے کی اجازت نہ دی جائے۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ غلام سرور خان گزشتہ 16 سالوں سے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے قانون کی دھجیاں اڑائیں۔

بسنت بارے لاہور ہائیکورٹ سے بڑی خبر آ گئی

لاہور (ویب ڈیسک ) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں بسنت منانے کے معاملے پر صوبائی حکومت، انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس اور ڈپٹی کمشنر لاہور کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کل جواب طلب کرلیا۔جسٹس امین الدین خان نے پنجاب حکومت کی جانب سے بسنت منانے کے اقدام کے خلاف صفدر شاہین پیر زادہ ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔دوران سماعت درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا کہ بسنت خونی کھیل کی شکل اختیار کر گیا تھا، جس کی وجہ سے اس پر پابندی لگائی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ایسی تفریح جو انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنے اس کی اجازت دینا آئین کی خلاف ورزی ہے، حکومت عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے بسنت جیسے خونی کھیل کی اجازت دے رہی ہے۔انہوں نے موقف اپنایا کہ پتنگ بازی کی وجہ سے اربوں روپے کی قومی املاک کو نقصان ہوا جبکہ سپریم کورٹ بھی بسنت پر پابندی درست قرار دے چکی ہے، لہٰذا عدالت پنجاب حکومت کی جانب سے بسنت منانے کے اقدام کو کالعدم قرار دے۔بعد ازاں عدالت نے صوبائی حکومت، ڈپٹی کمشنر اور آئی جی پنجاب کو معاملے پر نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔خیال رہے کہ گزشتہ سماعت میں پنجاب حکومت کی جانب سے بسنت منانے کے اعلان پر صوبائی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ ابھی بسنت منانے کا فیصلہ نہیں ہوا بلکہ معاملہ صرف تجاویز کے مرحلے میں ہے۔یاد رہے کہ 18 دسمبر کو وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے 12 سال بعد نئے شروع ہونے والے سال میں فروری کے دوسرے ہفتے میں بسنت کا تہوار منانے کا اعلان کیا تھا۔فیاض الحسن چوہان نے کہا تھا کہ لاہور کی سول سوسائٹی اور شہریوں کی طرف سے بسنت کا تہوار منانے کا مطالبہ کیا جارہا تھا، اس بار لاہور کے عوام بسنت ضرور منائیں گے۔انہوں نے کہا تھا کہ بسنت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ بسنت پر کوئی پابندی نہیں اور اسے قانون کے دائرے میں رہ کر منایا جانا چاہیے۔

کیا ذیابیطس کے مریض کھجور کھاسکتے ہیں؟

لاہور (ویب ڈیسک ) ذیابیطس ایسا مرض ہے جس میں میٹھے کھانے کو نقصان دہ سمجھا جاتا ہے مگر یہ کس حد تک درست ہے؟

بیشتر طبی تحقیقی رپورٹس میں اس تاثر کی نفی کی گئی ہے۔

یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ حالیہ دور میں ذیابیطس سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والے امراض میں سے ایک ہے جو کہ دیگر طبی پیچیدگیوں کا باعث بھی بنتا ہے۔

اگرچہ ذیابیطس کے مریضوں کو اپنی غذا سے میٹھے کو مکمل طور پر نکالنے کی ضرورت نہیں مگر اس کی ایک حد ضرور ہوتی ہے۔

تو اگر ذیابیطس کے مریضوں کو میٹھے کی طلب ہو تو وہ کیا کریں؟ کھجور اس کا بہترین حل ہے۔

مزید پڑھیں : کھجور کھانے کے یہ فوائد جانتے ہیں؟

کھجور ایسا پھل ہے جو میٹھاس سے بھرپور پوتا ہے اور حیران کن طور پر اس میں گلیسمک انڈیکس کی شرح بہت کم ہوتی ہے۔

اس کی تفصیل میں جانے سے پہلے یہ جان لیں کہ کسی پھل میں مٹھاس ذیابیطس کے لیے اتنی اہم نہیں ہوتی جتنی اس میں موجود گلیسمیک انڈیکس (جی آئی)۔

جی آئی ایک پیمانہ ہے کہ جو بتاتا ہے کہ کاربوہائیڈریٹ والی غذا کا کتنا حصہ کھانے کے بعد اس میں موجود مٹھاس (گلوکوز) مخصوص وقت میں خون میں جذب ہوسکتی ہے اور یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔

ذیابیطس کے مریضوں کو اپنا بلڈ گلوکوز لیول کنٹرول میں رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کی غذا ایسی ہونی چاہئے جو اس لیول کو کنٹرول میں رکھ سکے۔ تو ایسے مریضوں کے لیے 15 گرام کاربوہائیڈریٹ کسی پھل کے ذریعے جسم کا حصہ بننا نقصان دہ نہیں۔

مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق کھجور کھانے سے بلڈ شوگر لیول نہیں بڑھتا بلکہ یہ جسم کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہے کیونکہ اس میں اہم غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : کیا کھجوریں موٹاپے سے نجات کے لیے مددگار ہیں؟

مگر ایک یا 2 کھجوروں سے زیادہ کھانا ضرور نقصان پہنچاسکتا ہے اور کھجور کھانے کے ساتھ ساتھ صحت بخش متوازن غذا کا استعمال بھی ضروری ہے۔

اور اگر ہوسکے تو Medjool کھجوریں اس حوالے سے زیادہ فائدہ مند ہیں جو کہ انتہائی نرم، حجم میں بڑھی اور شیریں ہوتی ہیں۔

ایک تحقیق میں ان کھجوروں کے اثرات کا جائزہ لیا گیا جس کے دوران 10 صحت مند افراد کو 4 ہفتے تک سو گرام کھجوریں استعمال کرائی گئیں۔

چار ہفتے بعد محققین نے دریافت کیا کہ ان کھجوروں کو کھانے سے لوگوں کے بلڈ گلوکوز لیول میں کوئی اضافہ نہیں ہوا جبکہ کولیسٹرول لیول بھی مستحکم رہا۔

اسی طرح عجوہ کھجور بھی امراض کی روک تھام کی جادوئی خصوصیات رکھتی ہے اور ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اس کھجور کو کھانا ذیابیطس سے جڑی پیچیدگیوں کی روک تھام یں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

پی ٹی آئی کا ن لیگ کو بڑا جھٹکا ، سی پیک کے تحت توانائی منصوبے ملتوی

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے مسلم لیگ (ن) کے دور میں شروع کیے جانے والے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے متعدد منصوبے ملتوی کردیے اور رواں ماہ کے آخر تک سرکاری ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت چلنے والے مزید منصوبوں پر کام روک دیے جانے کا امکان ہے۔ اسلام آباد کی جانب سے باضابطہ طور پر بیجنگ کو بتادیا گیا کہ وہ آئندہ کچھ سالوں تک قابلِ اطمینان پیداواری گنجائش موجود ہونے کے باعث 13 سو 20 میگا واٹ کے رحیم یار خان توانائی منصوبے میں دلچسپی نہیں رکھتا لہٰذا اس منصوبے کو سی پیک کے منصوبوں کی فہرست سے خارج کردیا جائے۔گزشتہ ماہ ہونے والے مشترکہ تعاون کمیٹی کے آٹھویں اجلاس کے بعد ایک سرکاری عہدیدار نے کارروائی کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وزیر منصوبہ بندی و ترقی مخدوم خسرو بختیار کی سربراہی میں شریک پاکستانی وفد نے پاکستان کی توانائی مارکیٹ میں جگہ فراہم کرنے کے لیے چین سے مذکورہ منصوبے کے اخراج کی درخواست کی۔خیال رہے کہ یہ منصوبہ شہباز شریف کی سربراہی میں حکومت پنجاب کی قائد اعظم تھرمل کمپنی نے درآمدی کوئلے کے پلانٹ کے طورپر شروع کیا تھا، منصوبے کی تجویز ایک بڑے بزنس ٹائیکون نے دی تھی جو متوقع طور پر اس کے سب سے بڑے اسپانسر بھی تھے۔منصوبے کو سی پیک کی فہرست سے اس وقت نکالا گیا جب بیوروکریسی نے بتایا کہ بجلی کی سرپلس پیداوار کا معاہدہ پہلے ہی کیا جاچکا ہے اور مزید کوئی معاہدہ ملک کے مشکلات کا باعث بنے گا۔واضح رہے حکومت کی جانب سے جون 2016 میں درآمدی ایندھن سے گنجائش میں اضافے پر پابندی عائد کی جاچکی تھی جس کے تحت رحیم یار خان اور مظفر گڑھ کے کوئلے سے چلنے والے پلانٹس کو سی پیک کی ترجیحی فہرست سے خارج کردیا گیا تھا۔ایک وفاقی سیکریٹری کے مطابق بعد میں ہونے والے سی پیک مذاکرات میں ان منصوبوں کو شامل کرلیاگیا تھا جس کی بحالی کے لیے حکومت پنجاب نے دباو¿ بھی ڈالا، لیکن اس کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ یہ مالی مشکلات کا شکار شعبہ توانائی کے لیے ایک بوجھ بن جاتا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جب سی پیک کی فہرست سے ان دونوں کوئلے سے چلنے والے منصوبوں کا اخراج کیا گیا تو اس فہرست میں دیامر بھاشا ڈیم کو شامل کرلیا گیا تھا لیکن کچھ ناگزیر وجوہات کی بنا پر ڈیم کا منصوبہ بھی سی پیک کے تحت نہیں چل سکتا۔عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت نے پی ایس ڈی پی کے ششماہی جائزے میں سیاسی بنیادوںپر شروع کیے جانے والے 400 ترقیاتی منصوبوں کے اخراج کے لیے اپنا ذہن بنالیا ہے۔اس ضمن میں ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کابینہ کے ایک رکن نے کہا کہ ہم اس قسم کے تمام منصوبوں پر تفصیلی نظرِ ثانی کررہے ہیں اور عوام کے پیسے کا زیاں نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتخابات کے سلسلے میں حلقوں میں گیس کنیکشن فراہم کرنے کی سیاست سے مسلم لیگ (ن) کو 20 سے زائد نشستیں حاصل ہوئیں۔