8سال پہلے اغوا کے بعد قتل ڈرائیور کی ٹیکسی پولیس افسر سے برآمد

حافظ آباد ( بیورو رپورٹ) 8سال قبل اغوا کے بعد قتل ہونے والے ٹیکسی ڈرائیور کی گاڑی پولیس آفیسر سے برآمد ، پولیس نے گاڑی پکڑنے کے بعد دوبارہ پیٹی بھائی کوعنایت کر دی، گاڑی تو مل گئی مگر قاتلوں کا سراغ نہ لگایا جا سکا، ورثا پولیس کے خلاف سراپا احتجاج، نصاف کے منتظر۔ سال قبل چک ٹھٹھہ مونا صلابت کے منور حسین کو گاڑی سمیت اغوا کر لیا گیا، اغوا 8کے 7روز بعد منور حسین کی لاش تو مل گئی مگر اس وقت گاڑی کا کچہ پتا نہ چلا، مقتول کی گاڑی ورثا کے پہچاننے پر حافظ آباد پولیس نے گاڑی پولیس آفیسر سے بر آمد تو کرلی مگر چند گھنٹوں بعد ہی دوبارہ اپنے پیٹی بھای کو واپس کر دی، مقتول منور حسین کی گاڑی تو مل گئی مگر آج تک پولیس قاتلوں کو ڈھونڈنے میں نا کام ہے، مقتول کے بوڑھے والدین جوان بیٹے کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے آج بھی در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں، ورثا نے پولیس کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

انوپم کھیر کو ± فلم میں وزیر اعظم بننا مہنگا پڑ گیا‘ مقدمہ درج

ممبئی (شوبزڈیسک) بھارت کے معروف اداکار انوپم کھیر فلم ” دی ایکسیڈینٹل پرائم منسٹر “ میں سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ کا کردار ادا کر نا مہنگا پڑگیا، ان کے خلاف اعلی شخصیات کا امیج خراب کرنے پر مقدمہ درج کیا گیا ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ کی زندگی پر بنائی جانے والی فلم دی ایکسیڈینٹل پرائم منسٹر کے ٹریلر کی ریلیز کے بعد سے ہی بھارت میں ایک تنازع کھڑا ہو گیا۔فلم میں من موہن سنگھ کے 10سالہ دور حکومت اور کانگریس پر گاندھی خا ندان کی گرفت سے لے کر کئی اندرونی کہانیوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔بہار کی عدالت میں اداکار انوپم کھیر اور فلم کے دیگر لوگوں کے خلاف درخواست دائر کرتے ہوئے درخواست گزار وکیل سدھیر کمار اوجھا نے موقف اختیار کیا ہے کہ انوپم کھیر جنہوں نے من موہن سنگھ کا کردار ادا کیا اور اکشے کھنا جنہوں نے ان کے میڈیا ایڈوائزرسنجے باروکی کا کردار ادا کیا ہے، دونوںنے ان اعلی شخصیات کا امیج خراب کرنے کی کوشش کی ہے جس کی وجہ سے میری اور دوسرے کئی لوگوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دوسرے اداکار جنہوں نے سونیا گاندھی، راہول گاندھی اور پریانکا وادرا کا کردار ادا کیا ، انہوں نے بھی یہ کردار ادا کر کے اہم شخصیات کا غلط امیج عوام کے سامنے پیش کیا ہے۔انہوں نے فلم کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کے خلاف بھی شکایت کی ہے۔

سارہ اور رنویر کی ” سمبا“ نے 122 کروڑ سے زائد کا بزنس کرلیا

ممبئی (شوبز ڈیسک) بالی ووڈ اداکار رنویر سنگھ اور سارہ علی خان کی نئی فلم سمبا نے شائقین کا دل جیت لیا‘ اب تک 122 کروڑ سے زائد کا بزنس کرلیا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم نے باکس آفس پرریکارڈ توڑ دیا ہے۔ فلم سمبا نے اپنے ریلیز ہونے سے اب تک بھارت بھر سے ایک سو بائیس جبکہ دنیا بھر سے 39.85 کروڑ کا شاندار بزنس کرلیا ہے۔ روہت شیٹی کی ہدایتکاری میں بننے والی اس فلم میں رنویر سنگھ اور سارہ خان مرکزی کردار ادا کررہے ہیں ۔ واضح رہے سمبا 28دسمبر کو سینما گھروں میں نمائش کیلئے پیش کی گئی تھی۔

ٹرمپ ڈومورکہنے کے بجائے عمران خان سے ملاقات کا منتظر

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ٹرمپ جیسے شخص سے جو مسلمانوں کے خلاف بولتا ہے، پاکستان سے ڈومورکے مطالبے سے نیچے آتا ہی نہیں ہے۔ ان کے منہ سے ایسی بات سن کر تسلی ہوتا ہے انقلابات ہیں زمانے کے کہ ٹرمپ نے ایک دن کہنا تھا کہ میں پاکستان کی نئی قیادت سے ملاقات کا منتظر ہوں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ عمران خان سے ملاقات کے لئے سٹیٹ گیسٹ کے طور پر امریکہ بلائیں گے کیونکہ عمران خان کا جو طالبان کے بارے میں نقطہ نظر ہے دوسری طرف ابوظہبی میں امریکی وفد کے مذاکرات مسلسل طالبان کے لیڈروں کے ساتھ ہو رہے ہیں۔ اس سے بھی لگتا ہے کہ اب یہ معاملہ کسی منطقی انجام کی طرف کھسکتا جا رہا ہے۔ آہستہ چل رہا ہے ہے مگر چل ضرور رہا ہے۔ امریکہ نے تو شاید قسم کھائی ہوئی تھی کہ ہم جب ایک دفعہ دورے پر گئے تو ہم تلخمی میں آ کر باقاعدہ یہ پوچھا تھا کہ جی آپ انڈیا کو بہت ترجیح دیتے ہیں تو ہمیں بتایا گیا تھا کہ اس خاتون کا نام فرانس تھا اور وہ فلاڈلفیا کی سربراہ بھی تھی اور ساتھ وہ یونیورسٹی میں پڑھاتی تھیں اور وہ ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ بھی تھی پولیٹیکل سائنس کی انہوں نے کہا تھا کہ اس لئے America is over first love انہوں نے کہا تھا کہ آپ لوگ یہودیوں سے ہمیشہ مخالفانہ باتیں کرتے ہو جبکہ یہودی جو ہیں امریکہ کی بہت بڑی عالب آبادی ہے اور یہاں ان کا بڑا اثرورسوخ ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ آبادی کے لحاظ سے انڈیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ ہم نے اس پر کہا کہ کوئی جمہوریت نہیں ہے کشمیر میں وہ کیا کر رہا ہے اس پر انہو ںنے کہا کہ بہرحال انڈیا ہماری پہلی محبت ہے اور آپ یہ بات اپنے ذہن میں رکھ لو کہ پاکستان کو ہم سے بات چیت کرتے ہوئے یہ ذہن میں رکھنا ہو گا کہ اگر تو آپ کا مطالبہ، یا خواہش ایسی ہے جو انڈیا کو نقصان پہ چائے بغیر یا اسے ناراض کئے بغیر ہے پھر تو امریکہ اس کے لئے تیار ہے لیکن امریکہ کسی قیمت پر انڈیا کو ناراض نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ میری سوچ نہیں ہے یہ امریکہ کی سٹیٹ پالیسی ہے۔ اب جو انہوں نے جو پہلی دفعہ کہا ہے اور یہ کھلم کھلا بات پہلی دفعہ کہی ہے کہ انڈیا کو بھی چاہئے کہ وہ طالبان سے جا کر لڑے۔ یہ ایک کریٹیکل بات بھی ہے کہ اگر واقعی اڈیا نے اس کی بات مان لی اور اپنے کچھ دستے وہاں بھیج دیئے تو جس طرح پورس بارڈر ہے اور یہاں طالبان بھی کرتے جاتے رہتے ہیں تو انڈیا کے فوجی دستے اور ان کے ایجنٹ جو ہیں وہ پاکستانکے سر پر آ کر بیٹھ جائیں۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ کسی فوجی ماہر سے پوچھنا چاہئے کہ اس سے پاکستان کو کیا سکیورٹی کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ آج اس پر بات کرنا ضروری ہے کیونکہ عمران خاں کو بہرحال ٹرمپ سے ملنا ہے اور ٹرمپ سے ملاقات سے پہلے اس بات کا فیصلہ ہو جانا چاہئے کہ کیا پاکستان اس بات کی اجازت دے گا کہ انڈیا کے فوجی دستے افغانستان میں رول کریں۔
ضیا شاہد نے کہا ہے پنجاب کے لوگ خاص طور پر وسطی پنجاب کے لوگ جس عداب میں مبتلا ہیں وہ بجلی کا نہ ہونا ہے۔ بجلی نہ ہونے پانی ن ہونا اور پانی کے نہ ہونے کے ساتھ ساتھ پانی کی کمیابی اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارے اپنے دفتر میں بھی لوگوں سے پوچھا تھاکہ ان میں سے ٓادھے سے زیادہ لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ انہیں بمشکل اتنا پانی ملا ہے کہ وہ نہ ہاتھ دھو سکیں۔ لوگوں کو بنانے کے لئے تو پانی ہی نہیں ملا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ جو موجودہ دنیا ہے جب یہ پی ٹی سی ایل کے نمبر ہوتے تھے تو اس وقت تو ضرورت نہیں محسوس ہوتی تھی جب سے موبائل فون زندگیوں میں آیا ہے اب تقریباً 90 پرسنٹ کمیونٹی کمشن پر شفٹ ہو گیا ہے ااج صبح سویرے پوچھنے کے لئے نیا اخبار والے فون کرتے ہیں کہ یہ خبریں ہیں وہ کوئی پون گھنٹہ تلاش کرتے رہے ان کو میرے گھر کا پرانا نمبر نہیں مل رہا تھا کیونکہ یہ نمبر تقریباً میسر نہیں رہا اور اس کی وجہ سے یہ جو بہت زیادہ مشکلات پیش آ رہی ہیں کیونکہ یہ جو موبائل ٹیلی فون چارجز پر چلتے ہیں جب بجلی نہیں ہوتی تو یہ چارج نہیں ہوتے۔ چارج نہ ہوں یہ مٹی کا کھلونا ہے یہ کچھ نہیں ہے۔ کمیونی کیشن آپس میں ختم ہو گئی ہے میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ میں کافی لوگوں سے پوچھا اپنے ڈرائیور سے بھی پوچھا۔ کہا جاتا ہے کہ لاہور میں خاص طور پر ٹیوب ویل کے بھی چلنے کے اوقات ہیں کہ وہ ان چار گھنٹوں میں پانی سپلائیں کریں گے۔ اتفاق سے اگر ان چار گھنٹوں میں بجلی بھی بند ہے دو تھنٹے یا تین گھنٹے تو پھر بھی پتہ صاف ہو گیا کہ پانی بھی نہیں آئے گا جب پانی نہیں آئے گا اور پھر آگے سارے زندگی جو پانی سے چلتی ہے ساری رک جاتی ہے اور آحر میں یہ کہوں گا کہ میری اپنی فیملی کے 6 افراد وہ عمرے پر مکہ شریف اور مدینہ شریف آج دس دن کے بعد وہ واپس آئے ہیں تو پہلے پتہ چلا صبح آٹھ بجے فلائٹ ہے اور پھر پتہ چلا 10½ بجے فلائٹ ہے۔ پھر پتہچلا کہ دو بجے معلوم کر لیجئے گا شاید آ جائے ورنہ 5 بجے آئے گی۔ خیر 2 بجے ان کا جہاز اتر گیا حالانکہ دھوپ نکلی ہوئی تھی لیکن مدینہ سے لاہور 4 گھنٹے کا فیصلہ ہے اور یہ 14 گھنٹے میں میرے خاندان کے لوگوں نے یہ فاصلہ طے کیا ہے اور یہ کس طرح بجلی کی کمی اور جو مناسب روشنی کا رقدان کس خوفناک طریقے سے زندگیوں کو اثر ڈال رہا ہے۔ کئی ٹیکنیکٹ ایکسپرٹ لائن پر لائیں میں نے کل بھی یہ ایشو چھیڑا تھا کہ بارشیں، دھند، کہر بھی ہوتی ہے اور سموگ بھی ہوتی ہے اس کے باوجود کسی ملک سے آج تک مجھے نہیں پتہ امریکہ سے یورپ کے کسی ملک تک جس میں اس وجہ سے کہ بجلی ٹرپ کر گئی ہے اور شہروں کے شہر ہیںان کی بتی گل ہو گئی ہو۔ اور کئی کئی گھنٹوں تک غائب ہو جاتی ہے اب تو انتہا ہو گئی کہ اب یہ پتہ چلا کہ ہمارے جو ٹرانسفارمر تھے صرف ان کے ٹرانسفارمر ٹرپ کر جاتے تھے اب جو ہے کل کہا کہ چار پاور ہاﺅس بجلی پیدا کرنے والے ٹرپ ہو گئے ہیں۔ سموگ کیا ان کے اندر گھس گئی تھی۔ وہ تیل سے چلتے ہیں اور مشینیں تیل سے چلتی ہیں کیا اس میں سموگ چلی گئی۔ یہ نالائق لوگ ہیں نا سچی بات بتاتے ہیں نہ عوام کو اس قابل سمجھتے ہیں کہ وہ عوام کو جواب دیں۔ بڑی بڑی تنخواہوں پر مگر مچھ بن کر بیٹھے ہیں اس کو کان سے پکڑ کر نکال دینا چاہئے۔ یہ سڑک پر کھڑا کر دینا چاہئے یا سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر جے آئی ٹی کے بارے میں یہ جو طاہر القادری کے گھر پر جو حملہ ہوا اور جس پر 14 آدمی شہید ہو گئے اور 80 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے تھے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ جے آئی ٹی بننے سے امیدکرتا ہوں کہ جہاں جہاں بھی جے آئی ٹی بنی ہے اس نے بڑے خوفناک انکشافات کئے ہیں جے آئی ٹی ایسا ادارہ ہے جس میں تینوں اداروں سے لوگ ہوتے ہیں۔ جے آئی ٹی بننے کا ضرور فائدہ ہو گا کہ اصل بات سامنے آئے گی کہ کس نے حکم دیا تھا کہ کہاں سے جاری ہوا تھا اور کون اس کے پیچھے طاقت کے طور پر بیٹھا تھا کیونکہ شہباز شریف کی یہ بات جو تھی یہ تو اس 6 گھنٹے کے دوران میں ٹی وی کی سکرین پر مسلسل چاہے کوئی ایک شخص نے بھی یہ بات مانی کہ جناب شہباز شریف جن کا گھر ایک ڈیڑھ میل کے فاصلے پر ہے طاہر القادری کے گھر سے جہاں ان کی خود اپنی رہائش گاہ ہے اور اس کا عالم ہے کہ جب انہوں نے شام کے 4 بجے کے قریب کہا کہ مجھے تو معلوم بھی نہیں کہ کیا واقعہ ہوا ہے۔ سارے ٹی وی چینل دکھا رہے تھے کہ کس طرحی سے گلو بٹ گاڑیاں توڑ رہا تھا کس طرح سے پولیس افسروں کی طرف گلو بٹ کی پیٹھ ٹھونکی جا رہی ہے۔
سینئر دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا ہے کہ بھارت کا افغانستان میں امن یا جنگ کیلئے کوئی کردار نہیں ہے، بھارت افغانستان میں صرف اس لئے بیٹھا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کیسے کرائے، مسائل کیسے کھڑے کرے، بھارت اگر اتحادی فورس میں شامل ہوتا ہے تو امریکی اس کی فوج کو جہاں چاہیں گے تعینات کرینگے جسے بھارت برداشت نہیں کرسکتا، اسی لئے بھارت نے فوری اس تجویز کی مخالفت کی اور فوج بھیجنے سے انکار کیا ہے ، بھارت خوب آگاہ ہے کہ لیڈ فورس امریکہ بھی طالبان کو قابو کرنے میں ناکام ہے تو وہ بھی بیچ میں کود کر صرف لاتیں ہی اٹھائے گا، افغانستان میں بھارتی ایجنسی ”را“ فعال ہے جو صرف پاکستان کیخلاف کام کررہی ہے، بھارت کو فوج بھیجنے کی ضرورت ہی نہیں ہے ، اس لئے وہ امریکہ کی یہ ڈیمانڈ کہ فوج بھیجو کبھی نہیں مانے گا، بھارتی فوج افغانستان چلی بھی جاتی ہے تو اسے اس جنگ کا کوئی تجربہ نہیں ہے ، وہ طالبان کے آگے ڈھیر ہو جائیگی اور طالبان سے بھی مستقل دشمنی مول لینا ہوگی جو بھارت کبھی نہیں چاہے گا، بھارت تو طالبان سے روابط بڑھانے کی کوشش میں ہے کہ اگر کل کو وہاں حکومت میں طالبان کو حصہ ملتا ہے تو بھارت کا بھی اثر و رسوخ قائم رہے، افغانستان میں بھارتی ایئرفورس کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ امریکہ نے وہاں ایئرفورس کے بڑے بڑے اڈے قائم کررکھے ہیں، بھارت امریکہ کا قریبی اتحادی ہے جس کیلئے نیو کلیئر ٹیکنالوجی دینے کیلئے امریکہ نے اپنے قانون تک بدل دیئے اور پاکستان کو ایف اے ٹی ایف میں دھکیل دیا، امریکہ کیلئے پاکستان کی اب اتنی اہمیت نہیں ہے ، وہ پاکستان کو صرف افغانستان میں اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئے استعمال کرنا چاہتا ہے ، وزیراعظم عمران خان کو چاہیے کہ امریکہ کے ہاتھوں استعمال نہ ہوں، امریکہ کو صرف یہ کہا جائے کہ ہم صرف افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں جس کیلئے کوئی بھی ملک اگر کوشش کرتا ہے تو اس کے ساتھ تعاون کرینگے، طالبان کو آج روس، چین اور ایران سے بھی پذیرائی مل رہی ہے ، امریکہ روس چین پر تو دباو¿ نہیں ڈال سکتا تھا اس لئے صرف پاکستان پر دباو¿ ڈال کر میچ میں سے نکال لیا۔
پٹواری کا دفتر کرپشن کا گڑھ ہے، پٹواری کبھی اپنے دفتر میں نہیں ملتا۔ دفتروں میں ان کے ذاتی ملازم کام کرتے ہیں، پٹواری کے ہاتھ میں اتنی طاقت ہے کہ سیاہ کو سفید کر سکتا ہے۔ محکمہ نے اگر سارا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کر لیا ہے تو پٹواریوں کا کردار بیچ میں سے نکال دینا چاہئے۔ چیف جسٹس نے فیصلہ کر دیا ہے تاہم پٹواری اتنی آسانی کے ساتھ اپنا رول ختم نہیں ہونے دے گا۔ پٹواری کرپشن کی اماں ہے ایک پٹواری بارے پتہ چلا کہ اس کے پاس 3 گاڑیاں ہیں بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
خدمت خلق فاﺅنڈیشن کی آڑ میں متحدہ والے بھتہ اکٹھا کرتے اور پھر منی لانڈرنگ کے ذریعے لندن میں الطاف حسین کو بھیجا جاتا تھا موجودہ متحدہ قیادت صرف یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں یہ قتل کو سب کچھ الطاف کے کہنے پر ہوتا تھا۔ الطاف تو لندن سے حکم دیتا تھا کام تو یہی سارے کرتے تھے۔
ترکی سعودی عرب کی طرح پاکستان کی کمیشن کے ذریعے مدد نہیں کر سکتا شریف برادران کے دور میں ترکی کے ساتھ بہت سے مشترکہ معاہدے ہوتے نیب بہت سست ہے ورنہ وہ پتہ چلا سکتی ہے کہ ترکی کے ساتھ مشترکہ منصوبوں میں جو کمپنیاں کام کر رہی ہیں وہ شریف خاندان کے لوگوں کی ہی ہیں ان کمپنیوں کے ذریعے بھی پیسہ بیرون ملک بھجوایا جاتا تھا۔ گوجرانوالہ کے بعد بھکر میں بھی 7 سالہ بچے سے زیادتی اور قتل کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے پولیس مکمل طوور پر ناکام ہو چکی ہے۔ ایسے سفاک ملزمان کی عبرت ناک سزا دینی چاہئے لیکن ہماری عدالتیں بھی سزائے موت دینے سے ڈرتی ہیں کہ یورپ، امریکہ ناراض ہو جائے گا۔ ضیا دور میں ایک بچے سے زیادتی اور قتل کا واقعہ ہوا اس کے مجرموں کو سرعام پھانسی دی گئی جس کے بعد عرصہ دراز تک کوئی ایسا واقعہ نہ ہوا۔ پھانسی کے مخالف کہتے ہیں کہ غیر انسانی فعل ہے ایسی بات کرنے والوں سے پوچھتا ہوںکہ کیا بچے کو زیادتی کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا عمل غیر انسانی فعل نہیں ہے۔ بچوں کے اغوا قتل کے واقعات روکنے کیلئے ملزموں کو عبرت ناک سزائیں دینا ضروری ہے۔
سینئر صحافی میاں افضل نے کہا کہ پٹواری کلچر کا خاتمہ بہت مشکل ہے لاہور میں 70 اربن سرکل میں جہاں پٹواریوں نے اپنی فوج بٹھا رکھی ہے۔ چیف جسٹس نے اچھا فیصلہ دیا ہے تاہم اربن سرکل میں آج بھی پٹواری کلچر کا راج ہے وہاں ریکارڈ بھی کمپیوٹرائزڈ نہیں کیا جا سکا۔ پٹواری راج کا خاتمہ کرنا ہے تو اربن سرکل کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنا ہو گا۔ یہ بھی دیکھنا ہو گاکہ کیا ہماری ضلعی انتظامیہ بھی پٹواری کلچر کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ لاہور میں پٹواری کلچر کا خاتمہ نظر نہیں آتا کیونکہ پرانا ریکارڈ تو سارا پٹواریوں نے گھروں میں رکھا ہوا ہے۔ ہمارے ارکان اسمبلی کی سیاست بھی پٹواریوں کے گرد ہی گھومتی ہے من پسند پٹواری کی تعیناتی کے لئے بڑی بڑی سفارشیں چلتی ہیں نیب، اینٹی کرپشن جیسے ادارے میں پٹواری کلچر کا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔ ٹھوکر نیاز بیگ میں تعینات پٹواری رضوان بٹ نے کھوکھر برادران کے ساتھ مل کر پراپرٹی کا کام شروع کیا آج اس کے اربوں کھربوں کے اثاثے ہیں۔
مرکزی سیکرٹری جنرل این ٹی ڈی سی محمد نواز نے کہا کہ دھند کے باعث بریک ڈاﺅن ہوتا ہے، فریکونسی آﺅٹ ہوجائے تو پاور سٹیشن ٹرپ کر جاتے ہیں، جب تک دھند رہے گی ایسے ہی چلے گا، پاور ہاﺅس ٹرپ کر جائے تو اسے نارمل ہونے میں سات آٹھ گھنٹے درکار ہوتے ہیں ہمارے یہاں فوگ اور بھٹوں کا دھواں بہت ہے جس کا باعث کاربن جم جاتا ہے اور پاور سٹیشن ٹرپ کرتے ہیں، پاور سٹیشن ٹرپ ہونے میں پرانی تاروں کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
خبریں کے نمائندہ بھکر بشیر غوری نے کہا کہ سات سالہ بچے حبیب سے زیادتی اور قتل کا اندوہناک واقعہ کوٹلہ جام میں پیش آیا۔ بچہ 13 دسمبر کو سکول جاتے لاپتہ ہوا پولیس کو والدین نے بروقت اطلاع دی لیکن پولیس نے روایتی سستی اور بے حسی کا مظاہرہ کیا۔ بچے کے دھر کا آدھا حصہ ابھی تک نہیں مل سکا اس کے والدین غم سے نڈھال ہیں۔ خاتون ڈی پی او بھی صرف طفل تسلیوں سے کام چلا رہی ہیں۔

میرا کی ” باجی“ کیلئے بھارتی اداکار سونو سودکی نیک خواہشات

لاہور(شوبزڈیسک )نئے سال کے آغاز پر اداکارہ میرا کی نئی پروڈکشن فلم” باجی“ پر بھارتی اداکار سونو سودنے نیک خواہشات کا اظہارکیا ہے۔ اداکارہ میرا کی فلم” باجی“ آئندہ دو ماہ میں ریلیز ہو رہی ہے ۔میرا کی انڈین اداکاروں سے دبئی میں ملاقات ہوئی جس پر انہیں ان کی فلم کے لئے مبارک باد دی گئی ۔دوسری جانب فلم سٹار میرا نے ساتھی فنکاروں اور قریبی دوستوں کی جانب سے مسلسل نظر انداز کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا کو اپنا واحد سہارا بنا لیا۔اداکارہ کی جانب سے کبھی وزیراعظم عمران خان کے نام پیغام دیا گیا تو کبھی نئے سال کی مبارکباد دی گئی لیکن سوشل میڈیا پرانگریزی زبان میں جاری ہونے والے پیغامات پر مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت نے جہاں تنقید کی وہیں انگریزی بولنے پر مذاق بھی اڑایا ہے۔ قریبی ذرائع کے مطابق گزشتہ برس اداکارہ میرا کو جہاں فلم، ٹی وی ڈراموں میں کام کیلیے بہت سے لوگوں نے تسلی دینے کے سوا چھوٹا سا کردار بھی نہیں دیا۔ وہیں ان ساتھی فنکاروں نے بھی ہاتھ نہ پکڑایا جن کے ساتھ میرا کی گہری دوستی رہ چکی ہے۔ اسی لیے اداکارہ میرا کے ایک قریبی دوست نے انھیں سوشل میڈیا کا سہارا لینے کا مشورہ دیا ۔س پر عمل کرتے ہوئے اب اداکارہ میرا اپنے موبائل پر پیغام ریکارڈ کرتی ہیں۔

آفریدی نے سوشل میڈیا پر اپنے فین کا نمبر مانگ لیا

اسلام آباد(اے این این ) بوم بوم شاہد آفریدی نے سوشل میڈیا پر اپنے فین کی خواہش پوری کرنے کے لیے اس کا رابطہ نمبر مانگ لیا ۔یک ٹویٹ صارف نے ٹویٹر پر شاہد آفریدی کے لیے ایک پیغام لکھا جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ شاہد آفریدی کو کس قدر چاہتے ہیں۔بلال مظہر نامی ٹویٹ صارف نے کہا کہ ایک دنیا،8سیارے، 204 ملک، 809آئی لینڈ،7سمندر اور 8 ارب سے زائد لوگوں ہیں لیکن میں اپنی زندگی میں صررف ایک بار شاپد آفریدی سے ملنا چاہتا ہوں۔شاہد آفریدی نے جب اپنے مداح کا محبت بھرا پیغام دیکھا تو انہوں نے اس کی خواہش پوری کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ٹویٹر صارف سے نمبر مانگ لیا۔شاہد آفریدی نے جوابی ٹویٹ میں کہا کہ ‘ مجھے اپنا رابطہ نمبر دو’۔

نڈال فٹنس مسائل کے باعث برسبین انٹرنیشنل ٹینس سے دستبردار

میڈرڈ (اے پی پی) سٹار ہسپانوی کھلاڑی اور سابق عالمی نمبر ایک رافیل نڈال فٹنس مسائل کے باعث برسبین انٹرنیشنل ٹینس ٹورنامنٹ سے دستبردار ہو گئے، سال کے پہلے گرینڈ سلام آسٹریلین اوپن میں شرکت فٹنس سے مشروط ہو گی۔ نڈال ران کی انجری میں مبتلا ہیں۔ عالمی نمبر دو نڈال نے اپنے بیان میں بتایا کہ میں برسبین انٹرنیشنل ٹورنامنٹ کھیلنا چاہتا تھا لیکن ایم آر آئی سکین کے بعد ڈاکٹرز نے مجھے مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے جس کی وجہ سے ایونٹ سے دستبرداری اختیار کی ہے، آسٹریلین اوپن سے قبل مکمل فٹنس حاصل کرنے کیلئے سرتوڑ کوشش کروں گا اور مجھے پوری امید ہے کہ میں بھرپور انداز سے ٹورنامنٹ کھیلنے کے قابل ہو جاﺅں گا، ان کی جگہ جاپانی کھلاڑی تارو ڈینل کو انٹری دی گئی۔ نڈال گزشتہ برس انجری کے باعث سال کے آخری ٹینس ٹورنامنٹ اے ٹی پی میں بھی شرکت نہیں کر سکے تھے۔

سہ ملکی کبڈی سیریز ،بھارتی ٹیم لاہورپہنچ گئی

لاہور(سپورٹس رپورٹر)تین ملکی کبڈی سیریز میں شرکت کے لئے بھارت کی ٹیم لاہور پہنچ گئی۔تفصیلات کے مطابق پاکستان میں کبڈی کا انٹرنیشنل میلہ فیصل آباد میں شروع ہو چکا ہے، ایونٹ میں چاروں صوبوں سمیت آرمی، پی اے ایف، واپدا، ریلویز، پولیس، ایچ ای سی، پی او ایف واہ، بھارت اور ایران کی ٹیمیں بھی شریک ہوں گی۔ ایونٹ میں حصہ لینے کے لئے ایران کی ٹیم منگل کی شام لاہور پہنچی جب کہ بھارتی ٹیم جمعرات کو براستہ واہگہ لاہور آئی ہے۔پاکستان کبڈی فیڈریشن کی طرف سے مہمان ٹیم کا پرتپاک استقبال کیا گیا، چیمپئن شپ کے بعد انٹرنیشنل کبڈی سیریز کا انعقاد کیا جائے گا جس میں پاکستان کے ساتھ بھارت اور ایران کی ٹیمیں شریک ہوں گی، سیریز کے مقابلے آٹھ جنوری سے چودہ فروری تک سرگودھا، بہاولپور، ساہیوال اور لاہور میں کھیلے جائیں گے۔فیڈریشن حکام کے مطابق انٹرنیشنل ایونٹ کے کامیاب انعقاد سے کھلاڑیوں کو صلاحیتوں کے اظہار کے ساتھ ایران اور بھارت کے ساتھ تعلقات کو مستحکم بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

رضوان،عابدکو ون ڈے ٹیم میں انٹری ملنے کاامکان

لاہور (بی این پی )جنوبی افریقا کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم کا اعلان چند رو زمیں متوقع ہے۔میزبان ٹیم کے ساتھ پانچ ایک روزہ میچز کی سیریز کا آغاز 19 جنوری سے ہوگا، ون ڈے اسکواڈ کو حتمی شکل دینے کے لیے مشاورت کا آغاز کردیا گیا ہے۔ حارث سہیل فٹنس مسائل کی وجہ سے پوری سیریز سے پہلے ہی باہر ہوچکے ہیں۔ نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں ڈراپ ہونے والے فاسٹ بولر محمد عامر کی واپسی کے ساتھ محمد رضوان، اور عابدعلی کو موقع دیئے جانے کا امکان ہے۔پیسرمحمد عباس کی ٹیم میں شمولیت ان کی ٹیسٹ میچ میں پرفارمنس سےمشروط ہے۔ فاسٹ بولر جنید خان اور آصف علی کے لیے ٹیم میں جگہ برقرار رکھنا مشکل دکھائی دے رہاہے۔ فخرزمان،امام الحق، محمد حفیظ، بابر اعظم، سرفراز احمد،شعیب ملک، محمد رضوان، عابد علی ،شاداب خان،فہیم اشرف، حسن علی، محمد عامر،عماد وسیم، شاہین شاہ آفریدی،عثمان شنواری اور محمد عباس ممکنہ کھلاڑیوں میں شامل ہوسکتے ہیں۔ون ڈے میچز 19، 22، 25، 27 اور 30 جنوری کو کھیلے جائیں گے۔

کیا آپ جانتے ہیں قادر خان اسلامی تعلیمات پھیلانے کیلئے بھی کوشاں رہے؟

ممبئی (ویب ڈیسک)بالی وڈ کے نامور اداکار قادر خان دو روز قبل کینیڈا میں طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے لیکن ان کی زندگی کے کچھ پہلو ایسے بھی ہیں جن کے بارے میں بہت کم لوگ ہی جانتے ہیں۔بالی وڈ فلم نگری میں کام کرنے والے قادر خان صرف فنکار ہی نہیں تھے بلکہ وہ اسلامی تعلیمات کے فروغ اور بیداری کے لیے بھی اہم خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ انہوں نے متعدد فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے کے بعد اپنی زندگی دین اسلام کی تعلیمات پھیلانے کے لیے وقف کردی تھی۔قادر خان کے والد مولوی عبدالرحمان ایک عالم تھے، جنہوں نے عربی زبان اور اسلامی تعلیمات میں ماسٹرز کر رکھا تھا۔وہ ہجرت کرکے ہالینڈ میں مقیم ہوگئے تھے، جہاں انہوں نے ایک اسلامک انسٹیٹیوٹ کی بنیاد رکھی۔قادر خان نے ایک مرتبہ ایک انٹرویو کے دوران بتایا تھا کہ ان کے والد نے انتقال سے قبل انہیں ہالینڈ بلایا اور نصیحت کی کہ وہ عربی زبان، قرآن اور دینی تعلیمات کو عام کریں اور اپنے والد کے مقصد کو آگے بڑھائیں۔ والد کی نصیحت پر قادر خان کا کہنا تھا کہ ‘وہ لاعلم ہیں، انہیں دینی معلومات کے حوالے سے کچھ نہیں پتہ’، جس پر ان کے والد نے ان سے کہا کہ ‘کیا تمہیں فلموں اور تھیٹر میں کام کرنے سے پہلے اس کی معلومات تھی؟ لیکن جب تم نے کام کیا تو تم کامیاب ہوگئے۔ اسلامی تعلیمات کافی دلچسپ ہیں، تمہیں اپنی مہارت اس میں دکھانی چاہیے’۔ اُس وقت تک قادر خان متعدد فلموں میں کام کرچکے تھے اور ایک نامور اداکار کے طور پر جانے جاتے تھے۔تاہم قادر خان نے اپنے والد سے وعدہ کیا کہ وہ ان کے مقصد کو آگے لے کر چلیں گے اور اپنی خدمات اسلامی تعلیمات کو پھیلانے کے لیے وقف کردیں گے۔یہی وجہ تھی کہ قادر خان نے فلموں میں کام کرنے کے دوران عثمانیہ یونیورسٹی سے عربی زبان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پھر فلم نگری کو خیرباد کہنے کے بعد عربی زبان سیکھنے والے طلباءکے لیے اردو زبان میں نصاب کی بھی تشکیل کی، تاکہ اسلام کے بارے میں پھیلی غلط فہمیوں کو دور کیا جاسکے۔ان کا کہنا تھا کہ قرآن میں جو احکامات ہیں وہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت ہے اور ایک مسلمان اس پر عمل کرکے اپنی زندگی بہتر انداز سے گزار سکتا ہے کیونکہ قرآن کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ دوسرے علوم کے ساتھ ساتھ قانون کی ایک مکمل کتاب محسوس ہوگی۔قادر خان نے 2003 میں ‘کے کے انسٹی ٹیوٹ برائے اسلامک اسٹڈیز اور ریسرچ سینٹر’ دبئی میں کھولا جہاں پہلے ان کا تھیٹر ہوا کرتا تھا۔ ان کے قائم کردہ کے کے انسٹی ٹیوٹ نے نہ صرف دبئی بلکہ بھارت اور کینیڈا میں بھی لوگوں کو قرآن کی تعلیم سے مستفید کیا۔

سنجے دت اپنی بیوی سے کتنے پریشان؟ سلمان نے راز کھول دیا

ممبئی(ویب ڈیسک) بالی ووڈ کے سلطان سلمان خان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں وہ سنجے دت کی نقل اتار کر بتارہے ہیں کہ سنجے دت اپنی بیوی سے کتنے پریشان ہیں۔سلمان خان کی شادی بالی ووڈ کا بڑامسئلہ بنی ہوئی ہے اور ہر کوئی انہیں شادی کرنے کے لیے قائل کرتارہتا ہے جن میں ان کے دوست اداکار سنجے دت بھی شامل ہیں۔ حال ہی میں سلمان خان کپل کے کامیڈی شو میں شریک ہوئے جہاں انہوں نے سنجے دت کی نقل اتارتے ہوئے بڑے ہی مزاحیہ انداز میں بتایا کہ کس طرح سنجے دت اپنی بیوی سے تنگ آئے ہوئے ہیں۔سلمان خان نے بتایا ایک بار سنجو بابا مجھے شادی کرنے کے لیے قائل کرتے ہوئے کہہ رہے تھے”بھائی جان تمہیں شادی کرلینی چاہئے، اسی وقت ان کے فون کی گھنٹی بجی لیکن انہوں نے نظر انداز کرکے دوبارہ مجھ سے کہا جب تم شوٹنگ سے واپس آتے ہو تو بیوی تمہارا انتظار کرتی ہے ایک بار پھر سنجو بابا کے فون کی گھنٹی بجی لیکن انہوں نے اسے دوبارہ نظر انداز کردیا اور مجھے شادی کے فائدے بتاتے ہوئے کہا شادی دنیا کی بہترین چیز ہے ایک بار پھر ان کے فون کی گھنٹی بجی اور اس بار انہوں نے سخت پریشانی کے عالم میں کہا ایک منٹ بھائی جان میری بیوی کا فون ہے پہلے میں اس سے بات کرلوں۔“سلمان خان کے مزاحیہ انداز میں یہ بتانے پر کہ سنجے دت اپنی بیوی سے کتنے پریشان ہیں تمام لوگوں کو ہنسنے پر مجبور کردیا، سلمان خان کی یہ ویڈیو دیکھ کر صاف اندازہ ہورہا ہے کہ وہ سنجے دت کی پریشانی کو دیکھ کر ہی شادی نہیں کررہے۔

بھارت: بیٹے نے ارب پتی باپ کی جائیداد ہتھیا کر اسے کنگال کردیا

نئی دہلی(ویب ڈیسک) بھارت میں ایک بیٹے نے ارب پتی باپ کی جائیداد ہتھیا کر اُسے کنگال کردیا۔ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق 80 سالہ وجے پت سنگھانیا کا دعویٰ ہے کہ انہیں 2015 میں اپنی ٹیکسٹائل کمپنی ‘ریمنڈ گروپ’کے 37 فیصد شیئرز اپنے بیٹے گوتم سنگھانیا کے نام کرنے کے لیے ‘جذباتی طور پر بلیک میل’ کیا گیا۔تاہم اس رشتے میں دراڑ اُس وقت پڑی جب وجے پت سنگھانیا نے الزام عائد کیا کہ ان کے بیٹے نے انہیں پُرتعیش اپارٹمنٹ کی ملکیت دینے کے معاملے میں دھوکا دیا اور کمپنی کے دفتر سے بھی بے دخل کردیا۔دوسری جانب وجے پت پر غیر مہذب زبان استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان سے کمپنی کی چیئرمین شپ کا ٹائٹل بھی لے لیا گیا۔وجے پت کو اب اپنے فیصلے پر شدید افسوس ہے اور وہ اس معاملے کو عدالت لے جانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے، ‘میرا مشورہ ہے کہ والدین کبھی بھی اپنے بچوں کو اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اپنی زندگی میں نہ دیں’۔دوسری جانب ان کے صاحبزادے گوتم نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تو بس اپنی جاب کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ وجے پت نے نہایت چھوٹے پیمانے پر کام کا آغاز کیا تھا اور اب ان کی ٹیکسٹائل کمپنی دنیا کی بڑی کمپنیوں میں سے ایک مانی جاتی ہے۔

ایکسائز کاٹیکس نادہندہ گاڑیوں کیخلاف مہم چلانے کافیصلہ

کراچی(ویب ڈیسک) محکمہ ایکسائزسندھ نے ٹیکس نادہندہ گاڑیوں کے خلاف مہم چلانے کافیصلہ کیا ہے۔یہ مہم ٹیکس نادہندہ گاڑیوں کے خلاف 9 جنوری سے 15جنوری تک جاری رہے گی اس بات کا فیصلہ صوبائی وزیر ایکسائز مکیش کمار چاو¿لہ کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا ڈائریکٹر جنرل شبیراحمد شیخ نے اجلاس کو بریفنگ میں بتایا کہ روڈ چیکنگ مہم کے تمام انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں،مہم کے لیے ٹیمیں تشکیل دیدی گئی ہیں۔مکیش کمار چاو¿لہ نے افسران کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے روڈ چیکنگ مہم کو کامیاب بنائیں اور روڈ چیکنگ مہم شروع کرنے سے پہلے اس سلسلے میں ایک بھرپور آگاہی مہم بھی چلائی جائے تاکہ ٹیکس نادہندہ گاڑیوں کے مالکان اس مہم کے شروع سے قبل اپنے ٹیکس جمع کرواسکیں،وزیر ایکسائز نے ٹیکس نادہندہ گاڑیوں کے مالکان سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ روڈ چیکنگ مہم شروع ہونے سے قبل اپنے ٹیکس جمع کرادیں۔