فیروزپور سٹی ہاؤسنگ اسکینڈل: سیف الملوک کھوکھر نیب میں پیش، ایک گھنٹہ تک پوچھ گچھ

لاہور (ویب ڈیسک) فیروزپور سٹی ہاو¿سنگ سکینڈل میں اہم پیش رفت، سابق ایم پی اے سیف الملوک کھوکھر نیب میں پیش ہوگئے، ایم پی اے سے تقریباً ایک گھنٹہ تک پوچھ گچھ کی گئی۔نیب ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے سابق ایم پی اے سیف الملوک کھوکھر پر الزام ہے کہ انہوں نے ہاو¿سنگ سکیم کو این او سی دلوانے میں 8 کروڑ روپے رشوت لی، سیف الملوک کھوکھر نے نہ صرف اپنے اثرورسوخ کا استعمال کیا بلکہ قوانین کی بھی دھجیاں اڑائیں۔لزامات کی جانچ پڑتال کے لئے نیب لاہور نے مسلم لیگ ن کے سابق ایم پی اے سیف الملوک کھوکھر کو طلب کیا گیا تھا، سیف الملوک کھوکھر نیب آفس لاہور میں پیش ہوئے، سابق ایم پی اے سے تقریباً ایک گھنٹہ تک پوچھ گچھ کی گئی۔ سیف الملوک کھوکھر نے ایک گھنٹہ تک اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔

رشتے دار گلے پڑ گئی ،ارباز کی سٹے بازی سلمان کیلئے کڑا امتحان بن گیا

ممبئی(ویب ڈیسک) بالی ووڈ کے دبنگ خان کے خلاف عدالت میں کئی مقدمات زیر سماعت ہیں تاہم اس بار وہ اپنی نہیں بلکہ اپنے چھوٹے بھائی ارباز خان کی وجہ سے مشکل میں پھنس گئے ہیں۔ سلو بھائی کی نئی فلم ’ریس 3‘ریلیز ہونے کو ہے اور سلمان کو میڈیا کے تند و تیز سوالوں سے بچنے کی کوئی صورت سمجھ نہیں آ رہی جس کا منفی اثر ان کی فلم کی اشتہاری مہم پر ہو سکتا ہے.بھارتی میڈیا کے مطابق سلمان خان نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ فلم ’ریس 3‘ کی تشہیر کے لیے خود میدان میں اتریں گے لیکن اب وہ میڈیا کے سامنے آنے سے بچ رہے ہیں کیونکہ انہیں اس بات کا خدشہ ہے کہ میڈیا ان سے اربازخان کی سٹے بازی سے متعلق ضرور پوچھے گا۔ سلمان خان کی فلم ”ریس 3“ کی ریلیز کو کچھ ہی دن باقی ہیں اور وہ اس موقع پر نہیں چاہتے کہ کوئی ان سے ان کے چھوٹے بھائی ارباز خان کی سٹے بازی سے متعلق کوئی سوال پوچھے کیونکہ اگر انہوں نے اپنے بھائی کی حمایت یا مخالفت میں کچھ بھی کہا تو اس سے ان کی فلم پر برا اثرپڑسکتا ہے۔ اس لئے انہوں نے فلم میں کام کرنے والے دیگر اداکاروں کو خاص طورپرتنبیہہ کی ہے کہ وہ ارباز خان سے متعلق کسی بھی سوال کا جواب نہ دیں۔واضح رہے کہ جس روزارباز خان کی سٹے بازی میں ملوث ہونے کی خبریں آئی تھیں اسی روز ریس 3 کے گانوں کی رونمائی کی تقریب تھی اورعین وقت پراس تقریب کو ملتوی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس لئے اربازسے میڈیا کی توجہ ہٹاںے کے لیے سلمان خان اسٹیج پر اپنے ساتھ اپنی گرل فرینڈ لولیا ونترکو بھی لے آئے تھے اور دونوں نے مل کر گانا بھی گایا تھا۔

نواز شریف اور ان کے بچے اپنے ذرائع آمدن ثابت کرنے میں ناکام: نیب پراسیکیوٹر

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس آخری مراحل میں داخل ہوگیا، نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر کے حتمی دلائل جاری ہیں۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب ریفرنس کی سماعت کی۔ نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے اپنے حمتی دلائل میں کہا نواز شریف، مریم نواز، حسن اور حسین نواز ذرائع آمدن ثابت نہیں کر سکے ، مریم نواز نے اصل حقائق چھپائے، کیپٹن (ر) صفدر نے بطور گواہ ٹرسٹ ڈیڈ پر دستخط کیے، ملزمان نے تفتیشی ایجنسی کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، فلیٹس 1993 سے ان کی ملکیت ہیں اور یہ تب سے وہاں رہ رہے ہیں۔نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے کہا مریم نواز بینیفشل آنر ہیں، گراو¿نڈ رینٹ مالک دیتا ہے اور یہ گراو¿نڈ رینٹ دیتے رہے، یہ باتیں ان کو 1993 سے ملکیت سے جوڑتی ہیں، نواز شریف بھی جانتے ہیں وہ 1990 کے آغاز سے وہاں رہ رہے ہیں، قطری کا خط غلط ثابت ہوگیا۔نیب پراسیکیوٹر نے حسین نواز کا بیان پڑھ کر سنایا۔ سردار مظفر نے کہا حسین نواز 1992 میں لندن پڑھائی کے لیے گئے، حسین نواز نے کہا ایک سال وہ ہاسٹل میں رہے، 1993میں ان فلیٹس میں مقیم رہے، حسین نواز فلیٹس کے گراو¿نڈ رینٹ اور یوٹیلیٹی بلز ادا کرتے تھے، حسین نواز نے کہا 1994 میں حسن نواز نے لندن فلیٹ میں رہنا شروع کر دیا، حسن نوازنےکہا وہ ایف ایس سی کے بعد 1994 میں لندن میں منتقل ہوئے، حسن نواز نے کہا 1994 میں لندن فلیٹ میں رہنا شروع کیا، جہاں حسین نواز 1993 سے مقیم تھے۔سردار مظفر نے اپنے دلائل میں مزید کہا ہر جگہ گراو¿نڈ رینٹ کی بات ہو رہی ہے، گلف اسٹیل مل کے اصل مالک نواز شریف تھے، قطری شاہی خاندان کے ساتھ 12 ملین کی سرمایہ کاری کی گئی، بیئرر شیئرز ہمیشہ ان کے پاس رہے، بیئرر شیئرز کبھی قطری کے پاس نہیں رہے، اس کا ثبوت نہیں کہ بیئرر شیئرز کسی اور کے پاس رہے ہوں، 2006 میں ملکیت ظاہر کرنے کا ایکٹ آیا، پہلے مالک کا نام ظاہر نہیں کیا جاتا تھا، نئے قوانین کے مطابق بینیفشل مالک چھپانا ممکن نہیں تھا، سامبا کا خط اور یہ قوانین براہ راست ثبوت ہیں فلیٹ 1993 سے انکے پاس ہیں۔

سابق چیف جسٹس سے بد سلوکی کیس،بڑے بڑے افسران کھڈے لائن ،کمرہ عدالت سے گرفتار

اسلام آباد(ویب ڈیسک)سپریم کورٹ نے افتخار چوہدری بدسلوکی کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلام آباد پولیس اور سابقہ انتظامیہ کے افسران کے خلاف سزاو¿ں کا فیصلہ برقرار رکھنے کا حکم دیا۔عدالت نے سابق آئی جی اسلام آباد چوہدری افتخار سمیت دیگر افسران کی اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ عدالتی فیصلہ آنے کے بعد پولیس نے تمام ملزمان کو فوری حراست میں لے لیا۔سابق آئی اسلام آباد افتخار احمد کو 15 روز کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔ حاضر سروس ڈی ایس پی رخسار مہدی، ایس ایس پی موٹروے جمیل ہاشمی، نیشنل سکیورٹی ڈویڑن میں ایڈیشنل سیکرٹری اور سابق ایس ایس پی اسلام آباد کیپٹن ریٹائرڈ ظفر، پولیس اہلکاروں سفیر عباسی ،سلیم صفدر ،محمد سراج ،میاں اشرف کو ایک ایک ماہ قید کی سزا سنادی گئی۔ سابق چیف کمشنر اسلام آباد خالد پرویز، سابق ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چوہدری محمد علی کو عدالت برخاصت ہونے تک علامتی سزا سنائی گئی۔واضح رہے کہ 13 مارچ 2007 کو اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے گھر سے عدالت آتے وقت روکا اور ان سے بدسلوکی کی تھی، اس دوران انہیں بالوں سے کھینچا گیا اور دھکے بھی دیئے گئے۔

کےا رقم وصول کرنے والے گڈیا بیڈ طالبان ہیں ؟

وانا (ویب ڈیسک)وانا میں طالبان کی موجودگی ایک حقیقت ہے جو ملا نذیر گروپ کے نام سے جانے جاتے تھے لیکن ملا نذیر کی ہلاکت کے بعد ان کے چار کمانڈروں بہاول خان المعروف صلاح الدین ایوبی، عین اللہ، ملنگ اور تاج نے اپنے اپنے گروپس منظم کیے اور وانا سب ڈویڑن کو بھی چار حصوں میں تقسیم کیا۔اس ہر ایک حصے پر ہر ایک کمانڈر کو اپنا کنٹرول حاصل ہے اس کے علاوہ تحصیل خان کا ایک گروپ تحصیل شکائی میں موجود ہے جس کو اپنے علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور تحصیل خان گروپ کا ایک دفتر ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی موجود ہے۔اس گروپ نے ملا نذیر کی زندگی میں ایک الگ گروپ کی شکل اختیار کی تھی۔دوسرے چار کمانڈروں نے آپس میں علاقے کی تقسیم کچھ اس طرح کی کہ صلاح الدین ایوبی کے حصے میں سپین، تنائی، ثمر باغ، موسی قلعہ، ڈوگ، پیر باغ اور کرم کوٹ آئے۔ عین اللہ کے حصے میں کڑی کوٹ، لمن، غواہ خوہ شو کوٹ، ڈب کوٹ اور دڑہ غونڈئے آئے۔اس طرح ملنگ گنگی خیل کے حصے میں دانہ، شاہ عالم، انگور اڈا، خمرنگ اور رغزائی کے علاقے آئے، جبکہ تاج کے حصے میں اعظم ورسک، کڑہ پنگہ، کالوتائی، وچہ دانہ اور سرکنڈا آئے۔وانا بازار اور اس سے متصل علاقوں کو مہینوں کے حساب سے تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر ایک گروپ وانا بازار میں ایک، ایک مہینہ گزارے گا ہر ایک گروپ ہر یکم کو اپنا چارج چھوڑ کر دوسرے کو چارج دے دیتا ہے۔البتہ وانا بازار کی تقسیم میں تحصیل خان کا گروپ شامل نہیں، دیگر چار کمانڈروں کے وانا بازار میں اپنے اپنے دفاتر موجود ہیں اور مقامی پولیٹکل انتظامیہ ان دفاتر کو امن کمیٹیوں کے نام سےجانتی ہے۔مقامی انتظامیہ کے اعدادوشمار کے مطابق وانا بازار میں 6000 سے زیادہ دوکانیں ہیں۔ اس کے علاوہ 30 کے قریب سبزی کی دوکانیں بھی ہیں۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق امن و امان کی ذمہ داریاں ان کمیٹیوں کے سپرد ہیں، اس لیے ہر ماہ کے حساب سے ٹیکس بھی یہی کمیٹیاں وصول کرتی چلی آرہی ہیں۔طالبان فی دوکان 500 روپے ٹکیس وصول کرتے ہیں جو مہینے کے حساب سے 30 لاکھ سے زیادہ بنتا ہے۔ اس کے علاوہ جو علاقے کسی کمانڈر کے زیر نگرانی ہیں وہ اس علاقے کے تمام معاملات کو بھی نمٹاتے ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق کاروبار یا زمین کے تنازعات میں ہر ایک فریق سے 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک وصول کیے جاتے ہیں۔ اس طرح علاقے میں جاری ترقیاتی منصوبوں میں 13 فیصد ہر ایک ٹھیکیدار طالبان کو تھما دیتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ طالبان کی طرف سے لاگو قوانین کی خلاف ورزی پر بھی بھاری جرمانے دینے پڑتے تھے اور شادی بیاہ کے موقع پر موسیقی بجانے پر 50 ہزار، رات دس بجے کے بعد گھر سے نکلنے پر دس ہزار مقرر ہے۔ان سارے پیسوں کی آمد کی وجہ سے وانا میں عام شہریوں کی نسبت طالبان کی زندگی بہتر سمجھی جاتی ہے اور طالبان کے پاس عام لوگوں کی نسبت گاڑیاں بھی اچھی ہیں اور اکثر کمانڈروں نے تو دو دو شادیاں کر رکھی ہیں۔ بات اب یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اگر ایک کمانڈر ہلاک ہو جاتا ہے تو اس کمانڈنگ کی ذمہ داری اپنے گھر میں کسی کو دے دی جاتی ہے اور وہ اسے اپنی میراث سمجھتے ہیں۔ان چاروں گروپوں کا آپس میں مضبوط اتحاد و اتفاق ہے اور علاقے میں کسی مزید گروپ کو بننے نہیں دیا جاتا۔سنہ 2014 میں گلام خون نامی ایک طالب نے ایک الگ گروپ بنانے کی کوشش کی تو چاروں کمانڈروں نے ایک ساتھ ان کے مرکز کو بند کر دیا اور چاروں کمانڈروں کی طرف اس وقت صاف صاف ہدایت جاری کی گئی کہ مزید کسی کو گروپ بنانے کی اجازت نہیں۔وانا بازار میں ان چاروں کمانڈروں کے دفاتر کے علاوہ ہر ایک کے علاقے میں تربیتی مراکز بھی موجود ہیں۔سب سے بڑا مرکز بہاول خان ایوبی کا ہے جو تقریباً 12 سو کنال رقبے پر پھیلا ہوا ہے، جو موسی قلعہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ مرکز وانا سکاو¿ٹس کیمپ سے جنوب کی جانب صرف دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جس میں ایک عالی شان بنگلہ، سیب، آڑوں اور خوبانی کے باغات ہیں۔یہ زمین پیر عادل گیلانی کی ملکیت ہے جس پر ملا نذیر نے 2007 میں قبضہ کیا تھا، جہاں میں مختلف تنازعات کی پیشیاں ہوتی ہیں۔وانا میں لوگ کئی سالوں سے طالبان کی طرف سے زیادتیاں برداشت کرتے چلے آ رہے ہیں اور کئی دفعہ کسی معاملے پر عزت دار لوگوں کو اٹھا کر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے عام شہریوں کے دلوں میں طالبان کے لیے غصہ موجود تھا۔کراچی میں نقیب اللہ محسود قتل کیس کے بعد پختون تحفظ مومنٹ (پی ٹی ایم ) نے سر اٹھایا اور ساتھ ہی وانا میں عام شہریوں نے طالبان کے خلاف بات کرنا شروع کر دیا اور کچھ عرصہ پہلے کمانڈر عین اللہ نے ایک پمفلٹ کے ذریعے موسیقی اور ننگے سر پر پابندی کا اعلان کیا تھا، جس پر عام شہریوں نے شور مچایا اور اس پمفلٹ کو اخبارات میں شائع کیا گیا، جس کے بعد عین اللہ اور مقامی علما پریس کانفرنس کرنے پر مجبور ہوگئے اور بتایا گیا کہ ان کا اس پمفلٹ سے کوئی تعلق نہیں۔بعد میں طالبان کے خلاف باتوں نے زور پکڑا، مقامی انتظامیہ نے علما اور مالکان پر مشتمل ایک جرگے کے ذریعے طالبان اور عام شہریوں میں تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئے اور آخر کار ’پختون تحفظ مومنٹ‘ نے اپنے جلسوں اور سوشل میڈیا پر طالبان کے خلاف بولنا شروع کر دیا اور گذشتہ روز کے واقع سے ایک دن پہلے یعنی دو جون کو وانا سکاو¿ٹس کیمپ کے سامنے پختون تحفظ مومنٹ کے جلسے میں علی وزیر نے طالبان کو خوب للکارا اور کہا کہ وانا میں مزید لمبے بال والے نہیں چلیں گے۔ جس کے نتیجے میں گذشتہ روز کا یہ واقعہ پیش آیا، چار افراد ہلاک جبکہ 28 زخمی ہوگئے۔

”لے کے رہیں گے خالصتان “آپریشن بلیو سٹار کی آج 34ویں برسی

امرتسر(ویب ڈیسک)سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل پر بھارتی فوجیوں کے ‘آپریشن بلیو اسٹار’ کو 34 برس مکمل ہونے پر منعقد یاد گاری تقریب علیحدہ صوبے ‘خالصتان’ کے نعروں سے گونج اٹھی۔واضح رہے کہ بھارت کے شمالی شہر امرتسر میں جون 1984 میں علیحدگی پسند سکھوں کو گولڈ ن ٹیمپل سے نکالنےکے لیے فوجی آپریشن بلیو اسٹار کیا گیا تھا جس میں تقریباً 500 سکھوں کو قتل کردیا گیا۔تاریخی اوراق میں واضح ہے کہ سکھوں کے خلاف حکومت اور فوج کی کارروائیوں کے بعد اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کو اپنے ہی ایک سکھ گارڈ نے قتل کردیا تھا جس کے بعد بدترین فسادات پھوٹ پڑے اور صرف دہلی میں ہی 3 ہزار سکھوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جبکہ سکھوں کا دعویٰ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد 4 سے زائد ہے۔دوسری جانب حکومت نے امرتسر سمیت دیگر ریاستوں میں سکھوں کے مذہبی مقامات پر سخت سیکیورٹی کے انتظام کیے۔سیکیورٹی اہلکار گاڑیوں کی تلاشی اور پیدل چلنے والوں کی نقل و حرکت پر بھی نظر رکھے ہوئےہیں تا کہ کوئی خالصتان کے حق میں پیش قدمی نہ کر سکے۔برسی کے موقع پر دل خالصہ اور سکھ یوتھ فیڈریشن نے خالصتان تحریک کے مقتولین کو خراج تحسین پیش کی اور خالصتان کے حق میں نعرے لگائے۔احتجاج کے شرکاءنے خالصتان کے حق میں بینرز اٹھا رکھے تھے جس میں علیحدگی پسند جرنیل سینگ بھندوالے،آل انڈیا سکھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے سابق صدر امیرک سنگھ اور ریٹائرڈ میجر جنرل شبیگ سنگھ کو خراج تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے آپریشن بیلو اسٹار کے خلاف گولڈ ٹیمپل میں مورچہ بندی کرکے بھارتی فوجیوں کو روکے رکھا۔دوسری جانب گولڈن ٹیمپل میں سکھوں کے دو گروپوں کے مابین معمولی تصادم کی بھی خبریں منظر عام پر آئیں جن میں بتایا گیا کہ آپریشن بلیو اسٹار کی برسی کے دوران علیحدگی پسند سکھوں کے ایک گروپ نے آزاد وطن کے حق میں نعرے لگانا شروع کردیئے جس کے بعد سیکیورٹی حکام نے انہیں ٹیمپل سے نکال دیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ سکھوں نے کرپانے نکال کر ایک دوسرے پر حملے کیے جس میں 6 سکھ زخمی ہوئے۔اکنامکس ٹائمز کے مطابق گولڈن ٹیمپل میں موجود ہزاروں کی تعداد میں جمع سکھوں نے خالصتان کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے بلند کیے۔

مقبوضہ کشمیر میں سرچ آپریشن کے نام پر بھارتی فوجیوں نے 3کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا

سری نگر(ویب ڈیسک) مقبوضہ کشمیرمیں قابض بھارتی فوج نے سرچ آپریشن کے نام پرمزید 3 نوجوانوں کو شہید کردیا۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج نے ضلع کپواڑہ کے علاقے مچھل کا محاصرہ کرلیا اورسرچ آپریشن کے دوران 3 نوجوانوں کو شہید کردیا۔ نوجوانوں کی شہادت کی اطلاع ملتے ہی علاقے میں لوگوں کی بڑی تعداد گھروں سے باہرنکل آئی اوربھارتی فوج کے خلاف احتجاج شروع کردیا۔واضح رہے کہ 2016 میں حریت پسند نوجوان برہان وانی کی بھارتی فوج کے ہاتھوں شہادت کے بعد مقبوضہ وادی میں جدو جہد آزادی کی نئی لہر بیدار ہوئی ہے جسے کچلنے کے لیے بھارتی فوج نے بربریت کا ہولناک سلسلہ شروع کررکھا ہے صرف گزشتہ ماہ 31 افراد کو سرچ آپریشن کے نام پر جب کہ 3 کو دوران حراست شہید کیا جاچکا ہے۔

سٹار فٹبالر میسی نے مظلوم فلسطینی بچوں کی آواز سُن لی ،اسرائیل سے فٹبال میچ منسوخ کر دیا

ارجنٹائن(ویب ڈیسک)ارجنٹائن نے ورلڈ کپ سے پہلے اسرائیل کے ساتھ طے شدہ دوستانہ میچ منسوخ کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے پیچھے بظاہر غزہ میں اسرائیل کے فلسطینیوں کے ساتھ سلوک پر سیاسی دباو¿ ہے۔ارجنٹائن اور اسرائیل کے درمیان یہ دوستانہ میچ مقبوضہ بیت المقدس کے جنوب میں واقع اس سٹیڈیم میں کھیلا جانا تھا جو 70 برس پہلے عرب اسرائیل جنگ میں تباہ ہوا تھا۔ارجنٹائن کے سٹرائکر گونزالو ایگوا این نے ای ایس پی این سپورٹس چینل سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ اب یہ میچ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ایگوا این نے ایک انٹرویو میں کہا ‘بالآخر انھوں نے صحیح قدم اٹھایا ہے’۔ارجنٹائن میں اسرائیلی سفارتخانے نے بھی ایک ٹویٹ کے ذریعے تصدیق کی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ میچ منسوخ کر دیا گیا ہے۔میڈیا اطلاعات کے مطابق اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے ارجنٹائن کے صدر موریسیو متری سے فون پر رابطہ کیا ہے تا کہ یروشلم میں سنیچر کو طے شدہ میچ کے لیے دوبارہ کوشش کی جا سکے۔غزہ میں میچ کی منسوخی کی خبر پرخوشی منائی گئی ہے جہاں حال ہی میں ہونے والے مظاہروں میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں کم از کم ایک سو بیس فلسطینی ہلاک ہوئےتھے۔مغربی کنارے میں رملہ کی فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں ارجنٹائن کے کھلاڑی لیونل میسی اور ان کے ساتھیوں کا میچ منسوخ کرنے پر شکریہ ادا کیا گیا ہے۔ایسوسی ایشن کے چئرمین جبریل رجب نے کہا ہے ‘اس میچ کو منسوخ کر نے سے اقدار،اخلاقیات اور کھیل کی جیت ہوئی ہے اور اسرائیل کو ریڈ کارڈ دکھایا گیا ہے’۔جبریل رجب نے میچ کی منسوخی کی اطلاعات سے قبل فلسطینیوں سے کہا تھا کہ وہ احتجاجاً میسی کی تصاویر اورشرٹس جلائیں۔ وہ بدھ کو ایک پریس کانفرنس بھی کرنے والے تھے۔اس سے قبل میچ کے اعلان کے بعد 70 فلسطینی بچوں کے ایک گروپ نے ارجنٹائن کے فٹبالر میسی کو ایک خط لکھا تھا جس میں ان سے اسرائیل کے خلاف دوستانہ میچ میں شرکت نہ کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔فلسطینی بچوں کی جانب سے لکھا جانے والا یہ خط اتوار کو اسرائیل میں ارجنٹائن کے سفارت خانے کے حوالے کیا گیا تھا۔فلسطینی بچوں نے خط میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ ان خاندانوں کے بچے ہیں جہاں اب ٹیڈی سٹیڈیم دوبارہ قائم کیا گیا ہے۔اسرائیل مقبوضہ بیت المقدس کو اپنا ‘مستقل اور غیر منقسم’دارالحکومت مانتا ہے۔ فلسطینی شہر کے مشرقی حصے کو مستقبل کی فلسطینی ریاست کے صدر مقام کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اور انھیں میچ حیفہ سے وہاں منتقل کرنے پر اعتراض تھا۔گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرتے ہوئے امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے وہاں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا جس پر فلسطینی سخت ناراض ہیں۔

سبحان اللہ ۔۔۔رمضا ن کے دوران ایسے اعمال جن کے کرنے سے آپ کو دلی اور روحانی مسرت ملیگی

لاہور (ویب ڈیسک)قرآن مجید کی زبان میں روزے کا مقصد خاص تقوی کا حصول ہے۔ تقوی ضبط نفس سے عبارت ہے، پیٹ اور نفسانی خواہشات گناہ کے سب سے بڑے دروازے ہیں، ہر گناہ کا سلسلہ نسب انہیں دو محرکات سے ملتا ہے۔ چوری اور ڈکیتی، قتل و غارت گری، دوسروں کے مال پر ناجائز قبضہ، دوسروں کو ان کے حقوق سے محروم رکھنا، رزق میں حرام و حلال کی تمیز نہ کرنا۔ ان سارے گناہوں کا سرچشمہ پیٹ کے سوا اور کیا ہے؟ زنا، بد نگاہی اور بدکاری کی تمام صورتیں اور ان کے لیے قتل و خون ریزی اور آبرو ریزی ان تمام گناہوں اور فتنوں کی اساس نفسانی خواہشات ہی تو ہیں! روزے کا بنیادی مقصد اور حکمت ان دو چیزوں کا کنٹرول اور توازن میں لانا ہے، کیوں کہ جو بندہ مسلسل ایک ماہ اپنے آپ کو اس طرح نفس کے دام ہم رنگ سے بچانے میں کام یاب رہے گا اور وقتا فوقتا نفل روزں کی صورت میں اللہ سے محبت کے عہد کی تجدید کرتا رہے گا یقینا اس میں اپنے آپ پر کنٹرول اور ضبط کی صلاحیت پیدا ہوگی اور وہ اپنے ا?پ کو ہمیشہ گناہوں سے بچا سکے گا، اسی کا نام تقوی ہے۔ تاہم اس کیفیت کے حصول کے روزے کے تمام ا?داب اور شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔روزہ تو صرف صبح تا شام بھوکے پیاسے کا نام ہرگز نہیں ان کے پیچھے تو معاشرے کا سدھرنا بہت بڑا فلسفہ ہے۔ روزہ تو گناہوں سے بچنے کا نام ہے اس مقصد سے عاری بھو ک و پیاس کی تو باری تعالیٰ کو کوئی حاجت نہیں۔حضرت ابوہریرہ ? سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: ”جو آدمی روزہ رکھتے ہوئے باطل کلام اور باطل کاموں کو نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ اللہ کے ہاں روزے کے مقبول ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کھانا پینا چھوڑنے کے ساتھ گناہوں سے بھی اجتناب برتے۔اب اگر کوئی شخص روزہ تو رکھے اور گناہ کی باتیں اور گناہ والے اعمال کرتا رہے تو اللہ تعالیٰ کو اس روزے کی کوئی پروا نہیں، یعنی درحقیقت اس کو اجر و ثواب نہیں ملے گا کیوں کہ اجر و ثواب تو روزے پر ہے نہ کہ بھوکے پیاسے رہنے پر اور یہ گناہ والے اعمال کے ہوتے ہوئے جب روزہ مقصد سے خالی ہوا تو ظاہر ہے کہ روزہ باقی ہی نہیں رہا صرف یہ شخص بھوکا و پیاسا رہا جس کو باری تعالی کو کوئی ضرورت نہیں۔
لہذا اس اہم نکتہ سمجھنے کے بعد سب پہلے تو اس بات کا پختہ عزم کیجیے کہ رمضان میں پاکیزہ اور محتاط زندگی گزاریں گے۔ آنکھوں کا غلط استعمال نہ ہونے پائے، کانوں سے گناہ والی باتوں کو نہ سنے ، بے کار کاموں اور لایعنی کاموں میں مشغول نہ ہو۔ اسی طرح کسی کو دل میں کینہ، حسد اور غصہ رکھنا یہ بھی بہت بڑا گناہ ہے۔کینہ رکھنا یہ اتنی بڑی بدبختی ہے کہ حضور کا ارشاد مبارک ہے کہ ایسا شخص شب قدر کی تجلیات مغفرت اور قبولیت دعا سے محروم رہے گا۔ لہذا رمضان کے برکات کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ اپنے ا?پ پر ایک نظر ڈالو کہ اور دیکھو کہ کسی کے ساتھ کینہ اور غصہ تو نہیں ہے۔ کسی کی حق تلفی تو نہیں ہوئی ہے، کسی کو ہماری ذات سے تکلیف تو نہیں پہنچی ہے۔اللہ پاک اس وقت تک راضی نہیں ہوتے جب تک ان کی مخلوق ہم سے راضی نہیں ہوجاتی۔ لغو اور فضول باتوں سے پر ہیز کریں کیوں کہ ان سے عبادت کا نور جاتا رہتا ہے۔ اسی طرح رمضان میں کثرت سے نمازوں کا اہتمام کرنا چاہیے۔ تراویح کی نماز، تہجد، اشراق اور اوابین کا خاص طور پر اہتمام ہو۔ تلاوت کلام پاک کی کثرت سے تلاوت ہو کیوں کہ روزہ اور قرآن کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ تلاوت سے ہم بہت سارے فوائد سمیٹ لے سکتے ہیں۔ اسی طرح درود شریف کی بھی کثرت رکھیے۔ دفتر میں کام کرتے ہو تو اس بات کا خاص اہتمام ہو کہ تمہارے ہاتھ، زبان اور قلم سے خدا کی مخلوق کو کوئی پریشانی نہ ہو کسی ناجائز غرض سے اس کا کام نہ روکو۔ آنکھیں گناہوں کی پہلی سیڑھی ہیں ان پر خاص خیال رکھیں۔ہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ بدنگاہی اور آنکھوں کی گناہ صرف کسی پر ب±ری نظر ڈالنا نہیں ہے بل کہ کسی کو حقارت کی نظر سے دیکھنا، حسد کی نظر سے دیکھنا بھی بدنگاہی ہے۔ روزہ داروں کے بارے میں مشہور ہے کہ بات بات پر غصہ آتا ہے یہ بات اچھی نہیں۔ روزہ تو بندگی اور شائستگی پیدا کرتا ہے۔ عاجزی پیدا کرتا ہے۔ پھر یہ روزے کا بہانہ بنا کر بات بات پر لڑائی کرنا اس کا کیا مقصد ؟ ایک افسوس ناک اور خطرناک رجحان بالخصوص نوجوانوں میں ابھرتا ہوا دیکھنے میں ا?رہا ہے کہ رمضان میں سارا دن نیند میں گزار کر ساری رات جاگتا ہے، بازاروں میں وہی رونق اور چلت پھرت۔ رات کو رمضان بھول جاتے ہیں اور سرے سے رمضان کے اثرات بھی دکھائی نہیں دیتے۔یہ انتہائی افسوس ناک پہلو ہے۔ رمضان کی راتیں عبادتوں میں گزارنے سے دن میں بھی سچائی اور دیانت سے کام کی عادت ہوجاتی ہے۔ لہذا اس بات کا خاص کر اہتمام لازم ہے کہ جس طرح دن میں رمضان نظر آرہا ہے تو سارے دن کی کمائی رات میں ضایع نہ ہونے دیں۔ باجماعت نماز کا اہتمام خود پر لازم کرلیں۔ رمضان کا مہینہ خیر اور ایک دوسرے کو نفع رسانی کا مہینہ ہے۔ لہذا اس ماہ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ مخلوق خدا کو زیادہ سے زیادہ خیر ہی پہنچائے۔ ضروری ہے کہ رمضان ہماری زندگی اور اعمال میں نمایاں تبدیلی لاسکے، اس کی برکات اور ثمرات ہم مستفید ہوسکیں یہ تب ہی ممکن ہے کہ ہم رمضان کی قدر کریں۔

غیر قانونی طو رپر سرحد پار کرنیکا جرم ” گائے “ کو موت کی سزا کا حکم

بلغاریہ( ویب ڈیسک ) بلغاریہ سے سرحد عبور کر کے سربیا کی حدود میں داخل ہونے والے گائے کو ’غیر قانونی ہجرت“ کے قانون کے تحت سزائے موت سنادی گئی۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز بلغاریہ کے سرحدی علاقے میں واقع ایک گائے غلطی سے سرحد عبور کر کے غیر یورپی یونین ملک سربیا کی سرحد میں داخل ہوگئی تھی۔ سرحد کے پار سربیا کے دیہاتیوں نے گائے کو پکڑ کر دیکھ بھال شروع کردی۔ اس دوران گائے کے مالک نے سرحد پر پٹرولنگ کرنے والے اہلکاروں سے رابطہ کیا جنہوں نے گائے کو سربیا کے دیہاتیوں سے لے کر مالک کے حوالے کردیا اور یوں گائے دوبارہ بلغاریہ پہنچ گئی۔تاہم بلغاریہ کی انتظامیہ نے گائے کی آئینی دستاویزات اور قانونی ضروریات پوری کیے گئے بغیر سربیا کی سرحد عبور کر کے بلغاریہ میں داخلے کا سخت ایکشن لیتے ہوئے غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کے جرم میں گائے کو سزائے موت سناتے ہوئے کہا کہ قانونی بات یہ ہے کہ جرم سرزد ہوا ہے لیکن کس سے ہوا ہے یہ اہم نہیں ہے۔ آئینی دستاویزات کے بغیر سرحد عبور کرنا سنگین جرم ہے جس کی سزا موت ہے۔گائے کو اس طرح سزائے موت سنائے جانے کے بعد سوشل میڈیا میں اس فیصلے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے صارفین نے شدید نکتہ چینی کی اور دنیا بھر میں یہ ٹرینڈ بن گیا۔واضح رہے کہ سربیا یورپی یونین میں شامل نہیں جب کہ بلغاریہ یورپی یونین میں شامل ملک ہے جہاں غیر یورپی یونین ممالک سے سخت اختلافات کے باعث امیگریشن کے سخت قوانین موجود ہیں اور سخت جانچ پڑتال اور تھکا دینے والی کاغذی کارروائی کے بعد ہی غیر یورپی یونین ممالک کے افراد کو داخلے کی اجازت ملتی ہے۔

مگر مچھ سے بچنا بہت ضروری کیونکہ پادری کیساتھ سنسنی خیز اقدام ہو گیا

ایتھوپیا ( ویب ڈیسک ) ایتھوپیا میں ایک مگرمچھ ایک پادری کو اس وقت پکڑ کر جھیل میں لے گیا جب وہ لوگوں کو بپتسمہ دے رہے تھے۔پولیس اور مقامی لوگوں نے کہا ہے کہ مرکب تبائی ضلع میں پروٹیسٹنٹ پاسٹر ایشیٹے 80 لوگوں کے اجتماع کو ابایا جھیل میں بیپتسمہ دے رہے تھے کہ ایک مگرمچھ نے ان پر حملہ کر دیا۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے جب پادری ایک شخص کو بپتسمہ دے چکے تو مگرمچھ نے چھلانگ لگا کر پادری کو اپنے طاقتور جبڑوں میں پھنسا لیا اور گہرے پانی میں لے گیا۔ مقامی لوگوں اور مچھیروں نے پادری کو مگرمچھ کے چنگل سے چھڑانے کی سرتوڑ کوششں کی لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔ مقامی لوگ پادری کی جان بچانے میں کامیاب تو نہیں ہوئے البتہ وہ ان کی لاش کو مگرمچھ سے چھڑا لائے۔ایتھوپیا کی جھیل ابایا گیارہ سو کلومیٹر طویل ہے اور اسے مگر مچھوں کی بڑی آماجگاہ تصور کیا جاتا ہے۔

ن لیگ کا پی ٹی آئی سے ڈیڈ لاک برقرار ، نگران وزیراعلیٰ پنجاب اب الیکشن کمیشن مقرر کریگا

اسلام آباد: نگران وزیراعلی پنجاب کی تقرری پرمسلم لیگ (ن) اورتحریک انصاف میں ڈیڈ لاک کے بعد معاملہ الیکشن کمیشن کے سپرد کردیا گیا ہے۔اسپیکرپنجاب اسمبلی رانا اقبال کی جانب سے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی میں نگران وزیر اعلی پنجاب کی تقرری پراتفاق نہیں ہوسکا جس کے بعد پروفیسرحسن عسکری، ایاز امیر، ایڈمرل ریٹائرڈ ذکا اللہ اور جسٹس ریٹائرڈ سائرعلی کے نام الیکشن کمیشن کو بھجوا دیئے ہیں۔ آئین کے تحت اب الیکشن کمیشن ان چاروں سے کسی ایک کونگراں وزیراعلیٰ پنجاب مقررکرے گا۔پارلیمانی کمیٹی کے آخری اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے تحریک اناف کے رہنما میاں محمود الرشید نے کہا کہ حکومتی غیر لچکداررویے کی وجہ سے مذاکرات ناکام رہے ہیں، حکومت کو ایاز امیر کے نام پر تحفظات تھے جب کہ ذکاءاللہ کےنام پرہم تحفظات کا شکار تھے۔ حسن عسکری غیر جانبدار تھے، ہم نے ان کے نام پر حکومت کو راضی کرنے کی کوشش کی لیکن حکومت نے اپنے دونوں ناموں میں سے کسی ایک کو لانے کا زوردیا، معاملہ ایک ایک نام پر بھی نہیں آسکا، جس کے بعد اب معاملہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس چلا گیا ہے۔دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما ملک محمد احمد خان نے کہا کہ اپوزیشن نے حکومتی ناموں پراعتراض اٹھائے بغیرمسترد کئے۔

صبح اٹھتے ہی پانی میں یہ چیز ڈال کر غٹا غٹ پی جائیں پھر دیکھئے جادوئی اثرات

نیویارک ( ویب ڈیسک ) فلمی ستاروں کی چمکتی صاف رنگت مداحوں کے رشک کا باعث ہوتی ہے اور اب انہی فلمی ستاروں کو صحت مند رکھنے والی ماہر غذائیات نے ایسا مشورہ دے دیا ہے جس پر عمل کرکے مداح بھی اپنا خون صاف کر سکتے اور اپنی جلد کو فلمی ستاروں کی طرح خوبصورت بنا سکتے ہیں۔ گیتا سدھو روب نامی اس ماہر نے بتایا ہے کہ خون کو صاف کرنے کے لیے صبح اٹھتے ہی لیموں پانی کا استعمال سب سے بہترین چیز ہے لیکن اس میں صرف لیموں کا رس ڈالنے کی بجائے اس کے چھلکے بھی ڈالنے چاہئیں۔گیتا سدھو نے بتایا کہ ”ایک لیموں کو چار ٹکڑوں میں کاٹیں اور اسے ایک تہائی کپ گرم پانی میں اچھی طرح نچوڑدیں اور پھر اس کا بچ جانے والا چھلکا بھی پانی میں پھینک دیں۔ اس کے بعد ایک چوتھائی ٹھنڈا پانی اس میں شامل کردیں تاکہ پانی نیم گرم ہو جائے۔ آپ کا لیموں پانی تیار ہو جائے گا۔ احتیاط کریں کہ لیموں کو کاٹنے سے پہلے اچھی طرح دھو لیں کیونکہ اس کے چھلکے بھی پانی میں استعمال ہونے ہیں۔“ گیتا نے اس کے فوائد بتاتے ہوئے کہا کہ ”اس سے ہمیں قدرتی وٹامنز حاصل ہوتے ہیں اور ہمارا مدافعتی نظام بہت تیز ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس سے خون صاف ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں جلد صاف شفاف ہو جاتی ہے۔ان فوائد کے حصول کے لیے لیموں پانی نہار منہ پینا چاہیے یا پھر رات کو سونے سے پہلے۔“