انتخابی فارم بارے چیف جسٹس نے ایسا کام کر دیا کہ عوام نے مکمل حمایت کر دی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک + نیوز ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے انتخابات کے لیے امیدواروں کے نامزدگی فارم کے ساتھ بیانِ حلفی بھی ضروری قرار دے دیا۔عدالت عظمیٰ نے نئے کاغذات نامزدگی بحال کرتے ہوئے امیدواروں کو فارم میں غیر موجود باقی تمام معلومات الگ سے بیان حلفی پر درج کرکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں لارجر بینچ نے نامزدگی فارم کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پرسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی درخواست پر سماعت کی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے حکم دیا کہ الیکشن کمیشن حلفیہ بیان کا مسودہ تیار کرکے کل (جمعرات) کے اخبارات میں شائع کرادے جس کے بعد تمام امیدواران اس مسودے کو 50 روپے والے اسٹامپ پیپرپر پرنٹ کرواکے تین روز کے اندر الیکشن کمیشن میں جمع کروادیں۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نامزدگی فارم نیا والا ہی رہنا چاہیے، تاہم بیان حلفی میں غلط معلومات دینے والے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔سیکریٹری الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی مقررہ تاریخ ختم ہونے میں 3 دن باقی ہیں جس پر عدالت نے حکم جاری کیا کہ بیانِ حلفی تیار ہونے کے بعد تمام امید وار تین روز کے اند انہیں الیکشن کمیشن میں جمع کرانے کے پابند ہوں گے۔عدالت نے حکم دیا کہ بیان حلفی کو تیار کرکے عبوری حکم نامے کا حصہ بنایا جائے جبکہ جن افراد نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروا دیے ہیں وہ بھی 3 روز کے اند اپنا بیان حلفی لازمی جمع کروائیں۔یاد رہے کہ 3 جون کو سپریم کورٹ نے سپریم کورٹ نے نامزدگی فارم میں کی گئی ترامیم کو کالعدم قرار دینے کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کردیا تھا۔دوران سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ کیا ایاز صادق کی اپیل قابل سماعت ہے ؟ آپ کی اپیل ایک منٹ میں خارج ہوسکتی ہے ، سنگل بنچ فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کرنی چاہیئے تھی ، انٹرا کورٹ اپیل دائر کیے بغیر عدالت عظمیٰ نہیںآسکتے۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے عدالت عظمیٰ اس حوالے سے 2011 میں فیصلہ دے چکی ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ امیدواروں سے متعلق مکمل معلومات ملنے میں مسئلہ کیا ہے ؟ عوام کو امیدواروں کی حیثیت کا علمہونا چاہیئے ، امیدواروں کو اپنے اور بچوں کے اکاو¿نٹ، اثاثے بتانے میں مسئلہ کیا ہے ؟ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کیا اثاثوں، اکاو¿نٹس، دہری شہریت کی تفصیلات نہ بتانا آئینی معاملہ ہے ؟ امیدوار بیان حلفی دے دیں، کاغذات نامزدگی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا ، جن لوگوں نے قوم کو مصیبت میں ڈالا وہ کمرہ عدالت میں موجود ہیں ؟ امیدواران جو معلومات رہتی ہیں وہ بیان حلفی کیساتھ الیکشن کمیشن کو دیں ، ا?پ لوگ عوام کو امیدواروں کی معلومات دینے میں شرمندہ کیوں ہیں ؟ ہائیکورٹ میں وفاق نے 7 ماہ تک معاملے کو التوا دیا۔وکیل ایاز صادق نے کہا یہ ایک آئینی اہمیت کا حامل معاملہ ہے ، کاغذات نامزدگی میں ایسی معلومات پوچھی گئیں جو لازمی نہیں تھیں۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کیا 2013 کا الیکشن فارم کسی قانون کے تحت تھا ؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ریٹرننگ افسران کو امیدواران تمام معلومات فراہم کریں، پاکستان کے لوگوں کو اپنے امیدواروں کی ساکھ کا پتہ ہونا چاہئے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے الیکشن کمیشن بیان حلفی کا متن تیار کرے، بیان حلفی کا نمونہ بنا کر عدالتی حکم نامہ میں شامل کر دیتے ہیں، امیدوار بیان حلفی پر معلومات درج کر کے 3 دن میں الیکشن کمیشن کو دے، نئے کاغذات نامزدگی نہیں چھپیں گے، الیکشن موخر نہیں ہوں گے۔کاغذات نامزدگی سے متعلق سپریم کورٹ کا حکم نامہ جاری جس میں کہا گیا کہ امیدواروں کو 20 لاکھ سے زائد قرضے کی تفصیل بتانا ہو گی جبکہ قرض معاف کرنے سے متعلق تفصیل بھی دینا ہو گی۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیان حلفی میں امیدوار کو اپنی اہلیہ اور زیرکفالت بچوں کے نام بھی بتانا ہونگے اور ٹیکس سے متعلق معلومات بھی ہیں کہ ناموں کے پاسپورٹ نمبر، ٹیکس نمبر، پیشہ تعلیمی قابلیت ذرائع آمدن گزشتہ تین سال کے ٹیکس کی معلومات اور بیرون ملک سفر کی معلومات سمیت زرعی آمدن اور اس پر ٹیکس کے تین سالہ گوشوارے الیکشن کمیشن کو دینا ہونگے جبکہ فوجداری مقدمات کی تفصیلات اہلیہ اور بچوں کی کمپنیوں کی تفصیلات اور ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرانا ہونگی اور درج کردہ معلومات غلط ہوئیں تو انتخاب کالعدم قرار دیا جائے گا۔

وہی ہوا جس کا ڈر تھا ، 56 کمپنیوں بارے سنسنی خیز خبر ، اربوں کا فراڈ کیسے ہوا ؟

لاہور (آن لائن) پنجاب حکومت کی قائم کردہ 56 کمپنیوں میں اربوں روپے کے فراڈ کی تصدیق ہو گئی ہے۔ اس بات کی تصدیق اکاﺅنٹنٹ جنرل پنجاب کی طرف سے تیار کر دہ آڈٹ رپورٹ میں کی گئی ہے جبکہ آڈٹ رپورٹ منظر عام پر لانے سے روکنے کے لئے بیوروکریسی کا شدید دباﺅ ہے، اے جی پنجاب نے آڈٹ رپورٹ کا والیم ایک اور والیم دو گورنر پنجاب کو بھیج دیا ہے۔ اربوں روپوں کی کرپشن کی نشاندہی کرنے والی اس رپورٹ کی ایک کاپی پر اے جی پنجاب نے دستخط کر دیئے ہیں اور وہی کاپی گورنر پنجاب کو بھجوا دی ہے جبکہ آڈٹ رپورٹ کی اشاعت کے لئے گورنر پنجاب نے پبلشر کی تلاش شروع کر دی ہے۔

نواز ، عباسی اور شہباز کیخلاف نیب کا شکنجہ مذید سخت ، ایل این جی معاملہ کھل گیا

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) نیب نے اپنا شکنجہ مزید سخت کرتے ہوئے سابق وزرائے اعظم محمد نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی ودیگر کیخلاف اختیارات کے ناجائز استعمال، قواعد کے خلاف من پسند کمپنی کو ایل این جی ٹرمینل کا15 سالہ ٹھیکہ دینے کے الزام میں انکوائری کی منظوری دیدی ہے۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ نیب اس بات کو واضح کرنا چاہتا ہے کہ تمام انکوائریاں اورانویسٹی گیشن مبینہ الزامات کی بنیاد پر شروع کی گئی ہیں جوکہ حتمی نہیں، نیب تمام متعلقہ افراد سے ان کا موقف معلوم کرے گا تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے ۔نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے سابق وزیراعظم نواز شریف،سابق وزیرپٹرولیم شاہد خاقان عباسی اور دیگر کے خلاف قومی خزانے کو مبینہ طور پراربوں روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے سابق وزیر اعلی سندھ قائم علی شاہ، سابق سیکرٹری کلچر ٹورزم اینڈ اینٹیک ڈیپارٹمنٹ حکومت سندھ کے افسران/اہلکاران اوردیگر کے خلاف انوسٹی گیشن کی منظوری دی۔ ملزمان پرمبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سندھ کلچرل فیسٹیول 2014ءمیں قواعد کے خلاف ٹھیکہ دینے اور بدعنوانی کا الزام ہے۔ جس سے قومی خزانے کو تقریبا127ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف، متعلقہ سیکرٹریز، چنیوٹ سے سابق ایم پی اے اور رمضان شوگر ملز لمیٹڈ چنیوٹ کی انتظامیہ کے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔ ملزمان پرمبینہ طور پراختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے قومی خزانے کوبھاری نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔ سابق چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ وائس ایڈمرل ریٹائرڈ احمد حیات، سابق جنرل منیجر کے پی ٹی بریگیڈیئر ریٹائرڈ سید جمشید زیدی اورمیسرز کراچی انٹرنیشنل کنٹینرز ٹرمینل کے خلا ف بدعنوانی کاریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔ ملزمان پر غیر قانونی طور پر کنٹریکٹ میں توسیع کرنے کا الزام ہے۔ جس سے قومی خزانے کو تقریبا21 ارب روپے کا روپے کا نقصان پہنچا۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے سابق صوبائی وزیر بلوچستان شیخ جعفر خان اور ڈپٹی ڈائریکٹر واٹر مینجمنٹ عبد الطیف خان کے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔ ان پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے سابق صوبائی وزیر براے جنگلات بلوچستان عبیدا للہ بابت اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔ ان پرمبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سرکاری فنڈز میں خردبرد اور آمدن سے زائد اثاثے بنانے کاالزام ہے۔ جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے سابق سپیکر ،ڈپٹی سپیکر اور عبداللہ خان ، سیکرٹری گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی سیکرٹریٹ اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔ ملزمان پرغیرقانونی تعیناتیوں کاالزام ہے۔ جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے سابق ایم پی اے تحصیل کوٹ ادو جوادکامران کھر اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔ان پرمظفر گڑھ میں کاغذات میں ردوبدل کر کے سرکاری اراضی الاٹ کروانے کا الزام ہے۔ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے پیراگون ہاﺅسنگ سوسائٹی کی انتطامیہ اوردیگرکے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔ ملزمان پر مبینہ طور پرعوام سے بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی اور مشتبہ رقوم کی منتقلی کاالزام ہے۔ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے زمرد خان سابق کنزرویٹرمحکمہ جنگلات ، گلبار خان ممبر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی اوردیگر کے خلاف انویسٹی گیشن کی منظوری دی۔ ملزمان پر مبینہ طور پر ٹمبرپالیسی 2013 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جرمانہ وصول کئے بغیر لکڑی کی غیر قانونی نقل و حمل کاالزام ہے۔ جس سے قومی خزانے کو تقریبا44.46ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے محمد امجد اور مرتضیٰ امجد( ایڈن ہاﺅسنگ سوسائٹی) کے خلاف انویسٹی گیشن کی منظوری دی۔ ملزمان پرعوام سے بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی اور مشتبہ رقوم کی منتقلی کاالزام ہے۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے نرالا ایم ایس آر فوڈز لمیٹڈ کے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔ ملزمان پرمبینہ طور پر بدعنوانی کا الزام ہے۔ جس سے قومی خزانے کوبھاری نقصان پہنچا۔ لینڈ یوٹیلائزیشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران/اہلکاران دیگر کے خلاف انوسٹی گیشن کی منظوری دی گئی۔غیر قانونی طریقے سے سرکاری اراضی الاٹ کرنے کاالزام ہے۔ جس سے قومی خزانے کوبھاری نقصان پہنچا۔ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے سابق جنرل منیجر پاکستان سٹیٹ آئل عبد الحکیم صدیقی اور دیگر کے خلاف بد عنوانی کا رفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔ملزمان پرمبینہ طورپر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے پٹرولیم لیوی میں خوردبرد کاالزام ہے۔اجلاس نے ڈیلی سروان اخبار کے مالک غلام حسین سچاوری ولد رئیس بدھو خان کے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔ ملزم پر بڑے پیمانے پر عوام کو دھوکہ دینے اورمبینہ طور پرمشتبہ رقوم کی منتقلی کا الزام ہے۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے چیف ایگزیکٹو افسر پختون خواہ انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن اکبر ایوب خان اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔ ملزمان پرمبینہ طور پرپیڈو میں غیرقانونی تقرریوں کاالزام ہے۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے محکمہ آبپاشی خیر پور ڈویڑن کے افسران /اہلکاران اور دیگر کے خلاف انوسٹی گیشن کی منظوری دی۔ ملزمان پرمبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سرکاری فنڈز میں خردبرداور من پسند افراد کو ٹھیکے دینے کا الزام ہے۔جس سے قومی خزانے کو تقریبا9کروڑ41لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے سابق وائس چانسلر بہاﺅالدین زکریا یونیورسٹی ملتان پروفیسر ڈاکٹر سید خواجہ علقمہ اور دیگرکے خلا ف ضمنی ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ملزمان پرمبینہ طور پر لاہور میں غیرقانونی طور پر سب کیمپس کھولنے ، بڑے پیمانے پرطلبہ سے کروڑوں روپے کی رقم فیس کی صورت میںوصول کرنے کاالزام ہے۔ سید محمود شاہ اور دیگر کے خلاف انکوائری اور میسرز خورشید سپننگ ملز لمیٹڈ فیصل آباد، اس کے ڈائریکٹرز اور دیگر کے خلاف عدم ثبوت کی بنیاد پر ا نکوائری بند کرنے کی منظوری دی۔چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ نیب کی اولین ترجیح ہے ، بد عنوانی ایک کینسر ہے جسے جڑ سے اکھاڑنا انتہائی ضروری ہے۔ نیب کے افسران بدعنوانی کے خاتمے کو نہ صرف اپنی قومی زمہ داری سمجھتے ہیں بلکہ اپنی بہترین صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے کرپشن فری پاکستان کے لیے بھر پور کاوشےں کررہے ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام شکایات کی جانچ پڑتال ، انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز کو قانون، میرٹ، شفافیت اور ٹھوس شوائد کی بنیا د پر منطقی انجام تک پہنچائی جائیں۔ نیب ’ احتساب سب کےلئے “ کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ نیب کی پہلی اور آخری وابستگی پاکستان اور پاکستان کی عوام سے ہے۔ نیب افسران اپنے فرائض پوری ایمانداری ، دیانت ، میرٹ، شفافیت اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سرانجام دیں اس سلسلہ میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

پاکستان میں سیاسی عہدوں کیلئے ” جنس “ کا استعمال کیا جاتا ہے ، ریحام خان پھٹ پڑیں

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان نے الزام عائد کیا ہے کہ سیاسی عہدوں اور میڈیا کے معاملے میں جن کو استعمال کیا جاتا ہے اور ان میں سے کچھ واقعات کا تعلق تحریک انصاف سے ہی ہے۔ ایک بھارتی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ریحام خان نے کہا کہ انہوں نے یہ سب کچھ اپنی کتاب میں لکھا ہے۔ انہوں نے کتاب میں اقربا پروری کے حوالے سے اخلاقیات کا ذکر کیا اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کے معاملے پر بھی قلم اٹھایا ہے۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ ان کا خصوصیت کے ساتھ عمران خان کے ساتھ تعلق ہے تو انہوں نے کہا کہ جب معاملات آپ کے گھر اور پارٹی میں ہوں تو پھر بالواسطہ طور پر ذمہ داری بھی آپ پر آ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا میں نے کتاب میں بتانے کی کوشش کی ہے کہ وہ اندر سے کیسا انسان ہے۔ جب اس کا میک اپ اتر جاتا ہے اور کیمرے بند ہو جاتے ہیں تو پھر وہ کچھ اور ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا ان کا اسلامی ایجنڈا محض ووٹ حاصل کرنے کیلئے ہے۔ پارٹی میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو گینگ ریپ میں ملوث ہیں جب میں تبدیلی کیلئے ووٹ دوں گی تو مجھے تبدیلی نظر بھی آنی چاہیے۔ ہم نے عمران خان کی یہ سمجھتے ہوئے حمایت کی کہ وہ سٹیٹس کو کے خلاف ہے لیکن ہمیں پتہ چلا کہ وہ تو سٹیٹ کو ایک انتہائی سستا ورشن ہے۔ یہ میرے لیے افسوسناک بات ہے کہ پی ٹی آئی کے مقابلے میں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی صاف ستھری نظر آتی ہیں۔ میرے خیال میں ایسے شخص کے ہاتھوں میں ملک کا اقتدار دے دینا خطرناک ہو گا جو انتہا پسندوں کے ساتھ ہے اور اس کے حامی ایسے لوگ ہیں جو ہمیں انتہا پسند گروپوں میں تقسیم کر دینا چاہتے ہیں۔ ہم ایٹمی طاقت ہیں ہماری فوج پر تنقید کی جاتی ہے مگر ہمارے پاس کبھی مضبوط سیاستدان نہیں رہے اور پالیسیاں بھی اس حوالے سے بنتی ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اقربا پروری اور میرٹ کے برعکس فیور میں عمران خان کا تعلق ہے۔ انہوں نے کہا جب میں عمران خان کی بیوی تھی تو میں نے انہیں کہا کہ میں آئندہ آٹ کو ووٹ نہیں دونگی تو محض مسکرا دیئے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے بارے میں یو ٹرن پارٹی کے مو¿قف کی بھی حمایت کی۔ ریحام خان نے کہا کہ تحریکِ انصاف پی ٹی آئی کوئی تبدیلی نہیں لاسکی۔ پی ٹی آئی میں جنسی بنیادوں پر عہدے حاصل کیے جاتے ہیں۔ ریحام خان کا کہنا تھا کہ میں جانتی ہوں کہ جنسی تشدد کو کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ کس طرح سے جنسی تعلقات کو سیاسی اور میڈیا کے عہدوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک براہ راست تحریکِ انصاف سے بھی منسلک ہے۔ صحافی نے سوال کیا کہ عمران خان خاص طور پر ان میں ذاتی طور پر ملوث ہیں؟ اس پر ریحام خان نے کہا کہ میں یہ سمجھتی ہوں کہ لوگ ذاتی طور پر اپنے گھر اور پارٹی میں ہونے والے واقعات کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ صحافی نے ان سے پوچھا کہ بالواسطہ طور پر یا شاید ہم اس سے بھی آگے کی گفتگو کر رہے ہیں؟ یا جو آپ نے اس کتاب میں لکھا ہے؟ جس کے جواب میں ریحام خان نے کہا کہ ہاں ریحام خان کا کہنا تھا کہ براہ راست طور پر ملوث ہونے، عہدے، اقربا پروری اور احسانات جن کا میرٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے، جس کا اقربا پروری سے تعلق ہے اور جس کا میرٹ کے قتل عام سے تعلق ہے۔ ہاں! میں جنسی تعلقات، جنسی تشدد اور جنسی طور پر ہراساں کرنے اور جن کے بارے میں بات کرنے کہ ضرورت ہے، ان کے بارے میں بات کر رہی ہوں اور یہ چیزیں میں نے کتاب میں بھی لکھی ہیں۔ اس انٹرویو کے بعد ریحام خان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر مختلف ٹویٹس کیں جن میں انہوں نے اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نہیں جانتی کہ ہم ووٹ کس لئے ڈال رہے ہیں۔ اگر ہم کسی کے لئے محض اس لئے ووٹنگ کر رہے ہیں کہ وہ لبرل ہے اور پھر ہم اسے دیکھتے ہیں کہ وہ اسلامی ایجنڈے کو فروغ دے رہا ہے تو ہم کنفیوژ ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ کو پتہ چلتا ہے کہ لوگ حقیقت میں آپ کو مسٹر یوٹرن کہتے ہیں جو کہ میرے لئے بہت پریشان کن ہے کیونکہ یہ میری کتاب کی بہت مشہور لائن ہے جس میں میں نے کہا ہے کہ میں آپ کے لئے اگلے سال آنے والے ایکشن میں ووٹ بھی ڈالوں گی۔ جب میں آپ کی بیوی ہوں اور آپ ہنس دیتے ہیں تو میں سوچ میں پڑ جاتی ہوں۔ عمران خان کی سابق اہلیہ نے کہا کہ جہاں تک اسلامی ایجنڈے کی بات ہے تو یہ اسلامی ایجنڈا نہیں ہے۔ یہ ایسا ایجنڈا ہے جہاں ووٹوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔ اگر آپ ووٹ بینک کا ٹھیک استعمال کرتے ہیں تو صرف اس لئے کہ آپ وزیرِاعظم بن سکیں تو مجھے اس سے مسئلہ ہے۔ اگر آپ کو واقعی اس پر یقین ہے تو میں انفرادی طور پر آپ کو ووٹ نہیں دوں گی لیکن کم سے کم لوگوں کو اس بات کا علم تو ہونا چاہیے۔ ریحام خان کتاب چھاپنے سے کترانے لگیں، بھارتی ٹی وی پر انٹرویو میں کہا کتاب کے پبلشر گورے ہیں اور وہ پاکستانیوں کی طرح نہیں، وقت پر ہی کام کرتے ہیں، مشکل لگتا ہے کہ کتاب انتخابات سے پہلے شائع ہوسکے۔ ریحام خان کی کتاب اشاعت سے پہلے ہی سوالوں کی زد میں آگئی، اہلیہ ریحام خان نے بھارتی میڈیا کو بھی انٹرویو دیدیا۔ گفتگو میں پاکستانیوں پر جا بجا طنز کئے، ساتھ ہی بتادیا کہ کتاب کے ممکنہ پبلشر گورے ہیں۔ یہاں یہ اشارہ بھی دیدیا کہ جو ای میل پبلک ہوئی، وہی اصل مسودہ ہے۔ ریحام نے تسلیم کیا کہ کتاب کی جلد از جلد اشاعت کیلئے دبا ہے مگر انتخابات سے پہلے کتاب کا آنا مشکل لگ رہا ہے۔ عمران خان کی سابق اہلیہ نے پاکستان کی سیاست پر کیچڑ اچھالا، کہا کہ یہاں کی سیاست میں جنسی استحصال عام ہے۔ ریحام خان نے کہا ہے کہ میری کتاب میں ایک بلیک بیری کا ذکر ہے اور تحریک انصاف اسی سے خوفزدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوشش ہے کہ کتاب انتخابات سے پہلے شائع ہو، کتاب پر ‘رائیونڈ کنکشن’ کا الزام لگایا ہے تو ثبوت بھی لائیں۔ ریحام خان نے کہا کہ پارٹی ترجمان فواد چوہدری کی پریس کانفرنس پر توجہ نہیں دینی چاہیے، کسی کو حق نہیں کہ مجھے وارننگ دے، میں کسی کی عزت نہیں اچھال رہی، یہ خود باتیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی کے کندھے پر بندوق رکھ کر کتاب نہیں لکھ رہی، میرے پاس ای میلز بھی ہیں اور شواہد بھی موجود ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ تردید میں تب کروں جب میں نے کوئی بیان دیا ہو، تردید تو پی ٹی آئی کو کرنی چاہیے، یہ کتاب حمزہ عباسی کی سوشل میڈیا پر ہے وہ تردید کریں۔ ریحام خان نے واضح کیا کہ میرے پیچھے کوئی مغربی قوت اور سیاسی جماعت نہیں ہے، میں کسی کی عزت نہیں اچھال رہی یہ خود باتیں کر رہے ہیں، میں جوابدہ نہیں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ وہ بڑی جماعت ہے، لیکن میں نہیں سمجھتی۔ عمران خان کی سابق اہلیہ نے کہا کہ میری کتاب جب شائع ہو جائے پھر جس کو جو کہنا ہے کہے۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے کافی لوگ میرے ساتھ رابطے میں ہیں، بہت لڑکیاں جو پارٹی میں خود کو محفوظ نہیں سمجھتیں رابطہ کرتی ہیں۔ ریحام خان نے کہا کہ لیگل نوٹس میں احسن اقبال کا کوئی تذکرہ نہیں، ان سے ملاقات کا اتفاق نہیں ہوا تو مریم نواز سے کیسے ہو سکتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کس بات سے ڈر رہے ہیں،مجھے چپ کیوں کرا رہے ہیں؟ جہاں تک ہو سکا میں ان مافیا کیخلاف لڑوں گی۔ انٹرویو کے دوران ریحام خان نے کہا کہ عمران خان نے پچھلے 5 سال میں خیبر پختونخوا میں کچھ نہیں کیا، میں اس مرتبہ تحریک انصاف کو ووٹ نہیں دوں گی۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی دوسروں سے مختلف ہونے کا دعوی کرےتو اس سے زیادہ توقعات ہوتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے 11 اضلاع میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹ حال ہی میں بند کر دیئےگئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کے نظریات اب تک غیر واضح ہیں،حالیہ یو ٹرن سے بھی یہ واضح ہے۔

کتاب شائع ہوئی تو ۔۔۔عمران خان کی سابق اہلیہ بھی ریحا م خان کیخلاف میدان میں آ گئیں ، چونکا دینے والا اعلان

لندن (نیٹ نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان کی کتاب کے چرچے اس وقت ہر طرف ہیں اور مبینہ مسودے میں لگائے گئے الزامات کے پیش نظر وسیم اکرم ،زلفی بخاری ، انیلہ خواجہ انہیں قانونی نوٹس بھجوا چکے ہیں تاہم اب جمائمہ گولڈ سمتھ بھی میدان میں آ گئیں اور انہوں نے بڑا اعلان کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق جمائمہ نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ریحام خان کی کتاب برطانیہ میں شائع ہونے کے قابل نہیں ہے اور یقین ہے کہ ایسی کتاب برطانیہ میں شائع نہیں ہو سکتی اگر ریحام خان کی کتاب برطانیہ میں شائع ہوئی تو اپنے 16 سال کے بیٹے کے توسط سے ہرجانے کا دعویٰ دائر کروں گی اور نجی زندگی میں دخل اندازی کا مقدمہ درج کرواﺅں گی۔

پروفیسر حسن عسکری نگران وزیراعلیٰ پنجاب مقرر

اسلام آباد( ویب ڈیسک ) پروفیسر حسن عسکری کو نگران وزیراعلیٰ پنجاب مقرر کردیا گیا۔واضح رہے کہ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کی پارلیمانی کمیٹی میں اتفاق رائے نہ ہونے پر یہ معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیجا گیا تھا۔نگران وزیراعلیٰ کے لیے اسپیکر پنجاب اسمبلی نے چار نام الیکشن کمیشن کو بھیجے تھے، جن میں تحلیل شدہ صوبائی حکومت کی جانب سے ایڈمرل (ر) ذکاءاللہ اور جسٹس (ر) سائر علی جبکہ اپوزیشن کی جانب سے پروفیسر حسن عسکری اور ایاز امیر کے نام شامل تھے۔اس سلسلے میں آج چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار رضا کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں الیکشن کمیشن کے چاروں ممبران بھی شریک ہوئے۔باہمی مشاورت کے بعد الیکشن کمیشن حکام نے نگران وزیراعلیٰ پنجاب کے طور پر پروفیسر حسن عسکری کے نام کا اعلان کردیا۔پروفیسر حسن عسکری کون ہیں؟پروفیسر حسن عسکری ایک نامور پروفیسر اور مستند کالم نگار ہیں۔انہوں نے 1980 میں یونیورسٹی آف پنسلوانیا سے پی ایچ ڈی کیا، جہاں انہیں فل برائٹ اسکالر شپ دی گئی۔پروفیسر حسن عسکری پنجاب یونیورسٹی میں پولیٹکل سائنس کے پروفیسر رہ چکے ہیں اور تعلیم اور ریسرچ کے شعبے میں اہم تجربہ رکھتے ہیں۔انہیں جنوبی ایشیا، خارجہ پالیسی اور سیکیورٹی امور پر خصوصی دسترس حاصل ہے۔پروفیسر حسن عسکری نے پاکستان میں جمہوریت اور سیاست پر کئی کتب لکھی ہیں، ان کی اکثر تصانیف کا موضوع سول ملٹری تعلقات رہا ہے۔پروفیسر حسن عسکری اخبارات اور جرائد میں آرٹیکل بھی لکھتے رہے ہیں۔23 مارچ 2010 کو صدر پاکستان نے انہیں ستارہ امتیاز سے بھی نوازا تھا۔

پولیس کی ناقص کارکردگی سے 18 ہزار اشتہاری لاہور میں دندنانے لگے ” خبریں “ میں حقائق سامنے آ گئے

لاہور (شعیب بھٹی )لاہور پولیس کی ناقص کارکردگی یااشتہاریوں کے لیے نرم گوشہ ، دہشت گردی ، قتل ،اغوا، ڈکیتی ،راہزنی اورذےا دتی جیسے سنگین مقدمات میں ملوث 18ہزار8سو سے زائد اشتہاری ملزمان شہر میں دندنانے لگے۔ شہریوں کے لئے تھانیدار بننے اور ناکوں پر شہریوں کو ناکوں چنے چبوانے والی لاہور پولیس اشتہاریوں کے خلاف مکمل ناکام ہوگئی۔معلوم ہواہے کہ نہتے شہریوں کو قانون سکھانے والی لاہور پولیس اشتہاریوں کے سامنے بے بس ہوچکی ہے۔اور دہشت گردی ، قتل ،اغوا، ڈکیتی ،راہزنی اور ذےا دتی جیسے سنگین مقدمات میں ملوث 18ہزار8سو سے زائد اشتہاری ملزمان شہر میں جگہ جگہ لگائے جانے والے پولیس ناکوں کے باوجوددندناتے پھرتے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ شہر میں اشتہاریوں کی مجموعی تعداد 24ہزار 6سو سے زائد تھی۔ جس میں سے باوجود کوشش کے ، لاہور پولیس 5ہزار 8سو سے زائد ملزمان گرفتار نہیں کرسکی۔باخبر ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ شہر کے 90فیصد اشتہاری ملزمان کے تمام کوائف ،ان کی نقل و حرکت اور موجودگی کی اطلاعات سے متعلقہ پولیس اور خصوصاً سی آئی اے، آپرےشن پو لیس اور انو ےسٹی گےشن پولیس بخوبی آگاہ ہوتی ہے۔اور جب چاہے اشتہاری ملزمان کو گرفتار کرسکتی ہے۔ لیکن دانستاً ایسا نہیں کرتی۔اور ایسے ملزمان کو اپنے مذموم مقا صد کے لیے استعمال کرتی ہے۔اورمعمول میں صرف ایسے اشتہاری ملزمان کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ جومزید جرائم میں ملوث نہیں ہوتے یاکسی کام کے نہیں ہوتے۔اس حوالے سے پو لیس حکام کا کہنا ہے کہ اشتہارےو ں کے خلا ف کرےک ڈاﺅن جا ر ی ہے بےرو ن مما لک فرا ر ہو ئے بھی اشتہا رےو ں کو انٹر پو ل کے زرےعے گرفتا ر کر لےا گےا ہے ۔

غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ پر حکومت سے جواب طلب

لاہور (کور ٹ رپورٹر) بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے نگراں وزیراعظم جسٹس(ر)ناصرالملک کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرد ی۔نگراں وزیراعظم جسٹس(ر)ناصرالملک کیخلاف دائر درخواست میں بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے مو¿قف اختیار کیا گیا کہ نگراں وزیراعظم نے سوات دورے پر قومی خزانے سے اخراجات اداکیے جبکہ یہ ایک نجی اور ذاتی دورہ تھا اور آئین نگران وزیراعظم کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا،ان کا مزید کہنا تھا کہ نگراں وزیراعظم نے ذاتی امور کے لئے پروٹوکول بھی استعمال کیا اور انہوں نے اپنے اختیارات سے تجاوزکیاہے ،درخواست دائر ہونے پر لاہورہائیکورٹ کے رجسٹرارآفس نے کمپیوٹرپرنٹ شدہ درخواست نہ ہونےکااعتراض عائد کر دیا جس پر درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت پروٹوکول کے معاملے کانوٹس لے اوراضافی اخراجات واپس لینے کاحکم دے۔ جسٹس مامون الرشید شیخ نے درخواست پر سماعت کی اور درخواست گزار کی استدعا منطور کرتے ہوئے رجسٹرار آفس کا اعتراض ختم کر دیا۔ ہائی کورٹ نے رمضان المبارک میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے لیے متفرق درخواست پر وفاقی حکومت اور وزرات پانی و بجلی سے دوہفتوں تک جواب طلب کرلیا۔مسٹر جسٹس شاہد کریم نے مقامی وکیل اظہرصدیق کی درخواست پر سماعت کی ،درخواست گزار نے مو¿قف اختیار کیاکہ بجلی کی اعلانیہ اور غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف درخواست زیر سماعت ہے ،عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر رکھا ہے ،ایسے میں سیاسی بنیادوں پر رمضان کے تقدس کو پامال کیاجا رہا ہے۔ درخواست گزار نے استدعاکی کہ عدالت غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا نوٹس لے اوررمضان المبارک میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا حکم دے جس پر وفاقی حکومت اور وزرات پانی و بجلی سے دوہفتوں تک جواب طلب کرلیا۔ ہائی کورٹ نے رمضان المبارک میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے لیے متفرق درخواست پر وفاقی حکومت اور وزرات پانی و بجلی سے دوہفتوں تک جواب طلب کرلیا۔ہائیکورٹ نے الیکشن شیڈول کے جاری ہونے پرحلقہ بندی کیخلاف درخواستوں کو ناقابل سماعت قراردےکرمستردکر دیا۔جسٹس شاہد کریم نے مسلم لیگ نون کے سابق رکن پنجاب اسمبلی کرم الٰہی بندیال کی درخواست پرسماعت کی جس میں الیکشن کمیشن کی جانب سےحلقہ بندیوں کو چیلنج کیا گیاتھا، درخواست میں اعتراض اٹھایا گیا کہ الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کے بارے ان کےاعتراضات کوسنے بغیرفیصلہ سنایا اور الیکشن کمیشن نے انتخابی حلقے کی جغرافیائی حدود کا خیال بھی نہیں رکھا۔ عدالت نے فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد نیا الیکشن شیڈول کے جاری ہونے پر حلقہ بندی کے خلاف درخواستیں مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ حلقہ بندیوں کے خلاف درخواستوں پر سماعت کرنے انتخابی عمل متاثر ہو گا۔

ڈیم نہ بننے پر سراج الحق بھی برہم ، کھری کھری سنا دیں

لاہور (اےن اےن آئی) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ ملک بھر میں بدترین لوڈشیڈنگ جاری ہے ، لوگ تڑپ رہے ہیں ، سحری اور افطاری کے وقت روزہ داروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرناپڑتاہے ، سابقہ حکمران بڑی ڈھٹائی سے کہہ رہے ہیں کہ لوڈشیڈنگ کے وہ ذمہ دار نہیں ہیں ، عبوری حکومت اس کی ذمہ دار ہے ،ان کی اس بات سے ان کے کھوکھلی ترقی کے دعوے عوام کے سامنے آگئے ہیں، کیا وہ بجلی ساتھ لے گئے ہیں ابھی تو انہیں گئے ہوئے ایک ہفتہ بھی نہیں ہوا ، ستر سال میں ڈیم نہ بننے کی وجہ سے ملک میں پانی کی قلت کے ساتھ ساتھ توانائی کی بھی شدید کمی واقع ہوگئی ہے جس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑرہاہے ، حکمرانوں کے ذاتی ایجنڈے کی وجہ سے ملک میں دیر پا ترقی کا کوئی منصوبہ نہیں بن سکا ، ایم ایم اے نے اپنا منشور قوم کے سامنے رکھ دیاہے جس میں عام آدمی کی محرومیوں اور پریشانی کو دورکرنے کا ایک واضح روڈ میپ موجود ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے منصورہ میں مختلف وفود سے ملاقاتوں کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے دیگر قدرتی وسائل کے ساتھ ساتھ پاکستان کو وافر پانی کی نعمت سے بھی نوازا ہے مگر پانی کے ذخائر تعمیر نہ کر کے حکمرانوں نے ملک کے مستقبل کو داﺅ پر لگا دیاہے ۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان میں دو لاکھ پچاس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش ہے جس کی باقاعدہ فزیبلٹی رپورٹیں موجود ہیں ۔ حکمرانوں نے محض کمیشن خوری کے لیے بجلی کی پیداوار کا انحصار تیل اور گیس پر رکھا ۔ ہائیڈل پاور میں چونکہ کمیشن نہیں ، اس لیے فزیبلٹی ہونے کے باوجود سستی بجلی پیدا کرنے کے پاور اسٹیشن قائم نہیں کیے گئے اور نہ ڈیم تعمیر کیے گئے ۔ انہوں نے کہاکہ ایم ایم اے توانائی کے بحران کو ختم کرکے عوام کو سستی بجلی فراہم کرے گی اور اس مقصد کے لیے قومی اتفاق رائے سے نئے ڈیم تعمیر کیے جائیں گے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ متحدہ مجلس عمل غریب عوام کے لیے ترقی کے دروازے کھولے گی ۔ ایم ایم اے کے منشور میں عام آدمی کے مسائل کا حل موجود ہے ۔ ہم اہل اور دیانتدار لوگوں کو ٹکٹ دے رہے ہیں ۔ گزشتہ حکومتوں نے فرد کو ترقی نہیں دی ۔ عام پاکستانیوں کے لیے ترقی کا پہیہ جام ہے جبکہ ایک مخصوص لابی کے وارے نیارے ہیں ۔ ان کی ہر حکومت میں پانچوں انگلیاں گھی میں ہوتی ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ظالم جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے ہاں تو غلام سیاست اور غلام جمہوریت سرکس کا ایک کھیل بن چکاہے ا ور وہ سیاست اور جمہوریت کو اپنے گھر کو لونڈی بنا کر رکھنا چاہتے ہیں ۔ یہ خود کو فرعون اور عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں اس لیے ان کے ہاں یہ تصور بھی موجود نہیں کہ عام آدمی ان کے مقابل کھڑا ہو اور اس کے لیے بھی اقتدار اور ترقی کے دروازے کھلیں ۔

جلدی کر لیں کیونکہ کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا کل آخری دن ہے

لاہور (خبر نگار، خبریں رپورٹر) عام انتخابات کیلئے امیدواروں کی طرف سے کاغذات نامزدگی کی وصولی اور جمع کرانے کا سلسلہ تیسرے روز بھی جاری رہا اور کل بروز (جمعہ) کے روز کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا آخری دن ہے،جنرل الیکشن 2018 کی تیاری زور و شور سے جاری ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کی جانب سے کاغذاتِ نامزدگی لینے اور جمع کرانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ صوبائی ا سمبلی کے لیے 500 سے زائد امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی حاصل کیے۔ دوسری جانب ڈاکٹر یاسمین راشد نے این اے 125 میں مریم نواز کی جانب سے کروائے جانے والے ترقیاتی کاموں کے خلاف اعتراض دائر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے الیکشن کے نتائج اثر انداز ہوسکتے ہیں۔اس مرتبہ خواجہ سرا بھی انتخابی میدان میں اترنے کو تیار ہیں خواجہ سرا نیلی رانا نے پنجاب کی مخصوص نشست کے لیے کاغذاتِ نامزدگی حاصل کرلیے۔مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد محمد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے دو حلقوں سے کاغذات نامزدگی حاصل کر لئے۔تفصیلات کے مطابق عام انتخابات میں حصہ لینے کے خواہشمند امیدواروں کی جانب سے کاغذات نامزدگی کی وصولی اور جمع کرانے کا سلسلہ گزشتہ روز بھی جاری رہا۔جمعہ کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا آخری روز ہے اور الیکشن کمیشن اسی روز امیدواروں کی ابتدائی فہرست جاری کرے گا۔گزشتہ روز بھی مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں سے وابستگی رکھنے والے اور آزاد امیدواروںنے کاغذات نامزدگی وصول اور جمع بھی کرائے۔ سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن)کے تاحیات قائد کی صاحبزادی مریم نواز نے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے لیے لاہور کے حلقہ این اے 125 اور این اے 127 سے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے۔مریم نواز نے حلقہ این اے 125 کے لیے ریٹرننگ آفیسر آصف بشیر سے کاغذات نامزدگی حاصل کیے جبکہ حلقہ این اے 127 کے لیے مریم نواز نے عظیم خان کی وساطت سے کاغذات نامزدگی ریٹرننگ آفیسر گل نواز سے حاصل کیے۔این اے 129سے خواجہ سلمان رفیق اور خواجہ سعد رفیق نے نامزدگی فارم حاصل کرلیا جبکہ دونوں بھائیوں نے این اے 131سے بھی نامزدگی فارم حاصل کر رکھے ہیں۔این اے 130سے لیگی رہنما محمد سرور نے کاغذات نامزدگی حاصل کئے۔ دوسری جانب پی پی 151سے الیکشن میں حصہ لینے والے 125امیدواروں نے فارم حاصل کرلئے ہیں ۔ جبکہ قومی اسمبلی کی 14نشستوں کےلئے 50 سے زائد امیدوار نے فارم نامزدگی حاصل کئے ہیں۔ فارم نامزدگی حاصل کرنے والی لیگی کونسلر صبا عروج نے پی پی 159کےلئے ،پیپلز پارٹی کے شکیل احمد پاشا نے پی پی 160،تحریک لبیک کے سید سجاد حسین نے پی پی 157،تحریک لبیک کے مہر محمد قاسم نے پی پی 154،تحریک لبیک کے محمد علی نے پی پی 156،تحریک لبیک کے مفتی خضر اسلام نے پی پی 157،پی پی 151سے لیگی امیدوار ملک فیصل ،پی پی 151سے طاہر محمود ،یاور حسین شامل ہیں ۔ڈسڑکٹ ریٹرنگ آفیسر نے امیدواروں کی طرف سے دائر اعتراضات مسترد کرتے ہوئے لاہور کی ووٹر لسٹ آئندہ ہفتے طلب کر لی ہے۔عابد حسین قریشی نے کہا کہ امیدوار ووٹر کے بارے میں اعتراض دائر نہیں کرسکتے صرف متاثرہ ووٹر ہی اعتراض دائر کرسکتا ہے ۔این اے 134سے رانا مبشر ،136سے میاں آصف نے اعتراض دائر کر دیا جبکہ این اے 136سے غلام فاروق،132سے محمد یوسف نے اعتراض دائر کیا کہ 151اور 126 کے حلقوںمیں پولنگ سٹیشن ٹھیک جگہوں پر نہیں بنائے گئے ہیں ووٹر کا پولنگ سٹیشن میں داخلؒ ہونا مشکل ہے ۔

کس نے سیاستدانوں کو پیسے دئیے ، جاوید ہاشمی نے پول کھول دیا

اسلام آباد  (صباح نیوز) بزرگ سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے ملک کی انٹیلی جنس ایجنسی پر اصغر خان کیس میں پیسے دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خفیہ ہاتھ ہمیشہ سیاست دانوںکو استعمال کر کے پھینک دیتے ہیں،میں نے پانچ سال نیب کی عدالت میں کیس بھگت کر اس الزام کو کلیئر کیا ۔ اصغر خان عملدرآمد کیس میں پیشی کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جاوید ہاشمی نے کہا کہ مجھے سپریم کورٹ میں پیشی کا نوٹس ملا اس لیے حاضرہوا، وکیل بھی بھیج سکتا تھا مگر عدلیہ کے احترام میں خود پیش ہوا۔انہوں نے کہا کہ الزام لگایا گیا کہ اصغر خان کیس میں آئی ایس آئی نے سیاست دانوں کو پیسہ دیئے، ہم الزام لگائیں تو کہتے ہیں ملک دشمن ہیں، اگر آئی ایس آئی ملوث ہے تو اسکا جواب انہوں نے خود دینا ہے۔جاوید ہاشمی نے کہ مجھے جیل میں ڈالا گیا ایف ائی اے نے تحقیقات کیں، میرا نام کہاں سے آیا، کیسے آیا، پھر بھی پانچ سال سزا بھگتی، میرا نام پیپلز پارٹی نے اس کیس میں ڈالا تھا۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ کے سامنے آج بھی کھڑا ہو کر کہا میں حاضر ہوں، یہ جھوٹا الزام ہے اسکو غلط ثابت کرنے کے لیے یہاں آیا ہوں، جو لوگ پورے ملک میں آپکی جنگ لڑ رہے ہیں وہ ایسا کام کیوں کریں گے۔جاوید ہاشمی نے کہا کہ اس ملک میں الیکشن میں دھاندلی ہوتی رہی ہے، یہ نواز شریف کا کام نہیں، خفیہ ہاتھ ہمیشہ سیاست دانوں کواستعمال کر کے پھینک دیتے ہیں۔

ملک بھر میں یوم شہادت علیؑ مذہبی عقیدت و احترام سے منایا گیا ، مجالس سے نامور علماءکا خطاب

لاہور  (کرائم رپورٹر) یوم شہادت حضرت علی ؑکے موقع پر سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات ،جلوس کے روٹ پرموبائل سروس بند رہی، مرکزی جلوس کے روٹ پر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری تعینات رہی۔ روٹ پر کسی بھی غیرمتعلقہ شخص کو بغیر تمام چیک پوائنٹس سے کلیئر ہوئے داخل ہوئے‘ داخل نہیں ہونے دیا گیا ، اہم عمارت پر سپیشل کمانڈوزاور سنائپرزجبکہ جلوس کے آغاز سے اختتام تک ڈولفن سکواڈ اور پولیس رسپانس یونٹ روٹ کے چاروں اطراف تعینات رہے۔ سیف سٹی اتھارٹی کے کیمروں سمیت اضافی کیمروں کی مدد سے بھی پورے روٹ کو مانیٹرکیاجاتا رہا، میٹروٹریک گجومتہ سے ایم اے او کالج تک محدود رہا ،ریسکیو 1122اور ایدھی فاﺅنڈیشن کی ایمبولینسز اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں الرٹ رہیں جبکہ عزاداروں کی مرہم پٹی کیلئے امدادی کیمپ بھی لگائے گئے۔بتایا گیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت میں یوم شہادت حضرت علی عقیدواحترام سے منایا گیا اور اس موقع پر شہر بھر میں مجالس اور ماتمی جلوسوں کا اہتام کیا گیا ہے ۔ یوم شہادت حضرت علی ؑ کا شبیہ ضریہ مبارک مرکزی جلوس اندرون موچی دروازہ مبارک حویلی سے صبح نو بجے برآمد ہوا جو اپنے مقر ر کردہ راستوں چوٹا مفتی باقر ،چوک نواب صاحب ، محلہ شیعاں ،گجر گلی اندرون دہلی دروازہ پانی والے تلاب ، رنگ محل پہنچا جہاں جلوس کے شرکاءنے نماز ظہر چوک رنگ محل میں ادا کی جس کے بعد یہ مرکزی جلوس پھر سے اپنے روائتی راستوں ٹبی سٹی اندرون تحصل بازار،بازار حکیماں سے ہو تے ہو ئے اندرون بھاٹی گیٹ اوراندرون بھاٹی گیٹ سے نکل کر بھاٹی چوک اور پھر افطار کے وقت کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختیام پذیر ہو گیا۔مرکزی جلوس کے علاوہ یوم شہادت حضرت علی ؑ کے موقع پر شہر کے مختلف علاقوںمیںواقع امام بارگاہوں میں بھی مجالس اور ماتمی جلوس برآمد ہوئے جن میںامام بارگاہ زیدی ہاوس شاہ جمال،امام بارگاہ بیت الحزان سمن آباد ، امام بارگاہ پانڈو سٹریٹ کرشن نگر،علی رضا آباد ٹھوکر نیاز بیگ، مغل پورہ، ساندہ ، اقبال ٹاﺅن ، وحدت روڈ غازی آباد ، ایبٹ روڈ نشاط کالونی کینٹ اورحالی مسجدوامام بارگاہ گلبرگ سمیت دیگر شامل ہیں ۔یوم شہادت حضرت علی ؑ کے موقع پر لاہور پولیس کی جانب سے مرکزی جلوس سمیت شہر بھر کی امام بارگاہوں ان میں منعقد ہونے والے جلوس اور محافلوں کو فول پروف سکیورٹی فراہم کی گئی جبکہ ٹریفک پولیس نے بھی متبادل راستوں کیلئے ڈائیوشن وغیرہ لگا کر ٹریفک کی روانی کو روزے کی حالت میں بھی احسن طریقے سے معمول کے مطابق رکھا ۔دوسری جانب میٹرو بس سروس کو بھی جلوس کربلا گامے شاہ داخل ہونے تک گجومتہ سے ایم اے او کالج تک محدود رکھا گیا۔اس موقع جلوس کے روٹ پر کسی کو بھی بغیر تمام سکیورٹی چیک پوائنٹس اور جامع تلاشی کے داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ روٹ پر واقع اُونچی عمارتوں پر سنائپرز تعینات رہے اور جلوس کے روٹ پر جلوس کی آمد سے اختتام تک پی آر یو اور ڈولفن سکواڈ کی جانب سے مسلسل گشت کا سلسلہ جاری رکھا جبکہ جلوس کے روٹ پر موبائل فون سروس بھی بند رہی ۔ مرکزی جلوس کے راستوں پر ایدھی فاﺅنڈیشن اور ریسکیو 1122کی ایمبولینسز الرٹ کھڑی رہیں جبکہ قائم کیئے گئے طبی کیمپس میں شدید زخمی ہونے والے عزاداروں کی مرہم پٹی بھی کی جاتی رہے ۔

مے ویدرسب سے زیادہ کمائی کرنیوالے ایتھلیٹ

نیویارک(آئی این پی)امریکا کے بزنس میگزین فوربز نے سب سے زیادہ کمائی کرنے والے 100ایتھلیٹس کی سالانہ رینکنگ جاری کردی جس کے مطابق امریکی باکسر فلائڈ مے ویدر 375ملین ڈالر سالانہ آمدنی کے ساتھ سرفہرست ہیں۔فوربز میگزین کی سالانہ رینکنگ میں پہلی مرتبہ کوئی خاتون شامل نہیں اور امریکی باکسر مے ویدر یکم جون 2017سے یکم جون 2018تک کے دوران 375ملین ڈالر کے ساتھ سب سے زیادہ کمائی کرنے والے ایتھلیٹس قرار پائے ہیں۔ارجنٹائن کے اسٹار فٹبالر لیونل میسی 146ملین ڈالر کے ساتھ دوسرے اور پرتگال کے کرسٹیانو رونالڈو 142 ملین ڈالر کما کر سال کے تیسرے سب سے زیادہ کمائی کرنے والے ایتھلیٹس قرار پائے ہیں۔سب سے کمائی کرنے والے ابتدائی 10 ایتھلیٹس میں برازیلین فٹبالر نیمار، ٹینس اسٹار راجر فیڈر، باسکٹ بال کے اسٹار لیبرون جیمز اور اسٹیون کیوری اور این ایف ایل کے میٹ ریان اور میتھیو اسٹیفورڈ بھی شامل ہیں۔فہرست میں کرکٹ کی نمائندگی بھارتی کپتان ویرات کوہلی کر رہے ہیں جو 31.5 ملین ڈالر سالانہ آمدنی کے ساتھ 83ویں نمبر پر ہیں۔رواں سال آسٹریلیا کی جانب سے کسی ایتھیلیٹ نے اس فہرست میں جگہ نہیں بنائی اور کسی بھی ملک کی کوئی بھی خاتون ایتھلیٹس اس سال اس فہرست میں جگہ نہ بناسکی۔ فوربز کی رپورٹ کے مطابق 100 ٹاپ ایتھیلیٹس میں 22 ممالک کے کھلاڑی شامل ہیں جس میں سے امریکا 66 ایتھیلیٹس کے ساتھ سرفہرست ہے جب کہ برطانیہ کے 5، اسپین اور ڈومینیکن ریپبلکن کے 3،3 ، ارجنٹینا،برازیل، فرانس، جاپان اور وینزویلا کے 2،2 ایتھیلیٹس فہرست میں شامل ہیں۔