لگتاہے خواجہ حارث کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ، کیس لٹکانے کا حربہ ہے : ضیا شاہد ، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ نوازشریف کہہ رہے ہیں کہ جن ججوں نے نااہل کیا انہیںکٹہرے میں لاﺅں گا، عمران کو اپنی کتاب کی تقریب میں واضح کر دیا تھا کہ نئے شامل لوگوں کو ٹکٹ دو گے تو پرانے کارکنوں کی ناراضی یقینی : تجزیہ کار کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ ‘ ‘ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ میں ہمیشہ ہمیشہ کہتا ہوں کہ نوازشریف ملزم ہیں جب تک ان پر الزامات ثابت نہیں ہو جاتے ایک صورت یہ ہے کہ احتساب عدالت یہ کہے کہ لندن فلیٹس کے حوالے الزامات ثابت ہوئے اور نوازشریف اور ان کی صاحبزادی اور ان کے بیٹوں کو بری کیا جاتا ہے۔ مجھے تو خوشی ہو گی کہ وہ بری ہو جائیں لیکن اگر وہ بری نہیں ہوتے اور کوئی بھی عدالت ان کو سزا دیتی ہے تو سزا آنے کے بعد وہ مجرم بن جاتے ہیں اور مجھے دکھ تو ہو گا۔ پھر جتنا جی چاہے ہم کہیں کہ ہم ان کو نہیں مانتے فیصلوں کو اور نواز شریف صاحب نے بھی کہا تھا کہ یہ جو پانچ جج ہیں جنہوں نے یہ حرکت کی ہے کہ مجھے نااہل کیا ہے میں ان کو کٹہرے میں لاﺅں گا۔ اگر اس طرح ہونے لگے تو مجھے اچھی طرح سے یاد ہے میں یحییٰ بختیار سے جو جناب بھٹو کا کیس لڑ رہے تھے کیس ہار گئے وہ لیکن میں یحییٰ بختیار کی زبان سے یہ نہیں سنا کہ کیس بھی کیا تھا سزائے موت کا کیس تھا نوازشریف پر تو مالی بدعنوانی کا کیس ہے اس کی سزا تو زیادہ 7,5 سال ہو گی اور لیکن اس کی سزا تو موت تھی بعد میں سزا تو ہو گئی۔ تو میں سمجھتا ہوں کہ اس سلسلے میں جنہوں نے جتنا بھی انہوں نے احتجاج کیا ظاہر ہے پارٹی تھی اس کو اس بات پر دکھ بھی ہوا ہو گا افسوس بھی ہوا ہو گا۔ لیکن میں نہیں سمجھتا کہ اس قسم کی فضا کی ضرورت پیش آئی ہو۔ نوازشریف نے لاہور ہائی کورٹ میں خود بھی جاتا رہا جسٹس مولوی مشتاق حسین اس وقت چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ تھے جنہوں نے یہ فیصلہ لکھوایا یہ فیصلہ جسٹس آفتاب حسین نے لکھا تھا جو کرائم کے سپیشلسٹ تھے اور جب یہ فیصلہ آ گیا کہ بھٹو کو سزائے موت دی جاتی ہے تو اس کے خلاف اپیل ہوتی ہے جو بندہ سپریم کورٹ میں پیش نہیں ہوتا حالانکہ بھٹو صاحب کو تو موقع دیا گیا تھا لیکن فائل جاتی ہے سپرریم کورٹ تک عام طور پر جو ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیل جو ہوتی ہے وہ مجلد شکل میں جو دلائل ہوں ان کے سامنے پیش ہوتی ہے۔ ہر جج صاحبان کے سامنے جو وکیل صفائی ہوتے ہیں ان کو بھی پورا موقع دیا جاتا ہے۔ یہ کوئی نئی تاریخ پاکستان میں رقم ہو رہی ہے جس کو سزا ہوتی ہے وہ کہتا ہے میں جج کو نہیں مانتا۔ اچھا دوسرا کہتا ہے ہم سے انصاف نہیں ہو رہا۔ اگر ان کے حق میں ہو جائے تو انصاف ہو رہا ہے گویا اپنی مرضی کا فیصلہ لینے کی خواہش ہوتی ہے۔ ہمارے ملک میں بعض سیاستدان عادی ہو چکے ہیں کہ انہوں نے کیس دیکھا ہی نہیں تھا کہ کبھی عدالت بھی ان کے خلاف فیصلہ دے سکتی ہے لہٰذا وہ ذہنی طور پر بڑے ڈسٹرب ہوتے ہیں۔ اور پھر جو ان کے جی میں آتا ہے کہہ ڈالتے ہیں۔ خود کو قانون کا ماہر نہیں سمجھتا۔ البتہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ نوازشریف کے وکیل کے پاس اب شاید کچھ کہنے کو رہا نہیں اور پچھلی کئی تاریخوں سے میں خواجہ حارث کے والد جو تھے خواجہ سلطان احمد ان کا نام تھا بڑی دلچسپ بات ہے کہ یہ میرے اور پاکستان کے بہت سے لوگوں کے پسندیدہ بہترین میوزک ڈائریکٹر خواجہ خورشید انور کے جو سگے بھائی خواجہ سلطان احمد کے صاحبزادے ہیں ان کی فیملی لاہور میں بڑی معتبر سمجھی جاتی ہے لاہور میں اور خواجہ خورشید انور نے بھی گورنمنٹ کالج لاہور سے پاکستان بننے سے پہلے ایم اے کیا تھا اس کے بعد وہ ممبئی کی فلم انڈسٹری میں گئے تھے۔ اور پہلی فلم ”کڑمائی“ تھی ان کی۔ پاکستان بننے کے بعد ان کی ٹاپ کی فلمیں تھیںنور جہاں سے انہوں نے بڑے زبردست گانے گوائے جیسے انتظار، جھومر اور چنگاری کے اور اس قسم کی فلموں مثال کے طور پر ”کوئل“ کے یہ بڑے پڑھے لکھے لوگوں کی فیملی ہے لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ جو حالات نظر آ رہے ہیں پچھلی کئی پیشیوں سے جو کچھ ان کے پاس تھا وہ کہہ چکے ہیں اب ری بیٹ ہو رہا تھا سب کچھ اب انہوں نے یہ کہہ دیا۔ اس سے وہ وقت بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں آپ کو پتہ ہے چیف جسٹس سپریم کورٹ کہہ چکے ہیں کہ ایک ماہ کے اندر اندر لوگوں کو بڑا انتظار کر کے تو ایک ماہ کے اندر فیصلہ دیں۔ بڑا آسان کام ہے پہلے وکیل انکار کر گئے۔ اگلے وکیل کا کہیں نواز شریف کا کہ میں سوچ رہا ہوں۔ اور وہ ہفتہ دس دن اس میں گزار لیں گے۔ پھر دوسرا وکیل آئے گا کہے گا مجھے کچھ بحث کے لئے وقت دیں میں نے پچھلی ساری کارروائی پڑھنی ہے ایک مہینہ تو اس میں لکھ جائے گا۔
ضیا شاہد نے کہا الیکشن کی سیٹوں میں ردوبدل کی کسی کو کہاں سے لڑانا ہے یہ ہر پارٹی کو حق حاصل ہے۔ البتہ میں یہ کہوں گا کہ جب کسی چیز کی انتہا ہو جائے تو پھر فیصلے قدرت کے ہاتھ میں چلے جاتے ہیں۔ مجھے عمران خان کی ایک ہی بات پسند آئی۔ میں نے کہا جس دن رائل پام میں میری کتاب کا فنگشن تھا مجھے ان کی تقریر بڑی پسند آئی۔ ہمیشہ ان کا طریقہ کار واردات ہوتا تھا کہ ہر تقریر میں 10,8 نئے الزامات لگاتے تھے۔ یہ ٹکٹیں تقسیم کرنے کا عرصہ تو بہت بعد میں آیا میں نے کہاتھا کہ عمران آپ کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ جو لوگ جوق در جوق آپ کی پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں اب مشکل ہو جائے گا کہ آپ پرانے محنتی کارکنوں جنہوں نے قربانیاں دی ہیں ان کو رکھیں یا جس نے کل تک دوسرا جھنڈا لگایا ہوا تھا اور وزارت کے بھی مزے لوٹے اور سفارتوں کے بھی لوٹے کہ جیتنے والے امیدوار کے طور پر تو یہی فارمولا کے تحت۔ کل کے لڑکوں کو نہیں دو گے تو کہیں گے کہ 16 سال سے دس سال سے دھکے دے رہے ہو۔ آج وہی پوزیشن ہے۔ عمران نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ سٹیج پر بیٹھ کر آپ ٹھیک کہتے ہیں ہم کوشش کریں گے کہ پرانے لوگوں کو ساتھ لے کر چلیں۔ یہ جو عمران کو عین موقع پر کمپرومائز کرنا پڑ رہے ہیں اس کے جواب میں لوگ لاﺅ لشکر لے کر ان کے گھر کے باہر پہنچ گئے ہیں۔ میں تو پارٹی میں شامل نہیں ہوں۔ مجھے یوسف رضا گیلانی نے انٹرویو میں ایک شعر سنایا میں نے بڑا انجوائے کیا۔
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
پانی کے مسئلے کے دو ضروری حصے ہیں ایک حصہ یہ ہے کہ اندرونی ملک جو پانی برساتوں میں، سیلابوں میں بہت زیادہ آ جاتا ہے ہماری محفلیں خراب کرتا ہے مال مویشی ڈوب جاتے۔ لوگ بھی مر جاتے ہیں کسی جگہ پر ایسا انتظام نہیں ہے اسی سرپلس پانی کو فاضل روک کر بند بنا کر اس کو سال بھر کے لئے محفوظ کر لیا جائے۔ وہ دریا میں سیدھا جاتا ہے پنجند کے مقام پر پہنچتا ہے اور پھر سندھ میں شامل ہو جاتا ہے اور سندھ میں کراچی تک کوئی ڈیم نہیں ہے کالا باغ ڈیم بننا تھا تربیلا اور منگلا کے بعد اور اس کی باقاعدہ تاریخ مقرر ہ۰و گئی۔ انڈس بین واٹر ٹریٹی 1960ءمیں ہوا تھا۔ اور 1964ءمیں دوسرا ڈیم شروع ہوا اس وقت منگلا اور تربیلا کے بعد کالا باغ ڈیم کی باری تھی صوبوں میں اختلاف کے باعث اختلافات پیدا ہوئے۔ کے پی کے کل کے سرحد سے ولی خان وجہ بنے نعررہ لگایا کہ کالا باغ بنا تو ہم اسے اڑا دیں گے اور سندھ سے بھی جہاں پیپلزپارٹی کی ہمیشہ حکومت رہی ہے سختی سے مخالفت کی گئی کہ ہم کالا باغ ڈیم نہیں بننے دیں گے ہمیں سارا سال پانی کا بہاﺅ درکار ہے ہمارے کچے کے علاقوں میں آب پاشی کے لئے ضروری ہے مچھلیوں کے لئے ضروری ہے اور ہمارے جو اردگرد جو درخت ہیں اس کے لئے ضروری ہے چنانچہ ہم اس ڈیم کو نہ بنا سکے۔ حالانکہ اعداد و شمار میں وہ کہتے ہیں کالا باغ8سال میں بن کر مکمل ہو سکتا ہے اور اس سے دو سال پہلے سے ہی یہ بجلی کی پیداوار دینا شروع کر دے گا۔ اس مسئلے میں میری رٹ جو ہے میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ جناب علی ظفر نے سپریم کورٹ میں دی ہوئی ہے اور ابھی تک اس کی باری نہیں آئی۔ اب ہم ڈھونڈ رہے ہیں کہ جلد سماعت کی درخواست دے رہے ہیں اب چونکہ علی ظفر وزارت کی نذر ہو گئے اور آج کل وزیر قانون اور وزیر اطلاعات بھی ہیں۔ لہٰذا میں اس کو اپنے دوست ڈاکٹر خالد رانجھا سے کرواﺅں گا۔ میں نے کوشش کی تھی کہ اعتزاز احسن جو میرے خیال میں پہلا قابل وکیل ہیں مگر ان کے پاس وقت نہیں تھا بہت مصروف ہیں لیکن کوشش کروں گا کہ ان سے وقت لوں۔ یہ دو الگ الگ کیس ہیں، ایک رٹ کالا باغ ڈیم کو بنائیں اور اس کے لئے صوبوں کے درمیان اختلافات کے لئے مشترکہ مفادات کونسل بنائیں جو سپریم کورٹ اس ہدایت اور آرڈر کے ساتھ بھیجے تو 3 مہینے کے اندر اندر جتنی بھی میٹنگز کرنا ہوں، مشترکہ مفاددات کونسل میں چاروں صوبائی وزیراعلیٰ ہوتے ہیں اور وزیراعظم صاحب صدارت کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ جگہ ایسی ہو گی جہاں ہر صوبے کو اپنی شکایات بتانی پڑیں گی اور ماہرین کی مدد سے انہیں کم کر کے یا ان میں تبدیل کر کے شکایات کا ازالہ کر کے متفقہ لائحہ عمل بنایا جا سکے۔ دوسری رٹ کل ایڈووکیٹ کے ذریعے اسلام آباد میں داخل ہو گی اور انشاءاللہ پرسوں جمع ہو جائے گی۔ اس رٹ کو میں نے4,3 وکلاءسے ویٹ کروایا ہے اور ڈاکٹر خالد رانجھا اسے پیش کریں گے۔ جو پرویز مشرف کے دور کے سابق وفاقی وزیر قانون، سابقق وزیر قانون پنجاب اور لاہور ہائی کورٹ کے جج بھی رہے ہیں۔ خالد رانجھا میرے پرانے دوست ہیں جب زمانہ طالب علمی میں میں اورینٹل کالج یونین کا صدر تھا تو سامنے ان کا لا کالج ہوتا تھا اور یہ لا کالج یونین کے صدر تھے۔ اس زمانے سے یہ میرے دوست ہیں۔ چیف ایڈیٹر روزنامہ خبریں نے کہا کہ انہوں نے مجھے کاغذ دیا اور کہا کہ آپ کی رٹ میں ایک کمی ہے، میں نے کہا وہ کیا تو میری اُردو میں بنائی رٹ لیگل ضرورتوں کے تحت انگریزی میں کمپائل کیا اور کہا کہ اس میں کمی یہ ہے کہ دو چیزوں پر ایک ڈان میں ایک خاتون کا آرٹیکل چھپا جو خود بھی اس وفد میں شامل تھیں جس نے عالمی ثالثی عدالت میں آج سے برس ہا برس پہلے پاکستان میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ اس خاتون کا مضمون ڈان میں انگریزی میں چھپا۔ انہوں نے کہا کہ اٹارنی جنرل کی ٹیم جو شاہد خاققان عباسی نے اپنے آخری دور میں بھیجی تھی۔ کشن گنگا میں جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی افتتاح کرنے آئے تو بہت شور مچا اور انہوں نے ورلڈ بینک کے پاس ٹیم بھیجی۔ ورلڈ بینک انڈس ٹریٹی پر ہمارا گارنٹڈ ہے۔ ہم اسے کہتے ہیں اور وہ عالمی ثالثی عدالت کو ریفر کر دیتے ہیں مگر پچھلے سات سال سے وہ ہمارا موقف نہیں ریفر کر رہے۔ یہی بات مجھے شاہد خاقان نے بھی بتائی جب میں اپنا کیس ان کے بطور وزیراعظم ان کے پاس لے کر گیا۔ جس کی تصویر اور خبر بھی چھپی ہے کہ بھارت ستلج اور راوی کا سارا پانی بند نہیں کر سکتا۔ اور ان کو تمام کاغدات دیتے ہوئے بھی ایک تصویر ہے جہاں میں کہہ رہا ہوں کہ ہم ورلڈ بینک سے کیوں رجوع نہیں کرتے۔ جس پر انہوں نے کہا کہ وہ نہیں اجازت دیتا۔ مضمون لکھنے والی خاتون نے ثابت کیا ہے کہ انڈس ٹریٹی میں کسی جگہ پر کوئی شق ایسی موجود نہیں، ورلڈ بینک صرف پیسے دینے والا ادارہ تھا، وہ ہمارے کسی درخواست کو مسترد نہیں کر سکتا۔ اس پر پابندی کہ وہ ہم سے چیز لے گا اور آگے پہنچائے گا۔ اب وہ ڈاکخانہ اگر اپنے فرائض ادا کرنے سے انکار کر دے تو ہم اس پر دباﺅ ڈالتے ہیں کہ آپ کو نہ کہنے کا حق نہیں ہے، انہوں نے ابھی ہمارے وفد کو انکارکر کے واپس بھیجا ہے جس کی خبریں دو ہفتے پہلے چھپ چکی ہیں۔ دوسری چیز جس پر کچھ اور دوستوں نے بھی میری توجہ دلائی تھی کہ 2016ءمیں جب وزیراعظم نواز شریف تھے، عابد شیر علی کے پاس آبی وسائل کی وزارت نہیں تھی پانی و بجلی کی وزارت ملی اسے دیکھتی ہے۔ اس وقت سینٹ کے ارکان نے پانی کی شدید کمی پر بحث کی تھی کہ ہمیں اس کے خلاف عالمی ثالثی عدالت میں جانا چاہئے۔ اس میں یہ بھی طے ہوا تھا کہ اب یہی قرارداد قومی اسمبلی بھیجی جائے جہاں وزیراعظم نوازشریف تھے۔ افسوس ہے کہ ہمارے ملک کے حکمرانوں نے، آخر پر اعتراض عابد شیر علی کا ہے میں اس پر بھی متفق ہوں، میں میرٹ پر چلتا ہوں، یہ نہیں دیکھتا کہ الف نے کہا تھا یا ب نے کہا تھا۔ انہوں نے ٹھیک کہا کہ پیپلزپارٹی کو اب یہ مسئلہ کیوں یاد آیا، یہ تو خود پانی کے مسئلے میں رکاوٹ رہے ہیں، انہوں نے اپنی 5 سالہ حکومت میں اس سلسلے میں کیوں کوئی ایکشن نہیں لیا۔ ایک تو ڈان میں خاتون نے لکھا کہ ورلڈ بینک کو کوئی حق نہیں اور نہ انڈس واٹر ٹریٹی نے انہیں یہ اجازت دی ہے کہ وہ ہماری کوئی بھی درخواست مسترد کر دے، وہ عدالت نہیں ہے کہ انکار کر دے۔ وہ کیسے انکار کر سکتا ہے۔ ہمارے لوگوں کی نالائققی ہے، یہاں کے لوگ سفارشی ہوتے ہیں۔ ہم پہلے دو کیس بھی اسی لئے ہارے ہیں کہ اس کے لئے بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ دو سے اڑھائی سال لوگ ریسرچ کرتے ہیں۔ میں نے انڈسس واٹر کے ہائی کمشنر سے پوچھا اور وہ کہتے ہیں کہ ضیا صاحب عالمی ثالثی عدالت میں جذباتی لفاظی نہیں چلتی۔ ہمیں کوئی مثال دیں کہ دنیا کے کسی ملک میں اوپری طرف کے ملک نے نچلی طرف کے ملک کا پانی بند کیا تھا اور نچلی طرف کے ملک نے کس طرح سے وہ پانی کھلوایا تھا۔ میرے جیسے بنددے کو مصیبت پڑی ہوئی تھی میں ڈیڑھ مہینے سے اس رٹ پر لگا ہوا ہوں۔ میں ملتان میں اعلان کر کے آیا کہ ہم عدالت میں جا رہے ہیں اور مجھے ایک ماہ بیس دن چیزیں جمع کرنے میں لگ گئے کہ عدالت میں رٹ کروں۔ کہ یہ چیز ہے تو اس کا اصل لاﺅ اور اس چیز کے نوٹیفکیشن لاﺅ، اس فیصلہ کی کاپی لاﺅ ، پچھلی مرتبہ فیل ہوئے تھے، کیوں ہوئے تھے اس کا فیصلہ لاﺅ اور اس پر تنقید لاﺅ کہ کس وجہ سے ہارے تھے۔ اگرچہ عابد شیر علی کا پیپلزپارٹی پر یہ الزام درست ہے کہ آپ نے اپنے دور میں کیا کیا۔ لیکن ایک لحاظ سے یہ الزام غلط بھی سمجھتا ہوں کہ چلو انہوں نے نہیں کیا مگر اب ہم پیاسے مر رہے ہیں تو آپ ہی کر لیں۔ اس پر عابد شیر علی بھی قومی مجرم ہیں اور اس وقت کی وزارت عظمیٰ نوازشریف کی بھی ذمہ داری ہے، کس لئے وہ خاموش رہے۔ سینٹ بحث کرتا ہے اور ایک چیز پر اتفاق رائے کرتا ہے مگر قومی اسمبلی میں اکثریت نوازشریف کی تھی تو انہوں نے اسے مسترد کر دیا۔

قصور پھر قصور وار ۔۔۔زمیندار نے 11 سالہ بچی کیساتھ زیادتی کے بعد والدین کو گھر میں قید کر لیا ، ” خبریں ہیلپ لائن “ میں سنسنی خیز انکشافات

قصور(بیورورپورٹ)قصور اور گردونواح میں زینب کیس کے بعد بھی ننھی پریوں کے ساتھ جنسی درندگی کا سلسلہ تھم نہ سکا نواحی علاقہ ڈھنگ شاہ میں بااثر ملزم نے گیارہ سالہ بچی کو دو بار درندگی کانشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ بچی کے محنت کش والدین پر زمین تنگ کر دی ڈھنگ شاہ سے تعلق رکھنے والے محنت کش ریاض احمد کے مطابق اس کی بیوی کی ذہنی حالت درست نہیں ہے اور کچھ عرصہ قبل وہ اپنی اہلیہ کی دوا لینے کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال قصور گیا ہوا تھا اور انکی گیارہ سالہ بیٹی (ن)گھر میں اکیلی تھی کہ اس دوران گاﺅںکا بڑا زمیندار اور علاقہ میں اثر ورسوخ کا حامل پچاس سالہ بشارت ڈوگر اس کے گھر میں داخل ہوگیا اور اسلحہ کی نوک پر ملزم نے گیارہ سالہ بچی کو تشددکا نشانہ بنانے کے بعد جنسی درندگی کا شکار بنا ڈالا جس کے نتیجہ میں بچی بیہوش ہوگئی اور ملزم اسے خون میں لت پت چھو ڑکر چلا گیا جب ریاض احمد اور اس کی اہلیہ واپس آئے تو گیارہ سالہ بیٹی پر ڈھائی جانیوالی قیامت کا احوال سن کر ان کے اوسان خطا ہوگئے محنت کش ریاض احمد جب اس امر کی شکایت لیکر بشارت ڈوگر کے پاس گیا تو ملزم نے اسے کوئی کاروائی کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی دی اور اس سے کہاکہ یہ بات پھیلنے سے خود ریاض احمد کی بھی بدنامی ہوگی ریاض احمد کے مطابق وہ ملزم اور اس کے علاقہ میں رہنے والے ساتھیوں کی سابقہ وحشت کی داستانوں کے متعلق سوچ کر خاموش ہوگیا جس پر بشارت ڈوگر نے اسے یقین دلایا کہ وہ خاموشی اختیار کرلے اور بہت جلد وہ ریاض احمد کو بہتر روزگار دلانے میں اس کی مدد کرے گا جس کے بعد ریاض احمد خاموش ہوگیا تاہم گزشتہ روز ریاض احمد اپنی بیوی کو لیکر دوبارہ گھر سے باہر گیا ہوا تھا کہ بپھرا ہوا ملزم پھر اس کے گھر میں داخل ہوا اور اس کی بیٹی کو دوبارہ زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا بچی کے والد کاکہنا ہے کہ ملزم اور اس کے ساتھی اس قدر بااثر ہیں کہ جب دوسری بار اس کی بیٹی کو زیادتی کانشانہ بنایا گیا تو وہ شکایت لیکر پولیس کے پاس جارہا تھا کہ ملزمان نے اسے راستے میں ہی پکڑ لیا اور واپس گاﺅں لے آئے ملزم اور اس کے ساتھیوںنے اسے دھمکی دی کہ اگر اس نے تھانے جانے کی جرات کی تو اسے گاﺅں سے نکالنے کے ساتھ ساتھ ریاض احمد کو بھی عبرت کا نشان بنا دیا جائے گا اس واقعہ کی اطلاع پاکر جب مقامی صحافی ریاض احمد کے گھر پہنچے تو اس نے روتے ہوئے بتایا کہ اس کی بیٹی کی زندگی برباد کر دی گئی ہے ظلم کی انتہاءیہ ہے کہ بااثر ملزم اور اس کے ساتھیوںنے انہیں گھر میں بند کر رکھا ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر وہ اپنی شکایت لیکر پولیس کے پاس گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوںگے یہی وجہ ہے کہ ابھی تک میں پولیس کو تحریری اطلاع نہیں دے سکا ریاض احمد اور گاﺅں کے دیگر کسانوں اور کھیت مزدوروں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی ہے کہ ملزم کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں اور انہیں قرار واقعہ سزا دلائی جائے۔

27 ویں شب قرآن نازل ہوا ، ہزار راتوں سے افضل ہے :علامہ محمد رشید ترابی ، نبی کریم نے فرمایا جو اپنی پسند وہی دوسروں کیلئے مد نظر رکھو : علامہ اصغر فاروق ، چینل ۵ کی خصوصی ٹرانسمیشن ” مرحبا رمضان “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے پروگرام مرحبا رمضان میں مسلم ریاست میں غیر مسلموں کے حقوق اور رمضان المبارک کی ستائیسیویں رات کی رحمتوں برکات و ثمرات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ علمائے کرام نے بتایا کہ ستائیسویں شب کو ہی قرآن کریم کا نزول ہوا۔ اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتے ہیں یہ رات ہزار راتوں سے بہتر ہے۔ اسی رات اسلامی جمہوریہ پاکستان بھی وجود میں آیا ہمیں اس شب پاکستان کے لئے دعائیں کرنا نہیں بھولنا چاہئے۔ دوسرے پاکستان میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دیگر غیر مسلم اقلیتیں بھی قیام پذیر ہیں ان کے بھی حقوق ہیں۔ بطور مسلمان ہمیں اقلیتوں کے ساتھ بہتر سلوک روا رکھنا چاہئے۔ علامہ محمد رشید ترابی نے بتایا کہ دنیا میں کوئی ایسا مذہب نہیں جو برابری کی سطح پر سب کے حقوق دیتا ہو اسلام واحد مذہب ہے جو مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے حقوق بھی ادا کرنے کا حکم دیتا ہے کہ بحیثیت انسان کسی کی حق تلفی نہ ہونے پائے۔ قرآن کریم میں اللہ پاک فرماتے ہیں کہ دین میں کوئی جبر نہیں یعنی اسلام کسی کے ساتھ زور زبردستی کی اجازت نہیں دیتا بلکہ سب کے ساتھ مساوات کا رویہ روا رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ نبی کریم نے کبھی کسی کے خلاف کوئی جنگ نہیں لڑی بلکہ آپ نے دفاع میں جنگیں لڑیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کسی جاہل کو ولی نہیں بناتا لیکن ہم ناسمجھی کی بنا پر ووٹ دے کر ولی بناتے ہیں اس کی وجہ علم سے دوری ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اہل علم لوگوں کو آگے لایا جائے کیونکہ جہاں پر علم ہوتا ہے وہاں فتنہ فساد نہیں ہوتا۔ انسان اسلام کے بتائے اصولوں پر جب زندگی گزارتا ہے یقینا اس میں راحت ہوتی ہے سکون ہوتا ہے۔ علامہ اصغر فاروق نے بتایا کہ ہر ملک کے شہری کو علم ہونا چاہئے کہ ان کے ساتھ جتنے بھی دوسرے ادیان کے لوگ رہتے ہیں ان کے کیا فرائض اور ذمہ داریاں ہیں۔ اسلام انسانوں کے حقوق کی جس طرح بات کرتا ہے اس کی کسی دوسرے مذہب میں مثال نہیں ملتی۔ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے جو ہر چیز بارے قواعد ضوابط اور اصول وضع کرتا ہے۔ نبی کریم نے فرمایا دوسروں کے لئے وہی پسند کرو جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو۔

سلمان خان ’ٹیوب لائٹ‘ کی ناکامی اب تک نہیں بھول پائے

ممبئی (ویب ڈیسک)بالی وڈ اداکار سلمان خان گزشتہ سال عید فلم ’ٹیوب لائٹ‘ کی ناکامی اب تک نہیں بھول پائے ہیں اور اب انہوں نے ایک سال بعد فلم کے ڈسٹری بیوٹرز پر غصے کا اظہار کیا ہے۔ سلمان خان کی گزشتہ سال چھوٹی عید پر ریلیز ہوئی فلم ’ٹیوب لائٹ‘ باکس ا?فس پر فلاپ ثابت ہوئی اور فلم نے بھارت میں محض 135 کروڑ بھارتی روپے کے لگ بھگ بزنس کیا تھا۔فلم ’ٹیوب لائٹ‘ کی ناکامی پر ڈسٹری بیوٹرز کو بھی کافی نقصان اٹھانا پڑا تھا جس کے بعد سلو میاں نے انہیں 35 کروڑ سے زائد کی رقم واپس کی۔دبنگ خان کو فلم ’ٹیوب لائٹ‘ کی ناکامی کا غم اب بھی ستا رہا ہے جسے وہ بھلا نہیں سکے۔اب فلم ’ریس 3‘ سے سلمان خان فلم ڈسٹری بیوشن میں بھی قدم رکھ رہے ہیں اور فلم کی تشہیری مہم میں انہوں نے ’ٹیوب لائٹ‘ کی ناکامی کے بعد ڈسٹری بیوٹرز کے حوالے سے کھل کر بات کی ہے۔دبنگ خان کا کہنا تھا کہ اس بار کسی کو پیسے نہیں دیں گے ، وہ پیسے اب ہمارے پاس ہی رہیں گے اور اگلی بار جس نے بھی پیسے مانگے ان کے ساتھ کام نہیں کروں گا۔فلم ’ٹیوب لائٹ‘ کی ناکامی کے بعد ڈسٹری بیوٹرز کے رویے سے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ دسٹری بیوٹرز کاروبار میں رسک بھی نہیں لیتے، آپ نے 15 فلموں میں کما لیا اور ایک فلم میں گنوا دیا تو ا?پ سیدھا گھر پہنچ گئے۔فلم ڈسٹری بیوشن میں قدم رکھنے کے حوالے سے سلو میاں کا کہنا تھا کہ اس بار ہم لوگ ’ریس 3‘ کو خود ہی ڈسٹری بیوٹ کررہے ہیں، اس حوالے سے ایروز انٹرنیشنل سے بات چیت کررہے تھے لیکن معاملات آگے نہیں چلے جس کے بعد خود ہی فلم کو ڈسٹری بیوٹ کرنے کا سوچا۔یاد رہے کہ سلمان خان کی فلم ’ریس 3‘ عید الفطر کے موقع پر ریلیز کی جانی ہے جس میں ان کے مدمقابل انیل کپور، بوبی دیول، جیکولین فرنینڈس اور ڈیزی شاہ مرکزی کردار میں نظر آئیں گے۔

’اگر 25 جولائی سے پہلے میرے خلاف فیصلہ ضروری یا مجبوری ہے تو کر دیجیے‘

لاہور (ویب ڈیسک)سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ آج احتساب عدالت نے نیا وکیل کرنے کا کہا لیکن کوئی بھی وکیل اتنی کڑی شرائط پر کام کرنے کو تیار نہیں اور یہ ممکن نہیں کہ وکیل کل وکالت نامہ جمع کروائے اور پرسوں شروع کردے۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ آج مجھے وکیل کی خدمات سے محروم کر دیا گیا ہے اور میرے وکیل خواجہ حارث کیس الگ ہو گئے ہیں۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے کہا کہ ایک ماہ کے اندر تمام ریفرنسز/ ریفرنس کا فیصلہ آجانا چاہیے جس پر ہمارے وکیل نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں، کیس کی تیاری کرنا ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے اس کے جواب میں ہمارے وکیل سے کہا کہ آپ دھمکیاں دے رہے ہیں اور چیف جسٹس نے احتساب عدالت کو اپنے اوقات کار طے کرنے کی اجازت بھی دی۔انہوں نے کہا کہ آج مجھے احتساب عدالت نے کہا کہ میں نیا وکیل کرلوں لیکن کوئی بھی وکیل اتنی کڑی شرائط پر کام کرنے کو تیار نہیں ہے کیونکہ کسی بھی وکیل کو کیس لڑنے سے پہلے اس کیس کی تیاری کے لیے بڑا وقت درکار ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ اگر کوئی وکیل مان بھی جائے تو ایسا کیسے ممکن ہے کہ وہ 2 ہزار صفحات پر مشتمل دستاویزات سے متعلق کیس پر کل وکالت نامہ جمع کروائے اور پرسوں اس پر دلائل شروع کر دے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں یہ کسی بھی عدالت کی جانب سے قدغن لگانے کی پہلی مثال ہو گی جو انصاف اور قانون کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آج تک کس وکیل کے لیے ایسا حکم جاری ہوا ہے، یہ اپنی نوعیت کا یہ پہلا مقدمہ ہے جو چل تو احتساب عدالت میں رہا ہے لیکن اس کی ڈوریں سپریم کورٹ سے ہلائی جا رہی ہیں۔نواز شریف نے کہا کہ ہمارے خلاف ریفرنسز میں تاخیر کی تمام تر ذمے داری استغاثہ پر عائد ہوتی ہے، ہمارے وکلائ نے ایک بھی پیشی کے لیے نئی تاریخ کا تقاضہ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز چیف جسٹس نے کہا کہ تشہیر کے لیے میں بیوی کی بیماری کے لیے جانے کا کہتا ہوں، چیف جسٹس کے ریمارکس سے بہت دکھ اور صدمہ پہنچا کیونکہ میں نے ایسی کوئی درخواست نہیں دی۔ان کا کہنا تھا کہ استغاثہ نے بار بار موقف بدلے، عدالت کی جانب سے ہماری درخواستیں مسترد کی گئیں لیکن ہم نے ہر چیز کا تحمل کے ساتھ سامنا کیا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے ریفرنسز ایک ساتھ سننے کی استدعا کی تھی وہ مسترد کر دی گئی لیکن ان کے فیصلے ایک ساتھ سنانے کا حکم دے دیا گیا۔قائد مسلم لیگ ن نے کہا کہ میرے بنیادی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں، مجھے حق دفاع سے محروم کرکے کٹہرے میں کھڑا کردیا گیا ہوں جب کہ اس آمر نے جس نے دو مرتبہ آئین توڑا اس کی بلائیں لی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر 25 جولائی کے انتخابات سے قبل فیصلہ کرنا ضروری یا مجوبری ہے تو فیصلہ کر دیجیے لیکن یہ قانون و انصاف، آئینی تقاضوں، بنیادی انسانی حقوق اور عدالتی روایات کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔

’پاکستانی کبوتر‘ نے بھارتی سکیورٹی حکام کی نیندیں اڑا دیں

لاہور (ویب ڈیسک)پاکستان سے بھارت میں داخل ہونے والے ایک کبوتر نے بھارتی سیکیورٹی حکام کی نیندیں اڑا دیں۔ بھارتی اخبار ٹائمز ا?ف انڈیا کے مطابق بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس نے پاکستان سے بھارت میں داخل ہونے والے کبوتر کو پکڑ کر امرتسر پولیس کے حوالے کر دیا۔بھارتی پولیس حکام کا کہنا ہےکہ وہ مبینہ پاکستانی کبوتر کے ایکس رے کروائیں گے تاکہ کسی بھی قسم کے جاسوسی کے آلات یا خفیہ پیغام کا کھوج لگایا جاسکے۔

چوہدری نثار کا آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان

راولپنڈی(ویب ڈیسک)مسلم لیگ ن کے رہنما چوہدری نثار نے آزار حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا۔اڈیالہ روڈ پر کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار نے آزاد حیثیت میں انتخاب لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے ٹکٹ سیاسی یتیموں کو دے دیے ہیں۔سابق وفاقی وزیر نے اپنی جماعت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف میں 10 اور ن لیگ میں 100 سے بھی زائد خامیاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ بہت کچھ کہہ سکتے ہیں لیکن انہیں 34 سال کی رفاقت کا خیال آجاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑوں گا اس لیے اب زیادہ محنت کی ضرورت ہے۔چوہدری نثار نے کہا کہ عورت کے راج کے مخالف نے آج اپنی بیٹی پارٹی پر مسلط کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے منہ کھولا تو یہ شریف کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔خیال رہے کہ مسلم لیگ ن میں چوہدری نثار کو پارٹی ٹکٹ دینے کے حوالے سے نواز شریف اور شہباز شریف میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف چوہدری نثار کو پارٹی ٹکٹ دینے کے حق میں ہیں جب کہ نواز شریف کا کہنا ہے کہ جب تک چوہدری نثار پارٹی ٹکٹ کے لیے اپلائی نہ کریں تو انہیں ٹکٹ نہ دیا جائے۔چوہدری نثار نے گزشتہ روز بھی اپنے بیان میں پارٹی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے ٹکٹ دینے کے لیے جاتی امرائ والے مضحکہ خیز ڈرامے کر رہے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما چوہدری نثار نے مجموعی طور پر 3 نشستوں پر کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔چوہدری نثار نے قومی اسمبلی کی نشست این اے 59 اور صوبائی اسمبلی کی 2 نشستوں پی پی 10 اور 12 کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

ریس تھری کی ہیروئن جیکولین فرنینڈس خوفناک بیماری کا شکار بن گئیں

ممبئی (ویب ڈیسک) بالی ووڈ کی خوبرو اداکارہ جیکولن فرنینڈس کی آنکھ کی پتلی انجری کے باعث ہمیشہ کیلئے ٹیڑھی ہو گئی ہے۔ جیکولن فریننڈس آج کل اپنی نئی آنے والی فلم ’ریس 3‘ کی پروموشن میں مصروف ہیں۔جیکولن فرنینڈس فلم کی دیگر کاسٹ کیساتھ فلم کی پروموشن میں مصروف ہیں جس دوران انہوں نے انکشاف کیا کہ مارچ کے ماہ میں وہ فلم کی شوٹنگ کر رہی تھیں کہ ان کی آنکھ پر چوٹ لگ گئی۔ انہوں نے سماجی ابطوں کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر تصویر شیئر کی جس میں ان کی آنکھ کی پتلی صاف طور پر ٹیڑھی دیکھی جا سکتی ہے۔اداکارہ نے لکھا کہ ان کی آنکھ کی پتلی ہمیشہ کیلئے ٹیڑھی ہو چکی ہے جواب کبھی صحیح نہیں ہوگی لیکن شکر ہے کہ اس انجری کے بعد بھی ان کی بینائی خراب نہیں ہوئی اور آنکھ صحیح طور پر کام کر رہی ہے۔

پاکستان ریلوے کا عوام کو عید کا تحفہ ،مفت سفر کون کون کر سکے کا ،خبر آگئی

لاہور(ویب ڈیسک)پاکستان ریلویز نے عید کے پہلے اور دوسرے روز سینئر سٹیزنز کے لیے مفت سفر کا اعلان کردیا۔ترجمان ریلوے کے مطابق عید کے پہلے اور دوسرے روز سینئر سٹیزنز کے لیے مفت سفر کا فیصلہ وزیر ریلویز روشن خورشید کی ہدایت پر کیا گیا جس کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔نوٹی فکیشن کےمطابق 65 برس اور اس سے زائد عمر کے شہری تمام ٹرینوں کی تمام کلاسز میں مفت سفر کرسکیں گے جب کہ سینیئر سٹیزن کے عید پیکیج پر عملدرآمد کیلئے ڈویڑنل سپرنٹنڈنٹس کو مراسلہ بھی ارسال کردیا گیا ہے۔ترجمان ریلویز نے بتایا کہ شناختی کارڈ کی نقل پر ایڈوانس بکنگ اور ای ٹکٹنگ بھی مفت ہوگی اور دوران سفر اصل کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ دکھانا لازمی ہو گا۔دوسری جانب پاکستان ریلوے نے عید الفطر کے پر±مسرت موقع پر پردیسیوں کی گھروں کو واپسی پر ا?سانی کے لیے اسپیشل ٹرینیں چلانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ریلوے حکام کےمطابق عیدالفطر پر 5 اسپیشل ٹرینیں کوئٹہ سمیت ملک بھر میں چلائی جائیں گے جس کے شیڈول کی چیف ایگزیکٹو ا?فیسر پاکستان ریلوے ا?فتاب اکبر نے بھی منظوری دے دی ہے۔ریلوے حکام کے مطابق پہلی عید اسپیشل ٹرین 12جون کو کراچی سٹی سے دن 11 بجے روانہ ہو گی جو اگلے روز رات 10 بج کر 30 منٹ پر پشاور کینٹ پہنچے گی۔دوسری ٹرین کوئٹہ سے 12 جون کو دن 11 بج کر 30 منٹ پر روانہ ہوکر اگلے روز براستہ لاہور رات 8 بجے راولپنڈی پہنچے گی۔تیسری ٹرین 13 جون صبح 11 بجے کراچی کینٹ سے روانہ ہو کر اگلے روز براستہ فیصل آباد صبح 10 بجے لاہور پہنچے گی۔چوتھی ٹرین 14 جون کو راولپنڈی سے صبح 7 بجے روانہ ہو کر براستہ بھکر اسی روز رات 10 بج کر 30 منٹ پر ملتان پہنچے گی۔اور پانچویں عید اسپیشل ٹرین 19 جون کو ملتان کینٹ سے صبح 7 بجے روانہ ہو کر براستہ میانوالی اسی روز راولپنڈی رات 10بج کر 15منٹ پر پہنچے گی۔

وائی فائی کے سگنلز بڑھانے کا آسان طریقہ

لندن(ویب ڈیسک) آج انٹرنیٹ کا دور ہے اور ہر نوجوان اس کا استعمال کر رہا ہے۔ چنانچہ صارفین کی اکثریت گاہے انٹرنیٹ کی کم رفتار کا رونا روتی نظر آتی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق اب برطانوی براڈ بینڈ کمپنی ’برانڈ بینڈ چوائسز‘ کے ماہرین نے کچھ ایسے طریقے بتا دیئے کہ جن پر عمل کرکے آپ اپنے گھر کے وائی فائی کے سگنلز مضبوط اور انٹرنیٹ کی رفتار بڑھا سکتے ہیں۔ یہ طریقے مندرجہ ذیل ہیں۔بہت سے لوگ وائی فائی کے را?ٹر کو ٹی وی، کمپیوٹر، بے بی مانیٹرز، مائیکروویو اور دیگر ایسی برقی ڈیوائسز کے قریب رکھ دیتے ہیں، حالانکہ را?ٹر کو برقی ڈیوائس کے قریب رکھنے سے اس کی کارکردگی پر انتہائی منفی اثرپڑتا ہے اور انٹرنیٹ کی رفتار بہت کم ہو جاتی ہے۔چنانچہ اپنے را?ٹر کو ہمیشہ ہر طرح کی برقی ڈیوائسز سے دور رکھیں۔یہ تو ہم سبھی جانتے ہیں کہ جتنے زیادہ لوگ وائی فائی استعمال کر رہے ہوں گے انٹرنیٹ کی رفتار اتنی ہی کم ہو جائے گی۔ چنانچہ اپنے وائی فائی کو ہمیشہ مضبوط پاس ورڈ لگا کر رکھیں اور کسی کو پاس ورڈ دیتے ہوئے بھی احتیاط ملحوظ رکھیں کہ وہ اس کو آگے نہ پھیلا دے۔ اس کے علاوہ ہر چند روز کے بعد پاس ورڈ تبدیل کرنا بھی غیر ضروری لوگوں کو اپنے وائی فائی سے دور رکھنے کے لیے بہترین طریقہ ہو سکتا ہے۔اگر تمام اقدامات کے باوجود آپ کو کم رفتار کا مسئلہ درپیش ہے تو پھر براڈ بینڈ بوسٹر (Broadband Booster)یا وائی فائی ایکسٹینڈر (wifi extender)کا استعمال آپ کو اس مشکل سے نجات دلا سکتا ہے۔ اگر یہ ڈیوائسز بڑے گھروں کے لیے بنائی جاتی ہیں جہاں سگنلز کو دور تک پہنچانا مقصود ہو، پھر بھی اگر آپ ان کا استعمال کرکے انٹرنیٹ کی کم رفتار سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔اگر آپ کے وائی فائی کی رفتار بہت سست ہے یا یہ بار بار منقطع ہو رہا ہے تو اپنے را?ٹر کا چینل تبدیل کرنا بہترین آپشن ہے۔ زیادہ تر را?ٹرز 2.4گیگاہرٹز فریکوئنسی سپیکٹرم پر چلتے ہیں جو کئی مختلف چینلز پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان میں سے کچھ چینل دوسروں کی نسبت زیادہ صاف ہوتے ہیں اور ان کے ذریعے انٹرنیٹ کی زیادہ رفتار حاصل ہو سکتی ہے۔آپ بہترین چینل تلاش کرنے کے لیے ’وائی فائی اینالائزر‘ (Wifi Analyzer)جیسی ایپلی کیشن استعمال کر سکتے ہیں جو کہ مفت میں آپ کو بتا دے گی کہ کس چینل پر کم لوگ ہیں، چنانچہ آپ اپنے را?ٹر کو اس چینل پر منتقل کر دیں۔اگر آپ وائی فائی پر انحصار کرنے کی بجائے ایتھرنیٹ کیبل کا استعمال کریں تو یہ آپ کا انٹرنیٹ کی کم رفتار کا زیادہ تر مسئلہ حل کر دے گی کیونکہ اس کے ذریعے وائی فائی کی نسبت زیادہ تیزرفتار سے ڈیٹا منتقل ہوتا ہے۔ تاہم اس میں آپ کو وائی فائی کی بجائے تار استعمال کرنا پڑے گا۔گھر میں را?ٹر کو رکھنے کی جگہ انٹرنیٹ کی رفتار پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہے چنانچہ کوشش کریں کہ را?ٹر کو گھر کے درمیان میں کہیں کھلی جگہ پر رکھیں تاکہ پورے گھر میں یکساں سگنلز جا سکیں۔ را?ٹر کو گھر کے کسی ایک کونے میں یا کسی الماری وغیرہ میں بند مت کریں۔ اسی طرح را?ٹر کو شیشے سے بھی دور رکھیں کیونکہ شیشہ جس طرح روشنی کو منعکس کرتا ہے اسی طرح وائی فائی کے سگنلز کو بھی منعکس کر دیتا ہے۔ اگر آپ کے ڈیوائس اور را?ٹر کے درمیان شیشہ آ رہا ہے تو غالب امکان ہے کہ اس سے سگنلز متاثر ہوں گے۔

زمین سے بھی 6گنابڑا نیا سیارہ دریافت کر کے بھارتیوں نے آسمان سر پہ اُٹھا لےا

نئی دہلی(ویب ڈیسک) بھارتی سائنسدانوں نے کائنات کی وسعتوں میں ایک نیا سیارہ دریافت کرنے کا دعویٰ کر دیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق انڈین سپیس ریسرچ آرگنائزیشن کے سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ اس نئے دریافت ہونے والے سیارے کا سائز ’سب سیٹرن‘ (Sub Saturn)یا سپر نیپچون (Super Neptune)کے برابر ہے اور اس کا قطر ہماری زمین سے 6گنا بڑا ہے۔ نئے سیارے کی یہ دریافت ابھیجیت چکرورتی کی قیادت میں سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے احمد آباد میں واقع فزیکل ریسرچ لیبارٹری میں کی۔ انڈین سپیس ریسرچ آرگنائزیشن کی طرف سے جاری بیان کے مطابق یہ سیارہ سورج کے جیسا ہے اور یہ سورج کے گرد گردش کرتے ہوئے19.5دن میں ایک چکر مکمل کرتا ہے۔ٹائمز آف انڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ابھیجیت چکرورتی کا کہنا تھا کہ ”یہ سیارہ زمین سے 600نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ نیپچون نامی سیارے کے قریب واقع ہے۔اس کی سطح کا درجہ حرارت 600ڈگری سینٹی گریڈ ہے کیونکہ یہ اپنے میزبان ستارے کے بہت قریب واقع ہے۔یہی وجہ ہے کہ ممکنہ طور پر اس سیارے پر رہائش ممکن نہیں ہو سکتی۔“

یا ہو مسینجر بند،نئی ایپلی کیشن متعارف

کراچی (ویب ڈیسک)معروف آن لائن ٹیکنالوجی کمپنی ’یاہو‘ نے اپنی انسٹنٹ میسیج سروس ایپلی کیشن ’یاہو‘ میسینجر کو بند کرنے کا اعلان کردیا۔خیال رہے کہ ’یاہو‘ نے اپنی میسینجر ایپلی کیشن کو 2 سال قبل 2016 میں اپ ڈیٹ کیا تھا، کمپنی نے پرانی میسیج ایپلی کیشن بند کرکے نئی ایپلی کیشن متعارف کرائی تھی۔’یاہو‘ نے انسٹنٹ میسیج ایپلی کیشن 2 دہائیاں قبل 1998 میں متعارف کرائی تھی، اس میسینجر ایپ کا شمار دنیا کی پہلی انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن میں ہوتا ہے۔’یاہو میسینجر‘ کو ابتدائی طور پر 9 مارچ 1998 کو متعارف کرایا گیا تھا، اس ایپلی کیشن میں گزشتہ 20 سالوں کو دوران صارفین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے متعدد تبدیلیاں بھی کی گئیں۔یاہو میسینجر چیٹ رومز سمیت دیگر فیچر بھی متعارف کرائے گئے، تاہم گزرتے وقت اور نئی میسیجنگ ایپلی کیشنز اور سوشل ویب سائٹس ا?نے کے بعد اسے سخت مشکلات درپیش تھیں۔یاہو میسینجر نے 2012 میں چیٹ روم فیچر بھی بند کردیا تھا، اب اس ایپلی کیشن کو مکمل طور پر ا?ئندہ ماہ سے بند کردیا جائے گا۔یاہو نے اپنے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ 17 جولائی 2018 کے بعد ’یاہو میسینجر‘ کو بند کردیا جائے گا۔بیان میں کہا گیا کہ کمپنی ا?ئندہ ماہ سے اپنی معروف ایپلی کیشن کو برقرار نہیں رکھ سکے گی، جس کے لیے وہ اپنے جذباتی صارفین سے معزرت خواہ ہے۔ساتھ ہی کمپنی کی جانب سے صارفین کو اپنی چیٹ بھی ڈاو¿ن لوڈ کرنے کی سہولت فراہم کی گئی۔یاہو نے اپنے بیان میں صارفین کو ’یاہو میسینجر‘ کی جگہ نئی میسیجنگ ایپلی کیشن استعمال کرنے کا مشورہ بھی دیا۔یاہو نے اپنے صارفین کو ’اسکئرل‘ نامی اپنی نئی میسیجنگ ایپلی کیشن استعمال کرنے کا مشورہ دیا، جسے 17 جولائی کے بعد ا?ن لائن کیا جائے گا۔یاہو سے قبل ماضی کی دیگر مقبول میسیجنگ ایپلی کیشنز ’اے او ایل‘ کو 2017 جب کہ ’ایم ایس این‘ کو 2014 میں بند کیا جا چکا ہے۔

”ڈھونڈ سکو تو تمھارے ہو جائیں گے “50ہزار ڈالر ماﺅنٹ ایورسٹ میں کس نے اور کیوں چھپائے ؟ تہلکہ خیز خبر

ڈبلن(ویب ڈیسک)سوال و جواب کی مشہور آن لائن ویب سائٹ آسک ایف ایم نے حال ہی میں اپنی کرپٹو کرنسی ’اے ایس کے ٹی‘ جاری کی ہے اور اسے لوگوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے 50 ہزار ڈالر کرنسی کے ٹوکن ماو¿نٹ ایورسٹ میں چھپا دیئے ہیں اور بہادر کوہ پیماو¿ں سے کہا ہے کہ وہ اسے ڈھونڈ نکالیں تو یہ کرنسی ان کی ہوگی۔آسک ایف ایم اس وقت دنیا بھر میں یاہو ا?نسر اور کورا سے بھی بڑا پلیٹ فارم ہے جہاں سوالات کے جوابات دیئے جاتے ہیں۔ اب اس کمپنی نے اپنی کرپٹو کرنسی جاری کی ہے۔ اس کی تشہیر کےلیے انہوں نے ایورسٹ کی چوٹی پر ہزاروں ڈالر کرنسی کے ٹوکن چھپا دیے ہیں تاکہ لوگ ہمت کرکے ان کے مالک بن سکیں، یہ رقم ایورسٹ کے مختلف مقامات پر دفن کی گئی ہے۔آسک ایف ایم کی ایک تشہیری ویڈیو میں پیغام دیا گیا ہے کہ اگر ا?پ بہادر ہیں تو جائیں اور کرنسی ڈھونڈ نکالیں۔ تاہم کمپنی نے یہ نہیں بتایا کہ کرنسی چھپانے اور اس ویڈیو کی تیاری میں ایک فرد کی جان جاچکی ہے اور اب وہ متنازع طور پر دیگر لوگوں کو ترغیب دے رہے ہیں کہ وہ اس خطرے والے کام میں کود پڑیں۔
خدشہ ہے کہ اس لالچ میں کوہ پیمائی سے نابلد افراد بھی کود پڑیں گے اور رقم کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالیں گے۔آسک ایف ایم نے یوکرین کے تین کوہ پیما اور دو رضا کاروں کو ویڈیو کے لیے پہاڑ پر بھیجا تھا جن میں سے ایک کوہ پیما ہلاک ہوگیا تھا اور کمپنی نے اس کا اعتراف بھی نہیں کیا ہے۔واضح رہے کہ ایورسٹ ایک خطرناک چوٹی ہے جہاں اب تک درجنوں افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں۔