نیویارک (شوبزڈیسک)ہالی ووڈ کے سابق جوڑے انجلینا جولی اور بریڈ پٹ کے درمیان بچوں کی تحویل کے کیس میں عدالت نے انجلینا جولی کو نئی ہدایات جاری کر دیں اورعمل نہ کرنے کی صورت میں انجلینا کو بچے بریٹ پٹ کے حوالے کرنا پڑیں گے۔عدالت نے انجلینا کو ہدایت کی ہے کہ اپنے تمام چھ بچوں کے ٹیلیفون نمبرز والد بریڈ پٹ کو دیں تاکہ بچے والد سے رابطے میں رہ سکیں۔ والد سے رابطے میں نہ رہنا بچوں کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔عدالت نے بچوں کی بریڈ پٹ سے ملاقات کے لیے گھنٹے بھی مختص کیے ہیں۔انجلینا جولی اور بریڈ پٹ کے درمیان ستمبر 2016 میں علیحدگی ہوگئی تھی۔
Monthly Archives: June 2018
نڈال آرام کی غرض سے ومبلڈ ن وارم اپ ٹورنامنٹ سے دستبردار
میڈرڈ(اے پی پی) شہرہ آفاق ہسپانوی سٹار اور 17 ویں مرتبہ کے گرینڈسلام چیمپئن رافیل نڈال آرام کی غرض سے آئندہ ہفتے شیڈول ومبلڈن وارم اپ ٹورنامنٹ کوئنز کلب سے دستبردار ہو گئے۔ نڈال نے گزشتہ ہفتے گیارہویں مرتبہ فرنچ اوپن مینز سنگلز ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔ نڈال نے اپنے بیان میں کہا کہ میں نے ڈاکٹرز سے مشورہ کیا تو انہوں نے مجھے آرام کا مشورہ دیا ہے جس کی وجہ سے میں نے کوئنز کلب ٹینس ٹورنامنٹ میں شرکت سے معذرت کر لی ہے تاکہ ومبلڈن اوپن میں بھرپور انداز سے شرکت کر سکوں۔
عمراکمل اپنی نامناسب حرکتوں میں تبدیلی نہ لاسکے
لاہور(نیوزایجنسیاں) عمر اکمل غیرذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرکٹ لیگ کا فائنل ادھورا چھوڑ کر چلے گئے۔کراچی جمخانہ میں منعقدہ رمضان کرکٹ ٹورنامنٹ کے فائنل میں وہ عمر ایسوسی ایٹس کی نمائندگی کر رہے تھے، انہوں نے نان پروفیشنل رویہ اختیار کیا اور میچ ادھورا چھوڑ کر لاہور کی فلائٹ کے لیے ایئر پورٹ روانہ ہو گئے، امپائرز نے عمر ایسوسی ایٹس کو متبادل پلیئرز کھلانے کی بھی اجازت نہ دی، خوش قسمتی سے عمر ایسوسی ایٹس کی ٹیم سنسنی خیز مقابلے کے بعد آخری بال پر مقابلہ جیتنے میں کامیاب رہی۔واضح رہے کہ عمر اکمل اس سے قبل وارڈنز اور ایکسائز اہلکاروں سے جھگڑے، پی سی بی حکام پر تنقید کی وجہ سے خبروں کی زد میں آ چکے ہیں۔
پی سی بی نے مجوزہ ٹی 10 لیگ ملتوی کر دی
لاہور(آئی این پی) پاکستان کرکٹ بورڈ نے مجوزہ ٹی ٹین لیگ ایک سال کیلئے ملتوی کردی۔ نجی ٹی وی کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے مجوزہ ٹی ٹین لیگ ایک سال کیلئے ملتوی کردی ہے جبکہ پی ایس ایل فور کی افتتاحی تقریب پاکستان کے بجائے دبئی میں ہی منعقد کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔پی سی بی نے رواں سال کے آخر میں ٹی ٹین لیگ کروانے کا ارادہ ملتوی کر دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی نے مجوزہ ٹی ٹین لیگ کا انعقادایک سال کیلئے ملتوی کیا ہے۔بورڈ نے یہ فیصلہ قومی کرکٹرز کی عدم دستیابی کے باعث کیا ہے جس کے باعث لیگ رواں سال ممکن نہیں ہے جبکہ یو اے ای میں ہونے والی ٹی ٹین لیگ میں کھلاڑیوں کی شرکت کا فیصلہ قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی ارتھر کریں گے۔ پی ایس ایل فور کی افتتاحی تقریب پاکستان کی بجائے دوبئی میں ہی ہوگی۔چوتھے ایڈیشن کے آٹھ سے زائد میچز پاکستان میں کروانے کے لیے حکمت علمی تیار کی جا رہی ہے۔صرف پاکستان آنے کو تیار غیر ملکی کھلاڑیوں کے ساتھ ہی معاہدہ طے کرنے پر اتفاق ہوا ہے جو غیر ملکی کھلاڑی پاکستان آکر نہیں کھیل سکتے ان کا نام ڈرافٹنگ میں شامل نہیں ہوگا۔
صالح کو انجری سے نجات مل گئی یوروگوئے کیخلاف کھیلنے کاامکان
ماسکو(بی این پی)مصر کے مایہ ناز فٹبالر محمد صالح نے کندھے کی انجری سے نجات پالی اور ورلڈ کپ میں آج جمعہ کے روز یوروگوئے کیخلاف پہلا میچ کھیلنے کیلئے پرامید ہیں۔گروزنی میں موجود مصر کی ٹیم کے فارورڈ محمد صالح کا گزشتہ روز فٹنس ٹیسٹ لیاگیا جس میں وہ کامیاب رہے ،فزیونے ا ن کے کندھے کی انجری ختم ہونے کی تصدیق کر دی جس کے بعد محمد صالح کا کہناتھاکہ وہ یوروگوئے کیخلاف میچ میں ایکشن میں نظر آئیں گے تاہم ٹیم انتظامیہ کی طرف سے ابھی تک باقاعدہ طور پر صالح کے فٹ ہونے اور پہلا میچ کھیلنے کا اعلان نہیں کیا گیا ۔
چیئر مین بورڈ سیٹھی کی کرسی کو خطرات نے گھیر لیا
لاہور (آئی این پی) چیئرمین پی سی بی کا عہدہ خطرے میں پڑ جانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں کیونکہ عام انتخابات کے بعد نئی حکومت کے آنے پر نجم سیٹھی کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ الیکشن سے قبل نجم سیٹھی نے یہ بیان دے کر نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ نئی حکومت پی سی بی میں مداخلت نہیں کر سکے گی اور ناقدین کا یہ خیال ہے کہ چیئرمین پی سی بی نے آنے والے وقت کے خدشات کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ بیان دیا ہے۔بورڈ کے دیگر عہدیداروں میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے جن کے ذہنوں میں یہ بات موجود ہے کہ اگر گزشتہ حکومت دوبارہ برسر اقتدار نہ آئی تو نجم سیٹھی سمیت کئی افراد کو اپنے عہدوں سے محروم ہونا پڑے گا۔ کہا جا رہا ہے کہ نجم سیٹھی نے خود ہی ایسا بیان دے کر اس معاملے کو ہوا دی کہ بورڈ کے آئین میں ایسی کوئی گنجائش نہیں کہ حکومت کی جانب سے کوئی تبدیلی کی جا سکے اور نہ ہی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے ایسی کسی کوشش کی اجازت دی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں حکومتیں پی سی بی کے معاملات میں مداخلت کرتی تھیں لیکن بورڈ کے نئے آئین کے بعد ایسے خدشات باقی نہیں رہے ،ماہرین اور تجزیہ نگار متفق ہیں کہ اگر حکومتی اختیار کسی نئی جماعت کے ہاتھوں میں گیا تو نجم سیٹھی اینڈ کمپنی کیلئے مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں کیونکہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری سے قریبی تعلق رکھنے والے چوہدری ذکاءاشرف نجم سیٹھی کے حالیہ برسوں میں سب سے بڑے ناقد رہے ہیں۔
رمضان المبارک کے بعد بھی تقوی اختیارکیا جائے،علامہ رشید ترابی چاند رات گزرتے ہی روٹین پر آنا اچھی بات نہیں ،علامہ اسامہ بخاری معروف علماءکرام کی چینل ۵ کی خصوصی رمضان ٹرانسمیشن میں میز بان آمنہ کاردار سے گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)چینل فائیو کے پروگرام مرحبا رمضان میں بتایا گیا کہ تمام مسلمانوں کو کوشش کرنی اہئے کہ رمضان کے بعد بھی گناہوں سے بچنے کی حتی الامکان کوشش کریں اور تقویٰ اختیار کریں۔علامہ اسامہ بخاری نے کہا کہ ہم رمضان المبارک میں تو حاجی نمازی بن جاتے ہیں لیکن جیسے ہی رمضان گزرتا ہے چاند رات آتی ہے ہم دوبارہ اپنی روٹین پر آ جاتے ہیں۔حالانکہ رمضان المبارک کا مقصد تقویٰ کا حصول ہے صرف بھوکا پیاس رہنا مقصد نہیں۔رب صرف ماہ رمضان میں نہیں پو را سال بلکہ پوری زندگی ہمارے ہر ہر عمل کو دیکھتا ہے اس سے کوئی شے چاہے وہ مخفی ہو یا ظاہر ہو ڈھکی چھپی نہیں۔ریاکاری شرک اصغر ہے جو دکھاوے کی عبادت کرتا ہے اس کے لئے سخت سزا ہے لہذا ریاکاری سے بچنا چاہئے۔چاند نظر آتے ہی بچے بڑے خواتین بازاروں کا رخ کر لیتے ہیں اورفجر تک شاپنگ ہی کرتے رہتے ہیں۔ہم نے یورپین تہذیب سے بہت کچھ سیکھا لیکن ہمارا اپنا کلچر بہت اچھاہے۔ہمیں چاہئے عید کی خوشیوں میں دوسرے لوگوں کو بھی شامل کریں ان کی مدد اس طرح کریں دائیں ہاتھ سے دیں تو بائیں کو پتہ نہ چلے بائیں سے دیں تو دائیں کو پتہ نہیں چلے۔ویسے بھی زکوة ہم پر فرض ہے ہم زکوة دے کر کسی پر احسان نہیں کرتے یہ تو قرض حسنہ ہے جو ہم اللہ کے نام پردیتے ہیں اور اللہ ہمیں کئی گنا بڑھا کر لوٹاتا ہے ہیں اس میں کنجوسی سے کام نہیں لینا چاہئے۔علامہ محمد رشید ترابی نے بتایا کہ اللہ پاک قرآن کریم میں فرماتے ہیں ”اے ایمان والوں تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جیسے کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم متقی اور پرہیز گار بن سکو“اب دیکھنا یہ ہے ہم روزے کا اصل مقصد حاصل کرتے ہیں کہ نہیں اس کے لئے ہمیں اپنے روزمرہ کے معمولات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کیا ہم اللہ پاک کی اطاعت کرتے ہیں یا ایک ماہ روزے رکھ کر باقی گیارہ مہینے گناہوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ہمیں چاہئے اپنی زندگی کا احاطہ کریں اور اپنے اعمال کی اصلاح کریں بے اعتدالی دوسروں کی حق تلفی و دل آزاری سے بچیں۔ہمیں کوشش کرنی چاہئے صرف باتیں نہیں عمل بھی کریں۔روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں،زبان کا بھی روزہ ہے آنکھ کا بھی روزہ ہے ہاتھ کا بھی پاﺅں کا بھی کردار کا بھی اور گفتار کا بھی روزہ ہے۔
قومی کرکٹرزکاسبکدوش فیلڈنگ کوچ رکسن کوخراج تحسین
لاہور(نیوزایجنسیاں) قومی کرکٹرز نے سبکدوش ہونے والے فیلڈنگ کوچ اسٹیو رکسن کو خراج تحسین پیش کیا۔سبکدوش ہونے والے فیلڈنگ کوچ اسٹیو رکسن کو قومی کرکٹرز نے خراج تحسین پیش کیا، کپتان سرفراز احمد نے انہیں کھلاڑیوں کے دستخطوں سے مزین قومی ٹیم کی ٹی شرٹ پیش کی۔ تمام پلیئرز نے ان کی خدمات کو زبردست انداز میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مستقبل کیلیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔یاد رہے کہ پی سی بی کی خواہش تھی کہ اسٹیو رکسن اپنی ذمہ داریاں جاری رکھتے تاہم انہوں نے نجی وجوہات کی بناء پر مزید کام سے معذرت کرلی تھی۔ذرائع کے مطابق آئی پی ایل کی فرنچائز کی جانب سے انہیں آفر کی گئی ہے جس کی وجہ سے انہوں نے پی سی بی کے ساتھ معاہدے کی توسیع میں دلچسپی نہیں لی۔
ٹی20سیریزمیں جیت ٹیم سپرٹ کانتیجہ،فہیم
ایڈنبرا (نیوزایجنسیاں ) قومی کرکٹ ٹیم کے آل راو¿نڈر فہیم اشرف نے سکاٹ لینڈ کیخلاف دوسرا ٹی ٹونٹی اور سیریز بھی دو صفر سے جیتنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم ایک مستحکم یونٹ کے طور پر کامیابی کے ساتھ کھیل رہی ہے جو ٹیم انتظامیہ کی بہترین کاوش اور محنت کا نتیجہ ہے۔دوسرے میچ میں تین وکٹیں لے کر فتح کی ضمانت بننے والے فاسٹ باﺅلر کا کہنا تھا کہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر کی ہمیشہ یہ ہدایت ہوتی ہے کہ اپنے لحاظ سے باﺅلنگ کرتے ہوئے فیلڈنگ کی بھرپور سپورٹ حاصل کرو اور وہ ایسا ہی کرتے ہیں۔فہیم اشرف کے مطابق دونوں میچز میں انہوں نے اپنا ٹوٹل زیادہ نہیں سمجھا لیکن دونوں میچوں میں بالنگ بہت اچھی رہی کیونکہ انگلینڈ کیخلاف سیریز سے جو سیکھا وہ یہاں کارآمد رہا۔
چودھری نثار کے پاس گروپ ہوتا تو وہ پتے شو کرتے
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کالم نگار احسان ناز نے کہا ہے کہ جنرل مشرف نے نہ آنا تھا نہ ان کا آنے کا کوئی ارادہ تھا چیف جسٹس نے تو انہیں موقع دیا تھا چینل ۵ کے پروگرام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا مشرف کیلئے اچھا موقع تھا۔ مشرف علاج کے بہانے باہر گئے لیکن پارٹیوں میں شریک ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا جو بھی نگران حکومت ہوتی اس نے الیکشن کے انعقاد میں الیکشن کمیشن کی مدد کرنی ہے چودھری نثار کے پاس اگر کوئی گروپ ہوتا وہ اپنے پتے شو کرتے۔ کالم نگار ضمیر آفاقی نے کہا کہ مشرف کو سوشل میڈیا پر مقبولیت ملی تھی لیکن اب سیاست میں ان کی جگہ نہیں نہ ہی مستقبل ہے لیکن بہرحال ان کو واپس آکر عدالتوں کا سامنا کرنا چاہیے انہوں نے کہا لگتا ہے مشرف کی پارٹی بھی ان کی بیک پر نہیں شاید اس لئے بھی وہ واپس آنا نہیں چاہ رہا انہوں نے شیخ رشید کی سیاسی ساکھ نہیں لیکن پارٹیوں کو کچھ اس قسم کے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو بس بولتے ہیں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دوسروں کو ہروقت گالیاں دیتے رہتے ہیں۔ سینئر صحافی حسنین اخلاق نے کہا ہے کہ مشرف کو ظاہر ہے عدالت نے موقع فراہم کرنے کی کوشش کی کہ وہ پاکستان میں آئیں اور الیکشن میں حصہ لیں تاکہ شریک ہوسکیں جمہوریت میں برابری کے مواقع نہیں انہوں نے کہا جب بے نظیر تشریف لائی تھیں سیاسی حالات اس سے زیادہ خراب تھے سیاستدان چاہتے ہیں تمام کام ان کی مرضی کے مطابق ہوں حسن عسکری کے حوالے سے مسلم لیگ ن خوش ہے۔ کالم نگار میاں حبیب نے کہا مشرف پر غداری کا مقدمہ ہے اگر وہ پاکستان آتے ہیں تو ان کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا حالات بہر حال اثرانداز ہوتے ہیں شاید اس کے وہ پاکستان واپس آنا نہیں چاہتے انہوں نے کہا میرے خیال میں چودھری نثار کو پھنسایا گیا ہے۔
میزبان روس نے سعودیہ کو پانچ گول داغ گئے
ماسکو(نیوزایجنسیاں) روس میں منعقدہ فٹبال ورلڈ کپ 2018 کا رنگا رنگ افتتاحی تقریب سے آغاز ہوگیا۔افتتاحی میچ میں میزبان روس اور سعودی عرب کی ٹیمیں مدمقابل ہوئیں جس میں میزبان نے 0-5 سے کامیابی حاصل کی۔روس نے شروع ہی سے سعودی عرب کو دباو¿ میں رکھا اور 12 ویں منٹ میں روس کے کھلاڑی غازینسکی نے گیند کو جال کی راہ دکھا کر ٹیم کو ایک صفر کی برتری دلائی۔روس کی جانب سے دوسرا گول کھیل کے 43 ویں منٹ میں چیری شیف نے کیا۔ پہلے ہاف کے اختتام پر روس کو 0-2 کی برتری حاصل تھی۔دوسرے ہاف میں بھی روس کے کھلاڑی حاوی رہے اور کھیل کے 71 ویں منٹ میں زیوبا نے گول کرکے برتری 0-3 کردی۔روس کی جانب سے چوتھا گول چیری شیف نے کھیل کے 90 منٹ مکمل ہونے کے بعد ملنے والے ایکسٹرا ٹائم کے پہلے منٹ (1+90) میں کیا۔پانچواں گول کھیل کے (4+90) منٹ میں گولوون نے کیا اور اپنی ٹیم کو 0-5 سے برتری دلادی۔میچ سے قبلروس کے صدر ولادمیر پیوٹن نے شاندار افتتاحی تقریب کے بعد سال کے سب سے بڑے ایونٹ فیفا ورلڈ کپ 2018 کے باقاعدہ آغاز کا اعلان کردیا جس کے بعد سعودی عرب اور روس کی ٹیمیں افتتاحی میچ میں مدمقابل ہیں۔روس کے دارالحکومت ماسکو کے لزنیکی اسٹیڈیم میں 80ہزار عوام کے سامنے روس کے صدر نے 21ویں ورلڈ کپ کے آغاز اعلان کیا جو 1980 کے ماسکو اولمپکس کے بعد سے روس میں منعقد ہونے والا سب سے بڑا ایونٹ ہے۔2010 میں اسپین کو ورلڈ کپ جتوانے والے ایکر کیسیلاس اور روس کی سپر ماڈل نتالیہ ووڈیو نووا میدان میں ورلڈ کپ کی ٹرافی لے کر آئے جس کے بعد افتتاحی تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا جبکہ سابق عظیم برازیلین فٹبالر رونالڈو عالمی کپ کے میسکوٹ زابی واکا کے ہمراہ جلوہ افروز ہوئے۔15سے20 منٹ تک جاری رہنے والی افتتاحی تقریب میں روبی ولیمز نے اپنی شاندار پرفارمنس سے اسٹیڈیم میں موجود شائقین کے دل جیت لیے جہاں انہوں نے اپنے مشہور گانوں “لیٹ می انٹرٹین یو” اور “روک ڈی جی” سے محضوض کیا اور ان کے ساتھ ڈانسرز نے اسٹیج پر سماں باندھ دیا۔تقریب کا زیادہ تر توجہ موسیقی کا حاصل رہی جہاں گیری فلونا نے ولیم کے ساتھ مل کر ماحول کو مزید دلچسپ بنا دیا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ روس کے مقامی رقص اور کرتبوں نے بھی شائقین کی دلچسپی کا سامان پیدا کیا۔تقریب کے بعد روس کے صدر ولادمیر پیوٹن نے ورلڈ کپ کے باقاعدہ آغاز کا اعلان کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ میں دنیا کی اس اہم ترین چیمپیئن شپ کے آغاز پر آپ سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
ضیاءشاہد کی کتاب ”ہنستا کھیلتا عدنان “ تیرا ایڈیشن شائع ہو گیا کتاب مرحوم کی بائیو گرافی ،بڑے کالم نگار وں کے خراج تحسین پر مشتمل ہے
لاہور (سٹاف رپورٹر) ممتاز تجزیہ نگار معروف ادیب ضیاشاہد کی نئی کتاب ”ہنستا کھیلتا عدنان“ علامہ عبدالستار عاصم اور محمد فاروق چوہان کی زیرنگرانی خوبصورت دیدہ زیب ٹائٹل اور دوسو فور کلر اور بلیک اینڈ وائٹ تصویر کے ساتھ تیسرا ایڈیشن شائع ہوگیا۔ یہ کتاب جناب عدنان شاہد کی بائیو گرافی اور اپنے عہد کی تاریخ بھی ہے بڑے کالم نگاروں کا خراج تحسین ہے۔ یہ کتاب ہر کامیاب بیٹے کی کہانی بھی ہے اور نوجوانوں کیلئے مشعل راہ بھی ہے۔ اس کتاب میں جناب الطاف حسن قریشی ‘ مجیب الرحمان شامی‘ بشریٰ رحمن‘ حسن نثار‘ اطہر مسعود‘ جاوید چودھری‘ فاطمہ ثریا بجیا‘ ڈاکٹر اجمل نیازی‘ شریف فاروق‘ سلمیٰ اعوان‘ عبدالودود قریشی‘ بشریٰ اعجاز‘ صوفیہ بیدار‘ ہارون الرشید‘ فاروق قیصر‘ راجہ انور‘ خواجہ پرویز‘ نیاز حسین لکھویرا‘ ڈاکٹر نوشین عمران‘ محمد صغیر قمر‘ محسن گورایہ‘ جمیل اطہر‘ محمد فاروق عادل‘ ڈاکٹر ندیم گیلانی‘ عبدالستار عاصم‘ سجاد جہانیہ‘ محمد قذافی بٹ اور دیگر عہد ساز ادیبوں‘ کالم نگاروں کے تاریخ ساز ‘ زندہ جاوید کالم بھی ہیں‘ یہ کتاب ہر بڑے بک سٹال اپنے ہاکر یا قلم فاﺅنڈیشن انٹرنیشنل یثرب کالونی‘ بینک سٹاپ والٹن روڈ لاہور کینٹ qalamfoundation3@gmail.com /0300-8422518 03000515101 سے حاصل کرسکتے ہیں۔
مشرف پر کئی مقدمات ،فرد جرم کیوجہ سے پاکستان کیسے آتے کہا جاتا ہے کہ اعظم خان عمران فاﺅنڈیشن کے ممبر نہ جانے کس قابلیت پر نگران وزیرداخلہ بنائے گئے؟معروف صحافی ضیاءشاہد کے چینل ۵کے مقبول پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ “میں انکشافات ،دبنگ گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ جہاں تک مشرف کے کیسز کا تعلق ہے ان کے وکلاءکو روشنی ڈالنی چاہئے ان پر ایک کیس لال مسجد، اکبر بگٹی کا قتل کیس ہے۔ وہ براہ راست قتل نہیں بنتا۔ لیکن چونکہ سیاسی دباﺅ تھا وہ کیس انٹر ہو ا۔ بڑا کیس وہ یہ ہے کہ انہوں نے منتخب وزیراعظم نوازشریف کو اس طرح اچانک حکومت سے باہر کر دیا اور خود مارشل لا ڈکلیئر کر کے چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر بن گئے۔ وہ زیادہ سیریس ہے میں سمجھتتا ہوں کہ آرٹیکل 6 کے تحت شکایت کی گئی تھی۔ دو کیسز میں ان کے وارنٹس جاری ہو چکے ہیں اس لئے جونہی وہ پاکستان آتے ہیں تو ریسٹ کر لیا جائے گا۔ اور یہ ممکن نہیں ہو سکتا کہ وہ گرفتار ہونے کے لئے پاکستان آئیں۔ چیف جسٹس صاحب کی یقین دہانی صرف اتنی تھی کہ ایئرپورٹ سے عدالت تک ان کو گرفتار نہیں کیا جائے گا لیکن ان کے پارٹی کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ یہ ادھوری یقین دہانی ہے کہ وہ جب عدالت کے باہر نکلیں تو ان کو گرفتار نہیں کیا جائے کوئی صحیح الدماغ ہو تو دبئی سے گرفتار ہونے کے لئے کیوں آئے گا۔ اور ان کیسز میں جو ڈکلیئر ہو چکے ہیں بے نظیر قتل کیس کے بارے میں ان پر کیس ہے حالانکہ وہ ڈائریکٹر نہیں ہے انہوں نے براہ راست بے نظیر بھٹو کو قتل نہیں کیا۔ ان ڈائریکٹ کہا گیا ہے وہ سازش میں شریک تھے۔ میں نے کل بھی کہا تھا۔ پرویز مشرف واپس نہیں آئیں گے۔ آنے پر رسسک تھا جو انہوں نے نہیں لیا۔ لیکن ان حالات میں اپنے آپ کو ذرا ان کی جگہ رکھ کر دیکھیں آپ کا لفظ بڑا معروف ہوا جو شہباز شریف نے نیب کورٹ میں بیان دیا تھا کہ مجھے کسی پاگل کتے نے کاٹا ہے اور پھر یہی لفظ انہوں نے سپریم کورٹ میں بھی کہے۔ جس دن ان کو پانی کے مسئلے پر سپریم کورٹ بلایا گیا تھا کہ جسے کسی پاگل کتے نے کاٹا تو آپ پرویز مشرف کو کسی پاگل کتے کاٹا ہے وہ یہاں آئیں۔302 کے کیسز جو وارنٹ نکلتے ہیں وہ کافی سیریس معاملہ ہوتا ہے انہوں نے قتل کیا تھا نہیں کیا تھا۔ یہ تو بات بعد کی بات ہے عدالت میں پیش ہو کر اپنی صفائی دینی تھی انہیں ان کی عدم موجودگی میں جو کارروائیاں ہو چکی ہیں ان کے وارنٹس بھی ہو چکے ہیں اور فرد جرم بھی ہو چکی۔ میں نہیں سمجھتا کہ مکمل یقین دہانی کے بغیر وہ کبھی پاکستان واپس نہیں آئیں گے۔ میاں محمد نواز شریف کے بارے میں پورا یقین ہے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ سیاست میں ہیں وہ افورڈ نہیں کر سکتے کہ وہ کہہ کر چلے جائیں کہ واپس آﺅں گا اور واپس نہ آئیں۔ ان کی سیاسی ساکھ کا مسئلہ ہے جو شخص اعلان کرتا پھر رہا ہو پاکستان کے مختلف شہروں میں کہ میں 5 جج جنہوں نے مجھے نااہل کیا ہے میں انہیں کٹہرے میں لاﺅں گا جو شخص فوج کے بارے ان ڈائریکٹ لگاتا ہو آئین پاکستان میں دو باتیں رٹا لگائی نہیں کہ ایک تو اسلام اور نظریہ پاکستان کے خلاف ہم کوئی بات نہیں کر سکتے اور نمبر2 پاک فوج کے خلاف بات نہیں کر سکتے۔ یہ جو نقطہ نظر ہے یا اصول ہے مختلف حکومتوں کے دور میں پچھلے 50 سال میں لاگو دیکھتا رہا۔ چنانچہ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کی فوج کے خلاف آصف زرداری نے پرخچے اڑا دیئے اور یہ کہا کہ میں ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا اور اب نواز شریف اور ان کی صاحبزادی نے فوج کے وہ لتے لئے کبھی کہا کہ غیبی طاقتیں ہیں اور کبھی کہا فلائی مخلوق ہے کبھی کہا کہ ہمارے ممبر توڑ رہے ہیں، کبھی کہا کہ ہمارے خلاف پوری غیر قانونی کارروائی کر رہے ہیں اور اب آخر میں الزام لگایا کہ جنوبی پنجاب میں جتنے ایم این اے نے ان کو چھوڑا وہ سارے ایم این اے پی ٹی آئی میں چلے گئے یہ بھی خلائی مخلوقق کروا رہی ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ اتنے سارے الزامات کے باوجود لگتا ہے پاکستان کا آئین بھی یہاں ناقابل عمل ہے اور نہ اس پر کوئی عملدرآمد ہو رہا ہے اس سے بڑی بات یہ کہ جب پہلی مرتبہ ان پر ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا وقت آیا تو احسن اقبال نے یہ قانون بنا دیا کہ میں فیصلہ نہیں کر سکتا بلکہ پارلیمانی پارٹی کرے گی اب جاتے جاتے بھی وہ اس میں یہ ترمیم کر گئے کہ اگر آپ کو کسی قسم کی کوئی کارروائی کرنا ہے احتساب کورٹ نے کہا کہ نوازشریف کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے۔ میں تین دن پروگرام کرتا رہا کہ احتساب عدالت کے جج بشیر صاحب اور مریم نواز کو اجازت دیں کہ وہ اپنی والدہ کی عیادت کر سکیں۔ اور احسن اقبال نے اپنے دور میں عمل نہیں ہونے دیا اور جاتے جاتے اعظم خان صاحب میں تو جانتا نہیں وہ کون صاحب ہیں اگر نئے نئے لوگ نگران حکومتوں میں آ گئے ہیں نہ ان کا کوئی بیک گراﺅنڈ ہے نہ ان کا تجربہ بتایا گیا ہے محکمہ اطلاعات وفاقی حکومت نے اتنی زحمت گوارا نہیں کی کہ ذرا یہ تو بتا دیں کہ یہ جو آگے ہی کچھ لوگوں کے نام سے لوگ واقف ہیں ان کا کیا حدود اربعہ ہے ان کی کیا خصوصیت رکھیں گئی ہے بہرحال جو اعظم خان صاحب ہیں ان کے بارے میں پہلا سکینڈل آتے ہی چھڑا کر انہوں نے زلفی بخاری صاحب جو عمران خان کے ذاتی دوست تھے ان پر ای سی ایل کی پابندی کے باوجود ان کے عملے کے ایک شخص نے فون کر کے ان کو باہر جانے کی اجازت دے دی۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عمران خان فاﺅنڈیشن کے ممبر بھی ہیں اس لئے انہوں نے دباﺅ میں آ کر اجازت بھی دے دی۔
جتنے جلسوں میں نواز شریف صاحب نے تقریریں کرتے رہے۔ پاکستان میں قانون موم کی نام ہے بڑی معذرت کے ساتھ اس وقت کوئی قانون پاکستان میں نافذ العمل نہیں ہے۔ اس لئے کہ میں نے آئین پاکستان میں پڑھا پاکستان کی فوج کے خلاف کچھ نہیں کہا جا سکتا اور میں پچھلے 6 مہینے سے ان پر تبرے سن رہا ہوں اور میں نے نہیں سنا کہ کسی ایک شخص پر معمولی سی ایف آئی آر بھی کی ہو کہ آپ فوج کے بارے میں یہ کیا فرما رہے ہیں۔ ایکشن لینے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ قانون نافذ العمل نہیں ہے۔ جب سے جرنلزم کرکے سنا کہ پاکستان کی جوڈیشری کے بارے میں کم نہیں کہا جا سکتا۔ سبحان اللہ! قربان جایئے اس روش کے پاکستان میں ایک بندہ کھل کر کہتا ہے کہ جن 5 ججوں نے میرے خلاف فیصلہ دیا ہے میں ان کو کٹہرے میں لاﺅں گا۔ وہ جج بھی چپ ہیں اور عدالتیں بھی چپ ہیں اب تو جس کا جو جی چاہتا ہے۔ قانون کدھر ہے۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ اس ملک کے عام بندے کیڑے مکوڑے ہیں یہ ڈھور ڈنگر ہیں ان کی کیا اہمیت ہے ہمیں تو ایک اے ایس آئی پکڑ کر تھانے میں لے جاتا ہے اور تھانے میں بھی رکھتا۔ ہر محلے میں ہر شہر میں پرائیویٹ جیل خانہ جات ہیں سب کو پتہ ہے پولیس کہاں لے جا کر مار پٹائی کرتی ہے۔ عامآدمی کے لئے سارے قانون موجود ہیں۔ میں تو بڑے بڑے مقدس گاﺅں کی بات کر رہا ہوں۔جہاں تک سعد رفیق صاحب کا فارم میں دوسری بیوی کا نام دیا ہے۔ خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے سچ تو بولا ورنہ اس ملک میں 4 افراد کو جانتا ہوں جن میں ایک صوبے کا چیف منسٹر بھی، ان کی منکوحہ بیویوں کی تعداد 7 ہے وہ بیویاں یا ان کی محبوبائیں جن کا شمار نہیں ان کی تعداد 21 ہے ان کا نام بھی فارموں میں شامل نہیں ہے تو تحقیق کرنے کی بات ہے۔ مجھے تو دلچسپی نہیں میری طرف سے 40 بیویاں رکھیں۔ لیکن یہ ملک جھوٹ کا ملک ہے جھوٹ کی سرزمین ہے۔ سیاستدان بڑھ چڑھ کرجھوٹ بولتے ہیں۔ ابھی مجھے 5 منٹ پہلے راجہ بشارت کا (سابق وزیر قانون جو پرویزالٰہی کے دور کے تھے) ایک شادی شدہ عورت جس کے دو بچے تھے شوہر کا نام کامران تھا اس سے اظہار عشق فرمایا۔ انہوں نے شوہر کامران سے طلاق لے کر بشارت راجہ سے شادی کر لی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام قوانین کے مطابق شادی کا باقاعدہ اعلان کرنا چاہئے، ولیمہ تقریب کا یہی مقصد ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ خفیہ شادی، شادی نہیں گناہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کے کاغذات نامزدگی کے خلاف جو ٹیکس نادہندہ ہونے کے اعتراضات داخل ہوئے ہیں وہ واجبات تو انہوں نے ادا بھی کر دیئے ہوں گے البتہ عمران خان پر سیتا وائٹ کیس کا اعتراض کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے۔ اس بات کا جواب تو عمران خان یا ان کے وکلاءہی دے سکتے ہیں کہ انہوں نے کاغذات نامزدگی میں بیٹی کا ذکر کیوں نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اخبار نویس و تجزیہ کار کی حیثیت سے میرا اندازہ ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ملک میں نون لیگ نمبر ون پر تھی، وفاق و پنجاب میں سب سے زیادیں سیٹیں رکھتی تھی لیکن پتہ نہیں کون سے مشیر تھے جنہوں نے نوازشریف کو نااہلی کے بعد مشورہ دیا کہ عدلیہ و فوج پر چڑھ دوڑیں، پھر انہوں نے شیخ مجیب الرحمن، حسینہ واجد، ممبئی حملوں سے متعلق بیان سمیت ایسے ایسے کام کئے کہ اب پنجاب میں ان کے خلاف مخالفانہ مہم چلی ہے۔ شہباز شریف کو بھی کہنا پڑا کہ نوازشریف کے انڈیا و فوج سے متعلق بیانات سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ نوازشریف سے کوئی تعلق نہیں۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب تقریروں میں بڑے بھائی کی واہ واہ بھی کرتے ہیں۔ جیسے بیانات نواز شریف نے دیئے ہیں پنجاب کے لوگ ایسی باتیں پسند نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ نون لیگ کے بہت سارے لوگ ان سے الگ بھی ہوئے، جنوبی پنجاب میں پہلے ایک محاذ بنا پھر وہ تحریک انصاف میں چلے گئے۔ ایک بات طے ہے کہ اب 2013ءکے الیکشن نتائج نہیں دہرائے جا سکتے، عام انتخابات میں نون لیگ و پی ٹی آئی کے درمیان زبردست مقابلہ ہو گا۔ سندھ لگتا ہے شاید آصف زرداری نے الاٹ کرا لیا ہوا ہے۔ لیکن اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پی پی و ایم کیو ایم کو 2013ءجیسی سیٹیں نہیں ملیں گی۔


















