لاہور(نیوزایجنسیاں)پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) فرنچائز لاہور قلندرز کے مالکان نے معاہدے کی خلاف ورزی پر جنوبی افریقہ کرکٹ بورڈ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کرلیا۔پی ایس ایل کی مقبول فرنچائز لاہور قلندرز نے جنوبی افریقہ گلوبل لیگ میں ڈربن قلندرز کے نام سے فرنچائز خریدی تھی تاہم لیگ ختم کردی گئی جس کے بعد ڈربن قلندرز کے پاکستانی فرنچائز مالکان نے کرکٹ جنوبی افریقہ کے خلاف معاہدے کی خلاف ورزی کرنے پر قانونی چارہ جوئی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ڈربن قلدرز کے مالکان کا کہنا ہے کہ ہمارے بغیر جنوبی افریقہ میں کسی لیگ کا انعقاد معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔یاد رہے کہ لاہور قلندرز کے مالکان نے گزشتہ سال گلوبل لیگ میں ڈربن قلندرز کے نام سے ٹیم خریدی تھی۔ جنوبی افریقہ کرکٹ بورڈ نے گزشتہ سال پہلے یہ ٹی ٹوئنٹی لیگ ملتوی کی اور پھر اس لیگ کو ختم کرکے نئے نام سے لیگ کرانے کا اعلان کردیا۔گلوبل لیگ کے روحِ رواں ہارون لوگارٹ کو بھی بدانتظامی کی وجہ سے ملازمت سے فارغ کردیا گیا تھا اور نئی لیگ میں تمام آٹھ پرانے مالکان کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔لاہور قلندرز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) رانا عاطف نے بتایا کہ ہم نے اپنے قانونی مشیر کے ذریعے کرکٹ جنوبی افریقہ کو لیگل نوٹس بھیجا ہے جس میں مو¿قف اختیار کیا گیا ہے کہ ہمارے بغیر جنوبی افریقہ میں کوئی ٹی ٹوئنٹی لیگ نہیں ہوسکتی، ہم آپ کے ملک میں کرکٹ کا فروغ چاہتے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ڈپازٹ کے طور پر ڈھائی لاکھ ڈالرز جمع کرائے تھے ہمیں ساڑھے تین فیصد انٹرسٹ کے ساتھ مزید ایک لاکھ 80 ہزار ڈالرز واپس کئے گئے ہیں کیوں کہ ہم نے ٹیم خریدنے کے دوران خرچے بھی کئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ ہمارے علاوہ تمام فرنچائزز نے رقم واپس لے لی ہے لیکن ہم نے قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ہماری ٹیم کو نئی لیگ میں شامل کیا جائے۔لاہور قلندرز آئندہ ماہ سے بڑے پیمانے پر پلیئرز ڈیولپمنٹ پروگرام شروع کررہے ہیں جس میں گلگت سے بھی نئے ٹیلنٹ کی تلاش شروع کی جائے گی۔
Monthly Archives: June 2018
ٹاپ آل راونڈرز کی فہرست میں جگہ بنانا ہدف فہیم
ایڈنبرا (نیوزایجنسیاں ) قومی کرکٹ ٹیم کے آل راو¿نڈر فہیم اشرف نے کہا تمام فارمیٹس میں ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے اچھا آل راﺅنڈبنناچاہتاہے اوراپنی پرفارمنس سے دنیا کے ٹاپ آل راﺅنڈرزکی فہرست میں اپنانا درج کراناہدف ہے۔ایک انٹرویوکے دوران نوجوان آل راﺅنڈرزنے کہا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم ایک مستحکم یونٹ کے طور پر کامیابی کے ساتھ کھیل رہی ہے جو ٹیم انتظامیہ کی بہترین کاوش اور محنت کا نتیجہ ہے۔سکاٹ لینڈ کیخلاف ٹی 20سیرزکے دوسرے میچ میں تین وکٹیں لے کر فتح کی ضمانت بننے والے فاسٹ باﺅلر کا کہنا تھا کہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر کی ہمیشہ یہ ہدایت ہوتی ہے کہ اپنے لحاظ سے بالنگ کرتے ہوئے فیلڈنگ کی بھرپور سپورٹ حاصل کرو اور وہ ایسا ہی کرتے ہیں۔فہیم اشرف کے مطابق دونوں میچز میں انہوں نے اپنا ٹوٹل زیادہ نہیں سمجھا لیکن دونوں میچوں میں بالنگ بہت اچھی رہی کیونکہ انگلینڈ کیخلاف سیریز سے جو سیکھا وہ یہاں کارآمد رہا۔
سب حمزہ کا کیا دھرا ، میری ایک نہ سنی گئی ،زعیم قادری شاید بلدیاتی سر براہوں کے اختیارات معطل کرنا پڑیں ،نگران وزیر داخلہ ن لیگ نے ناجائز حربوں سے الیکشن جیتنے کی کوشش کی تو انتخابات نہیں ہونگے،ضیائشاہد ملتان میں گورنر رجوانہ کا بیوروکریسی پر مکمل کنڑول ہے ،میاں غفار پولیس تبادلوں کی لسٹ آئی جی ،ڈپٹی کمشنر نے بنائی،طلال اشتیاق گورنر ہاوس ن لیگ کا الیکشن سیل بنا ہواہے ،احسان ناز چینل ۵کے پروگرام ”ضیاءشاہد کے ساتھ “میں گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ زعیم قادری کافی پرانے سیاسی ورکر ہیں۔ ان کے والد جسٹس شمیم قادری تھے۔ بڑی اچھی پولیٹیکل فیملی ہے۔ انہوں نے بڑی بھاگ دوڑ کی ہے مسلم لیگ ن کے لئے۔ حیرت ہے ان لوگوں کو اتنی دیر بعد کیوں یاد آ رہا ہے کہ ادھر کوئی جوتے پالش کرنے پڑتے ہیں۔ ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا۔ میری اطلاع کے مطابق اگلے میں زعیم قادری پہلے آم نہیں ہیں جو اُوپر سے ٹپکے ہیں۔ میری معلومات کے مطابق 3 سے 4 آدمی اگلے 10 دنوں میں مسلم لیگ کے درخت سے ٹوٹنے والے ہیں۔ وہ اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز انکشافات کریں گے۔ زعیم قادری بہت مہذب انسان ہیں ان کو کبھی ایگریسو سٹائل سے کسی سے بات کرتے نہیں دیکھا۔ بعض چیزیں تبدیل نہیں ہو سکتیں۔ جو جملہ انہوں نے آج فرمایا یہی جملہ بہت برس پہلے میرے گھر پر آئے ”میرے دوست محمد نوازشریف“ کی قسطیں لکھ رہا ہوں اس میں لکھا ہے کہ میاں اظہر جب میرے پاس آئے تو یہی الفاظ ان کے تھے کہ میں ان کا مالشیہ نہیں ہوں میں ان کے جوتے نہیں پالش کر سکتا۔ یہ بدقسمتی سے مسلم لیگ ن میں جو سب سے زیادہ قبل اعتماد، سب سے زیادہ محنتی لوگ رہے ہیں نوازشریف فیملی کا پرابلم رہا ہے ایک ایک کر کے ایک صاحب تو مجھ سے بحث کر رہے تھے کہ آپ پنسل کاعذ لے لیں میں آپ کو لکھواتا جاتا ہوں کہ جو پہلے 10,5 چہرے نظر آ رہے تھے نوازشریف کے دائیں بائیں جب یہ پہلی دفعہ وزیر بنے کیا وہ وزیراعلیٰ بنے تو نظر آئے اور جب وزیراعلیٰ تھے تو وہ جب وزیراعظم بنے تو اس وقت نظر آئے۔ میاں صاحب کے انداز تکلم، انداز گفتگو پریہی جملے آپ ذوالفقار کھوسہ سے سنیں گے۔ ان کے بیٹے کو اتنا قابل اعتماد سمجھا جاتا تھا کہ شہباز شریف کی جگہ اس کو وزیراعلیٰ بنایا گیا۔ میاں غفار نے کل کے پروگرام میں کہا تھا کہ آپ شہباز شریف کی بات کر رہے ہیں آخری پانچ سال تو ایس ایس پیز کے انٹرویو تو حمزہ شہباز کرتے ہیں۔ حمزہ بطور ایم این اے قومی اسمبلی جاتے نہیں تھے۔ وہ تو ڈپٹی وزیراعلیٰ کے طور پر تقرریاں، تبدیلیاں وہ کرتا تھا۔ ایس ایس پی اور ڈی سی او حضرات کے انٹرویو وہ لیتا تھا نوازشریف فیملی میں برابلم رہا ہے کہ بادشاہوں کا ایک خاندان ہے مغل شہزادوں کا مزاج رکھتے ہیں۔ کاش میرا دوست نوازشریف اداروں کو مضبوط کرتے اور نظام کو مضبوط کرتے، میں نے اپنی زندگی میں بہت قریب سے دیکھا ہے کبھی مسلم لیگ ن میں کبھی کوئی سسٹم اور سٹرکچر نہیں دیکھا۔ ریاض پیرزادہ والی بات ہے اس سے پہلے خلیل رمدے کے بھائی کا بڑا مسئلہ تھا۔ کیوں زعیم قادری کو 10 سال خیال نہ آیا۔ نوازشریف کے گرد بڑے شاطر لوگ تھے۔ یہی اصل وجہ ہے۔زعیم قادری نے کہا ہے کہ بیس سال کا قصہ ہے مجھے روز پیچھے اس لئے دھکیلا جاتا تھا کہ میں یہ کام نہیں کر سکتا۔ میں بار بار اس بات کا عندیہ قیادت کی خدمت میں رکھتا رہا کہ قیادت نے اس پر کان نہیں دھرے، قیادت نے سب کچھ حمزہ کو سونپے رکھا۔ میری برداشت سے باہر ہو گیا اور میں نے چھوڑ دیا۔ میں اپنے حلقے سے الیکشن لڑوں گا اور آزاد حیثیت سے الیکشن لڑوں گا۔ ضیا شاہد نے کہا کہ حمزہ شہباز ایم این اے تھے ان کا کام نہیں تھا کہ وہ صوبے میں سرکاری افسروں کے انٹرویو کرتے۔ آپ جیسے سمجھدار باعزت لوگ اب آپ کو الیکشن کے موقع پر یاد آیا۔ کیا 5 سال نہیں دیکھ رہے تھے کہ ساری نوکریاں حمزہ شہباز دے رہے ہیں۔ سارے انٹرویو وہ کرتے ہیں۔ ضلع کے افسر وہ لگاتے ہیں اس وقت آپ لوگ کس خوشی میں خاموش تھے اور جب کوئی سیاسی ٹرننگ ہوتی ہے تو اس وقت آپ کو یاد آتا ہے کہ یہ تو مالشیوں کو پسند کرتے ہیں۔ آپ باصلاحیت انسان ہیں۔ ن لیگ کا ورکر تو جائے گا۔ یہ فرد کی لڑائی نہیں ہے آپ سسٹم کی طرف توجہ دلا رہے ہیں۔ ضیا شاہد نے کہا کہ بات یہ ہے مسلم لیگ سارے افسر، سارے ایس ایس پی ان کے ہیں۔ گنتی کروا دیتا ہوں۔ گورنر ہاﺅس ن لییگ کے میڈیا سیل بنے ہوئے ہیں اور آج دن بھر گورنر ہاﺅس لاہور میں کون کون لوگ آتے رہے اور کتنے لوگ وہ تھے جن کی تقرری ضلعوں میں ہو چکی ہے وہ سلام کرنے آ رہے تھے جناب۔ ڈالی لے کر گئے تھے وہ سلام کرنے گئے تھے کہ ہم آپ کے خدمت گزار ہیں۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر مسلم لیگ ن نے جو 2013ءکی طرح یہ کوشش کی کہ الیکشن کو اپنے طریقے سے جیتنے کی تو الیکشن نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کوشش کی کہ ہر قیمت پر جائز ناجائز جیتیں اور دوبارہ پنجاب میں اور وفاق میں ان کی حکومت آ جائے تو الیکشن نہیں ہوں گے۔ سابق سیکرٹری الیکشن کمشن کنور دلشاد نے کل بتایا تھا کہ میں نے 2008ءکے الیکشن میں خود دستخط کئے تھے کہ فلاں مرکز کے تحت جو میئر اور چیئرمین ہیں اور ضلع کونسل کے ارکان ہیں ان کو ہم معطل کر دیا تھا الیکشن کے انعقاد کے عرصے میں۔ میرا سوال ہے کہ اگر 2008ءمیں لوکل گورنمنٹ کو معطل کر دیا تھا تو اس بار کیوں معطل نہیں کیا۔ چونکہ گورنر سیاسی ہیں کتنے ہی وہ ایمانداری کریں کس طرح سے ہو سکتا ہے۔ گورنر صوبے کا آئینی سربراہ ہوتا ہے لاہور میں سب سے بڑا گھر گورنر ہاﺅس ہے ہر صوبے میں سب سے بڑا گھر کراچی، پشاور، کوئٹہ میں سب سے بڑا گھر ان کا ہے۔ پٹواری بھی اپنے گھر میں شیر ہوتا ہے آپ اتنے بڑے عہدے کی بات کر رہے ہیں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے بیگم صاحبہ آئیں تو چراغ بجھا دیا کہ اس میں سرکاری تیل جل رہا ہے۔ تم مجھ سے ذاتی بات کر رہی ہو۔ اگر آپ کا خیال ہے کہ اچکزئی صاحب حضرت عمر بن عبدالعزیز ثانی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے بہت فون آئے، کہا جاتا ہے کہ بیورو کریسی کے تبادلے ضلعوں کے درمیان ہوتے ہیں۔ نگران وزیراعلیٰ نے اس کی منظوری دی۔ ملتان جیسے شہر میں جہاں تحریک ختم نبوت کا ہیڈ آفس ہے وہاں ملک اللہ بخش کو بھیج دیا گیا ہے جو قادیانی ہے۔ اس حوالے سے ختم نبوت کے اجلاس بھی ہو رہے ہیں۔ ملک اللہ بخش پر قادیانی ہونے کا الزام ہے، شہباز شریف کی ناک کا بال شمار ہوتے ہیں۔ ضلعوں کے درمیان ادلیٰ بدلی کوئی تبدیلی نہیں، حسن عسکری صاحب ان الیکشن کو کوئی نہیں مانے گا اور آپ کے خلاف بڑی تحریک شروع ہو گی۔ شوکت جاوید کے خلاف تو باقاعدہ تحریک شروع ہو چکی ہے کہ وہ اپنے فرائض میں دلچسپی نہیں لے رہے۔ پولیس تبادلوں کے خلاف لوگوں نے آسمان سر پر اٹھایا ہوا ہے۔
مکی نے پی سی بی میڈیکل پینل سے پلیئرزکی فٹنس رپورٹ لے لی
لاہو(آئی این پی) پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے پی سی بی میڈیکل پینل، قومی سلیکشن کمیٹی سے کھلاڑیوں کی فٹنس کے بارے میں رپورٹ لی ہے۔ذرائع کے مطابق یاسر شاہ، عماد وسیم اور رومان رئیس کی فٹنس کو جانچنے کیلئے انہیں لاہور طلب کیا گیا ہے جہاں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ٹرینرز اور فزیو کی موجودگی میں ان کی فٹنس کا جائزہ لیا جائیگا ،بابراعظم کی زمبابوے کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شرکت مشکوک ہے ، و ہ ون ڈے میچز تک فٹ ہوجائیں گے۔
میسی سے ملاقات کی خواہش،ٹیچر کا سائیکل پر انڈیا سے روس کا سفرشروع
نئی دہلی (سی پی پی) انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ میں ریاضی کے استادکلفین فرانسس نے کہا ہے۔فٹبال دیکھنے کا شوقین اور میسی کا مداح ہوں۔ورلڈکپ فٹبال کے میچز دیکھنے کا شوق تھا لیکن وسائل نہ ہونے کے باعث سائیکل پر روس جانے کا شفر شروع کردیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ میں نے دبئی کا فضائی سفر کیا پھر وہ دبئی سے فیری کے ذریعے ایران پہنچے جہاں سے سائیکل پر روس کا دارالحکومت اب بھی ہزاروں کلو میٹر دور تھا۔فرانسس نے بتایا کہ مجھے سائیکلنگ سے محبت ہے اور میں فٹبال کے بارے میں پاگل ہوں۔ میں نے اپنے دونوں جذبات کو اکھٹا کیا۔انھوں نے پاکستان کے ذریعے سفر کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی تاہم انڈیا کے ساتھ کشیدگی کی وجہ سے انھیں یہ خیال ترک کرنا پڑا۔فرانسس نے بتایا کہ منصوبے میں تبدیلی مجھے بہت مہنگی پڑی ،میں اپنی سائیکل دبئی نہیں لے جا سکتا تھا اور وہاں مجھے نئی سائیکل خریدنی پڑتی جس کی قیمت 700 امریکی ڈالر تھی ،یہ طویل فاصلے کے سفر کے لیے بہترین نہیں تھا لیکن یہ سب کچھ میں برداشت کر سکتا تھا۔انھوں نے کہا کہ اب ٹامبوف شہر تک پہنچ چکا ہوں جو ماسکو سے 460 کلومیٹر دور ہے ، مجھے 26 جون تک روس کے دارالحکومت ماسکو پہنچنا جہاں فرانس اور ڈنمارک کے درمیان فٹبال کے عالمی کپ کا میچ کھیلا جائیگا فرانسس نے بتایا کہ یہ واحد میچ تھا جس کا ٹکٹ حاصل کرنے میں، میں کامیاب رہا۔میں ارجنٹائین کی ٹیم کو سپورٹ کرتا ہوں اور لیونل میسی میرے پسندیدہ کھلاڑی ہیں ،میں ان کی پوجا کرتا ہوں۔ میرا خواب ہے کہ میں ان سے ملوں اور ان سے درخواست کروں کہ وہ میری بائیسکل پر دستخط کریں۔
چیمپئینز ٹرافی کا میدان کل سے سجے گا
ایمسٹرڈیم(اے پی پی) چیمپئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ (کل) ہفتہ کو ہالینڈ کے شہر شہر بریڈا میں شروع ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق میگا ایونٹ میں 6 مختلف ممالک کی ٹیمیں ٹائٹل کے حصول کے لئے ایکشن میں نظر آئینگی۔ چیمپئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے والی ٹیموں میں دفاعی چیمپئن آسٹریلیا، پاکستان، بھارت، میزبان ہالینڈ، ارجنٹائن اور بیلجیئم شامل ہیں۔ آسٹریلیا کی ٹیم ٹائٹل کا دفاع کریگی۔تربیتی کیمپ کے دوران پنالٹی کارنر لگانے، بھر پور انداز میں دفاع کرنے اور حریف سائیڈ کے گول پوسٹ پر اچانک حملہ کرنے کی خصوصی مشقیں شروع کردی گئی ہیں، بلو شرٹس کے میچز کی وڈیو فوٹیج دیکھ کرحکمت عمل بھی تیار کی جا رہی ہے۔ ٹیم مینجمنٹ کی طرف سے پلیئرزکوذہنی طور پر مضبوط کرنے کیلیے روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی ٹیم میٹنگز میں باور کرایا جا رہا ہے کہ وہ عالمی سطح کے بہترین کھلاڑی ہیں، اعصابی دبا پر قابوپاکردنیا کی کسی بھی ٹیم کو شکست دینے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں، بھارت کیخلاف بھی کسی بھی قسم کا پریشراور خوف اپنے اندر لانے کے بجائے نیچرل کھیل پیش کر کے وہ میچ کا نتیجہ اپنے نام کر سکتے ہیں۔ پاکستان ٹیم کی قیادت رضوان سنیئر کرینگے۔ ٹورنامنٹ کل ہفتہ سے یکم جولائی تک ہالینڈ کے شہر بریڈا میں کھیلا جائے گا۔ پاکستان ٹیم اپنا پہلا میچ کل روایتی حریف بھارت کے خلاف کھیلے گی۔ پاکستان اپنا دوسرا میچ 24 جون کو آسٹریلیا ، تیسرا میچ 26جون کو ہالینڈ ، چوتھا میچ 28 جون کو ارجنٹائن اور پانچواں میچ 29جون کو بیلجیم کے خلاف کھیلے گا۔ واضح رہے کہ پاکستان تین بار چیمپئنز ٹرافی کا ٹائٹل جیت چکا ہے۔ واضح رہے کہ میگا ایونٹ کا فائنل میچ یکم جولائی کو کھیلا جائیگا۔
کلاسک لیگ میںفٹبالرزکاتحفظ یقینی بناناہوگا،اعظم ملک میگا ایونٹ کاانعقاداکتوبرنومبرمیں ہوناہے،پی ایف ایف معاملے پرکوئی کوتاہی نہ برتے سٹابری سپورٹس نے خبریں کے ایکشن لینے پرکبڈی پلیئرزکومعاوضہ اداکیا،گگلی میں گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے رپورٹر اعظم ملک نے کہا کہ پی ایف ایف کے سینئر عہدیداران سے ہماری بات ہوئی ہے اس سے قبل بھی سٹابری سپورٹس مینجمنٹ کمیٹی نے چینل ۵ اور خبریں میں خبر شائع ہونے کے بعد ہی ادائیگیاں کی تھیں،چینل ۵ کے پروگرام ”گگلی“ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے عہدیدارشاہد نے بتایا کہ فٹبال کے ایونٹ اکتوبر نومبر میں ہونگے، کھلاڑیوں کے حقوق اداکرنا ہماری ذمہ داری ہے ، اس سے قبل ہم پاکستان پریمئر لیگ کی تاریخ کا اعلان کرینگے جس کے بعد کلاسک فٹبال لیگ کا اعلان ہوگا، انہوں نے بتایا سٹابری سپورٹ مینجمنٹ کی پیسوں کی ادائیگیوں کے حوالے سے ہم نے کوئی کوتاہی نوٹس نہیں کی ، میرے خیال میں ہمیں سٹابری سپورٹس مینجمنٹ کی کاوشوں کی تعریف کرنی چاہئے ، ایک سوال پر کہ فٹبال فیڈریشن خود لیگ کراتی ہے تو ہم پر مینجمنٹ کمپنی کے ساتھ معاہدہ کی کیا ضرورت ہے تو فٹبال فیڈریشن کے عہدیدار نے کہا کہ اگر پرائیویٹ سیکٹر دلچسپی رکھتی ہے تو اس کی پذیرائی کرنی چاہئے۔
ہاکی چمپئنز ٹرافی کو ختم کرنا افسوس ناک ، شہناز شیخ
راولپنڈی(آئی این پی)پاکستانی ہاکی لیجنڈ شہناز شیخ نے کہا ہے کہ چیمپئنز ٹرافی میں روایتی حریف بھارت کے خلاف میچ دلچسپ ہوگا، جو ٹیم اچھا کھیلے گی وہ جیتے گی، ہاکی لیگ اور لوکل ٹورنامنٹس کے انعقاد پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، چیمپئنز ٹرافی کو ختم کرنا افسوس ناک ہے۔اپنے ایک انٹرویو میں شہناز شیخ نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی میں دنیا کی بہترین ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، قومی ٹیم نے ایونٹ کیلئے بھرپور تیاری کی ہے، ہالینڈ میں بھی پریکٹس میچز کے علاوہ تربیتی کیمپ لگایا گیا، توقع ہے کہ ٹیم اچھے نتائج دے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اٹیکنگ ہاکی کھیلنی چاہئے۔ پاک بھارت میچ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دونوں ٹیموں کے کھیلنے کا سٹائل ایک جیسا ہے، جو ٹیم اچھا کھیلے گی وہ جیت جائے گی۔ ماڈرن ہاکی میں گول کیپر کا کردار بہت اہم ہوتا ہے، اس کے علاوہ پنلٹی کارنر بھی انتہائی اہم ہے، دونوں شعبوں میں پاکستان کو غیر معمولی کارکردگی دکھانا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ میری کوچنگ میں 16 سال بعد پاکستان نے 2014 کے ایڈیشن میں فائنل تک رسائی حاصل کی۔، بھارت کو اس کی سرزمین پر شکست دی۔ شہناز شیخ نے کہا کہ فیڈریشن کی طرف سے یہ بیان افسوس ناک ہے کہ چیمپئنز ٹرافی ایشین گیمز کی تیاری کیلئے ہے، انٹرنیشنل ایونٹس تیاری کیلئے نہیں ہوتے بلکہ ان ٹورنامنٹس میں بھرپور تیاری کے ساتھ شرکت کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ منفی بیانات سے کھلاڑیوں کا بھی مورال ڈاﺅن ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کے ایشین گیمز اولمپک گیمز کی کوالیفکیشن کیلئے بڑا ٹورنامنٹ ہے۔ ہاکی کی بہتری کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سکول اور کالج میں ہاکی بالکل ختم ہو گئی ہے، فیڈریشن نے بھی لوکل ٹورنامنٹس کے بجائے اپنی تمام تر توجہ انٹرنیشنل ایونٹس پر رکھی ہوئی ہے جس کی وجہ سے نیا ٹیلنٹ سامنے نہیں آرہا۔انہوں نے کہا کہ ہاکی کی بہتری کیلئے فیڈریشن کو غیر معمولی اقدامات کرنا ہوں گے۔ قومی سطح پر کم از کم 6 اکیڈیمز بنائی جائیں جنہیں میرٹ کی بنیاد پر چلایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہاکی لیگ کا انعقاد ناگزیر ہے، فیڈریشن کو چاہئے کہ وہ جلد از جلد ہاکی لیگ کا انعقاد کرے، اگر پاکستان میں ہاکی لیگ شروع ہو جاتی ہے تو اس سے گراس روٹ لیول پر بہت فائدہ ہوگا، نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا، نوجوان کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل پلیئرز کے ساتھ کھیلنے اور سیکھنے کا موقع ملے گا۔شہناز شیخ نے کہا کہ بھارتی لابی کی وجہ سے چیمپئنز ٹرافی کو ختم کیا جا رہا ہے جو کہ افسوس ناک ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان نے چاروں بڑے ایونٹس ورلڈ کپ، چیمپئنز ٹرافی، جونیئر ورلڈ کپ اور ایشیا کپ متعارف کرائے اور چاروں افتتاحی ٹورنامنٹ پاکستان نے جیتے جو کہ ورلڈ ریکارڈ ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ہاکی اس وقت مشکلات کا شکار ہے، مدد کے بجائے انتقامی کاروائیاں کی جار رہی ہیں، یہ قوم اور ہاکی فیڈریشن کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان منفی ہتھکنڈوں سے پاکستان میں ہاکی کو ختم نہیں کیا جا سکتا ہے۔
آسٹریلیا کا ڈنمارک سے میچ 1-1سے برابر
سمارا(نیوزایجنسیاں)فٹبال ورلڈ کپ 2018 میں گروپ سی کے میچ میں آسٹریلیا اور ڈنمارک کے درمیان مقابلہ 1-1 گول سے برابر ہو گیا جس کی بدولت آسٹریلیا کی اگلے راو¿نڈ تک رسائی کی امیدیں برقرار ہیں۔فرانس نے پیروکو2-1سے ہراکر پری کوارٹرفائنل کےلئے کوالیفائی کرلیا۔لگاتاردوسری شکست کے بعدپیروکی میگا ایونٹ میں پیش قدمی تھم گئی اورٹورنامنٹ سے باہرہوگئی۔گزشتہ روز کھیلے گئے گروپ سی کے میچ کا شروع سے تیزی سے آغاز ہوا اور ڈنمارک نے میچ کے 7ویں منٹ میں کرسچن ایرکسن نے گول کر کے اپنی ٹیم کو برتری دلا دی۔پہلے میچ میں فرانس سے شکست کھانے والی آسٹریلیا کی ٹیم نے اس کے بعد میچ کو برابر کرنے کی کوششیں شروع کیں اور انہیں گول کرنے کا موقع اس وقت ملا جب گول سے چند انچ کے فاصلے پر ڈنمارک کے دفاعی کھلاڑی کا ہینڈ بال کے سبب فاو¿ل ہونے کی وجہ سے امپائر نے پینالٹی ایوارڈ کردی۔میچ کے 37ویں منٹ میں ملنے والی اس پینالٹی پر جیڈینیک نے گول کرنے میں کوئی غلطی نہ کی اور مقابلہ برابر کردیا۔ہاف کے اختتام تک دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلہ 1-1 گول سے برابر رہا اور دوسرے ہاف میں انتہائی کوشش کے باوجود کوئی بھی ٹیم گول اسکور نہ کر سکی جس کے سبب مقابلہ 1-1 پر اختتام پذیر ہوا۔یہ میچ ڈرا ہونے کے بعد آسٹریلیا کی اگلے راو¿نڈ میں رسائی کی امیدوں دھچکا لگا ہے تاہم وہ بھی پوری کوارٹر فائنل مرحلے میں پہنچ سکتے ہیں۔پہلے میچ میں 2-1 سے شکست کھانے والی آسٹریلین ٹیم کا اس وقت صرف پوائنٹ ہے جبکہ ڈنمارک نے پہلے ہی اگلے راو¿نڈ میں پہنچنے کی امیدیں روشن کر لی ہیں۔ ایک ماہ تک جاری رہنے والے فٹ بال کے میگا ایونٹ میں دنیا بھر سے 32 ٹاپ ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں جنھیں 8 مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ ایونٹ میں گروپ ایف میں عالمی چیمپئن جرمنی کو رکھا گیا ہے۔ میگا ایونٹ میں شرکت کرنے والی 32ٹیموں میں گروپ اے میں میزبان روس، سعودی عرب، مصر اور یوروگوئے شامل ہیں، گروپ بی میں پرتگال، سپین، مراکش اور ایران شامل ہیںِ، گروپ سی میں فرانس، آسٹریلیا، پیرو اور ڈنمارک شامل ہیں، گروپ ڈی میں ارجنٹائن، آئس لینڈ، کروشیا اور نائیجریا شامل ہی، گروپ ای میں برازیل، سوئٹزرلینڈ، کوسٹاریکا اور سربیا شامل ہیں، گروپ ایف میں دفاعی چیمپئن جرمنی، میکسیکو، سویڈن اور کوریا شامل ہیں، گروپ جی میں بیلجیئم، پانامہ، تیونس اور انگلینڈ شامل ہیں جبکہ گروپ ایچ میں پولینڈ، سینیگال، کولمبیا اور جاپان شامل ہیں۔
ڈیرن سیمی بھی ”پھلوں کے بادشاہ“ کے دلدادہ نکلے
لاہور(ویب ڈیسک ) ڈیرن سیمی بھی پھلوں کے بادشاہ آم کے دلدادہ نکلے۔کرکٹر نے ٹوئٹر پر ایک تصویر شیئر کی جس میں آم کی تین گٹھلیاں دکھائی گئی ہیں، ایک گٹھلی پر کافی زیادہ مقدار میں آم کا گودا باقی ہے، اس طریقے سے آم کھانے والے کو غیرمہذب کہا گیا ہے، دوسری گٹھلی پر بھی کچھ مقدار میں آم کا گودا لگا ہے ، اس طریقے سے آم کھانے والے کو اناڑی کہا گیا ہے، تیسری گٹھلی بالکل صاف ہے ، اس طریقے سے آم کھانے والے کو پروفیشنل کہا گیا ہے۔
لاہور حمزہ شہباز اور اس کے باپ کی جاگیر نہیں، زعیم قادری
لاہور(ویب ڈ یسک ) مسلم لیگ (ن) کے ناراض رہنما زعیم قادری نے کہا ہے کہ حمزہ شہباز سن لو لاہور تمہارے اور تمہارے باپ کی جاگیر نہیں جبکہ میں تمہارے بوٹ پالش نہیں کرسکتا۔لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے ناراض رہنما زعیم قادری نے پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد حیثیت سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تو سابق وزیر سعد رفیق نے زعیم قادری سے ملاقات کرکے انہیں منانے کی کوشش کی تاہم انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔سعد رفیق سے ملاقات کے بعد زعیم قادری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 12 اکتوبر 1999 میں مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی، میرے خون میں مسلم تھی ہے اور رہے گی، پانچ مرتبہ قید کاٹی، 8 سال تک نواز شریف کا ترجمان رہا۔ جو لوگ آج عہدوں پر بیٹھے ہیں ہمیں بے وقوف کہتے تھے اور کہتے تھے کہ کس دیوار سے ٹکر مار رہے ہو۔ 2002 کے الیکشن میں کلثوم نواز اور نواز شریف کا کورنگ امیدوار تھا، لیکن میری جگہ کچھ اور لوگوں کو آگے کردیا گیا، لیکن میں نے ایک لفظ نہیں کہا۔زعیم قادری نے کہا کہ مجھے شہباز شریف نے 2008 کے اوائل میں فون کرکے کہا کہ سیکرٹری جنرل کا عہدہ چھوڑ دو، میں نے حکم کی تعمیل کی، ناپسند ہونے کی وجہ سے میری خدمت اور قربانی کو فراموش کرکے تبدیل کردیا گیا اور عہدوں سے ہٹادیا گیا۔ میں نے بہت کچھ برداشت کیا، جو لوگ پارٹی میں نہیں تھے انہیں وزرا بنادیا گیا، 10 سال میں پارٹی میں کسی نے ن لیگ کا دفاع نہیں کیا جتنا میں نے کیا۔زعیم قادری کا کہنا تھا کہ میں حمزہ شہباز شریف کے بوٹ پالش نہیں کرسکتا، اور حمزہ شہباز سن لو لاہور تمہارے اور تمہارے باپ کی جاگیر نہیں، میں تمہیں سیاست کرکے دکھاؤں گا۔ این اے 133 میں جیت کر دکھاؤں گا، آج سے الیکشن اور جنگ اکٹھی ہوگی، حمزہ شہباز 10 سال میں کسی سے نہیں ملے میں ہر کارکن کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔زعیم قادری کا کہنا تھا کہ میں مالیشیا نہیں ہوں، تمہارے لئے جان، مال اور جیل کاٹیں، جاوید ہاشمی جیسے لوگوں کو ضائع نہیں کیا جاتا لیکن انہیں ضائع کیا گیا، شہباز شریف سے گلہ ہے انہیں نے دس سال مجھے نہیں پوچھا، انہوں نے مجھ سے کہا کہ پارٹی میں کچھ لوگوں کو تمھاری شکل پسند نہیں، یہ مجھے سیاسی یتیم سمجھتے ہیں، لیکن سیاسی یتیم ہونے کا فیصلہ ابھی باقی ہے۔
نواز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا معاملہ زیرغور ہے، نگراں وزیر اطلاعات
اسلام آباد(ویب ڈ یسک ) نگراں وفاقی وزیر اطلاعات بیرسٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا معاملہ کمیٹی میں زیر غور ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں نگراں وزیر اطلاعات بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ بروقت انتخابات کرانا ہماری ذمہ داری ہے، الیکشن کے بروقت انعقاد میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ای سی ایل میں نام شامل کرنے کا ایک طریقہ کار ہے، ای سی ایل میں نام شامل کرنے کے لیے کابینہ منظوری دیتی ہے جب کہ بلیک لسٹ میں نام کسی قسم کی منظوری کے بغیر شامل کیا جاتا ہے اور بلیک لسٹ سے نام کو کسی بھی وقت نکالا جاسکتاہے۔سابق وزیراعظم نواز شریف اور صاحبزادی مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ نیب نے نواز شریف اور مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے کہا ہے لہذا یہ معاملہ کمیٹی میں زیر غور ہے۔
لوگوں کو پٹرولیم مصنوعات پرٹیکس لگا لگا کر پاگل کردیا ہے، چیف جسٹس
کراچی(ویب ڈ یسک ) چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت اور ان پر اضافی ٹیکس کے معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ لوگوں کو پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس لگا لگا کر پاگل کردیا ہے۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین اور اضافی ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ڈپٹی ایم ڈی پاکستان اسٹیٹ آئل یعقوب ستار نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مختلف ادارے پی ایس او کے 300 ارب روپے کے نادہندہ ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ان اداروں سے 300 ارب روپے واپس کیوں نہیں لے رہے؟ اس کا مطلب ہے آپ بینکوں سے قرض لے کر معاملات چلا رہے ہیں۔ جس پر یعقوب ستار نے انکشاف کیا کہ پی ایس او نے بینکوں سے 95 ارب روپےقرض لے رکھا ہے، ہر سال اس پر سود کی مد میں 7 ارب روپے ادا کئے جاتے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے ڈپٹی ایم ڈی پاکستان اسٹیٹ آئل کی بریفنگ پر عدم اطمینان کا اظہار کر دیا۔چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس لگا لگا کر لوگوں کو پاگل کردیا ہے، یہ کس بات کا ٹیکس ہے سارا حساب دینا ہوگا، پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کا عمل بھی مشکوک لگتا ہے، کس قانون اور طریقہ کار کے تحت 62.8 روپے فی لیٹر کا تعین کیا گیا؟سپریم کورٹ نے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات، گزشتہ 6 ماہ کے آکشنز (بولی) اور قیمتوں کے تعین کا ریکارڈ بھی طلب کرتے ہوئے سیکریٹری پیٹرولیم، سیکریٹری وزارت توانائی، چیئرمین ایف بی آر ، ایم ڈی پی ایس او اور دیگر کو جمعہ کو پیش ہونے کا حکم دے دیا۔


















